কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

حج اور عمرۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১৭০ টি

হাদীস নং: ১২৪২১
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلبیہ کب تک پڑھا جائے
12421 حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے مروی ہے انھوں نے مزدلفہ میں ارشاد فرمایا : میں نے اس ذات سے سنا جس پر سورة بقرہ نازل ہوئی اس مقام میں وہ فرما رہے تھے :

لبیک اللھم لبیک۔ ابن جریر۔
12421- عن عبد الله بن مسعود أنه قال بجمع: سمعت الذي أنزلت عليه سورة البقرة ههنا يقول: لبيك اللهم لبيك. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪২২
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلبیہ کب تک پڑھا جائے
12422 عبدالرحمن بن زید سے مروی ہے کہ میں عبداللہ بن مسعود کے ساتھ مشعرحرام سے یوم النحر (قربانی کے دن) تک ساتھ تھا۔ آپ (رض) مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے حتیٰ کہ آپ جمرہ عقبہ پر پہنچ گئے پھر بطن الوادی گئے اور فرمایا : اے بھتیجے ! میری اونٹنی کی مہار تھام اور مجھے سات کنکریاں دے۔ چنانچہ میں نے آپ کو کنکریاں دیدیں۔ پھر آپ (رض) نے بطن الوادی سے رمی فرمائی۔ اور ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے۔ پھر ارشاد فرمایا : اسی طرح میں نے اس ذات کو کرتے دیکھا تھا جس پر سورة بقرہ نازل ہوئی تھی۔ ابن جریر۔
12422- عن عبد الرحمن بن زيد قال: أفضت مع عبد الله بن مسعود من المشعر الحرام يوم النحر، فما زال يلبي حتى انتهى إلى الجمرة العقبة، فاستبطن الوادي وقال: خذ بزمام ناقتي يا ابن أخي، وناولني سبعة أحجار، فناولته فرمى من بطن الوادي يكبر مع كل حصاة يرمي بها ثم قال: هكذا رأيت الذي أنزلت عليه سورة البقرة فعل. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪২৩
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلبیہ کب تک پڑھا جائے
12423: ابن مسعود (رض) سے مروی ہے، ارشاد فرمایا : میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تلبیہ پڑھتے دیکھا حتی کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی فرمائی۔ ابن جریر۔
12423- عن ابن مسعود قال: رأيت النبي صلى الله عليه وسلم لبى حتى رمى جمرة العقبة. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪২৪
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلبیہ کب تک پڑھا جائے
12424: ابن مسعود (رض) کے متعلق مروی ہے کہ آپ (رض) تلبیہ پڑھتے رہتے تھے حتیٰ کہ جمرہ عقبہ کی رمی کرتے۔ ابن جریر۔
12424- عن ابن مسعود أنه كان يلبي حتى يرمي جمرة العقبة. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪২৫
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلبیہ کب تک پڑھا جائے
12425 نافع (رح) سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) جب حرم کے بتوں (کے مقام) پر پہنچتے تو تلبیہ پڑھنے سے رک جاتے تھے۔ حتیٰ کہ بیت اللہ اور صفا اور مروہ کا طواف فرماتے اگر عمرہ ہوتا تو ٹھیک ورنہ حج میں صفامروہ کے طواف میں شروع ہوجاتے اور تلبیہ پڑھنا شروع فرما دیتے اور جب تک مکہ میں مقیم رہتے اور مزدلفہ میں اور عرفہ کی رات تک یونہی تلبیہ پڑھتے رہتے حتیٰ کہ (عرفہ کی) صبح ہوتی تو رک جاتے تھے۔ ابن جریر۔
12425- عن نافع أن ابن عمر كان إذا بلغ أنصاب الحرم في الحج أو العمرة أمسك عن التلبية حتى يطوف بالبيت وبالصفا والمروة فإن كانت عمرة وإن كان حجا فطاف بالصفا والمروة عاد في تلبيته ما أقام بمكة ويوم المزدلفة وليلة عرفة، فإذا غدا أمسك. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪২৬
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلبیہ کب تک پڑھا جائے
12426 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسامہ بن زید (رض) کو عرفہ سے مزدلفہ تک اپنا ردیف (سواری کے پیچھے بٹھا کر) بنایا۔ پھر مزدلفہ سے منیٰ تک فضل بن عباس کو ردیف بنایا۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ فضل نے ان کو خبر دی کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مسلسل پڑھتے ہوئے سنتے رہے حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رمی جمرہ فرمائی۔ ابن جریر۔
12426- عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم أردف أسامة بن زيد من عرفة إلى مزدلفة، ثم أردف الفضل بن عباس من مزدلفة إلى منى فذكر ابن عباس أن الفضل أخبره أنه لم يزل يسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يلبي حتى رمى الجمرة. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪২৭
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلبیہ کب تک پڑھا جائے
12427 حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے فرمایا : حاجی جب جمرہ عقبہ پر رمی کریں تو تلبیہ پڑھنے سے رک جائیں۔ ابن جریر۔
12427- عن ابن عباس قال: يمسك الحاج عن التلبية إذا رمى جمرة العقبة. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪২৮
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلبیہ کب تک پڑھا جائے
12428 حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : اللہ فلاں (دشمن علی (رض)) پر لعنت کرے، وہ اس دن یعنی یوم عرفہ کو تلبیہ پڑھنے سے روکتا تھا کیونکہ حضرت علی (رض) اس دن تلبیہ پڑھتے تھے۔ ابن جریر۔
12428- عن ابن عباس قال: لعن الله فلانا إنه كان ينهى عن التلبية في هذا يعني يوم عرفة لأن عليا كان يلبي فيه. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪২৯
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلبیہ کب تک پڑھا جائے
12429 حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے، ارشاد فرمایا : شیطان ابن آدم کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے : تلبیہ چھوڑ دے اور لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر پڑھ، کہ وہ بدعت کو زندہ کرے اور سنت کو ماردے۔ ابن جریر۔
12429- عن ابن عباس قال: إن الشيطان يأتى ابن آدم فيقول: دع التلبية وهلل وكبر ليحيى البدعة ويميت السنة. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৩০
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلبیہ کب تک پڑھا جائے
12430 سعیدبن جبیر (رح) سے مروی ہے کہ میں عرف میں حضرت ابن عباس (رض) کے پاس حاضر ہوا۔ آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : اللہ پاک فلاں لوگوں کو لعنت کرے۔ انھوں نے ایام حج کے سب سے بڑے دن (عرفہ) کو لیا اور حج کی زینت ختم کردی اور حج کی زینت تلبیہ ہے۔ ابن جریر۔
12430- عن سعيد بن جبير قال: أتيت ابن عباس بعرفة فقال: لعن الله فلانا عمدوا إلى أعظم أيام الحج فمحوا زينة الحج وإنما زينة الحج التلبية. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৩১
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلبیہ کب تک پڑھا جائے
12431 عکرمہ (رح) سے مروی ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) نے روایت کیا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تلبیہ پڑھتے رہے حتیٰ کہ جمرہ عقبہ کی رمی فرمالی (یعنی رمی سے پہلے تلبیہ ختم کردیا) ۔ ابن عساکر
12431- عن عكرمة عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم لبى حتى رمي جمرة العقبة. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৩২
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلبیہ کب تک پڑھا جائے
12432 ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو تلبیہ سکھایا :

لبیک اللھم لبیک لا شریک لک ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک ۔ ابن عساکر۔
12432- عن ابن مسعود أن النبي صلى الله عليه وسلم علمه التلبية: لبيك اللهم لبيك لا شريك لك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৩৩
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب مناسک حج میں ترتیب کے ساتھ

فصل۔۔۔میقات مکانی کے بیان میں
12433 (مسند عمر (رض)) حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جب یہ دو شہر (عراق اور بصرہ وغیرہ) فتح ہوگئے تو لوگ حضرت عمر (رض) کے پاس حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا : اے امیر المومنین ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل نجد کے لیے ” قرن “ کو میقات مقرر کیا تھا جبکہ یہ ہمارے راستے سے ہٹ کر ہے اور اگر ہم ” قرن “ کا قصد کرتے ہیں تو ہمیں دشوار پڑتا ہے۔ تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اس کے مقابلے میں جو مقام تمہارے اپنے راستے میں پڑتا ہے اس کو دیکھ لو۔ چنانچہ پھر حضرت عمر (رض) نے ان کے لیے ذات عرق کو میقات مقرر کردیا۔ مصنف ابن ابی شیبہ، البخاری، السنن للبیہقی۔
12433- "مسند عمر رضي الله عنه" عن ابن عمر قال: لما فتح هذان المصران أتوا عمر فقالوا: يا أمير المؤمنين إن رسول الله صلى الله عليه وسلم حد لأهل نجد قرنا، وهو جور1 عن طريقنا وإنا إن أردنا قرنا شق علينا قال: فانظروا حذوها من طريقكم فحد لهم ذات عرق. "ش خ ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৩৪
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میقات مکانی کے بیان میں
12434 اسود بن یزید حضرت عمر بن خطاب (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے لوگوں کو خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا :

تم میں سے جو شخص حج کا ارادہ کرے وہ میقات سے احرام باندھے (یعنی تلبیہ پڑھے) اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو تمہارے لیے میقات مقرر فرمائے ہیں اہل مدینہ اور جو وہاں سے غیر اہل مدینہ گزرے ان کے لیے ذوالحلیفہ میقات ہے۔ اور اہل شام اور جو شام سے غیر شامی آئیں ان کے میقات جحفہ ہے۔ اور اہل نجد اور جو غیر نجدی وہاں سے آئیں ان کے لیے میقات قرن ہے۔ اور اہل یمن کے لیے یلملم ہے اور اہل عراق اور بقیہ تمام لوگوں کے لیے ذات عرق ہے۔ ابن الضیاء
12434- عن الأسود بن يزيد عن عمر بن الخطاب أنه خطب الناس فقال: من أراد منكم الحج، فلا يحرمن إلا من ميقات، والمواقيت التي وقتها لكم رسول الله صلى الله عليه وسلم لأهل المدينة ومن مر بها من غير أهلها ذو الحليفة، ولأهل الشام، ومن مر بها من غير أهلها الجحفة، ولأهل نجد ومن مر بها من غير أهلها قرن، ولأهل اليمن يلملم، ولأهل العراق وسائر الناس ذات عرق. "ابن الضياء"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৩৫
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میقات مکانی کے بیان میں
12435 حضرت بنت عبدالرحمن بن ابی بکر صدیق (رض) اپنے والد عبدالرحمن سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبدالرحمن بن ابی بکر (رض) کو فرمایا : اپنی بہن عائشہ (رض) کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھاؤ تنعیم اس کو لے جاؤ جب تم اس کو لے کر چوٹیوں سے اترو تو اس کو کہہ دینا کہ احرام باندھ لے کیونکہ یہ مقبول عمرہ ہے۔ مسند احمد، مسند البزار، مسند احمد، ابوداؤد ، مستدرک الحاکم۔
12435- عن حفصة بنت عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق عن أبيها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لعبد الرحمن بن أبي بكر: أردف أختك يعني عائشة، فاعمرها من التنعيم، فإذا هبطت بها من الأكمة فمرها فلتحرم فإنها عمرة متقبلة. "حم ز" والمنتخب "حم د ك"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৩৬
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میقات مکانی کے بیان میں
12436 حضرت سعد (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب طریق الفرع پر چلتے تو سواری چلتے ہی تلبیہ پڑھ لیتے تھے (یعنی احرام باندھ لیتے تھے) اور جب دوسرے کسی راستے پر چلتے تو مقام بیداء پر پہنچتے تو تب تلبیہ پڑھ لیتے تھے (یعنی بن مخلد) ۔
12436- عن سعد قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أخذ طريق الفرع أهل إذا استقبلت به راحلته، وإذا أخذ طريقا أخرى أهل إذا أشرف البيداء. "بقي بن مخلد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৩৭
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میقات مکانی کے بیان میں
12437 حضرت ابی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسجد ذوالحلیفہ سے تلبیہ پڑھ لیا تھا۔ الحارث۔

کلام : مذکورہ روایت کی سند میں واقدی (ضعیف ) راوی ہے۔
12437- عن أبي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أهل من مسجد ذي الحليفة. "الحارث" وفيه الواقدي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৩৮
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میقات مکانی کے بیان میں
12438 محمد بن اسحاق سے مروی ہے فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن عامر نیشا پور سے عمرہ کے ارادہ سے نکلے اور نیشا پور سے ہی احرام باندھ لیا۔ جب وہ حضرت عثمان (رض) کے پاس حاضر ہوئے تو انھوں نے ارشاد فرمایا :

تم نے نیشا پور سے احرام باندھ کر اپنے آپ کو دھوکا دیا ہے۔ السنن للبیہقی
12438- عن محمد بن إسحاق قال: خرج عبد الله بن عامر من نيسابور معتمرا قد أحرم بها فلما قدم على عثمان بن عفان قال له: لقد غررت نفسك حين أحرمت من نيسابور. "هق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৩৯
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میقات مکانی کے بیان میں
12439 حضرت عائشہ (رض) حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ ، اہل شام ومصر کے لیے جحفہ ، اہل یمن کے لیے یلملم اور اہل عراق کے لیے ذات عرق کو میقات مقرر فرمایا۔ ابن جریر
12439- عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه وقت لأهل المدينة ذا الحليفة، ولأهل الشام والمصر الجحفة، ولأهل اليمن يلملم، ولأهل العراق ذات عرق. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৪০
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میقات مکانی کے بیان میں
12440 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل مشرق کے لیے عقیق کو میقات مقرر فرمایا۔ ابن جریر

کلام : روایت ضعیف ہے : ضعیف ابی داؤد 381 ۔
12440- عن ابن عباس قال: وقت رسول الله صلى الله عليه وسلم لأهل المشرق العقيق. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক: