কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৮০৩ টি
হাদীস নং: ৬৭১০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بیماری کی وجہ سے جو عمل چھوٹ جائے اس پر اجر ملتا رہتا ہے
٦٧١٠۔۔۔ بندہ جب بیمار ہوتا ہے تو اس کا دل نرم پڑجاتا ہے، تو وہ اپنے گناہوں کو یاد کرتا ہے، یوں اس کی آنکھوں سے مکھی برابر آنسو کے قطرے گرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اسے گناہوں سے پاک کردیتے ہیں پس اگر اسے بیماری سے صحتیاب کرکے اٹھانا ہوا تو پاک اٹھائیں گے، اور اگر اس کی روح قبض کرنی ہوئی تو پاک صاف حالت میں قبض کریں گے۔ (حاکم فی تاریخہ والدیلمی عن انس
6710- إن العبد ليمرض فيرق قلبه، فيذكر ذنوبه، فيقطر من عينيه مثل الذباب من الدموع، فيطهره الله من ذنوبه، فإن بعثه بعثه مطهرا، وإن قبضه قبضه مطهرا. "ك في تاريخه والديلمي عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭১১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بیماری کی وجہ سے جو عمل چھوٹ جائے اس پر اجر ملتا رہتا ہے
٦٧١١۔۔۔ مومن جب بیمار ہوتا ہے (تو اگر) اسے بیماری میں اجر نہ ملے لیکن اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔ (طبرانی عن ابی الدرداء (رض))
6711- إن المؤمن إذا مرض لم يؤجر في مرضه، ولكن يكفر عنه. "طب عن أبي الدرداء".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭১২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بیماری کی وجہ سے جو عمل چھوٹ جائے اس پر اجر ملتا رہتا ہے
٦٧١٢۔۔۔ جب مسلمان بیمار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کی طرف پیام بھیجتے ہیں، اور فرماتے ہیں : اے میرے فرشتو ! میں نے ہی اپنے بندے کو اپنی بیڑیوں میں سے ایک بیڑی میں جکڑا ہے، تو اگر میں نے اس کی روح قبض کرلی تو میں اس کی بخشش کردوں گا اور اگر اسے عافیت دی تو اس وقت بھی یہ بخشا ہوا ہے اس کے ذمہ کوئی گناہ نہیں۔ (طبرانی عن ابی امامۃ)
6712- إن المسلم إذا مرض أوحى الله تعالى إلى ملائكته فيقول: يا ملائكتي أنا قيدت عبدي بقيد من قيودي، فإن قبضته أغفر له، وإن عافيته فحينئذ مغفور له لا ذنب له. "طب عن أبي أمامة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭১৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بیماری کی وجہ سے جو عمل چھوٹ جائے اس پر اجر ملتا رہتا ہے
٦٧١٣۔۔۔ اسے باہر نکال دو ، جو کسی جہنم والے کو دیکھنا چاہے وہ اس شخص کو دیکھ لے (سمویہ عن انس) کہ ایک اعرابی آکر کہنے لگا، یا رسول اللہ ! مجھے نہ سر میں درد ہوا اور نہ کبھی کوئی اور تکلیف پہنچی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ ارشاد فرمایا۔ اس طرح کے نادر واقعات ہوئے۔
6713- أخرجوه، من سره أن ينظر إلى رجل من أهل النار فلينظر إلى هذا. سمويه عن أنس أن أعرابيا قال يا رسول الله: ما صدعت قط ولا وجعت قال فذكره.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭১৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بیماری کی وجہ سے جو عمل چھوٹ جائے اس پر اجر ملتا رہتا ہے
٦٧١٤۔۔۔ جو کسی دوزخی کو دیکھنا چاہے وہ اس شخص کو دیکھ لے۔ (حاکم عن ابوہریرہ (رض) )
تشریح :۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک اعرابی سے فرمایا : کیا تجھے کبھی بخار ہوا ہے ؟ وہ کہنے لگا بخار کیا ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : وہ گرمی جو گوشت اور کھال کے مابین ہوتی ہے اس نے کہا : میں نے تو ایسی کیفیت نہ کبھی پائی اور نہ مجھے کبھی کوئی بیماری لگی، آپ نے فرمایا : کبھی سردرد ہوا ؟ اس نے کہا سردرد کیا ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ایک رگ ہے جو انسان کے سر میں اس پر ماری جاتی ہے، اس نے کہا : میں نے کبھی یہ کیفیت بھی نہیں پائی، راوی کا بیان ہے پھر آپ نے یہ بات ذکر کی۔
تشریح :۔۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک اعرابی سے فرمایا : کیا تجھے کبھی بخار ہوا ہے ؟ وہ کہنے لگا بخار کیا ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : وہ گرمی جو گوشت اور کھال کے مابین ہوتی ہے اس نے کہا : میں نے تو ایسی کیفیت نہ کبھی پائی اور نہ مجھے کبھی کوئی بیماری لگی، آپ نے فرمایا : کبھی سردرد ہوا ؟ اس نے کہا سردرد کیا ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ایک رگ ہے جو انسان کے سر میں اس پر ماری جاتی ہے، اس نے کہا : میں نے کبھی یہ کیفیت بھی نہیں پائی، راوی کا بیان ہے پھر آپ نے یہ بات ذکر کی۔
6714- من سره أن ينظر إلى رجل من أهل النار فلينظر إلى هذا. "ك عن أبي هريرة" أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لأعرابي: هل أخذتك أم ملدم قط؟ قال: وما أم ملدم؟ قال: حر بين اللحم والجلد، قال: ما وجدت هذا قط ولا وصبت، قال: فهل أخذك الصداع؟ قال: وما الصداع؟ قال عرق يضرب على الإنسان في رأسه، قال: ما وجدت هذا قط، قال فذكره.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭১৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بیماری کی وجہ سے جو عمل چھوٹ جائے اس پر اجر ملتا رہتا ہے
٦٧١٥۔۔۔ کیا تجھے کبھی بخار ہوا ؟ وہ شخص بوالا : بخار کیا ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ایک گرمی ہے جو کھال اور گوشت کے درمیان ہوتی ہے، اس نے کہا : نہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تجھے سردرد ہوا ؟ وہ بولا : سردرد کیا ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ایک رگ ہے جو انسان کے سر میں اس پر ماری جاتی ہے، وہ بولا ، نہیں، آپ نے فرمایا : جو کسی جہنمی کو دیکھنا چاہے وہ اس
شخص کو دیکھ لے۔ (مسند احمد و ھناد عن ابوہریرہ (رض))
شخص کو دیکھ لے۔ (مسند احمد و ھناد عن ابوہریرہ (رض))
6715- هل أخذتك أم ملدم قط؟ قال: وما أم ملدم؟ قال: حر يكون بين الجلد واللحم، قال لا، قال: فهل أخذك هذا الصداع؟ قال: وما الصداع؟ قال: عرق يضرب على الإنسان في رأسه، قال: لا، قال من أحب أن ينظر إلى رجل من أهل النار فلينظر إلى هذا. "حم وهناد عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭১৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بیماری کی وجہ سے جو عمل چھوٹ جائے اس پر اجر ملتا رہتا ہے
٦٧١٦۔۔۔ اگر تم چاہو تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں تو وہ تمہیں صحت عطا فرما دیں گے، اور اگر چاہو تو صبر کرو، تو تمہارا نہ کوئی حساب اور نہ تمہیں کوئی عذاب ہے۔ (مسند احمد، ابن حبان، حاکم عن ابوہریرہ (رض))
6716- إن شئت دعوت الله فبرأك الله، وإن شئت فاصبري، فلا حساب عليك ولا عذاب. "حم حب ك عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭১৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بیماری کی وجہ سے جو عمل چھوٹ جائے اس پر اجر ملتا رہتا ہے
٦٧١٧۔۔۔ مجھے مومن پر اور بیماری کی وجہ سے اس کے جزع فزع کرنے پر تعجب ہوتا ہے، اگر اسے معلوم ہوجائے کہ اس کے لیے بیماری کیا اجر ہے تو وہ یہ بات پسند کرے گا کہ اپنے رب کو ملنے تک بیماری رہے۔ (ابو داؤد طیالسی وابن النجار عن ابن مسعود)
6717- عجبت للمؤمن وجزعه من السقم، لو كان يعلم ما له في السقم لأحب أن يكون سقيما حتى يلقى ربه عز وجل. "ط وابن النجار عن ابن مسعود"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭১৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بیماری کی وجہ سے جو عمل چھوٹ جائے اس پر اجر ملتا رہتا ہے
٦٧١٨۔۔۔ کیا تمہیں معلوم ہے کہ مومن پر بیماری میں جو سختی ہوتی ہے اس کی وجہ سے اس کی برائیاں جھڑ جاتی ہیں۔ (ھناد عن بعض امھات المؤمنین)
6718- ألا تعلمين أن المؤمن يشدد عليه في وجعه ليحط عنه من خطاياه؟ "هناد عن بعض أمهات المؤمنين".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭১৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بیماری کی وجہ سے جو عمل چھوٹ جائے اس پر اجر ملتا رہتا ہے
٦٧١٩۔۔۔ کیا تمہیں اس بات سے خوشی ہوتی ہے کہ تم صحتمند رہو اور بیمار نہ پڑو ؟ کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ حملہ آور گدھوں جیسے ہوجاؤ اور یہ پسند نہیں کرتے کہ مصیبت والے لوگ اور کفارے والے بنو ؟ بیشک بندے کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک مقام ہوتا ہے، جسے وہ عمل کے ذریعہ حاصل نہیں کرسکتا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے آزمائش میں مبتلا کردیتا ہے یوں وہ اس منزل اور مقام کو حاصل کرلیتا ہے۔ (رویانی وابن مندہ ابو نعیم عن عبداللہ بن ایاس بن ابی فاطمۃ عن ابیہ عن جدہ)
6719- أيسركم أن تصحوا ولا تسقموا؟ تحبون أن تكونوا كالحمر الصيالة؟ وما تحبون أن تكونوا أصحاب بلاء وكفارات؟ إن العبد لتكون له المنزلة عند الله، لا يبلغها بشيء من عمله، حتى يبتليه الله ببلاء فيبلغه تلك المنزلة. "الرويأني وابن منده وأبو نعيم عن عبد الله بن إياس بن أبي فاطمة عن أبيه عن جده".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭২০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بیماری کی وجہ سے جو عمل چھوٹ جائے اس پر اجر ملتا رہتا ہے
٦٧٢٠۔۔۔ تم میں سے کون یہ چاہتا ہے کہ وہ صحتمند رہے اور بیمار نہ پڑے ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم سب یہ چاہتے ہیں، آپ نے فرمایا : کیا تم یہ چاہتے ہو کہ حملہ آور گدھوں جیسے بن جاؤ ؟ کیا تم مصیبت آزمائش اور کفارات والے لوگ نہیں بننا چاہتے ؟ اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے بیشک اللہ تعالیٰ مومن کو آزمائش میں مبتلا کرتا ہے اور مبتلا کرتا ہے اور مبتلا بھی اس کی اپنے ہاں عزت و کرامت کی وجہ سے کرتا ہے۔ اور ایک روایت میں ہے (مؤمن) بندے کا جنت میں ایک درجہ ہوتا ہے جسے وہ اعمال کے ذریعہ حاصل نہیں کرسکتا تو اللہ تعالیٰ اسے مصیبت میں مبتلا کردیتا ہے یوں وہ اس درجہ تک پہنچ جاتا ہے جسے وہ عمل کے ذریعہ حاصل نہ کر سک رہا تھا۔ (طبرانی فی الکبیر والبغوی وابو نعیم بیہقی فی شعب الایمان عن ابی فاطمہ الضمری)
6720- أيكم يحب أن يصح فلا يسقم؟ قالوا: كلنا يا رسول الله قال: أتحبون أن تكونوا كالحمير الصيالة؟ ألا تحبون أن تكونوا أصحاب بلاء، وأصحاب كفارات؟ والذي نفسي بيده إن الله ليبتلي المؤمن بالبلاء، وما يبتليه به إلا لكرامته عليه، وفي لفظ: إن العبد لتكون له الدرجة في الجنة فما يبلغها بشيء من عمله، فيبتليه الله بالبلاء ليبلغ تلك الدرجة، وما يبلغها بشيء من عمله. "طب والبغوي وأبو نعيم هب عن أبي فاطمة الضمري".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭২১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بیماری کی وجہ سے جو عمل چھوٹ جائے اس پر اجر ملتا رہتا ہے
٦٧٢١۔۔۔ کون صحت مند چاہتا ہے کہ بیمار نہ ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : ہم (سب چاہتے ہیں) آپ نے فرمایا : کیا تم لوگ اچھلنے والے گدھوں جیسا ہونا چاہتے ہو ؟ کیا تم مصیبت اور کفارات والے لوگ نہیں بننا چاہتے ؟ اللہ تعالیٰ کی قسم ! اللہ تعالیٰ مومن کو مصیبت میں مبتلا کردیتا ہے کیونکہ مومن کی اللہ تعالیٰ کے ہاں قدرومنزلت ہے مومن کا اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک درجہ ہوتا ہے جسے وہ عمل کے ذریعہ حاصل نہیں کرسکتا چنانچہ مصیبت میں مبتلا ہوئے بغیر وہ اس درجہ میں نہیں پہنچ سکتا۔ (ابن سعد عن عبداللہ بن ایاس بن ابی فاطمہ عن ابیہ عن جدہ)
6721- من أحب أن يصح ولا يسقم؟ قالوا، نحن، قال: أتحبون أن تكونوا كالحمير الصيالة، ألا تحبون أن تكونوا أصحاب بلاء وأصحاب كفارات؟ فوالله إن الله ليبتلي المؤمن، وما يبتليه إلا لكرامته عليه، وإن له عنده منزلة ما يبلغها بشيء من عمله دون أن ينزل به من البلاء ما يبلغ به تلك المنزلة. "ابن سعد عن عبد الله بن إياس بن أبي فاطمة عن أبيه عن جده".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭২২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بیماری کی وجہ سے جو عمل چھوٹ جائے اس پر اجر ملتا رہتا ہے
٦٧٢٢۔۔۔ اگر انسان کے لیے صرف صحت اور سلامتی ہوتی تو ہلاک کرنے والی بیماری کے طور پر کافی ہوتیں۔ (ابن عساکر، ابن ماجہ عن ابن عباس)
6722- لو لم يكن لابن آدم إلا الصحة والسلامة لكفاه بهما داء قاتلا. "كر هـ عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭২৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بیماری کی وجہ سے جو عمل چھوٹ جائے اس پر اجر ملتا رہتا ہے
٦٧٢٣۔۔۔ اللہ تعالیٰ جس مسلمان کو جسم کی کسی تکلیف میں مبتلا کرتے ہیں تو حفاظت (اعمال) کے ان فرشتوں سے فرماتے ہیں جو لکھتے ہیں : میرے بندے کے ہر رات دن میں بھلائی کے وہ کام لکھو جو وہ صحت اور سلامتی کی حالت میں کیا کرتا تھا، جب تک وہ میری (طرف سے بیماری کی) رسیوں میں گرفتار ہے۔ (مسند احمد، دار قطنی فی الافراد، طبرانی ، الحلیۃ عن ابن عمرو)
6723- ما من أحد من المسلمين يصاب ببلاء في جسده إلا أمر الله الحفظة الذين يكتبون فقال: اكتبوا لعبدي هذا في كل يوم وليلة ما كان يعمل في الصحة من الخير، ما دام محبوسا في وثاقي. "حم قط في الأفراد طب حل عن ابن عمرو".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭২৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بیماری کی وجہ سے جو عمل چھوٹ جائے اس پر اجر ملتا رہتا ہے
٦٧٢٤۔۔۔ جس مسلمان کو جسم میں کوئی تکلیف پہنچے، تو اللہ تعالیٰ ان فرشتوں کو فرماتے ہیں جو اس بیماری میں اس بندے کی حفاظت کرتے ہیں : میرے بندے کے لیے ہر رات دن میں بھلائی کا وہ کام لکھو جو وہ کرتا تھا جب تک وہ میری رسیوں میں گرفتار ہے۔ (ھناد عن ابن عمرو)
6724- ما من أحد من المسلمين يصاب ببلاء في جسده إلا أمر الله تعالى الحافظين اللذين يحفظانه فيه، قال: اكتبا لعبدي في كل يوم وليلة مثل ما كان يعمل من الخير، ما دام في وثاقي. "هناد عن ابن عمرو".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭২৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بیماری کی وجہ سے جو عمل چھوٹ جائے اس پر اجر ملتا رہتا ہے
٦٧٢٥۔۔۔ جو مسلمان کافر عرصہ کسی ایسی بیماری میں مبتلا رہے جو اسے ایسے (نیکی کے) کاموں سے روک دے جن تک صحت مندوں کی رسائی ہے، بیمار ہونے کے بعد تو وہ بیماری اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے اور اس کے بعد اس کا عمل زائد ہوتا ہے۔ (الحسن بن سفیان عن عبداللہ بن سرۃ)
تشریح :۔۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے زائد ثواب ملتا رہتا ہے اگرچہ وہ عمل نہیں کرسکتا۔
تشریح :۔۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے زائد ثواب ملتا رہتا ہے اگرچہ وہ عمل نہیں کرسکتا۔
6725- ما من عبد تصيبه زمانة تمنعه مما يصل إليه الأصحاء بعد أن يكون مسددا إلا كانت كفارة لذنوبه، وكان عمله بعد تفضلا. "الحسن بن سفيان عن عبد الله بن سبرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭২৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بیماری کی وجہ سے جو عمل چھوٹ جائے اس پر اجر ملتا رہتا ہے
٦٧٢٦۔۔۔ ہر روز کے عمل پر مہر لگا جاتی ہے جب بندے اور عمل کے درمیان کوئی رکاوٹ آجاتی ہے تو حفاظت (اعمال) کے فرشتے عرض کرتے ہیں : اے ہمارے رب ! آپ کے بندے نے عمل کیا : اس سے پہلے کے اس کے درمیان اور اس کے عمل کے مابین رکاوٹ پیدا ہو اور آپ کو بخوبی علم ہے۔ (حاکم عن عقبۃ بن عامر)
6726- ما من عمل يوم إلا وهو يختم عليه، فإذا حيل بين العبد وبين العمل قالت الحفظة: ربنا عمل عبدك قبل أن يحال بينه وبين العمل وأنت أعلم به. "ك عن عقبة بن عامر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭২৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بیماری کی وجہ سے جو عمل چھوٹ جائے اس پر اجر ملتا رہتا ہے
٦٧٢٧۔۔۔ جو مسافر بیمار پڑجائے اور اپنی آنکھ سے (لوگوں کو) دیکھے تو جس اجنبی پر بھی اس کی نظر پڑتی ہے تو اللہ تعالیٰ ہر اس سانس کے بدلہ جو سانس وہ لیتا ہے ستر ہزار نیکیاں لکھتے اور ستر ہزار (چھوٹے) گناہ اس (کے نامہ اعمال) سے مٹا دیتے ہیں۔ (الدیلمی عن ابن عباس)
تشریح :۔۔۔ کبیرہ گناہ صرف سچی توبہ سے ہی معاف ہوتے ہیں۔
تشریح :۔۔۔ کبیرہ گناہ صرف سچی توبہ سے ہی معاف ہوتے ہیں۔
6727- ما من غريب يمرض فيرمي ببصره، فلا يقع على من يعرفه إلا كتب الله له بكل نفس تنفس به سبعين ألف حسنة ويمحو عنه سبعين ألف سيئة. "الديلمي عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭২৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بیماری کی وجہ سے جو عمل چھوٹ جائے اس پر اجر ملتا رہتا ہے
٦٧٢٨۔۔۔ جو مومن مرد اور عورت اور مسلمان مرد اور عورت کسی بیماری میں مبتلا ہو تو اللہ تعالیٰ اس بیماری کی وجہ سے اس کی برائیوں کو کم کردیتے ہیں۔ (ابو داؤد طیالسی مسند احمد، بخاری فی الادب ، ابن حبان، سعید بن منصور عن جابر)
6728- ما من مؤمن ولا مؤمنة، ولا مسلم ولا مسلمة، يمرض مرضا إلا حط الله عز وجل بها عنه من خطاياه. "ط حم خ في الأدب حب ص عن جابر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৭২৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بیماری کی وجہ سے جو عمل چھوٹ جائے اس پر اجر ملتا رہتا ہے
٦٧٢٩۔۔۔ جو مسلمان کسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سابقہ (صغیرہ) گناہ معاف کردیتے ہیں اور صحت کی حالت میں جو وہ عمل کرتا تھا اس کا ثواب لکھ دیتے ہیں۔ (ابن النجار عن ابی سعید)
6729- ما من مؤمن يصيبه مرض إلا غفر الله له به ما تقدم من ذنبه، وكتب له أجر ما كان يعمل وهو صحيح. "ابن النجار عن أبي سعيد".
তাহকীক: