কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮০৩ টি

হাদীস নং: ৬২৩০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ گزارہ کے قابل روزی بہتر ہے
٦٢٣٠۔۔۔ اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تمہارا ایک شخص صبح کو ایک جوڑا اور شام کو دوسرا جوڑا پہنے گا، اور اس کے سامنے ایک برتن رکھا جائے گا اور دوسرا اٹھایا جائے گا اور تم اپنے گھروں کو ایسے ہی پردہ پوش کروگے جیسے خانہ کعبہ کو ؟ تو لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ ! ہم آج کی نسبت اس دن بہتر ہوں گے، ہماری خرچ کی کفایت کی جائے گی اور ہم عبادت کے لیے فارغ ہوں گے، آپ نے فرمایا : نہیں بلکہ اس دن کی نسبت تم آج بہتر ہو۔ (ھناد، ترمذی، حسن غریب عن علی)

تشریح :۔۔۔ اس واسطے کہ عہد نبوت میں ان چیزوں کا رواج نہ تھا۔
6230- كيف بكم إذا غدا أحدكم في حلة وراح في حلة ووضعت بين يديه صحفة ورفعت أخرى وسترتم بيوتكم كما تستر الكعبة؟ قالوا: يا رسول الله نحن يومئذ خير منا اليوم، نتفرغ للعبادة ونكفى المؤنة فقال: لا أنتم اليوم خير منكم يومئذ. "هناد ت حسن غريب عن علي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৩১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ گزارہ کے قابل روزی بہتر ہے
٦٢٣١۔۔۔ مجھے تو تمہارے متعلق اپنے بعد دنیا کی خوشنمائی اور زینت کا خوف ہے جو تمہارے اوپر کھول دی جائے گی، تو ایک شخص بولا، یا رسول اللہ ! کیا کوئی بھلائی بھی شر پیدا کرسکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا : بات یہی ہے کہ بھلائی سے شر پیدا نہیں ہوتا، البتہ موسم بہار کچھ ایسے پودے اگاتی ہے جو پیٹ پھلا کر ہلاک کردیتی یا اس کے قریب پہنچا دیتی ہے صرف سبزہ کھانے والے جانور، کیونکہ وہ اتنا کھاتے ہیں کہ ان کی کوکھیں بھر جاتی ہیں۔ (پھر) وہ سورج کا سامنا کرتے ہیں (جس کی وجہ سے) ان کا پیٹ جاری ہوجاتا ہے اور وہ پیشاب کرتے ہیں اور پھر چرنے لگتے ہیں۔

اور یہ مال بھی سبزو میٹھا ہے ، اور بہتر مال مسلمان کا وہ ہے جو وہ مسکین ، یتیم ، اور مسافر کو دے ، سو جس نے اسے صحیح طریقہ سے لیا اور صحیح جگہ خرچ کیا تو وہ اچھی معاونت (کا سامان) ہے، اور جس نے ناحق لیا تو وہ ایسا ہے جیسا کوئی کھاتا ہو اور سیر نہ ہوتا ہو، اور وہ (مال) قیامت کے روز اس (کے) برخلاف گواہ ہوگا۔ (طبرانی، مسند احمد، بخاری، مسلم، نسائی، ابن ماجہ، ابو یعلی، ابن حبان عن ابی سعید مربرقم ٦١٨٢)
6231- إنما أخاف عليكم من بعدي ما يفتح عليكم من زهرة الدنيا وزينتها، قال رجل: أو يأتي الخير بالشر يا رسول الله؟ قال: إنه لا يأتي الخير بالشر وإن مما ينبت الربيع ما يقتل حبطا أو يلم إلا آكلة الخضراء فإنها أكلت حتى إذا امتلأت خاصرتها استقبلت الشمس فثلطت وبالت ثم رتعت وإن هذا المال خضرة حلوة، ونعم صاحب المسلم هو لمن أعطاه المسكين واليتيم وابن السبيل فمن أخذه في حقه ووضعه في حقه فنعم المعونة هو ومن أخذه بغير حقه كان كالذي يأكل ولا يشبع ويكون عليه شهيدا يوم القيامة. "ط حم خ م ن هـ ع حب عن أبي سعيد". مر برقم [6182] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৩২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ گزارہ کے قابل روزی بہتر ہے
٦٢٣٢۔۔۔ تمہاری اس وقت کیا حالت ہوگی جب تم رنگ برنگے کھانوں سے سیر ہوگے ؟ لوگوں نے عرض کی : کیا ایسے ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، تم اس شخص کو پالو گے یا تم میں سے کوئی اسے دیکھ لے گا، اس وقت کیسا حال ہوگا جب تمہارا ایک شخص صبح ایک جوڑے میں شام دوسرے جوڑے میں کرے گا ؟ لوگوں نے عرض کی : کیا یہ بھی ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : گویا کہ تم نے اسے پالیا یا تم میں سے کوئی اسے پالے گا، تمہارا اس وقت کیا حال ہو رہا ہوگا جب تم اپنے گھروں کو ایسے ہی پردہ پوش کرو گے جیسے خانہ کعبہ کو کیا جاتا ہے، لوگوں نے عرض کی : کیا کعبہ سے بےرغبتی کی بنا پر ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، بلکہ اس زائد مال کے ذریعہ جو تم حاصل کرو گے۔ لوگوں نے عرض کی : کیا ہم آج بہتر ہیں یا اس دن بہتر ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، بلکہ تم آج افضل ہو۔ (ھناد عن سعد وابن مسعود)

تشریح :۔۔۔ یہ دور نبوت کے قریب عہد کی بات ہے، جبکہ موجودہ زمانہ میں ان باتوں کو تو معمولی تصور کیا جاتا ہے۔
6232- كيف أنتم إذا شبعتم من ألوان الطعام؟ قالوا: أو يكون ذلك؟ قال: نعم، قد أدركتموه أو من قد أدركه منكم، فكيف إذا غدا أحدكم في حلة وراح في أخرى؟ قالوا: ويكون ذلك؟ قال: كأنكم قد أدركتموه، أو من قد أدركه منكم، كيف أنتم إذا سترتم بيوتكم كما تستر الكعبة؟ قالوا: رغبة عن الكعبة؟ قال: لا ولكن من فضل تجدونه قالوا: نحن خير اليوم أو يومئذ؟ قال: بل أنتم اليوم أفضل. "هناد عن سعد وابن مسعود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৩৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ گزارہ کے قابل روزی بہتر ہے
٦٢٣٣۔۔۔ شاید تم یا تم میں سے کوئی وہ زمانہ پالے، جس میں تم ایسے کپڑے پہنو گے جیسے کعبہ پر پردے لٹکائے جاتے ہیں ، اور صبح و شام تمہارے سامنے برتن لائے جائیں گے۔ (البغوی عن طلحہ بن عبداللہ النصری)

تشریح :۔۔۔ یہاں بھی سابقہ مضمون کی طرف اشارہ ہے۔
6233- لعلكم أن تدركوا زمانا أو من أدرك منكم تلبسون فيه مثل أستار الكعبة، ويغدى ويراح عليكم بالجفان. "البغوي عن طلحة بن عبد الله النصري".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৩৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ گزارہ کے قابل روزی بہتر ہے
٦٢٣٤۔۔۔ مجھ پر اور میرے ساتھی پر دس گیاہ روز ایسے گزرے کہ ہمارے پاس صرف پیلو کا پھل کھانے کے لیے ہوتا، پھر ہم اپنے ان انصار بھائیوں کے پاس آئے، اور ان کا سب سے عظیم کھانا کھجور تھا، پھر انھوں نے اس بارے ہماری مدد کی، اللہ کی قسم ! میں اگر تمہارے لیے روٹی یا گوشت حاصل کرلیتا تو تمہیں اس سے سپرد کردیتا، لیکن میرے بعد عنقریب تم ایسا زمانہ پاؤ گے کہ تم میں سے کسی کے پاس صبح و شام برتن لائے جائیں گے، اور اس زمانہ میں تم ایسے کپڑے پہنو گے جیسے کعبہ کے پردے ہوتے ہیں۔ صحابہ کرام (رض) نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم اس دن بہتر ہوں گے یا آج بہتر ہیں ؟ آپ نے فرمایا : بلکہ تم آج بہتر ہو، آج تم بھائی بھائی اور باہم محبت کرنے والے ہو، اور اس دن ایک دوسرے سے بغض رکھ کر ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے والے ہوگے۔ (الحلیۃ، بخاری، مسلم، حاکم بن طلحۃ بن عمرو النصری)

تشریح :۔۔۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب خندق کھودتے کھودتے صحابہ کرام تھک ہار چکے تھے اکثر فاقہ سے تھے اس موقعہ پر اپنے رفقاء کو تسلی دیتے ہوئے آپ نے یہ ارشاد فرمایا تھا۔
6234- لقد أتى علي وعلى صاحبي بضع عشرة وما لي وله طعام إلا البرير يعني ثمر الأراك، فقدمنا على إخواننا هؤلاء من الأنصار وعظم طعامهم التمر فواسونا فيه فوالله لو أجد لكم الخبز واللحم لأشبعتكم منه، ولكن عسى أن تدركوا زمانا بعدي حتى يغدى على أحدكم بجفنة ويراح عليه بأخرى، وتلبسون فيه مثل أستار الكعبة، قالوا يا رسول الله: أنحن اليوم خير أم ذلك اليوم؟ قال: بل أنتم اليوم خير، أنتم اليوم إخوان متحابون، وأنتم يومئذ يضرب بعضكم رقاب بعض متباغضون. "حل ق ك عن طلحة بن عمرو النصري"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৩৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ گزارہ کے قابل روزی بہتر ہے
٦٢٣٥۔۔۔ اس ذات کی قسم ! جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اگر میرے پاس روٹی اور گوشت ہوتا تو میں تمہیں کھلاتا، ہاں شاید تم ایسا زمانہ پاؤ یا تم میں سے کوئی ایک وہ وقت دیکھ لے گا، تم ایسے کپڑے پہنو گے جیسے خانہ کعبہ کے پردے ہوتے ہیں، صبح و شام تمہارے سامنے برتن لائے جائیں گے۔ (مسند احمد، ابن حبان، طبرانی فی الکبیر، سعید بن منصور عن طلحۃ بن عمرو النصری)

تشریح :۔۔۔ اس کا تعلق بھی اسی مضمون سے ہے۔
6235- والذي لا إله إلا هو لو أجد لكم الخبز واللحم لأطعمتكموه وأنه لعله أن تدركوا زمانا أو من أدركه منكم تلبسون مثل أستار الكعبة، يغدى عليكم ويراح بالجفان. "حم حب طب ص عن طلحة بن عمرو النصري".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৩৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کھانے پر بسم اللہ نہ پڑھنا غفلت کی علامت ہے
٦٢٣٦۔۔۔ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ! تم پر روم وفارس ضرور فتح ہوں گے، اور دنیا تم پر انڈیل دی جائے گی، اور تمہارے پاس روٹی اور گوشت بکثرت ہوں گے (اور اتنی کثرت میں غفلت ایسی ہوگی) کہ اکثر کھانے پر بسم اللہ بھی نہ پڑھی جائے گی۔ (طبرانی فی الکبیر عن عبداللہ بن بسر)

تشریح :۔۔۔ کھانوں کی جب کثرت ہوتی ہے تو افراتفری میں انسان واقعی بسم اللہ بھول جاتا ہے۔
6236- والذي نفسي بيده ليفتحن عليكم فارس والروم، ولتصبن عليكم الدنيا صبا، وليكثرن عندكم الخبز واللحم حتى لا يذكر على كثير منه اسم الله تعالى. "طب عن عبد الله بن بسر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৩৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کھانے پر بسم اللہ نہ پڑھنا غفلت کی علامت ہے
٦٢٣٧۔۔۔ عنقریب تم ایسے لوگ دیکھو گے جو مال کو ترجیح دیں گے، سو تمہارے لیے دنیا میں ایک گھر اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک سواری کافی ہے۔ (طبرانی فی الکبیر عن ابی ہاشم ابن عتبہ)

تشریح :۔۔۔ یہ حدیث عہد اول کی ہے بعد میں رخصت دے دی گئی، اس واسطے ہر ضرورت کی چیز ممنوع نہیں۔
6237- عسى أن تدركوا أقواما يؤثرون أموالا، وإنما يكفي أحدكم من الدنيا دار ومركب في سبيل الله. "طب عن أبي هاشم بن عتبة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৩৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کھانے پر بسم اللہ نہ پڑھنا غفلت کی علامت ہے
٦٢٣٨۔۔۔ میں تم سے پہلے پیش روہوں اور میں تمہارا گواہ ہوں، اور تمہارے وعدے کی جگہ حوض (کوثر) ہے میں اسے دیکھ رہا ہوں، جبکہ میں اپنی اس جگہ ہوں، مجھے اس کا خوف نہیں کہ تم شرک کرنے لگو گے، لیکن مجھے تم پر دنیا کا خدشہ ہے کہ تم ایک دوسرے سے ایک بڑھنے کی کوشش کرنے لگو گے۔ (ابن المبارک عن عقبۃ بن عامر و مربرقم، ٦١٦٧۔ تشریح پہلے ہوچکی ہے
6238- إني بين أيديكم فرط، وأنا عليكم شهيد، وإن موعدكم الحوض، وإني لأنظر إليه وأنا في مقامي هذا، وإني لست أخشى عليكم أن تشركوا ولكن أخشى عليكم الدنيا أن تنافسوها. "ابن المبارك عن عقبة بن عامر". ومر برقم [6176] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৩৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کھانے پر بسم اللہ نہ پڑھنا غفلت کی علامت ہے
٦٢٣٩۔۔۔ میں تمہارے بارے درندہ سے زیادہ ایک درندے کا خوف رکھتا ہوں، جب دنیا تم پر پوری طرح انڈیل دی جائے گی، کاش ! اس وقت میری امت سونا نہ پہنتی۔ (طبرانی عن ابی ذر)

تشریح :۔۔۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جس جس بات کا اندیشہ فرمایا، وہ ہو کر رہی ۔
6239- أنا لغير الضبع أخوف عليكم مني من الضبع: إذا صبت عليكم الدنيا صبا، فياليت أمتي لا يلبسون الذهب. "ط عن أبي ذر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৪০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مردوں کے لیے سونے کا استعمال حرام ہے
٦٢٤٠۔۔۔ اس کے علاوہ مجھے تمہارے متعلق خوف ہے جب دنیا تم پر بالکل انڈیل دی جائے گی کاش ! اس وقت میری امت سونے کا زیور نہ پہنے۔ (مسند احمد عن ابی ذر)

مردوں کے لیے تو ہے ہی ممانعت عورتوں کو بھی سوائے زیبائش و آرائش کے استعمال نہیں کرنا چاہیے، شدہ شدہ انسان ریا تک پہنچ جاتا ہے۔ (فطری باتیں)
6240- غير ذلك أخوف لي عليكم حين تصب عليكم الدنيا صبا فياليت أمتي لا يتجلون الذهب. "حم عن أبي ذر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৪১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مردوں کے لیے سونے کا استعمال حرام ہے
٦٢٤١۔۔۔ مجھے تمہارے متعلق فقر و فاقہ کا خوف نہیں، بلکہ مال میں ایک دوسرے سے بڑھنے کا ڈر ہے، اور مجھے تم پر غلطی کا خوف نہیں لیکن قصدا (غلطیاں کرنے) کا ڈر ہے۔ (حاکم، بیہقی فی شعب الایمان عن ابوہریرہ (رض) )

خطا و غلطی معاف ہے جبکہ قصد واردے سے گناہ کرنے سے پکڑ ہوتی ہے۔
6241- ما أخشى عليكم الفقر ولكني أخشى عليكم التكاثر، وما أخشى عليكم الخطأ، ولكني أخشى عليكم التعمد. "ك هب عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৪২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مردوں کے لیے سونے کا استعمال حرام ہے
٦٢٤٢۔۔۔ انسان کا دل، دنیا کی طلب میں ہمیشہ جواں رہتا ہے، اگرچہ بڑھاپے کی وجہ سے اس کے سینہ کی ہڈیاں ٹیڑی ہو کر مل جائیں۔ (اندیلمی عن ابوہریرہ (رض) )

تشریح :۔۔۔ زمانہ طفولیت و بچنے اور بڑھاپے میں ذہن و عادات میں موافقت ہوتی ہے، جیسے بچے لالچی اور حریص ہوتے ہیں ایسے ہی عمر رسیدہ لوگ ان رذائل کا شکار ہوجاتے ہیں۔
6242- لا تزال نفس ابن آدم شابة في طلب الدنيا، وإن التقت ترقوتاه من الكبر. "الديلمي عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৪৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مردوں کے لیے سونے کا استعمال حرام ہے
٦٢٤٣۔۔۔ اگر تم میں سے کسی کی وادی اوپر سے نیچے تک (بکریوں سے) بھری ہو تو وہ یہ چاہے گا کہ اس کی ایک اور وادی بھی ہو، پھر اگر اس کی یہ دوسری وادی بھی بھر جائے تو وہ دوڑ کر جائے گا اور دوسری وادی پالے گا، آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر میں کرسکتا تو تجھے بھر دیتا، اور انسان کا دل اسی وقت بھرے گا جب یہ مٹی سے بھر جائے گا۔ (طبرانی فی الکبیر عن سمرۃ)

تشریح :۔۔۔ انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ وہ کثرت مال اور قلت انفاق کا خوگر ہوتا ہے مال جمع کرنے کی ازبس کوشش کرتا ہے اور خرچ کرنے سے ڈرتا ہے۔
6243- إن أحدكم لو كان له واد ملآن ما بين أعلاه إلى أسفله أحب أن يملأ له واد آخر، فإن ملئ له الوادي الآخر فانطلق يمشي فوجد واديا آخر قال: أما والله لو استطعت لأملأنك، وإن الرجل لا تمتلئ نفسه من المال حتى تمتلئ من التراب. "طب عن سمرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৪৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مردوں کے لیے سونے کا استعمال حرام ہے
٦٢٤٤۔۔۔ اگر انسان کی مال (مویشی) کی دو وادیاں ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا میں لگ جاتا، مال تو صرف نماز قائم کرنے اور زکوۃ ادا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے، انسان کا پیٹ (قبر کی) مٹی ہی بھرے گی اور اللہ تعالیٰ اسی کی توبہ قبول کرتا ہے جو توبہ کرے۔ (طبرانی فی الکبیر عن ابی امامہ، مرعزوہ برقم، ٦١٦٥)

تشریح :۔۔۔ ضرورت میں استعمال کرے اور زائد ہو تو زکوۃ ادا کرے۔
6244- لو أن لابن آدم واديين من مال لتمنى واديا ثالثا، وما جعل المال إلا لإقام الصلاة وإيتاء الزكاة، ولا يشبع ابن آدم إلا التراب ويتوب الله على من تاب."طب عن أبي أمامة". مر عزوه برقم [6165] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৪৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرص کی انتہاء
٦٢٤٥۔۔۔ اگر انسان کی مال سے بھری دو وادیاں ہوتیں تو یہ تیسری کی طلب میں لگ جاتا انسان کا دل (قبر کی) مٹی ہی بھرے گی، اور اللہ تعالیٰ اسی کی توبہ قبول کرتا ہے جو توبہ کرے رجوع لائے۔ (ابن عساکر عن ابوہریرہ (رض))
6245- لو أن للإنسان واديين من مال لابتغى واديا ثالثا، ولا يملأ نفس ابن آدم إلا التراب ويتوب الله على من تاب. "كر عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৪৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرص کی انتہاء
٦٢٤٦۔۔۔ اگر انسان کے لیے مال کی دو وادیاں بہہ پڑیں تو وہ تیسری کی تمنا کرنے لگے، انسان کو مٹی ہی سیر کرسکتی ہے اور اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کو معاف فرما دیتے ہیں۔ (طبرانی فی الکبیر عن کعب بن عیاض)
6246- لو سيل لابن آدم واديان من مال لتمنى إليهما ثالثا، ولا يشبع ابن آدم إلا التراب ويتوب الله على من تاب. "طب" عن كعب ابن عياض.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৪৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرص کی انتہاء
٦٢٤٧۔۔۔ اگر انسان کی مال سے بھری دو وادیاں ہوتیں تو وہ تیسری کی تلاش میں لگ جاتا اور انسان کا پیٹ مٹی ہی بھرے گی، پھر اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتے ہیں جو توبہ کرے۔ (طبرانی فی الکبیر عن ابی بن کعب)
6247- لو كان للإنسان واديان من المال لالتمس الثالث، ولا يملأ بطن الإنسان إلا التراب ثم يتوب الله على من تاب. "طب عن أبي بن كعب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৪৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرص کی انتہاء
٦٢٤٨۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی خرابی کے لیے ایک آفت اور مصیبت بنائی ہے، اور میری امت کے لیے سب سے بڑی آفت جو انھیں پہنچے گی وہ ان کی دنیا کی محبت اور درھم و دینار کی ذخیرہ اندوزی ہے، اے ابوہریرہ ! ان میں سے اکثر جمع کرنے والوں کے لیے بہتری نہیں ، ہاں جسے اللہ تعالیٰ صحیح جگہ خرچ کرنے پر مقرر کرے (الرافعی عن ابوہریرہ (رض) ، الدیلمی عن انس
6248- إن الله جعل لكل شيء آفة تفسده، وأعظم آفة تصيب أمتي حبهم الدنيا وجمعهم الدينار والدرهم، يا أبا هريرة لا خير في كثير من جمعها إلا من سلطه الله على هلكتها في الحق. "الرافعي عن أبي هريرة، الديلمي عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৪৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرص کی انتہاء
٦٢٤٩۔۔۔ ایک بہت بڑا گناہ ہے جس کی لوگ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب نہیں کرتے اور وہ دنیا کی محبت ہے۔ (الدیلمی عن محمد بن عمیر بن عطارد و مربرقم، ٦١٧١
6249- ذنب عظيم لا يسأل الناس الله مغفرة منه حب الدنيا. "الديلمي عن محمد بن عمير بن عطارد". ومر برقم [6171] .
tahqiq

তাহকীক: