কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
حج اور عمرۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১৭০ টি
হাদীস নং: ১২৪০১
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔حج کے واجب ہونے کے بیان میں
12401 عبدالرحمن بن غنم الاشعری سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : یہودی یا نصرانی ہو کر مرے (تین مرتبہ تاکیداً فرمایا) وہ شخص جو حج کی وسعت رکھتا تھا اور اس کی راہ بھی خالی تھی مگر وہ بغیر حج کیے مرگیا۔ پس اگر میں نے ابھی تک حج نہ کیا ہو تو میں حج کرلوں یہ میرے لیے چھ سات غزو وں میں شرکت سے زیادہ محبوب ہے۔
السنن لسعید بن منصور ، رستہ ، ابن شاھین، السنن للبیہقی۔
السنن لسعید بن منصور ، رستہ ، ابن شاھین، السنن للبیہقی۔
12401- عن عبد الرحمن بن غنم الأشعري قال: سمعت عمر بن الخطاب يقول: ليمت يهوديا أو نصرانيا ثلاث مرات، رجل مات ولم يحج وجد لذلك سعة وخليت سبيله فحجة أحجها وأنا صرورة أحب إلي من ست غزوات أو سبع. "ص ورسته وابن شاهين ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪০২
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔حج کے واجب ہونے کے بیان میں
12402 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ، ارشاد فرمایا : جو مرگیا اور وہ مالدار تھا لکین اس نے ایک (بھی) حج نہیں تو وہ چاہے تو یہودی ہو کر مرے چاہے نصرانی ہو کر مرے۔
السنن لسعید بن منصور، ابن ابی شیبہ۔
السنن لسعید بن منصور، ابن ابی شیبہ۔
12402- عن عمر قال: من مات وهو موسر ولم يحج فليمت إن شاء يهوديا وإن شاء نصرانيا.
"ص ش".
"ص ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪০৩
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔حج کے واجب ہونے کے بیان میں
12403 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ، ارشاد فرمایا : اگر لوگ حج کو ایک سال کے لیے بھی چھوڑیں (یعنی حج بیت اللہ کو کوئی نہ آئے) تو میں ان سے قتال کروں گا جس طرح ہم نماز اور زکوۃ پر قتال کرتے ہیں۔
السنن لسعید بن منصور، رستہ فی الایمان، اللالکانی فی السنۃ، ابوالعباس الاصم فی حدیثہ۔
السنن لسعید بن منصور، رستہ فی الایمان، اللالکانی فی السنۃ، ابوالعباس الاصم فی حدیثہ۔
12403- عن عمر قال: لو ترك الناس الحج عاما واحدا لقاتلتهم عليه كما نقاتلهم على الصلاة والزكاة. "ص ورسته في الإيمان واللالكائي في السنة وأبو العباس الأصم في حديثه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪০৪
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔حج کے واجب ہونے کے بیان میں
12404 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے، ارشاد فرمایا : اپنی (آل) اولادوں کو حج کراؤ اور ان کی روزی نہ کھاؤ (ان کی روازی کھانے کی لالچ میں ان کو فریضہ حج سے نہ رکو) اور ان کی رسی ان کی گردنوں پر چھوڑ دو (اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں) ۔
ابوعبید فی الغریب، مصنف ابن ابی شیبہ، ابن سعد، مسدد
ابوعبید فی الغریب، مصنف ابن ابی شیبہ، ابن سعد، مسدد
12404- عن عمر قال: احجوا هذه الذرية ولا تأكلوا أرزاقها وتدعوا أرباقها في أعناقها1 "أبو عبيد في الغريب ش وابن سعد ومسدد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪০৫
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل الوجوب۔۔۔وجوب سے متعلق
12405: حضرت عمر (رض) کی روایت ہے کہ باری تعالیٰ کے قول من استطاع الیہ سبیلا سے مراد توشہ اور سواری ہے۔ (ابن ابی شیبۃ۔ ابن جریر)
12405- عن عمر في قوله: من استطاع إليه سبيلا قال: الزاد والراحلة. "ش وابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪০৬
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل الوجوب۔۔۔وجوب سے متعلق
12406 حضرت ابوبکر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا کہ کونسا حج افضل ہے ؟ تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : (لعج والثج) یعنی جس حج میں زور زور سے تلبیہ پڑھا جائے اور اونٹوں کا خون بہایا جائے۔ الدارمی، الترمذی، وقال غریب، ابن خزیمہ، الدار قطنی فی العلل، الاوسط للطبرانی ، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی ، السنن لسعید بن منصور۔
کلام : امام ترمذی (رح) نے اس روایت کو ضعیف کہا ہے نیز امام دار قطنی (رح) نے بھی اس کو ضعیف شمار کیا ہے۔
کلام : امام ترمذی (رح) نے اس روایت کو ضعیف کہا ہے نیز امام دار قطنی (رح) نے بھی اس کو ضعیف شمار کیا ہے۔
12406- عن أبي بكر رضي الله عنه قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم، أي الحج أفضل؟ قال: العج والثج. "الدارمي ت وقال غريب وابن خزيمة قط في العلل طس ك ق ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪০৭
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل الوجوب۔۔۔وجوب سے متعلق
12407 عبدالرحمن بن قاسم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ارشاد فرمایا : اے اہل مکہ ! کیا بات ہے کہ لوگ (اللہ کی پسندیدہ حالت) غبار آلودی میں (مکہ) آتے ہیں اور تم ہو کہ تم پر نعمتوں کے آثار دکھتے ہیں۔ لہٰذا جب تم (ذوالحجہ کا) چاند دیکھ لو تو احرام باندھ کر تلبیہ پڑھو۔ تاکہ تم بھی کسی قدر ان کی طرح پراگندہ حالت میں ہوجاؤ۔
فائدہ : مذکورہ روایت کو امام مالک نے موطا میں کتاب الحج باب اھلال اھل مکۃ ومن بھا من غیرھم پر تخریج فرمایا ہے۔
فائدہ : مذکورہ روایت کو امام مالک نے موطا میں کتاب الحج باب اھلال اھل مکۃ ومن بھا من غیرھم پر تخریج فرمایا ہے۔
12407- عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه أن عمر بن الخطاب قال: يا أهل مكة ما شأن الناس يأتون شعثا وأنتم مدهنون أهلوا إذا رأيتم الهلال
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪০৮
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل الوجوب۔۔۔وجوب سے متعلق
12408 ابراہیم بن خلاد بن سوید انصاری (رض) سے مروی ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں تشریف لائے اور فرمایا : اے محمد حجاج اور تجاج ہوجا۔
راوی فرماتے ہیں : عج تلبیہ لبیک اللھم لبیک الخ کو بلند آواز سے پڑھنا ہے اور ثج اونٹوں کے خون کا بہانا ہے۔ الباوردی، الکبیر للطبرانی، ابونعیم فی المعرفۃ، السنن لسعید بن منصور۔
ابن مندہ فرماتے ہیں : ابراہیم بن خلاد کو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بچپن کی حالت میں لایا گیا۔ اس لیے ان کی روایت مرسل ہے۔ نیز ان سے اپنے والد کے توسط سے بھی روایت نقل کی گئی ہے حالانکہ ان کا سماع ان کے اپنے والد سے بھی درست (ثابت) نہیں ہے۔
راوی فرماتے ہیں : عج تلبیہ لبیک اللھم لبیک الخ کو بلند آواز سے پڑھنا ہے اور ثج اونٹوں کے خون کا بہانا ہے۔ الباوردی، الکبیر للطبرانی، ابونعیم فی المعرفۃ، السنن لسعید بن منصور۔
ابن مندہ فرماتے ہیں : ابراہیم بن خلاد کو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بچپن کی حالت میں لایا گیا۔ اس لیے ان کی روایت مرسل ہے۔ نیز ان سے اپنے والد کے توسط سے بھی روایت نقل کی گئی ہے حالانکہ ان کا سماع ان کے اپنے والد سے بھی درست (ثابت) نہیں ہے۔
12408 - عن إبراهيم بن خلاد بن سويد الأنصاري رضي الله عنهما جاء جبريل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا محمد كن عجاجا ثجاجا، قال:والعج: الإعلان بالتلبية، والثج: إهراق دماء البدن. "البارودي طب وأبو نعيم في المعرفة ص قال ابن منده: إبراهيم بن خلاد أتي به النبي صلى الله عليه وسلم وهو صغير وحديثه مرسل وقد روى عنه عن أبيه ولا يصح سماعه من أبيه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪০৯
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلبیہ
12409 نافع (رح) سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) جب حرم میں داخل ہوتے تھے تو تلبیہ پڑھنے سے رکے رہتے تھے حتیٰ کہ آپ (رض) صفا اور مروہ کے درمیان سعی فرماتے تھے جب ان کے درمیان سعی سے فارغ ہوجاتے تھے تو پھر تلبیہ پڑھ لیتے تھے۔ پھر جب ترویہ (آٹھ ذی الحجہ) کی رات ہوتی تو منیٰ کوچ فرماتے تھے پھر جب (ترویہ کی) صبح ہوتی تو عرفہ (میدان عرفات) چلے جاتے اور وہاں تلبیہ پڑھنے سے رکے رہتے تھے اور وہاں تکبیر، الحمدللہ، دعاوزاری ان کا مشغلہ رہتا تھا۔ (حضرت ابن عمر (رض)) فرمایا کرتے تھے کہ میں نے عمر بن خطاب (رض) کو یونہی کرتے دیکھا تھا۔ ابن جریر۔
12409- عن نافع قال: كان ابن عمر إذا دخل الحرم أمسك عن الإهلال حتى سعى بين الصفا والمروة فإذا فرغ من السعي بينهما أهل حتى إذا كان عشية التروية راح إلى منى فإذا غدا إلى عرفة أمسك عن الإهلال وكان التكبير والحمد والرغبة والمسألة ويقول: إني رأيت عمر بن الخطاب فعل ذلك. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪১০
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلبیہ
12410 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) تلبیہ پڑھتے رہے حتیٰ کہ آپ نے جمرۃ پر رمی فرمالی۔ ابن جریر۔
12410- عن ابن عباس أن عمر لبى حتى رمى الجمرة. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪১১
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلبیہ
12411 اسود سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عمر (رض) کو عرفہ کی رات تلبیہ پڑھتے سنا ہے۔ ابن جریر
12411- عن الأسود قال: سمعت عمر يلبي عشية عرفة. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪১২
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلبیہ
12412 حضرت عمر وبن میمون سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عمر (رض) کے ساتھ حج کیا۔ آپ (رض) تلبیہ جاری رکھتے تھے بطن الوادی میں رمی جمار کرنے سے پہلے تک ، جب پہلی کنکری مارتے تو تلبیہ پڑھنا ختم فرما دیتے تھے۔ ابن جریر۔
12412- عن عمرو بن ميمون قال: حججت مع عمر فكان يلبي حتى رمى الجمرة من بطن الوادي، يقطع التلبية عند أول حصاة. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪১৩
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلبیہ
12413 طارق بن شہاب سے مروی ہے کہ میں حضرت عمر (رض) کے ساتھ تھا جب آپ عرفات سے نکلے تو تلبیہ پڑھتے رہے حتیٰ کہ آپ نے جمرہ پر رمی فرمالی (کنکری مارنے کے ساتھ تلبیہ موقوف فرمادیا) ۔ ابن جریر۔
12413- عن طارق بن شهاب قال: شهدت عمر أفاض من عرفات فلبى حتى رمى الجمرة. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪১৪
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلبیہ کب تک پڑھا جائے
12414 محمد بن اسحاق سے مروی ہے کہ میرے والد اسحاق نے عکرمہ (رح) سے سوال کیا اور میں بھی ان کی گفتگو سن رہا تھا کہ تلبیہ پڑھنا کب موقوف ہوتا ہے ؟ تو عکرمہ (رح) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رمی جمرۃ کرنے تک تلبیہ پڑھا یونہی ابوبکر، عمر اور عثمان (رض) نے کیا (یعنی رمی جمار کرنے سے پہلے تلبیہ ختم کردیا) محمد بن اسحاق (رح) فرماتے ہیں : مجھے حکیم بن حمید بن عثمان بن العاصف نے بیان کیا، فرمایا میں نے ایک شخص کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ ابن عباس (رض) حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد یعنی حضرت عمر (رض) جب صبح کو منیٰ سے نکلتے تو تلبیہ موقوف فرما دیتے ۔ اور سبحان اللہ العظیم پڑھتے رہتے۔
نیز ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن خطاب (رض) کی خدمت میں عرفہ کی رات حاضر ہوا۔ آپ (رض) جفنہ (پانی کے ٹب) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ کے لیے پانی بہایا جارہا تھا اور آپ غسل فرما رہے تھے اور آپ مسلسل تلبیہ پڑھ رہے تھے حتیٰ کہ آپ غسل سے فارغ ہوگئے۔ ابن جریر۔
نیز ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن خطاب (رض) کی خدمت میں عرفہ کی رات حاضر ہوا۔ آپ (رض) جفنہ (پانی کے ٹب) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ کے لیے پانی بہایا جارہا تھا اور آپ غسل فرما رہے تھے اور آپ مسلسل تلبیہ پڑھ رہے تھے حتیٰ کہ آپ غسل سے فارغ ہوگئے۔ ابن جریر۔
12414- عن محمد بن إسحاق قال: سأل أبي عكرمة وأنا أسمع عن الإهلال متى ينقطع؟ فقال: أهل رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى رمى الجمرة، وأبو بكر وعمر وعثمان، قال محمد بن إسحاق: وحدثني حكيم بن حميد بن عثمان بن العاصي قال: سمعت رجلا يحدث ابن عباس عن عبد الله بن عمر أن أباه كان إذا غدا من منى ترك الإهلال وقال: سبحان الله العظيم لقد شهدت عمر بن الخطاب عشية عرفة وهو على جفنة1 قد سكب له غسل وهو يغتسل فلم يزل يلبي حتى فرغ من غسله. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪১৫
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلبیہ کب تک پڑھا جائے
12415 حضرت عکرمہ (رح) سے منقول ہے کہ میں حضرت حسین بن علی کے ساتھ مزدلفہ سے نکلا میں مسلسل آپ کو تلبیہ پڑھتے ہوئے سن رہا تھا : لبیک اللھم لبیک الخ، حتیٰ کہ آپ (رض) جمرۃ تک پہنچ گئے۔ میں نے پوچھا : اے ابو عبداللہ ! یہ اھلال کیا ہے ؟ ۔ یہ تلبیہ پڑھنا کیسا ہے ؟ تو آپ (رض) نے فرمایا : میں نے اپنے والد علی بن ابی طالب کو اسی طرح تلبیہ پڑھتے سنا تھا حتیٰ کہ آپ جمرۃ پر پہنچ گئے اور انھوں نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تلبیہ پڑھا حتیٰ کہ جمرۃ تک پہنچ گئے۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ پھر میں حضرت ابن عباس (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کو حضرت حسین (رض) کی بات سنائی تو حضرت ابن عباس (رض) نے ارشاد فرمایا : انھوں نے سچ کہا۔ پھر مجھے حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اور مجھے میرے بھائی فضل بن عباس جو کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ردیف تھے۔
یعنی دوران حج حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سواری پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے میں نے بیان کیا کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے حتیٰ کہ آپ نے جمرۃ تک پہنچ کر اس کو ختم فرمادیا۔
مسند ابی یعلی، الطحاوی ، ابن جریر۔
ابن جریر نے مذکورہ روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔
یعنی دوران حج حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سواری پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے میں نے بیان کیا کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے حتیٰ کہ آپ نے جمرۃ تک پہنچ کر اس کو ختم فرمادیا۔
مسند ابی یعلی، الطحاوی ، ابن جریر۔
ابن جریر نے مذکورہ روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔
12415- عن عكرمة قال: دفعت مع الحسين بن علي من المزدلفة فلم أزل أسمعه يقول: لبيك اللهم لبيك حتى انتهى إلى الجمرة، فقلت له: ما هذا الإهلال يا أبا عبد الله؟ قال: سمعت أبي علي بن أبي طالب يهل حتى انتهى إلى الجمرة، وحدثني أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أهل حتى انتهى إليها قال: فرجعت إلى ابن عباس فأخبرته بقول حسين فقال: صدق، قال: وأخبرني أخي الفضل بن عباس وكان رديف رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه لم يزل يهل حتى انتهى إلى الجمرة. "ع والطحاوي وابن جرير" وصححه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪১৬
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلبیہ کب تک پڑھا جائے
12416 ہشام بن حسان، محمد بن سیرین سے اور محمد بن سیرین اپنے بھائی یحییٰ بن سیرین سے اور وہ اپنے بھائی انس بن سیرین سے اور وہ حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت کرتے ہیں۔
حضرت انس (رض) فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں تلبیہ پڑھتے سنا۔
لبیک حقا حقا تعبداً اور قا۔
حضرت انس (رض) فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں تلبیہ پڑھتے سنا۔
لبیک حقا حقا تعبداً اور قا۔
12416- عن هشام بن حسان عن محمد بن سيرين عن أخيه يحيى بن سيرين عن أخيه أنس بن سيرين عن أنس بن مالك قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يلبي لبيك حقا حقا تعبدا ورقا.
"كر ابن النجار".
"كر ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪১৭
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلبیہ کب تک پڑھا جائے
12417 محمد بن سیرین عن افیہ یحییٰ بن سیرین عن اخیہ معبد عن اخیہ انس بن سیرین عن انس بن مالک، حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا :
لبیک حقاً حقاً تعبداً ورقاً ۔ الدیلمی۔
ترجمہ : حاضر ہے بندہ حق، بندگی اور غلامی کی حالت میں۔ ابن عساکر، ابن النجار۔
لبیک حقاً حقاً تعبداً ورقاً ۔ الدیلمی۔
ترجمہ : حاضر ہے بندہ حق، بندگی اور غلامی کی حالت میں۔ ابن عساکر، ابن النجار۔
12417- عن محمد بن سيرين عن أخيه يحيى بن سيرين عن أخيه معبد عن أخيه أنس بن سيرين عن أنس بن مالك قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لبيك حقا حقا تعبدا ورقا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪১৮
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلبیہ کب تک پڑھا جائے
12418 حضرت عطاءؒ سے مروی ہے کہ ہمیں خبر پہنچی ہے کہ موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) نے صفا اور مروہ کے درمیان طواف کیا اور آپ کے جسم پر سفید جبہ تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے :
لبیک اللھم لبیک۔
اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پروردگار آپ کو جواب دے رہے تھے :
لبیک یا موسیٰ ! الجامع لعبد الرزاق۔
لبیک اللھم لبیک۔
اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پروردگار آپ کو جواب دے رہے تھے :
لبیک یا موسیٰ ! الجامع لعبد الرزاق۔
12418- عن عطاء قال: بلغنا أن موسى بن عمران عليه السلام طاف بين الصفا والمروة، وعليه جبة قطوانية2 وهو يقول: لبيك اللهم لبيك فيجيبه ربه، لبيك ياموسى. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪১৯
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلبیہ کب تک پڑھا جائے
12419 ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
کسی تلبیہ پڑھنے والے نے کبھی کوئی تلبیہ نہیں پڑھا اور نہ کسی تکبیر کہنے والے کبھی کوئی تکبیرکہی مگر اس کو جنت کی خوشخبری دیدی گئی۔ ابن النجار۔
کسی تلبیہ پڑھنے والے نے کبھی کوئی تلبیہ نہیں پڑھا اور نہ کسی تکبیر کہنے والے کبھی کوئی تکبیرکہی مگر اس کو جنت کی خوشخبری دیدی گئی۔ ابن النجار۔
12419- عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ما أهل مهل قط، ولا كبر مكبر قط إلا بشر بالجنة. "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৪২০
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلبیہ کب تک پڑھا جائے
12420 عمرہ بن معد یکرب سے مروی ہے کہ ہمیں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (تلبیہ یوں) سکھایا :
لبیک اللھم لبیک، اللھم لبیک لبیک لا شریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک۔
” حاضر ہیں ہم اے اللہ ! ہم حاضر ہیں، اے اللہ ! ہم حاضر ہیں، ہم حاضر ہیں، تیرا کوئی شریک نہیں، ہم حاضر ہیں، بیشک تمام تعریفیں اور نعمتیں تیرے لیے ہیں اور ساری بادشاہی تیری ہی ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔ “
عمرو بن معدیکرب فرماتے ہیں : ہم جاہلیت کے زمانے میں لوگوں کو عرفات کے میدان میں کھڑا ہونے سے روکتے تھے اس ڈر سے کہ کہیں ہمیں جن نہ اچک لیں ۔ تو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ارشاد فرمایا : لوگوں کو (میدان عرفات) عرفہ میں جانے کا راستہ چھوڑ دو خواہ وہ بطن محسر میں عرفہ کی رات ٹھہریں اور ارشاد فرمایا بطن عرفہ کو عبور کرلو جن جب مسلمان ہوگئے ہیں تو وہ اب تمہارے بھائی بن گئے ہیں۔ یعقوب بن سفیان، الشاشی، البغوی، ابن مندہ، ابن عساکر۔
لبیک اللھم لبیک، اللھم لبیک لبیک لا شریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک۔
” حاضر ہیں ہم اے اللہ ! ہم حاضر ہیں، اے اللہ ! ہم حاضر ہیں، ہم حاضر ہیں، تیرا کوئی شریک نہیں، ہم حاضر ہیں، بیشک تمام تعریفیں اور نعمتیں تیرے لیے ہیں اور ساری بادشاہی تیری ہی ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔ “
عمرو بن معدیکرب فرماتے ہیں : ہم جاہلیت کے زمانے میں لوگوں کو عرفات کے میدان میں کھڑا ہونے سے روکتے تھے اس ڈر سے کہ کہیں ہمیں جن نہ اچک لیں ۔ تو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ارشاد فرمایا : لوگوں کو (میدان عرفات) عرفہ میں جانے کا راستہ چھوڑ دو خواہ وہ بطن محسر میں عرفہ کی رات ٹھہریں اور ارشاد فرمایا بطن عرفہ کو عبور کرلو جن جب مسلمان ہوگئے ہیں تو وہ اب تمہارے بھائی بن گئے ہیں۔ یعقوب بن سفیان، الشاشی، البغوی، ابن مندہ، ابن عساکر۔
12420- عن عمرو بن معد يكرب قال: علمنا رسول الله صلى الله عليه وسلم لبيك اللهم لبيك، اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك، وإن كنا لنمنع الناس أن يقفوا بعرفة وذلك في الجاهلية فأمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن خلوا بينهم وبين عرفة وإن كان موقفهم ببطن محسر عشية عرفة فرقا من أن يخطفنا الجن فقال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم: أجيزوا بطن عرنة فإنما هم إذا أسلموا إخوانكم. "يعقوب بن سفيان والشاشي والبغوي وابن منده كر".
তাহকীক: