কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

حج اور عمرۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১৭০ টি

হাদীস নং: ১২৩৪১
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الحج عن الغیر من الاکمال

دوسرے کی جانب سے حج کرنا
12341 جس شخص نے کسی میت کی جانب سے حج کیا، تو جس نے اس کی جانب سے حج کیا ہے اس کو اس میت کے ثواب جیسا ثواب ملے گا، اور جس شخص نے کسی روزے دار کو افطار کرایا تو اس افطار کرانے والے کو روزے دار کی طرح ثواب ملے گا، اور جس شخص نے کسی خیر کے کام پر دلالت کی تو اس کارخیر پر نشاندہی گرنے والے کو ایسا ہی ثواب ملے گا جیسا کہ اس کارخیر کو انجام دینے والے کو ملتا ہے۔ رواہ الخطیب عن ابوہریرہ (رض) ۔

کلام : الضعیفۃ 1184 ۔
12341- من حج عن ميت، فللذي حج عنه مثل أجره، ومن فطر صائما فله مثل أجره، ومن دل على خير فله مثل أجر فاعله. "الخطيب عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৪২
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الحج عن الغیر من الاکمال

دوسرے کی جانب سے حج کرنا
12342 جس شخص نے کسی میت کی طرف سے حج کیا تو اس میت اور (اس کی جانب سے) حج کرنے والے کے لیے جہنم سے برأت لکھ دی جاتی ہے۔ رواہ الدیلمی عن ابن عباس (رض) ۔
12342- من حج عن ميت كتبت عن الميت وكتب للحاج براءة من النار. "الديلمي عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৪৩
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الحج عن الغیر من الاکمال

دوسرے کی جانب سے حج کرنا
12343 میت کے لیے ایک حج (درحقیقت ) تین حج ہیں، ایک حج تو جس کی طرف سے حج کیا گیا، دوسرے حج حاجی کے لیے تیسرا حج وصیت کرنے والے کے لیے (یعنی ان سب کو ایک حج کا پورا پورا ثواب ملتا ہے گویا کہ ایک حج تین حج ہوئے) ۔

کلام : روایت ضعیف ہے : الضعیفۃ 1979 ۔
12343- حجة للميت ثلاثة: حجة للمحجوج عنه، وحجة للحاج وحجة للموصي. "الديلمي عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৪৪
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الحج عن الغیر من الاکمال

دوسرے کی جانب سے حج کرنا
12344 اس کے لیے چار حج کا ثواب لکھا جاتا ہے، ایک اس شخص کے حج کا ثواب جس نے اسے لکھا، اور ایک اس شخص کے حج کا ثواب جس نے اس پر خرچہ وغیرہ کیا، اور ایک اس شخص کا حج کا ثواب جس نے اس کو کیا (یعنی انجام دیا) اور ایک اس شخص کا حج کا ثواب جس نے اس کے بارے میں حکم جاری کیا (یعنی میت کی طرف سے حج بدل کرنے پر میت کو چار حج کا ثواب لکھا جاتا ہے) ۔ رواہ البیہقی وضعف عن انس (رض) ۔ یہ حدیث اس شخص کے بارے میں ہے جس نے حج کی وصیت کی تھی۔

کلام : امام بیہقی (رح) نے اس کو ضعیف کہا ہے۔
12344- كتب له أربع حجج: حجة للذي كتبها، وحجة للذي أنفقها، وحجة للذي أخذها، وحجة للذي أمر بها. "ق وضعف عن أنس في رجل أوصى بحجة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৪৫
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام ذکرت فی حجۃ الوداع من الاکمال

وہ احکامات جو حج وداع کے موقع پر ذکر کیے گئے
12345 کیا تم جانتے ہو کہ یہ کونسا دن ہے ؟ اور کونسا مہینہ ہے ؟ اور کونسا شہر ہے ؟ تو صحابہ کرام (رض) نے جواب دیا : یہ محترم شہر (مکہ) ہے، اور محترم مہینہ (ذوالحجہ) ہے اور محترم دن (عرفہ) ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ : آگاہ رہو ! بیشک تمہارے خون اور تمہارے مال تم پر ایسے ہی محترم ہیں، جیسے کہ تمہارے اس دن (عرفہ) میں ہیں، اور تمہارے اس مہینہ (ذوالحجہ) میں اور تمہارے اس شہر (مکہ ) میں محترم ہیں (آگاہ رہو ! ) میں تم سے حوض (کوثر) پر آگے بڑھنے والا ہوں گا، تمہیں دیکھوں گا اور دوسری امتوں کے سامنے تم پر فخر کروں گا، لہٰذا مجھے رسوانہ کردینا۔

آگاہ رہو ! تم نے مجھے دیکھا ہے، اور مجھ سے (احکامات الٰہی) سنے ہیں، اور میرے بارے میں تم سے پوچھا جائے گا، پس جس شخص نے مجھ پر جھوٹ باندھا تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم بنائے۔

آگاہ رہو ! میں بہت سے لوگوں کو (جہنم سے) نجات دلاؤں گا۔ اور کئی لوگ میرے ذریعہ (جہنم سے) چھٹکارا پائیں گے۔ اور میں کہوں گا اے پروردگار ! میرے ساتھی ؟ تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے کہ ” تم نہیں جانتے کہ تمہارے بعد انھوں نے کیا کیا چیزیں گھڑیں۔ “

رواہ احمدفی مسندہ عن رجل من الصحابہ وابن ماجہ عن ابی مسعود (رض) ۔
12345- أتدرون أي يوم هذا؟ وأي شهر هذا؟ وأي بلد هذا؟ قالوا: هذا بلد حرام، وشهر حرام، ويوم حرام، قال: ألا وإن دماءكم وأموالكم عليكم حرام، كحرمة يومكم هذا، في شهركم هذا في بلدكم هذا، ألا وإني فرطكم على الحوض أنظركم وأكاثر بكم الأمم، فلا تسودوا وجهي، ألا وقد رأيتموني وسمعتم مني وستسألون عني، فمن كذب علي فليتبوأ مقعده من النار، ألا وإني مستنقذ أناسا ومستنقذ مني أناس، فأقول: يا رب أصحابي فيقول: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك. "حم عن رجل من الصحابة هـ عن ابن مسعود"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৪৬
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام ذکرت فی حجۃ الوداع من الاکمال

وہ احکامات جو حج وداع کے موقع پر ذکر کیے گئے
12346 بیشک تمہارے خون اور تمہاری آبرو تم پر ایسی ہی محترم ہیں جس طرح تمہارے اس دن (عرفہ) میں اور تمہارے اس مہینہ (ذوالحجہ) میں اور تمہارے اس شہر (مکہ) میں محترم ہیں۔

رواہ الطبرانی فی الکبیر عن فضالۃ بن عبید (رض) ۔
12346- إن دماءكم وأعراضكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا. "طب عن فضالة بن عبيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৪৭
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام ذکرت فی حجۃ الوداع من الاکمال

وہ احکامات جو حج وداع کے موقع پر ذکر کیے گئے
12347 آگاہ رہو ! بیشک تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری آبرو تم پر ایسی ہی حرام ومحترم ہیں، جیسے تمہارے اس دن (عرفہ) کی حرمت ہے اور تمہارے اس شہر (مکہ ) کی حرمت ہے اور تمہارے اس مہینہ (ذوالحجہ) کی حرمت ہے ، سنو ! کیا میں نے (احکامات خداوندی) پہنچا دیئے ؟ (صحابہ نے اثبات میں گواہی دی تو) آپ نے ارشاد فرمایا : اے اللہ تو (اپنے ان بندوں کی گواہی پر) گواہ رہنا۔

رواہ احمد فی مسندہ والنسائی وابن خزیمۃ والبغوی والباوردی وابن قانع وابن حبان فی صحیحہ والطبرانی فی الکبیر سعید بن منصور فی سننہ عن موسیٰ بن زیادبن حذیم بن عمر السعدی عنابیہ عن جدہ۔
12347- ألا إن دماءكم وأموالكم وأعراضكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا، وكحرمة بلدكم هذا، وكحرمة شهركم هذا، ألا هل بلغت اللهم اشهد. "حم ن وابن خزيمة والبغوي والباوردي وابن قانع حب طب ص عن موسى بن زياد بن حذيم بن عمر السعدي عن أبيه عن جده".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৪৮
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام ذکرت فی حجۃ الوداع من الاکمال

وہ احکامات جو حج وداع کے موقع پر ذکر کیے گئے
12348 کون سا دن سب سے زیادہ عظیم حرمت والا ہے ؟ اور کونسا مہینہ زیادہ حرمت والا ہے ؟ اور کونسا شہر زیادہ عظیم حرمت والا ہے ؟ تو صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا کہ ” ہمارا یہ دن (عرفہ) اور یہ مہینہ (ذوالحجہ) اور یہ شہر (مکہ) زیادہ عظیم حرمت والے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ : بیشک تمہارے خون تمہارے مال اور تمہاری آبرو، تمہارے اس مہینہ (ذوالحجہ) میں ، تمہارے اس شہر (مکہ) میں، تمہارے اس دن کی حرمت کی مانند ہیں۔ رواہ احمد فی مسندہ وابویعلی فی مسندہ و سعید بن منصور فی سننہ عن جابر (رض) ، رواہ احمد فی مسندہ والبغوی وابن قانع عن لبیط بن شریط عن ابیہ۔
12348- أي يوم أعظم حرمة؟ وأي شهر أعظم حرمة؟ وأي بلد أعظم حرمة؟ قالوا: يومنا هذا وشهرنا هذا، وبلدنا هذا، قال فإن دماءكم وأموالكم وأعراضكم حرام كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا. "حم ع ص عن جابر" "حم والبغوي وابن قانع عن نبيط بن شريط عن أبيه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৪৯
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام ذکرت فی حجۃ الوداع من الاکمال

وہ احکامات جو حج وداع کے موقع پر ذکر کیے گئے
12349 اے لوگو ! کونسا مہینہ زیادہ حرمت والا ہے، تو صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا کہ : یہ (ذوالحجہ کا مہینہ) تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اے لوگو ! پھر کونسا شہر زیادہ حرمت والا ہے ؟ صحابہ (رض) نے عرض کیا کہ : یہ (یعنی مکہ سب سے زیادہ محترم ہے) تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ : بیشک تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری آبرو تم پر ایسی ہی حرام ومحترم ہیں جیسے کہ تمہارے اس دن (عرفہ) میں، تمہارے اس مہینہ (ذوالحجہ) میں اور تمہارے اس شہر (مکہ) میں اس دن تک جس دن میں تم اپنے رب سے ملاقات کرو گے (قیامت تک) حرام ہیں۔ یعنی جیسے تم قتل و قتال اور لوٹ مار کو اس دن، اس مہینہ اور اس شہر میں حرام جانتے ہو اسی طرح یہ چیزیں تم پر قیامت تک کے لیے محترم ہیں، رواہ البزار عن وابصۃ۔
12349- أيها الناس، أي شهر أحرم؟ قالوا: هذا، قال: أيها الناس، فأي بلد أحرم؟ قالوا: هذا، قال: فإن دماءكم وأموالكم وأعراضكم محرمة عليكم كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا إلى يوم تلقون ربكم هل بلغت؟ اللهم اشهد، أيها الناس ليبلغ الشاهد منكم الغائب. "بز عن وابصة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৫০
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام ذکرت فی حجۃ الوداع من الاکمال

وہ احکامات جو حج وداع کے موقع پر ذکر کیے گئے
12350 تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے، ہم اسی کی حمد بیان کرتے ہیں اور اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے مغفرت طلب کرتے ہیں، اور اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سواء کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ بندے اور اس کے رسول ہیں میں تمہیں اللہ سے ڈرتے رہتے کی وصیت کرتا ہوں، کونسا دن سب سے زیادہ حرمت والا ہے ؟ تو صحابہ (رض) نے عرض کیا کہ : یہ دن (عرفہ کا دن تو ) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کونسا مہینہ زیادہ حرمت والا ہے ؟ تو صحابہ (رض) نے عرض کیا کہ : یہ مہینہ (ذوالحجہ) تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ : کونسا شہر زیادہ حرمت والا ہے ؟ تو صحابہ (رض) نے عرض کیا کہ : یہ شہر (یعنی مکہ) ، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ : بیشک تمہارے خون اور تمہارے مال تم پر ایسے ہی محترم ہیں جس طرح تمہارے اس دن (عرفہ) میں تمہارے اس شہر (ذوالحجہ) میں تمہارے اس شہر (مکہ) میں حرام ہیں، کیا میں نے (احکام خداوندی) پہنچادیئے ؟ (تو سب نے اثبات میں گواہی دی تو) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ : اے اللہ تو (اپنے ان بندوں کو گواہی پر) گواہ رہنا۔

رواہ ابن سعید، والطبرانی فی الکبیر والبیہقی عن نبی ط بن شریط۔

نبی ط بن شریط فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کے پیچھے سواری پر بیٹھا تھا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمرہ اولیٰ کے پاس خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : پھر مذکورہ حدیث ذکر فرمائی۔
12350- الحمد لله نحمده ونستعينه ونستغفره ونشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله، أوصيكم بتقوى الله، أي يوم أحرم؟ قالوا: هذا اليوم قال: فأي شهر أحرم؟ قالوا: هذا الشهر قال: فأي بلد أحرم؟ قالوا: هذا البلد قال: فإن دماءكم وأموالكم حرام عليكم كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا، فهل بلغت؟ اللهم اشهد. "ابن سعد طب ق عن نبيط بن شريط" قال: كنت ردف أبي والنبي صلى الله عليه وسلم يخطب عند الجمرة قال: فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৫১
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام ذکرت فی حجۃ الوداع من الاکمال

وہ احکامات جو حج وداع کے موقع پر ذکر کیے گئے
12351 اے لوگو ! بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری اولاد کو ایسا ہی محترم بنایا ہے جس طرح کہ یہ سب اس مہینہ کے اس دن (عرفہ) میں اور اس سال کے اس مہینہ (ذوالحجہ) میں حرام ہیں، اے اللہ ! کیا میں نے (دین) پہنچا دیا، اے اللہ ! آیا میں نے (دین) پہنچا دیا۔ رواہ ابن النجار عن فیس بن کلام الکلابی۔
12351- يا أيها الناس، إن الله قد حرم دماءكم وأموالكم، وأولادكم كحرمة هذا اليوم من الشهر، وكحرمة هذا الشهر من السنة، اللهم هل بلغت، اللهم هل بلغت. "ابن النجار عن قيس بن كلاب الكلابي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৫২
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام ذکرت فی حجۃ الوداع من الاکمال

وہ احکامات جو حج وداع کے موقع پر ذکر کیے گئے
12352 کیا تم جانتے ہو کہ یہ کونسا دن ہے ؟ بیشک یہ دن ایام تشریق کا بالکل درمیان والا دن ہے (یعنی یوم عرفہ ہے) کیا تم جانتے ہو کہ یہ کونسا شہر ہے ؟ یہ شہر حرام (مکہ) ہے، میں نہیں جانتا کہ شاید اس (حج ) کے بعد (آئندہ سال حج میں) تم سے ملاقات کرسکوں گا۔ آگاہ رہو ! تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری آبرو تم پر ایسی ہی حرام ہیں، جیسے کہ تمہارے اس دن (عرفہ) میں تمہارے اس شہر (مکہ) میں حرام ہیں یہاں تک کہ تم اپنے رب سے ملاقات کرلو (یعنی قیامت تک کے لیے حرام ہیں ) تو پھر اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں سوال کریں گے، آگاہ رہو ! تم میں سے جو قریب ہے (یا حاضر ہے) وہ دور والے کو (یا غائب کو) یہ بات پہنچا دے، سنو ! کیا میں نے (احکام) خداوندی پہنچادیئے ؟ رواہ الطبرانی فی الکبیر عن اسدی بنت نبھان۔
12352- هل تدرون أي يوم هذا؟ إن هذا أوسط أيام التشريق هل تدرون أي بلد هذا؟ هذا المشعر الحرام إني لا أدري لعلي لا ألقاكم بعد هذا، ألا وإن دماءكم وأموالكم وأعراضكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في بلدكم هذا حتى تلقون ربكم، فيسألكم عن أعمالكم، ألا فليبلغ أدناكم أقصاكم ألا هل بلغت. "طب عن سری بنت نبهان".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৫৩
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام ذکرت فی حجۃ الوداع من الاکمال

وہ احکامات جو حج وداع کے موقع پر ذکر کیے گئے
12353 اے لوگو ! بیشک تمہارے خون، تمہارے اموال، اور تمہاری آبرو تم پر ایسی ہی حرام ہیں جس طرح کہ تمہارے اس دن (عرفہ) میں تمہارے اس مہینہ (ذوالحجہ) میں اور تمہارے اس شہر (مکہ) میں حرام ہیں، پس تم میں سے حاضر شخص غائب تک (یہ بات) پہنچا دے، اور میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ رواہ ابن قانع والطبرانی فی الکبیر و سعید بن منصور فی سننہ عن مخشی بن جحیر عن ابیہ، رواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابی غادیۃ الجھنی۔
12353- يا أيها الناس، إن دماءكم وأموالكم وأعراضكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا، فليبلغ منكم الشاهد الغائب، ولا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض. "ابن قانع طب ص عن مخشي بن حجير عن أبيه" "طب عن أبي غادية الجهني".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৫৪
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام ذکرت فی حجۃ الوداع من الاکمال

وہ احکامات جو حج وداع کے موقع پر ذکر کیے گئے
12354 اے لوگو ! یہ کونسا دن ہے ؟ صحابہ (رض) نے عرض کیا کہ ” یوم حرام “ (عرفہ) ہے، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ : یہ کونسا شہر ہے ؟ صحابہ (رض) نے عرض کیا کہ : ” شہر حرام “ ہے، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ : یہ کونسا مہینہ ہے ؟ تو صحابہ (رض) نے عرض کیا کہ ” حرام مہینہ “ (ذوالحجہ ) ہے، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ : پس بیشک تمہارے خون، تمہارے اموال، اور تمہاری آبرو تم پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارے اس دن (عرفہ) میں تمہارے اس شہر (مکہ) میں اور تمہارے اس مہینہ (ذوالحجہ) میں حرام ومحترم ہیں اے اللہ ! میں نے (تیرا دین) پہنچا دیا، اے اللہ ! میں نے (تیرا دین) پہنچا دیا، پس حاضر کو چاہیے کہ غائب تک (یہ بات) پہنچا دے، میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ رواہ ابن شیبۃ واحمد فی مسندہ والبخاری عن ابن عباس (رض) ، رواہ ابن ماجہ عن ابن عمر (رض) ، رواہ الطبرانی فی الکبیر عن عمار (رض) ، رواہ احمد فی مسندہ والبغوی عن ابی غادیۃ الجھنی۔
12354- يا أيها الناس أي يوم هذا؟ قالوا يوم حرام قال: فأي بلد هذا؟ قالوا: بلد حرام، قال: فأي شهر هذا؟ قالوا: شهر حرام، قال: فإن دماءكم وأموالكم وأعراضكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في بلدكم هذا في شهركم هذا، اللهم هل بلغت اللهم هل بلغت فليبلغ الشاهد الغائب لا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض. "ش حم خ عن ابن عباس" "هـ عن ابن عمر" "طب عن عمار" "حم والبغوي عن أبي غادية الجهني".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৫৫
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام ذکرت فی حجۃ الوداع من الاکمال

وہ احکامات جو حج وداع کے موقع پر ذکر کیے گئے
12355 اے لوگو ! یہ کونسا دن ہے ؟ اور یہ کونسا مہینہ ہے ؟ اور یہ کونسا شہر ہے ؟ کیا یہ حرام مہینہ (ذوالحجہ) اور کیا یہ حرام شہر (مکہ) اور کیا یہ حرام دن (یوم عرفہ) نہیں ہے۔ آگاہ رہو ! بیشک تمہارے خون اور تمہارے اموال اور تمہاری آبرو تم پر اسی طرح محترم ہیں جس طرح کہ تمہارے اس مہینہ (ذوالحجہ) میں، تمہارے اس شہر (مکہ ) میں اور تمہارے اس دن (عرفہ) میں حرام ومحترم ہیں اس دن تک جس دن تم اپنے پروردگار سے ملاقات کرو گے (قیامت تک حرام ومحترم ہیں) ۔ اے اللہ ! کیا میں نے (تیرا دین) پہنچا دیا ؟ اے اللہ ! تو گواہ رہنا (کہ میں نے تیرا دین تیرے بندوں تک پہنچادیا) ۔ رواہ احمد فی مسندہ وابن سعد والحکیم عن العداء بن خالد، رواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابی امامۃ (رض) رواہ البزار عن وابصۃ۔
12355- يا أيها الناس، أي يوم هذا؟ وأي شهر هذا؟ وأي بلد هذا؟ أليس شهر حرام وبلد حرام ويوم حرام، ألا إن دماءكم وأموالكم وأعراضكم عليكم حرام، كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا إلى يوم تلقون ربكم، اللهم هل بلغت؟ اللهم اشهد. "حم وابن سعد والحكيم عن العداء بن خالد" "طب عن أبي أمامة" "بز عن وابصة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৫৬
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام ذکرت فی حجۃ الوداع من الاکمال

وہ احکامات جو حج وداع کے موقع پر ذکر کیے گئے
12356 بیشک سب سے زیادہ حرمت والا دن تمہارے اس شہر (مکہ) میں تمہارے اس مہینہ (ذوالحجہ) میں تمہارا یہ دن (عرفہ) ہے، آگاہ رہو ! تمہارے خون تم پر اسی طرح محترم ہیں جس طرح کہ تمہارے اس مہینہ (ذوالحجہ) میں تمہارے اس شہر (مکہ) میں تمہارے اس دن (عرفہ) کی حرمت ہے۔ سنو ! کیا میں نے (اللہ کا دین تمہیں ) پہنچا دیا ؟ تو صحابہ (رض) نے عرض کیا کہ جی ہاں (آپ نے دین پہنچا دیا) تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ : اے اللہ ! تو (اپنے بندوں کی گواہی پر) گواہ رہ۔ رواہ ابن النجار عن ابوہریرہ (رض) ۔
12356- إن أحرم الأيام يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا، ألا وإن دماءكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا، ألا هل بلغت؟ قالوا: نعم قال: اللهم اشهد.

"ابن النجار عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৫৭
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام ذکرت فی حجۃ الوداع من الاکمال

وہ احکامات جو حج وداع کے موقع پر ذکر کیے گئے
12357 اے لوگو ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم کون سے مہینہ میں ہو ؟ اور تم کس شہر میں ہو ؟ اور تم کس دن میں ہو ؟ تو صحابہ (رض) نے عرض کیا کہ : حرام یوم (عرفہ) ہے، حرام مہینہ (ذی الحجہ) ہے اور حرام شہر (یعنی مکہ) ہے، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بیشک تمہارے خون، تمہارے اموال اور تمہاری آبرو تم پر اسی طرح حرام ہے جس طرح تمہارے اس مہینہ (ذی الحجہ) میں تمہارے اس شہر (مکہ) میں تمہارے اس دن کی حرمت ہے۔

جان ومال کو نقصان نہ پہنچاؤ

سنو ! (اور اس کے مطابق ) زندگی گزارو ، خبردار ! ظلم مت کرنا (تین مرتبہ یہ بات ارشاد فرمائی) کسی مسلمان کا مال اس کے طیب نفس کے بغیر حلال نہیں، سنو ! زمانہ جاہلیت کا ہر خون اور ہر سودی مالی معاملہ اور زمانہ جاہلیت کی رسمیں قیامت تک میرے پاؤں تلے ہے (باطل) قرار دیتا ہوں اور سب سے پہلا خون جو معاف کیا جاتا ہے وہ الحارث کے بیٹے ربیعہ کا خون ہے، اور اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کردیا کہ سب سے پہلا سود جسے معاف کیا جاتا ہے وہ عباس بن عبدالمطلب کا سود ہے، تمہارے لیے تمہاری اصل رقم ہے، نہ تم ظلم کرو اور نہ کوئی دوسرا تم پر ظلم کرے، سنو ! بیشک زمانہ اپنی اس اصلی ہیئت پر لوٹ آیا ہے جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کی تخلیق فرمائی (یعنی زمانہ جاہلیت میں لوگ) جس طرح چاہتے مہینوں کو مقدم وموخر کرتے رہتے تھے، لیکن اب زمانہ اپنی اصلی ہئیت پر واپس لوٹ آیا ہے جیسا کہ اول دن میں، اب جو مہینہ جس جگہ وہ اپنی (اصلی حالت پر ہے) سنو ! اللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں جس دن اللہ نے آسمانوں اور زمینوں کی تخلیق فرمائی اس دن سے مہینہ کی تعداد بارہ ہے، ان میں سے چار محترم مہینہ ہیں، یہ قوی دین ہے، ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم مت کرو، سنو ! میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو، سنو ! شیطان اس بات سے تو مایوس ہوچکا ہے کہ نمازی اس کی عبادت کریں، لیکن وہ لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف اکسانے پر لگا ہوا ہے۔

عورتوں کے حقوق ادا کرو

پس عورتوں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو، اس لیے کہ وہ تو تمہاری خدمت گزار ہیں، اپنے لیے کسی چیز کی بھی مالک نہیں ہیں اور عورتوں پر تمہارا یہ حق ہے کہ وہ تمہارے بستروں پر تمہارے علاوہ کسی دوسرے کو نہ آنے دیں اور تمہارے گھروں میں کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جس کا انا تم کو ناگوار گزرے، اگر تمہیں ان کی نافرمانی کا خوف ہو تو (پہلے) انھیں نصیحت کرو (پھر بھی نہ مانیں) تو بستروں میں سے ان سے علیحدگی اختیار کرو اور ان کو مارو مگر اس طرح نہ مارو کہ جس سے سختی اور شدت ظاہر ہو اور انھیں کوئی گزند پہنچے ، اور تم پر ان کا حق یہ ہے کہ تم ان کو اپنی استطاعت و حیثیت کے مطابق کھانے پینے کا سامان (اور مکان) اور کپڑا دو ۔ کیونکہ تم نے ان کو اللہ کی امان کے ساتھ لیا ہے، اور ان کی شرم گاہوں کو خدا کے حکم سے یعنی ” فانکحوا “ کے مطابق اپنے لیے حلال بنایا ہے، سنو ! جس کسی کے پاس کسی کی امانت ہو تو جس نے وہ امانت رکھائی تھی اس تک لوٹادے، کیا میں نے (دین) پہنچا دیا ؟ کیا میں نے (دین) پہنچا دیا ؟ چاہیے کہ حاضر شخص غائب تک (یہ بات) پہنچا دے، کیونکہ بسا اوقات سننے والے کی بنسبت وہ شخص (جس نے سنا تو نہیں البتہ اس تک بات) پہنچائی گئی تھی، زیادہ نیک بخت ہوتا ہے (اس بات پر عمل کرکے) ۔
12357- يا أيها الناس؛ تدرون في أي شهر أنتم؟ وفي أي بلد أنتم وفي أي يوم أنتم؟ قالوا: يوم حرام وشهر حرام وبلد حرام، قال: فإن دماءكم وأموالكم وأعراضكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا، اسمعوا تعيشوا، ألا لا تظالموا ثلاثا، إنه لا يحل مال امرء مسلم إلا بطيب نفس منه، ألا وإن كل دم ومال ومأثرة1 كانت في الجاهلية تحت قدمي هذا إلى يوم القيامة، وإن أول دم يوضع دم ربيعة بن الحارث بن ربيعة عبد المطلب، وإن الله قضى أن أول ربا يوضع ربا العباس بن عبد المطلب، لكم رؤس أموالكم لا تظلمون ولا تظلمون، ألا وإن الزمان قد استدار كهيئته يوم خلق الله السموات والأرض، ألا وإن عدة الشهور عند الله اثنا عشر شهرا في كتاب الله يوم خلق السموات والأرض منها أربعة حرم ذلك الدين القيم، فلا تظلموا فيهن أنفسكم، ألا لا ترجعوا بعدي كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض، ألا وإن الشيطان قد أيس أن يعبده المصلون، ولكنه في التحريش بينهم، فاتقوا الله في النساء فإنهن عندكم عوان لا يملكن لأنفسهن شيئا، وإن لكم عليهن حقا لا يوطئن فرشكم أحدا غيركم، ولا يأذن في بيوتكم لأحد تكرهونه، فإن خفتم نشوزهن فعظوهن واهجروهن في المضاجع واضربوهن ضربا غير مبرح، ولهن رزقهن وكسوتهن بالمعروف فإنما أخذتموهن بأمانة الله، واستحللتم فروجهن بكلمة الله، ألا ومن كانت عنده أمانة فليؤدها إلى من ائتمنه عليها ألا هل بلغت ألا هل بلغت ليبلغ الشاهد الغائب فإنه رب مبلغ أسعد من سامع. "حم والبغوي والباوردي وابن مردويه عن أبي حرة الرقاشي عن عمه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৫৮
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام ذکرت فی حجۃ الوداع من الاکمال

وہ احکامات جو حج وداع کے موقع پر ذکر کیے گئے
12358 سنو ! زمانہ جاہلیت کے خون اور اس کے علاوہ کی چیزیں میرے دونوں قدموں کے نیچے ہیں (باطل کرتا ہوں) سوائے حاجیوں کو پانی پلانے والی خدمت اور کعبہ کی تولیت کے (کہ اس خدمت کو میں سابقہ طرز پر سابقہ لوگوں میں برقرار رکھتا ہوں) ۔

رواہ ابن مندہ عن الاسود بن ربیعۃ الیشکری۔

کلام : اس حدیث کی سند مجہول ہے۔
12358- ألا إن دماء الجاهلية وغيرها تحت قدمي إلا السقاية والسدانة1. "ابن منده عن الأسود بن ربيعة اليشكري" وسنده مجهول.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৫৯
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام ذکرت فی حجۃ الوداع من الاکمال

وہ احکامات جو حج وداع کے موقع پر ذکر کیے گئے
12359 اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے، وہ اکیلا ہے، جس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور اپنے بندے (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کی مدد فرمائی ، اور تن تنہا لشکروں کو شکت دی، سنو ! زمانہ جاہلیت کی ہر رسم اور کسی بھی خون اور مال (سودی معاملہ) کا دعویٰ میرے قدموں تلے ہے (باطل ہے) البتہ حاجیوں کی پانی پلانے کی خدمت اور خانہ کعبہ کی تولیت (سابقہ طرز پر برقرار ہوگی) سنو ! قتل خطاء کی دیت قتل شبہ عمد ہے، یہ وہ قتل ہے جو کہ کوڑے یا ڈنڈے سے ہو، اس میں سو اونٹ دیت ہیں جن میں سے چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں گی کہ جو حاملہ ہوں۔ رواہ ابوداؤد عن ابن عمرو (رض) ۔
12359- الله أكبر الله أكبر الله أكبر، لا إله إلا الله، وحده صدق وعده ونصر عبده، وهزم الأحزاب وحده ألا إن كل مأثرة في الجاهلية تذكر وتدعى من دم أو مال تحت قدمي إلا ما كان من سقاية الحاج وسدانة البيت، ألا إن دية الخطأ شبه العمد ما كان بالسوط والعصى مائة من الإبل منها أربعون في بطونها أولادها. "د عن ابن عمرو"1
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৬০
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام ذکرت فی حجۃ الوداع من الاکمال

وہ احکامات جو حج وداع کے موقع پر ذکر کیے گئے
12360 تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں کہ جس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اور اپنے بندے (محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) کی مدد ونصرت فرمائی اور تن تنہا لشکروں کو شکست دی، سنو ! کوڑے اور ڈنڈے سے قتل کیے جانے والے کی دیت میں سو 100 اونٹ ہیں کہ جن میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہونگی کہ جن کے پیٹ میں ان کے بچے ہوں، سنو ! زمانہ جاہلیت کی ہر رسم اور خون میرے ان دونوں قدموں کے نیچے ہیں۔ بالکل باطل قرار دیتا ہوں، البتہ خانہ کعبہ کی تولیت اور حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت سابقہ طرز پر میں انھیں لوگوں کے حق میں برقرار رکھتا ہوں یہ جو پہلے سے اس خدمت پر مامور ہیں۔

رواہ البیہقی فی شعب الایمان والطبرانی فی الکبیر عن ابن عمرو، رواہ الطبرانی فی الکبیر عن ابن عمر (رض) ۔
12360- الحمد لله الذي صدق وعده، ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده ألا إن قتيل السوط والعصا فيه مائة من الإبل منها أربعون خلفة2 في بطونها أولادها، ألا إن كل مأثرة كانت في الجاهلية ودم تحت قدمي هاتين إلا ما كان من سدانة البيت، وسقاية الحاج ألا إني قد أمضيتهما لأهلهما كما كانتا. "هب طب عن ابن عمرو" "طب عن ابن عمر".

= وكان يليها العباس بن عبد المطلب في الجاهلية والإسلام "2/381" النهاية. انتهى. ب.

السدانة: هي خدمة الكعبة وتولي أمرها وفتح بابها وإغلاقه يقال: سدن يسدن فهو سادن والجمع سدنة "2/355" النهاية ب.
tahqiq

তাহকীক: