কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

حج اور عمرۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১৭০ টি

হাদীস নং: ১২৩৮১
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کی فضیلتوں کا بیان
12381 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کے جنازے میں حاضر ہوئے جو ایام تشریق کے آخری دن منیٰ میں وفات پا گیا تھا، اور فرمایا کہ : مجھے کیا چیز منع کرتی ہے ایک ایسے شخص کو دفن کرنے سے کہ جب سے اس کی مغفرت ہوئی اس وقت سے گناہ نہیں کیا۔

رواہ عبدالرزاق فی الجامع۔
12381- عن عمر أنه حضر جنازة رجل توفي بمنى آخر أيام التشريق وقال: ما يمنعني أن أدفن رجلا لم يذنب منذ غفر له. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৮২
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کی فضیلتوں کا بیان
12382 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ انھوں نے فرمایا کہ : حاجیوں، عمرہ کرنے والوں اور مجاہدوں سے ملاقات کرو، پس چاہیے کہ وہ تمہارے لیے دعا کریں اس سے پہلے کہ وہ میلے (گناہ میں مبتلا) ہوں۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
12382- عن عمر قال: تلقوا الحجاج والعمار والغزاة فليدعوا لكم قبل أن يتدنسوا. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৮৩
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کی فضیلتوں کا بیان
12383 حضرت مجاہد (رح) سے مروی ہے، انھوں نے فرمایا کہ : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے اللہ حاجیوں کی مغفرت فرما اور اس کی بھی مغفرت فرمام جس کے لیے حاجی دعا (مغفرت) کرے۔ رواہ ابن زنجویہ۔
12383- عن مجاهد قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اللهم اغفر للحاج ولمن استغفر له الحاج. "ابن زنجويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৮৪
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کی فضیلتوں کا بیان
12384 حضرت ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ نے جو چاہا اپنے نبی کو رخصت دی، اور اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی کے راستے پر چلے، اور اللہ کے حکم کے عین مطابق حج اور عمرہ ادا کیا، اور ان عورتوں کی شرمگاہوں کو محفوظ کردیا۔

رواہ احمد فی مسندہ ومسدد وابن ابی داؤد فی المصاحف والطحاوی۔
12384- عن أبي سعيد قال: خطب عمر الناس فقال: إن الله رخص لنبيه ما شاء الله وإن نبي الله صلى الله عليه وسلم قد مضى لسبيله. وأتموا الحج والعمرة كما أمركم الله، وحصنوا فروج هذه النساء.

"حم ومسدد وابن أبي داود في المصاحف والطحاوي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৮৫
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کی فضیلتوں کا بیان
12385 حضرت عبداللہ بن ابی الھذیل (رض) سے مروی ہے کہ انھوں نے حضرت عمر (رض) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ : کجاوے نہ کسے جائیں سوائے خانہ کعبہ کی طرف جانے کے لئے۔ رواہ ابن سعد۔
12385- عن عبد الله بن أبي الهذيل أنه سمع عمر يقول: لا تشد الرحال إلا إلى البيت العتيق."ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৮৬
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کی فضیلتوں کا بیان
12386 حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ : حاجی، غازی اور عمرہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کے وفد ہیں، وہ اللہ تعالیٰ سے مانگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انھیں عطا فرما دیتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ انھیں بلاتے ہیں تو وہ حاضر ہوجاتے ہیں۔ رواہ البیہقی فی شعب الایمان۔
12386- عن ابن عمر قال: قال عمر: الحاج والغازي والمعتمر وفد الله سألوا الله فأعطاهم ودعاهم فأجابوه. "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৮৭
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کی فضیلتوں کا بیان
12387 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ : حج اور عمرے کی مشقت اٹھاؤ اس لیے کہ یہ فقر اور گناہوں کو اس طرح ختم کردیتے ہیں کہ جیسے بھٹی لوہے کے میل کو ختم کردیتی ہے۔

رواہ عبدالرزاق فی الجامع۔
12387- عن عمر قال: كلفوا الحج والعمرة فإنها ينفيان الفقر والذنوب كما ينفي الكير خبث الحديد. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৮৮
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کی فضیلتوں کا بیان
12388 ابراہیم بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) ایک دن مکہ کے راستے میں اپنے آپ سے باتیں کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ : وہ لوگ جو سفر کی وجہ سے پراگندہ حالی کے باوجود مسلسل ذکر میں مشغول ہوتے ہیں، ان کے جسموں سے (گردوغبار کی وجہ سے) بدبو آرہی ہوتی ہے اور وہ شور (ذکر اللہ) کرتے جارہے ہوتے ہیں اور وہ اس سفر سے دنیا کا کسی قسم کا کوئی فائدہ نہیں حاصل کرنا چاہتے، ہمارے خیال میں اس سفر سے بہتر اور کوئی سفر نہیں۔ وہ سفر حج مراد لے رہے تھے۔ رواہ ابن سعد فی نسخۃ۔
12388- عن إبراهيم بن سعد عن أبيه أن عمر قال يوما وهو بطريق مكة وهو يحدث نفسه يشعثون ويغبرون ويتفلون ويضجون1 لا يريدون بذلك شيئا من عرض الدنيا ما نعلم سفرا خيرا من هذا يعني الحج. "ابن سعد في نسخته".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৮৯
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کی فضیلتوں کا بیان
12389 حبیب بن زبیر اصفہانی سے مروی ہے کہ میں نے عطاء بن ابی زباح (رض) سے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ : وہ لوگ نام کو ازسر نو کریں (یعنی حجاج کرام ؟ ) تو انھوں نے کہا کہ نہیں بلکہ مجھے عثمان بن عفان اور ابوذر (رض) کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ انھوں نے ارشاد فرمایا : لوگ از سر نو عمل کریں (کیونکہ حج کی وجہ سے ان کے پچھلے گناہ معاف ہوگئے ہیں) ۔ ابن زنجویہ ، السنن للبیہقی
12389- عن حبيب بن الزبير الأصفهاني قال: قلت لعطاء بن أبي رباح أبلغك أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: يستأنفون العمل؟ يعني الحاج قال: لا ولكن بلغني عن عثمان بن عفان وأبي ذر أنهما قالا: يستقبلون العمل. "ابن زنجويه ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৯০
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کی فضیلتوں کا بیان
12390 حارث بن سوید حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں، آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : اس سے پہلے پہلے حج کرلو پھر تم حج نہ کرسکو، کیونکہ گویا میں (مستقبل میں) دیکھ رہا ہوں کہ ایک حبشی (سیاہ فام) چھوٹے چھوٹے کاموں والا بانگا ٹیڑھا آدمی ہے، اس کے ہاتھ میں کدال ہے اور وہ اسی کے ساتھ کعبۃ اللہ کے پتھروں کو ڈھارہا ہے۔

حضرت علی (رض) سے کسی نے عرض کیا : کیا آپ اپنی طرف سے فرما رہے ہیں ؟ یا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آپ نے اسی بات کو سنا ہے ؟ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے (زمین میں) دانے کو پھاڑا اور جان کو پیدا کیا (میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا ہوں) بلکہ میں نے اس کو تمہارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے۔ الحارث، حلیۃ الاولیاء، السنن للبیہقی۔

کلام : مذکورہ روایت میں ایک راوی حصین بن عمر الاحمسی ہے، جس کو محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ چنانچہ امام ذھبی (رح) فرماتے ہیں حصین واہ (بےکار) راوی ہے۔

الحاکم فی المستدرک کتاب المناسک 448/1
12390- عن الحارث بن سويد عن علي قال: حجوا قبل أن لا تحجوا فكأني أنظر إلى حبشي أصمع أفدع بيده معول يهدمها حجرا حجرا فقيل له: شيء تقوله برأيك؟ أو سمعته من النبي صلى الله عليه وسلم؟ قال: لا والذي فلق الحبة وبرأ النسمة1 ولكن سمعته من نبيكم صلى الله عليه وسلم. "الحارث حل هق" وفيه حصين بن عمر الأحمسي ضعفوه
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৯১
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کی فضیلتوں کا بیان
12391 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرفہ (کے روز میدان عرفات) میں کھڑے تھے اور لوگ آپ کی طرف متوجہ تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ارشاد فرما رہے تھے :

مرحبا (خوش آمدید) ہو اللہ کے وفد (حاجیوں) کو، جب وہ مانگتے ہیں تو اللہ ان کو عطا کرتا ہے اور ان کی دعا کو قبول فرماتا ہے اور آدمی جب (اپنے لیے بھی) ایک درہم خرچ کرتا ہے تو اس کا ثواب دس لاکھ درہم ہم تم بڑھا دیا جاتا ہے۔ الدیلمی۔
12391- عن علي قال: وقف رسول الله صلى الله عليه وسلم بعرفة والناس مقبلون وهو يقول: مرحبا بوفد الله الذين إذا سألوا الله أعطاهم واستجاب دعاءهم ويضاعف للرجل الواحد من نفقة الدرهم الواحد ألف ألف ضعف. "الديلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৯২
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کی فضیلتوں کا بیان
12392 حضرت حسن سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا : کیا عورتوں پر جہاد ہے ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جی ہاں، حج اور عمرہ۔ ابن ابی داؤد فی المصاحف۔
12392- عن الحسن قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم على النساء جهاد قال: نعم الحج والعمرة. "ابن أبي داود في المصاحف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৯৩
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کی فضیلتوں کا بیان
12393 وضین بن عطاء، یزید بن مرثد سے اور یزید حضرت ابوالدرداء (رض) (اور حضرت ابوذر (رض)) سے روایت کرتے ہیں دونوں صحابی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :

داؤد (علیہ السلام) نے عرض کیا : اے اللہ ! جب تیرے بندے تیرے گھر آکر تیری زیارت کریں تو ان کا تجھ پر کیا حق بنتا ہے ؟ کیونکہ ہر زائر (مہمان) کا مزور (میزبان) کے اوپر حق ہے ؟ تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا : اے داؤد ! دنیا میں تو مجھ پر ان کا یہ حق ہے کہ میں ان کو عافیت بخش دوں اور جب میں ان سے ملاقات کروں گا تو ان کو بخشش کروں گا۔ ابن عساکر البغوی۔
12393- عن الوضين بن عطاء عن يزيد بن مرثد عن أبي الدرداء وعن أبي ذر عن النبي صلى الله عليه وسلم أن داود عليه السلام، قال: إلهي ما حق عبادك عليك إذا هم زاروك في بيتك، فإن لكل زائر على المزور حقا؟ قال: يا داود إن لهم علي أن أعافيهم في دنياهم، وأغفر لهم إذا لقيتهم. "كر البغوي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৯৪
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کی فضیلتوں کا بیان
12394 عن ھدیہ بن خالد، وھیب بن خالد، الجریری، حبان بن عمیر کی سند سے مروی ہے، ماعز (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ اعمال میں سے کون سا عمل افضل ہے ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ایمان باللہ اور جہاد فی سبیل اللہ۔ یہ سن کر سائل کی ران پر کپکپی طاری ہوگئی۔ پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ٹھہر جا، پھر تمام اعمال میں سب سے افضل عمل گناہوں سے پاک حج، گناہوں سے پاک حج ہے۔ ابن النجار۔
12394- عن هدبة بن خالد، ثنا وهيب بن خالد، ثنا الجريري عن حبان بن عمير قال: ثنا ماعز أن رجلا سأل النبي صلى الله عليه وسلم أي الأعمال أفضل؟ قال: إيمان بالله وجهاد في سبيله ثم أرعدت فخذ السائل، ثم قال: مه، قال ثم عمل أفضل من سائر الأعمال إلا كمثل حجة بارة. حجة بارة. "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৯৫
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کی فضیلتوں کا بیان
12395 حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ منیٰ میں تھے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : اگر اہل مزدلفہ جان لیتے کہ ان کو کیا کچھ ملا ہے مغفرت کے بعد (خدا کا مزید انعام و) فضل تو خوشی سے جھوم اٹھتے۔ ابن عدی، ابن النجار۔

کلام : مذکورہ روایت غیر محفوظ ہے۔ جمع الجوامع۔
12395- عن ابن عباس قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ونحن بمنى: لو يعلم أهل الجمع بمن حلوا لاستبشروا بالفضل بعد المغفرة. "ابن عدي وقال هذا غير محفوظ وابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৯৬
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کی فضیلتوں کا بیان
12391 ضحاک بن مزاحم سے مروی ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) نے ایک قوم کو دیکھا جو مسجد کے دروازے پر اپنی سواریوں (کی اونٹنیوں ) کو بٹھا رہے تھے تو حضرت ابن عباس (رض) نے ارشاد فرمایا :

اگر اہل قافلہ جان لیتے کہ کیا ثواب ان کو ملا تو وہ یہ جان لیتے کہ وہ مغفرت اور مزید فضل خداوندی کے ساتھ واپس لوٹیں گے۔ ابن زنجویہ۔
12396- عن الضحاك بن مزاحم قال: نظر ابن عباس إلى قوم منيخين بباب المسجد فقال: لو يعلم الركب بمن أناخوا لعلموا أن سيرجعوا بالفضل بعد المغفرة. "ابن زنجويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৯৭
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کی فضیلتوں کا بیان
12397 قاسم بن ابی اشمط کہتے ہیں مجھے میرے والد نے میرے دادا احسل سے جو بنی عامر بن لوی میں سے تھے روایت نقل کی ہے :

کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے حج میں ایک شخص کے پاس سے گزرے ، ہم بھی آپ کے ہمراہ تھے۔ وہ آدمی اپنے حج سے فارغ ہوچکا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے دریافت فرمایا : کیا تیرا حج (گناہوں سے) محفوظ رہا ہے ؟ اس نے عرض کیا : جی ہاں، یارسول اللہ ! تو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : از سرنو عمل کرو (کیونکہ تمہارے پچھلے گناہ معاف ہوگئے ہیں) ۔
12397- عن القاسم بن أبي أشمط حدثني أبي عن جدي حسل أحد بني عامر بن لؤي قال: مر رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجته ونحن معه على رجل قد فرغ من حجته فقال: أسلم حجك؟ قلت: نعم يا رسول الله قال: ائتنف العمل. "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৯৮
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کی فضیلتوں کا بیان
12398 حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ (حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد) فرمایا : اللہ کا محترم گھر کعبۃ میری قبر کی طرف (بار بار) متوجہ ہوتا ہے اور کہتا ہے : السلام علیک یا محمد ! تو میں بھی کہتا ہوں وعلیکالسلام یا بیت اللہ ! میری امت نے میرے بعد تیرے ساتھ کیا برتاؤ کیا ؟ تو کعبۃ اللہ کہتا ہے : جو میرے پاس آتا ہے میں اس کے لیے کافی ہوجاتا ہوں اور اس کے لیے سفارشی بن جاتا ہوں۔ اور جو میرے پاس نہیں آتا، اس کے لیے آپ کافی ہوجائیں اور اس کے لیے سفارشی بن جائیں۔ الدیلمی۔

کلام : روایت موضوع ہے کیونکہ اس کی سند میں محمد بن سعید بورقی کذاب اور وضاع (جھوٹا اور حدیثیں بنانے والا) شخص ہے۔ سلیمان بن جابر سے مروی ہے کہ بورقی حدیثیں گھڑنے والوں میں سے ایک تھا۔ میزان الاعتدال 566/3 ۔
12398- عن جابر قال: دفت الكعبة بيت الله الحرام إلى قبري فتقول: السلام عليك يا محمد فأقول: وعليك السلام يا بيت الله، ما صنع بك أمتي من بعدي فتقول: من أتاني فأنا أكفئه وأكون له شفيعا، ومن لم يأتني فأنت تكفئه وتكون له شفيعا. "الديلمي" وفيه محمد بن سعيد البورقي كذاب وضاع
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৯৯
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔حج کے واجب ہونے کے بیان میں
12399 حضرت عمر بن خطاب (رض) سے مروی ہے ، ارشاد فرمایا : جو حج کی طاقت رکھتا ہے پھر بھی اس نے حج نہیں کیا تو تم اس پر قسم اٹھالو کہ وہ یہودی یا نصرانی ہو کر مرا۔ حلیۃ الاولباء۔
12399- عن عمر بن الخطاب قال: من أطاق الحج ولم يحج فاقسموا عليه أنه مات يهوديا أو نصرانيا. "حل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪০০
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔حج کے واجب ہونے کے بیان میں
12400 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ، ارشاد فرمایا : میں نے ارادہ کرلیا تھا کہ کچھ لوگوں کو شہروں میں بھیجوں، پس وہ ایسے کسی مالدار شخص کو نہ چھوڑیں جس نے حج نہیں کیا، مگر اس پر جزیہ مقرر کردیں (جیسا کہ غیر مسلموں پر ہوتا ہے) کیونکہ ایسے لوگ مسلمان نہیں ہیں۔

السنن لسعید بن منصور، رستہ فی الایمان، ابوالعباس الاصم فی حدیثہ، ابن شاھین فی السنۃ۔
12400- عن عمر قال: هممت أن أبعث رجالا إلى الأمصار فلا يدعون رجلا ذا ميسرة لم يحج إلا ضربوا عليه الجزية ما هم بمسلمين. "ص ورسته في الإيمان وأبو العباس الأصم في حديثه وابن شاهين في السنة".
tahqiq

তাহকীক: