কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮০৩ টি

হাদীস নং: ৬২৯০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال و منصب والے کے سامنے جھکنے کی ممانعت
٦٢٩٠۔۔۔ جو کسی دنیاوی شان و شوکت والے کے سامنے اپنی دنیا کی غرض سے عاجز ہوا تو اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس سے اپنا چہرہ پھیر لیں گے۔ (الدیلمی عن ابوہریرہ (رض) )

تشریح :۔۔۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی نظر کرم اس پر نہ ہوگی۔
6290- من تضعضع لذي سلطان إرادة دنياه أعرض الله عنه بوجهه في الدنيا والآخرة. "الديلمي عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৯১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال و منصب والے کے سامنے جھکنے کی ممانعت
٦٢٩١۔۔۔ جو کسی شان و شوکت والے کے ایک گز قریب ہوا تو اللہ تعالیٰ دونوں ہاتھوں کی مقدار اس سے دور ہوں گے۔ (الدیلمی عن انس)

تشریح :۔۔۔ مراد اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری ہے۔
6291- من تقرب من ذي سلطان ذراعا تباعد الله منه باعا. "الديلمي عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৯২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال و منصب والے کے سامنے جھکنے کی ممانعت
٦٢٩٢۔۔۔ جو کوئی بھی زرد اور سفید کو ترک کر گیا قیامت کے روز اسے اس سے داغا جائے گا۔ (مسند احمد وابن مردویہ بخاری مسلم عن ابی ذر)

تشریح :۔۔۔ یعنی ان کی زکوۃ نہیں دی، سونا چاندی مراد ہے۔
6292- ما من أحد ترك صفراء أو بيضاء إلا كوي بها يوم القيامة. "حم وابن مردويه ق عن أبي ذر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৯৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال و منصب والے کے سامنے جھکنے کی ممانعت
٦٢٩٣۔۔۔ جو اس حال میں مرا کہ وہ سونا چاندی چھوڑے جا رہا ہے تو قیامت کے روزا سے ان سے داغا جائے گا، (پھر) اس کی مغفرت ہوگی یا اسے عذاب ہوگا۔ (ابن مردویہ عن ابی امامہ)

سابقہ تشریح ملاحظہ فرمائیں۔
6293- ما من أحد يموت فيترك صفراء أو بيضاء إلا كوي بها يوم القيامة مغفورا له بعد أو معذبا. "ابن مردويه عن أبي أمامة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৯৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال و منصب والے کے سامنے جھکنے کی ممانعت
٦٢٩٤۔۔۔ جس نے زرد چاندی اور سفید سونا چھوڑا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ورق پترے ، بنائے گا پھر ان سے اسے مانگ سے لے کر پاؤں تک داغا جائے گا۔ (ابن مردویہ حلیۃ الاولیاء عن ثوبان)

تشریح :۔۔۔ یعنی لوہے کی جیسی بڑی چادریں ہوتی ہیں سونے چاندی کو اس شکل میں ڈھالا جائے گا۔
6294- ما من أحد ترك صفراء ولا بيضاء من ذهب ولا فضة إلا جعل الله له صفائح، ثم كوي به من فرقه إلى قدمه. "ابن مردويه "حل" عن ثوبان".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৯৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال و منصب والے کے سامنے جھکنے کی ممانعت
٦٢٩٥۔۔۔ جو بندہ مرنے کے دن سونا چاندی چھوڑے جا رہا ہو تو اسے ان سے داغا جائے گا۔ (طبرانی فی الکبیر وابن عساکر عن ابی امامۃ)
6295- ما من عبد يموت فيترك أصفر أو أبيض إلا كوي به. "طب وابن عساكر عن أبي أمامة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৯৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال و منصب والے کے سامنے جھکنے کی ممانعت
٦٢٩٦۔۔۔ جس نے ایک دینار چھوڑا تو اسے ایک بار داغا جائے گا اور جس نے دو دینار چھوڑے اسے دو بار داگا جائے گا۔ (الحسن بن سفیان عن حبیب بن حزم بن الحارث السلمی عن عمہ الحکم بن الحارث السلسی)

تشریح :۔۔۔ سب جگہ وہی لوگ مراد ہیں جو زکوۃ نہیں دیتے۔
6296- من ترك دينارا فكية، ومن ترك دينارين فكيتين. "الحسن بن سفيان عن حبيب بن حزم بن الحارث السلمي عن عمه الحكم ابن الحارث السلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৯৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال و منصب والے کے سامنے جھکنے کی ممانعت
٦٢٩٧۔۔۔ جس نے دو دینار چھوڑے (تو گویا) اس نے دو داغ چھوڑے۔ (بخاری فی التاریخ طبرانی فی الکبیر وابن عساکر عن اسماء بنت یزید)
6297- من ترك دينارين ترك كيتين. "خ في التاريخ طب وابن عساكر عن أسماء بنت يزيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৯৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال و منصب والے کے سامنے جھکنے کی ممانعت
٦٢٩٨۔۔۔ دو داغ ہیں (بہرکیف) اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھو۔ (مسند احمد عن علی)
6298- كيتان صلوا على صاحبكم. "حم عن علي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২৯৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال و منصب والے کے سامنے جھکنے کی ممانعت
٦٢٩٩۔۔۔ دنیا میں اس طرح رہ گویا کہ تو مسافر ہے یا راستہ پار کرنے والا ہے اور اپنے آپ کو قبر والوں میں شمار کر۔ (ابن المبارک، مسند احمد، ترمذی، ابن ماجہ، حاکم عن ابن عمر)

تشریح :۔۔۔ یعنی اپنے آپ کو مردہ سمجھ جس کی نہ کوئی تمنا اور نہ آرزو ہے۔
6299- كن في الدنيا كأنك غريب أو عابر سبيل، وعد نفسك من أهل القبور. "ابن المبارك حم ت هـ ك عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩০০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال و منصب والے کے سامنے جھکنے کی ممانعت
٦٣٠٠۔۔۔ اے عبداللہ بن عمر ! دنیا میں ایسے رہ جیسے تو کوئی مسافر ہے یا راہ عنور کرنے والا ہے اور اپنے آپ کو مردوں کے ساتھ گنا کر۔ (ھناد عن ابن عسر (رض))
6300- يا عبد الله بن عمر كن في الدنيا كأنك غريب أو عابر سبيل وأعدد نفسك مع الموتى. "هناد عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩০১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال و منصب والے کے سامنے جھکنے کی ممانعت
٦٣٠١۔۔۔ دنیا اور آخرت کی مثال اس کپڑے کی سی ہے جس کی ابتداء سے آخر تک ٹکڑوں میں بٹ جائے بس ایک دھاگے کا تعلق باقی رہ جائے، تو یہ دھاگہ کتنی دیر میں منقطع ہوگا۔ (حلیۃ الاولیاء عن انس)

تشریح :۔۔۔ یعنی دنیا اور آخرت کا سا جھا کچھ لمبے عرصہ کا نہیں، بہت تھوڑا ہے۔
6301- مثل الدنيا والآخرة كمثل ثوب شق من أوله إلى آخره فتعلق بخيط منها فما لبث ذلك الخيط أن ينقطع. "حل عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩০২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال و منصب والے کے سامنے جھکنے کی ممانعت
٦٣٠٢۔۔۔ اے لوگو ! تمہاری اس دنیا میں جو گزر گیا بس اتنا ہی باقی ہے جتنا تمہارے اس دن کے گزرے ہوئے حصہ کے مقابلہ میں باقی ماندہ دن ہے۔ (حاکم عن ابن عمر)

تشریح :۔۔۔ یعنی بہت ہی کم وقت رہ گیا ہے آخرت آئی کہ آئی !
6302- يا أيها الناس إنه لم يبق من دنياكم هذه فيما مضى إلا كما بقي من يومكم هذا فيما مضى منه. "ك عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩০৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال و منصب والے کے سامنے جھکنے کی ممانعت
٦٣٠٣۔۔۔ بنطیوں میں جب اسلام پھیل جائے اور وہ تمہارے ہاں گھر بنالیں اور صحنوں میں بیٹھ جائیں تو ان سے ہوشیار رہنا کیونکہ ان میں فساد وشر اور فتنہ ہوگا۔ (ابن عساکر عن ابوہریرہ (رض) وسندہ ضعیف)

تشریح :۔۔۔ نبطی ایک قدیم قوم ہے جن کا اثر و رسوخ، جرات و بہادری کے لحاظ سے دیگر اقوام پر رہا، یہ لوگ گلہ بانی کرتے اور سادہ غذا استعمال کرتے جنگجو تھے اور عادات میں ہٹ دھرم ، اہل عرب عموماً عراق و شام کے دیہاتیوں کو نبطی کہا کرتے تھے۔ (اردو دائرۃ المعارف الاسلامیہ پنجاب یونیورسٹی لاہور)

تشریح :۔۔۔ بہرکیف سند چونکہ ضعیف ہے اس لیے اس پر کلام کرنا بےفائدہ ہے کیونکہ وہ احادیث ضعیف ہیں جن میں کسی خاص قوم اور قبیلہ کی برائیاں بیان کی گئی ہوں۔ (الموضوعات لملاعی)
6303- إذا فشا الإسلام في الأنباط واتخذوا فيكم الدور وقعدوا في الأفنية فاحذروهم، فإن فيهم الدغل والنغل والفتنة. "كر عن أبي هريرة" وسنده ضعيف.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩০৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دین پر ثابت قدمی کی دعا
٦٣٠٤۔۔۔ جب تم لوگوں کو دیکھو کہ وہ سونے چاندی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے ہیں تو یہ دعا کرنا : اے اللہ میں (دین کے) معاملہ میں ثابت قدمی کا سوال کرتا ہوں اور میں رشد و ہدایت کے قصد کا سوال کرتا ہوں، اور آپ کی نعمت کی شکر گزاری کا سوال کرتا ہوں، اور آپ کی طرف سے آنے والی آزمائش پر صبر کا، آپ کی اچھی عبادت کرنے اور آپ کے فیصلہ پر راضی رہنے کا سوال کرتا ہوں۔ میں آپ سے (شرک سے) سلامت دل اور سچی زبان کا سوال کرتا ہوں ، اور ان بھلائیوں کا سوال کرتا ہوں جو آپ کے علم میں ہیں، اور ان برائیوں سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں جو آپ کے علم میں ہیں، اور ان لغزشوں پر آپ کی مغفرت کا سوال کرتا ہوں جو آپ کے علم میں ہیں۔ (طبرانی فی الکبیر عن البراء (رض) وفیہ موسیٰ بن مطہر متروک، میزان الاعتدال للذھبی ج ٤، ص ٢٢٣)

تشریح :۔۔۔ حدیث کا راوی اگرچہ متروک ہے لیکن حدیث کے الفاظ دوسری روایات سے ثابت ہیں۔ (دیکھیں عمل الیوم واللیلۃ لابن السنی مطبوعہ نور محمد کراچی)
6304- إذا رأيت الناس يتنافسون الذهب والفضة فادع بهذه الدعوات: اللهم إني أسألك الثبات في الأمر، وأسألك عزيمة الرشد وأسألك شكر نعمتك، والصبر على بلائك وحسن عبادتك والرضا بقضائك، وأسألك قلبا سليما، ولسانا صادقا، وأسألك من خير ما تعلم، وأعوذ بك من شر ما تعلم، وأستغفرك لما تعلم. "طب عن البراء" وفيه موسى بن مطير متروك. ميزان الاعتدال للذهبي [4/223] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩০৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دین پر ثابت قدمی کی دعا
٦٣٠٥۔۔۔ اللہ تعالیٰ تیرے جسم کو صحت بخشے، تیری کھیتی کو بہتر بنائے، تیرے مال میں اضافہ فرمائے۔ ابن عساکر عن ابن عمر

تشریح :۔۔۔ ایک یہودی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دعا کا مطالبہ کیا تو آپ نے یہ الفاظ ذکر کیے ، اس سند میں اسماعیل بن یحییٰ تیمی کذاب ہے جو حدیثیں گھڑتا تھا۔
6305- أصح الله جسمك وأطاب حرثك وأكثر مالك. "كر عن ابن عمر" أن يهوديا قال للنبي صلى الله عليه وسلم: ادع لي قال: فذكره وفيه إسماعيل بن يحيى التيمي كذاب يضع.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩০৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دین پر ثابت قدمی کی دعا
٦٣٠٦۔۔۔ میں ایک شخص کو (مال) دیتا ہوں اور جو اس سے بہتر ہوتا ہے اسے چھوڑ دیتا ہوں (اور جسے دیتا ہوں) اس خوف سے کہ اسے اللہ تعالیٰ جہنم میں اوندھے منہ گرا دے گا۔ (طبرانی عن سعد بن ابی وقاص)

تشریح :۔۔۔ کیونکہ بہت سے بد زبان لوگ آتے اور جب انھیں محروم رکھا جاتا تو اول فول بکتے اور ایسا عموماً منافقین کرتے تھے، اس واسطے آپ صحابہ کرام کو وقتی طور پر محروم رکھتے اور اس خاص شخص کو دے کر روانہ کردیتے۔
6306- إني لأعطي الرجل، وأدع من هو خير منه مخافة أن يكبه الله على وجهه في النار. "ط عن سعد بن أبي وقاص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩০৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دین پر ثابت قدمی کی دعا
٦٣٠٧۔۔۔ دنیا میں فاقے سے رہنے والے وہی لوگ ہوں گے جن کی روحیں اللہ تعالیٰ قبض کرے گا، وہ موجود نہ ہوں تو ان کا پوچھا نہیں جاتا، اور جب موجود ہوں تو کوئی انھیں پہچانتا نہیں وہ دنیا میں مخفی ہیں اور آسمان میں مشہور، جاہل انھیں دیکھ کر خیال کرتے ہیں کہ وہ بیمار ہیں انھیں سوائے اللہ تعالیٰ کے کو ف کے کوئی بیماری نہیں، انھیں اس وقت سایہ فراہم کیا جائے گا جس دن اللہ تعالیٰ کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا۔ (الدیلمی عن ابوہریرہ (رض) )

تشریح :۔۔۔ اس مضمون کی کئی احادیث پہلے گزر چکی ہیں، جن سے مقصود شکم سیری اور شہرت سے بچنے کی ترغیب ہے، لیکن اگر یہ چیزیں ازخود حاصل ہوجائیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔
6307- أهل الجوع في الدنيا هم الذين يقبض الله أرواحهم وهو الذين إذا غابوا لم يفتقدوا، وإذا شهدوا لم يعرفوا، أخفياء في الدنيا، معروفون في السماء، إذا رآهم الجاهل ظن بهم سقما، وما بهم من سقم إلا الخوف من الله تعالى، ليظلون يوم القيامة يوم لا ظل إلا ظله. "الديلمي عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩০৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دین پر ثابت قدمی کی دعا
٦٣٠٨۔۔ خبردار ! عیش و عشرت سے بچنا اس واسطے کہ اللہ تعالیٰ کے (نیک) بندے عیش پرست نہیں ہوتے۔ مسند احمد عن معاذ

تشریح :۔۔۔ مطلب حد سے زیادہ نمودونمائش برتنا جو تکبر وریاء تک پہنچ جائے۔
6308- إياكم والتنعم، فإن عباد الله ليسوا بالمتنعمين. "حم عن معاذ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩০৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دین پر ثابت قدمی کی دعا
٦٣٠٩۔۔۔ خبردار ! پیٹ بھر کر کھانے سے بچنا، اس لیے کہ بندہ اسی وقت ہلاک ہوتا ہے جب وہ آخرت کے مقابلہ میں اپنی خواہش کو فوقیت و اہمیت دینے لگے۔ (الدیلمی عن ابن عباس)

تشریح :۔۔۔ کھانے کی ہمہ وقت فکر بسا اوقات انسان کو کئی اونچے مناصب سے محروم کردیتی ہے۔
6309- إياكم والبطنة من الطعام، فإن العبد لن يهلك حتى يؤثر شهوته على آخرته. "الديلمي عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক: