কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

حج اور عمرۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১৭০ টি

হাদীস নং: ১২৪৬১
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القرآن

حج وعمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھنا اور دونوں کے اکٹھے ادائیگی کی نیت کرنا
12461 (مسند علی (رض)) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا آپ نے حج قران کیا اور دوطواف کیے اور دو سعی فرمائیں۔ العقیلی فی الضعفاء الدارقطنی۔

کلام : امام دارقطنی (رح) اور امام عقیلی (رح) دونوں نے مذکورہ روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔
12461- "مسند علي رضي الله عنه " رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم قرن فطاف طوافين وسعى سعيين. "عق قط" وضعفاه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৬২
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القرآن

حج وعمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھنا اور دونوں کے اکٹھے ادائیگی کی نیت کرنا
12462 حضرت حسن بن علی کے آزاد کردہ غلام سعد کہتے ہیں کہ ہم حضرت علی (رض) کے ساتھ (حج کے لئے) نکلے۔ جب ہم ذی الحلیفہ میں پہنچے تو حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : میرا ارادہ ہے کہ میں حج اور عمرہ کو جمع کروں ۔ لہٰذا جو تم میں سے دونوں کا ارادہ کرنا چاہتا ہے وہ یوں کہے جس طرح میں کہوں ۔ پھر حضرت علی (رض) نے تلبیہ پڑھا : لبیک بعمرۃ وحجۃ معاً ، عمرہ اور حج دونوں کے لیے حاضر ہوں میں اے اللہ ! مدد
12462- عن سعد مولى الحسن بن علي قال: خرجنا مع علي حتى إذا كنا بذي الحليفة قال: إني أريد أن أجمع بين الحج والعمرة، فمن أراد ذلك منكم فليقل كما أقول، ثم لبى فقال: بعمرة وحجة معا.

"مسدد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৬৩
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القرآن

حج وعمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھنا اور دونوں کے اکٹھے ادائیگی کی نیت کرنا
12463 ابونصر سلمی سے مروی ہے کہ میں نے حج کے لیے تلبیہ پڑھ لیا ۔ پھر میں نے حضرت علی (رض) کو پالیا۔ میں نے عرض کیا : میں نے حج کے لیے تلبیہ پڑھ (لیا ہے اور احرام باندھ ) لیا ہے، لیکن میں عمرہ کو ملانے کی بھی طاقت رکھتا ہوں۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : نہیں۔ ہاں اگر تو عمرہ کا احرام باندھتا پھر حج کو اس کے ساتھ ملانا چاہتا تو ملا سکتا تھا۔ لیکن اگر تو نے حج کے ساتھ ابتدا کرلی ہے تو اب اس کے ساتھ عمرہ نہیں ملا سکتا۔ ابونصر سلمی نے پوچھا : اگر میں دونوں کا ارادہ کروں تو کیا کرنا پڑے گا ؟ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا پانی کا برتن اپنے اوپر بہاؤ (غسل کرو) پھر دونوں کا اکٹھے احرام باندھ لو اور دونوں کے لیے دو طواف کرو ایک طواف حج کے لیے اور ایک طواف اپنے عمرہ کے لیے اور دو سعی کرو پھر کوئی چیز تمہارے لیے حلال نہیں ہوگی یوم النحر تک ۔ السنن للبیہقی

امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : ابونصر غیر معروف راوی ہے۔ ابن الترکمانی فرماتے ہیں مگر یہی روایت دوسری کئی عمدہ اسانید سے بھی مروی ہے۔
12463- عن أبي نصر السلمي قال: أهللت بالحج فأدركت عليا، فقلت: إني أهللت بالحج فأستطيع أن أضم إليه عمرة قال: لا، لو كنت أهللت بالعمرة، ثم أردت أن تضم إليها الحج ضممته، فإذا بدأت بالحج فلا تضم إليه عمرة قال: فما أصنع إذا أردت ذلك؟ قال: صب عليك إداوة من ماء ثم تحرم بهما جميعا فتطوف لهما طوافين طوافا لحجك وطوافا لعمرتك، وتسعي سعيين، ثم لم يحل منك شيء إلى يوم النحر. "هق" وقال أبو نصر غير معروف
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৬৪
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القرآن

حج وعمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھنا اور دونوں کے اکٹھے ادائیگی کی نیت کرنا
12464 حضرت علی (رض) سے قارن کے متعلق مروی ہے ارشاد فرمایا : قارن (عمرہ وحج کا دونوں) کا اکٹھے احرام باندھنے والا دو طواف کرے گا اور ایک سعی کرے گا۔ الشافعی فی القدیم۔
12464- عن علي قال في القارن: يطوف طوافين، ويسعى سعيا. "الشافعي في القديم"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৬৫
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القرآن

حج وعمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھنا اور دونوں کے اکٹھے ادائیگی کی نیت کرنا
12465 جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت مقداد بن اسود حضرت علی (رض) کے پاس سقیا (مکہ مدینہ کے درمیان مقام) پر تشریف لائے ۔ حضرت علی (رض) اپنے اونٹوں کو آٹا اور پتوں کا ملا ہوا پانی پلا رہے تھے۔ مقداد نے عرض کیا : یہ عثمان بن عفان (رض) حج اور عمرہ کے درمیان قران کرنے سے (دونوں کو ملانے سے) منع فرما رہے ہیں۔

راوی کہتے ہیں کہ پھر حضرت علی (رض)، حضرت عثمان (رض) کے پاس گئے اور پوچھا : کیا آپ حج اور عمرہ کو ساتھ ملانے سے منع فرما رہے ہیں۔ حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : ہاں (یہ میری رائے ہے) یہ سن کر حضرت علی (رض) غصہ میں حج قران کا تلبیہ پڑھتے ہوئے نکلے :

لبیک بحج وعمرۃ معا۔

فائدہ : یہ میری رائے ہے کہ الفاظ موطا امام مالک میں اضافہ ہیں۔ یہ روایت بھی موطا امام مالک میں مذکور ہے، کتاب الحج باب القران۔
12465- عن جعفر بن محمد عن أبيه أن المقداد بن الأسود دخل على علي بن أبي طالب بالسقيا [وهو ينجع بكرات له دقيقا وخبطا] فقال: هذا عثمان بن عفان ينهى أن يقرن بين الحج والعمرة، فقال: حتى وقف على عثمان فقال: أنت تنهى أن يقرن بين الحج والعمرة؟ فقال عثمان: ذلك [رأيي] ، فخرج مغضبا وهو يقول: لبيك بحج وعمرة معا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৬৬
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القرآن

حج وعمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھنا اور دونوں کے اکٹھے ادائیگی کی نیت کرنا
12466 حریث بن سلیم سے مروی ہے کہ میں نے حضرت علی (رض) کو حج وعمرہ کا تلبیہ پڑھتے سنا، پھر عمرہ کے ساتھ ابتداء فرمائی۔ حضرت عثمان (رض) نے ان کو ارشاد فرمایا : آپ ان لوگوں میں سے ہیں جن کی طرف لوگوں کی نظر ہوتی ہے (کہ دیکھیں وہ کیا عمل کرتے ہیں) ۔ حضرت علی (رض) نے ان کو فرمایا : آپ بھی ان لوگوں میں سے ہیں جن کی طرف لوگوں کی نظر ہوتی ہے۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
12466- عن حريث بن سليم قال: سمعت عليا لبى بالحج والعمرة، فبدأ بالعمرة فقال له عثمان: إنك ممن ينظر إليه، فقال له علي: وأنت ممن ينظر إليه. "ش".

= وقال ابن التركماني في ذيله الجوهر النقي: توضيحا لما ذكره البيهقي من أن أبا نصر السلمي مجهول، فقال: قد روى ذلك بأسانيد جيدة انتهى.

فراجع البحث بطوله السنن الكبرى للبيهقي "5/108" ص.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৬৭
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القرآن

حج وعمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھنا اور دونوں کے اکٹھے ادائیگی کی نیت کرنا
12467 صبی بن معبد سے مروی ہے : میں پہلے نصرانی تھا پھر میں مسلمان ہوگیا پھر میں نے حج کا ارادہ کیا تو میں اپنی قوم کے ایک آدمی جس کو ادیم تغلبی کہا جاتا تھا پھر میں مسلمان ہوگیا پھر میں نے حج کا ارادہ کیا تو میں اپنی قوم کے ایک آدمی جس کو ادیم تغلبی کہا جاتا تھا کے پاس آیا۔ اس نے مجھے کہا کہ حج قران کرو۔ اور اس نے مجھے خبر دی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی حج قران کیا تھا۔ صبی کہتے ہیں کہ پھر میرا گزر زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ کے پاس سے ہوا (انہوں نے مجھے حج قران کا تلبیہ پڑھتے دیکھا تھا تو) انھوں نے مجھے کہا : تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ گمراہ ہے۔ یہ بات میرے دل میں کھٹکنے لگی۔ پھر میں حضرت عمر (رض) کے پاس سے گزرا تو میں نے ان سے سوال کیا تو انھوں نے ارشاد فرمایا : تجھے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کی ہدایت مل گئی ہے۔

الباوردی، ابن قانع، ابونعیم
12467- عن صبي بن معبد قال: كنت قريب عهد بنصرانية فأسلمت ثم أردت الحج فأتيت رجلا من قومي يقال له: أديم التغلبي فأمرني أن أقرن وأخبرني أن النبي صلى الله عليه وسلم قرن فمررت بزيد بن صوحان وسلمان بن ربيعة فقالا لي: لأنت أضل من بعيرك، فوقع في نفسي من ذلك، فمررت على عمر فسألته فقال: هديت لسنة نبيك صلى الله عليه وسلم. "البارودي وابن قانع وأبو نعيم"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৬৮
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القرآن

حج وعمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھنا اور دونوں کے اکٹھے ادائیگی کی نیت کرنا
12468 حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ وہ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی کے پاس تھے، جب اونٹنی نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اٹھالیا تو آپ نے فرمایا : لبیک بحجۃ وعمرۃ معاً ، یعنی حج قران کا تلبیہ پڑھا۔ ابن النجار
12468- عن أنس أنه كان عند ناقة رسول الله صلى الله عليه وسلم عام حجة الوداع، فلما استقلت به قال: لبيك بحجة وعمرة معا. "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৬৯
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القرآن

حج وعمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھنا اور دونوں کے اکٹھے ادائیگی کی نیت کرنا
12469 حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حج وعمرۃ دونوں کا تلبیہ پڑھتے سنا۔ ابن عساکر
12469- عن أنس قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يهل بالحج والعمرة جميعا. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৭০
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القرآن

حج وعمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھنا اور دونوں کے اکٹھے ادائیگی کی نیت کرنا
12470 حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا :

لبیک بحجۃ وعمرۃ معاً ۔ ابن عساکر
12470- عن أنس قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لبيك بحجة وعمرة معا."كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৭১
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القرآن

حج وعمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھنا اور دونوں کے اکٹھے ادائیگی کی نیت کرنا
12471 ھرماس بن زیاد سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کا ردیف تھا۔ ان کی سواری پر ان کے پیچھے بیٹھا تھا تو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی سواری پر یہ فرماتے ہوئے دیکھا :

لبیک بحجۃ وعمرۃ معاً ، ابن النجار
12471- عن هرماس بن زياد قال: كنت ردف أبي فرأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على ناقته، وهو يقول: لبيك بحجة وعمرة معا. "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৭২
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القرآن

حج وعمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھنا اور دونوں کے اکٹھے ادائیگی کی نیت کرنا
12472 حضرت ابو طلحہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تلبیہ میں پڑھتے ہوئے سنا :

لبیک بحجۃ وعمرۃ معا، الکبیر للطبرانی
12472- عن أبي طلحة قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول في تلبيته: لبيك بحجة وعمرة معا. "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৭৩
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القرآن

حج وعمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھنا اور دونوں کے اکٹھے ادائیگی کی نیت کرنا
12473 حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تلبیہ پڑھا بعمرۃ فی حجۃ ، مسندالبزار یعنی پچھلی روایات کی طرح حج قران کا تلبیہ پڑھا۔
12473- عن عائشة قالت: أهللت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بعمرة في حجة. "ز".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৭৪
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ القرآن

حج وعمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھنا اور دونوں کے اکٹھے ادائیگی کی نیت کرنا
12474 جبیر بن معطم (رض) سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مروہ پر حاضر ہوا آپ عمرہ میں تھے اور قینچی سے بال کاٹ رہے تھے اور فرما رہے تھے عمرہ حج میں داخل ہوگیا قیامت تک کے لئے۔ ابن جریر فی تھذیبہ۔
12474- عن جبير بن مطعم قال: أتيت النبي صلى الله عليه وسلم على المروة في عمرة وهو يقص بمشقص وهو يقول: دخلت العمرة في الحج إلى يوم القيامة. "ابن جرير في تهذيبه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৭৫
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ التمتع ۔۔۔حج تمتع
12475 (مسند عمر (رض)) حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ مقام بطحاء میں تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے پوچھا : کس چیز کا تلبیہ پڑھا ہے۔ میں نے عرض کیا : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تلبیہ کی طرح میں نے تلبیہ کہا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا ھدی (قربانی کا جانور) ساتھ لائے ہو ؟ میں نے عرض کیا : نہیں ۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم بیت اللہ کا طواف کرو پھر صفا مروہ کا طواف کرو پھر (عمرہ سے) حلال ہوجاؤ۔ حضرت ابوموسیٰ (رض) فرماتے ہیں چنانچہ میں بیت اللہ کا پھر صفا ومروہ کا طواف کیا پھر میں اپنی قوم کی ایک عورت کے پاس آیا اس نے میرے بالوں میں کنگھی کردی اور میں نے اپنا سر دھولیا۔ پھر میں ابوبکر اور عمر (رض) کی خلافت میں اسی طرح فتویٰ دیتا رہا۔ پھر میں خلافت عمر میں موسم حج میں کھڑا تھا کہ ایک آدمی میرے پاس آیا اور بولا : آپ کو معلوم نہیں ہے کہ امیر المومنین نے حج کے بارے میں کیا نیا ارشاد صادر فرمایا ہے ؟ پھر میں نے لوگوں کو کہا : اے لوگو ! جن کو بھی ہم نے حج کا مسئلہ بتایا ہو (وہ اس کی جگہ) اب امیر المومنین کی اقتداء کریں وہ تمہارے پاس آرہے ہیں۔ چنانچہ جب حضرت عمر (رض) تشریف لائے تو میں نے پوچھا : وہ کیا طریقہ ہے جو آپ نے حج کے متعلق نیا فرمایا ہے ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اگر ہم کتاب اللہ کو لیں تو اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

واتموا الحج والعمرۃ للہ۔

حج اور عمرہ کو اللہ کے لیے پورا کرو۔

اور اگر ہم اپنے نبی کی سنت کو لیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت تک حلال نہیں ہوئے جب تک کہ آپ نے ہدی (قربانی) کو نحر (قربانی) نہ کرلیا۔

مسند ابوداؤد، مسند احمد، البخاری، مسلم ، النسائی ، السنن للبیہقی۔
12475- "مسند عمر رضي الله عنه" عن أبي موسى قال: قدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو بالبطحاء فقال: بما أهللت؟ قلت: بإهلال كإهلال النبي صلى الله عليه وسلم فقال: هل سقت من هدى؟ قلت لا، قال: طف بالبيت، ثم بالصفا والمروة، ثم حل، فطفت بالبيت وبالصفا والمروة، ثم أتيت امرأة من قومي فمشطتني وغسلت رأسي، فكنت أفتى الناس بذلك في إمارة أبي بكر وإمارة عمر، فإني لقائم بالموسم إذ جاءني رجل فقال: إنك لا تدري ما أحدث أمير المؤمنين في شأن النسك فقلت: أيها الناس من كنا أفتيناه فتيا، فهذا أمير المؤمنين قادم عليكم فبه فائتموا فلما قدم قلت: ما هذا الذي قد أحدثت في شأن النسك؟ قال: إن نأخذ بكتاب الله تعالى فإن الله تعالى قال: وأتموا الحج والعمرة لله، وإن نأخذ بسنة نبينا فإنه لم يحل حتى نحر الهدي. "ط حم خ م ن ق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৭৬
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ التمتع ۔۔۔حج تمتع
12476 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عمر (رض) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا :

اللہ کی قسم ! میں تم لوگوں کو حج تمتع سے نہیں روکتا کیونکہ وہ کتاب اللہ میں ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو کیا ہے۔ النسائی
12476- عن ابن عباس قال: سمعت عمر يقول: والله لا أنهاكم عن المتعة، وإنها لفي كتاب الله وقد فعلها رسول الله صلى الله عليه وسلم يعني في الحج. "ن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৭৭
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ التمتع ۔۔۔حج تمتع
12477 سعید بن المسیب (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمربن خطاب (رض) نے حج کے مہینوں میں حج تمتع سے منع فرمایا ہے اور فرمایا کہ اگرچہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ یہی حج کیا تھا۔ لیکن پھر بھی میں اس سے روکتا ہوں۔ وہ اس لیے کہ تم میں سے کوئی دنیا کے کس کس کونے سے آتا ہے غبار آلود اور پراگندہ حال ہوتا ہے اور وہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرتا ہے، اس کی غبار آلود حالت، پراگندہ بال اور تھکاوٹ اور تلبیہ اس کے عمرے میں ختم ہوجاتا ہے (اور یہی چیزیں اللہ کو محبوب ہیں) کیونکہ وہ بیت اللہ کا طواف کرتا ہے اور حلال ہوجاتا ہے پھر کپڑے پہنتا ہے خوشبو لگاتا ہے اور اپنے اہل کے ساتھ مباشرت بھی کرتا ہے اگر وہ ساتھ ہوں۔ پھر جب ترویہ (آٹھ ذی الحجہ) کا دن ہوتا ہے تو پھر حج کا تلبیہ پڑھتا ہے اور منیٰ جاتا ہے اور تلبیہ پڑھتا ہے، اب اس کے بال پراگندہ ہوتے ہیں اور نہ وہ غبار آلود حالت میں ہوتا ہے ، نہ اس کو تھکاوٹ ہوتی ہے اور زیادہ دنوں کا تلبیہ ہوتا ہے سوائے ایک دن کے، حالانکہ حج عمرہ سے افضل (عبادت) ہے۔ اگر ہم لوگوں کو (حج اس طرح اس حج تمتع کے لئے) چھوڑ دیں تو وہ پیلو کے درختوں تلے عورتوں سے ہم آغوش ہوں گے، جبکہ اہل بیت (رسول اللہ تو غربت وفاقے کی وجہ سے) نہ ان کے پاس مال مویشی تھے اور نہ اناج فصل، ان کی کشادگی تو تبھی ہوتی تھی جب ان کے پاس کچھ آجاتا تھا۔

حلیۃ الاولیاء ، مسند احمد، البخاری، مسلم، النسائی، السنن للبیہقی۔

فائدہ : مذکورہ روایت حلیۃ الاولیاء میں 205/5 پر ہے اور صرف یہی حوالہ منتخب کنزالعمال میں ہے۔

محش رقم طراز ہیں کہ بقیہ کتب مذکورہ میں مذکورہ روایت رجوع کرنے پر نہیں ملی۔ 12
12477- عن سعيد بن المسيب أن عمر بن الخطاب، نهى أن المتعة في أشهر الحج وقال: فعلتها مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا أنهى عنها، وذلك أن أحدكم يأتي من أفق من الآفاق شعثا نصبا معتمرا في أشهر الحج وإنما شعثه ونصبه وتلبيته في عمرته ثم يقدم فيطوف بالبيت ويحل ويلبس ويتطيب ويقع على أهله إن كانوا معه، حتى إذا كان يوم التروية أهل بالحج وخرج إلى منى يلبي بحجة لا شعث فيها ولا نصب ولا تلبية إلا يوما والحج أفضل من العمرة لو خلينا بينهم وبين هذا لعانقوهن تحت الأراك من أن أهل البيت ليس لهم ضرع ولا زرع، وإنما ربيعهم فيمن يطرأ عليهم " حل حم خ م ن ق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৭৮
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ التمتع ۔۔۔حج تمتع
12478 حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کے متعلق مروی ہے کہ وہ حج تمتع کا فتویٰ دیتے تھے۔ ایک آدمی نے ان کو کہا : اپنے فتویٰ کو روک لو۔ کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ آپ کے بعد امیر المومنین نے کیا نیا حکم جاری فرمایا ہے ! حضرت ابوموسیٰ (رض) فرماتے ہیں چنانچہ میں بعد میں حضرت عمر (رض) سے ملا اور اس کے متعلق سوال کیا۔ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : میں جانتا ہوں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ حج کیا، آپ کے اصحاب نے بھی کہا، لیکن مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ لوگ (عمرہ سے حلال ہو کر) پیلو کے درختوں تلے عورتوں سے ہم آغوش ہوں۔ پھر وہ حج کے لیے نکلیں تو ان کے سروں سے غسل کا پانی ٹپک رہا ہو۔ مسند احمد، مسلم، النسائی ، ابن ماجہ، ابوعوانۃ، السنن للبیہقی۔
12478- عن أبي موسى الأشعري أنه كان يفتي بالمتعة فقال له رجل: رويدك [ببعض] فتياك فإنك لا تدري ما أحدث أمير المؤمنين في النسك بعدك حتى لقيته بعد فسألته فقال عمر: قد علمت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم فعله وأصحابه، ولكني كرهت أن يظلوا بهن معرسين تحت الأراك، ثم يروحون بالحج تقطر رؤوسهم. "حم م ن هـ وأبو عوانة ق"1
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৭৯
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ التمتع ۔۔۔حج تمتع
12479 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : جب حج کے مہینوں میں کوئی عمرہ کرے پھر وہ (وہیں حج کے لئے) ٹھہر جائے تو وہ متمتع (حج تمتع کرنے والا) ہے۔ اگر واپس اپنے گھر آجائے تو متمتع نہیں۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
12479- عن ابن عمر قال: قال عمر: إذا اعتمر في أشهر الحج ثم أقام فهو متمتع، فإن رجع فليس بمتمتع. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৮০
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ التمتع ۔۔۔حج تمتع
12480 عبید بن عمیر سے مروی ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) نے عمر بن خطاب (رض) کو ارشاد فرمایا : کیا آپ نے حج تمتع سے منع فرمایا ہے ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : نہیں، لیکن میں (حج کے لئے) بیت اللہ کی زیارت کا ارادہ کرتا ہوں، حضرت علی (رض) نے فرمایا جو حج افراد کرتا ہے وہ اچھا ہے اور حج تمتع کرتا ہے وہ کتاب اللہ اور سنت رسول کو تھامتا ہے۔ السنن الکبریٰ للبیہقی
12480- عن عبيد بن عمير قال: قال علي بن أبي طالب لعمر بن الخطاب: انهيت عن المتعة؟ قال: لا ولكني أردت زيارة البيت، فقال علي: من أفرد الحج فحسن، ومن تمتع فقد أخذ بكتاب الله وسنة نبيه. "هق"
tahqiq

তাহকীক: