কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮০৩ টি

হাদীস নং: ৬৮৫০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اعمال نامہ لکھنے والے فرشتوں کی گواہی
٦٨٥٠۔۔۔ مصیبت ہر روز کہتی ہے : میں کہاں کا رخ کروں ؟ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے دوستوں اور میری فرمان برداری کرنے والوں کی طرف، میں تیری وجہ سے ان کی باتیں آزماؤں گا، اور ان کے صبر کا امتحان لوں گا، ان کے گناہ مٹاؤں گا، ان کے درجات بلند کروں گا اور راحت ہر روز کہتی ہے : میں کہاں کا رخ کروں ؟ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے دشمنوں اور میری نافرمانی کرنے والوں کا، میں تیری وجہ سے ان کی سرکشی بڑھاؤں گا، ان کے گناہ زیادہ کروں گا اور انھیں (عذاب دینے میں) جلدی کروں گا اور اپنے ہاں ان کی غفلت زیادہ کروں گا۔ (الدیلمی عن انس)
6850- يقول البلاء كل يوم: إلى أين أتوجه؟ فيقول الله عز وجل: إلى أحبائي، وأولي طاعتي، أبلو بك أخبارهم، وأختبر صبرهم، وأمحص بك ذنوبهم، وأرفع بك درجاتهم، ويقول الرخاء كل يوم: إلى أين أتوجه؟ فيقول الله عز وجل: إلى أعدائي، وأهل معصيتي، أزيد بك طغيانهم وأضاعف بك ذنوبهم، وأعجل بك لهم، وأكثر بك على غفلتهم. "الديلمي عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৫১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اعمال نامہ لکھنے والے فرشتوں کی گواہی
٦٨٥١۔۔۔ قیامت کے روز شہید کو لایا جائے گا اور حساب کے لیے اسے کھڑا کیا جائے گا صدقہ دینے والے کو لایا جائے گا اور حساب کے لیے کھڑا کیا جائے گا، پھر مصیبت زدہ کو لایا جائے گا اس کے لیے ترازو نصب ہوگا اور نہ اعمال نامہ کھولا جائے گا، اور اس پر (پانی کی طرح) اجر بہایا جائے گا، جس کے نتیجہ میں عافیت و سلامتی والے لوگ تمنا کرنے لگیں گے کہ کاش ان کے جسم (لوہے کی) قینچیوں سے کاٹے جاتے ہیں، اہل مصیبت کے اچھے ثواب کی وجہ سے۔ (طبرانی فی الکبیر عن ابن عباس)
6851- يؤتى بالشهيد يوم القيامة، فينصب للحساب، ويؤتى بالمتصدق، فينصب للحساب، ثم يؤتى بأهل البلاء، فلا ينصب لهم ميزان ولا ينشر لهم ديوان، ويصب عليهم الأجر صبا، حتى إن أهل العافية ليتمنون في الموقف أن أجسادهم قرضت بالمقاريض، من حسن ثواب الله لهم. "طب عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৫২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اعمال نامہ لکھنے والے فرشتوں کی گواہی
٦٨٥٢۔۔۔ عیسیٰ (علیہ السلام) چلتے رہتے شام ہوتی تو صحرا کی کوئی سبزی کھالیتے اور صاف پانی پی لیتے، مٹی کو تکیہ بنا لیتے، پھر فرمایا : عیسیٰ بن مریم کا کوئی گھر نہ تھا جو خراب ہوتا اور نہ کوئی بیٹا تھا جو مرتا، ان کا کھانا صحرا کی سبزی اور ان کا مشروب صاف پانی اور ان کا تکیہ مٹی تھی۔

صبح ہوتی تو پھر چل پڑتے، ایک وادی سے گزرے تو وہاں ایک اندھا اپاہج شخص دیکھا جو جذام میں مبتلا تھا، جذام نے اس کے (گوشت) ٹکڑے کر دئیے تھے، (اس عالم میں کہ) اوپر آسمان ، نیچے وادی ، دائیں جانب برف بائیں جانب اولے، اور وہ کہہ رہا تھا، الحمدللہ رب العالمین تین بار، تو عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا : اے اللہ کے بندے ! تو کس بات پر اللہ تعالیٰ کی تعریف کررہا جبکہ تو نابینا، اپاہج اور کوڑھی ہے کوڑھ نے تیر ےٹکڑے کر رکھے ہیں ؟ تیرے اوپر آسمان، تیرے نیچے وادی تیری دائیں طرف برف بائیں طرف اولے ہیں ؟ وہ شخص بولا : اے عیسیٰ ! میں اس وقت اللہ تعالیٰ کی تعریف کررہا ہوں جبکہ کوئی یہ کہنے والا نہیں کہ آپ الہ کے بیٹے یا تین میں سے تیسرے ہیں۔ (الدیلمی وابن النجار عن جابر (رض))

تشریح :۔۔۔ یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) نہ خودالہ ہیں نہ خدا کے بیٹے اور نہ تین میں سے تیسرے۔
6852- كان عيسى ابن مريم يسيح، فإذا أمسى أكل بقل الصحراء، وشرب الماء القراح، وتوسد التراب، ثم قال: عيسى ابن مريم ليس له بيت يخرب، ولا ولد يموت، طعامه بقل الصحراء،

وشرابه الماء القراح، وساده التراب، فلما أصبح ساح، فمر بواد، فإذا فيه رجل أعمى مقعد مجذوم، قد قطعه الجذام، السماء من فوقه، والوادي من تحته، والثلج عن يمينه، والبرد عن يساره، وهو يقول: الحمد لله رب العالمين ثلاثا، فقال له عيسى ابن مريم: يا عبد الله على ما تحمد الله وأنت أعمى مقعد مجذوم قد قطعك الجذام؟ السماء من فوقك، والوادي من تحتك، والثلج عن يمينك والبرد عن يسارك؟ قال: يا عيسى أحمد الله إذ لم أكن الساعة ممن يقول: إنك إله أو ابن إله أو ثالث ثلاثة. "الديلمي وابن النجار عن جابر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৫৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ باتوں میں سچائی اختیار کرنے کا حکم ہے
٦٨٥٣۔۔۔ حق (بات) کو درست انداز میں کہنا جمال ہے اور سچائی کے ساتھ اچھا کام کرنا کمال ہے۔ (الحکیم عن جابر (رض)
6853- الجمال صواب القول بالحق، والكمال حسن الفعال بالصدق. "الحكيم عن جابر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৫৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ باتوں میں سچائی اختیار کرنے کا حکم ہے
٦٨٥٤۔۔۔ لوگوں کی سب سے زیادہ تصدیق کرنے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جو سب سے زیادہ سچ بولنے والے ہوتے ہیں اور لوگوں کی سب سے زیادہ تکذیب کرنے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جو سب سے زیادہ جھوٹ بولنے والے ہوتے ہیں۔ (ابو الحسن القزوینی فی امالیہ عن ابی امامۃ)
6854- إن أشد الناس تصديقا للناس أصدقهم حديثا، وإن أشد الناس تكذيبا أكذبهم حديثا. "أبو الحسن القزويني في أماليه عن أبي أمامة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৫৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ باتوں میں سچائی اختیار کرنے کا حکم ہے
٦٨٥٥۔۔۔ سچ بولنے کی کوشش کرو اگرچہ تمہیں اس میں ہلاکت نظر آئے (مگر پھر بھی) اس میں نجات ہے۔ (ابن ابی الدنیا فی الصمت عن منصور بن المعتمر، مرسلاً )
6855- تحروا الصدق؛ وإن رأيتم أن فيه الهلكة؛ فإن فيه النجاة. "ابن أبي الدنيا في الصمت عن منصور بن المعتمر" مرسلا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৫৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ باتوں میں سچائی اختیار کرنے کا حکم ہے
٦٨٥٦۔۔۔ سچ بولنے کی کوشش کرو اگرچہ تمہیں اس میں ہلاکت نظر آئے، اس میں نجات ہے اور جھوٹ سے بچو اگرچہ تمہیں اس میں نجات نظر آئے (مگر) اس میں ہلاکت ہے۔ (ھناد عن مجمع بن یحییٰ، مرسلاً )
6856- تحروا الصدق وإن رأيتم أن فيه الهلكة؛ فإن فيه النجاة واجتنبوا الكذب وإن رأيتم أن فيه النجاة؛ فإن فيه الهلكة. "هناد عن مجمع بن يحيى" مرسلا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৫৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ باتوں میں سچائی اختیار کرنے کا حکم ہے
٦٨٥٧۔۔۔ سچ جنت (میں داخل کرنے) کا عمل ہے بندہ جب سچ بولتا ہے تو نیکی کرتا ہے اور جب نیکی کرتا ہے تو ایمان لے آتا ہے اور جب ایمان لے آیا تو جنت میں داخل ہوگا، اور جھوٹ جہنم (میں لے جانے) کا عمل ہے بندہ جب جھوٹ بولتا ہے تو گناہ کرتا ہے اور جب گناہ (کرنے لگ جاتا) ہے تو کفر تک پہنچ جاتا ہے اور جب کافر ہوجائے تو جہنم میں داخل ہوگا۔ (مسند احمد عن ابن عمرو)
6857- عمل الجنة الصدق؛ وإذا صدق العبد بر؛ وإذا بر آمن وإذا آمن دخل الجنة؛ وعمل النار الكذب إذا كذب العبد فجر؛ وإذا فجر كفر؛ وإذا كفر دخل النار. "حم عن ابن عمرو".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৫৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ باتوں میں سچائی اختیار کرنے کا حکم ہے
٦٨٥٨۔۔۔ مجھے سب سے سچی بات پسند ہے۔ (مسند احمد، بخاری ، عن المسور بن مخرمہ ومروان معاً )
6858- أحب الحديث إلي أصدقه. "حم خ عن المسور بن مخرمة ومروان معا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৫৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ باتوں میں سچائی اختیار کرنے کا حکم ہے
٦٨٥٩۔۔۔ بیشک سچ نیکی کی راہ دکھاتا ہے اور نیکی جنت کی راہ دکھاتی ہے آدمی سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ برائی کی راہ پر چلاتا ہے اور برائی جہنم کی راہ دکھاتی ہے آدمی جھوٹ بولتے بولتے اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑا جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔ (بخاری مسلم عن ابن مسعود)
6859- إن الصدق يهدي إلى البر؛ وإن البر يهدي إلى الجنة وإن الرجل ليصدق حتى يكتب عند الله صديقا؛ وإن الكذب يهدي إلى الفجور، وإن الفجور يهدي إلى النار؛ وإن الرجل ليكذب حتى يكتب عند الله كذابا. "ق عن ابن مسعود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৬০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ باتوں میں سچائی اختیار کرنے کا حکم ہے
٦٨٦٠۔۔۔ سچ کی عادت اپناؤ، کیونکہ وہ نیکی کے ساتھ ہے اور وہ دونوں جنت میں (جانے کا ذریعہ) ہیں، اور جھوٹ سے بچو کیونکہ وہ گناہ کے ساتھ ہے اور وہ دونوں جہنم میں (جانے کا ذریعہ) ہیں اور اللہ تعالیٰ سے یقین اور عافیت کا سوال کرو، کیونکہ کسی کو یقین کے بعد عافیت سے بہتر کوئی چیز نہیں دی گئی، اور آپس میں حسد نہ کرو، بغض باہمی نہ رکھو، قطع رحمی نہ کرو، قطع تعلقی نہ کرو، اور اللہ تعالیٰ کے بندو ! ایسے بھائی بھائی بن جاؤ جیسا اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے۔ (مسند احمد، بخاری فی الادب المفرد، ابن ماجہ عن ابی بکر)
6860- عليكم بالصدق؛ فإنه مع البر؛ وهما في الجنة؛ وإياكم والكذب فإنه مع الفجور وهما في النار، وسلوا الله اليقين والمعافاة، فإنه لم يؤت أحد بعد اليقين خيرا من المعافاة، ولا تحاسدوا ولا تباغضوا، ولا تقاطعوا ولا تدابروا وكونوا عباد الله إخوانا كما أمركم الله. "حم خد هـ عن أبي بكر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৬১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ باتوں میں سچائی اختیار کرنے کا حکم ہے
٦٨٦١۔۔۔ سچائی کی عادت ڈالو، کیونکہ سچائی نیکی کی راہ دکھاتی ہے اور نیکی جنت کی راہ دکھاتی ہے آدمی ہمیشہ سچ بولتا رہتا اور سچ کی کوشش کرتا رہتا ہے بالاخر وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی سچا لکھ دیا جاتا ہے، اور جھوٹ سے بچنا کیونکہ جھوٹ برائی کی راہ دکھاتا ہے اور برائی جہنم کا راہ دکھاتی ہے آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ کے مواقع تلاش کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑا جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔ (مسند احمد، بخاری فی الادب المفرد، مسلم، ترمذی عن ابن مسعود)
6861- عليكم بالصدق، فإن الصدق يهدي إلى البر، وإن البر يهدي إلى الجنة، وما يزال الرجل يصدق ويتحرى الصدق حتى يكتب عند الله صديقا، وإياكم والكذب، إن الكذب يهدي إلى الفجور وإن الفجور يهدي إلى النار، وما يزال الرجل يكذب ويتحرى الكذب حتى يكتب عند الله كذابا. "حم خد م ت عن ابن مسعود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৬২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ باتوں میں سچائی اختیار کرنے کا حکم ہے
٦٨٦٢۔۔۔ سچ کو اپناؤ کیونکہ وہ جنت (کے دروازے تک پہنچانے) کا دروازہ ہے اور جھوٹ سے بچنا کیونکہ وہ جہنم کا دروازہ ہے۔ (خطیب عن ابی بکر (رض))
6862- عليكم بالصدق، فإنه باب من أبواب الجنة، وإياكم والكذب فإنه باب من أبواب النار. "خط عن أبي بكر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৬৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٦٨٦٣۔۔۔ سچ کی عادت اپناؤ کیونکہ وہ نیکی کی راہ دکھاتا ہے اور وہ دونوں جنت میں ہیں، اور جھوٹ سے بچنا کیونکہ وہ برائی کی راہ دکھاتا ہے اور وہ دونوں جہنم میں ہیں۔ (طبرانی فی الکبیر عن معاویۃ)
6863- عليكم بالصدق فإنه يهدي إلى البر وهما في الجنة، وإياكم والكذب فإنه يهدي إلى الفجور وهما في النار. "طب عن معاوية".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৬৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٦٨٦٤۔۔۔ اے جریر ! جب بات کہو تو درست کہو اور تکلف میں نہ پڑو۔ جب تم نے ایسا کرلیا تب تمہاری ضرورت پوری ہوگی۔ (ابن عساکر عن عیسیٰ بن یزید)
6864- يا جرير إذا قلت فسدد، ولا تكلف إذا قضيت حاجتك. "ابن عساكر عن عيسى بن يزيد" مرسلا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৬৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ وعدہ کی سچائی
٦٨٦٥۔۔۔ وعدہ (حفاظت ) دین (کا ذریعہ) ہے اس کے لیے خرابی ہے جو وعدہ کرکے توڑ دے، اس کے لیے خرابی ہے جو وعدہ کرکے توڑ دے، اس کے لیے خرابی ہے جو وعدہ کرکے توڑ دے۔ (ابن عساکر عن علی)
6865- العدة دين، ويل لمن وعد ثم أخلف، ويل لمن وعد ثم أخلف، ويل لمن وعد ثم أخلف. "ابن عساكر عن علي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৬৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ وعدہ کی سچائی
٦٨٦٦۔۔۔ وعدہ دین (داری) ہے۔ (طبرانی فی الاوسط عن علی وعن ابن مسعود)
6866- العدة دين. "طس عن علي وعن ابن مسعود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৬৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ وعدہ کی سچائی
٦٨٦٧۔۔۔ وعدہ عطیہ ہے۔ (حلیۃ الاولیاء عن ابن مسعود)
6867- العدة عطية. "حل عن ابن مسعود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৬৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ وعدہ کی سچائی
٦٨٦٨۔۔۔ بیشک وعدہ (اللہ تعالیٰ کا) عطیہ ہے۔ (الخرائطی فی مکارم الاخلاق عن الحسن ، مرسلاً )
6868- إن العدة عطية. "الخرائطي في مكارم الأخلاق عن الحسن" مرسلا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৮৬৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ وعدہ کی سچائی
٦٨٦٩۔۔۔ جب آدمی اپنے بھائی سے وعدہ کرے اور اس کی نیت اس وعدہ کو پورا کرنے کی ہو (لیکن) وہ پورا نہ کرسکا اور نہ وعدہ کی جگہ آیا، تو اس کے ذمہ کوئی گناہ نہیں۔ (ابو داؤد ترمذی عن زید بن ارقم)

تشریح :۔۔۔ لیکن جس کی نیت ہی وعدہ خلافی کی ہو اس کا کیا انجام ہوگا ؟
6869- إذا وعد الرجل أخاه، ومن نيته أن يفي له فلم يف ولم يجئ للميعاد فلا إثم عليه. "د ت عن زيد بن أرقم".
tahqiq

তাহকীক: