কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৮০৩ টি
হাদীস নং: ৬৪৭০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکر کا اجر روزہ کے برابر
٦٤٧٠۔۔۔ جس بندے پر اللہ تعالیٰ کوئی نعمت کرتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی حمد کرتا ہے تو حمد اس نعمت سے کئی گناہ افضل ہے۔ (طبرانی عن جابر)
6470- ما من عبد ينعم الله عليه نعمة؛ فيحمد الله إلا كان الحمد أفضل منها. "طب عن جابر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৭১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکر کا اجر روزہ کے برابر
٦٤٧١۔۔۔ جو نعمت ایسی ہو کہ اگرچہ اس کا زمانہ پرانا ہوگیا ہو مگر بندہ الحمد کے ذریعہ اسے نیا کرلے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کے لیے اس کا ثواب نیا کردیتے ہیں اور جو مصیبت ایسی ہو کہ اس کا وقت اگرچہ پرانا ہو مگر بندہ اناللہ وانا الیہ راجعون کہہ کر اسے نیا کرے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کے لیے، اس کا اجر وثواب نیا کردیتے ہیں۔ (الحکیم عن انس (رض))
تشریح :۔۔۔ یہ اللہ تعالیٰ کا شکر گزاروں پر خصوصی کرم ہے۔
تشریح :۔۔۔ یہ اللہ تعالیٰ کا شکر گزاروں پر خصوصی کرم ہے۔
6471- ما من نعمة وإن تقادم عهدها فيجددها العبد بالحمد إلا جدد الله له ثوابها، وما من مصيبة وإن تقادم عهدها فيجدد لها العبد الاسترجاع إلا جدد الله ثوابها وأجرها. "الحكيم عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৭২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکر کا اجر روزہ کے برابر
٦٤٧٢۔۔۔ جو کسی (اچھی) آزمائش میں مبتلا ہوا اور اس نے صرف ثناء (الٰہی) پائی تو گویا اس نے شکر ادا کیا، اور جس نے اسے پوشیدہ رکھا تو اس نے ناشکری کی۔ (ابن عساکر عن ابن عمر (رض))
تشریح :۔۔۔ کیونکہ وہ آزمائش مصیبت نہ تھی اس واسطے اس کا اظہار ضروری تھا : امابنعمۃ ربک فحدث : (کوثر) لہٰذا مقتضا کے خلاف عمل نہ کرنے کی بنا پر ناشکری اور کفر شمار ہوا۔
تشریح :۔۔۔ کیونکہ وہ آزمائش مصیبت نہ تھی اس واسطے اس کا اظہار ضروری تھا : امابنعمۃ ربک فحدث : (کوثر) لہٰذا مقتضا کے خلاف عمل نہ کرنے کی بنا پر ناشکری اور کفر شمار ہوا۔
6472- من أبلي بلاء فلم يجد إلا الثناء فقد شكر، ومن كتم فقد كفر. "ابن عساكر عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৭৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکر کا اجر روزہ کے برابر
٦٤٧٣۔۔۔ جو کسی اچھی آزمائش میں مبتلا ہوا اور وہ سوائے حمد وثناء کے اور کچھ نہیں پار ہا تو اس نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور جس نے اسے چھپایا اس کا کفر کیا اور جو کسی جھوٹ بات سے آراستہ ہوا تو اس نے گویا جھوٹ کے دو کپڑے پہنے۔ (الحلیۃ عن جابر
6473- من أبلي خيرا فلا يجد إلا الثناء فقد شكره، ومن كتمه فقد كفره، ومن تحلى بباطل فهو كلابس ثوبي زور. "ح عن جابر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৭৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکر کا اجر روزہ کے برابر
٦٤٧٤۔۔۔ جس کی طرف کوئی نعمت قریب ہوئی تو اس کا حق یہ ہے کہ وہ اس کا بدلہ دے اگر وہ ایسا نہ کرسکے تو حمد وثناء کا اظہار کرے، اور اگر ایسا نہ کیا تو اس نے نعمت کا کفر کیا۔ (ابن ابی الدنیا فی قضاء الحوائج عن یحییٰ بن صیفی، مرسلاً )
6474- من أزلفت إليه يد فإن عليه من الحق أن يجزي بها، فإن لم يفعل فليظهر الثناء، فإن لم يفعل فقد كفر النعمة. "ابن أبي الدنيا في قضاء الحوائج عن يحيى بن صيفي" مرسلا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৭৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکر کا اجر روزہ کے برابر
٦٤٧٥۔۔۔ جس نے اپنے بھائی پر کوئی نعمت و احسان کیا اور اس نے اس کا شکریہ ادا نہ کیا پھر اگر نعمت کرنے والا اس کے حق میں بددعا کرے تو اس کی بددعا قبول کرلی جائے گی۔ عقیلی فی الضعفاء وابن لال والشیرازی فی الالقاب عن، والخطیب عن ابن عباس
6475- من أنعم على أخيه نعمة فلم يشكرها فدعا عليه استجيب له. "عق وابن لال والشيرازي في الألقاب عن ... " "والخطيب عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৭৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکر کا اجر روزہ کے برابر
٦٤٧٦۔۔۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی نعمت کی ہو اور وہ اسے برقرار رکھنا چاہتا ہو تو اسے چاہیے کہ لاحول ولا قوۃ الا باللہ بکثرت پڑھے ، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی (اور کیوں نہ ایسا ہوا کہ جب تو اپنے باغ میں داخل ہوا تو کہتا جو اللہ چاہے کوئی طاقت نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کی طرف سے) ۔ (طبرانی عن عقبۃ بن عامر)
6476- من أنعم الله عليه نعمة فأراد بقاءها فليكثر من قول: لا حول ولا قوة إلا بالله، ثم قرأ: {وَلَوْلا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ} . "طب عن عقبة بن عامر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৭৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکر کا اجر روزہ کے برابر
٦٤٧٧۔۔۔ جس نے اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کی نعمت کی فضیلت صرف اپنے کھانے پینے میں جانی تو اس کا عمل کم ہوا اور اس کا عذاب قریب ہوا۔ (الخطیب عن عائشہ (رض))
6477- من لم يعرف فضل نعمة الله تعالى عليه إلا في مطعمه ومشربه فقد قصر عمله ودنا عذابه. "الخطيب عن عائشة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৭৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکر کا اجر روزہ کے برابر
٦٤٧٨۔۔۔ جس نے کسی نیک عمل پر اللہ تعالیٰ کی حمد نہ کی (بلکہ) اپنے نفس کی تعریف کی تو اس کا شکر کم ہوا اور اس کا عمل برباد، اور جس نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے کچھ اختیار رکھا ہے تو اس نے کفر کیا ان کا جو باتیں انبیاء پر نازل ہوئیں خبردار، پیدا کرنا اور حکم چلانا صرف اسی کا اختیار ہے۔ (ابن جریر عن عبد العزیز شامی عن ابیہ، وکانت لہ صحبۃ)
6478- من لم يحمد الله على ما عمل من عمل صالح وحمد نفسه قل شكره وحبط عمله، ومن زعم أن الله جعل للعباد من الأمر شيئا فقد كفر بما أنزل الله على الأنبياء، ألا له الخلق والأمر. "ابن جرير عن عبد العزيز الشامي عن أبيه". وكانت له صحبة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৭৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکر کا اجر روزہ کے برابر
٦٤٧٩۔۔۔ جو تھوڑی نعمت کا شکر ادا نہ کرے وہ زیادہ کا شکر ادا نہیں کرتا، اور جس نے بندوں کا شکریہ ادا نہ کیا اس نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کیا اللہ تعالیٰ کی نعمت کا تذکرہ (بھی) شکر ہے ، اور اس کا ترک کرنا و ناشکری ہے، جماعت رحمت (کا باعث) ہے اور جدائی عذاب ہے۔ (عبداللہ بن احمد فی الزوائد، بیہقی فی شعب الایمان ، خطیب فی المتفق والمفترق عن النعمان بن بشیر)
6479- من لم يشكر القليل لم يشكر الكثير، ومن لم يشكر الناس لم يشكر الله، والتحدث بنعمة الله شكر، وتركها كفر، والجماعة رحمة والفرقة عذاب. "عم هب خط في المتفق والمفترق عن النعمان بن بشير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৮০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکر کا اجر روزہ کے برابر
٦٤٨٠۔۔۔ جو تھوڑی چیز کا شکر ادا نہ کرے وہ بڑی چیز کا شکر بھی ادا نہیں کرتا، اور جو لوگوں کا شکریہ ادا نہ کرے وہ اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا، اور جماعت میں جو بات تم ناپسند کرتے ہو وہ اس سے بہتر ہے جو تم تفرقہ اور پھوٹ میں پسند کرتے ہو جماعت میں رحمت اور پھوٹ میں عذاب ہے۔ (الدیلمی عن جابر)
تشریح :۔ دوسروں کے حقوق کی پاسداری اتحاد کی بنیاد ہے جبکہ دوسروں کی حق تلفی اتفاق کی دیواروں میں دراڑیں ڈال دیتی ہے
تشریح :۔ دوسروں کے حقوق کی پاسداری اتحاد کی بنیاد ہے جبکہ دوسروں کی حق تلفی اتفاق کی دیواروں میں دراڑیں ڈال دیتی ہے
6480- من لم يشكر القليل لم يشكر الكثير، ومن لم يشكر الناس لم يشكر الله، وما تكرهون في الجماعة خير مما تحبون في الفرقة، في الجماعة رحمة وفي الفرقة عذاب. "الديلمي عن جابر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৮১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکر کا اجر روزہ کے برابر
٦٤٨١۔۔۔ تم میں سے اللہ تعالیٰ کا زیادہ شکر گزار وہ بندہ ہے جو لوگوں کا زیادہ شکریہ ادا کرنے والا ہو۔ (طبرانی ، بیہقی عن الاشعث بن قیس)
6481- أشكركم لله أشكركم للناس. "طب هب عن الأشعث بن قيس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৮২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکر کا اجر روزہ کے برابر
٦٤٨٢۔۔۔ جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا، اور جو تھوڑی چیز کا شکر ادا نہیں کرتا وہ بڑی چیز کا بھی شکریہ ادا نہیں کرتا۔ (الخطیب وابن عساکر عن ابن عباس ، ابن ابی الدنیا عن النعمان بن بشیر)
6482- من لا يشكر الناس لا يشكر الله عز وجل ومن لا يشكر القليل لا يشكر الكثير. "الخطيب وابن عساكر عن ابن عباس" "ابن أبي الدنيا عن النعمان بن بشير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৮৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکر کا اجر روزہ کے برابر
٦٤٨٣۔۔۔ لوگوں میں سے اللہ تعالیٰ کا سب سے شکر گزار وہ ہے جو لوگوں کا زیادہ شکریہ ادا کرنے والا ہو۔ (ابن جریر فی تھذیبہ عن الاشعث بن قیس)
6483- من أشكر الناس لله أشكرهم للناس. "ابن جرير في تهذيبه عن الأشعث بن قيس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৮৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکر کا اجر روزہ کے برابر
٦٤٨٤۔۔۔ متقی کے لیے مالداری میں کوئی حرج نہیں، اور متقی کے لیے صحت مالداری سے اور نفس کی پاکیزگی نعمتوں سے بہتر ہے۔ (مسند احمد، ابن ماجہ والحکیم والبغوی، حاکم، ابن ماجہ عن معاذ بن عبداللہ بن خبیث عن ا بیہ عن یسار بن عبید الجھنی)
6484- لا بأس بالغنى لمن اتقى، والصحة لمن اتقى خير من الغنى وطيب النفس من النعيم. "حم هـ والحكيم والبغوي ك هـ عن معاذ بن عبد الله بن خبيب عن أبيه عن يسار بن عبيد الجهني".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৮৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکر کا اجر روزہ کے برابر
٦٤٨٥۔۔۔ جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا، اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر ان کا شکر ہے اور اسے ترک کرنا ان کی ناشکری ہے جماعت (میں) رحمت اور پھوٹ میں عذاب ہے۔ (طبرانی فی الکبیر عن النعمان بن بشیر)
6485- لا يشكر الله عز وجل من لا يشكر الناس، والتحدث بنعمة الله شكر وتركها كفر، والجماعة رحمة، والفرقة عذاب. "طب عن النعمان بن بشير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৮৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکر کا اجر روزہ کے برابر
٦٤٨٦۔۔۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اپنے بندے سے کہیں گے : اے ابن آدم ! کیا میں نے تجھے گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار نہیں کیا، کیا میں نے عورتوں سے تیری شادی نہیں کی، کیا میں نے تجھے ایسا نہ بنایا کہ تو مال کا چوتھائی حصہ لیتا اور سرداری کرتا ہے ؟ بندہ کہے گا، کیوں نہیں میرے پروردگار بالکل ایسا ہی ہے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے (تو پھر) ان کا شکر کہاں ہے ؟ (بیہقی فی شعب الایمان عن ابوہریرہ (رض) )
یہ تو ظاہری نعمتیں ہیں باطنی نعمتوں کا شمار ہونے لگے تو کچھ بھی نہ بچے۔
یہ تو ظاہری نعمتیں ہیں باطنی نعمتوں کا شمار ہونے لگے تو کچھ بھی نہ بچے۔
6486- يقول الله تعالى لعبده يوم القيامة: يا ابن آدم ألم أحملك على الخيل والإبل وأزوجك النساء وأجعلك تربع وترأس؟ فيقول: بلى أي رب، فيقول: أين شكر ذلك؟ "هب عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৮৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکر کا اجر روزہ کے برابر
٦٤٨٧۔۔۔ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ بندے سے فرمائیں گے : کیا تو نے مجھے فلاں بیماری میں نہیں پکارا تھا پھر میں نے تجھے عافیت بخشی تھی، کیا تو نے مجھ سے یہ دعا نہیں کی تھی کہ میں تیری شادی ایسی عورت سے کروں جو پوری قوم میں سخی اور خوبصورت ہو پھر میں نے تیری شادی کردی کیا ایسا نہیں ہوا کیا ایسا نہیں ہوا ؟ (بیہقی ابو الشیخ عن عبداللہ بن سلام)
تشریح :۔۔۔ احکم الحاکمین کی بارگاہ میں کون ان سوالات کا جواب دے سکے گا ! ؟
تشریح :۔۔۔ احکم الحاکمین کی بارگاہ میں کون ان سوالات کا جواب دے سکے گا ! ؟
6487- يقول الله تعالى للعبد يوم القيامة: ألم تدعني لمرض كذا وكذا فعافيتك؟ ألم تدعني أن أزوجك كريمة قومها فزوجتك؟ ألم ألم. "هب أبو الشيخ عن عبد الله بن سلام".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৮৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکر کا اجر روزہ کے برابر
٦٤٨٨۔۔۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : تین نعمتیں ایسی ہیں میں بندے سے ان کا شکر کا سوال نہیں کروں گا، جبکہ اس کے علاوہ نعمتوں کے بارے میں اس سے سوال کروں گا، ایسا گھر جو اسے چھپالے، اور اتنا کھانا جس سے وہ اپنی کرم سیدھی رکھ سکے، اور اتنا لباس جس سے وہ اپنی شرمگاہ چھپا سکے ان تینوں کے متعلق سوال نہیں کروں گا۔ (ھناد عن الضحاک ، مرسلاً )
تشریح :۔۔۔ یعنی معمولی گھر، معمولی کھانا اور لباس، جس میں سادگی ہو۔
تشریح :۔۔۔ یعنی معمولی گھر، معمولی کھانا اور لباس، جس میں سادگی ہو۔
6488- يقول الله عز وجل ثلاث من النعم لا أسأل عبدي عن شكرها، وأسأله عما سوى ذلك، بيت يكنه، وما يقيم به صلبه من الطعام وما يواري به عورته من اللباس. "هناد عن الضحاك" مرسلا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৪৮৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الشفاعۃ ۔۔۔ سفارش کا بیان
٦٤٨٩۔۔۔ سفارش کردیا کرو تمہیں اجر ملے گا۔ (ابن عساکر عن معاویۃ)
تشریح :۔۔۔ ایسی سفارش جو جائز ہو اور سفارشی مستحق بھی ہو، اور جسکے ہاں سفارش لے جا رہا ہے اس کی طبیعت پر بوجھ بھی نہ ہو، مرشد تھانوی (رح) سے جب کوئی سفارش کا کہتا تو آپ لکھ بھیجتے کہ بھئی جیسے تمہاری مرضی میری طرف سے کوئی سختی نہیں
تشریح :۔۔۔ ایسی سفارش جو جائز ہو اور سفارشی مستحق بھی ہو، اور جسکے ہاں سفارش لے جا رہا ہے اس کی طبیعت پر بوجھ بھی نہ ہو، مرشد تھانوی (رح) سے جب کوئی سفارش کا کہتا تو آپ لکھ بھیجتے کہ بھئی جیسے تمہاری مرضی میری طرف سے کوئی سختی نہیں
6489- اشفعوا تؤجروا. "ابن عساكر عن معاوية".
তাহকীক: