কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৮০৩ টি
হাদীস নং: ৬৮১০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مسلمان کو کانٹا چبھنے پر ابھی اجر ملتا ہے
٦٨١٠۔۔۔ وہ مومن کامل ایمان والا نہیں جو آزمائش کو نعمت اور آسائش کو مصیبت نہ سمجھے۔ (طبرانی عن ابن عباس)
6810- ليس بمؤمن مستكمل الإيمان من لم يعد البلاء نعمة والرخاء مصيبة. "طب عن ابن عباس."
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮১১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مسلمان کو کانٹا چبھنے پر ابھی اجر ملتا ہے
٦٨١١۔۔۔ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو محبوب رکھتے ہیں تو اس پر بےدر پے مصائب ڈالتے ہیں جیسے پانی بہایا جاتا ہے۔ (طبرانی عن انس)
6811- إذا أحب الله عبدا صب عليه البلاء صبا، وثجه ثجا. "طب عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮১২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مسلمان کو کانٹا چبھنے پر ابھی اجر ملتا ہے
٦٨١٢۔۔۔ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو پسند کرتے ہیں تو انھیں آزماتے ہیں ، تو جس نے صبر کیا اس کے لیے صبر (کا بدلہ) ہے اور جس نے بےصبری کی اس کے لیے بےصبری (کی سزا ) ہے۔ (بیہقی عن محمود بن لبید)
6812- إذا أحب الله قوما ابتلاهم، فمن صبر فله الصبر، ومن جزع فله الجزع. "هب عن محمود بن لبيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮১৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مسلمان کو کانٹا چبھنے پر ابھی اجر ملتا ہے
٦٨١٣۔۔۔ بندہ جب احسان کا درجہ پالیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ آزمائش لگا دیتے ہیں اللہ تعالیٰ اسے برگزیدہ کرنا چاہتے ہیں۔ (ابن حبان ، ھناد عن سعید بن المسیب، مرسلاً )
6813- إذا أحسن العبد فألصق الله به البلاء، فإن الله عز وجل يريد أن يصافيه. "حب هناد هب عن سعيد بن المسيب" مرسلا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮১৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مسلمان کو کانٹا چبھنے پر ابھی اجر ملتا ہے
٦٨١٤۔۔۔ قیامت کے روز مصیبت زدہ لوگوں کو لایا جائے گا، تو ان کے لیے نامہ اعمال کھولے جائیں گے اور نہ (اعمال کے) ترازو لگائے جائیں گے، اور نہ پل صراط رکھا جائے گا، ان پر اجر پانی کی طرح بہایا جائے گا۔ (ابن النجار عن عمر)
تشریح :۔۔۔ یہ وہی لوگ ہوں گے جو بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے۔
تشریح :۔۔۔ یہ وہی لوگ ہوں گے جو بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے۔
6814- إذا كان يوم القيامة جيء بأهل البلاء، فلا ينشر لهم ديوان ولا ينصب لهم ميزان، ولا يوضع لهم صراط، ويصب عليهم الأجر صبا. "ابن النجار عن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮১৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مصیبت رفع درجات کا سبب ہے
٦٨١٥۔۔۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں جب کسی بندے کا کوئی درجہ ہوتا ہے، جسے وہ حاصل نہیں کرسکتا تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا میں مبتلا کردیتے ہیں پھر اسے آزمائش پر صبر کرنے کی توفیق دیتے ہیں تاکہ وہ اس درجہ کو پہنچ جائے۔ (ابن شاہین عن محمد بن خالد بن یزید ابن جاریۃ عن ابیہ عن جدہ)
6815- إذا كان للعبد عند الله درجة، لم ينله إياها ابتلاه في الدنيا ثم صبره على البلاء لينيله تلك الدرجة. "ابن شاهين عن محمد بن خالد بن يزيد بن جارية عن أبيه عن جده".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮১৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مصیبت رفع درجات کا سبب ہے
٦٨١٦۔۔۔ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو پسند کرتے ہیں تو اسے آزماتے ہیں تاکہ اس کی آواز سنیں۔ (بیہقی عن ابوہریرہ (رض)
6816- إن الله إذا أحب عبدا ابتلاه ليسمع صوته. "هب عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮১৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مصیبت رفع درجات کا سبب ہے
٦٨١٧۔۔۔ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو پسند کرتے ہیں تو انھیں آزماتے ہیں۔ (بیہقی عن الحسن ، مرسلاً )
6817- إن الله إذا أحب قوما ابتلاهم. "هب عن الحسن" مرسلا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮১৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مصیبت رفع درجات کا سبب ہے
٦٨١٨۔۔۔ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کی مصیبت کے ذریعہ ایسے حفاظت فرماتے ہیں جیسے والد بھلائی کے ذریعہ اپنی اولاد کی حفاظت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کو دنیا سے ایسے بچاتے ہیں جیسے مریض کو اس کے گھر والے (ناموافق) کھانے سے بچاتے ہیں۔ (الرویانی وابو الشیخ فی الثواب والحسن بن سفیان، ابن عساکر وابن النجار عن حذیفۃ)
6818- إن الله ليتعاهد عبده المؤمن بالبلاء، كما يتعاهد الوالد ولده بالخير، وإن الله ليحمي عبده المؤمن من الدنيا، كما يحمي المريض أهله الطعام. "الروياني وأبو الشيخ في الثواب والحسن بن سفيان كر وابن النجار عن حذيفة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮১৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مصیبت رفع درجات کا سبب ہے
٦٨١٩۔۔۔ اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کو مصیبت کے ذریعہ آزماتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کو علم ہوتا ہے جیسے تم میں سے کوئی سونے کا تجربہ اسے آگ میں ڈال کر کرتا ہے، تو ان میں سے کوئی تو خالص سونے کی طرح نکلتا ہے اور یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ شبہات سے محفوظ رکھے، اور کوئی سونے سے کم درجہ ہو کر نکلتے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو کچھ کچھ شک کرتے تھے، اور بعض کالے سونے کی طرح نکلتے ہیں، اور یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو فتنہ میں مبتلا کیے گئے ۔ (طبرانی فی الکبیر، حاکم و تعقب عن ابی امامہ)
6819- إن الله تعالى ليجرب أحدكم بالبلاء، وهو أعلم به كما يجرب أحدكم ذهبه بالنار، فمنهم من يخرج كالذهب الإبريز، فذاك الذي حماه الله من الشبهات، ومنهم من يخرج كالذهب دون ذاك، فذاك الذي يشك بعض الشك، ومنهم من يخرج كالذهب الأسود، فذاك الذي قد افتتن. "طب ك وتعقب عن أبي أمامة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮২০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مصیبت رفع درجات کا سبب ہے
٦٨٢٠۔۔۔ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کو بیماری کے ذریعہ آزماتے ہیں یہاں تک کہ اسے ہر گناہ سے ہلکا پھلکا کردیتے ہیں۔ (حاکم وتمام وابن عساکر عن ابوہریرہ (رض))
6820- إن الله ليبتلي عبده المؤمن بالسقم، حتى يخفف عنه كل ذنب. "ك وتمام وابن عساكر عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮২১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مصیبت رفع درجات کا سبب ہے
٦٨٢١۔۔۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتے ہیں : میرے بندے کے پاس جاؤ، اس پر مصیبت ڈال دو ، چنانچہ وہ اس کے پاس آتے ہیں ، اور اس پر مصیبت ڈالتے ہیں، اور وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتا ہے فرشتے واپس لوٹ جاتے ہیں ، اور کہتے ہیں : اے ہمارے پروردگار ہم نے حسب ارشاد اس پر مصیبت ڈال دی تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : لوٹ جاؤ، مجھے اس کی آواز سننا زیادہ اچھا لگتا ہے۔ (طبرانی ، بیہقی عن ابی امامۃ)
6821- إن الله تعالى يقول الملائكة: انطلقوا إلى عبدي فصبوا عليه البلاء، فيأتونه، فيصبون عليه البلاء، فيحمد الله فيرجعون، فيقولون: ربنا صببنا عليه البلاء صبا كما أمرتنا، فيقول: ارجعوا فإني أحب أن أسمع صوته. "طب هب عن أبي أمامة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮২২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مصیبت رفع درجات کا سبب ہے
٦٨٢٢۔۔۔ کسی آدمی کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک درجہ ہوتا ہے ، جسے وہ عمل سے حاصل نہیں کرسکتا، یہاں تک کہ اسے جسمانی مصیبت میں مبتلا کیا جاتا ہے ، چنانچہ اس کے ذریعہ وہ اس درجہ کو حاصل کرلیتا ہے۔ (ھناد عن ابن مسعود)
6822- إن الرجل لتكون له درجة عند الله، فما يبلغها بعمله، حتى يبتلى ببلاء في جسده، فيبلغها بذلك البلاء. "هناد عن ابن مسعود".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮২৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مصیبت رفع درجات کا سبب ہے
٦٨٢٣۔۔۔ جتنی بڑی مصیبت ہوتی ہے اتنا بڑا اجر ہوتا ہے اور صبر تو پہلی مصیبت کے وقت کا ہی ہوتا ہے، اور اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو ناپسند کرتا ہے تو انھیں آزماتا ہے ، جو راضی رہا اس کے لیے رضائے الٰہی ہے اور جو ناراض ہوا اس کے لیے ناراضگی ہے۔ (ترمذی، حسن غریب، ابن ماجہ وابن جریر عن انس، مربرقم، ٦٨٠٢)
6823- إن عظم الجزاء مع عظم البلاء، والصبر عند الصدمة الأولى وإن الله إذا أحب قوما ابتلاهم، فمن رضي فله الرضا، ومن سخط فله السخط. "ت حسن غريب هـ هب وابن جرير عن أنس". مر برقم [6802] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮২৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مصیبت رفع درجات کا سبب ہے
٦٨٢٤۔۔۔ جنت میں ایک درخت ہے جسے شجرۃ البلوی (مصیبت کا درخت) کہا جاتا ہے قیامت کے روز مصیبت زدہ لوگوں کو لایا جائے گا، ان کے لیے نامہ اعمال بلند کیا جائے گا نہ ترازو نصب کیا جائے گا ان پر پانی کی طرح اجر بہایا جائے گا، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی :۔۔ ترجمہ :۔۔۔ صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بغیر حساب کے عطا کیا جائے گا۔ (طبرانی عن السید الحسن)
6824- إن في الجنة شجرة يقال لها شجرة البلوى، يؤتى بأهل البلاء يوم القيامة، فلا يرفع لهم ديوان، ولا ينصب لهم ميزان، يصب عليهم الأجر صبا، وقرأ: {إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ} . "طب عن السيد الحسن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮২৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مصیبت رفع درجات کا سبب ہے
٦٨٢٥۔۔۔ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو بھلائی پہنچانا چاہتے ہیں، تو اس کے گناہ کی دنیا میں جلدی کرتے ہیں اور جب کسی بندے کو برائی میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں تو اس کے گناہ کی وجہ سے (اس کی سزا) روک دیتے ہیں، یہاں تک کہ قیامت کے روز اسے اس کا بدلہ دیں گے ، گویا کہ وہ بوجھل گدھا ہے۔
6825- إن الله عز وجل إذا أراد بعبد خيرا عجل ذنبه في الدنيا، وإذا أراد بعبد شرا أمسك عليه بذنبه، حتى يوافيه يوم القيامة كأنه عير. "ك عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮২৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مصیبت رفع درجات کا سبب ہے
٦٨٢٦۔۔۔ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کی ایسی حفاظت فرماتے ہیں جیسے مہربان چرواہا اپنی بکریوں کو ہلاکت کی جگہوں سے بچاتا ہے۔ (ابو الشیخ فی الثواب عن حذیفۃ)
6826- إن الله تعالى ليحمي عبده المؤمن كما يحمي الراعي الشفيق غنمه عن مواقع الهلكة. "أبو الشيخ في الثواب عن حذيفة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮২৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اعمال نامہ لکھنے والے فرشتوں کی گواہی
٦٨٢٧۔۔۔ جب تم عصر کی نماز پڑھ لیتے ہو تو تمہارے پاس رات دن کے فرشتے جمع ہوجاتے ہیں اور جب نماز ادا کر چکتے ہو تو دن کے فرشتے (آسمان کی طرف) پرواز کر جاتے ہیں، اور رات کے فرشتے ٹھہر جاتے ہیں، اور جب تم فجر پڑھتے ہو تو پھر تمہارے پاس اسی طرح جمع ہوجاتے ہیں، جو نہی تم نماز ادا کر چکتے ہو تو رات کے فرشتے پرواز کر جاتے ہیں اور دن کے فرشتے ٹھہر جاتے ہیں۔ وہ جب اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ باوجود جاننے کے ان سے پوچھتے ہیں فرماتے ہیں : میرے بندوں کو تم نے کیسے چھوڑا ؟ وہ عرض کرتے ہیں : ہم ان کے پاس گئے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اور جب انھیں چھوڑ کر آئے تب بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے : انھیں میں آپ کا ایک بندہ تھا معلوم ہوتا ہے کہ اسے کبھی آپ کے سوا کوئی بھلائی نہیں پہنچی اور نہ کبھی اس سے کوئی برائی دور ہوئی مگر آپ ہی کی وجہ سے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے کے اجر میں اضافہ کردو، پھر اللہ تعالیٰ ان سے اس کے بارے میں پوچھتے ہیں ؟ تو وہ اسی طرح عرض کرتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے کے اجر میں اضافہ کرو، وہ عرض کرتے ہیں، اے ہمارے رب اضافہ بھی انتہا کو پہنچ گیا۔
تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے کو ڈراؤ، چنانچہ وہ اس کا اجر کم کرتے ہیں پھر وہ مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں فرشتوں سے پوچھتے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں مصیبت کے وقت تم نے میرے بندے کو کیسا پایا ؟ تو وہ عرض کرتے ہیں، اے ہمارے رب ! خوشحالی میں آپ کا سب سے شکر گزار بندہ، اور مصیبت کے وقت سب سے زیادہ صابر، تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : اسے ان لوگوں میں لکھ دو جو نہ تبدیل ہوں گے اور بدلیں گے یہاں تک کہ مجھ سے ملاقات کریں۔ (ھناد عن عبد الرحمن بن ابی لیلی، حدثنا فلان عن فلان)
تشریح :۔۔۔ معلوم ہوا جو عصر اور فجر کی اتنی تاکید ہے وہ واقعی ہمارے حق میں بہتر ہے تاکہ رب تعالیٰ کے حضور ہمارا نام تو ان لوگوں میں لیا جائے جو عبادت کرنے والے ہیں اگرچہ اللہ تعالیٰ کو سب کا علم ہے۔
تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے بندے کو ڈراؤ، چنانچہ وہ اس کا اجر کم کرتے ہیں پھر وہ مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں فرشتوں سے پوچھتے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں مصیبت کے وقت تم نے میرے بندے کو کیسا پایا ؟ تو وہ عرض کرتے ہیں، اے ہمارے رب ! خوشحالی میں آپ کا سب سے شکر گزار بندہ، اور مصیبت کے وقت سب سے زیادہ صابر، تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : اسے ان لوگوں میں لکھ دو جو نہ تبدیل ہوں گے اور بدلیں گے یہاں تک کہ مجھ سے ملاقات کریں۔ (ھناد عن عبد الرحمن بن ابی لیلی، حدثنا فلان عن فلان)
تشریح :۔۔۔ معلوم ہوا جو عصر اور فجر کی اتنی تاکید ہے وہ واقعی ہمارے حق میں بہتر ہے تاکہ رب تعالیٰ کے حضور ہمارا نام تو ان لوگوں میں لیا جائے جو عبادت کرنے والے ہیں اگرچہ اللہ تعالیٰ کو سب کا علم ہے۔
6827- إذا صليتم العصر اجتمعت معكم ملائكة الليل والنهار،فإذا قضيتم الصلاة صعدت ملائكة النهار، ومكثت ملائكة الليل، فإذا صليتم الفجر اجتمعت معكم أيضا، فإذا قضيتم الصلاة صعدت ملائكة الليل، ومكثت ملائكة النهار، فإذا أتوا الرب تبارك وتعالى سألهم وهو أعلم بهم منهم، فيقول: كيف تركتم عبادي؟ فيقولون: أتيناهم وهم يصلون، وتركناهم وهم يصلون، وفيهم عبد لك يعلم أنه لم يصب خيرا قط إلا بك ولم يصرف عنه السوء قط إلا بك، فيقول: زيدوا عبدي، ثم يتعاهدهم بالمسألة عنه؟ فيقولون: مثل ذلك، فيقول: زيدوا عبدي، فيقولون: ربنا انتهى المزيد، فيقول: خوفوا عبدي فينقصونه فيبتلى، ثم يسألهم عنه؟ فيقول: كيف رأيتم عبدي عند البلاء؟ فيقولون: ربنا أشكر عبد عند الرخاء، وأصبره عند البلاء، فيقول: اكتبوه ممن لا يغير ولا يبدل حتى يلقاني. "هناد عن عبد الرحمن بن أبي ليلى حدثنا فلان عن فلان".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮২৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اعمال نامہ لکھنے والے فرشتوں کی گواہی
٦٨٢٨۔۔۔ ہم انبیاء کے گروہ کے لیے آزمائش ایسے ہی دوگنی ہوتی ہے جیسے ہمارے اجر دو گنا ہوتا ہے، ایک نبی کو جوؤں کی مصیبت میں مبتلا کیا گیا یہاں تک کہ جوؤں نے اس نبی کو ہلاک کردیا، اور ایک نبی کو فقر میں مبتلا کیا گیا یہاں تک کہ اس نے عبالی اور اس کو پہن لیا، اور وہ مصیبت پر ایسے خوش ہوتے تھے جیسے تم خوشحالی پر۔ (مسند احمد و عبد بن حمید حاکم، عن ابی سعید)
6828- إنا معشر الأنبياء، يضاعف لنا البلاء كما يضاعف لنا الأجر، إن كان النبي من الأنبياء ليبتلى بالقمل حتى تقتله، وإن كان النبي من الأنبياء يبتلى بالفقر حتى يأخذ العباءة فيجوبها وإن كانوا ليفرحون بالبلاء كما تفرحون بالرخاء. "حم وعبد بن حميد ك عن أبي سعيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৮২৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اعمال نامہ لکھنے والے فرشتوں کی گواہی
٦٨٢٩--- ہمارے اوپر سختی بھی ایسے آتی ہے جیسے ہمارے لیے اجر دو گنا ہوتا ہے، سب سے سخت آزمائش والے انبیاء ہیں، پھر علماء پھر صلحاء ، ان میں سے کوئی جوؤں کی مصیبت میں مبتلا ہوا یہاں تک کہ اس کو قتل کردیا، اور ان میں سے ایک فقر کی مصیبت میں مبتلا ہوا، یہاں تک کہ عبا کو اس نے پہن لیا، ان میں سے ہر ایک مصیبت پر اتنا خوش ہوتا جتنا تم دینے پر خوش ہوتے ہو۔ (حاکم ، بیہقی عن ابی سعید)
6829- إنا كذلك يشدد علينا البلاء، ويضاعف لنا الأجر، أشد الناس بلاء الأنبياء، ثم العلماء، ثم الصالحون، كان أحدهم يبتلى بالقمل حتى تقتله، ويبتلى أحدهم بالفقر حتى ما يجد إلا العباءة يلبسها، ولأحدهم كان أشد فرحا بالبلاء من أحدكم بالعطاء. "ك ق عن أبي سعيد".
তাহকীক: