কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৮০৩ টি
হাদীস নং: ৬৫১০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرف الصاد ۔۔۔ آزمائشوں ، بیماریوں ، مصیبتوں اور مشکلات پر صبر
صبر کی فضیلت
صبر کی فضیلت
٦٥١٠۔۔۔ (حقیقی) صبر تو پہلی مصیبت کے وقت ہوتا ہے۔ (مسند احمد، بخاری مسلم ترمذی ابو داؤد، نسائی ابن ماجہ عن انس)
تشریح :۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک عورت کے پاس سے گزرے جو قبر کے پاس بیٹھی رو رہی تھی، آپ نے اسے صبر کی تلقین کی، اس نے آپ کو نہیں پہچانا اور کہنے لگی اگر یہ مصیبت تم پر آتی تو تمہیں پتہ چلتا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہاں سے تشریف لے گئے، کسی نے اس عورت کو آگاہ کیا کہ تمہیں پتہ ہے تم کس سے مخاطب تھی ؟ یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے وہ سیدھی آپ کے حضور آئی اور عرض کرنے لگی کہ میں اب صبر سے کام لوں گی آپ نے فرمایا : صبر کا مقام تو وہ تھا جب تم کو مصیبت کا احساس تھا۔
تشریح :۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک عورت کے پاس سے گزرے جو قبر کے پاس بیٹھی رو رہی تھی، آپ نے اسے صبر کی تلقین کی، اس نے آپ کو نہیں پہچانا اور کہنے لگی اگر یہ مصیبت تم پر آتی تو تمہیں پتہ چلتا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہاں سے تشریف لے گئے، کسی نے اس عورت کو آگاہ کیا کہ تمہیں پتہ ہے تم کس سے مخاطب تھی ؟ یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے وہ سیدھی آپ کے حضور آئی اور عرض کرنے لگی کہ میں اب صبر سے کام لوں گی آپ نے فرمایا : صبر کا مقام تو وہ تھا جب تم کو مصیبت کا احساس تھا۔
6510- إن الصبر عند الصدمة الأولى. "حم ق عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫১১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرف الصاد ۔۔۔ آزمائشوں ، بیماریوں ، مصیبتوں اور مشکلات پر صبر
صبر کی فضیلت
صبر کی فضیلت
٦٥١١۔۔۔ صبر کسی صدمہ اور مصیبت کے آغاز میں ہوتا ہے۔ (البزار ابو یعلی عن ابوہریرہ (رض))
6511- الصبر عند الصدمة الأولى. "البزار ع عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫১২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرف الصاد ۔۔۔ آزمائشوں ، بیماریوں ، مصیبتوں اور مشکلات پر صبر
صبر کی فضیلت
صبر کی فضیلت
٦٥١٢۔۔۔ صبر پہلے صدمہ کے وقت ہوتا ہے۔ (البزار عن ابن عباس)
6512- الصبر عند أول صدمة. "البزار عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫১৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ صبر کی حقیقت
٦٥١٣۔۔۔ صبر پہلے صدمہ کے وقت ہوتا ہے اور آنسوؤں پر کوئی قابو نہیں پاسکتا جو آدمی کے اپنے بھائی کی محبت میں ہوتے ہیں۔ (سعید بن منصور عن الحسن، مرسلاً )
تشریح :۔۔۔ حضرت عثمان بن مظعون کی وفات ہوئی تو آپ ان کی میت کے پاس آئے ان کی پیشانی چومی اور آبدیدہ ہوگئے۔
تشریح :۔۔۔ حضرت عثمان بن مظعون کی وفات ہوئی تو آپ ان کی میت کے پاس آئے ان کی پیشانی چومی اور آبدیدہ ہوگئے۔
6513- الصبر عند الصدمة الأولى، والعبرة لا يملكها أحد صبابة المرء إلى أخيه. "ص عن الحسن" مرسلا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫১৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ صبر کی حقیقت
٦٥١٤۔۔۔ وہی شخص (حقیقی) صبر کرنے والا ہے جو پہلی مصیبت کے وقت صبر کرے۔ (بخاری فی التاریخ عن انس)
6514- الصابر، الصابر عند الصدمة الأولى. "تخ عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫১৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ صبر کی حقیقت
٦٥١٥۔۔۔ صبر تین طرح کے ہیں : مصیبت پر صبر، طاعت و عبادت پر صبر اور گناہ سے بچنے پر صبر، سو جس نے مصیبت پر اس طرح صبر کیا کہ اسے اچھے انداز سے رد کردیا، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے چھ سو درجات لکھیں گے اور درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ جتنا زمین کی حد سے آخری زمین تک ہے، اور جس نے گناہ سے بچنے پر صبر سے کام لیا، اللہ تعالیٰ اس کے نو سو درجات لکھیں گے، دو درجوں میں اتنا فاصلہ ہوگا جتنا زمین کی حد سے لے کر عرش کی انتہا تک دہرا فاصلہ ہے۔ (ابن ابی الدنیا فی الصبر وابو الشیخ فی الثواب عن علی)
تشریح :۔۔۔ خدا کی دین، حدوحساب انسانی بساط سے باہر ہے۔
تشریح :۔۔۔ خدا کی دین، حدوحساب انسانی بساط سے باہر ہے۔
6515- الصبر ثلاثة: فصبر على المصيبة، وصبر على الطاعة، وصبر عن المعصية، فمن صبر على المصيبة حتى يردها بحسن عزائها كتب الله له ثلثمائة درجة، ما بين الدرجتين كما بين السماء والأرض، ومن صبر على الطاعة كتب الله له ستمائة درجة، ما بين الدرجتين كما بين تخوم الأرض إلى منتهى الأرضين، ومن صبر عن المعصية كتب الله له تسعمائة درجة ما بين الدرجتين كما بين تخوم الأرض إلى منتهى العرش مرتين. "ابن أبي الدنيا في الصبر وأبو الشيخ في الثواب عن علي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫১৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ صبر کی حقیقت
٦٥١٦۔۔۔ جس کسی پر کوئی مصیبت آئی اور اس نے صبر کیا، اور اسے کوئی چیز عطا کی گئی تو اس نے شکر کیا یا اس پر ظلم ہوا تو اس نے معاف کیا یا کسی پر ظلم ہوگیا اور اس نے معافی مانگی تو ایسے ہی لوگوں کے لیے (کل گھبراہٹ کے وقت) امن و اطمینان ہوگا
اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ (طبرانی فی الکبیر، بیہقی فی شعب الایمان عن سخرۃ)
تشریح :۔۔۔ یاد رکھیں ! بندوں کے حقوق جب تک ان سے معاف نہ کرا لیے جائیں معاف نہیں ہوتے، جس کا حق غصب کیا اگر وہ زندگی بھر نہ مل سکا تو اس کی طرف سے کوئی چیز صدقہ کردی جائے اور اگر وہ مرچکا ہے تو اسے اس کا ایصال ثواب کہا جائے شاید کل قیامت میں ہوسکا تو وہ معاف کر دے ورنہ اندیشہ پھر بھی ہے۔
اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ (طبرانی فی الکبیر، بیہقی فی شعب الایمان عن سخرۃ)
تشریح :۔۔۔ یاد رکھیں ! بندوں کے حقوق جب تک ان سے معاف نہ کرا لیے جائیں معاف نہیں ہوتے، جس کا حق غصب کیا اگر وہ زندگی بھر نہ مل سکا تو اس کی طرف سے کوئی چیز صدقہ کردی جائے اور اگر وہ مرچکا ہے تو اسے اس کا ایصال ثواب کہا جائے شاید کل قیامت میں ہوسکا تو وہ معاف کر دے ورنہ اندیشہ پھر بھی ہے۔
6516- من ابتلي فصبر، وأعطي فشكر، وظلم فغفر، وظلم فاستغفر، أولئك لهم الأمن وهم مهتدون. "طب هب عن سخبرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫১৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ صبر کی حقیقت
٦٥١٧۔۔۔ اے مصیبت ! جہاں تک پہنچنا چاہتی ہے پہنچ یہاں تک کہ تو خود بخود کشادہ ہوجائے گی۔ (القضاعی، فردوس عن علی
یہ حدیث من گھڑت ہے اس کے سلسلہ سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ بن ضمیرہ کذاب ہے جس کی تکذیب امام مالک نے کی ہے۔
یہ حدیث من گھڑت ہے اس کے سلسلہ سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ بن ضمیرہ کذاب ہے جس کی تکذیب امام مالک نے کی ہے۔
6517- اشتدي أزمة تنفرجي. "القضاعي فر عن علي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫১৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ صبر کی حقیقت
٦٥١٨۔۔۔ صبر رضا مندی ہے۔ (الحکیم وابن عساکر والدیلمی عن ابی موسیٰ)
6518- الصبر الرضا. "الحكيم وابن عساكر والديلمي عن أبي موسى".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫১৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ صبر کی حقیقت
٦٥١٩۔۔۔ مدد صبر کے ساتھ اور کشادگی مصیبت کے ساتھ ہے بیشک تنگی کے ساتھ سختی ہے۔ (ابو نعیم والخطیب وابن النجار عن انس مربرقم، ٦٥٠٦)
6519- النصر مع الصبر، والفرج مع الكرب، وأن مع العسر يسرا. "أبو نعيم والخطيب وابن النجار عن أنس". مر برقم [6506] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫২০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ صبر کی حقیقت
٦٥٢٠۔۔۔ تین چیزیں نیکیوں کا خزانہ ہیں، شکوہ و شکایت کو چھپانا، مصیبت کو پوشیدہ رکھنا، اور صدقہ خفیہ رکھنا۔ (طبرانی فی الکبیر عن انس)
6520- ثلاث من كنوز البر: كتمان الشكوى، وكتمان المصيبة، وكتمان الصدقة. "طب عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫২১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ صبر کی حقیقت
٦٥٢١۔۔۔ اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگو اس واسطے کہ اللہ تعالیٰ اس کے مانگنے کو پسند کرتے ہیں، اور سب سے افضل عبادت (فرائض کے بعد) کشادگی کا انتظار کرنا ہے۔ (ابن جریر عن حکیم بن جبیر عن رجل لم یسم اسمہ)
تشریح :۔۔۔ جیسے عبادت میں وجوب کا درجہ ہے ایسے ان میں افضل اور غیر افضل کا درجہ ہے لہٰذا جو عبادت جتنی اہم ہوگی اتنی ہی افضل ہوگی۔
تشریح :۔۔۔ جیسے عبادت میں وجوب کا درجہ ہے ایسے ان میں افضل اور غیر افضل کا درجہ ہے لہٰذا جو عبادت جتنی اہم ہوگی اتنی ہی افضل ہوگی۔
6521- سلوا الله من فضله، فإنه يحب أن يسأل، وإن من أفضل العبادة انتظار الفرج. "ابن جرير عن حكيم بن جبير عن رجل لم يسم اسمه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫২২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ صبر کی حقیقت
٦٥٢٢۔۔۔ جو صبر اختیار کرے اللہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق دیتے ہیں اور جو بچنا چاہے اللہ تعالیٰ اسے محفوظ رکھتے ہیں اور جو استغناء استعمال کرکے نیکیاں کمائے اور برائیوں سے بچے۔
6522- من يتصبر يصبره الله، ومن يستعفف يعفه الله، ومن يستغن يغنه الله، وما أعطي عبد عطاء هو خير وأوسع من الصبر. "الحكيم عن أبي سعيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫২৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ صبر کی حقیقت
٦٥٢٣۔۔۔ جو صبر اختیار کرے اللہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق دیتے ہیں اور استغناء کرے اللہ تعالیٰ اسے غنی کردیتے ہیں جو ہم سے مانگے گا ہم اسے دیں گے ، کسی کو صبر سے بڑھ کر کشادہ رزق نہیں دیا گیا۔ (الحلیۃ عن ابی سعید)
6523- من يتصبر يصبره الله، ومن يستغن يغنه الله عز وجل ومن يسألنا نعطه، وما أعطي أحد رزقا أوسع من الصبر. "حل عن أبي سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫২৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ صبر کی حقیقت
٦٥٢٤۔۔۔ اذیت کو سن کر اس پر صبر کرنے والا اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی نہیں، اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرایا جاتا ہے اس کا بیٹا قرار دیا جاتا ہے پھر بھی اللہ تعالیٰ انھیں عافیت سے رکھتا ان کا دفاع اور بچاؤ کرتا ہے اور انھیں رزق دیتا ہے۔ (مسند احمد عن ابی موسیٰ)
تشریح :۔۔۔ اللہ تعالیٰ کسی سے ہرگز متاثر نہیں ہوتے، بلکہ نافرمانی کے قانون کے مطابق سزا دیتے ہیں، اگر ساری دنیا موحد بن جائے تو اللہ تعالیٰ کی بادشاہت جیسے ہے ویسے ہی رہے گی اس میں کوئی اضافہ نہ ہوگا اور اگر ساری دنیا مشرک بن جائے تب بھی کوئی نقصان واقع نہیں ہوگا۔
تشریح :۔۔۔ اللہ تعالیٰ کسی سے ہرگز متاثر نہیں ہوتے، بلکہ نافرمانی کے قانون کے مطابق سزا دیتے ہیں، اگر ساری دنیا موحد بن جائے تو اللہ تعالیٰ کی بادشاہت جیسے ہے ویسے ہی رہے گی اس میں کوئی اضافہ نہ ہوگا اور اگر ساری دنیا مشرک بن جائے تب بھی کوئی نقصان واقع نہیں ہوگا۔
6524- لا أحد أصبر على أذى يسمعه من الله، إنه يشرك به ويجعل له ولد وهو يعافيهم ويدفع عنهم ويرزقهم. "حم عن أبي موسى".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫২৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نظر چلے جانے پر صبر
٦٥٢٥۔۔۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میں جب اپنے بندے کی دو محبوب چیزیں مراد آنکھیں لے لیتا ہوں پھر وہ صبر کرے تو اس کے بدلہ اسے جنت عطا کردیتا ہوں۔ (مسند احمد، بخاری عن انس)
تشریح :۔۔۔ کتنی بڑی رحمت ہے، چاہے وہ آنکھیں جس سبب سے گئی ہوں۔
تشریح :۔۔۔ کتنی بڑی رحمت ہے، چاہے وہ آنکھیں جس سبب سے گئی ہوں۔
6525- قال الله تعالى: إذا ابتليت عبدي بحبيبتيه يريد عينيه ثم صبر عوضته منهما الجنة. "حم خ عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫২৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نظر چلے جانے پر صبر
٦٥٢٦۔۔۔ شرک سے بڑھ کر بندہ کسی آزمائش میں ہرگز مبتلا نہیں ہوتا، اور شرک کے بعد آنکھوں کے چلے جانے کی آزمائش میں، اور جو بندہ اس آزمائش میں مبتلا ہو کر صبر سے کام لے تو اللہ تعالیٰ اسے بخش دیں گے۔ (البزاز عن بریدۃ)
6526- لن يبتلى عبد بشيء أشد من الشرك، ولن يبتلى بشيء بعد الشرك أشد من ذهاب البصر، ولن يبتلى عبد بذهاب بصره فيصبر إلا غفر الله له. "البزار عن بريدة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫২৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نظر چلے جانے پر صبر
٦٥٢٧۔۔۔ انسان اپنے دین کے چلے جانے بعد اگر کسی مصیبت میں مبتلا ہوا ہے تو وہ نظر کا چلا جانا ہے اور جس بندے کی نظر چلی گئی اور پھر اس نے صبر کیا تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ (خطیب عن بریدۃ)
6527- ما أصيب عبد بعد ذهاب دينه بأشد من ذهاب بصره، وما ذهب بصر عبد فصبر إلا دخل الجنة. "خط عن بريدة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫২৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نظر چلے جانے پر صبر
٦٥٢٨۔۔۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، دنیا میں جب کسی بندے کی دو محبوب چیزیں (مراد آنکھیں) لے لیتا ہوں تو میرے پاس اس کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔ (ترمذی عن انس)
تشریح :۔۔۔ یہ مطلن ہرگز نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں کوئی کمی ہے بلکہ یہ مراد ہے کہ سب سے اعلیٰ چیز یعنی جنت ہی بدلہ میں دی جائے گی۔
تشریح :۔۔۔ یہ مطلن ہرگز نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں کوئی کمی ہے بلکہ یہ مراد ہے کہ سب سے اعلیٰ چیز یعنی جنت ہی بدلہ میں دی جائے گی۔
6528- إن الله تعالى يقول: إذا أخذت كريمتي عبدي في الدنيا لم يكن له جزاء عندي إلا الجنة. "ت عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৫২৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نظر چلے جانے پر صبر
٦٥٢٩۔۔۔ جس شخص کی دنیا میں نظر چلی گئی تو اگر وہ نیک ہوا تو اللہ تعالیٰ قیامت اس کے لیے نور پیدا فرما دیں گے۔ (طبرانی فی الاوسط عن ابن مسعود)
تشریح :۔۔۔ کیونکہ معصیت خود ظلمت ہے تو ظلمت اور نور کیسے جمع ہوسکتے ہیں۔
تشریح :۔۔۔ کیونکہ معصیت خود ظلمت ہے تو ظلمت اور نور کیسے جمع ہوسکتے ہیں۔
6529- من ذهب بصره في الدنيا جعل الله له نورا يوم القيامة إن كان صالحا. "طس عن ابن مسعود".
তাহকীক: