কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮০৩ টি

হাদীস নং: ৬৬৯০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بیماری میں جزع و فرع کی ممانعت
٦٦٩٠۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : مومن جب ہر بھلائی پالیتا ہے ، تو میں اس کے دونوں پہلوؤں سے اس کی جان کھینچ لیتا ہوں، اور وہ میری تعریف کررہا ہوتا ہے۔ (الحکیم عن ابن عباس وعن ہریرہ (رض))
6690- قال الله تعالى إن المؤمن مني يعرض كل خير، إني أنزع نفسه من بين جنبيه وهو يحمدني. "الحكيم عن ابن عباس وعن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৯১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بیماری میں جزع و فرع کی ممانعت
٦٦٩١۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کہ میں جب اپنے مومن بندے کو (بیماری میں) مبتلا کرتا ہوں اور وہ عیادت کرنے والوں سے میری شکایت نہ کرے، تو میں اسے اپنی قید سے آزاد کردیتا ہوں، پھر اس کے گوشت کے بدلہ میں اچھا گوشت اور خون کے بدلہ اچھا خون لگا دیتا ہوں ، پھر وہ ازسرنو عمل شروع کردیتا ہے۔ (حاکم، بیہقی فی شعب الایمان عن ابوہریرہ (رض))
6691- قال الله تعالى: إذا ابتليت عبدي المؤمن فلم يشكني إلى عواده أطلقته من أساري، ثم أبدلته لحما خيرا من لحمه، ودما خيرا من دمه، ثم يستأنف العمل. "ك هق عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৯২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بیماری میں جزع و فرع کی ممانعت
٦٦٩٢۔۔۔ سلامتی کے لیے بیماری کافی ہے۔ (فردوس عن ابن عباس)

تشریح :۔۔۔ کیونکہ بیماری یا رفع درجات کا سبب ہوتی ہے یا گناہوں کا کفارہ۔
6692- كفى بالسلامة داء. "فر عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৯৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بیماری میں جزع و فرع کی ممانعت
٦٦٩٣۔۔۔ مومن کو جسم میں جو بھی تکلیف دہ چیز پہنچے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ اس کی گناہوں کا کفارہ کردیتے ہیں۔ (مسند احمد، حاکم عن معاویۃ)
6693- ما من شيء يصيب المؤمن في جسده يؤذيه إلا كفر الله عنه به من سيئآته.

"حم ك" عن معاوية.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৯৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بیماری میں جزع و فرع کی ممانعت
٦٦٩٤۔۔۔ جس بندے کو بیماری کی وجہ سے مرگی پڑتی ہو تو اللہ تعالیٰ بیماری کے بعد اسے پاک اٹھالیتے ہیں۔ (طبرانی عن ابی امامۃ
6694- ما من عبد يصرع صرعة من مرض إلا بعثه الله منها طاهرا. "طب عن أبي أمامة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৯৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بیماری میں جزع و فرع کی ممانعت
٦٦٩٥۔۔۔ اللہ تعالیٰ جب مسلمان بندے کو جسم کی کسی تکلیف میں مبتلا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرشتہ سے فرماتے ہیں : اس کے لیے اس کے عمل میں سے نیک عمل کا ثواب لکھو، اگر اسے شفا دے دی تو اسے (گناہوں سے) دھوکر پاکر کردیں گے اور اگر اس کی روح قبض کرلی تو اسے بخش دیں گے اور اس پر رحم فرمائیں گے۔ (مسند احمد عن انس)
6695- إذا ابتلى الله العبد المسلم ببلاء في جسده قال الله عز وجل: اكتب له صالح عمله، فإن شفاه غسله وطهره، وإن قبضه غفر له ورحمه. "حم عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৯৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بیماری میں جزع و فرع کی ممانعت
٦٦٩٦۔۔۔ جسے اپنے مال یا بدن میں کوئی مصیبت پہنچی اور اسے پوشیدہ رکھا لوگوں سے شکایت کا اظہار نہ کیا، تو اللہ تعالیٰ (کے فضل کی وجہ سے) حق ہے کہ وہ اسے بخش دیں۔ (طبرانی عن ابن عباس)
6696- من أصيب بمصيبة في ماله أو جسده وكتمها، ولم يشكها إلى الناس، كان حقا على الله أن يغفر له. "طب عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৯৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بیماری میں جزع و فرع کی ممانعت
٦٦٩٧۔۔۔ جسے بدن میں کوئی تکلیف پہنچی اور اس نے اللہ تعالیٰ کے لیے اسے چھوڑ دیا (اس کی پروا نہیں کی) تو یہ اس کے (گناہوں کے) لیے کفارہ ہے۔ (مسند احمد عن رجل)
6697- من أصيب في جسده بشيء، فتركه لله كان كفارة له. "حم عن رجل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৯৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بیماری میں جزع و فرع کی ممانعت
٦٦٩٨۔۔۔ بیشک اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کی ایسی ہی حفاظت فرماتے ہیں جیسے مہربان چرواہا اپنی بکریوں کو ہلاکت کی چراگاہوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ (بیہقی عن حذیفۃ)
6698- إن الله تعالى يحمي عبده المؤمن، كما يحمي الراعي الشفيق غنمه مراتع الهلكة. "هب عن حذيفة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৯৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بیماری میں جزع و فرع کی ممانعت
٦٦٩٩۔۔۔ ہر لغزش، یا کسی رگ کا پھڑکنا ، یا کسی لکڑی کی خراش تمہارے ان اعمال کا نتیجہ ہیں جو تم نے آگے بھیجے، اور اللہ تعالیٰ جو چیز بخشتا ہے وہ زیادہ ہیں۔ (ابن عساکر عن البراء (رض))
6699- ما من عثرة ولا اختلاج عرق، ولا خدش عود إلا بما قدمت أيديكم، وما يغفر الله أكثر. "ابن عساكر عن البراء".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭০০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بیماری میں جزع و فرع کی ممانعت
٦٧٠٠۔۔۔ اے ابوبکر ! رہے تم اور مومن تو تمہیں دنیا میں اس کا بدلہ مل جائے گا یہاں تک کہ تم اللہ تعالیٰ سے ملو اور تمہارے ذمہ کوئی گناہ نہ ہو، رہے دوسرے لوگ تو ان کے لیے جمع کیا جا رہا ہے یہاں تک کہ قیامت کے روز انھیں بدلہ دیا جائے گا۔

(ترمذی عن ابی بکر، مربرقم، ٦٦٥٨)
6700- أما أنت يا أبا بكر والمؤمنون فتجزون بذلك في الدنيا،حتى تلقوا الله وليس لكم ذنوب، وأما الآخرون فيجمع ذلك لهم حتى يجزوا به يوم القيامة. "ت عن أبي بكر". مر برقم [6658]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭০১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بیماری میں جزع و فرع کی ممانعت
٦٧٠١۔۔۔ مومن کی ہمیشہ کی بیماری اس کے گناہوں کے لیے کفارہ ہے۔ (حاکم ، بیہقی عن ابوہریرہ (رض))
6701- وصب المؤمن كفارة لخطاياه. "ك هب عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭০২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٦٧٠٢۔۔۔ جب مومن بندہ بیمار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اعمال لکھنے والے دونوں فرشتوں سے فرماتے ہیں : میرے بندے کے لیے اس جیسا ثواب لکھو جیسا وہ اپنی صحت کا عمل کرتا تھا جب تک وہ میری (طرف سے) قید (مرض) میں ہے، پس اگر میں نے اس کی روح قبض کرلی تو بھلائی کی طرف اور اگر اسے عافیت دی تو میں اس کے لیے اس کے گوشت سے بہتر گوشت اور اس کے خون سے بہتر خون پیدا کردوں گا۔ (ھناد عن عطاء، مرسلاً )

تشریح :۔۔۔ یعنی تم لکھتے رہو یہ مجھے علم ہے کہ کب اسے عافیت دینی ہے اور کب تک مرض میں مبتلا رکھنا ہے اس واسطے لفظ شرط (ان) لائے۔
6702- إذا اشتكى العبد المؤمن قال الله تعالى لكاتبيه: اكتبا لعبدي هذا مثل ما كان يعمل في صحته، ما كان في حبسي، فإن قبضته إلى خير، وإن هو عافيته أبدله بلحم خير من لحمه وبدم خير من دمه. "هناد عن عطاء" مرسلا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭০৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٦٧٠٣۔۔۔ انسان بعض دفعہ نیک عمل کررہا ہوتا ہے تو کوئی بیماری یا سفر اسے اس عمل سے غافل کردیتا ہے تو اس کے لیے نیک عمل کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے جو وہ کرتا تھا جبکہ وہ تندرست اور اپنی جگہ پر ٹھہرا ہوا ہو۔ (ابو داؤد، حاکم عن ابی موسیٰ )
6703- إذا كان العبد يعمل عملا صالحا فشغله عنه مرض أو سفر كتب له كصالح ما كان يعمل وهو صحيح مقيم. "د ك عن أبي موسى".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭০৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٦٧٠٤۔۔۔ بندہ جب بیمار ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف دو فرشتے بھیجتے ہیں، اور فرماتے ہیں : دیکھو وہ اپنے بیمار پرسوں سے کیا کہتا ہے ، تو جب وہ فرشتے اس کے پاس جائیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کررہا ہو تو یہی بات اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ کو پہلے سے علم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے کے لیے یہ انعام ہے کہ اگر میں نے اسے موت دے دی تو اسے جنت میں داخل کروں گا، اور اگر اسے شفا دی تو اس کے خون کے بدلہ اچھا خون اور اس کے گوشت کے بدلہ اچھا لگا دوں گا، اور اس سے اس کی برائیں دور کردوں گا۔ (دار قطنی فی الغرائب وابن صخر فی عوالی مالک عن ابوہریرہ (رض))
6704- إذا مرض العبد بعث الله تعالى إليه ملكين فقال: انظروا ماذا يقول لعواده؟ فإن هو إذا دخلوا عليه حمد الله تعالى رفعوا ذلك إلى الله، وهو أعلم، فيقول لعبدي: إن أنا توفيته أن أدخله الجنة، وإن أنا شفيته أن أبدله لحما خيرا من لحمه، ودما خيرا من دمه،وأن أكفر عنه سيئآته. "قط في الغرائب وابن صخر في عوالي مالك عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭০৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٦٧٠٥۔۔۔ مریض کی آہ و پکار تسبیح (کا ثواب رکھتی) ہے، اور اس کا چیخنا لا الہ الا اللہ (کہنے کے برابر) ہے اور اس کا سانس لینا صدقہ (کرنے کے مترادف ) ہے اور بستر پر اس کا سونا عبادت (شمار ہوتا) ہے۔ اور اس کا ایک پہلو سے دوسرے پہلو پر کروٹ لینا ایسا ہے جیسے وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں دشمن سے قتال کررہا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے کے لیے اس سے افضل عمل لکھو جو وہ اپنی صحت میں کرتا تھا جب وہ اٹھ کر چلنے لگتا ہے تو ایسے (پاک صاف) ہوجاتا ہے جیسا کہ اس کے ذمہ کوئی گناہ تھا ہی نہیں۔ (خطیب والدیلمی عن ابوہریرہ (رض) ، قال رجالہ معروفون بالثقۃ الا حسین بن احمد البلخی فانہ مجھول)
6705- أنين المريض تسبيح، وصياحه تهليل، ونفسه صدقة ونومه على الفراش عبادة، وتقلبه من جنب إلى جنب، كأنما يقاتل العدو في سبيل الله، يقول الله تعالى: اكتبوا لعبدي أحسن ما كان يعمل في صحته، فإذا قام ومشى كان كمن لا ذنب له. "خط والديلمي عن أبي هريرة" وقالا رجاله معروفون بالثقة إلا حسين بن أحمد البلخي فإنه مجهول.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭০৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٦٧٠٦۔۔۔ مریض کی آہ و پکار لکھی جاتی ہے، پس اگر وہ صبر کرنے والا ہو تو اس کی آہ نیکیاں (بن جاتی) ہیں اور اگر اس کی آہ جزع فرع ہو اور وہ بےصبری کرے تو اس کے لیے کوئی اجر نہیں۔ (ابو نعیم عن علی)
6706- يكتب أنين المريض، فإن كان صابرا كان أنينه حسنات وإن كان أنينه جزعا كان هلوعا لا أجر له. "أبو نعيم عن علي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭০৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٦٧٠٧۔۔۔ اے حمیرا کیا تجھے معلوم نہیں کہ انھیں اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے، جس کی وجہ سے مریض راحت حاصل کرتا ہے۔ (الدیلمی عن عائشہ (رض))

تشریح :۔۔۔ حمیرا حضرت عائشہ (رض) کو لاڈ سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہا کرتے تھے کبھی عائش بھی فرماتے ، ام المومنین کا چہرہ انتہائی سرخ تھا۔
6707- يا حميراء أما شعرت أن الأنين اسم من أسماء الله يستريح إليه المريض. "الديلمي عن عائشة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭০৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٦٧٠٨۔۔۔ جب بندے کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتے ہیں : میرے بندے کے لیے وہ عمل لکھو جو وہ آزادی سے کرتا تھا ، یہاں تک کہ میرے علم کے مطابق یہ بات ظاہر ہوجائے کہ اسے موت دینی ہے یا اسے (بیماری سے) آزاد کرنا ہے۔ (طبرانی عن ابن عمر)

اللہ تعالیٰ کا علم، فضل سے مقدم ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ فلاں شخص گر کر مرے گا، مگر اس کے اسباب اللہ تعالیٰ نے بعد ظاہر فرمائے تو یہاں بھی یہی مراد ہے۔
6708- إن العبد إذا اشتكى يقول الله لملائكته: اكتبوا لعبدي ما كان يعمل عملا طلقا حتى يبدو لي أقبضه أم أطلقه. "طب عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৭০৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بیماری کی وجہ سے جو عمل چھوٹ جائے اس پر اجر ملتا رہتا ہے
٦٧٠٩۔۔۔ انسان جب اچھے طریقے سے عبادت کرے، اور پھر بیمار پڑجائے تو جو فرشتہ اس پر مقرر ہوتا ہے اسے کہا جاتا ہے : اس کے لیے ایسا ہی عمل لکھو جیسا وہ صحت کی حالت میں کرتا تھا، یہاں تک کہ میں اسے عافیت بخشوں یا اپنی طرف سمیٹ لوں۔ (بخاری مسلم عن ابن عمر)
6709- إن العبد إذا كان على طريقة حسنة من العبادة، ثم مرض قيل للموكل: اكتب له مثل عمله إذا كان طلقا حتى أطلقه أو أكفته إلي. "ق عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক: