কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৮০৩ টি
হাদীস নং: ৭০৫০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٠٥٠۔۔۔ آدمی روزہ رکھتا ، نماز پڑھتا اور حج وعمرہ کرتا ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو اسے عقل کے مطابق ثواب دیا جائے گا۔ (خطیب وضعفہ عن ابن عمر (رض))
7050- إن الرجل يصوم ويصلي ويحج ويعتمر، فإذا كان يوم القيامة أعطي بقدر عقله. "خط وضعفه عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৫১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٠٥١۔۔۔ اللہ تعالیٰ کے کچھ خاص بندے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ بلند درجات میں ٹھہرائے گا، کیونکہ وہ دنیا میں سب سے زیادہ عقلمند تھے ، ان کی حد درجہ یہی کوشش ہوتی تھی کہ وہ نیکی کے کاموں میں دوسروں سے آگے رہیں اور دنیا کی زینت اور فضول چیزیں ان کے ہاں بےوقعت تھیں۔ (الخطیب فی المتفق والمفترق وابن النجار عن البراء)
7051- إن لله خواص يسكنهم رفيع الدرجات، لأنهم كانوا في الدنيا أعقل الناس، كانت همتهم المسابقة إلى الطاعة، وهانت عليهم فضول الدنيا وزينتها. "الخطيب في المتفق والمفترق وابن النجار عن البراء".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৫২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٠٥٢۔۔۔ لوگ نیکی کے کام (تو) کرتے ہیں جبکہ انھیں بدلہ عقلوں کے لحاظ سے دیا جائے گا۔ (ابو الشیخ عن معاویۃ عن معاویہ بن قرہ عن ابیہ)
7052- الناس يعملون بالخير، وإنما يعطون أجورهم على قدر عقولهم. "أبو الشيخ عن معاوية بن قرة عن أبيه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৫৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٠٥٣۔۔۔ بابرکت ہے وہ ذات جس نے عقل کو اپنے بندوں میں مختلف (انداز) سے تقسیم کیا ہے، دو آدمیوں کا عمل، روزہ اور نماز برابر ہوتی ہے لیکن عقل میں دونوں مختلف ہوتے ہیں جیسے کسی کے پہلو میں ایک ذرہ ، اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں یقین اور عقل سے بڑھ کر کوئی چیز تقسیم نہیں کی۔ (الحکیم عن طاؤس ، مرسلاً )
7053- تبارك الذي قسم العقل بين عباده أشتاتا، إن الرجلين ليستوي عملهما وبرهما وصومهما وصلاتهما، ولكنهما يتفاوتان في العقل كالذرة في جنب أحد، وما قسم الله لخلقه حظا هو أفضل من العقل واليقين. "الحكيم عن طاوس" مرسلا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৫৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٠٥٤۔۔۔ دین داری کے بعد عقل کی بنیاد لوگوں کے ساتھ محبت سے پیش آنا ہے اور ہر اچھے برے شخص سے بھلائی کا معاملہ کرنا۔ (بیہقی عن علی)
تشریح :۔۔۔ جو لوگ دوسروں سے بھلائی اور خیر خواہی کرنے میں درجہ بندی سے کام لیتے ہیں ان کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جاتا ہے لیکن انھیں اس کا احساس نہیں ہوتا۔ (فطرتی باتیں)
تشریح :۔۔۔ جو لوگ دوسروں سے بھلائی اور خیر خواہی کرنے میں درجہ بندی سے کام لیتے ہیں ان کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جاتا ہے لیکن انھیں اس کا احساس نہیں ہوتا۔ (فطرتی باتیں)
7054- رأس العقل بعد الدين التودد إلى الناس، واصطناع الخير إلى كل بر وفاجر. "هب عن علي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৫৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٠٥٥۔۔۔ کبھی کبھار دو شخص مسجد کا رخ کرتے ہیں ان میں سے ایک (نماز پڑھ کر) لوٹ آتا ہے تو اس کی نماز دوسرے سے افضل ہوتی ہے جب یہ عقل میں اس سے اچھا ہو، اور دوسرا واپس ہوتا ہے جبکہ اس کی نماز ذرہ برابر بھی (حیثیت کی حامل) نہیں ہوتی۔ (طبرانی فی الکبیر، ابن عساکر عن ابی ایوب)
7055- قد يتوجه الرجلان إلى المسجد، فينصرف أحدهما وصلاته أفضل من الآخر إذا كان أفضلهما عقلا، وينصرف الآخر وصلاته لا تعدل مثقال ذرة. "طب وابن عساكر عن أبي أيوب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৫৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٠٥٦۔۔۔ کم توفیق والا زیادہ عقل والے سے بہتر ہے، اور عقل دنیا کے کاموں میں نقصان دہ اور دنیا کے معاملہ میں خوشی کا باعث ہے۔ (ابن عساکر عن ابی الدرداء (رض))
7056- قليل التوفيق خير من كثير العقل، والعقل في أمر الدنيا مضرة، والعقل في أمر الدين مسرة. "ابن عساكر عن أبي الدرداء".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৫৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٠٥٧۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے جب عقل کو پیدا فرمایا تو اس سے فرمایا : چہرہ ادھر کر، تو اس نے چہرہ ادھر کردیا پھر فرمایا : پیٹھ پھیر، تو اس نے پیٹھ پھیر دی، پھر فرمایا بیٹھ جا، وہ بیٹھ گئی پھر فرمایا بول، تو وہ بولنے لگی پھر فرمایا : خاموش ہوجا، تو وہ خاموش ہوگئی، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے تجھ سے زیادہ پسندیدہ اور عزت والی مخلوق پیدا نہیں فرمائی، تیری وجہ سے میں پہچانا جاؤں گا، میری تعریف کی جائے گی، میری اطاعت کی جائے گی، تیری وجہ سے میں (لوگوں سے ان کے اعمال اور صدقات) لوں گا اور تیری وجہ انھیں عطا کروں گا اور تیری وجہ سے ان پر عتاب کروں گا اور تیری وجہ سے ثواب ہے اور تجھ پر عذاب ہے اور صبر سے بڑھ کر میں نے کسی چیز سے تیری عزت نہیں کی۔ (الحکیم عن الحسن ، قال حدثنی عدۃ من الصحابہ، الحکیم عن الاوزاعی، معضلاً )
تشریح :۔۔۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا کہ ایک شخص جنگل میں رہتا ہو اور اسے توحید نہیں پہنچی پھر بھی عقل کی وجہ سے مجرم ہوگا۔
تشریح :۔۔۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا کہ ایک شخص جنگل میں رہتا ہو اور اسے توحید نہیں پہنچی پھر بھی عقل کی وجہ سے مجرم ہوگا۔
7057- لما خلق الله العقل قال له: أقبل فأقبل. ثم قال له: أدبر فأدبر، ثم قال له: أقعد فقعد، ثم قال له: انطق فنطق، ثم قال: اصمت فصمت، فقال: ما خلقت خلقا أحب إلي منك، ولا أكرم، بك أعرف، وبك أحمد، وبك أطاع، وبك آخذ، وبك أعطي، وإياك أعاتب، ولك الثواب، وعليك العقاب وما أكرمتك بشيء أفضل من الصبر. "الحكيم عن الحسن" قال حدثني عدة من الصحابة. "الحكيم عن الأوزاعي معضلا"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৫৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٠٥٨۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے جب عقل کو پیدا فرمایا تو اس سے فرمایا : ادھر مڑ، تو وہ مڑگئی اور فرمایا ادھر مڑ، تو وہ مڑگئی پھر فرمایا : مجھے اپنی عزت کی قسم میں نے تجھ سے پسندیدہ مخلوق پیدا نہیں فرمائی، تیری وجہ سے میں لوں گا اور تیری وجہ سے دوں گا، تیری وجہ سے ثواب اور تجھ پر عذاب ہے۔ (طبرانی عن ابی امامۃ)
تشریح :۔۔۔ مجنوں اور نیم پاگل لوگ ثواب عذاب سے مستثنیٰ ہیں۔
تشریح :۔۔۔ مجنوں اور نیم پاگل لوگ ثواب عذاب سے مستثنیٰ ہیں۔
7058- لما خلق الله العقل قال له: أقبل فأقبل، ثم قال له: أدبر فأدبر، فقال: وعزتي ما خلقت خلقا أعجب إلي منك، بك آخذ، وبك أعطي، وبك الثواب وعليك العقاب. "طب عن أبي أمامة
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৫৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٠٥٩۔۔۔ تمہیں کسی آدمی کا اسلام قبول کرنا تعجب میں نہ ڈالے یہاں تک کہ یہ معلوم کرلو اس کی عقل کی گرہ (کتنی) ہے۔ (عقیلی فی الضعفاء ، وقال منکر، ابن عدی فی الکامل، بیہقی وضعفہ عن ابن عمرو)
7059- لا يعجبنكم إسلام امرئ حتى تعلموا ما عقدة عقله. "عق وقال منكر عد هب وضعفه عن ابن عمرو".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৬০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٠٦٠۔۔۔ کسی شخص کے مسلمان ہونے سے خوش نہ ہو بلکہ اس کی عقل کی حد معلوم کرو۔ (الحکیم عن ابن عمر)
7060- لا يعجبنكم إسلام رجل حتى تعلموا ما عقدة عقله. "الحكيم ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৬১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٠٦١۔۔۔ اے علی ! جب لوگ نیکی کے مختلف کاموں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کریں تو تم عقل کے مختلف طریقوں سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرو، تم ان سے درجات اور قربت میں، دنیا میں لوگوں کے ہاں اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے ہاں آگے نکل جاؤ گے۔ (حلیۃ الاولیاء عن علی )
تشریح :۔۔۔ یعنی دنیا میں تمہاری مقبولیت ہوگی اور آخرت میں مخصوص طبقہ میں شمار ہوگے۔
تشریح :۔۔۔ یعنی دنیا میں تمہاری مقبولیت ہوگی اور آخرت میں مخصوص طبقہ میں شمار ہوگے۔
7061- يا علي إذا تقرب الناس إلى الله في أبواب البر فتقرب إلى الله بأنواع العقل، تسبقهم بالدرجات والزلفى، عند الناس في الدنيا وعند الله في الآخرة. "حل ز عن علي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৬২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٠٦٢۔۔۔ اے علی ! لوگوں کی دو قسمیں ہیں، ایک عقلمند جو درگزر کے لیے صلح کرتا ہے اور جاہل جو سزا کے لیے صلح کرتا ہے۔ (ابن عساکر عن علی ) فرماتے ہیں جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے یمن بھیجا تو یہ ارشاد فرمایا۔
7062- يا علي: الناس رجلان: فعاقل يصلح للعفو، وجاهل يصلح للعقوبة. "ابن عساكر عن علي" قال لما انفذني النبي صلى الله عليه وسلم إلى اليمن قال فذكره.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৬৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٠٦٣۔۔۔ جنت کے سو درجات ہیں (جن میں سے ) ننانوے (٩٩) عقلمندوں کے لیے ہیں اور ایک درجہ ان کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لیے ہے۔ (حلیۃ الاولیاء عن عمر)
تشریح :۔۔۔ جنت کے دروازے آٹھ ہیں طبقات بھی آٹھ ہیں، پھر ہر طبقہ میں ایک ایمان کے مراتب سے مختلف درجات ہیں، اس لیے کسی جنتی کا کسی مقام پر ہونا اس کے مقام و مرتبہ میں کمی کا باعث نہ ہوگا، بلکہ ہر شخص کی اپنی جدا دنیا ہوگی، جس میں غیر کی آمدورفت نہ ہوگی۔
تشریح :۔۔۔ جنت کے دروازے آٹھ ہیں طبقات بھی آٹھ ہیں، پھر ہر طبقہ میں ایک ایمان کے مراتب سے مختلف درجات ہیں، اس لیے کسی جنتی کا کسی مقام پر ہونا اس کے مقام و مرتبہ میں کمی کا باعث نہ ہوگا، بلکہ ہر شخص کی اپنی جدا دنیا ہوگی، جس میں غیر کی آمدورفت نہ ہوگی۔
7063- الجنة مائة درجة، تسعة وتسعون لأهل العقل، ودرجة لسائر الناس الذين هم دونهم. "حل عن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৬৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرف الغین ۔۔۔ غیرت کا بیان
٧٠٦٤۔۔۔ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی غیرت مند نہیں اس وجہ سے اس نے ظاہری باطنی فحش چیزیں حرام قرار دی ہیں، اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کسی کو مدح و تعریف پسند نہیں، اسی وجہ سے اس نے اپنی مدح کی ہے اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کسی کو عذر (قبول کرنا) پسند نہیں اس بنا پر اس نے کتاب ہر دور میں نازل کی اور (کئی) رسول بھیجے۔ (مسند احمد، بیہقی، ترمذی عن ابن مسعود
تشریح :۔۔۔ تاکہ کوئی عذر کرنا چاہے تو اس کے لیے گنجائش ہو، یہ کوئی نہ کہے کہ ہمیں تو پتہ بھی نہیں تھا۔
تشریح :۔۔۔ تاکہ کوئی عذر کرنا چاہے تو اس کے لیے گنجائش ہو، یہ کوئی نہ کہے کہ ہمیں تو پتہ بھی نہیں تھا۔
7064- لا أحد أغير من الله، ولذلك حرم الفواحش ما ظهر منها وما بطن، ولا أحد أحب إليه المدح من الله، ولذلك مدح نفسه، ولا أحد أحب إليه العذر من الله، من أجل ذلك أنزل الكتاب، وأرسل الرسل. "حم ق ت عن ابن مسعود".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৬৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرف الغین ۔۔۔ غیرت کا بیان
٧٠٦٥۔۔۔ غیرت ایمان کا حصہ ہے اور بےغیرتی نفاق کا جز ہے۔ (بیہقی فی السنن عن زید بن اسلم)
تشریح :۔۔۔ لفظ مذاء کا مفہوم ذاتی یہ ہے کہ جو شخص اس بات کی پروانہ کرتا ہو کہ اس کی بیوی کے پاس کس کی آمدورفت رہتی ہے جسے باالفاظ دیگر دیوث کہتے ہیں۔ (لغات الحدیث ج ٣)
تشریح :۔۔۔ لفظ مذاء کا مفہوم ذاتی یہ ہے کہ جو شخص اس بات کی پروانہ کرتا ہو کہ اس کی بیوی کے پاس کس کی آمدورفت رہتی ہے جسے باالفاظ دیگر دیوث کہتے ہیں۔ (لغات الحدیث ج ٣)
7065- إن الغيرة من الإيمان، وإن المذاء من النفاق. "هق عن زيد بن أسلم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৬৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرف الغین ۔۔۔ غیرت کا بیان
٧٠٦٦۔۔۔ بعض غیرت کی باتیں اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں اور بعض ناپسند، اور بعض تکبر اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اور بعض ناپسند، رہی وہ غیرت جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتے ہیں شک و تہمت (والے معاملہ) میں غیرت کرنا ہے اور وہ غیرت جسے اللہ تعالیٰ ناپسند کرتے ہیں وہ غیرت ہے جو شک و تہمت میں نہ ہو اور وہ تکبر جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتے ہیں وہ مرد کا قتال میں اترا کر چلنا ہے اور متکبرانا چال جو صدقہ کے وقت ہو ، رہا وہ تکبر جسے اللہ تعالیٰ ناپسند کرتے ہیں آدمی کا بغاوت و فخر پر تکبر کرنا ہے۔ (مسند احمد، ابو داؤد، نسائی، ابن حبان جابر بن عتیک)
تشریح : قتال میں مجاہد کا تکبر اپنی ذات کیلئے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کیلئے ہوتا ہے صدقہ میں تکبر انسان کو پچھتاوے سے باز رکھتا ہے
تشریح : قتال میں مجاہد کا تکبر اپنی ذات کیلئے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کیلئے ہوتا ہے صدقہ میں تکبر انسان کو پچھتاوے سے باز رکھتا ہے
7066- إن من الغيرة ما يحب الله، ومنها ما يبغض الله، وإن من الخيلاء ما يحب الله، ومنها ما يبغض الله، فأما الغيرة التي يحبها الله فالغيرة في الريبة، وأما الغيرة التي يبغضها الله فالغيرة في غير الريبة، وأما الخيلاء التي يحبها الله؛ فاختيال الرجل في القتال، واختياله عند الصدقة، وأما الخيلاء التي يبغض الله فاختيال الرجل في البغي والفخر. "حم د ن حب عن جابر بن عتيك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৬৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرف الغین ۔۔۔ غیرت کا بیان
٧٠٦٧۔۔۔ بعض غیرت کے کام اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں اور بعض ناپسند، شک و تہمت (والے معاملہ) میں غیرت اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اور شک و تہمت کے علاوہ میں غیرت ناپسند ہے۔ (ابن ماجہ عن ابوہریرہ (رض))
7067- من الغيرة ما يحب الله، ومنها ما يكره الله، فأما ما يحب فالغيرة في الريبة، وأما ما يكره فالغيرة في غير الريبة. "هـ عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৬৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرف الغین ۔۔۔ غیرت کا بیان
٧٠٦٨۔۔۔ غیرت ایمان کا جزء اور بےغیرتی نفاق کا حصہ ہے۔ (البزار، بیہقی عن ابی سعید)
7068- الغيرة من الإيمان، والمذاء من النفاق. "البزار هب عن أبي سعيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৬৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرف الغین ۔۔۔ غیرت کا بیان
٧٠٦٩۔۔۔ دو غیرتیں ہیں ان میں سے ایک اللہ تعالیٰ کو پسند اور دوسری ناپسند ہے اور دو تکبر انہ چالیں ہیں ان میں سے ایک اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اور دوسری ناپسند، شک و تہمت (والے مقام) کی غیرت اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اور بغیر شک اور تہمت والی غیرت ناپسند ہے وہ اتراہٹ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے جو آدمی صدقہ دیتے وقت کرے، اور تکبر کی وجہ سے اترانا اللہ تعالیٰ کو ناپسند
ہے۔ (مسند احمد، طبرانی، حاکم عن عقبۃ بن عامر)
ہے۔ (مسند احمد، طبرانی، حاکم عن عقبۃ بن عامر)
7069- غيرتان أحدهما يحبها الله، والأخرى يبغضها، ومخيلتان إحداهما يحبها الله، والأخرى يبغضها الله، الغيرة في الريبة يحبها الله، والغيرة في غير ريبة يبغضها الله، والمخيلة إذا تصدق الرجل يحبها الله، والمخيلة في الكبر يبغضها الله عز وجل. "حم طب ك عن عقبة بن عامر".
তাহকীক: