কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৮০৩ টি
হাদীস নং: ৭০১০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عذر قبول کرنے کے ساتھ معافی
٧٠١٠۔۔۔ اے ابن الاکوع ! قدرت پانے کے بعد عفو و درگزر سے کام لیا کرو۔ (بخاری عن سلمۃ بن الاکوع)
آہ تاریخ ایسے لوگوں کا ذکر دہرا کر ہمیں اچھنبے میں ڈال دیتا ہے، یہ وہ صحابی تھے جو اتنی تیز رفتار سے دوڑتے تھے کہ عربی گھوڑا بھی ان سے آگے نہ نکل سکتا تھا۔
آہ تاریخ ایسے لوگوں کا ذکر دہرا کر ہمیں اچھنبے میں ڈال دیتا ہے، یہ وہ صحابی تھے جو اتنی تیز رفتار سے دوڑتے تھے کہ عربی گھوڑا بھی ان سے آگے نہ نکل سکتا تھا۔
7010- يا ابن الأكوع ملكت فأسجح "خ عن سلمة بن الأكوع".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০১১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عذر قبول کرنے کے ساتھ معافی
٧٠١١۔۔۔ کیا تم میں سے کوئی ابو ضمضم جیسا ہونے سے بھی قاصر ہے ؟ وہ جب گھر سے نکلتا تو کہتا : اے پروردگار ! میں نے اپنی عزت آپ کے بندوں پر صدقہ کردی۔ (ابو داؤد و الضیاء عن انس)
تشریح :۔۔۔ ان کا نام معلوم نہ ہوسکا ابو عمرو اور ابن عبد البر نے انھیں صحابہ میں شمار کیا ہے۔ (تہذیب الاسماء واللغات للنوی،
ج ٢ ص ٢٤٤ طبع مصر)
تشریح :۔۔۔ ان کا نام معلوم نہ ہوسکا ابو عمرو اور ابن عبد البر نے انھیں صحابہ میں شمار کیا ہے۔ (تہذیب الاسماء واللغات للنوی،
ج ٢ ص ٢٤٤ طبع مصر)
7011- أيعجز أحدكم أن يكون كمثل أبي ضمضم؟ كان إذا خرج من منزله قال: اللهم إني قد تصدقت بعرضي على عبادك. "د والضياء عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০১২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٠١٢۔۔۔ معاف کرنا بندے کی عزت میں اضافہ کرتا ہے سو معاف کیا کرو اللہ تعالیٰ تمہیں عزت دیں گے اور تواضع بندے کی شان بڑھاتی ہے سو تواضع اختیار کرو اللہ تعالیٰ تمہیں بلندی عطا فرمائیں گے۔ (ابن لال عن انس)
7012- العفو لا يزيد العبد إلا عزا، فاعفوا يعزكم الله، والتواضع لا يزيد العبد إلا رفعة، فتواضعوا يرفعكم الله. "ابن لال عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০১৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٠١٣۔۔۔ جب قیامت کا روز ہوگا تو عرش کے نیچے سے ایک شخص اعلان کرے گا خلفاء میں سے معاف کرنے والے لوگ اچھی جزاء کی طرف ضرور کھڑے ہوں، لہٰذا وہی اٹھے گا جس نے معاف کیا ہوگا۔ (خطیب، حاکم عن عمران بن حصین)
7013- إذا كان يوم القيامة نادى مناد من بطنان العرش: ألا ليقومن العافون من الخلفاء إلى أكرم الجزاء، فلا يقوم إلا من عفا. "خط ك عن عمران بن حصين".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০১৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٠١٤۔۔۔ جب قیامت کا روز ہوگا تو اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک وادی میں جمع فرمائے گا، جہاں وہ ایک بلانے والے کی آواز سن سکیں گے اور (اس کی) آنکھ انھیں دیکھ سکے گی، (اتنے میں) اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک شخص اعلان کرے گا اور کہے گا : جس کا اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی احسان ہے وہ شخص ضرور کھڑا ہو تو صرف وہی کھڑا ہوگا جس نے معاف کیا ہوگا۔ (خطیب عن الحسن ، مرسلاً )
7014- إذا كان يوم القيامة جمع الله الناس في صعيد واحد حيث يسمعهم الداعي، وينفذهم البصر، فيقوم مناد من عند الله، فيقول: ليقومن من له على الله يد، فلا يقوم إلا من عفا. "خط عن الحسن" مرسلا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০১৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٠١٥۔۔۔ جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک شخص اعلان کرے گا، لوگوں کو معاف کرنے والے کہاں ہیں ؟ اپنے رب کی طرف آؤ، اور اپنا اجر و صول کرو، ہر مسلمان کا یہ حق ہے کہ جب وہ معاف کر دے جنت میں داخل ہو۔ (ابو الشیخ فی الثواب عن ابن عباس)
7015- إذا كان يوم القيامة ناد مناد: أين العافون عن الناس؟ هلموا إلى ربكم، وخذوا أجوركم، وحق لكل مسلم إذا عفا أن يدخل الجنة. "أبو الشيخ في الثواب عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০১৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٠١٦۔۔۔ جس رات مجھے سیر کرائی گئی میں نے کئی سیدھے محلات جنت پر جھکے ہوئے دیکھے، میں نے کہا : اے جبرائیل ! یہ کس کے ہیں ؟ تو جبرائیل نے کہا : غصہ پی جانے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والوں کے لیے اور اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (ابن لال والدیلمی عن انس (رض))
7016- رأيت ليلة أسري بي قصورا مستوية مشرفة على الجنة، فقلت: يا جبريل لمن هذا؟ فقال: للكاظمين الغيظ والعافين عن الناس،والله يحب المحسنين. "ابن لال والديلمي عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০১৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ظلم کرنے والے کو معاف کردینا چاہیے
٧٠١٧۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اگر تجھ پر ظلم ہو تو تو دوسرے کے لیے بددعا کرے گا کیونکہ اس نے تجھ پر ظلم کیا۔ اور دوسرا تمہارے لیے بددعا کرے گا کہ تم نے اس پر ظلم کیا، اگر تم چاہو تو میں تمہاری دعا اور تمہارے خلاف (اس کی) بددعا قبول کرلوں اور اگر چاہو میں تمہارا معاملہ آخرت کے دن تک موخر کروں اور تم دونوں کو میری معافی شامل ہو۔ (حاکم فی تاریخۃ عن انس، وفیہ ابن ابراہیم بن زید الاسلمی وھاہ ابن حبان)
7017- قال الله تعالى: إنك إن ظلمت تدعو على آخر من أجل أنه ظلمك، وإن آخر يدعو عليك أنك ظلمته، فإن شئت استجبنا لك، وعليك، وإن شئت أخرتكما إلى يوم القيامة فأوسعكما عفوي. "ك في تاريخه عن أنس" وفيه ابن أهيم بن زيد الأسلمي وهاه ابن حبان.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০১৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ظلم کرنے والے کو معاف کردینا چاہیے
٧٠١٨۔۔۔ جو یہ چاہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے بلند عمارت بنائے اور قیامت کے روز اس کے درجات بلند کرے، تو وہ اپنے اوپر ظلم کرنے والے کو معاف کرے، اور جو اسے محروم کرے اسے دے ، اور جو ناطہ توڑے اس سے جوڑے اور جو اس کے ساتھ جہالت سے پیش آئے اس کے ساتھ حکم و بردباری کا معاملہ کرے۔ (الخطیب وابن عساکت عن ابوہریرہ (رض))
7018- من أراد أن يشرف الله له البنيان، وأن يرفع له الدرجات يوم القيامة فليعف عمن ظلمه، وليعط من حرمه، وليصل من قطعه، وليحلم عمن جهل عليه. "الخطيب وابن عساكر عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০১৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ظلم کرنے والے کو معاف کردینا چاہیے
٧٠١٩۔۔۔ جس نے کسی مسلمان کی لغزش معافی کی اور اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کی لغزش معاف کرے گا۔ (ابن حبان ، نسائی عن ابوہریرہ (رض))
7019- من أقال مسلما عثرته أقال الله عثرته يوم القيامة. "حب ن عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০২০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ظلم کرنے والے کو معاف کردینا چاہیے
٧٠٢٠۔۔۔ جس نے اپنے مسلمان بھائی کی دنیا میں لغزش معاف کی اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کی لغزش معاف کر دے گا۔ (ابن النجار عن ابوہریرہ (رض))
7020- من أقال أخاه المؤمن عثرته في الدنيا أقال الله عثرته يوم القيامة. "ابن النجار عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০২১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ظلم کرنے والے کو معاف کردینا چاہیے
٧٠٢١۔۔۔ جس نے اپنے مسلمان بھائی سے معذرت طلب کی اور اس نے معاف کردیا تو اللہ تعالیٰ اسے معاف کردیں گے ، اور جس نے اسے معاف نہ کیا اللہ تعالیٰ (بھی) اسے معاف نہ کریں گے اور اسے منہ کے بل جہنم میں پھینکیں گے (الدیلمی عن انس
7021- من سأل أخاه المسلم أن يقيله فأقاله، أقاله الله عثرته، فإن لم يقله لا أقاله الله تعالى عثرته، وكبه في النار على وجهه. "الديلمي عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০২২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ظلم کرنے والے کو معاف کردینا چاہیے
٧٠٢٢۔۔۔ جسے گالی دی گئی یا مارا گیا پھر ا سنے صبر کیا تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کی عزت میں اضافہ فرمائیں گے، سو معاف کیا کرو اللہ تعالیٰ تمہیں معاف کریں گے۔ (ابن النجار عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ)
تشریح :۔۔۔ البتہ مظلوم کو بدلہ لینے کا حق ہے یہ اس صورت میں ہے جب دل سے بھی بددعا نہ دے ورنہ بعض لوگ قدرت نہ ہونے کی وجہ سے خاموش ہوتے ہیں وہ اس ثواب سے مستثنیٰ ہیں۔
تشریح :۔۔۔ البتہ مظلوم کو بدلہ لینے کا حق ہے یہ اس صورت میں ہے جب دل سے بھی بددعا نہ دے ورنہ بعض لوگ قدرت نہ ہونے کی وجہ سے خاموش ہوتے ہیں وہ اس ثواب سے مستثنیٰ ہیں۔
7022- من شتم أو ضرب ثم صبر زاده الله لذلك عزا، فاعفوا يعف الله عنكم. "ابن النجار عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০২৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ظلم کرنے والے کو معاف کردینا چاہیے
٧٠٢٣۔۔۔ جس نے باوجود قدرت کے معاف کردیا اللہ تعالیٰ پھسلن کے دن اسے معاف کریں گے۔ (طبرانی فی الکبیر عن ابی امامۃ مربرقم ٧٠٠٧)
7023- من عفا عند قدرة عفا الله عنه يوم العثرة. "طب عن أبي أمامة". مر برقم [7007] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০২৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ظلم کرنے والے کو معاف کردینا چاہیے
٧٠٢٤۔۔۔ قیامت کے روزعرش کے نیچے سے ایک شخص آوازدے گا : سنووہ شخص کھڑا ہوجائے جس کا اجر اللہ تعالیٰ نے دینا ہے، چنانچہ وہی اٹھے گا جس نے اپنے بھائی کو معاف کیا ہوگا۔ (حاکم عن علی)
تشریح :۔۔۔ کام کتنا آسان اور اجر کتنا عظیم !
تشریح :۔۔۔ کام کتنا آسان اور اجر کتنا عظیم !
7024- ينادي مناد يوم القيامة: من بطنان العرش: ألا فليقم من كان أجره على الله، فلا يقوم إلا من عفا عن أخيه. "ك عن علي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০২৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ظلم کرنے والے کو معاف کردینا چاہیے
٧٠٢٥۔۔۔ کیا تم میں سے کوئی ابو ضمضم جیسا ہونے سے قاصر ہے ؟ وہ جب گھر سے نکلتا تو کہتا : اے اللہ ! میں اپنی جان اور عزت آپ کے بندوں پر صدقہ کرچکا۔ (ابو داؤد، سعید بن منصور عن انس)
7025- أيعجز أحدكم أن يكون كأبي ضمضم كان إذا خرج من منزله قال: اللهم إني تصدقت بعرضي على عبادك. "د ص عن أنس". مر برقم [7011] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০২৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ظلم کرنے والے کو معاف کردینا چاہیے
٧٠٢٦۔۔۔ کیا تم میں سے کوئی ابو ضمضم جیس ا ہونے سے بھی عاجز ہے ؟ وہ جب گھر سے نکلتا تو کہتا : اے اللہ ! میں نے اپنی جان اور عزت آپ کو ہبہ کردی پھر وہ نہ گالی دینے والے کو گالی دیتا اور نہ ظلم کرنے والے پر ظلم کرتا اور نہ اس شخص کو مارتا جس نے اسے مارا ہوتا۔ (ابن السنی فی عمل الیوم واللیلۃ والدیلمی عن انس (رض))
7026- أيعجز أحدكم أن يكون كأبي ضمضم؟ كان إذا أصبح قال: اللهم إني وهبت نفسي وعرضي لك فلا يشتم من شتمه ولا يظلم من ظلمه ولا يضرب من ضربه. "ابن السني في عمل يوم وليلة والديلمي عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০২৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ظلم کرنے والے کو معاف کردینا چاہیے
٧٠٢٧۔۔۔ تم میں سے کسی کو ابو فلاں جیسا ہونے سے کیا چیز روکتی ہے ؟ وہ جب گھر سے نکلتا تو کہتا : اے اللہ ! میں نے اپنی عزت آپ کے بندوں پر صدقہ کردی پھر اگر اسے کوئی گالی دیتا تو وہ گالی نہ دیتا۔ (عبد الرزاق عن الحسن، مرسلاً )
7027- ما يمنع أحدكم أن يكون كأبي فلان؟ كان إذا خرج قال: اللهم إني قد تصدقت بعرضي على عبادك، فإن شتمه أحد لم يشتمه. "عب عن الحسن" مرسلا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০২৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ظلم کرنے والے کو معاف کردینا چاہیے
٧٠٢٨۔۔۔ اگر تم اسے معاف کردیتے تو وہ اپنے اور مد مقابل کے گناہ کا ذمہ دار ہوجاتا۔ (ابو داؤد، نسائی عن وائل بن حجر)
7028- أما إنك لو عفوت عنه فإنه يبوء بإثمه وإثم صاحبك. "د ن عن وائل بن حجر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০২৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عذر قبول کرنا
٧٠٢٩۔۔۔ جس کے پاس اس کا بھائی بری ہونے کے لیے آیا تو وہ اس کا عذر قبول کرلے اور جس نے ایسا نہ کیا وہ میرے حوض پر نہ آئے۔ (حاکم عن ابوہریرہ )
7029- من أتاه أخوه متنصلا فليقبل ذلك منه، محقا كان أو مبطلا، فإن لم يفعل لم يرد علي الحوض. "ك عن أبي هريرة".
তাহকীক: