কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮০৩ টি

হাদীস নং: ৬২৭০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ آخرت کو طلب کرنے کا فائدہ
٦٢٧٠۔۔۔ جس کی صرف ایک ہی فکر ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی کفایت فرماتا ہے اور جس کی فکر ہر وادی کے متعلق ہو تو وہ جس میں ہلاک ہوجائے اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پروا نہیں۔ (ھناد عن سلیمان حبیب المحاربی ، مرسلا)
6270- من كان همه هما واحدا كفاه الله همه ومن كان همه بكل واد لم يبال الله تعالى بأيها هلك. "هناد عن سليمان بن حبيب المحاربي" مرسلا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৭১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ آخرت کو طلب کرنے کا فائدہ
٦٢٧١۔۔۔ جس نے دنیا پر غم کرتے ہوئے صبح کی تو وہ اپنے رب سے ناراض ہو کر صبح کرے گا اور جس کی صبح کسی مصیبت پر شکایت کرتے ہوئے ہوئی جو اس پر آئی تو وہ گویا اپنے رب سے شکوہ کررہا ہے جو کسی مالدار کے پاس پہنچا اور اس کے سامنے عاجزی کی تو اس کے دین کا دو تہائی ختم ہوگیا، اور جو قرآن پڑھ کر بھی جہنم میں داخل ہوا تو وہ ان لوگوں سے ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات سے مزاح کیا۔ (الخطیب عن ابن مسعود)

تشریح :۔۔۔ انسان کی نیک بختی کی علامت یہ ہے کہ وہ تقدیر اور قضائے الٰہی پر راضی رہے اور قضا و تقدیر پر چیخ و پکار بدبختی کی نشانی ہے۔
6271- من أصبح محزونا على الدنيا أصبح ساخطا على ربه ومن أصبح يشكو مصيبة نزلت به فإنما يشكو ربه، ومن دخل على غني فتضعضع له ذهب ثلثا دينه، ومن قرأ القرآن فدخل النار فهو ممن اتخذ آيات الله هزؤا. "الخطيب عن ابن مسعود"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৭২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ آخرت کو طلب کرنے کا فائدہ
٦٢٧٢۔۔۔ جس کی صبح اس حال میں ہو کہ اس کی سب سے بڑی پریشانی دنیا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کے ساتھ چار خصلتیں لگا دیتا ہے جو تا موت اس سے جدا نہیں ہوتیں ایسا غم جو کبھی ختم نہیں ہوتا، اور ایسی مشغولی جس سے کبھی فراغت نہیں ملتی، اور ایسی محتاجی جو کبھی مالداری تک نہیں پہنچ سکتی، اور ایسی امید جو کبھی بھی اپنی انتہاء تک نہیں پہنچ سکتی۔ (الدیلمی عن ابن عمر)

تشریح :۔۔۔ ہمیشہ پیچھے رہنے کا غم، مشغولی کے باوجود ترقی نہیں ہوتی، دل ہمیشہ محتاج رہتا ہے، سب کچھ سمیٹنے کی امید کبھی پوری نہیں ہوتی۔
6272- من أصبح والدنيا أكبر همه الزم الله عز وجل قلبه أربع خصال لا ينفك من واحد حتى يأتيه الموت، هم لا ينقطع أبدا، وشغل لا يتفرغ أبدا، وفقر لا يبلغ غنى أبدا، وأمل لا يبلغ منتهاه أبدا. "الديلمي عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৭৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ آخرت کو طلب کرنے کا فائدہ
٦٢٧٣۔۔۔ جو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوگیا تو اللہ تعالیٰ ہر ذمہ داری میں اس کی کفایت کرے گا اور اسے ایسی جگہ سے روزی دے گا جس کا اسے گمان بھی نہ ہوگا، اور جو دنیا کی طرف لگ گیا تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا کے سپرد کردیتے ہیں۔ (الحکیم وابن ابی حاتم، طبرانی فی الکبیر، بیہقی فی شعب الایمان، والخطیب عن عمران بن حصین)

تشریح :۔۔۔ دنیا ایک پریشانی ہے پھر دنیا کے پلے پڑجانا دوسری پریشانی ٹھہری۔
6273- من انقطع إلى الله كفاه الله كل مؤنة، ورزقه من حيث لا يحتسب، ومن انقطع إلى الدنيا وكله الله إليها. "الحكيم وابن أبي حاتم طب هب والخطيب عن عمران بن حصين".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৭৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا تقدیر کے مطابق ہی ملتی ہے
٦٢٧٤۔۔۔ جس کی نیت (ہی) دنیا ہو تو اللہ تعالیٰ فقر و محتاجی کو اس کے سامنے رکھ دیتے ہیں ، اور اس کی جائیداد کو بکھیر دیتے ہیں ، اور دنیا سے اسے وہی ملتا ہے جو اس کی مقدر ہو، اور جس کی نیت آخرت (کی) ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے دل میں غنا پیدا کرتے ہیں، اس کی جائیداد برقرار رکھتے ہیں اور دنیا ذلیل ہو کر اس کے پاس آتی ہے۔ (ابن عساکر عن زید بن ثابت)

تشریح :۔۔۔ محنت و مشقت اتنی کریں جتنی ضرورت ہے اس سے آگے کی تگ و دو فضول ہے۔
6274- من تكن الدنيا نيته جعل الله فقره بين عينيه، وشتت الله عليه ضيعته، ولا يأتيه منها إلا ما كتب له، ومن تكن الآخرة نيته جعل الله غناه في قلبه، ويكف عليه ضيعته، وتأتيه وهي راغمة.

ابن عساكر عن زيد بن ثابت".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৭৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا تقدیر کے مطابق ہی ملتی ہے
٦٢٧٥۔۔۔ جو آخرت کے عمل سے دنیا طلب کرے تو اس کا چہرہ مٹا دیا جائے گا، اس کا ذکر ختم کردیا جائے گا اور اس کے نام کو جہنمیوں میں باقی رکھا جائے گا۔ (طبرانی فی الاوسط ابو نعیم عن الج اور د بن المعلی)

تشریح :۔۔۔ ایسا عموماً وہ لوگ کرتے ہیں جو دین پڑھتے ہی دنیا حاصل کرنے کے لیے ہیں یا انھیں مغالطہ ہوتا ہے ، یا تاویل فاسد کا سہارہ لیتے ہیں۔
6275- من طلب الدنيا بعمل الآخرة طمس وجهه، ومحق ذكره وأثبت اسمه في أهل النار. "طس وأبو نعيم عن الجارود بن المعلى".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৭৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا تقدیر کے مطابق ہی ملتی ہے
٦٢٧٦۔۔۔ جس کے سامنے دنیا اور آخرت پیش کی گئیں اور اس نے آخرت اختیار کرلی اور دنیا چھوڑ دی تو اس کے لیے جنت ہے اور اگر اس نے دنیا لے لی اور آخرت ترک کردی تو اس کے لیے جہنم ہے۔ (ابن عساکر عن ابوہریرہ (رض) وابن عباس)

تشریح :۔۔۔ دنیا اور آخرت کو اپنی رائے سے ملا کر رکھنے سے اکثر دھوکا ہوجاتا ہے جبکہ سنت کی پیروی سے انسان کئی خطرات سے محفوظ رہتا ہے۔
6276- من عرضت له الدنيا والآخرة فأخذ الآخرة وترك الدنيا فله الجنة، وإن أخذ الدنيا وترك الآخرة فله النار. "ابن عساكر عن أبي هريرة وابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৭৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا تقدیر کے مطابق ہی ملتی ہے
٦٢٧٧۔۔۔ جس نے دنیا سے اپنی ضرورت پوری کی تو آخرت میں اس کی خواہشات کے درمیان رکاوٹ کردی جائے گی، اور جس نے خوش عیش لوگوں کی زیب وزینت کی طرف نگاہ بلند کی تو وہ آسمان و زمین کی بادشاہت میں ذلیل ہوگا، اور جس نے سخت روزینے پر اچھے صبر کا مظاہرہ کیا، تو اللہ تعالیٰ اسے جنت الفردوس میں وہاں جگہ عطا فرمائیں گے جہاں وہ چاہے گا۔ (بیہقی فی

شعب الایمان، ابن صعری فی امالیہ وحسنہ عن البراء، قال بیہقی فی شعب الایمان : تفردبہ اسماعیل بن عمرو البجلی)

تشریح :۔۔۔ صحابہ کرام (رض) کو جب دنیا کی عمدہ نعمتیں ملتیں تو وہ آبدیدہ ہو کر کہتے : کیا ہمیں ہمارے اعمال کا بدلہ دنیا میں ہی تو نہیں مل گیا ؟
6277- من قضى نهمته في الدنيا حيل بينه وبين شهوته في الآخرة ومن مد عينه إلى زينة المترفين كان مهينا في ملكوت السماء والأرض ومن صبر على القوت الشديد صبرا جميلا أسكنه الله من الفردوس حيث شاء. "هب وابن صصرى في أماليه وحسنه عن البراء" قال هب: تفرد به إسماعيل بن عمرو البجلي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৭৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا تقدیر کے مطابق ہی ملتی ہے
٦٢٧٨۔۔۔ جس کی نیت دنیا (بٹورنے) کی ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے معاملہ کو بکھیر دیتے ہیں اور محتاجی اس کے آگے رکھ دیتے ہیں ، اور دنیا سے اسے وہی ملتا ہے جو اس کا مقدر ہو، اور جس کی نیت آخرت کی طلب ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی حالت کو یکجا کردیتا ہے اس کے دل میں غنا پیدا فرماتا ہے اور دنیا ذلیل ہو کر اس کے پاس آتی ہے۔ (ابن ابی حاتم فی الزھد عن انس)

تشریح :۔۔۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ : اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردو، وہی سارے کام بنائے گا۔
6278- من كانت نيته طلب الدنيا شتت الله عليه أمره وجعل الفقر بين عينيه، ولم يأته من الدنيا إلا ما كتب له، ومن كانت نيته طلب الآخرة جمع الله شمله، وجعل غناه في قلبه، وأتته الدنيا وهي راغمة. "ابن أبي حاتم في الزهد عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৭৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا تقدیر کے مطابق ہی ملتی ہے
٦٢٧٩۔۔۔ جس کی غرض دنیا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے میرا پڑوس حرام کر دے، اس واسطے کہ میں دنیا کی بربادی کے لیے مبعوث ہوا نہ کہ اس کی تعمیر کے لیے۔ (ابو نعیم عن ابی جحیفۃ عن ابی الوضاح)

تشریح :۔۔۔ مراد دلوں میں اس کی آباد کرنے اور بسانے سے روکنے کے لئے۔
6279- من كانت الدنيا نهمته حرم الله عليه جواري، فأني بعثت بخراب الدنيا، ولم أبعث بعمارتها. "أبو نعيم عن أبي جحيفة عن أبي الوضاح".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৮০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا تقدیر کے مطابق ہی ملتی ہے
٦٢٨٠۔۔۔ کئی سو اونٹوں والوں کے لیے خرابی ہے، مگر جس نے اتنے اتنے مال کا اشارہ کیا، کمی کرنے والے اور کوشش کرنے والے نے فلاح پائی۔ (مسند احمد عن رجل)

تشریح :۔۔۔ جب مال کی کثرت ہوگی تو زکوۃ دینے سے جی کترائے گا۔
6280- ويل لأصحاب المئين من الإبل، إلا من قال بالمال هكذا وهكذا قد أفلح المزهد المجهد. "حم" عن رجل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৮১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا تقدیر کے مطابق ہی ملتی ہے
٦٢٨١۔۔۔ خبردار (مال کی) کثرت والے ہی کمترین ہیں خبردار (مال کی) کثرت والے ہی کمترین ہیں۔ (الدیلمی عن انس)

تشریح :۔۔۔ کو دنیا میں اپنے آپ کو سب سے عالیشان سمجھتے تھے، آخرت میں کم درجہ ہوں گے۔
6281- ألا إن الأكثرين هم الأرذلون، ألا إن الأكثرين هم الأرذلون. "الديلمي عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৮২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا تقدیر کے مطابق ہی ملتی ہے
٦٢٨٢۔۔۔ (مال کی) کثرت والے قیامت کے روز سب سے کم (اعمال والے) ہوں گے، مگر جس نے اس طرح اس طرح کہا۔ (ھناد، ابن ماجہ عن ابوہریرہ (رض) )

تشریح :۔۔۔ مالدار لوگ عموماً حساب کتاب کے بکھیڑوں میں پھنسے رہتے ہیں، فرض نماز کا موقعہ ملتا ہے اس میں بھی حضور قلب نہیں ہوتا، اور عبادات میں قولی و عملی عبادات، مالی عبادات سے افضل ہیں۔
6282- الأكثرون هم الأقلون يوم القيامة، إلا من قال هكذا وهكذا. "هناد هـ عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৮৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ فقراء جنت میں پہلے داخل ہوں گے
٦٢٨٣۔۔۔ ہم بعد میں آنے والے اور قیامت میں سب سے پہلے (جنت میں جانے والے) ہوں گے (مال کی) کثرت والے ہی قیامت میں سب سے پست درجہ اور کم (اعمال والے) ہوں گے، مگر جس نے کہا اتنا اتنا، مجھے یہ پسند نہیں کہ میرے لیے احد پہاڑ جتنا سونا ہو جسے میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کروں۔ (ابن النجار عن ابن مسعود)

تشریح :۔۔۔ اس لیے کہ مال چاہے دینے کے لیے ہو پھر بھی اس کی ذمہ داری ہے کہ کہاں خرچ کیا جائے، اس فکر مندی کی کیا ضرورت ہے ؟
6283- نحن الآخرون والأولون يوم القيامة، فإن المكثرين هم الأسفلون الأقلون يوم القيامة، إلا من قال: هكذا وهكذا ولا أحب أن لي مثل أحد ذهبا أنفقه في سبيل الله عز وجل. "ابن النجار عن ابن مسعود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৮৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ فقراء جنت میں پہلے داخل ہوں گے
٦٢٨٤۔۔۔ جس نے دنیا میں اپنے سے بلند شان کو اور دین کے بارے میں اپنے سے کم (اعمال والے) کو دیکھا ، اسے اللہ تعالیٰ نہ صابر لکھے گا نہ شاکر، اور جس نے دنیا میں اپنے سے کم درجہ کو اور دین کے معاملہ میں اپنے سے اعلیٰ کو دیکھا تو اللہ تعالیٰ اسے صابر شاکر لکھیں گے۔ (حلیۃ الاولیاء، بیہقی فی شعب الایمان عن انس)

تشریح :۔۔۔ پہلے شخص کو شکر گزار نہ لکھنے کی وجہ یہ ہے کہ اس نے جب اپنے سے ا علیٰ شخص کو دیکھا تو اس کے جسم پر جو نعمت موجود تھی اسے حقیر سمجھا اور کہا : مجھے اللہ تعالیٰ نے دیا ہی کیا ہے کہ میں شکر بجالاؤں، اور دین میں معاملہ میں اپنے سے کم اعمال والے کو دیکھا تو مزید اعمال نفل و مستحبات ادا کرنے کی توفیق اس لیے نہ ہوئی کہ ہم جو فرض ادا کر رہے ہیں یہی کافی ہیں فلاں تو فرض بھی ادا نہیں کرتا مزید تفصیل ” فطرتی و نفسیاتی باتوں “ میں دیکھیں۔
6284- من نظر في الدنيا إلى من فوقه وفي الدين إلى من تحته لم يكتبه الله صابرا ولا شاكرا، ومن نظر في الدنيا إلى من تحته، وفي الدين إلى من فوقه كتبه الله صابرا شاكرا. "حل هب عن أنس"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৮৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ فقراء جنت میں پہلے داخل ہوں گے
٦٢٨٥۔۔۔ جس بندے کے دل میں دنیا کی محبت رچ بس گئی اسے اللہ تعالیٰ تین آزمائشوں میں مبتلا کردیں گے ، ایسی امید جو اپنی انتہاء کو نہیں پہنچے گی، ایسی محتاجی جو مالداری اور غنا کو حاصل نہ کرے گی، اور ایسی مشغولی جس کی مشقت جدا نہ ہوگی۔ (الدیلمی عن ابی سعید)

تشریح :۔۔۔ امید یہ ہے کہ سب سے مالدار ہوجاؤں ، محتاجی یہ ہے کہ ہمیشہ قرضوں کی پڑی رہتی ہے مشغولی یہ ہے کہ نہ دل فارغ نہ دماغ، سوتے جاگتے یہ خواب و خیال آنکھوں کے سامنے منڈلاتے ہیں۔
6285- ما سكن حب الدنيا قلب عبد إلا ابتلاه الله بخصال ثلاث: بأمل لا يبلغ منتهاه، وفقر لا يدرك غناه، وشغل لا ينفك عناه. "الديلمي عن أبي سعيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৮৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ فقراء جنت میں پہلے داخل ہوں گے
٦٢٨٦۔۔۔ (مال کو) بڑھانے والے ہلاک ہوئے مگر جس نے یہ کہا : اتنا ، اتنا اور اتنا ، جبکہ وہ بہت کم ہیں۔ (مسند احمد وھناد وعبد بن ابی سعد ، طبرانی فی الکبیر عن عبد الرحمن بن البزی)
6286- هلك المكثرون، إلا من قال: هكذا وهكذا وهكذا وقليل ما هم. "حم وهناد وعبد بن حميد عن أبي سعيد" "طب عن عبد الرحمن بن أبزى"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৮৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ فقراء جنت میں پہلے داخل ہوں گے
٦٢٨٧۔۔۔ ہمارے سامنے ایک گھاٹی ہے جس پر چڑھنا بہت مشکل ہے، جسے صرف ہلکے لوگ ہی پار کرسکیں گے ابوذر (رض) عرض کرنے لگے : یا رسول اللہ ! میں ان لوگوں میں سے ہوں ؟ آپ نے فرمایا : کیا تمہارے پاس ایک شب و روز کی خوراک موجود ہے ؟ انھوں نے عرض کی : نہیں، آپ نے فرمایا : تو تم ہلکے لوگوں میں سے ہو۔ (بیہقی فی السنن عن انس)

تشریح :۔۔۔ ہلکے ہونے سے مراد مشاغل و موائق کی مشغولی سے آزادی ہے۔
6287- إن بين أيدينا عقبة كؤودا لا يجاوزها إلا المخفون، قال أبو ذر: أنا منهم يا رسول الله؟ قال: ألك قوت يوم وليلة؟ قال: لا قال: فأنت من المخفين. "هق عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৮৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ فقراء جنت میں پہلے داخل ہوں گے
٦٢٨٨۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے اس فقیر پر لعنت فرمائی ہے جو کسی مالداری کے سامنے اس کی مالداری کی وجہ سے عاجزی کرے، جس نے ایسا کیا تو اس کے دین کا دو تہائی جاتا رہا۔ (الدیلمی عن ابی ذر)

تشریح :۔۔۔ اس واسطے کوئی مسلمان ایسی حرکت نہ کرے اور اپنے دل میں فقط اللہ تعالیٰ کی ہیبت ہی اتارے۔
6288- لعن الله عز وجل فقيرا تواضع لغني من أجل ماله من فعل ذاك منهم فقد ذهب ثلثا دينه. "الديلمي عن أبي ذر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৮৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ فقراء جنت میں پہلے داخل ہوں گے
٦٢٨٩۔۔۔ جس نے دنیا دار کے لیے عاجزی کی تو اس کی وجہ سے اس کا آدھا دین کم کردیا جائے گا اور جو کسی ایسی قوم کے کھانے میں شریک ہوا جس کی اسے دعوت نہیں دی گئی تو اللہ تعالیٰ اس کے پیٹ کو (جہنم کی) آگ سے بھر دے گا، یہاں تک کہ قیامت کے دن لوگوں کے سامنے اس کا فیصلہ کیا جائے گا۔ (الدیلمی عن ابوہریرہ (رض)) کیونکہ کسی کی اجازت کے بغیر اس کا کھانا کھانا ناجائز ہے۔
6289- من تضرع لصاحب دنيا وضع بذلك نصف دينه، ومن أتى طعام قوم لم يدع إليه ملأ الله عز وجل بطنه نارا حتى يقضي بين الناس يوم القيامة. "الديلمي عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক: