কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮০৩ টি

হাদীস নং: ৬৩৫০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دنیا سے بےرغبتی
٦٣٥٠۔۔۔ ایک بار پینے میں دو گھونٹ، اور ایک پیالہ میں دو سالن تو مجھے اس کی ضرورت نہیں، مجھے یہ گمان نہیں کہ یہ حرام ہے، لیکن مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ دنیا کی زائد چیز کا اللہ تعالیٰ مجھ سے قیامت کے روز سوال کرے گا، میں اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع و انکساری کرتا ہوں ، اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کے لیے عاجزی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بلند مقام عطا کرتے ہیں، اور جو تکبر کرے اللہ تعالیٰ اس کا مرتبہ گھٹاتے ہیں اور جو لوگوں سے لاپرواہی اختیار کرنا چاہے اللہ تعالیٰ اسے لاپرواہ کردیتے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرے اللہ تعالیٰ اسے پسند کرتے ہیں۔ (دار قطنی فی الافراد، طبرانی فی الاوسط عن عائشہ (رض))

فرماتے ہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک پیالہ لایا گیا جس میں دودھ اور شہد تھا، فرماتے ہیں پھر آپ نے یہ ارشاد فرمایا۔
6350- شربتان في شربة وأدمان في قدح، لا حاجة لي فيه، أما إني لا أزعم أنه حرام، ولكني أكره أن يسألني الله عن فضول الدنيا يوم القيامة، أتواضع لله، فمن تواضع لله رفعه الله، ومن تكبر وضعه الله، ومن استغنى أغناه الله، ومن أكثر ذكر الله أحبه الله. "قط في الأفراد طس عن عائشة" قال: أتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بقدح فيه لبن وعسل قال: فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৫১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دنیا سے بےرغبتی
٦٣٥١۔۔۔ اس کو اسی میں واپس کردو اور پھر اسے گوندھ دو ۔ (ابن ماجہ عن ام ایمن)
6351- رديه فيه ثم اعجنيه. "هـ عن أم أيمن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৫২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دنیا سے بےرغبتی
٦٣٥٢۔۔۔ اس (پردے) کو ہٹا دو ، اس واسطے کہ یہ مجھے دنیا یاد دلاتا ہے۔ (ترمذی حسن نسائی عن عائشہ)

فرماتی ہیں : ہمارا ایک اون سے بنا ہوا باریک پردہ تھا جس پر تصاویر تھیں ، تو بنی (علیہ السلام) نے : پھر آپ نے یہ بات ذکر کی، یعنی اس میں بیل بوٹے بنے ہوئے تھے جس سے انسان کی توجہ بٹ جاتی ہے۔
6352- إنزعيه فإنه يذكرني الدنيا. "ت حسن ن عن عائشة" قالت: كان لنا قرام ستر فيه تماثيل، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: فذكره
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৫৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دنیا سے بےرغبتی
٦٣٥٣۔۔۔ اس (پردے) کو ہٹا دو ، کیونکہ میں جب بھی اندر آتا ہوں اور اسے دیکھتا ہوں تو مجھے دنیا یاد آجاتی ہے۔ (مسلم عن عائشہ (رض)) فرماتی ہیں : ہمارے پاس ایک پردہ تھا، جس میں کسی پرندے کی تصویر تھی، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اور پھر یہ بات ذکر کی۔
6353- حولي هذا فإني كلما دخلت فرأيته ذكرت الدنيا. "م عن عائشة" قالت: كان لنا ستر فيه تمثال طائر فقال النبي صلى الله عليه وسلم: فذكره
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৫৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دنیا سے بےرغبتی
٦٣٥٤۔۔۔ عائشہ ! اسے ہٹا دو ، کیونکہ میں جب بھی اندر آکر اسے دیکھتا ہوں تو مجھے دنیا یاد آجاتی ہے۔ (ابن المبارک، مسند احمد، نسائی عن عائشہ (رض))
6354- يا عائشة حولي هذا فإني كلما دخلت فرأيته ذكرت الدنيا. "ابن المبارك حم ن عن عائشة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৫৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا کی زیب وزینت سے احتراز
٦٣٥٥۔۔۔ یہ بات میرے اور نہ کسی اور نبی کے لیے مناسب ہے کہ وہ مزین گھر میں داخل ہو۔ (الحلیۃ عن سفیۃ عن علی)

تشریح :۔۔۔ یعنی سابقہ انبیاء کا بھی یہی طرز تھا اور میرے بعد تو کسی نبی نے آنا نہیں ، صرف عیسیٰ (علیہ السلام) آئیں گے اور وہ پہلے سے صاحب نبوت ہیں۔
6355- إنه ليس لي ولا لنبي أن يدخل بيتا مزوقا. "حل عن سفينة عن علي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৫৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا کی زیب وزینت سے احتراز
٦٣٥٦۔۔۔ نبی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ مزین اور سجائے ہوئے گھر میں داخل ہو۔ (بیہقی فی شعب الایمان عن ام سلمۃ)
6356- لا ينبغي لنبي أن يدخل بيتا مزوقا. "هب عن أم سلمة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৫৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا کی زیب وزینت سے احتراز
٦٣٥٧۔۔۔ کسی (مسلمان) مرد کے لیے مناسب نہیں کہ وہ مزین گھر میں داخل ہو۔ (بیہقی عن ام سلمۃ)

تشریح :۔۔۔ چونکہ زیب وزینت عورتوں کا خاصہ ہے اور جیسے عورتوں کی مجلس سے انسان بزدل ہوتا ہے اسی طرح ان کی اشیاء میں بھی بزدلی کی تاثیر ہے۔
6357- لا ينبغي لرجل أن يدخل بيتا مزوقا. "هب عن أم سلمة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৫৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا کی زیب وزینت سے احتراز
٦٣٥٨۔۔۔ جو چیز تم لائے ہو یہ ہمیں کچھ فائدہ نہیں دے سکتی ماں اتنا جتنا مقام حرہ کی کنکری دے سکتی ہے لیکن یہ دنیا کا سامان ہے۔ (مسند احمد، ابن حبان ، سعید بن منصور عن ابی سعید)

ایک شخص بحرین سے کوئی زیور لایا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اور پھر یہ بات ذکر کی۔

تشریح :۔۔۔ یعنی ان کی قیمت ہمارے ہاں کچھ بھی نہیں۔
6358- إن ما جئت به غير مغن عنا شيئا إلا ما أغنت حجارة الحرة، ولكنه متاع الحياة الدنيا. "حم حب ص عن أبي سعيد" أن رجلا قدم بحلي من البحرين، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৫৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا کی زیب وزینت سے احتراز
٦٣٥٩۔۔۔ اللہ تعالیٰ کی قسم ! مجھے اس بات سے خوشی نہیں کہ احد پہاڑ پورے کا پورا میرے لیے سونا بن جائے پھر میں اسے میراث میں چھوڑ دوں۔ (طبرانی عن سمرۃ)
6359- إني والله ما يسرني أن لي أحدا ذهبا كله ثم أورثه. "طب عن سمرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৬০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال جمع کرکے رکھنا ناپسند ہے
٦٣٦٠۔۔۔ میں نماز میں تھا تو مجھے سونے کی ایک ڈلی یاد آگئی ، جو ہمارے پاس تھی تو میں نے ناپسند سمجھا کہ وہ ہمارے پاس ایک شام یا ایک رات تک رہے اس لیے میں نے اسے تقسیم کرنے کا حکم دیا ہے۔ (مسند احمد عن عقبۃ بن الحارث)

تشریح :۔۔۔ واقعہ یوں ہوا کہ کسی نے گھر میں کندن دیا تھا آپ نماز کے لیے آئے اور سلام پھیرتے ہی سیدھے گھر چلے گئے صحابہ متعجب تھے کہ کیا بات ہوگئی تو آپ نے واپس آکر انھیں آگاہ کیا۔
6360- ذكرت وأنا في الصلاة تبرا عندنا فكرهت أن يمسي أو يبيت عندنا فأمرت بقسمته. "حم عن عقبة بن الحارث".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৬১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال جمع کرکے رکھنا ناپسند ہے
٦٣٦١۔۔۔ میرا اور دنیا کا کیا واسطہ ؟ میرا اور دنیا کا کیا تعلق ؟ اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میری اور اس دنیا کی مثال اس سوار جیسی ہے جو سخت گرمی کے دن چل رہا ہو اور دن کی ایک گھڑی کے لیے کسی درخت تلے سایہ حاصل کرنے کے لیے بیٹھ جائے اور پھر اسے چھوڑ کر چل دے۔ (مسند احمد، طبرانی فی الکبیر، ابن حبان حاکم ، بیہقی فی شعب الایمان عن ابن عباس (رض))

فرماتے ہیں : حضرت عمر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے آپ ایک چٹائی پر محواستراحت تھے جسکے نشان آپ کے پہلو پر پڑگئے تھے۔ حضرت عمر نے عرض کی : کاش آپ اس سے بہتر بستر بنا لیتے، آپ نے یوں فرمایا ، اور یہ بات ذکر کی۔

تشریح :۔۔۔ واقعہ یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک دفعہ تمام ازواج سے ناراض ہو کر ایک بالاخانہ میں تشریف رکھتے تھے، حضرت بلال دربان تھے وہاں آپ کھجور سے بنی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے ، جس کے نشان بدن مبارک پر پڑگئے تھے۔
6361- مالي وللدنيا؟ وما للدنيا وما لي؟ والذي نفسي بيده ما مثلي ومثل الدنيا إلا كراكب سار في يوم صائف، فاستظل تحت شجرة ساعة من نهار، ثم راح وتركها. "حم طب حب ك هب عن ابن عباس" قال: دخل عمر على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على حصير قد أثر في جنبه، فقال: يا رسول الله لو اتخذت فراشا أوثر من هذا، قال: فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৬২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال جمع کرکے رکھنا ناپسند ہے
٦٣٦٢۔۔۔ اگر میرے لیے احد پہاڑ جتنا سونا ہو تو بھی مجھے کوئی خوشی نہیں کہ وہ تین راتوں تک یا اس میں سے کچھ باقی رہے ہاں اتنا جس سے میں دین کی حفاظت کرسکوں۔ (بخاری و مسلم و ابن عساکر عن ابوہریرہ (رض) )

تشریح :۔۔۔ یہاں بھی ضرورت کو مدنظر رکھا، وہ بھی دین کی خاطر نہ کہ اپنی دنیاوی حاجت و ضرورت کے لیے۔
6362- لو أن لي مثل أحد ذهبا ما سرني أن يأتي علي ثلاث ليال وعندي منه شيء، إلا شيء أرصده لدين. "ق وابن عساكر عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৬৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال جمع کرکے رکھنا ناپسند ہے
٦٣٦٣۔۔۔ مجھے یہ پسند نہیں کہ میرے لیے احد پہاڑ سونا بن جائے میں جس دن وفات پانے لگوں تو میرے پاس اس کا ایک یا آدھا دینار ہو ، اتنا جو میں کسی قرض خواہ کے لیے رکھوں۔ (مسند احمد والدارمی عن ابی ذر)

تشریح :۔۔۔ یعنی میرے متعلق کسی کا حق نہ ہو اور اگر ہو تو میرے پاس صرف اتنا ہو جو میں صاحب حق کو ادا کرسکوں۔
6363- ما أحب أن لي أحدا ذهبا أموت يوم أموت وعندي منه دينار أو نصف دينار، إلا أن أرصده لغريم. "حم والدارمي عن أبي ذر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৬৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال جمع کرکے رکھنا ناپسند ہے
٦٣٦٤۔۔۔ مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میرے پاس احد پہاڑ جتنا سونا ہو اور تین راتوں کے گزرنے تک اس میں سے کچھ میرے پاس ہو ہاں اتنا جسے میں قرض کی ادائیگی میں رکھ سکوں۔ (ابن ماجہ عن ابوہریرہ (رض) )

تشریح :۔۔۔ قرض ایسی واجب الادا چیز ہے جو شہید سے بھی باز پرس کا سبب بنے گی۔
6364- ما أحب أن أحدا عندي ذهبا، فيأتي علي ثلاث وعندي منه شيء، إلا شيء أرصده في قضاء دين. "هـ عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৬৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال جمع کرکے رکھنا ناپسند ہے
٦٣٦٥۔۔۔ مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میرے لیے یہ پہاڑ سونے کا ہوجائے اور میں اس میں سے (اللہ تعالیٰ کی راہ میں) خرچ کروں اور وہ مجھ سے قبول بھی کرلیا جائے اور میں اس میں سے اپنے بعد کچھ چھوڑ جاؤں۔ (مسند احمد عن ابی دروعشان معا)

تشریح :۔۔۔ انسان چاہے جتنے مال کا مالک ہو پھر بھی وہ اس کے لیے فتنہ کا باعث بن سکتا ہے، اسی سے بچنے کے لیے یہ نبوی طرز عمل قابل تنقید ہے۔
6365- ما أحب أن لي هذا الجبل ذهبا أنفقه ويتقبل مني، أذر خلفي منه شيئا. "حم عن أبي ذر وعثمان معا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৬৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال جمع کرکے رکھنا ناپسند ہے
٦٣٦٦۔۔۔ اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے مجھے اس بات سے خوشی نہیں کہ احد پہاڑ آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے سونے میں بدل جائے اور میں اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کروں ، اور جس دن میں وفات پاؤں تو اس

سے دو دینار چھوڑ جاؤں ہاں وہ دو دینار جسے میں اس قرض کے لیے تیار رکھوجو میرے ذمہ ہو۔ (مسند احمد، طبرانی عن ابن عباس

تشریح :۔۔۔ آپ نے مال کی کثرت اپنے لیے پسند فرمائی اور نہ اپنی آل کے لئے۔
6366- والذي نفسي بيده ما يسرني أن أحدا تحول لآل محمد ذهبا أنفقه في سبيل الله أموت يوم أموت وأدع منه دينارين، إلا دينارين أعدهما لدين إن كان علي. "حم طب عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৬৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال جمع کرکے رکھنا ناپسند ہے
٦٣٦٧۔۔۔ اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر احد پہاڑ میرے پاس سونے کا ہو تو میں یہ چاہوں گا کہ مجھ پر تین راتیں بھی نہ گزریں اور اس میں سے ایک دینار بھی میرے پاس ہو، میں کوئی ایسا شخص تلاش کروں گا جو اسے مجھ سے قبول کرلے ، سوائے اس چیز کے جسے میں اپنے ذمہ قرض ادا کرنے کے لیے، بحفاظت رکھ رہا ہوں۔ (مسند احمد عن ابوہریرہ (رض) )

تشریح :۔۔۔ یعنی مجھ پر کسی قسم کا بار نہ ہو، بلکہ میں فارغ البال اور سبکدوش رہوں۔
6367- والذي نفس محمد بيده لو كان أحد عندي ذهبا لأحببت أن لا يأتي علي ثلاث وعندي منه دينار أجد من يقبله مني ليس شيئا أرصده في دين علي. "حم عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৬৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال جمع کرکے رکھنا ناپسند ہے
٦٣٦٨۔۔۔ میں جب بھی اس کمرے میں داخل ہوتا ہوں، میں اس خوف سے اس میں داخل نہیں ہوتا کہ اس میں کوئی مال ہو اور اس سے لے لوں اور خرچ نہ کرسکوں،۔ (طبرانی، سعید بن منصور عن سمرۃ)

تشریح :۔۔۔ یہی مشتبہ چیزوں سے بچنے کا طریقہ ہے۔
6368- إني لألج هذه الغرفة ما ألجها حينئذ إلا خشية أن يكون فيها مال فأتوفى ولم أنفقه. "طب ص عن سمرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৩৬৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال جمع کرکے رکھنا ناپسند ہے
٦٣٦٩۔۔۔ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنے رب کے بارے میں کیا گمان ہے اگر وہ اپنے رب سے ملاقات کریں اور یہ دینار ان کے پاس کے ہوں۔ (مسند احمد وھناد وابن عساکر عن عائشہ)

تشریح :۔۔۔ مراد میں اپنے رب سے بالکل خالی دل لے کر جانا چاہتا ہوں۔
6369- ما ظن محمد بربه لو لقي الله وهذه الدنانير عنده. "حم وهناد وابن عساكر عن عائشة".
tahqiq

তাহকীক: