কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

حج اور عمرۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১৭০ টি

হাদীস নং: ১২৪৮১
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ التمتع ۔۔۔حج تمتع
12481 ابراہیم سے مروی ہے ، فرمایا : تمتع سے منع کیا گیا ہے اور قران سے نہیں۔ ابن خسرو
12481- عن إبراهيم قال: إنما نهى عن المتعة ولم ينه عن القران. "ابن خسرو".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৮২
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ التمتع ۔۔۔حج تمتع
12482 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ، فرمایا : اگر میں عمرہ کرتا پھر حج کرتا تو میں تمتع کرتا۔ مسدد
12482- عن عمر قال: لو اعتمرت ثم حججت لتمتعت. "مسدد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৮৩
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ التمتع ۔۔۔حج تمتع
12483 حضرت سعید بن المسیب (رح) سے مروی ہے فرمایا : حضرت علی (رض) (اور حضرت عثمان (رض)) نے حج کیا۔ جب ہم راستے میں تھے تو حضرت عثمان (رض) نے حج تمتع سے منع فرمایا۔ لیکن حضرت علی (رض) اور ان کے اصحاب نے (حج تمتع ہی کی صورت اختیار کرتے ہوئے) پہلے عمرہ کا تلبیہ پڑھا۔ مگر حضرت عثمان (رض) نے ان کو منع نہیں فرمایا۔ حضرت علی (رض) نے حضرت عثمان (رض) کو ارشاد فرمایا : کیا مجھے یہ خبر صحیح ملی ہے کہ آپ تمتع سے منع فرماتے ہیں ؟ حضرت عثمان (رض) نے ارشاد فرمایا : ہاں۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : کیا آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حج تمتع کرتے ہوئے نہیں دیکھا ؟ حضرت عثمان (رض) نے ارشاد فرمایا : کیوں نہیں، ضرور۔ مسند احمد، السنن للبیہقی

12484 مروی ہے کہ حضرت عثمان (رض) سے سوال کیا گیا حج تمتع کے بارے میں تو انھوں نے ارشاد فرمایا : یہ ہمارے لیے تھا اب تمہارے لیے نہیں ہے۔ ابن راھویہ، البغوی فی مسند عثمان الطحاوی

12485 (مسند علی (رض)) براء بن عاذب (رض) سے مروی ہے کہ جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو یمن کا امیر بنا کر بھیجا تو میں بھی حضرت علی (رض) کے ساتھ تھا۔ مجھے ان کے ساتھ کچھ اوقیہ چاندی بھی ملی۔ جب حضرت علی (رض) یمن سے واپس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس (مکہ میں دوران حج) آئے۔ پھر حضرت علی (رض) اپنے اہل خانہ سے لوٹ کر حضور کی خدمت میں آئے اور عرض کیا : میں نے فاطمہ کو دیکھا کہ اس نے رنگین کپڑے پہن رکھے ہیں اور اپنے کمرے کو بھی خوشبو میں بسا رکھا ہے (اور یہ علامتیں ہیں احرام سے حلال ہونے کی) تو فاطمہ مجھ سے بولی آپ کو کیا ہوا، حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اصحاب کو حکم دیا ہے اور وہ (عمرہ سے) حلال ہوگئے ہیں۔ میں نے فاطمہ کو کہا : میں نے تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تلبیہ جیسا تلبیہ پڑھا ہے۔ (یعنی افراد، قران، تمتع میں سے رسول اللہ نے جس طرح ارادہ کیا ہو وہی میرا ارادہ ہے) اب میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے پوچھا : تم نے کیا تلبیہ پڑھا ہے ؟ میں نے عرض کیا اھللت باھلال النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یعنی میں احرام باندھتا ہوں جیسا بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احرام باندھا ہو۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تو ہدی قربانی کا جانور ساتھ لایا ہوں اور میں نے قران کیا ہے (حج وعمرہ کو ایک ساتھ کرنے کی نیت کی ہے) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : پھر (جب ہم حج قران سے فارغ ہوئے تو ) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : سڑسٹھ یا چھیاسٹھ اونٹ نحر (ذبح) کرلو اور اپنے لیے تینتیس یا چونتیس اونٹ روک لو۔ اور ہر اونٹ میں میں سے میرے لیے گوشت کا ایک حصہ رکھنا۔

ابوداؤد، النسائی۔

فائدہ : اس روایت کو ایک جماعت نے تخریج کیا ہے اور مسلم نے بھی اس سے دلیل لی ہے۔ دیکھئے عون المعبود شرح سنن ابی داؤد 226/5 ۔
12483- عن سعيد بن المسيب قال: حج علي وعثمان فلما كنا ببعض الطريق نهى عثمان عن التمتع فلبى علي وأصحابه بالعمرة، فلم ينههم عثمان، قال علي: ألم أخبرك أنك تنهى عن التمتع؟ قال: بلى قال له علي: ألم تسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم تمتع؟ قال: بلى. "حم ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৮৪
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ التمتع ۔۔۔حج تمتع
12484 مروی ہے کہ حضرت عثمان (رض) سے سوال کیا گیا حج تمتع کے بارے میں تو انھوں نے ارشاد فرمایا : یہ ہمارے لیے تھا اب تمہارے لیے نہیں ہے۔ ابن راھویہ، البغوی فی مسند عثمان الطحاوی
12484- عن عثمان أنه سئل عن المتعة في الحج فقال: كانت لنا وليست لكم. "ابن راهويه والبغوي في مسند عثمان والطحاوي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৮৫
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ التمتع ۔۔۔حج تمتع
12485 (مسند علی (رض)) براء بن عاذب (رض) سے مروی ہے کہ جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو یمن کا امیر بنا کر بھیجا تو میں بھی حضرت علی (رض) کے ساتھ تھا۔ مجھے ان کے ساتھ کچھ اوقیہ چاندی بھی ملی۔ جب حضرت علی (رض) یمن سے واپس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس (مکہ میں دوران حج) آئے۔ پھر حضرت علی (رض) اپنے اہل خانہ سے لوٹ کر حضور کی خدمت میں آئے اور عرض کیا : میں نے فاطمہ کو دیکھا کہ اس نے رنگین کپڑے پہن رکھے ہیں اور اپنے کمرے کو بھی خوشبو میں بسا رکھا ہے (اور یہ علامتیں ہیں احرام سے حلال ہونے کی) تو فاطمہ مجھ سے بولی آپ کو کیا ہوا، حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اصحاب کو حکم دیا ہے اور وہ (عمرہ سے) حلال ہوگئے ہیں۔ میں نے فاطمہ کو کہا : میں نے تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تلبیہ جیسا تلبیہ پڑھا ہے۔ (یعنی افراد، قران، تمتع میں سے رسول اللہ نے جس طرح ارادہ کیا ہو وہی میرا ارادہ ہے) اب میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے پوچھا : تم نے کیا تلبیہ پڑھا ہے ؟ میں نے عرض کیا اھللت باھلال النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یعنی میں احرام باندھتا ہوں جیسا بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احرام باندھا ہو۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تو ہدی قربانی کا جانور ساتھ لایا ہوں اور میں نے قران کیا ہے (حج وعمرہ کو ایک ساتھ کرنے کی نیت کی ہے) حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : پھر (جب ہم حج قران سے فارغ ہوئے تو ) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : سڑسٹھ یا چھیاسٹھ اونٹ نحر (ذبح) کرلو اور اپنے لیے تینتیس یا چونتیس اونٹ روک لو۔ اور ہر اونٹ میں میں سے میرے لیے گوشت کا ایک حصہ رکھنا۔

ابوداؤد، النسائی۔

فائدہ : اس روایت کو ایک جماعت نے تخریج کیا ہے اور مسلم نے بھی اس سے دلیل لی ہے۔ دیکھئے عون المعبود شرح سنن ابی داؤد 226/5 ۔
12485- "مسند علي رضي الله عنه" عن البراء بن عازب قال: كنت مع علي حين أمره رسول الله صلى الله عليه وسلم على اليمن، فأصبت معه أواقي فلما قدم علي من اليمن على رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: وجدت فاطمة قد لبست ثيابا صبيغا، وقد نضحت2 البيت بنضوح، فقالت: مالك فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد أمر أصحابه فأحلوا، قلت لها: إني أهللت بإهلال النبي صلى الله عليه وسلم فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقال لي: كيف صنعت؟ قلت: أهللت بإهلال النبي صلى الله عليه وسلم، قال: فإني قد سقت الهدي وقرنت، فقال لي: انحر من البدن سبعا وستين أو ستا وستين، وأمسك لنفسك ثلاثا وثلاثين أو أربعا وثلاثين، وأمسك لي من كل بدنة منها بضعة "د ن"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৮৬
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ التمتع ۔۔۔حج تمتع
12486 سعید بن المسیب (رح) سے مروی ہے کہ مقام عسفان میں حضرت علی (رض) اور حضرت عثمان (رض) اکٹھے ہوگئے۔ حضرت عثمان (رض) تمتع سے روکتے تھے اور حضرت علی (رض) حج تمتع کا کہتے تھے۔ حضرت علی (رض) نے (حضرت عثمان (رض)) کو فرمایا : آپ کا کیا ارادہ ہے، جو کام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا ہے آپ اس سے لوگوں کو روکتے ہیں ؟ حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : تم ہمیں چھوڑ دو ۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : میں آپ کو نہیں چھوڑ سکتا۔ جب حضرت علی (رض) نے یہ دیکھا۔ حضرت عثمان (رض) اپنے ارادے سے نہیں ہٹے تو حج وعمرہ دونوں کا احرام باندھ لیا۔ مسند ابی داؤد، مسند احمد، مسند ابی یعلی، السنن للبیہقی
12486- عن سعيد بن المسيب قال: اجتمع علي وعثمان بعسفان، وكان عثمان ينهى عن المتعة وعلي يأمر بها، وقال: ما تريد إلى أمر فعله رسول الله صلى الله عليه وسلم تنهي عنه؟ فقال عثمان: دعنا منك؛ قال: إني لا أستطيع أن أدعك مني، فلما رأى علي ذلك أهل بهما جميعا. "ط حم ع ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৮৭
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ التمتع ۔۔۔حج تمتع
12487 حضرت حسن (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ارادہ کیا کہ لوگوں کو حج تمتع سے روک دیں۔ لیکن میرے والد (علی (رض)) نے ان کو فرمایا : یہ کام کرنے کا آپ کو اختیار نہیں ہے، کیونکہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حج تمتع کیا تھا۔ لیکن آپ نے ہم کو اس سے نہیں روکا ۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) باز آگئے۔ اسی طرح حضرت عمر (رض) نے ایک مرتبہ ارادہ فرمایا کہ لوگوں کو حیرہ شہر کے حلوں (جوڑوں) کو پہننے سے منع فرمادیں کیونکہ ان کو پیشاب کے ساتھ رنگا جاتا ہے۔ مگر ان کو میرے والد (رض) نے فرمایا : یہ کام کرنے کا آپ کو حق نہیں، کیونکہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو پہنا ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد مبارک میں ہم نے بھی ان کو پہنا ہے۔ مسند احمد
12487- عن الحسن أن عمر أراد أن ينهي عن متعة الحج، فقال له أبي: ليس ذلك لك فقد تمتعنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم ينهنا عن ذلك، فأضرب عمر وأراد أن ينهى عن حلل الحيرة لأنها تصبغ بالبول، فقال له أبي: ليس لك ذلك قد لبسهن النبي صلى الله عليه وسلم ولبسناهن في عهده. "حم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৮৮
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ التمتع ۔۔۔حج تمتع
12488 عبداللہ بن شقیق سے مروی ہے کہ حضرت عثمان (رض) حج تمتع سے لوگوں کو روکتے تھے اور حضرت علی (رض) حج تمتع کا فتویٰ دیتے تھے۔ حضرت عثمان (رض) نے ان کو کوئی بات کہی ، حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : میں تو یہ بات جانتا ہوں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج تمتع کیا تھا۔ دوسرے الفاظ روایت یہ ہیں :

آپ جانتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تمتع کیا تھا۔ تو حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : لیکن ہم (اس وقت دشمن سے) خوف زدہ تھے۔ مسند احمد، ابوعوانۃ، الطحاوی، السنن للبیہقی
12488- عن عبد الله بن شقيق قال: كان عثمان ينهي عن المتعة وعلي يفتي بها، فقال له عثمان قولا، فقال له علي: لقد علمت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم فعل ذلك، وفي لفظ: لقد علمت أنا تمتعنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال عثمان: ولكنا كنا خائفين."حم وأبو عوانة والطحاوي ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৮৯
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ التمتع ۔۔۔حج تمتع
12489 حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج تمتع کی رخصت دی ہے جبکہ ہدی بھی نہ ہو اور نہ روزے رکھے ہوں حتیٰ کہ ایام تشریق فوت ہوجائیں تو وہ ان کی جگہ ایام تشریق کے روزے رکھے ابن عساکر ۔ واللہ اعلم بالصواب۔
12489- عن ابن عمر قال: رخص رسول الله صلى الله عليه وسلم التمتع إذا لم يجد الهدي ولم يصم حتى فاته أيام التشريق أنه يصوم أيام التشريق مكانها. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৯০
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ التمتع ۔۔۔حج تمتع
12490 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر، عمر اور عثمان (رض) نے حج تمتع کیا اور سب سے پہلے اس سے جس نے روکا وہ حضرت معاویہ (رض) تھے۔ ابن ابی شیبہ

کلام : ضعیف الترمذی 139 ۔
12490- عن ابن عباس قال: تمتع رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر وعمر وعثمان وأول من نهى عنه معاوية. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৯১
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔طواف اور اس کی فضیلت میں
12491 (مسند عمر (رض)) حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عمر (رض) کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کیا۔ جب ہم نے ایک طواف مکمل کرلیا تو دوسرے طواف میں شروع ہوگئے۔ میں نے حضرت عمر (رض) کو عرض کیا : ہمیں شک پڑتا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : مگر مجھے شک نہیں پڑتا لیکن میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قران کرتے دیکھا تھا (یعنی حج وعمرہ دونوں طواف ایک ساتھ کرتے دیکھا تھا) اور میں بھی چاہتا ہوں کہ حج قران کروں۔ الشاشی، السنن للبیہقی، السنن، لسعید بن منصور
12491- "مسند عمر رضي الله عنه" عن ابن عمر قال: طفت مع عمر بالبيت، فلما أتممنا دخلنا في الثاني فقلت له: إنا قد أوهمنا، قال: إني لم أوهم ولكني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرن، وأنا أحب أن أقرن. "الشاشي ق ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৯২
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔طواف اور اس کی فضیلت میں
12492 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے فرمایا : جو شخص تم میں حج کے ارادے سے آئے وہ پہلے بیت اللہ کا طواف کرے اور اس کے سات چکر لگائے، پھر مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز پڑھے، پھر صفا پر آئے اور وہاں قبلہ رو کھڑا ہو کر سات تکبیریں کہے، ہر دو تکبیروں کے درمیان اللہ کی حمدوثنا کرے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود پڑھے اور اپنے لیے دعا کرے اسی طرح مروہ پر عمل کرے۔

السنن لسعید بن منصور، مصنف ابن ابی شیبہ، السنن للبیہقی
12492- عن عمر قال: من قدم منكم حاجا، فليبدأ بالبيت، فليطف به سبعا، ثم ليصل ركعتين عند مقام إبراهيم، ثم ليأت الصفا فليقم عليها مستقبل القبلة ثم ليكبر سبعا بين كل تكبيرتين حمد الله وثناء عليه والصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم، ويسأله لنفسه وعلى المروة مثل ذلك. "ص ش ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৯৩
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔طواف اور اس کی فضیلت میں
12493 (مسند علی (رض)) ابوالعالیہ سے مروی ہے فرمایا : اس بیت اللہ کا طواف کثرت سے کرلو۔ اس سے پہلے کہ تمہارے درمیان اور اس کے درمیان رکاوٹ ہوجائے کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ حبشہ کا ایک آدمی جس کے سر کے اگلے حصے کے بال اڑے ہوئے ہیں، چھوٹے چھوٹے کان ہیں اور پنڈلیاں زخمی ہیں کعبہ پر بیٹھا ہے اور کدال کے ساتھ اس کو ڈھارہا ہے۔

سفیان بن عیینہ فی جامعہ، ابو عبید فی الغریب، ابن ابی شیبہ، السنن للبیہقی، الازرقی
12493- "مسند علي رضي الله عنه" عن أبي العالية قال: استكثروا من الطواف بهذا البيت قبل أن يحال بينكم وبينه، فكأني برجل من الحبشة أصلع أصمع خمش الساقين قاعد عليها وهي تهدم: وفي لفظ بمسحاته يهدمها. "سفيان بن عيينة في جامعه وأبو عبيد في الغريب ش ق والأزرقي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৯৪
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔طواف اور اس کی فضیلت میں
12494 ابن عمرو (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : جو اس گھر کے ساتھ چکر کاٹے اور دو رکعت نماز پڑھ لے گویا اس نے ایک غلام آزاد کردیا۔ ابن زنجویہ۔
12494- عن ابن عمرو قال: من طاف بهذا البيت سبعا وصلى ركعتين كان كمن أعتق رقبة. "ابن زنجويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৯৫
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔طواف اور اس کی فضیلت میں
12495 ابن عباس (رض) سے مروی ہے ، ارشاد فرمایا کہ جو اس گھر کے پچاس چکر کاٹے وہ اپنے گناہوں سے یوں نکل جائے گا گویا آج اس کی ماں نے اس کو جنم دیا ہے۔ ابن زنجویہ

فائدہ : حدیث میں خمسین اسبوعاً پچاس ہفتے کا لفظ ہے، غالباً یہ کاتب کا سہو ہے صحیح لفظ مرۃ ہے مرتبہ جیسا کہ دوسری کتب میں آیا ہے۔

کلام : روایت ضعیف ہے : ضعیف الجامع 5682، ضعیف الترمذی 151 ۔
12495- عن ابن عباس قال: من طاف بالبيت خمسين أسبوعا خرج من ذنوبه كيوم ولدته أمه.

"ابن زنجويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৯৬
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔طواف اور اس کی فضیلت میں
12496 ابن عباس (رض) سے مروی ہے، ارشاد فرمایا : سب سے پہلے اس گھر کا طواف جس نے کیا وہ ملائکہ تھے۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
12496- عن ابن عباس قال: أول من طاف بالبيت الملائكة. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৯৭
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔طواف اور اس کی فضیلت میں
12497 عبداللہ بن حنظلہ راھب سے مروی ہے فرمایا : میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی اونٹنی پر بیت اللہ کا طواف کرتے دیکھا، نہ وہاں ماردھاڑ تھی اور نہ ہٹو ہٹو کی آواز تھی۔ ابن مندہ، ابن عساکر
12497- عن عبد الله بن حنظلة الراهب قال: رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يطوف بالبيت على ناقته لا ضرب ولا طرد ولا إليك إليك. "ابن منده كر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৯৮
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔طواف اور اس کی فضیلت میں
12498 ابوالعطاف طارق بن مطر بن طارق الطائی المحصی سے مروی ہے کہ مجھے میرے والد نے بیان کیا کہ ہمیں صمصامہ اور ضنینہ جو طرماح کے بیٹے ہیں دونوں نے بیان کیا کہ ہمیں ابو الطرماح نے بیان کیا کہ میں نے حسین بن علی (رض) کو فرماتے ہوئے سنا :

حضرت حسین (رض) فرماتے ہیں : ہم طواف میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے کہ بارش برس گئی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : نئے سرے سے عمل کرو کیونکہ تمہارے پچھلے سب گناہ معاف ہوگئے ہیں۔ الشیرازی فی الالقاب ، ابن عساکر

کلام : ابن عساکر (رح) فرماتے ہیں یہ روایت انتہائی ضعیف ہے، اس کو میں نے صرف اسی طریق سے لکھا ہے۔
12498- عن أبي العطاف طارق بن مطر بن طارق الطائي الحمصي حدثني أبي حدثنا صمصامة وضنينة ابنا الطرماح قالا: حدثنا أبو الطرماح قال: سمعت الحسين بن علي يقول: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في الطواف فأصابتنا السماء فالتفت إلينا فقال: ائتنفوا العمل فقد غفر لكم ما مضى. "الشيرازي في الألقاب كر" وقال: غريب جدا لم أكتبه إلا من هذا الوجه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪৯৯
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادعیہ۔۔۔دعائیں
12499 (مسند عمر (رض)) حبیب بن صہبان سے مروی ہے، ارشاد فرمایا : میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا، آپ (رض) باب اور رکن کے درمیان یا مقام اور باب کے درمیان یہ دعا پڑھ رہے تھے :

ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الآخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار۔

اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں (بھی) اچھائی دے اور آخرت میں (بھی) اچھائی دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ مسدد
12499- "مسند عمر رضي الله عنه" عن حبيب بن صهبان قال: رأيت عمر بن الخطاب يطوف بالبيت وهو يقول بين الباب والركن او بين المقام والباب: ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار. "مسدد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫০০
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادعیہ۔۔۔دعائیں
12500 حبیب بن صہبان سے مروی ہے فرمایا : میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو بیت اللہ کے گرد دعا ارشاد فرماتے ہوئے سنا :

ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الآخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار۔

حضرت عمر (رض) بن خطاب کی (دوران طواف) یہی ایک عادت تھی۔

الجامع لعبد الرزاق، الزھد للامام احمد، مسدد، ابوعبید فی الغریب، المحاملی، السنن الکبری للبیہقی
12500- عن حبيب بن صهبان قال: سمعت عمر بن الخطاب يقول حول البيت: ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار، وليس له هجيرى إلا ذلك. "عب حم في الزهد ومسدد وأبو عبيد في الغريب والمحاملي هق"
tahqiq

তাহকীক: