কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮০৩ টি

হাদীস নং: ৬৩১০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دین پر ثابت قدمی کی دعا
٦٣١٠۔۔۔ لوگو ! دنیا تو ایک عارضی چیز ہے جسے نیک و بد حاصل کرتا ہے، اور آخرت سچا وعدہ ہے، جس میں قادر بادشاہ حاکم ہوگا جو اس کا حق کو حق اور باطل کو باطل کی صورت میں کر دکھائے گا، سو اے لوگو ! آخرت کے بیٹے بن جاؤ، اور دنیا کے بیٹے نہ بنو، اس واسطے کہ ہر ماں کی پیروی اس کا بیٹا کرتا ہے ، اور عمل کرتے رہو اور تم اللہ تعالیٰ سے ایک خوف پر ہو، اور جان لو تم اپنے اعمال کے سامنے پیش ہوگے اور لازماً تم نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرنی ہے سو جس نے ذرہ برابر بھلائی کی ہوگی اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔ (الحسن بن سفیان طبرانی فی الکبیر وابن مردویہ، حلیۃ الاولیاء عن شداد بن اوس)

تشریح :۔۔۔ حدیث کے آخری جملوں پر توجہ دیں، انسان جو برائی یا اچھائی کرے گا اگر اس کے بعد کوئی ایسا عمل نہ کیا جس سے وہ برائی اور اچھائی باقی نہیں رہتی تو وہ اسے دیکھ لے گا، کیونکہ برائی یا کبیرہ گناہ کی صورت میں ہوگی یا صغیرہ کی صورت میں، اور کبیرہ گناہ توبہ سے معاف ہوجاتا ہے اور صغیرہ دوسری نیکیوں کے ذریعہ ختم ہوجاتے ہیں رہی نیکی تو بعض اوقات نیکیاں ختم ہونا شروع ہوجاتی ہیں، جس کا آدمی کو علم بھی نہیں ہوتا، اس لیے کسی نے کہا ہے : نیکی کرنا آسان لیکن اسے باقی رکھنا مشکل ہے۔
6310- يا أيها الناس إنما الدنيا عرض حاضر يصيب منها البر والفاجر، وإن الآخرة وعد صادق يحكم فيها ملك قادر يحق لها الحق، ويبطل الباطل، أيها الناس فكونوا من أبناء الآخرة، ولا تكونوا من أبناء الدنيا، فإن كل أم يتبعها ولدها، اعملوا وأنتم من الله على حذر، واعلموا أنكم معرضون على أعمالكم، وأنكم ملاقوا الله لا بد منه، فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره، ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره. "الحسن ابن سفيان طب وابن مردويه حل عن شداد بن أوس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩১১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا فانی ہے
٦٣١١۔۔۔ دنیا (ادھر سے) کوچ کرنے اور جانے والی ہے، اور آخرت (ادھر سے) کوچ کرکے آنے والی ہے ان میں سے ہر ایک (کئی) بیٹے ہیں، سو اگر تم سے ہو سکے کہ آخرت کے بیٹے بنو اور دنیا کے بیٹے نہ بنو، تو ایسا ہی کرنا، اس واسطے کہ تم آج ایسے عمل کے گھر میں ہو جس میں حساب (وکتاب) نہیں، اور کل قیامت میں حساب کے گھر میں ہوگے جہاں عمل نہیں (ابن لال عن جابر)

تشریح :۔۔۔ مفہوم واضح ہے تشریح کی ضرورت نہیں۔
6311- الدنيا مرتحلة ذاهبة، والآخرة مرتحلة قادمة، ولكل واحدة منهما بنون، فإن استطعتم أن تكونوا من بني آخرة لا بني دنيا فافعلوا، فإنكم اليوم في دار عمل لا حساب فيها، وغدا في دار حساب لا عمل فيها."ابن لال عن جابر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩১২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا فانی ہے
٦٣١٢۔۔۔ سونے چاندی کے لیے ہلاکت ہو، کسی نے عرض کی تو پھر ہم کیا ذخیرہ کریں ؟ آپ نے فرمایا : ذکر کرنے والی زبان ، شکر کرنے والا دل، اور ایسی بیوی جو آخرت (کے کاموں) پر مددگار ہو۔ (مسند احمد عن رجل من الصحابہ)

تشریح :۔۔۔ سبب ہلاکت ہونے کی وجہ سے ایسا فرمایا ورنہ فی نفسہ سونا چاندی ہلاکت کا سبب نہیں۔
6312- تبا للذهب والفضة، قيل فما ندخر؟ قال لسانا ذاكرا وقلبا شاكرا وزوجة تعين على الآخرة. "حم عن رجل من الصحابة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩১৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا فانی ہے
٦٣١٣۔۔۔ ستیاناس ہو سونے چاندی کا ! تم ذکر کرنے والی زبان ، شکر گزار دل اور آخرت پر مددگار بیوی کو اختیار کرو۔ (بیہقی عن ابن عمر)
6313- تبا للذهب والفضة، تتخذ لسانا ذاكرا، وقلبا شاكرا، وزوجة تعين على الآخرة. "هب عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩১৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا فانی ہے
٦٣١٤۔۔۔ دنیا چھوڑنا بڑے جان جوکھوں کا کام ہے (بلکہ) اللہ تعالیٰ کی راہ میں تلوار (چلا چلا کر) توڑنے سے زیادہ با مشقت ہے اور جو بھی دنیا کو چھوڑے گا اسے اللہ تعالیٰ ایسا اجر دے گا جیسا شہدا کو دیتا ہے اور اس کا چھوڑنا (یہ ہے کہ) کم کھانا اور کم سیر ہونا اور لوگوں کی تعریف کو ناپسند سمجھنا، اس واسطے کہ جو لوگوں سے تعریف سننا پسند کرے تو وہ دنیا اور اس کی نعمتوں کو پسند کرے گا، اور جسے ساری نعمتیں خوش کرنے لگیں، اسے چاہیے کہ وہ دنیا اور لوگوں سے تعریف (سننا) چھوڑ دے گا۔ (الدیلمی عن ابن مسعود)

تشریح :۔۔۔ بظاہر یہ معمولی کام لگتے ہیں لیکن جو لوگ ان میں مبتلا ہیں ان سے اگر پوچھا جائے تو کسی قیمت پر ان چیزوں کو چھوڑنے کا نام نہیں لیتے اور عذر یہ کرتے ہیں : صاحب ! کیا کریں مجبوری ہے، اس واسطے ان خرابیوں میں پڑنے سے پہلے ہی آگاہ کردیا گیا۔
6314- ترك الدنيا أمر من الصبر، وأشد من حطم السيوف في سبيل الله، ولا يتركها أحد إلا أعطاه الله مثل ما يعطي الشهداء، وتركها قلة الأكل والشبع، وبغض الثناء من الناس، فإنه من أحب الثناء من الناس أحب الدنيا ونعيمها، ومن سره النعيم كل النعيم، فليدع الدنيا والثناء من الناس. "الديلمي عن ابن مسعود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩১৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا فانی ہے
٦٣١٥۔۔۔ معد بن عدنان کی مشابہت اختیار کرو، موٹے کھردرے کپڑے پہنو اور ننگے پاؤں چلا کرو۔ (الرامھرمزی فی الامثال عن عبداللہ بن سعید عن ابیہ عن رجل من اسم یقال لہ ابن لادرع مربرقم، ٥٧٣٢)

اس حدیث کی تشریح پہلے گزر چکی ہے۔
6315- تمعددوا واخشوشنوا وامشوا حفاة. "الرامهرمزي في الأمثال عن عبد الله بن سعيد عن أبيه عن رجل من أسلم يقال له ابن الأدرع". مر برقم [5732] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩১৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا فانی ہے
٦٣١٦۔۔۔ دنیا کی مٹھاس آخرت کی کڑواہٹ ہے اور دنیا کی کڑواہٹ آخرت کی مٹھاس ہے۔ (مسند احمد والبغوی، طبرانی فی الکبیر، بیہقی فی شعب الایمان وابن عساکر عن ابی مالک الاشعری)

تشریح :۔۔۔ بات صاف ہے جو شخص صبر کے ساتھ دنیا کی زندگی گزار گیا اور کوئی شکوہ نہ کیا تو اس کی آخرت کو چار چاند لگے،

لیکن جو دنیا میں نادار بھی رہا اور زبان سے واویلا بھی کیا تو اس کی آخرت اور دنیا دونوں برباد ہیں۔
6316- حلوة الدنيا، مرة الآخرة، ومرة الدنيا حلوة الآخرة. "حم والبغوي طب ك هب وابن عساكر عن أبي مالك الأشعري".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩১৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا فانی ہے
٦٣١٧۔۔۔ دنیا، دنیا والوں کے لیے چھوڑ دو ، جس نے اپنی ضرورت و کفایت سے زیادہ دنیا حاصل کی تو اس نے اپنی موت لی جبکہ اسے علم نہیں۔ (ابن لال عن انس (رض))

تشریح :۔۔۔ جو چیز بھی حد اعتدال سے متجاوز ہوگی نقصان دہ لازماً ہوگی۔
6317- دعوا الدنيا لأهلها، من أخذ منها فوق ما يكفيه أخذ حتفه وهو لا يشعر. "ابن لال عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩১৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مالدار شیطان کے نرغے میں
٦٣١٨۔۔۔ شیطان نے کہا : کہ مالدار آدمی تین باتوں میں سے مجھ سے نہیں بچ سکتا، جن کو میں صبح و شام لے کر اس کے پاس آتا ہوں، حرام طریقے سے اس کا مال حاصل کرنا، ناحق خرش کرنا، اور میں مال کو اس کا محبوب بنا دوں گا جو اسے، اس کے حق (میں صرف کرنے) سے روک دے گا۔ (طبرانی فی الکبیر وابو نعیم فی المعرفۃ عن عبد الرحمن بن عوف ورجالہ ثقات)

تشریح :۔۔۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ان فتنوں سے محفوظ رہے ہوں۔
6318- قال الشيطان لن يسلم مني صاحب المال من أحدى ثلاث: أغدو عليه بهن وأروح بهن، أخذه المال من غير حله، وإنفاقه في غير حقه وأحببه إليه فيمنعه من حقه. "طب وأبو نعيم في المعرفة عن عبد الرحمن بن عوف ورجاله ثقات".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩১৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مالدار شیطان کے نرغے میں
٦٣١٩۔۔۔ ثوبان ! اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا، جب تم پر امتیں (حملہ کے لیے) ایک دوسرے کو ایسے بلائیں گی جیسے تم کھانے کے برتن پر ایک دوسرے کو بلاتے ہو اور (پھر) اس سے کھاتے ہو ؟ انھوں نے عرض کی : کیا ہماری کمزوری کی وجہ سے آپ نے فرمایا : نہیں تم اس (روز) وقت بہت زیادہ ہوگے، لیکن تمہارے دلوں میں وھن ڈال دیا جائے گا، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وھن کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا : دنیا سے تمہاری محبت اور قتال (فی سبیل اللہ) سے تمہاری نفرت۔ (بیہقی فی السنن عن ابوہریرہ (رض) )

تشریح :۔۔۔ عصر حاضر میں تمام ممالک اسلامیہ کے پاس کونسی ایسی دولت ہے جو موجود نہیں، مسلمان پوری دنیا سب سے زیادہ ہیں، لیکن تمام کے تمام سلاطین و بادشاہان اس مرض میں مبتلا اور اغیار کے سامنے عاجز و بےدست و پا ہیں۔
6319- كيف أنت يا ثوبان إذا تداعت عليكم الأمم كتداعيكم قصعة الطعام تصيبون منه؟ قال: أمن قلة؟ قال: لا أنتم يومئذ كثير، ولكن يلقى في قلوبكم الوهن، قالوا: وما الوهن يا رسول الله؟ قال: حبكم الدنيا وكراهيتكم القتال. "هق عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩২০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مالدار شیطان کے نرغے میں
٦٣٢٠۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے جب نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا تو اس وقت ان کی عمر اڑھائی سو سال تھی وہ ان میں ساڑھے نو سو سال رہے، اور طوفان کے بعد دو سو پچاس سال (مزید) رہے، پھر جب ان کے پاس موت کا فرشتہ آیا تو اس نے کہا : اے نوح اے سب سے بڑے نبی، اے سب سے لمبی عمر والے، اے مستجاب الدعا آپ نے دنیا کو کیسا پایا ؟

تو انھوں نے فرمایا : اس شخص کی طرح جس کے لیے کوئی گھر بنایا گیا ہو جس کے دو دروازے ہوں، اور وہ ایک دروازے سے داخل ہو کر دوسرے دروازے سے باہر نکل جائے۔ (ابن عساکر بن عبان عن انس)

تشریح :۔۔۔ اب ہر شخص اندازہ لگالے، علامہ سجستانی نے ان لوگوں کے حالات و اقوال پر ایک کتاب لکھی ہے جنہوں نے اس امت میں لمبی لمبی عمریں پائی ہیں، جس کا نام ” المعر ون والوصایا “ ہے۔
6320- لما بعث الله نوحا إلى قومه بعثه وهو ابن خمسين ومائتي سنة فلبث في قومه ألف سنة إلا خمسين عاما، وبقي بعد الطوفان خمسين ومائتي سنة، فلما أتاه ملك الموت قال: يا نوح يا أكبر الأنبياء يا طويل العمر ويا مجاب الدعوات كيف رأيت الدنيا؟ قال: مثل رجل بني له بيت، له بابان، فدخل من واحد، وخرج من الآخر."ابن عساكر عن أبان عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩২১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مالدار شیطان کے نرغے میں
٦٣٢١۔۔۔ اگر تم نماز پڑھتے (پڑھتے) ٹھہری کمان کی طرح ہوجاؤ اور روزے رکھتے (رکھتے) تانت کی طرح (دبلے پتلے) ہوجاؤ پھر بھی تمہیں دو (درھم) ایک سے زیادہ محبوب ہوں تو تم استقامت کے درجہ تک نہیں پہنچے۔ (ابو عبداللہ محمد بن اسحاق بن یحییٰ بن مندہ، حدثنا محمد بن فارس البلخی، ثنا حاتم الاصم عن شقیق بن ابراہیم البلخی عن ابراہیم بن ادھم عن مالک بن دینار عن ابی مسلم الخولانی عن عمرو وابن عسالر عن طریقہ وقال مالک ابن دینار لم یسمع عن ابی مسلم والدیلمی)

تشریح :۔۔۔ سند میں انقطاع ہے، اس لیے قابل عمل نہیں ، پھر دیگر احادیث سے ایسے امور کی نفی معلوم ہوتی ہے ، حدیث کے صاف الفاظ ” قل امنت باللہ ثم استقم “ ضروری نہیں استقامت بھوکے پیاسے رہنے سے ہی حاصل ہوتی ہے ؟ !
6321- لو صليتم حتى تكونوا كالحنايا، وصمتم حتى تكونوا كالأوتار ثم كان الإثنان أحب إليكم من الواحد لم تبلغوا الاستقامة. "أبو عبد الله محمد بن إسحاق بن يحيى بن منده، حدثنا محمد بن فارس البلخي، ثنا حاتم الأصم عن شقيق بن إبراهيم البلخي عن إبراهيم بن أدهم عن مالك بن دينار عن أبي مسلم الخولاني عن عمرو وابن عساكر من طريقه وقال مالك ابن دينار لم يسمع من أبي مسلم والديلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩২২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مالدار شیطان کے نرغے میں
٦٣٢٢۔۔۔ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ ضرور آئے گا کہ ان کے دل (اسلام سے قبل) عجمیوں کی طرح ہوجائیں گے ، کسی نے عرض کیا : عجمیوں کے دل کیسے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : دنیا کی محبت، ان کا طریقہ دیہاتیوں جیسا ہوگا، ان کے پاس جو رزق آئے گا اسے حیوانات میں خرچ کردیں گے، جہاد کو نقصان دہ اور زکوۃ کو تاوان سمجھیں گے۔ (طبرانی عن ابن عمر)

تشریح :۔۔۔ اور آج یہ فتنے ظاہر ہوچکے ہیں، جس کی تہہ میں جانے کی ضرورت نہیں۔
6322- ليأتين على الناس زمان قلوبهم قلوب العجم، قيل وما قلوب العجم؟ قال: حب الدنيا، سنتهم سنة الأعراب، ما أتاهم من رزق جعلوه في الحيوان، يرون الجهاد ضرارا والزكاة مغرما. "طب عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩২৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مالدار شیطان کے نرغے میں
٦٣٢٣۔۔۔ جو بندہ دنیا میں کوئی درجہ بلند ہونا چاہے اور پھر وہ بلند ہوگیا، اللہ تعالیٰ آخرت میں اس سے بڑا اور لمبا درجہ کم کردیں گے۔ (ابن حبان، طبرانی فی الکبیر وابن مردویہ عن سلیمان)
6323- ما من عبد يريد أن يرتفع في الدنيا درجة فارتفع إلا وضعه الله في الآخرة درجة أكبر منها وأطول. "حب طب وابن مردويه عن سلمان".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩২৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مالدار شیطان کے نرغے میں
٦٣٢٤۔۔۔ میرے بھائی عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے دنیا ایک عورت کی شکل میں ظاہر ہوئی تو انھوں نے اس سے کہا : کیا تیرا خاوند ہے ؟ وہ کہنے لگی : ہاں میرے کئی خاوند ہیں آپ نے کہا : کیا وہ زندہ ہیں ؟ وہ بولی : نہیں میں نے انھیں قتل کردیا ہے، اس وقت وہ جان گئے کہ یہ دنیا ہے جو میرے سامنے اس صورت میں ظاہر ہوئی ہے۔ (الدیلمی عن انس)
6324- مثلت لأخي عيسى الدنيا في صورة امرأة فقال لها: ألك زوج؟ قالت: نعم أزواج كثيرة، قال: أهم أحياء؟ قالت: لا قتلتهم فعلم حينئذ أنها دنيا مثلت له. "الديلمي عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩২৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مالدار شیطان کے نرغے میں
٦٣٢٥۔۔۔ جس نے دنیا کا حلال (مال) لیا اللہ تعالیٰ اس سے حساب لیں گے، اور جس نے دنیا کا حرام (مال) لیا اللہ تعالیٰ اسے عذاب دیں گے، افسوس ہے دنیا پر اور جو اس میں مصیبتیں ہیں، اس کا حلال قابل حساب اور اس کا احترام قابل عذاب ہے۔ (حاکم فی تاریخ عن ابی ہاشم الایلی عن انس (رض))

تشریح :۔۔۔ دونوں صورتوں میں چھٹکارا نہیں، بہرحال اگر دنیا کی نعمتوں کو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بتائے احکام کے مطابق استعمال کیا جائے تو بچنے کی گنجائش ہے۔
6325- من أخذ من الدنيا من الحلال حاسبه الله، ومن أخذ من الدنيا من الحرام عذبه الله، أف للدنيا وما فيها من البليات حلالها حساب وحرامها عذاب. "ك" في تاريخه عن أبي هاشم الأيلى عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩২৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ امت کی تباہی کی علامات
٦٣٢٦۔۔۔ میری امت اس وقت تک بھلائی میں رہے گی جب تک کہ ان میں دنیا کی محبت ظاہر نہیں ہوجاتی، اور جب تک اس میں فاسق علماء جاہل قاری اور ظالم لوگ ظاہر نہیں ہوجاتے ، اور جب یہ چیزیں ظاہر ہوجائیں گی تو مجھے خوف ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں عمومی عذاب میں گرفتار کرلے گا۔ (ابو نعیم الحارث فی المعرفۃ عن طریق الواقدی انبتنا فاطمہ بنت مسلم الاشجعیۃ عن فاطمہ الخزاعیۃ عن فاطمہ بنت الخطاب)

تشریح :۔۔۔ محدثین کے ہاں مسلم ہے کہ امام واقدی تاریخ میں معتبر ہیں لیکن حدیث میں ان کی روایت قابل عمل نہیں۔
6326- لا تزال أمتي بخير ما لم يظهر فيهم حب الدنيا، وعلماء فساق وقراء جهال، وجبابرة، فإذا ظهرت خشيت أن يعمهم الله بعقاب. "أبو نعيم الحارث في المعرفة من طريق الواقدي أنبتأنا فاطمة بنت مسلم الأشعجية عن فاطمة الخزاعية عن فاطمة بنت الخطاب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩২৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ امت کی تباہی کی علامات
٦٣٢٧۔۔۔ جس پر بھی اللہ تعالیٰ دنیا کا دروازہ کھولتا ہے تو ان میں قیامت تک بغض و عداوت پیدا کردیتا ہے۔ (مسند احمد عن عمر وھو حسن)

تشریح :۔۔۔ آج تک کسی مالدار کی کسی دوسری پارٹی سے بن کر نہیں رہی ہمیشہ جھگڑے ہی رہے۔
6327- لا يفتح الله الدنيا على أحد إلا ألقى الله بينهم العداوة والبغضاء إلى يوم القيامة. "حم عن عمر" وهو حسن.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩২৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ امت کی تباہی کی علامات
٦٣٢٨۔۔۔ اے انسان ! تو دنیا کو کیا کرے گا ؟ اس کا حلال حساب اور اس کا حرام عذاب ہے، (دارقطنی والدیلمی عن ابن عباس

تشریح :۔۔۔ اونٹ سے کسی نے پوچھا تمہارے لیے اترائی میں آسانی رہتی ہے یا چڑھائی میں اس نے کہا : دونوں صورتوں میں مشقت ہے۔
6328- يا ابن آدم ما تصنع بالدنيا؟ حلالها حساب، وحرامها عذاب. "قط والديلمي عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩২৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ امت کی تباہی کی علامات
٦٣٢٩۔۔۔ قیامت کے روز دنیا کو لایا جائے گا تو جو اس میں اللہ تعالیٰ کے لیے ہوگا اسے جدا کرلیا جائے گا اور باقی سب کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ (ابن المبارک عن عبادۃ بن الصامت، ایلدیمی عن ابوہریرہ (رض) )

تشریح :۔۔۔ یعنی جو اعمال محض اللہ تعالیٰ کے لیے تھے وہ ایک طرف کرلیے جائیں گے۔
6329- يؤتي بالدنيا يوم القيامة، فيميز منها ما كان لله، ثم يرمى بسائر ذلك في النار. "ابن المبارك عن عبادة بن الصامت. "الديلمي عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক: