কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮০৩ টি

হাদীস নং: ৬২১০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا مچھر سے بھی حقیر ہے
٦٢١٠۔۔۔ اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک مچھر کے پر کا بھی وزن رکھتی تو اس میں سے کسی کافر کو پانی کا ایک گھونٹ نہ پلاتے۔ (حلیۃ الاولیاء عن ابن عباس (رض))
6210- لو وزنت الدنيا عند الله جناح بعوضة ما سقى كافرا منها شربة ماء. "حل عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২১১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا مچھر سے بھی حقیر ہے
٦٢١١۔۔۔ جو یہ دیکھ کر خوشی محسوس کرے کہ وہ پوری دنیا کو دیکھے تو اس کو چاہے کہ وہ اس ڈھیر کو دیکھے، اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے ہاں مکھی کے پر برابر بھی ہوتی تو کسی کافر کا اس میں میں سے کچھ بھی نہ عطا کرتے۔ (ابن المبارک عن الحسن ، مرسلا)
6211- من سره أن ينظر إلى الدنيا بحذافيرها فلينظر إلى هذه المزبلة، لو أن الدنيا تعدل عند الله جناح ذباب ما أعطى كافرا منها شيئا. "ابن المبارك عن الحسن" مرسلا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২১২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا مچھر سے بھی حقیر ہے
٦٢١٢۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے انسان سے خارج ہونے والی (غلاظت) کو دنیا کی مثال بنایا ہے۔ (مسند احمد والبغوی، طبرانی فی الکبیر، بیہقی فی شعب الایمان عن الضحاک بن سفیان الکلابی)
6212- إن الله ضرب ما يخرج من ابن آدم مثلا للدنيا. "حم والبغوي طب هب عن الضحاك بن سفيان الكلابي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২১৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا مچھر سے بھی حقیر ہے
٦٢١٣۔۔۔ انسان کا ہضم شدہ کھانا دنیا کی مثال بنایا گیا ہے، سو دیکھ جو انسان سے خارج ہوتا ہے اس کے نمک مسالے کا کیا حال ہوا۔ (ابن المبارک ، مسند احمد، ابن حبان، طبرانی فی الکبیر، حلیۃ الاولیاء ، بیہقی فی شعب الایمان، سعید بن منصور عن ابی بن کعب
6213- إن مطعم بن آدم قد جعل مثلا للدنيا، فانظر ما يخرج من ابن آدم، وإن قزحه1 وملحه إلى أين يصير. "ابن المبارك حم حب طب حل هب ص عن أبي بن كعب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২১৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا مچھر سے بھی حقیر ہے
٦٢١٤۔۔۔ خبردار انسان کا (ہضم شدہ) کھانا دنیا کی مثل قرار دیا گیا ہے اور (اسی طرح) اس کا نمک اور مسالہ۔ (طبرانی عن ابی بن کعب)
6214- ألا إن طعام ابن آدم ضرب مثلا للدنيا، وإن ملحه وقزحه. "ط عن أبي بن كعب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২১৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا مچھر سے بھی حقیر ہے
٦٢١٥۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی : کہ اے داؤد ! دنیا کی مثال اس مردار جیسی ہے جس پر بہت سے کتے یکجا ہو کر اسے کھینچ رہے ہوں کیا تم بھی ان کی طرح کتا بننا چاہتے ہو اور ان کے ساتھ دنیا کو کھینچتے پھرو ؟ اے داؤد ! کھانے کی پاکیزگی، لباس کی نرمی اور لوگوں اور آخرت میں شہرت جنت کبھی بھی انھیں جمع نہیں کرے گا۔ (الدیلمی عن علی)

ایک طرف دنیا کی طلب اور اس کے لالچ سے منع کیا گیا ہے دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ نعمتیں مل جائیں تو اس کی ممانعت نہیں۔
6215- أوحى الله إلى داود مثل الدنيا كمثل جيفة اجتمعت عليها الكلاب يجرونها، أفتحب أن تكون كلبا مثلهم فتجر معهم؟ يا داود طيب الطعام ولين اللباس والصيت في الناس وفي الآخرة الجنة لا تجتمع أبدا. "الديلمي عن علي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২১৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا مچھر سے بھی حقیر ہے
٦٢١٦۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے جب سے دنیا کو پیدا کیا اس وقت سے لے کر اس کی طرف صرف اس میں عبادت گزاروں کی جگہ کی وجہ سے دیکھا، اور اللہ تعالیٰ صور پھونکنے تک اس کی طرف دیکھنے والا نہیں، اور اس سے ناراضگی کی وجہ سے اس کی ہلاکت کی اجازت دیدیتا، اور اسے آخرت پر ترجیح نہیں دی۔ (ابن عسال عن ابوہریرہ (رض) )

تشریح :۔۔۔ دنیا کی طرف دیکھنا نظر رحمت سے دیکھنا مراد ہے، ورنہ کوئی شے بھی اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں، چونکہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے اسی دنیا میں اس کی عبادت و ریاضت میں مصروف ہیں اس واسطے اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے دنیا کی طرف دیکھتے ہیں۔
6216- إن الله عز وجل خلق الدنيا منذ خلقها فلم ينظر إليها بعد إلا مكان المتعبدين فيها منها، وليس بناظر إليها إلى يوم ينفخ في الصور ويأذن في هلاكها مقتا لها، ولم يؤثرها على الآخرة. "ابن عسال عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২১৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا مچھر سے بھی حقیر ہے
٦٢١٧۔۔۔ دنیا میں زیادہ پیٹ بھرنے والے آخرت میں سب سے زیادہ بھوکے ہوں گے۔ (بیہقی عن ابی جحیفۃ، بیہقی عن انس، عن ابن عمر، طبرانی فی الکبیر، حاکم، بیہقی عن سلمان )

تشریح :۔۔۔ آخرت کو بھول کر اور خدا تعالیٰ کی نافرمانی کرکے پیٹ بھرنے والے مراد ہیں۔
6217- أطول الناس شبعا في الدنيا أكثرهم جوعا يوم القيامة. "ز عن ابن عمر" "طب ك هب عن سلمان" "ز هب عن أبي جحيفة" "هب عن أنس"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২১৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا مچھر سے بھی حقیر ہے
٦٢١٨۔۔۔ قیامت کے روز لوگ سب سے زیادہ بھوکے ہوں گے جو دنیا میں پیٹ بھر کر اور خوب سیر ہو کر کھاتے ہیں۔ (الحکیم عن المقدام بن معد یکرب، بیہقی عن ابی جحیفۃ)
6218- إن أطول الناس جوعا يوم القيامة أكثرهم شبعا في الدنيا "حكيم عن المقدام بن معد يكرب""هب عن أبي حجيفة"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২১৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کھانے میں اعتدال پر قائم رہنا
٦٢١٩۔۔۔ ابو جحیفۃ ایسے نہ کرو (یعنی خوب سیر ہو کر ڈکار نہ لو) قیامت کے روز وہی لوگ سب سے زیادہ بھوکے ہوں گے جو دنیا میں سب سے زیادہ سیر ہونے والے ہوں گے۔ (حاکم عن ابی جحیفۃ)
6219- لا تفعل يا أبا جحيفة، إن أطول الناس جوعا يوم القيامة أطولهم شبعا في الدنيا. "ك عن أبي جحيفة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২২০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کھانے میں اعتدال پر قائم رہنا
٦٢٢٠۔۔۔ اپنی ڈکار روکو اس لیے جو لوگ دنیا میں سب سے زیادہ سیر ہوں گے وہ آخرت میں سب سے بڑھ کر بھوکے ہوں گے۔ (طبرانی فی الکبیر عن ابی جحیفۃ، مربرقم ٦١٦٢
6220- اكفف من جشائك فإن أكثر الناس في الدنيا شبعا أكثرهم في الآخرة جوعا. "طب عن أبي جحيفة". مر برقم [6162] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২২১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کھانے میں اعتدال پر قائم رہنا
٦٢٢١۔۔۔ اے ابو جحیفۃ اپنی ڈکار کم کرو اس واسطے کہ جو لوگ دنیا میں پیٹ بھر کر کھانے والے ہوں گے وہ قیامت میں لمبی بھوک والے ہوں گے۔ (الحکیم عن المقدام بن معد یکرب، بیہقی عن ابی جحیفۃ)
6221- يا أبا جحيفة أقصر من جشائك فإن أطول الناس جوعا يوم القيامة أكثرهم شبعا في الدنيا. "الحكيم عن المقدام بن معد يكرب" "هب عن أبي جحيفة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২২২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کھانے میں اعتدال پر قائم رہنا
٦٢٢٢۔۔۔ اے فلاں ! اپنی ڈکار روکو ! اس واسطے کہ جو دنیا میں زیادہ سیر ہوں گے وہ آخرت میں زیادہ بھوک والے ہوں گے۔ (حاکم و تعقب عن ابی جحیفۃ)

تشریح :۔۔۔ خطاب صراحتاً اور کنایتاً حضرت ابو جحیفۃ (رض) ہی کو ہے۔
6222- يا هذا اكفف من جشائك فإن أكثر الناس في الدنيا شبعا أكثرهم في الآخرة جوعا. "ك وتعقب عن أبي حجيفة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২২৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کھانے میں اعتدال پر قائم رہنا
٦٢٢٣۔۔۔ مجھے خواب میں دنیا کی چابیاں دی گئیں، پھر تمہارے نبی کو اچھی جگہ لے جایا گیا، اور تم نے دنیا میں چھوڑ دیا، سرخ ، زرد اور سفید کھانے کھاتے ہو، بنیاد ایک ہے، شہد، گھی اور آٹا، لیکن تم نے خواہشات کی پیروی کی۔ (ابن سعد عن سالم بن ابی الجعد، مرسلاً )

تشریح :۔۔۔ انبیاء (علیہم السلام) کے خواب بھی وحی کے درجہ میں ہوتے ہیں، سرخ شہد، سفید آٹا اور زرد گھی ہوتا ہے۔
6223- أتيت فيما يرى النائم بمفاتيح الدنيا، ثم ذهب بنبيكم إلى خير مذهب وتركتم في الدنيا تأكلون الخبيص أحمره وأصفره وأبيضه، الأصل واحد، العسل والسمن والدقيق، ولكنكم اتبعتم الشهوات. "ابن سعد عن سالم بن أبي الجعد" مرسلا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২২৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کھانے میں اعتدال پر قائم رہنا
٦٢٢٤۔۔۔ میری امت کے برے لوگ وہ ہیں جو نعمتوں میں پلے بڑھے، اور اسی پر ان کے جسم اگے۔ (ابویعلی وابن عساکر عن ابوہریرہ (رض) )

تشریح :۔۔۔ عصر حاضر میں ایسے زہد کا تصور کرنا بھی مشکل ہے چہ جائیکہ کہیں اس کا ثبوت ملے۔
6224- إن شرار أمتي الذين غذوا بالنعيم ونبتت عليه أجسادهم. "ع وابن عساكر عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২২৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کھانے میں اعتدال پر قائم رہنا
٦٢٢٥۔۔۔ میری امت کے برے لوگ وہ ہیں جنہیں نعمتیں غذا میں ملیں، اور وہ انہی میں رہے ، جو اچھے کھانے کھاتے، نرم کپڑے پہنچتے ہیں، پکی ٹھکی بات ہے کہ وہ برے لوگ ہیں، ظالم بادشاہ سے (بغاوت کرکے) بھاگنے والا شخص نافرمان نہیں، بلکہ وہ بادشاہ ہی نافرمان ہے جو ظالم ہے خبردار، خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی فرمان برداری جائز نہیں۔ (الدیلمی عن ابن عباس

(رض))

تشریح :۔۔۔ یہاں بھی حد سے تجاوز مراد ہے ورنہ اچھا کھانا اور عمدہ کپڑا پہننا صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ ترمذی کی روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔
6225- شرار أمتي الذين غذوا بالنعيم وغدوا فيها، الذين يأكلون طيب الطعام ويلبسون لين الثياب، هم شرار أمتي حقا حقا وإن الرجل الهارب من الإمام الظالم ليس بعاص، بل الإمام الظالم هو العاصي ألا لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق. "الديلمي عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২২৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کھانے میں اعتدال پر قائم رہنا
٦٢٢٦۔۔۔ تم آج بہتر ہو یا اس وقت (بہتر ہوگے) جب تمہارے اوپر ایک پیالہ (خالی کرکے) اٹھا لیا جائے گا اور دوسرے کو شام کے وقت رکھا جائے گا، صبح ایک جوڑے میں ہوگی اور شام دوسرے میں، اور تم اپنے گھروں کو ایسے ہی کپڑے پہناؤ گے جیسے بیت اللہ کو پہنائے جاتے ہیں ؟ تو ایک شخص نے عرض کیا : پھر تو ہم اس وقت بہتر ہوں گے، آپ نے فرمایا : نہیں بلکہ تم آج بہتر ہو۔ (طبرانی فی الکبیر، بخاری مسلم عن عبداللہ بن یزید الخطمی)

تشریح :۔۔۔ انسانی ضروریات رہائش کا مکان، پہننے کو کپڑے، کھانے کو طعام اور پینے کو پانی ہے ، پھر جتنی ضروریات بڑھیں گی اتنے ہی اسباب درکار ہوں گے، لہٰذا اتنا یاد رہے کہ بےضرورت اور فالتو اشیاء ہرگز ہرگز جمع نہ کی جائیں۔
6226- أنتم اليوم خير أم إذا غدت على أحدكم صحفة وراحت أخرى وغدا في حلة وراح في أخرى وتلبسون بيوتكم كما تلبس الكعبة؟ فقال رجل: نحن يومئذ خير، قال: بل أنتم اليوم خير. "طب ق عن عبد الله بن يزيد الخطمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২২৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کھانے میں اعتدال پر قائم رہنا
٦٢٢٧۔۔۔ تم آج بہتر ہو یا اس وقت (بہتر ہوگے) جب تمہارے سروں پر ایک کھانے کا برتن صبح اور ایک برتن شام کے وقت پھیرا جائے گا ، اور اس وقت تم میں سے کوئی اپنے گھر کو ایسے ہی ڈھانپے گا جیسے خانہ کعبہ کو ڈھانپا جاتا ہے ؟ تو صحابہ نے عرض کیا : کیا ہم اس دن بہتر ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں بلکہ تم آج بہتر ہو، بلکہ تم آج بہتر ہو، جب تم اس (دنیا) میں مبتلا کر دئیے گئے تو ناتے ختم کردوگے، آپس میں حسد کرنے لگ جاؤ گے، ایک دوسرے کی مخالفت اور ایک دوسرے سے بغض کرنے لگ جاؤ گے۔ (ھناد ، حلیۃ الاولیاء عن الحسن ، مرسلاً )

تشریح :۔۔۔ جب دل میں مال کی قدر و قیمت بیٹھتی ہے تو اخوت جگہ نہیں پاتی، بھائی بندھن اسی وقت قائم رکھا جاسکتا ہے جب لین دین اجنبی لوگوں کی طرح ہو ہمارے ہاں سمجھا جاتا ہے بھئی کوئی بات نہیں بڑے بھائی کے پیسے ہیں وہ کب مانگتے ہیں، پیسے کے بغیر کون اس دنیا میں رہ سکتا ہے۔
6227- أنتم اليوم خير أو إذا غدى على أحدكم بجفنة1 ويراح عليه بأخرى وستر أحدكم بيته كما تستر الكعبة؟ قالوا: نحن يومئذ خير؟ قال: بل أنتم اليوم خير، بل أنتم اليوم خير، إنكم إذا أصبتموها تقاطعتم وتحاسدتم وتدابرتم وتباغضتم. "هناد حل عن الحسن" مرسلا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২২৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کھانے میں اعتدال پر قائم رہنا
٦٢٢٨۔۔۔ قریب ہے کہ جب تم میں سے کوئی زندہ رہا تو اس کے پاس صبح و شام برتن لائے جائیں گے، اور تم دیواروں کو ایسے ہی چھپاؤ ےگے جیسے کعبہ کو چھپایا جاتا ہے۔ (طبرانی فی البیر عن فضالۃ الیثی)

تشریح :۔۔۔ یہاں بھی ضرورت سے زائد پردے ممنوع ہیں۔
6228- توشكون أن من عاش منكم أن يغدى عليه بالجفان، ويراح وتلبسون الجدر كما تستر الكعبة. "طب عن فضالة الليثي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২২৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ گزارہ کے قابل روزی بہتر ہے
٦٢٢٩۔۔۔ تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تم گندم کی روٹی اور کشمش سے سیر ہوگے اور رنگ برنگے کھانے کھاؤ گے طرح طرح کے کپڑے پہنو گے ؟ کیا تم اس وقت بہتر ہوگے یا آج ؟ لوگوں نے عرض کی اس وقت، آپ نے فرمایا : بلکہ تم آج بہتر ہو۔ (بخاری مسلم و ابن عساکر عن واثلۃ)

تشریح :۔۔۔ اس حدیث میں بھی غیر ضروری اشیاء کی ممانعت ہے۔
6229- كيف أنتم بعدي إذا شبعتم من خبز البر والزبيب، وأكلتم ألوان الطعام ولبستم ألوان الثياب؟ فأنتم اليوم خير أم ذاك؟ قالوا:ذاك، قال: بل أنتم اليوم خير. "ق وابن عساكر عن وائلة".
tahqiq

তাহকীক: