কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৮০৩ টি
হাদীস নং: ৭০৭০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرف الغین ۔۔۔ غیرت کا بیان
٧٠٧٠۔۔۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے انتہائی غیرت مند شخص کو پسند کرتے ہیں۔ (طبرانی فی الاوسط عن علی)
تشریح :۔۔۔ یعنی خصوصی محبت اور برتاؤ والا معاملہ فرماتے ہیں۔
تشریح :۔۔۔ یعنی خصوصی محبت اور برتاؤ والا معاملہ فرماتے ہیں۔
7070- إن الله تعالى يحب من عباده الغيور. "طس عن علي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৭১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرف الغین ۔۔۔ غیرت کا بیان
٧٠٧١۔۔۔ اللہ تعالیٰ مسلمان کے لیے غیرت کھاتے ہیں مسلمان کو بھی غیرت کرنی چاہیے۔ (طبرانی فی الاوسط عن ابن مسعود
یعنی کسی وقت مسلمان کی بےعزتی اور سبکی ہو رہی ہو یا وہ لاچار و بےمددگار ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتے ہیں، مسلمان کو بھی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے غیرت کرے۔
یعنی کسی وقت مسلمان کی بےعزتی اور سبکی ہو رہی ہو یا وہ لاچار و بےمددگار ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرتے ہیں، مسلمان کو بھی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کے لیے غیرت کرے۔
7071- إن الله تعالى يغار للمسلم فليغر. "طس عن ابن مسعود".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৭২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مسلمان کے حرام کرنے سے اللہ کو غیرت آتی ہے
٧٠٧٢۔۔۔ اللہ تعالیٰ غیرت کرتے ہیں اور مومن بھی غیرت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی غیرت یہ ہے کہ مومن وہ کام کرے جنہیں اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا ہے۔ (بیہقی، ترمذی عن ابوہریرہ (رض))
7072- إن الله تعالى يغار وإن المؤمن يغار، وغيرة الله أن يأتي المؤمن ما حرم الله عليه. "ق ت" عن أبي هريرة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৭৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مسلمان کے حرام کرنے سے اللہ کو غیرت آتی ہے
٧٠٧٣۔۔۔ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی غیرت والا نہیں۔ (مسند احمد ، بیہقی عن اسماء بنت ابی بکر)
7073- لا شيء أغير من الله تعالى. "حم ق عن أسماء بنت أبي بكر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৭৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٠٧٤۔۔۔ اللہ تعالیٰ اس شخص سے نفرت کرتے ہیں جس کے گھر میں کوئی (غیر) آتا ہے اور وہ (اس سے) لڑتا نہیں۔ (الدیلمی عن علی)
7074- إن الله تعالى ليبغض الرجل يدخل عليه في بيته فلا يقاتل. "الديلمي عن علي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৭৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٠٧٥۔۔۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز بےغیرت کی فرض عبادت قبول کریں گے اور نہ نفلی، لوگوں نے پوچھا : یا رسول اللہ ! بےغیرت سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : جس کی اہلیہ کے پاس (نامحرم) مرد آتے ہیں۔ (بخاری فی التاریخ والخرائطی فی مساوی الاخلاق، طبرانی فی الکبیر وابو نعیم، بیہقی وابن عساکر عن مالک بن احمیر الجذامی)
7075- إن الله تعالى لا يقبل يوم القيامة من الصقور صرفا ولا عدلا، قيل وما الصقور يا رسول الله؟ قال: الذي يدخل على أهله الرجال. "خ في التاريخ والخرائطي في مساوى الأخلاق طب وأبو نعيم هب وابن عساكر عن مالك بن أحيمر الجذامي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৭৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٠٧٦۔۔۔ میں (بھی) غیرت مند ہوں جبکہ اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیرت والے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے غیرت مند (بندے) کو پسند کرتے ہیں۔ (الدیلمی عن علی)
7076- إني لغيور، والله عز وجل أغير مني، وإن الله تعالى يحب من عباده الغيور. "الديلمي عن علي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৭৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٠٧٧۔۔۔ میں سعد سے زیادہ غیرت مند ہوں ، اور اللہ تعالیٰ مجھ سے بھی زیادہ غیرت والے ہیں اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی عذر (قبول کرنے) کو پسند نہیں کرتا، اسی وجہ سے اس نے رسول بھیجے اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی مدح (سننے) کو پسند نہیں کرتا اسی وجہ سے اس نے اپنی مدح کی ہے اور اسی بنا پر جنت کا وعدہ کیا ہے۔ (حاکم عن المغیرۃ بن شعبۃ)
7077- أنا أغير من سعد، والله أغير مني، وما من أحد أحب إليه العذر من الله، من أجل ذلك بعث المرسلين، وما من أحد أحب إليه المدح من الله، من أجل ذلك وعد الجنة. "ك عن المغيرة بن شعبة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৭৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٠٧٨۔۔۔ اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی غیرت والا نہیں اسی وجہ سے اس نے فحش (باتیں اور چیزیں) کو حرام قرار دیا ہے اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کسی کو مدح پسند نہیں اسی وجہ سے اس نے اپنی مدح کی ہے اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی عذر کو پسند نہیں کرتا اسی وجہ سے وہ اپنی مخلوق کی معذرت قبول کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کسی کو حمد پسند نہیں اسی وجہ سے اس نے اپنی تعریف کی ہے۔ (طبرانی فی الکبیر عن ابن مسعود)
7078- ما أحد أغير من الله، وذلك أنه حرم الفواحش، وما أحد أحب إليه المدحة من الله وذلك أنه مدح نفسه، وما أحد أحب إليه العذر من الله، وذلك أنه اعتذر إلى خلقه، ولا أحد أحب إليه الحمد من الله وذلك أنه حمد نفسه. "طب عن ابن مسعود".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৭৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٠٧٩۔۔۔ اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی غیرت والا نہیں اسی وجہ سے اس نے فواحش چاہے پوشیدہ ہوں یا ظاہر حرام قرار دیے ہیں۔ (طبرانی فی الکبیر عن اسماء بنت ابی بکر)
7079- لا أحد أغير من الله، ولذلك حرم الفواحش ما ظهر منها وما بطن. "طب عن أسماء بنت أبي بكر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৮০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرف القاف۔۔۔ قناعت اور سوء ظن کی وجہ سے لوگوں سے بے پرواہی
٧٠٨٠۔۔۔ قناعت ایسا مال ہے جو ختم نہیں ہوتا۔ (القضاعی عن انس)
7080- القناعة مال لا ينفد. "القضاعي عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৮১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرف القاف۔۔۔ قناعت اور سوء ظن کی وجہ سے لوگوں سے بے پرواہی
٧٠٨١۔۔۔ اے انسان ! تیرے پاس وہ ہے جو تیرے لیے کافی ہے جبکہ تو ایسی چیز طلب کرتا ہے جو تجھے سرکش بنا دے، اے انسان تو تھوڑے پر قناعت نہیں کرتا، اور نہ زیادہ سے سیر ہوتا ہے، اے انسان ! جب تو اس طرح صبح کرے کہ تیرے بدن میں عافیت ہو، تیرے گھر میں امن ہو اور تیرے پاس ایک دن کا کھانا ہو تو دنیا پر مٹی یعنی تف ہے۔ (ابن عدی فی الکامل بیہقی عن ابن عمر)
تشریح :۔۔۔ اللہ تعالیٰ داتا ہیں وہ خوب جانتے ہیں کس کو کتنا دینا ہے کون سرکش ہوگا اور کون فرمان بردار، سلیمان و محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دنیا کی بادشاہت دی لیکن عجز و انکساری کے پیکر تھے، فرعون و شداد کو چند حیلوں سے حکومت ملی تو لگے سرکشی کرنے
تشریح :۔۔۔ اللہ تعالیٰ داتا ہیں وہ خوب جانتے ہیں کس کو کتنا دینا ہے کون سرکش ہوگا اور کون فرمان بردار، سلیمان و محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دنیا کی بادشاہت دی لیکن عجز و انکساری کے پیکر تھے، فرعون و شداد کو چند حیلوں سے حکومت ملی تو لگے سرکشی کرنے
7081- ابن آدم عندك ما يكفيك، وأنت تطلب ما يطغيك، ابن آدم لا بقليل تقنع، ولا من كثير تشبع، ابن آدم إذا أصبحت معافى في جسدك آمنا في سربك عندك قوت يومك، فعلى الدنيا العفاء. "عد هب عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৮২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرف القاف۔۔۔ قناعت اور سوء ظن کی وجہ سے لوگوں سے بے پرواہی
٧٠٨٢۔۔۔ جب تو اپنے گھر میں امن سے ہو تیرے بدن میں عافیت ہو اور تیرے پاس تیرے اس روز کا کھانا ہو تو دنیا پر خاک پڑے۔ (بیہقی عن ابوہریرہ (رض))
7082- إذا أصبحت آمنا في سربك معافى في بدنك عندك قوت يومك فعلى الدنيا العفاء. "هب عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৮৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرف القاف۔۔۔ قناعت اور سوء ظن کی وجہ سے لوگوں سے بے پرواہی
٧٠٨٣۔۔۔ جو تم میں سے اپنے گھر امن سے ہو اس کے بدن میں عافیت ہو اس کے پاس اس روز کا کھانا موجود ہو تو گویا اس کے پاس پوری دنیا سمٹ کر آگئی۔ (بخاری فی الادب المفرد، ترمذی عن عبید اللہ بن محصن)
7083- من أصبح منكم آمنا في سربه معافى في جسده وعنده قوت يومه فكأنما حيزت له الدنيا. "خد ت هـ عن عبيد الله بن محصن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৮৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرف القاف۔۔۔ قناعت اور سوء ظن کی وجہ سے لوگوں سے بے پرواہی
٧٠٨٤۔۔۔ تم میں سے اللہ تعالیٰ کو وہ شخص زیادہ پسند ہے جس کا کھانا کم اور بدن ہلکا ہو۔ (فردوس عن ابن عباس)
7084- أحبكم إلى الله تعالى أقلكم طعما وأخفكم بدنا. "فر عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৮৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرف القاف۔۔۔ قناعت اور سوء ظن کی وجہ سے لوگوں سے بے پرواہی
٧٠٨٥۔۔۔ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو بھلائی پہنچانا چاہیں تو اس کا دل غنی کردیتے اور اس کا دل متقی بنا دیتے ہیں اور جب کسی بندے کو کسی برائی سے دوچار کرنا چاہیں تو محتاجی کو اس کا نصب العین بنا دیتے ہیں۔ (الحکیم، فردوس عن ابوہریرہ (رض))
7085- إذا أراد الله بعبد خيرا جعل غناه في نفسه، وتقاه في قلبه، وإذا أراد بعبد شرا جعل فقره بين عينيه. "الحكيم فر عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৮৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرف القاف۔۔۔ قناعت اور سوء ظن کی وجہ سے لوگوں سے بے پرواہی
٧٠٨٦۔۔۔ جب سخت بھوک لگے تو ایک چپاتی کھالو اور صاف پانی کا ایک گھونٹ پی لو، اور کہو دنیا اور دنیا والوں پر مار پڑے۔ (بیہقی ، ابن عدی فی الکامل عن ابوہریرہ (رض))
7086- إذا اشتد كلب الجوع فعليك برغيف وجرة من الماء القراح، وقل على الدنيا وأهلها مني الدمار. "هب عد عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৮৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرف القاف۔۔۔ قناعت اور سوء ظن کی وجہ سے لوگوں سے بے پرواہی
٧٠٨٨۔۔۔ میری امت کے بہترین لوگ وہ ہیں جنہیں (اس لیے) نہیں دیا گیا کہ وہ اترانے لگیں اور نہ ان سے (جرورت کا سامان) روکا گیا کہ وہ لوگوں سے مانگنے لگیں۔ (ابن شاھین عن الجذع)
تشریح :۔۔۔ یعنی انھیں اعتدال کی روزی عطا کی گئی ہے۔
تشریح :۔۔۔ یعنی انھیں اعتدال کی روزی عطا کی گئی ہے۔
7087- أكبر أمتي الذين لم يعطوا فيبطروا، ولم يقتر عليهم فيسألوا. "تخ والبغوي وابن شاهين عن الجذع الأنصاري".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৮৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرف القاف۔۔۔ قناعت اور سوء ظن کی وجہ سے لوگوں سے بے پرواہی
٧٠٨٨۔۔۔ میری امت کے بہترین لوگ وہ ہیں جنہیں (اس لیے) نہیں دیا گیا کہ وہ اترانے لگیں اور نہ ان سے (جرورت کا سامان) روکا گیا کہ وہ لوگوں سے مانگنے لگیں۔ (ابن شاھین عن الجذع)
تشریح :۔۔۔ یعنی انھیں اعتدال کی روزی عطا کی گئی ہے۔
تشریح :۔۔۔ یعنی انھیں اعتدال کی روزی عطا کی گئی ہے۔
7088- خير أمتي الذين لم يعطوا فيبطروا، ولم يمنعوا فيسألوا. "ابن شاهين عن الجذع".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৮৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ روزی کم ہونا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی نہیں ہے
٧٠٨٩۔۔۔ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو پسند کرتے ہیں تو اس کا رزق (قابل) کفایت کرتے دیتے ہیں۔ (ابو الشیخ عن علی)
7089- إن الله تعالى إذا أحب عبدا جعل رزقه كفافا. "أبو الشيخ عن علي".
তাহকীক: