কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮০৩ টি

হাদীস নং: ৬৯৯০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٦٩٩٠۔۔۔ رحم و رشتہ داری رحمن کی (صفت رحمت کی) شاخ ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو وہ کہے گی : اے میرے رب ! مجھ پر ظلم ہوا، میرے ساتھ برا سلوک ہوا، مجھے کاٹا گیا ، تو اس کا رب اسے جواب دے گا : کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ میں اسے کاٹوں جو تجھے کاٹے اور اسے جوڑوں جو تجھے جوڑے ؟ (ابن حبان عن ابوہریرہ (رض))
6990- إن الرحم شجنة من الرحمن، فإذا كان يوم القيامة تقول أي رب إني ظلمت، إني أسيء إلي، إني قطعت، فيجيبها ربها، ألا ترضين أن أقطع من قطعك؟ وأصل من وصلك؟ "حب عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৯১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٦٩٩١۔۔۔ انسانوں کے اعمال ہر جمعرات کی شام اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوتے ہیں تو وہاں کسی قطع رحمی کرنے والے کا عمل قبول نہیں کیا جاتا ۔ (مسند احمد والخرائطی فی مساوی الاخلاق عن ابوہریرہ (رض))
6991- إن أعمال بني آدم تعرض كل عشية خميس ليلة الجمعة. فلا يقبل عمل قاطع رحم. "حم والخرائطي في مساوي الأخلاق. عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৯২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٦٩٩٢۔۔۔ جو رشہ دار کسی رشتہ دار کے پاس آکر مال مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے وہ مال عطا کر دے گا اور (اگر) اس نے بخل سے کام لیا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے روز جہنم سے ایک سانپ نکالیں گے جسے شجاع کہا جاتا ہے وہ زبان نکال رہا ہوگا اور پھر اس شخص سے چمٹ جائے گا۔ (طبرانی فی الکبیر، طبرانی فی الاوسط عن جریر بن جریر عن رجل)

تشریح :۔۔۔ وعید برحق ہے دوسری طرف ان لوگوں کو بھی خیال کرنا چاہیے جو صرف رشتہ داروں سے مال بٹورنے کے خیال میں رہتے ہیں عموماً ناراضگیاں اسی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں کہ لوگ مال لے کر بھول جاتے ہیں ، جیسے مال آپ کو عزیز ہے ایسا ہی اس شخص کو بھی عزیز ہے جس سے آپ نے لیا ہے۔
6992- ما من ذي رحم يأتي ذا رحمه فيسأل فضلا أعطاه الله إياه فيبخل عليه إلا أخرج الله له يوم القيامة من جهنم حية، يقال لها شجاع تتلمظ فتطوق به. "طب طس عن جرير بن جرير عن رجل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৯৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٦٩٩٣۔۔۔ ان لوگوں پر رحمت نازل نہیں ہوتی جن میں قطع رحمی کرنے والا (ہمیشہ سے) موجود ہو۔ ابن النجار عن ابن ابی اوفی
6993- لا تنزل الرحمة على قوم بينهم قاطع الرحم. "ابن النجار عن ابن أبي أوفى".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৯৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٦٩٩٤۔۔۔ اے طلحہ ! ہمارے دین میں قطع رحمی نہیں، لیکن میں یہ پسند کرتا ہوں کہ تیرے دین میں شک نہ ہو۔ (طبرانی فی الکبیر عن ابی مسکین عن طلحۃ بن البراء)
6994- يا طلحة ليس في ديننا قطيعة الرحم، ولكن أحببت أن لا يكون في دينك ريبة. "طب عن أبي مسكين عن طلحة بن البراء".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৯৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٦٩٩٥۔۔ جنت میں (ہمیشہ) قطع رحمی کرنے والا داخل نہ ہوگا۔ طبرانی عن جبیر بن مطعم ، الخرائطی فی مکارم الاخلاق عن ابی سعید
6995- لا يدخل الجنة قاطع رحم. "طب عن جبير بن مطعم" "الخرائطي في مكارم الأخلاق عن أبي سعيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৯৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٦٩٩٦۔۔۔ جس شخص کے پاس اس کا چچا زاد مال مانگنے آیا اور اس نے اس سے مال روک رکھا، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس سے اپنا فضل روک لیں گے۔ (طبرانی فی الاوسط عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ)

تشریح :۔۔۔ آج کل تو مال کجا، دعائیہ کلمات بھی منہ سے نہیں نکلتے۔
6996- أيما رجل أتاه ابن عمه يسأله من فضله، فمنعه، منعه الله فضله يوم القيامة. "طس عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৯৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرف العین ۔۔۔ عزلت و علیحدگی
٦٩٩٧۔۔۔ عزلت (میں) سلامتی ہے۔ (فردوس عن ابی موسیٰ)

تشریح :۔۔۔ اس کا انحصار ہر شخص کی طبی حالت پر ہے جس میں اسے خدشہ ہو کہ گناہ میں مبتلا ہوجائے گا اس سے بچے چاہے عزلت ہو یا مجلس۔
6997- العزلة سلامة. "فر عن أبي موسى".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৯৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرف العین ۔۔۔ عزلت و علیحدگی
٦٩٩٨۔۔۔ حکمت کے دس اجزاء ہیں ان میں سے نو عزلت میں اور ایک خاموشی میں ہے۔ (ابن عدی فی الکامل وابن لال عن ابوہریرہ (رض))
6998- الحكمة عشرة أجزاء، تسعة منها في العزلة، وواحد في الصمت. "عد وابن لال عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৯৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عشق
٦٩٩٩۔۔۔ جس نے عشق کیا اور پاکدامن رہا پھر مرگیا تو وہ شہادت کی موت مرا۔ (خطیب عن عائشہ (رض))

تشریح :۔۔۔ ہر چیز کا اپنا محل ہوتا ہے عشق کا محل فقط وہی چیز ہے جسے فائق کائنات نے قلبی راحت و سکون کا ذریعہ بنایا ہے اور وہ فقط صنف نازل ہے، بہت سے لوگوں کو شادی سے پہلے عشق ہوتا ہے وہ عشق نہیں ہوس و شہوت کیا یک قسم ہے اصل عشق شادی کے بعد شروع ہوتا ہے، باقی رہا اس لفظ کا استعمال اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں تو جہاں تک بندہ کی رائے ہے یہ بازاری لفظ ہے اسے خدا اور رسول کے لیے استعمال کرنا بہتر نہیں خدا اور رسول سے عقیدت وارفتگی انتہائی محبت اور اس سے ملتے جلتے بیشمار الفاظ ہیں، قرآن حدیث میں لفظ عشق خدا اور رسول کے لیے استعمال نہیں ہوا۔ (دیکھیں فطرتی و نفسیاتی باتیں مطبوعہ نور محمد کراچی)
6999- من عشق فعف ثم مات، مات شهيدا. "خط عن عائشة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭০০০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عشق
٧٠٠٠۔۔۔ جس نے عشق کیا اور اسے پوشیدہ رکھا اور پاکدامن رہا اسی حالت میں مرگیا تو وہ شہادت کی موت مرا۔ (خطیب عن ابن عباس)
7000- من عشق فكتم، وعف فمات فهو شهيد. "خط عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭০০১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٠٠١۔۔۔ میری امت کے بہترین لوگ وہ ہیں جو پاکدامن رہتے ہیں جب ان کے پاس کوئی (عشق جیسی) مصیبت آتی ہے لوگوں نے عرض کی : کیسی مصیبت ؟ آپ نے فرمایا : عشق۔ (الدیلمی عن ابن عباس (رض))
7001- خيار أمتي الذين يعفون إذا آتاهم الله من البلاء شيئا، قالوا: وأي البلاء؟ قال: العشق. "الديلمي عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭০০২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٠٠٢۔۔۔ جس نے عشق کیا اور اسے پوشیدہ رکھا اور پاکدامن رہا اور صبر کیا تو اللہ تعالیٰ اسے بخش دیں گے اور اسے جنت میں داخل کریں گے۔ (ابن عساکر عن ابن عباس (رض))

کیونکہ عاشق و معشوق ایک دوسرے کے لیے بےچین ہوتے ہیں فصل و فراق کی گھڑیاں بجلی بن کی گزرتی ہیں اور وصال کے بعد پاکدامن رہنا واقعی جان جوکھوں کا کام ہے، نکاح تک صبر سے کام لینا حقیقتا بخشش حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
7002- من عشق وكتم وعف وصبر غفر الله له وأدخله الجنة. "كر عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭০০৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عذر قبول کرنے کے ساتھ معافی
٧٠٠٣۔۔۔ معافی اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ اس پر عمل کیا جائے۔ (ابن شاہین فی المعرفۃ عن حلیس بن زید)
7003- العفو أحق ما عمل به. "ابن شاهين في المعرفة عن حليس بن زيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭০০৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عذر قبول کرنے کے ساتھ معافی
٧٠٠٤۔۔۔ ایک دوسرے کو معاف کرتے رہا کرو تمہاری آپس کی نفرتیں ختم ہوجائیں گی۔ (البزار عن ابن عمر)
7004- تعافوا تسقط الضغائن بينكم. "البزار عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭০০৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عذر قبول کرنے کے ساتھ معافی
٧٠٠٥۔۔۔ بیشک اللہ تعالیٰ خود بھی معاف کرنے والے ہیں اور معافی کو پسند کرتے ہیں۔ (حاکم عن ابن مسعود، ابن عدی فی الکامل عن عبداللہ بن جعفر)
7005- إن الله عفو يحب العفو. "ك عن ابن مسعود" "عد عن عبد الله بن جعفر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭০০৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عذر قبول کرنے کے ساتھ معافی
٧٠٠٦۔۔۔ موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) نے عرض کی : اے میرے رب ! آپ کا کون سا بندہ آپ کے ہاں عزت مند ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وہ جو قدرت کے باوجود معاف کر دے۔ (بیہقی عن ابوہریرہ (رض))
7006- قال موسى بن عمران: يا رب من أعز عبادك عندك؟ قال: من إذا قدر غفر. "هب عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭০০৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عذر قبول کرنے کے ساتھ معافی
٧٠٠٧۔۔۔ جو قدرت کے باوجود معاف کر دے اللہ تعالیٰ تنگی کے دن (یعنی قیامت کے روز) اسے معاف کردیں گے۔ (طبرانی فی الکبیر عن ابی امامۃ)
7007- من عفا عند القدرة عفا الله عنه يوم العسرة. "طب عن أبي أمامة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭০০৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عذر قبول کرنے کے ساتھ معافی
٧٠٠٨۔۔۔ قیامت کے روز عرش کے نیچے سے ایک شخص منادی کرے گا، وہ کھڑا ہوجائے جس کا اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر ہے، چنانچہ صرف وہ شخص کھڑا ہوگا جس نے اپنے بھائی کا گناہ معاف کیا ہوگا۔ (خطیب عن ابن عباس)
7008- إذا كان يوم القيامة ينادي مناد من بطنان العرش: ليقم من على الله أجره، فلا يقوم إلا من عفا عن ذنب أخيه. "خط عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭০০৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عذر قبول کرنے کے ساتھ معافی
٧٠٠٩۔۔۔ جب لوگوں کو (محشر میں) کھڑا کیا جائے گا تو ایک شخص اعلان کرے گا : وہ شخص کھڑا ہوجائے جس کا اجر اللہ تعالیٰ نے دینا ہے اور جنت میں داخل ہوجائے، پوچھنے والا پوچھے گا : وہ کون ہے جس کا اجر اللہ تعالیٰ نے دینا ہے ؟ وہ شخص کہے گا : جو لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں چنانچہ فلاں فلاں اٹھیں گے جن کی تعداد ایک ہزار ہوگی اور بغیر حساب جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ (ابن ابی الدنیا فی ذم الغضب عن انس)
7009- إذا أوقف العباد نادى مناد: ليقم من أجره على الله، وليدخل الجنة، قيل من ذا الذي أجره على الله؟ قال: العافون عن الناس، فقام كذا وكذا ألفا فدخلوا الجنة بغير حساب. "ابن أبي الدنيا في ذم الغضب عن أنس".
tahqiq

তাহকীক: