কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮০৩ টি

হাদীস নং: ৬৩৩০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ امت کی تباہی کی علامات
٦٣٣٠۔۔۔ قیامت کے دن دنیا کی صورت میں لایا جائے گا، تو وہ عرض کرے گی : اے میرے رب مجھے کم سے کم درجہ جنتی کے لیے کر دے، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ، تو اس سے بھی زیادہ وہ بدبودار ہے، بلکہ تو اور تیرے اہل و عیال جہنم میں جائیں گے۔ (الحلیۃ عن انس)

تشریح :۔۔۔ سوال ہوتا ہے پھر دنیا کو پیدا ہی کیوں کیا گیا ؟ تو جواب یہ ہے کہ دنیا آزمائش کی ایک جگہ ہے تاکہ لوگ اپنے اپنے اعمال سے خود نتائج پر پہنچیں۔
6330- يجاء بالدنيا مصورة يوم القيامة، فتقول: يا رب اجعلني لرجل من أدنى أهل الجنة منزلة، فيقول الله: أنت أنتن من ذلك، بل أنت وأهلك في النار. "حل عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৩১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ امت کی تباہی کی علامات
٦٣٣١۔۔۔ قیامت کے روز دنیا کو لایا جائے گا، پھر کہا جائے گا، اس میں سے جو (چیزیں) اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں وہ جدا کرلو، اور باقی سب کو جہنم میں ڈال دو ۔ (ابو سعید الاعرابی فی الزھد عن عبادۃ)
6331- يجاء بالدنيا يوم القيامة، فيقال: ميزوا ما كان منها لله، وألقوا سائرها في النار. "أبو سعيد الأعرابي في الزهد عن عبادة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৩২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ تتمہ مال کے فوائد اور قابل تعریف دنیا کے متعلق
٦٣٣٢۔۔۔ دراھم و دنانیر زمین میں اللہ تعالیٰ کی مہریں ہیں، جو اپنے آقا کی مہر لائے گا اس کی ضرورت پوری ہوگی۔ (طبرانی فی الاوسط عن ابوہریرہ (رض) )

تشریح :۔۔۔ یعنی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے دراھم و دنانیر ضروری ہیں، البتہ ان میں ازحد دلچسپی مضر ہے۔
6332- الدراهم والدنانير خواتيم الله في أرضه، من جاء بخاتم مولاه قضيت حاجته. "طس عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৩৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ تتمہ مال کے فوائد اور قابل تعریف دنیا کے متعلق
٦٣٣٣۔۔۔ آخری زمانہ میں جب لوگوں کے لیے دراھم و دنیانیر ضروری ہوجائیں گے تو ان سے آدمی اپنے دین و دنیا کو قائم رکھے گا۔ (طبرانی عن المقدام)
6333- إذا كان في آخر الزمان لابد للناس فيها من الدراهم والدنانير يقيم الرجل بها دينه ودنياه. "طب عن المقدام".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৩৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ تتمہ مال کے فوائد اور قابل تعریف دنیا کے متعلق
٦٣٣٤۔۔۔ تم میں سے وہ شخص بہتر نہیں، جو اپنی دنیا کو اپنی آخرت کے لیے چھوڑ دے اور نہ وہ بہتر ہے جو اپنی آخرت کو اپنی دنیا کے لیے چھوڑ دے۔ (بلکہ بہتر وہ ہے جو ایسا طریقہ اختیار کرے) یہاں تک کہ ان دونوں سے اپنا حصہ حاصل کرے، اس واسطے کہ دنیا، آخرت تک پہنچنے کا ذریعہ ہے اور لوگوں پر کبھی بوجھ نہ بننا۔ (ابن عساکر عن انس)

تشریح :۔۔۔ بہت سے لوگ یہ تکیہ کرتے ہیں کہ ہمیں غیب سے روزی ملے گی، تو خوب سمجھنا چاہیے کہ محنت و کوشش فرض ہے اور غیب سے روزی اس کا نتیجہ ہے ہر نتیجہ کے لیے عمل ضروری ہے لہٰذا غیب سے روزی کے لیے بھی جدوجہد اور کوشش ضروری ہے، بغیر محنت کے روزی ملنے کی امید رکھنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی پڑھے حرف بھی نہیں اور اول درجہ میں پاس ہونے کی امید رکھے، باقی کسی کو غیب سے روزی ملے تو یہ ضروری نہیں کہ سب کے ساتھ یہی معاملہ ہوگا، کیونکہ آئندہ کی کسی کو خبر نہیں
6334- ليس بخيركم من ترك دنياه لآخرته ولا آخرته لدنياه حتى يصيب منهما جميعا، فإن الدنيا بلاغ إلى الآخرة، ولا تكونوا كلا على الناس. "ابن عساكر عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৩৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ تتمہ مال کے فوائد اور قابل تعریف دنیا کے متعلق
٦٣٣٥۔۔۔ دین کے (اعمال کے) لیے بہترین مددگار ایک سال کی روزی ہے۔ (عن معاویہ بن حیدۃ)

تشریح :۔۔۔ قوت اتنی خوراک کو کہتے ہیں جو زندہ رہنے کا سہارا ہو، نہ یہ کہ پوری پوری بوریاں ذخیرہ کرلیں۔
6335- نعم العون على الدين قوت سنة. "عن معاوية ابن حيدة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৩৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ تتمہ مال کے فوائد اور قابل تعریف دنیا کے متعلق
٦٣٣٦۔۔۔ تم میں کا بہترین شخص وہ ہے جو اپنی دنیا کے لیے اپنی آخرت اور نہ اپنی آخرت کے لیے اپنی دنیا کو چھوڑے اور نہ لوگوں پر بوجھ بنے۔ (حاکم عن انس (رض))

تشریح :۔۔۔ یعنی دنیا دار الاسباب ہے اس میں ہر کام کے لیے سبب کی ضرورت ہے۔
6336- خيركم من لم يترك آخرته لدنياه، ولا دنياه لآخرته، ولم يكن كلا على الناس. "ك عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৩৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ تتمہ مال کے فوائد اور قابل تعریف دنیا کے متعلق
٦٣٣٧۔۔۔ تم میں سے جس سے ہو سکے کہ وہ اپنے دین اور عزت کو اپنے مال کے ذریعہ محفوظ رکھے تو وہ ایسا ہی کرے۔ (ابو داؤد عن ابی سعید)

تشریح :۔۔۔ مال ہوتا ہی دین و عزت کی حفاظت کیلئے ہے ، اسی وجہ سے فرمایا : قریب ہے کہ فقر و فاقہ کفر کا باعث نہ بن جائے
6337- من استطاع منكم أن يقي دينه وعرضه بماله فليفعل. "د عن أبي سعيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৩৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٦٣٣٨۔۔۔ میرے صحابہ کے لیے فاقہ سعادت ہے اور مالداری آخری زمانہ میں مومن کے لیے سعادت ہوگی۔ (الرافعی عن انس عن ابن مسعود)

تشریح :۔۔۔ صحابہ کرام (رض) صحبت نبوی سے فیض یافتہ تھے دنیا کے داؤ سے محفوظ تھے، اور آخری زمانہ والے فتنوں کا ہدف ہوں گے مال کے ذریعہ فتنوں سے بچیں گے تو مال ان کے حق میں سعادت ہوگا۔
6338- إن الفاقة لأصحابي سعادة، وإن الغنى للمؤمن في آخر الزمان سعادة. "الرافعي عن أنس عن ابن مسعود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৩৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٦٣٣٩۔۔۔ بیشک یہ مال میٹھا اور سرسبز ہے، جس نے درست طریقہ سے حاصل کیا تو یہ اچھی معاونت ہے۔ (سمویہ وابن خزیمہ، طبرانی فی الاوسط، سعید بن منصور عن ابی سعید)
6339- إن هذا المال حلوة خضرة، فمن أخذه بحقه فنعم المعونة هو. "سمويه وابن خزيمة طس ص عن أبي سعيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৪০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٦٣٤٠۔۔۔ بیشک یہ سرسبز اور میٹھا ہے جس نے برحق طریقہ سے اسے حاصل کیا تو اس کے لیے اس میں برکت دی جائے گی۔ (مسند احمد، طبرانی فی الکبیر، بیہقی فی شعب الایمان عن معاویہ)
6340- إن هذا المال خضرة حلوة، فمن يأخذه بحقه يبارك له فيه. "حم طب هب عن معاوية".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৪১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٦٣٤١۔۔۔ دنیا اس شخص کے لیے بہترین گھر ہے جو اس میں سے اپنی آخرت کا توشہ حاصل کرے یہاں تک کہ اپنے رب کو راضی کرلے، اور اس شخص کے لیے دنیا برا گھر ہے جسے یہ آخرت سے روک دے، اور اپنے رب کے راضی کرنے میں کوتاہی کرائے، اور جب بندہ کہتا ہے : اللہ تعالیٰ دنیا کا برا کرے، تو دنیا کہتی ہے ہم میں سے جو اپنے رب کا زیادہ نافرمان ہے اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے۔ (حاکم و تعقب وابن لال والرامھرمزی فی الامثال عن طارق بن اثیم)

تشریح :۔۔۔ اس واسطے دوسروں پر لعن طعن کرنے سے روکا گیا ہے اکثر انسان کو اپنے عیوب نظر نہیں آتے اور وہ دوسروں کو نشانہ بناتا ہے۔
6341- نعمت الدار الدنيا لمن تزود منها لآخرته حتى يرضي ربه وبئست الدار الدنيا لمن صدته عن آخرته، وقصرت به عن رضا ربه وإذا قال العبد: قبح الله الدنيا، قالت الدنيا: قبح الله أعصانا لربه. "ك وتعقب وابن لال والرامهرمزي في الأمثال عن طارق بن أشيم"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৪২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٦٣٤٢۔۔۔ اللہ تعالیٰ کے تقویٰ پر بہترین مددگار مال ہے۔ (ابن لال والدیلمی عن جابر)

تشریح :۔۔۔ مال جیب میں ہو تو تسلی سے عبادت بھی ہوتی ہے۔
6342- نعم العون على تقوى الله المال. "ابن لال والديلمي عن جابر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৪৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٦٣٤٣۔۔۔ دنیا کو گالی نہ دو ، یہ مومن کی بہترین سواری ہے وہ اس پر سوار ہو کر بھلائی تک پہنچتا اور شر سے نجات حاصل کرتا ہے۔ (الدیلمی وابن النجار عن ابن مسعود)

تشریح :۔۔۔ ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ جتنی غیر مکلف چیزیں ہیں خصوصا نظام قدرت کی اشیاء انھیں گالی نہ دیں اس واسطے کہ وہ مورو محکوم ہیں انھیں برا بھلا کہنا ایسا ہی جیسے ان کے مالک کو برا کہنا۔
6343- لا تسبوا الدنيا، فلنعم المطية للمؤمن، عليها يبلغ الخير وعليها ينجو من الشر. "الديلمي وابن النجار عن ابن مسعود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৪৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٦٣٤٤۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے جب آدم (علیہ السلام) کو جنت سے زمین کی طرف اتارا تو ہر اس چیز نے ان کے متعلق غم کیا جو ان کے ساتھ تھی صرف سونے چاندی نے کسی قسم کا غم نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی طرف اپنا پیام بھیجا : میں نے تمہیں اپنے بندوں میں سے ایک بندے کا پڑوس عطا کیا پھر میں نے اسے تمہارے پڑوس سے دور کردیا، پھر سوائے تمہارے ہر چیز نے اس کے لیے دکھ کا اظہار کیا جو اس کے ساتھ رہی۔ تو وہ دونوں بولے : اے ہمارے الہٰ ! اے ہمارے آقاً ! آپ بخوبی جانتے ہیں ، کہ آپ نے ہمیں اس کا پڑوس عطا کیا اور وہ آپ کا فرمان بردار تھا، پس جب اس نے آپ کی نافرمانی کی تو ہم نے اس کے لیے غم گین ہونا پسند نہیں کیا، تو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی طرف پیام بھیجا، مجھے اپنی عزت اور جلال کی قسم ! میں تم دونوں کو اتنی عزت دوں گا کہ ہر چیز تمہاری وجہ سے ہی حاصل ہوگی۔ (الدیلمی وابن النجار عن انس)

تشریح :۔۔۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کا جنت سے آنا بتقدیر الٰہی تھا اور سونے چاندی کا عمل بظاہر ان کے مطابق تھا، جس کی بدولت اللہ تعالیٰ نے انھیں دائمی مقام بخشا، مگر وہ بھی انسان کے لیے ہی استعمال کے قابل ٹھہرے۔
6344- لما أهبط الله آدم من الجنة إلى الأرض حزن عليه كل شيء جاوره إلا الذهب والفضة، فأوحى الله تعالى إليهما جاورتكما بعبد من عبيدي ثم أهبطته من جواركما، فحزن عليه كل شيء جاوره إلا أنتما، فقالا: إلهنا وسيدنا أنت أعلم إنك جاورتنا به وهو لك مطيع فلما عصاك لم نحب أن نحزن عليه، فأوحى الله تعالى إليهما: وعزتي وجلالي لأعزنكما حتى لا ينال كل شيء إلا بكما. "الديلمي وابن النجار عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৪৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال کو صلہ رحمی کے ذریعہ بنایا جائے
٦٣٤٥۔۔۔ اس شخص میں کوئی بہتری نہیں جو صلہ رحمی اور رشتہ داری کو قائم رکھنے کے لیے امانت کی ادائیگی اور لوگوں سے مستغنی ہونے کے لیے مال کو پسند نہ کرے۔ (ابن حبان فی الضعفاء وابن المبارک وابن لال، حاکم فی تاریخہ، ابن حبان عن انس، قال ابن حبان : لااصل لہ واوردہ ابن الجوزی فی الموضوعات وقال بیہقی وانما یروی عن سعید بن المسیب قولہ)

تشریح :۔۔۔ محدثین کا کہنا ہے کہ یہ حدیث نہیں بلکہ سعید بن المسیب تابعی کا قول ہے ایسے اقوال کو اقوال زریں کہتے ہیں۔
6345- لا خير فيمن لا يحب المال يصل به رحمه، ويؤدي به أمانته ويستغنى به عن خلق ربه. "حب في الضعفاء وابن المبارك وابن لال ك في تاريخه حب عن أنس" قال حب: لا أصل له وأورده ابن الجوزي في الموضوعات وقال هب: وإنما يروى عن سعيد بن المسيب قوله.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৪৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال کو صلہ رحمی کے ذریعہ بنایا جائے
٦٣٤٦۔۔۔ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ جس کے پاس سونا چاندی نہ ہوگا وہ زندگی کو آسان نہیں سمجھے گا۔ (طبرانی فی الکبیر، الحلیۃ عن المقدام بن معد یکرب)

تشریح :۔۔۔ آج اس حقیقت کا لوگ سر کی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہے ہیں۔
6346- ياتي على الناس زمان: من لم يكن معه أصفر ولا أبيض لم يتهن بالعيش. "طب حل" عن المقدام بن معد يكرب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৪৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال کو صلہ رحمی کے ذریعہ بنایا جائے
٦٣٤٧۔۔۔ لوگوں کے پاس ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے جس میں صرف درھم و دینار ہی کار آمد ہوں گے۔ (نعیم بن حماد فی الفتن عن المقدام بن معد یکرب)
6347- يأتي على الناس زمان لا ينفع فيه إلا الدينار والدرهم. "نعيم بن حماد في الفتن عن المقدام بن معد يكرب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৪৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال کو صلہ رحمی کے ذریعہ بنایا جائے
٦٣٤٨۔۔۔ جابر ! تمہیں اپنے پاس اپنا مال روک رکھنے سے کوئی گناہ نہیں، اس واسطے کہ اس کام کی ابھی مدت ہے۔ (طبرانی فی الکبیر عن جابر )

تشریح :۔۔۔ کام سے مراد غالباً قیامت ہے اس لیے دوسری احادیث میں آتا ہے کہ جو شخص پودا لگا رہا ہو یا خریداری کے لیے کپڑا پھیلایا ہوا تو اسے چاہیے کہ اپنا کام کرلے اس واسطے کہ اسے کافی وقت رہنا ہوگا۔
6348- يا جابر لا عليك أن تمسك عليك مالك فإن لهذا الأمر مدة. "طب عن جابر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৪৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دنیا سے بےرغبتی
٦٣٤٩۔ جہاں تک میرا معاملہ میں ہے تو میں اسے حرام قرار نہیں دیتا، البتہ میں اسے اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی و تواضع کی خاطر ترک کرتا ہوں، اس واسطے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع کی اللہ تعالیٰ اسے بلند کرے گا اور جو (اخراجات میں) میانہ روی اختیار کرے گا اللہ تعالیٰ اسے مالدار کر دے گا اور جو فضول خرچی کرے گا اللہ تعالیٰ اسے محتاج بنا دے گا (الحکیم محمد بن علی)

کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اوس بن خولی ایک پیالہ لے کر حاضر ہوئے جس میں دودھ اور شہد تھا انھوں نے وہ پیالہ رکھا اور کہا اور یہ بات ذکر کی۔

تشریح :۔۔۔ یعنی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اتنا بہترین اور بڑھیا قوام محض تواضع کی بنا پر تناول نہیں فرمایا، اور اس نتیجہ سے ڈرایا جو بےجا اشیاء میں پیسہ اڑانے سے نکلتا ہے۔
6349- أما إني لا أحرمه، ولكني أتركه تواضعا لله، فإن من تواضع لله رفعه الله، ومن اقتصد أغناه الله، ومن بذر أفقره الله. "الحكيم عن محمد بن علي" أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أتاه أوس بن خولي بقدح فيه لبن وعسل فوضعه وقال فذكره.
tahqiq

তাহকীক: