কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৮০৩ টি
হাদীস নং: ৬৪৩০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اللہ کا شکر بجالانا چاہیے
٦٤٣٠۔۔۔ مجھے تمہارے متعلق گناہوں سے زیادہ نعمتوں کے بارے میں خوف ہے خبردار وہ نعمتیں جن پر شکر ادا نہ کیا جائے وہ تقدیر موت کی طرح ہیں۔ (ابن عساکر عن المنذر بن محمد بن مبدر، بلاغا)
تشریح :۔۔۔ جیسے موت اچانک آجاتی ہے ایسے ہی یہ نعمتیں جلد زوال پذیر ہوجاتی ہیں۔
تشریح :۔۔۔ جیسے موت اچانک آجاتی ہے ایسے ہی یہ نعمتیں جلد زوال پذیر ہوجاتی ہیں۔
6430- لأنا أشد عليكم خوفا من النعم مني من الذنوب، ألا إن النعم التي لا تشكر هي الحتف القاضي. "ابن عساكر عن المنذر بن محمد بن المنذر بلاغا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৩১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اللہ کا شکر بجالانا چاہیے
٦٤٣١۔۔۔ مجھے بدحالی کے فتنہ سے بڑھ کر خوشحالی کے فتنہ کا تمہارے متعلق زیادہ خوف ہے تم بدحالی کے فتنہ میں مبتلا کیے گئے تو صبر کرلو گے، اور دنیا تو میٹھی اور سرسبز ہے۔ (البزار، حلیۃ اولیاء، بیہقی عن سعد)
6431- لأنا من فتنة السراء أخوف عليكم من فتنة الضراء، إنكم ابتليتم بفتنة الضراء فصبرتم، وإن الدنيا حلوة خضرة. "البزار حل هب عن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৩২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اللہ کا شکر بجالانا چاہیے
٦٤٣٢۔۔۔ تم میں کا کوئی ایسا کرے کہ شکر گزار دل، ذاکر زبان اور ایسی مومن بیوی اختیا رکرے جو آخرت کے معاملہ میں مددگار ہو۔ (مسند احمد، نسائی، ابن ماجہ عن ثوبان)
تشریح :۔۔۔ حکم خاص اذن عام ہے۔
تشریح :۔۔۔ حکم خاص اذن عام ہے۔
6432- ليتخذ أحدكم قلبا شاكرا ولسانا ذاكرا وزوجة مؤمنة تعينه على أمر الآخرة. "حم ن هـ عن ثوبان".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৩৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اللہ کا شکر بجالانا چاہیے
٦٤٣٣۔۔۔ میں نہیں چاہتا کہ جبرائیل (علیہ السلام) کو کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا دیکھوں کہ وہ یہ کہہ رہے ہو اے ماجد اے واحد جو نعمت آپ نے مجھ پر کی اسے مجھ سے نہ ہٹا تو میں انھیں دیکھوں گا۔
تشریح :۔۔۔ یعنی مجھے ان کی صرف یہ حالت قابل دیدنی اور بھلی لگے گی۔
تشریح :۔۔۔ یعنی مجھے ان کی صرف یہ حالت قابل دیدنی اور بھلی لگے گی۔
6433- ما شئت أن أرى جبريل متعلقا بأستار الكعبة وهو يقول: يا واحد يا ماجد لا تزل عني نعمة أنعمت بها علي إلا رأيته. "ابن عساكر عن علي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৩৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دینی نعمت پر بھی شکر بجالانا چاہیے
٦٤٣٤۔۔۔ جس بندے کے پاس اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف سے کوئی نصیحت آئی تو وہ اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت تھی جو اس کی طرف چلائی گئی پس اگر اس نے شکر کے ساتھ اسے قبول کیا (تو یہ اس کے حق میں بہتر ہے) ورنہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے برخلاف حجت و دلیل ہے تاکہ اس کا گناہ زیادہ ہو اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا غضب اس پر زیادہ ہو۔ (ابن عساکر عن عطیۃ بن قیس)
تشریح :۔۔۔ اس کا انداز صرف فکر مند اور بات بات پر آگاہ شخص کو ہی ہوسکتا ہے۔
تشریح :۔۔۔ اس کا انداز صرف فکر مند اور بات بات پر آگاہ شخص کو ہی ہوسکتا ہے۔
6434- أيما عبد جاءته موعظة من الله تعالى من دينه فإنها نعمة من الله سيقت إليه فإن قبلها بشكر وإلا كانت حجة من الله عليه ليزداد بها إثما ويزداد الله عليه بها سخطا. "ابن عساكر عن عطية بن قيس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৩৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دینی نعمت پر بھی شکر بجالانا چاہیے
٦٤٣٥۔۔۔ نعمت کا شکر (یہ بھی ہے کہ) اسے پھیلا جائے۔ (مسند ابو یعلی عن قتادہ مرسلاً )
تشریح :۔۔۔ اب جو لوگ جان، مال، علم و فن، ہنرو سدتکاری غرض کسی بھی نعمت میں بخل سے کام لیتے ہیں خوب جان لینا چاہیے کہ وہ شکر گزار ہیں یا ناشکرے ! ؟
تشریح :۔۔۔ اب جو لوگ جان، مال، علم و فن، ہنرو سدتکاری غرض کسی بھی نعمت میں بخل سے کام لیتے ہیں خوب جان لینا چاہیے کہ وہ شکر گزار ہیں یا ناشکرے ! ؟
6435- من شكر النعمة افشاؤها. "عب عن قتادة" مرسلا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৩৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دینی نعمت پر بھی شکر بجالانا چاہیے
٦٤٣٦۔۔۔ جو کسی مصیبت میں مبتلا ہو اور اس کا ذکر کیا تو اس نے اس کا شکریہ ادا کیا اور اگر اسے چھپایا تو اس نے ناشکری کی۔ (ابو داؤد، ضیاء عن جابر)
تشریح :۔۔۔ کیونکہ بہت سے لوگوں کے لیے وہ عبرت اور بہت سوں کے لیے موعظت و نصیحت ہوگی۔
تشریح :۔۔۔ کیونکہ بہت سے لوگوں کے لیے وہ عبرت اور بہت سوں کے لیے موعظت و نصیحت ہوگی۔
6436- من أبلى بلاء فذكره فقد شكره، وإن كتمه فقد كفره. "د والضياء عن جابر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৩৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دینی نعمت پر بھی شکر بجالانا چاہیے
٦٤٣٧۔۔۔ اللہ تعالیٰ بندے کو (صرف) اس لقمہ یا گھونٹ کی وجہ سے جنت میں داخل فرما دیتا ہے جس پر وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتا ہے۔۔۔ مرمٹنے کو جی چاہتا ہے ! کیا اسلام کے سوا کسی مذہب میں اتنی گنجائش ہے ؟
6437- إن الله ليدخل العبد الجنة بالأكلة أو الشربة يحمد الله عليها. "ابن عساكر عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৩৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دینی نعمت پر بھی شکر بجالانا چاہیے
٦٤٣٨۔۔۔ سنو ! اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، جن نعمتوں کا قیامت کے روز تم سے سوال ہوگا، وہ ٹھنڈا سایہ، عمدہ پکی کھجور اور ٹھنڈا پانی ہے۔ (ترمذی عن ابوہریرہ (رض) )
تشریح :۔۔۔ یہ اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ ایک روز آنحضرت اور حضرات شیخین فاقہ کی حالت میں حضرت سعد کے باغ میں تشریف لے گئے تو کھجور کا ایک خوشہ تناول کرتے ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا تھا۔
تشریح :۔۔۔ یہ اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ ایک روز آنحضرت اور حضرات شیخین فاقہ کی حالت میں حضرت سعد کے باغ میں تشریف لے گئے تو کھجور کا ایک خوشہ تناول کرتے ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا تھا۔
6438- هذا والذي نفسي بيده، من النعيم الذي تسألون عنه يوم القيامة: ظل بارد، ورطب طيب، وماء بارد. "ت عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৩৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے روز نعمت کے متعلق سوال ہوگا
٦٤٣٩۔۔۔ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، تم سے قیامت کے روز اس نعمت کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا بھوک نے تمہیں تمہارے گھروں سے باہر لا نکالا، اور پھر تم واپس بھی نہ ہوئے تھے کہ یہ نعمتیں تم مل گئیں۔ (مسند احمد عن ابوہریرہ (رض))
6439- والذي نفسي بيده، لتسألن عن هذا النعيم يوم القيامة أخرجكم من بيوتكم الجوع، ثم لم ترجعوا حتى أصابكم هذا النعيم. "حم عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৪০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے روز نعمت کے متعلق سوال ہوگا
٦٤٤٠۔۔۔ جو لوگوں کا شکر یہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔ (مسند احمد، ابو داؤد، ابن حبان عن ابوہریرہ )
6440- لا يشكر الله من لا يشكر الناس. "حم د حب عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৪১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے روز نعمت کے متعلق سوال ہوگا
٦٤٤١۔۔۔ اللہ تعالیٰ کے کسی بندے نے کہا : اے میرے رب تیری ایسی تعریف ہو جیسی تیرے چہرے کے جلال اور تیرے بڑے دبدبے کے مناسب ہے، تو یہ کلمہ دو فرشتوں کے لیے گراں ہوا، وہ یہ نہ جان سکے کہ اسے کیسے لکھیں ؟ آسمان کی طرف بلند ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کرنے لگے : اے ہمارے رب ! آپ کے ایک بندے نے ایسی بات کہی جس کے متعلق ہمیں پتہ نہ چلا کہ ہم کیسے لکھیں ؟ اللہ تعالیٰ باوجود جاننے کے کہ اس کے بندے نے کیا کلمہ کہا ہے فرماتے ہیں : میرے بندے نے کیا کہا ہے ؟ وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں اس نے کہا ہے : اے میرے رب تیری ایسی تعریف ہو جیسی تیری ذات کے جلال اور تیری بڑی سلطنت کے مناسب ہے اللہ تعالیٰ ان دونوں فرشتوں سے فرماتا ہے : اس کلمہ کو ایسا ہی لکھنا جیسا میرے بندے نے کہا ہے یہاں تک کہ وہ مجھ سے ملے تو میں اسے اس کا بدلہ دوں گا۔ (ابن ماجہ عن ابن عمر)
تشریح :۔۔۔ چہرے کے جلال سے مراد ذات باری تعالیٰ یا مطلق قدرت، کیونکہ ہاتھ، چہرہ وغیرہ ذات باری تعالیٰ کے لیے متشابہات میں سے ہے۔
تشریح :۔۔۔ چہرے کے جلال سے مراد ذات باری تعالیٰ یا مطلق قدرت، کیونکہ ہاتھ، چہرہ وغیرہ ذات باری تعالیٰ کے لیے متشابہات میں سے ہے۔
6441- إن عبدا من عباد الله قال: يا رب لك الحمد كما ينبغي لجلال وجهك ولعظيم سلطانك، فأعضلت بالملكين، فلم يدريا كيف يكتبانها؟ فصعدا إلى السماء، فقالا: يا ربنا إن عبدك قد قال مقالة لا ندري كيف نكتبها؟ فقال الله عز وجل وهو أعلم بما قاله عبده: ماذا قال عبدي؟ قالا: يا رب إنه قد قال: يا رب لك الحمد كما ينبغي لجلال وجهك ولعظيم سلطانك، فقال الله لهما: اكتباها كما قال عبدي حتى يلقاني عبدي فأجزيه بها. "هـ عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৪২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے روز نعمت کے متعلق سوال ہوگا
٦٤٤٢۔۔۔ جس پر اللہ تعالیٰ کوئی نعمت کرے تو وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کرے، جو رزق کو دور سمجھے وہ استغفار کرے اور جسے کوئی کام درپیش ہو وہ لاحول ولا قوۃ الا باللہ کہے۔ (بیہقی فی شعب الایمان عن علی)
خود قرآن مجید میں ہے نوح (علیہ السلام) نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو وہ تم پر موسلا دھار مینہ برسائے گا، تمہیں مال و اولاد سے نوازے گا، کلمہ لاحول ولا قوۃ میں سو سے زائد غموں اور پریشانیوں سے نجات ہے۔
خود قرآن مجید میں ہے نوح (علیہ السلام) نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو وہ تم پر موسلا دھار مینہ برسائے گا، تمہیں مال و اولاد سے نوازے گا، کلمہ لاحول ولا قوۃ میں سو سے زائد غموں اور پریشانیوں سے نجات ہے۔
6442- من أنعم الله عليه نعمة فليحمد الله، ومن استبطأ الرزق فليستغفر الله ومن حزبه أمر فليقل: لا حول ولا قوة إلا بالله. "هب عن علي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৪৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے روز نعمت کے متعلق سوال ہوگا
٦٤٤٣۔۔۔ جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔ (مسند احمد ترمذی عن ابوہریرہ (رض))
6443- من لم يشكر الناس لا يشكر الله. "حم ت عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৪৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے روز نعمت کے متعلق سوال ہوگا
٦٤٤٤۔۔۔ دو نعمتیں ایسی ہیں کہ ان کے بارے میں بہت سے لوگ نقصان میں پڑے ہیں صحت اور فراغت۔ (بخاری، ترمذی ابن ماجہ عن ابن عباس (رض))
تشریح :۔۔۔ اور کچھ نہ کیا تو صبح سے شام تک پڑے ہوتے رہے اور آج کل تو صحت مند و مریض سب کا ایک ہی مشغلہ ہے فلم بینی یا ڈرامہ دیکھنا۔
تشریح :۔۔۔ اور کچھ نہ کیا تو صبح سے شام تک پڑے ہوتے رہے اور آج کل تو صحت مند و مریض سب کا ایک ہی مشغلہ ہے فلم بینی یا ڈرامہ دیکھنا۔
6444- نعمتان مغبون فيهما كثير من الناس: الصحة والفراغ. "خ ت هـ عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৪৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے روز نعمت کے متعلق سوال ہوگا
٦٤٤٥۔۔۔ جو تقویٰ اختیار کرتا ہو مالداری اس کے لیے نقصان دہ نہیں ، متقی کے لیے صحت مندی مالداری سے بہتر ہے، اور نفس کی پاکی نعمت سے بہتر ہے۔ (مسند احمد ابن ماجہ، حاکم عن یسار بن عبد)
تشریح :۔۔۔ متقی شخص اپنے ورع وتقویٰ کی وجہ سے کئی مراتب حاصل کرلیتا ہے، دیانت داری اور امانت سے پیش آنا کئی مشکلات کا حل ہے دوسری طرف خبیث الباطن اور شریر النفس لوگ جو نعمتوں میں پلتے بڑھتے ہیں ان کے مقابلہ میں متقی شخص جو پاکیزہ نفس اور پاک طبیعت رکھتا ہے اس کے پاس اگرچہ کچھ آسائش و آرام کے اسباب نہیں مگر وہ بہتر ہے۔
تشریح :۔۔۔ متقی شخص اپنے ورع وتقویٰ کی وجہ سے کئی مراتب حاصل کرلیتا ہے، دیانت داری اور امانت سے پیش آنا کئی مشکلات کا حل ہے دوسری طرف خبیث الباطن اور شریر النفس لوگ جو نعمتوں میں پلتے بڑھتے ہیں ان کے مقابلہ میں متقی شخص جو پاکیزہ نفس اور پاک طبیعت رکھتا ہے اس کے پاس اگرچہ کچھ آسائش و آرام کے اسباب نہیں مگر وہ بہتر ہے۔
6445- لا بأس بالغنى لمن اتقى، والصحة لمن اتقى خير من الغنى وطيب النفس من النعيم. "حم هـ ك عن يسار بن عبد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৪৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے روز نعمت کے متعلق سوال ہوگا
٦٤٤٦۔۔۔ دنیا کی اگرچہ کوئی (چیز) نعمت نہیں، بہرکیف تین چیزیں دنیا کی نعمتیں ہیں ایسی سواری جسے چلایا جائے (تو وہ چل پڑے) نیک (خصلت و کردار والی) بیوی، کشادہ گھر۔ (ابن شیبہ عن ابی اوقرۃ)
تشریح :۔۔۔ کیونکہ نعمتوں کا گھر آخرت ہے، جو دار القرار ہے اور دنیا دار الزوال ہے اس واسطے یہاں کی نعمتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔
تشریح :۔۔۔ کیونکہ نعمتوں کا گھر آخرت ہے، جو دار القرار ہے اور دنیا دار الزوال ہے اس واسطے یہاں کی نعمتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔
6446- ثلاث من نعيم الدنيا، وإن كان لا نعيم لها، مركب وطيء، والمرأة الصالحة، والمنزل الواسع. "ش عن أبي قرة أو قرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৪৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے روز نعمت کے متعلق سوال ہوگا
٦٤٤٧۔۔۔ جنت میں داخل ہونا اور جہنم سے بچ جانا ہی پوری نعمت ہے۔ (ترمذی عن معاذ)
تشریح :۔۔۔ ایک شخص دعا میں کہہ رہا تھا اے اللہ ! مجھے مکمل نعمت عطا فرما تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمام نعمت یہ بھی ہے۔
تشریح :۔۔۔ ایک شخص دعا میں کہہ رہا تھا اے اللہ ! مجھے مکمل نعمت عطا فرما تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمام نعمت یہ بھی ہے۔
6447- فإن من تمام النعمة دخول الجنة والفوز من النار. "ت عن معاذ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৪৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے روز نعمت کے متعلق سوال ہوگا
٦٤٤٨۔۔۔ جس شخص کو پانچ چیزیں ملیں تو وہ آخرت کے عمل سے معذور نہ سمجھا جائے گا، نیک بیوی، درست کردار والے بیٹے، لوگوں سے اچھا میل جول، اپنے ہی شہر میں اچھا روزگار اور آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت۔ (فردوس عن زید بن ارقم)
6448- خمس من أعطيهن لم يعذر على ترك عمل الآخرة: زوجة صالحة، وبنون أبرار، وحسن مخالطة الناس، ومعيشة في بلده وحب آل محمد صلى الله عليه وسلم.
"فر" عن زيد بن أرقم.
"فر" عن زيد بن أرقم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৪৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے روز نعمت کے متعلق سوال ہوگا
٦٤٤٩۔۔۔ جس شخص نے کسی قوم کو کوئی نعمت دی اور انھوں نے اس کا شکر ادا نہ کیا تو اگر وہ ان کے حق میں بددعا کرے تو اس کی بددعا قبول کرلی جائے گی۔ (الشیرازی عن ابن عباس)
تشریح :۔۔۔ کسی سے کوئی فائدہ حاصل کرنے کے بعد اس کا شکریہ ادا نہ کرنا گویا نمک حرامی ہے، یہاں چونکہ مسئلہ فرد کا نہیں بلکہ پوری قوم کا تھا۔
تشریح :۔۔۔ کسی سے کوئی فائدہ حاصل کرنے کے بعد اس کا شکریہ ادا نہ کرنا گویا نمک حرامی ہے، یہاں چونکہ مسئلہ فرد کا نہیں بلکہ پوری قوم کا تھا۔
6449- من أسدى إلى قوم نعمة فلم يشكروها له فدعا عليهم استجيب له. "الشيرازي عن ابن عباس".
তাহকীক: