কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮০৩ টি

হাদীস নং: ৬৪১০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرف الشین ۔۔۔ الشکر
٦٤١٠۔۔۔ سب سے پہلے جنت کی طرف حمد کرنے والے ان لوگوں کو بلایا جائے گا جو خوشحالی و سختی میں اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتے ہیں۔ (طبرانی ، حاکم، بیہقی عن ابن عباس)

تشریح :۔۔۔ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کس قدر اعزاز کا باعث ہے۔
6410- أول من يدعى إلى الجنة الحمادون الذين يحمدون الله في السراء والضراء. "طب ك هب عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪১১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرف الشین ۔۔۔ الشکر
٦٤١١۔۔۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اچھا پڑوس رکھو، انھیں متنفر نہ کرو، اس واسطے کہ بہت کم ایسا ہوا ہے کہ کسی قوم سے کوئی نعمت زائل ہو کر پھر دوبارہ لوٹی ہو۔ (ابو یعلی فی مسندہ، ابن عدی فی الکامل عن انس، بیہقی عن عائشہ (رض))

تشریح :۔۔۔ آج تک یمن میں قوم سبا کے ان باغوں جیسے باغات دوبارہ پیدا نہ ہوئے۔
6411- أحسنوا جوار نعم الله، لا تنفروها فقل ما زالت عن قوم فعادت إليهم. "ع عد عن أنس" "هب عن عائشة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪১২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرف الشین ۔۔۔ الشکر
٦٤١٢۔۔۔ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو بھلائی سے نوازے کا ارادہ فرماتے ہیں تو ان کی عمریں بڑھا دیتے اور انھیں شکر گزاری کی تلقین الہام فرماتے ہیں۔ (فردوس عن ابوہریرہ (رض) )

تشریح :۔۔۔ لمبی عمر جب اعمال صالحہ اور شکر گزاری کے ساتھ گزرے تو بہت بڑی نعمت ہے، لمبی عمر سے یہ مراد نہیں کہ کوئی ہزار سال زندہ رہے بلکہ اوسط عمر سے بڑھ کر جو عمر ہوگی لمبی شمار ہوگی۔
6412- إذا أراد الله بقوم خيرا أمد لهم في العمر وألهمهم الشكر. "فر عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪১৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرف الشین ۔۔۔ الشکر
٦٤١٣۔۔۔ لوگوں میں اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ شکر گزار بندہ وہ شخص ہے جو لوگوں کا زیادہ شکر یہ ادا کرنے والا ہو۔ (مسند احمد، طبرانی، بیہقی والضیاء عن الاشعث بن قیس، طبرانی، بیہقی عن اسامۃ بن زید، عن ابن مسعود)

تشریح :۔۔۔ جہاں کہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق جمع ہوجائیں تو بندوں کے حقوق مقدم ہوتے ہیں یہاں بھی ایسے ہی ہے اللہ تعالیٰ کے ہاں شکر اسی وقت قبول ہوگا جب لوگوں کا شکریہ ادا کیا جائے گا۔
6413- أشكر الناس لله أشكرهم للناس. "حم طب هب والضياء عن الأشعث بن قيس" "طب هب عن أسامة بن زيد" "عن ابن مسعود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪১৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرف الشین ۔۔۔ الشکر
٦٤١٤۔۔۔ قیامت میں اللہ تعالیٰ کے سب افضل بندے (اللہ تعالیٰ کی) بہت تعریف کرنے والے ہوں گے۔ (طبرانی عن عمران بن حصین)
6414- إن أفضل عباد الله يوم القيامة الحمادون. "طب عن عمران بن حصين".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪১৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرف الشین ۔۔۔ الشکر
٦٤١٥۔۔۔ شکر گزار کھانا کھانے والے کے لیے روزے کی حالت میں صبر کرنے والے کی طرح اجر ہے۔ (حاکم عن ابوہریرہ (رض) )

تشریح :۔۔۔ کیا عطا ہے ! روزے کی حالت اور صبر دونوں اتنے بڑے اجر والے اعمال، ان کا ثواب اس شخص کو بھی حاصل ہوجاتا ہے جو صرف کھانا ملنے پر اور کھانے کے بعد اللہ تعالیٰ کا شکر کرے۔
6415- إن للطاعم الشاكر من الأجر مثل ما للصائم الصابر. "ك عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪১৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرف الشین ۔۔۔ الشکر
٦٤١٦۔۔۔ قیامت کے روز بندے سے جس نعمت کے متعلق سوال ہوگا یہ ہے کہ : کیا ہم نے تیرے جس کو صحت مند نہیں رکھا ؟ اور ٹھنڈے پانی سے تجھے سیراب نہیں کیا ؟ (ابوداؤد، ترمذی عن ابوہریرہ (رض))
6416- إن أول ما يسأل عنه العبد يوم القيامة من النعيم أن يقال له: ألم نصح جسمك؟ ونروك من الماء البارد؟ "د ت عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪১৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرف الشین ۔۔۔ الشکر
٦٤١٧۔۔۔ (انسان کے لیے) تکبر کی حالت بری ہے۔ (بخاری فی الارب ، ابو یعلی عن البراء
6417- الإشرة شر. "خد ع عن البراء".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪১৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرف الشین ۔۔۔ الشکر
٦٤١٨۔۔۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر (بھی) شکر ہے اور ان کا ذکر نہ کرنا ناشکری ہے، جو تھوڑی چیز (کے ملنے) کا شکر نہ کرے وہ بڑی چیز کا شکر بھی ادا نہیں کرتا اور جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتا، جماعت میں برکت اور جدائی میں عذاب ہے۔ (بیہقی عن النعمان بن بشیر)

تشریح :۔۔۔ انسان اپنے کمالات کا ذکر ایسے انداز میں کرے جس سے اللہ تعالیٰ کی شان عطا ظاہر ہوتی ہے نہ اس طرح کہ باتوں سے اپنی بڑائی جھلکتی ہو، اس کا علم بات کرنے والے کو ہوجاتا ہے۔
6418- التحدث بنعمة الله شكر، وتركها كفر، ومن لا يشكر القليل لا يشكر الكثير، ومن لا يشكر الناس لا يشكر الله، والجماعة بركة والفرقة عذاب. "هب عن النعمان بن بشير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪১৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اللہ کا شکر بجالانا چاہیے
٦٤١٩۔۔۔ حمد شکر کی جڑ ہے اس نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کیا جس نے اس کی تعریف نہیں کی۔ (عبد الرزاق، بیہقی عن ابن عمر)

تشریح :۔۔۔ اس لیے اگر الحمدللہ کہہ دیا تو حمد بھی ہوگئی اور شکر بھی ادا ہوگیا۔
6419- الحمد رأس الشكر، ما يشكر الله عبد لا يحمده. "عب هب عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪২০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اللہ کا شکر بجالانا چاہیے
٦٤٢٠۔۔۔ بہت سے کھانا کھا کر شکر کرنے والوں کا اجر روزہ رکھ کر صبر کرنے والوں سے زیادہ ہے۔ (القضاعی عن ابوہریرہ (رض) )

تشریح :۔۔۔ اس کا اجر زیادہ ہوگا جس کے پاس نعمتیں زیادہ ہوں گی، صابر روزہ دار کے پاس جسمانی نعمتیں ہیں جبکہ شکر گزار طعام خور کے پاس جسمانی اور غذائی دونوں نعمتیں ہیں، اس لیے اس کا اجر بھی دو گنا اور نعمتیں بھی دوگنی۔
6420- رب طاعم شاكر أعظم أجرا من صائم صابر. "القضاعي عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪২১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اللہ کا شکر بجالانا چاہیے
٦٤٢١۔۔۔ نعمت (کے ملنے) پر الحمد للہ کہنا، اس کے ختم ہونے سے حفاظت (کا ذریعہ) ہے۔ (بیہقی عن عمر)

تشریح :۔۔۔ یہ قانون اللہ تعالیٰ کا اپنا بتایا ہوا ہے لیکن اس پر بہت کم لوگ عمل پیرا ہیں۔
6421- الحمد على النعمة أمان لزوالها. "هب عن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪২২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اللہ کا شکر بجالانا چاہیے
٦٤٢٢۔۔۔ جب تم میں سے کوئی اپنے سے افضل شخص کو دیکھے جس کے پاس مال اور مخلوق (اولاد) ہے تو اسے چاہے کہ وہ اپنے سے کم درجہ شخص کو دیکھ لے۔ (مسند احمد، بخاری ، مسلم عن ابوہریرہ (رض) )

حدیث نمبر ٦٠٩٣ میں گزر چکی ہے۔

تشریح :۔۔۔ تاکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا ہونا شکری نہ ہونے پائے۔
6422- إذا نظر أحدكم إلى من فضل عليه في المال والخلق فلينظر إلى من هو أسفل منه. "حم ق عن أبي هريرة". مر برقم [6093] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪২৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اللہ کا شکر بجالانا چاہیے
٦٤٢٣۔۔۔ دو خصلتیں ایسی ہیں کہ جس میں بھی ہوں گی اسے اللہ تعالیٰ شاکر و صابر شمار کرے گا، اور جس میں یہ دونوں عادتیں نہ ہوں گی اسے صابر و شاکر شمار نہیں کرے گا جس نے دین کے معاملہ میں اپنے سے اعلیٰ شخص کو دیکھا اور اس کی اقتداء اور پیروی کرنے لگا اور دنیا کے معاملہ میں اپنے سے ادنیٰ شخص کو دیکھا تو اللہ تعالیٰ کی تعریف کی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس

شخص پر فضیلت دی، اللہ تعالیٰ اسے صابر شاکر شمار کرے گا۔

اور جس نے دین کے معاملہ میں اپنے سے کم (عمل) شخص کو دیکھا اور دنیا کے معاملہ میں اپنے سے اعلیٰ کو دیکھا اور جو کچھ اس کے پاس نہ تھا اس کے نہ ہونے پر افسوس کیا، تو اللہ تعالیٰ اسے صابر و شاکر شمار نہیں کرے گا۔ (ترمذی عن ابن عمر)
6423- خصلتان من كانتا فيه كتبه الله شاكرا صابرا، ومن لم تكونا فيه لم يكتبه الله شاكرا ولا صابرا، من نظر في دينه إلى من هوفوقه فاقتدى به، ونظر في دنياه إلى من هو دونه فحمد الله على ما فضله به عليه كتبه الله شاكرا صابرا، ومن نظر في دينه إلى من هو دونه، ونظر في دنياه إلى من هو فوقه فأسف على ما فاته منه لم يكتبه الله لا شاكرا ولا صابرا. "ت عن ابن عمر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪২৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اللہ کا شکر بجالانا چاہیے
٦٤٢٤۔۔۔ (دنیا کے معاملہ میں) اپنے سے کم درجہ شخص کو دیکھو اپنے سے اعلیٰ کو نہ دیکھو یہ اس بات کے لائق ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کو گھٹیا نہ جانو گے جو تم پر ہیں۔ (مسند احمد ، بیہقی عن ابوہریرہ (رض) )

تشریح :۔۔۔ نتیجہ صاف ظاہر ہے۔
6424- أنظروا إلى من هو أسفل منكم ولا تنظروا إلى من هو فوقكم فهو أجدر ألا تزدروا نعمة الله عليكم. "حم هب عن أبي هريرة"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪২৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اللہ کا شکر بجالانا چاہیے
٦٤٢٥۔۔۔ شکر گزار طعام خور (درجہ میں) شکیب سار روزہ دار کی طرح ہے۔ (مسند احمد، ترمذی، ابو داؤد، حاکم عن ابوہریرہ (رض))
6425- الطاعم الشاكر بمنزلة الصائم الصابر. "حم ت د ك عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪২৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اللہ کا شکر بجالانا چاہیے
٦٤٢٦۔۔۔ شکر گزار طعام خور کے لیے صابر روزہ دار کا (سا) اجر ہے۔ (مسند احمد، ابن ماجہ عن سنان بن سنہ)
6426- الطاعم الشاكر له أجر الصائم الصابر. "حم هـ عن سنان بن سنة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪২৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اللہ کا شکر بجالانا چاہیے
٦٤٢٧۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے ابن آدم ! جب تو نے مجھے یاد کیا تو میرا شکر کیا اور جب مجھے بھولا تو میری ناشکری کی۔ (طبرانی فی الاوسط عن ابوہریرہ (رض) )

تشریح :۔۔۔ یاد دل میں آتی ہے اور شکر زبان سے ادا ہوتا ہے جب دل ہی غافل ہو تو زبان کیا کرے گی، سویا آدمی غافل ہوتا ہے اس کی زبان بند ہوتی ہے۔
6427- قال الله تعالى: يا ابن آدم إنك ما ذكرتني شكرتني وإذا ما نسيتني كفرتني. "طس عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪২৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اللہ کا شکر بجالانا چاہیے
٦٤٢٨۔۔۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کی اے میرے رب ! ابن آدم آپ کا شکر کیسے ادا کرے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اس بات کا جاننا کہ وہ میری طرف سے ہے تو یہ اس کا شکر ہوگا ۔۔۔ یعنی میری یادداشت ہی اس کا شکر ہے۔
6428- قال موسى: يا رب كيف شكرك ابن آدم؟ فقال: علم أن ذلك مني، فكان ذلك شكره. "الحكيم عن الحسن" مرسلا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪২৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اللہ کا شکر بجالانا چاہیے
٦٤٢٩۔۔۔ شکر گزار دل ، ذاکر زبان اور نیک بیوی جو تیری دینی و دنیوی باتوں میں تیری مددگار ہو ، لوگوں نے جو کچھ ذخیرہ کر رکھا ہے اس سے بہتر ہے۔ (بیہقی عن ابی امامۃ)

تشریح :۔۔۔ واقعی عملی زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں سے جنہیں یہ نعمتیں میسر ہیں وہ دوسروں سے خوشحال ہیں۔
6429- قلب شاكر ولسان ذاكر وزوجة صالحة تعينك على أمور دنياك ودينك خير ما اكتنز الناس. "هب عن أبي أمامة".
tahqiq

তাহকীক: