কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

حج اور عمرۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১৭০ টি

হাদীস নং: ১২৫০১
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادعیہ۔۔۔دعائیں
12501 ابن ابی نجیح سے مروی ہے، فرمایا : حضرت عمر اور حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) کا طواف میں اکثر کلام یہی ہوتا تھا :

ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الآخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار۔ الازرقی
12501- عن ابن أبي نجيح قال: كان أكثر كلام عمر وعبد الرحمن بن عوف في الطواف: ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار. "الأزرقي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫০২
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادعیہ۔۔۔دعائیں
12502 ابو سعید بصری سے مروی ہے فرمایا : میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کا جائزہ لیا، آپ بیت اللہ کے طواف کے دوران یہ پڑھتے تھے :

لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کی شی قدیر۔

ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الآخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار۔ الجندی
12502- عن أبي سعيد البصري قال: رمقت عمر بن الخطاب وهو يطوف بالبيت وهو يقول: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار. "الجندي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫০৩
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادعیہ۔۔۔دعائیں
12503 حضرت علی (رض) سے مروی ہے ، وہ جب رکن یمانی کے پاس سے گزرتے تو یہ پڑھتے :

بسم اللہ واللہ اکبر والسلام علی رسول اللہ و رحمۃ اللہ وبرکاتہ، اللھم انی اعوذبک من الکفر والفقر والذل ومواقف الخزی فی الدنیا والاخرۃ ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الآخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار۔ الازرقی

اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، اور اللہ ہی سب سے بڑا ، سلامتی اللہ کے رسول پر اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں۔ اے اللہ ! میں پناہ مانگتا ہوں تیرے کفر سے، فقر سے، ذلت سے اور دنیا و آخرتکی ذلتوں سے، اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں نیکی دے اور آخرت میں نیکی دے اور ہمیں (جہنم کی) آگ کے عذاب سے بچا۔ الارزقی
12503- عن علي أنه كان إذا مر بالركن اليماني قال: بسم الله والله أكبر والسلام على رسول الله ورحمة الله وبركاته، اللهم إني أعوذ بك من الكفر والفقر والذل ومواقف الخزي في الدنيا والآخرة ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار. "الأزرقي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫০৪
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادعیہ۔۔۔دعائیں
12504 ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ کا طواف کیا پھر اپنا دست مبارک کعبۃ اللہ پر رکھا اور یہ دعا کی :

اللھم البیت بیتک ، ونحن عبیدک ونواصینا بیدک وتقلبنا فی قبضتک فان تعذبنا فبذنوبنا، وان تغفرلنا وبرحمتک فرضتک حجک لمن استطاع الیہ سبیلا فلک الحمد علی ماجعلب لنا من السبیل اللھم ارزقنا ثواب انشا کرین، الدیلمی۔

اے اللہ ! یہ گھر تیرا گھر ہے، اور ہم تیرے بندے ہیں اور ہماری پیشانیاں تیرے ہاتھ میں ہے، اور ہمارا گھر ناپھرنا آنا جانا تیری مٹھی میں ہے۔ اگر تو ہمیں عذاب دے تو واقعی ہمارے گناہوں کی وجہ سے دے گا اور اگر تو بخش دے تو یہ سراسر تیری رحمت ہوگی۔ تو نے اپنا حج فرض کیا ہے ہر اس شخص کے لیے جو اس کے راستے کی طاقت رکھے۔ پس تیرے لیے ہی تمام تعریفیں ہیں کہ تو نے ہمارے لیے اس راستے کو آسان کردیا۔ اے اللہ ! ہمیں شکر کرنے والوں کا ثواب عطا فرما۔ الدیلمی

کلام : مذکورہ روایت میں ایک راوی عبدالسلام بن الجنوب متروک راوی ہے۔
12504- عن ابن مسعود أن النبي صلى الله عليه وسلم طاف بالبيت ثم وضع يده عليه ودعا اللهم البيت بيتك، ونحن عبيدك ونواصينا بيدك وتقلبنا في قبضتك، فإن تعذبنا فبذنوبنا، وإن تغفر لنا فبرحمتك فرضت حجك لمن استطاع إليه سبيلا فلك الحمد على ما جعلت لنا من السبيل اللهم ارزقنا ثواب الشاكرين. "الديلمي" وفيه زبد السلام بن الجنوب متروك.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫০৫
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادعیہ۔۔۔دعائیں
12505 عبداللہ بن السائب سے مروی ہے فرمایا : میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رکن اور حجر اسود کے درمیان ارشاد فرماتے ہوئے سنا :

ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الآخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار۔

مصنف ابن ابی شیبہ، ابوداؤد، النسائی، قال الذھبی : صحیح علی شرط مسلم۔
12505- عن عبد الله بن السائب قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول بين الركن والحجر ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار. "ش د ن"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫০৬
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب الطواف۔۔۔استلام
12506 (مسند صدیق (رض)) عیسیٰ بن طلحہ ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حجراسود کے پاس کھڑے دیکھا اور سنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ارشاد فرما رہے ہیں : میں جانتا ہوں کہ تو محض ایک پتھر ہے تو نہ نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع دے سکتا ہے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجراسود کو بوسہ دیا۔

راوی کہتے ہیں پھر حضرت ابوبکر (رض) نے (جب) حج کیا تو وہ بھی حجراسود کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا : میں جانتا ہوں کہ تو محض ایک پتھر ہے، تو نہ نقصان دے سکتا اور نہ نفع پہنچا سکتا اور اگر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی تجھے بوسہ نہ دیتا۔

مصنف ابن ابی شیبہ، الدار قطنی فی العلل، روایۃ العلل۔
12506- "مسند الصديق رضي الله عنه" عن عيسى بن طلحة عن رجل رأى النبي صلى الله عليه وسلم وقف عند الحجر فقال: إني لأعلم أنك حجر لا تضر ولا تنفع ثم قبله، ثم حج أبو بكر فوقف عند الحجر ثم قال: إني لأعلم أنك حجر لا تضر ولا تنفع ولولا أني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقبلك ما قبلتك. "ش قط في العلل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫০৭
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب الطواف۔۔۔استلام
12507 (مسند عمر (رض)) عابس بن ربیعہ سے مروی ہے فرمایا میں نے حضرت عمر (رض) کو دیکھا کہ آپ (رض) حجراسود کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : اللہ کی قسم میں جانتا ہوں کہ تو محض ایک پتھر ہے، تو نہ نقصان دے سکتا اور نہ نفع پہنچا سکتا اور اگر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہ دیکھا ہوتا کہ آپ نے تجھے بوسہ دیا تھا تو میں بھی تجھے بوسہ نہ دیتا پھر حضرت عمر (رض) اس کے قریب ہوئے اور اس کو چوما۔

مصنف ابن ابی شیبہ، مسند احمد، العدنی، البخاری، مسلم، ابوداؤد، الترمذی، النسائی ، ابوعوانۃ، ابن حبان، البیہقی فی السنن۔
12507- "مسند عمر رضي الله عنه" عن عابس بن ربيعة قال: رأيت عمر أتى الحجر فقال: أما والله إني لأعلم أنك حجر لا تضر ولا تنفع ولولا أني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم قبلك ما قبلتك، ثم دنا فقبل. "ش حم والعدني خ م د ت ن وأبو عوانة حب ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫০৮
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب الطواف۔۔۔استلام
12508 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو حجرا سود کا بوسہ لیتے ہوئے دیکھا اور اس کے اوپر (سجدہ کرتے جھکتے) ہوئے دیکھا۔ پھر حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایسا کرتے دیکھا تھا۔ ابوداؤد، الدارمی، مسند ابی یعلی، ابن خزیمۃ، ابن السکن فی صحاحہ، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی، السنن لسعید بن منصور۔
12508- عن ابن عباس قال: رأيت عمر بن الخطاب قبل الحجر وسجد عليه، ثم قال عمر: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يفعله. "ط والدارمي ع وابن خزيمة وابن السكن في صحاحه ك ق ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫০৯
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب الطواف۔۔۔استلام
12509 سوید بن غفلہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عمر (رض) کو دیکھا کہ انھوں نے حجرا سود کو چوما اس کو چمٹے ہوئے ارشاد فرمایا : میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، نہ نقصان دے سکتا اور نہ نفع۔ لیکن میں نے ابوالقاسم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تجھ پر اس طرح مہربان دیکھا تھا۔ الکبیر للطبرانی الجامع لعبد الرزاق، النسائی ، مسند احمد، مسند ابی یعلی، حلیۃ الاولیاء، السنن للبیہقی ، العدنی، مسلم، النسائی، ابوعوانۃ۔
12509- عن سويد بن غفلة قال: رأيت عمر قبل الحجر والتزمه وقال: إني لأعلم أنك حجر لا تضر ولا تنفع، ولكن رأيت أبا القاسم بك حفيا1 "طب عب ن حم ع حل ق والعدني م ن وأبو عوانة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫১০
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب الطواف۔۔۔استلام
12510 عبداللہ بن سر جس سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو حجرا سود کا بوسہ دیتے ہوئے دیکھا اور حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں جانتا ہوں کہ تو پتھر ہے، نہ نقصان دے سکتا ہے اور نہ نفع، اور اللہ تبارک وتعالیٰ میرا پروردگار ہے۔ اور اگر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تجھے چومتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی تجھے نہ چومتا۔ مسند ابی داؤد الطیالسی، مصنف ابن ابی شیبہ، الجامع لعبد الرزاق، مسنداحمد، الحمیدی ، مسلم، النسائی، ابن ماجہ، ابوعوانۃ۔
12510- عن عبد الله بن سرجس قال: رأيت عمر بن الخطاب قبل الحجر الأسود وقال: إني لأقبلك وأعلم أنك حجر لا تضر ولا تنفع، وإن الله ربي ولولا أني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقبلك ما قبلتك. "ط ش عب حم والحميدي والعدني م ن هـ وأبو عوانة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫১১
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب الطواف۔۔۔استلام
12511 یعلی بن امیہ سے مروی ہے، فرمایا : میں نے حضرت عمر (رض) کے ساتھ طواف کیا آپ (رض) نے رکن (یمانی) کا استلام کیا۔ استلام ہاتھ سے چھونا جبکہ میں بیت اللہ کے قریب تھا۔ جس ہم رکن غربی کے پاس پہنے جو حجرا سود کے ساتھ ہے تو میں نے حضرت عمر (رض) کا ہاتھ پکڑ کر اس رکن غربی پر رکھ دیا تاکہ وہ بھی اس کو چھولیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : کیا چاہتا ہے تو ؟ میں نے کہا : کیا آپ اس کا استلام نہیں کریں گے ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : کیا تو نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ طواف نہیں کیا ؟ میں نے عرض کیا : کیا ہے۔ آپ (رض) نے پوچھا : کیا تو نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان دونوں مغربی جانبوں کا استلام کرتے دیکھا تھا ؟ میں نے عرض کیا : نہیں۔ تو حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : تو کیا تیرے لیے نبی کے طریقے میں اچھا نمونہ نہیں ہے ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں، ضرور ۔ تب حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تب اس سے درو ہٹ جا۔ مصنف ابن ابی شیبہ، مسنداحمد، العدنی، الازدی، مسند ابی یعلی، الاوسط للطبرانی، السنن لسعید بن منصور۔
12511- عن يعلى بن أمية قال: طفت مع عمر فاستلم الركن وكنت مما يلي البيت فلما بلغنا الركن الغربي الذي يلي الأسود جررت يده ليستلم فقال: ما شأنك؟ فقلت: ألا تستلم؟ قال: ألم تطف مع رسول الله صلى الله عليه وسلم قلت: بلى قال: أفرأيته يستلم هذين الغربيين؟ قلت: لا، قال: أوليس لك فيه أسوة؟ قلت: بلى، قال: فأبعد عنك. "ش حم والعدني والأزدي ع طس ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫১২
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب الطواف۔۔۔استلام
12512 حضرت اسلم (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے رکن کو فرمایا : اللہ کی قسم ! میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے نہ نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع دے سکتا ہے۔ اور اگر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تجھے استلام کرتے نہ دیکھا ہوتا تو میں کبھی بھی تیرا استلام نہ کرتا۔ سمویہ، ابوعوانہ
12512- عن أسلم أن عمر قال للركن: أما والله إني لأعلم أنك حجر لا تضر ولا تنفع، ولولا أني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يستلمك ما استلمتك. "سمويه وأبو عوانة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫১৩
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب الطواف۔۔۔استلام
12513 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عمر (رض) کو دیکھا کہ انھوں نے حجرا سود کو چوما اور اس پر (اپنا سر رکھ کر اللہ کو) سجدہ کیا، پھر دوبارہ (چکر میں) اس کو چوما اور اس پر سجدہ کیا پھر ارشاد فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسی طرح کرتے دیکھا تھا۔ مسند ابی یعلی
12513- عن ابن عمر قال: رأيت عمر قبل الحجر وسجد عليه، ثم عاد وقبله وسجد عليه، ثم قال: هكذا رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم صنع. "ع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫১৪
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب الطواف۔۔۔استلام
12514 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رکن پر جھکے اور فرمایا : میں جانتا ہوں کہ تو محض پتھر ہے اور اگر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تیرے ساتھ محبت نہ دیکھتا کہ انھوں نے تجھے بوسہ دیا اور تجھے چھوا تو میں بھی تجھے نہ چھوتا اور نہ بوسہ دیتا اور بیشک (اے لوگو ! ) تمہارے لیے رسول اللہ (کی زندگی) میں بہترین نمونہ ہے۔ مسند احمد
12514- عن ابن عباس أن عمر بن الخطاب أكب على الركن فقال: إني لأعلم أنك حجر ولو لم أر حبي صلى الله عليه وسلم قبلك واستلمك ما استلمتك ولا قبلتك ولقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة. "حم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫১৫
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب الطواف۔۔۔استلام
12515 طاؤ وس (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) حجراسود کو بوسہ دیتے تھے پھر اس پر تین بار سجدہ کرتے اور فرماتے : اگر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔ ابن راھویہ
12515- عن طاوس قال: كان عمر يقبل الحجر، ثم يسجد عليه ثلاث مرات ويقول: لولا أني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقبلك ما قبلتك. "ابن راهويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫১৬
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب الطواف۔۔۔استلام
12516 حضرت عکرمہ (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) جب رکن (یمانی) کی جگہ پہنچتے تو فرماتے : میں شہادت دیتا ہوں کہ تو پتھر ہے، نقصان دے سکتا اور نہ نفع اور اللہ پاک میرا پروردگار ہے، جس کے سوا کوئی معبود نہیں اور اگر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تجھے چھوتے ہوئے اور بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی تجھے نہ چھوتا اور نہ بوسہ دیتا۔ الازرقی
12516- عن عكرمة قال: كان عمر بن الخطاب إذا بلغ موضع الركن قال: أشهد أنك حجر لا تضر ولا تنفع، وأن ربي الله الذي لا إله إلا هو ولولا أني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسحك ويقبلك ما قبلتك ولا مسحتك. "الأزرقي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫১৭
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب الطواف۔۔۔استلام
12517 سعید بن المسیب (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) حجر (اسود) کا استلام کرتے ہوئے جب تکبیر کہتے تو فرماتے :

بسم اللہ واللہ اکبر علی ماھدانا، ولا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ آمنت باللہ وکفرت بالجبت والطاغوت واللات والعزی ومایدعی من دون اللہ، ان ولیی اللہ الذی نزل الکتاب وھو یتولی الصالحین۔

اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اور اللہ سب بےسڑا ہے کہ اس نے ہمیں ہدایت بخشی، اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، میں اللہ پر ایمان لایا اور بت، شیطان، لات بت عزی بت اور ہر اس کا انکار اور کفر کیا جس کو اللہ کے سوا پکارا جاتا ہے، بیشک میرا دوست اللہ ہی ہے، جس نے کتاب کو نازل فرمایا اور وہ نیکوں کا مددگار دوست ہے۔ الازرقی

ابن ابی شیبہ نے بھی اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے۔
12517- عن سعيد بن المسيب أن عمر بن الخطاب كان يقول إذا كبر لاستلام الحجر: بسم الله والله أكبر على ما هدانا، ولا إله إلا الله وحده لا شريك له آمنت بالله وكفرت بالجبت والطاغوت واللات والعزى وما يدعى من دون الله، إن وليي الله الذي نزل الكتاب وهو يتولى الصالحين. "الأزرقي" وروى "ش" بعضه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫১৮
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حجراسود پر دھکے دینے کی ممانعت
12518 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے عمر ! تو طاقت ور آدمی ہے، جب تو حجراسود کا استلام کرے (اس کو چھوتے یا بوسہ دیتے وقت) کمزوروں کو دھکا نہ دینا، اگر تجھے جگہ خالی ملے تو استلام کرلے ورنہ اس کا سامنا کرکے تکبیر کہہ لے۔

مسند احمد ، العدنی، السنن للبیہقی ، مسند الفردوس للدیلمی

کلام : روایت محل کلام ہے : ذخیرۃ الحفاظ 6449 ۔
12518- عن عمر قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا عمر إنك رجل قوي، لا تؤذ الضعفاء إذا أردت استلام الحجر، فإن خلا لك فاستلمه وإلا فاستقبله وكبر. "حم والعدني ق والديلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫১৯
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حجراسود پر دھکے دینے کی ممانعت
12519 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ جب وہ حجر اسود کے پاس سے گزرتے تو اگر اس پر ازوحام (ہجوم) دیکھتے تو اس کے مقابل آکر تکبیر کہتے اور فرماتے :

اللھم ایمانا بک وتصدیقا بکتابک وسنۃ نبیک۔

اے اللہ ! میں تجھ پر ایمان لایا اور تیری کتاب کی تصدیق کی اور تیرے نبی کی سنت کی اتباع کی۔

ابوداؤد الطیالسی، ابن ابی شیبہ، السنن للبیہقی
12519- عن علي أنه كان إذا مر بالحجر الأسود فرأي عليه زحاما استقبله وكبر وقال: اللهم إيمانا بك وتصديقا بكتابك وسنة نبيك. "ط ش ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫২০
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حجراسود پر دھکے دینے کی ممانعت
12520 (مسند علی (رض)) حارث سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) جب حجراسود کا استلام کرتے (چھوتے یا بوسہ دیتے) تو فرماتے :

اللھم ایمانا بک وتصدیقا بکتابک و اتباع نبیک، الاوسط للطبرانی ، السنن للبیہقی
12520- "مسند علي رضي الله عنه" عن الحارث قال: كان علي إذا استلم الحجر قال: اللهم إيمانا بك وتصديقا بكتابك واتباع نبيك. "طس ق".
tahqiq

তাহকীক: