কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
حج اور عمرۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১৭০ টি
হাদীস নং: ১২৫২১
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حجراسود پر دھکے دینے کی ممانعت
12521 حضرت ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ ہم نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کے ساتھ حج کیا۔ جب حضرت عمر (رض) طواف میں شروع ہوئے تو حجر (اسود) کے سامنے آئے اور فرمایا : میں جانتا ہوں کہ تو پتھر ہے ، نقصان دے سکتا ہے اور نہ نفع پہنچا سکتا ہے۔ اور اگر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں ہرگز تجھے بوسہ نہ دیتا۔ پھر حضرت عمر (رض) نے اس کو بوسہ دیا۔ حضرت علی بن ابی طالب (رض) نے ارشاد فرمایا : اے امیر المومنین ! یہ بھی نقصان اور نفع دیتا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : کس دلیل سے ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا : کتاب اللہ عزوجل کی دلیل سے، پوچھا : کتاب اللہ میں کہاں ہے ؟ فرمایا : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
واذاخذربک من بنی آدم من ظھور ھم وذریتھم الی قولہ بلی۔
اور جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم سے یعنی ان کی پیٹھوں سے ان کی اولاد نکالی تو ان سے خود ان کے مقابلے میں اقرار کر الیا (یعنی ان سے پوچھا کہ) کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں۔ وہ کنے لگے کیوں نہیں ہم گواہ ہیں (کہ تو ہمارا پروردگار ہے) ۔ تو اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا فرمایا اور ان کی پشت پر ہاتھ پھیرا اور ان (تمام اولادوں) سے اقرار لیا کہ میں تمہارا پروردگار ہوں اور تم سب میرے بندے ہو، یوں اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں سے عہد و پیمان لیے اور اس عہد و پیمان کو ایک ورق میں لکھ لیا۔ اس وقت اس پتھر (حجرا سود) کی دو آنکھیں اور دو زبانیں تھیں۔ اللہ نے اس سے کہا : اپنے منہ کھول۔ اس نے منہ کھولا تو اللہ پاک نے وہ ورق اس کو نگلوا دیا۔ پھر ارشاد فرمایا : جو تیرے ساتھ وعدہ وفا کرے تو قیامت کے دن اس کی گواہی دیجیو (یعنی جو شخص تیرے پاس ایسا آئے کہ وہ اپنے عہد کی پاسداری کرنے والا ہو تو اس کی شہادت دینا) پھر حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :
قیامت کے دن حجراسود کو لایا جائے گا اس کی اس وقت تیز زبان ہوگی اور وہ ہر اس شخص کی گواہی دے گا جو توحید کے ساتھ اس کا استلام کرے گا۔ یعنی کلمہ پڑھتے ہوئے اس کو چومے گا یا چھوئے گا یا دور ہی سے اس کو گواہ بنالے گا۔
پھر حضرت علی (رض) نے فرمایا : اے امیر المومنین ! (عمر) دیکھئے یہ تو نقصان اور نفع دے رہا ہے۔
تب حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کی اس بات سے کہ ایسی کسی قوم میں زندہ رہوں جس میں تو نہ ہوا اے ابوالحسن ! (علی (رض) ! )
الھندی فی فضائل مکۃ ابوالحسن القطان فی الطوالات ، مستدرک الحاکم۔
حاکم نے صحیح نہیں کہا۔ الجامع لعبدالرزاق ، وضعفہ
کلام : امام حاکم نے اس پر سکوت کیا اور امام ذھبی (رح) نے فرمایا اس میں ابوھارون ساقط (گرے ہوئے درجہ کا) راوی ہے۔ الحاکم فی المستدرک 457/1، امام عبدالرزاق نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔
واذاخذربک من بنی آدم من ظھور ھم وذریتھم الی قولہ بلی۔
اور جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم سے یعنی ان کی پیٹھوں سے ان کی اولاد نکالی تو ان سے خود ان کے مقابلے میں اقرار کر الیا (یعنی ان سے پوچھا کہ) کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں۔ وہ کنے لگے کیوں نہیں ہم گواہ ہیں (کہ تو ہمارا پروردگار ہے) ۔ تو اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا فرمایا اور ان کی پشت پر ہاتھ پھیرا اور ان (تمام اولادوں) سے اقرار لیا کہ میں تمہارا پروردگار ہوں اور تم سب میرے بندے ہو، یوں اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں سے عہد و پیمان لیے اور اس عہد و پیمان کو ایک ورق میں لکھ لیا۔ اس وقت اس پتھر (حجرا سود) کی دو آنکھیں اور دو زبانیں تھیں۔ اللہ نے اس سے کہا : اپنے منہ کھول۔ اس نے منہ کھولا تو اللہ پاک نے وہ ورق اس کو نگلوا دیا۔ پھر ارشاد فرمایا : جو تیرے ساتھ وعدہ وفا کرے تو قیامت کے دن اس کی گواہی دیجیو (یعنی جو شخص تیرے پاس ایسا آئے کہ وہ اپنے عہد کی پاسداری کرنے والا ہو تو اس کی شہادت دینا) پھر حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :
قیامت کے دن حجراسود کو لایا جائے گا اس کی اس وقت تیز زبان ہوگی اور وہ ہر اس شخص کی گواہی دے گا جو توحید کے ساتھ اس کا استلام کرے گا۔ یعنی کلمہ پڑھتے ہوئے اس کو چومے گا یا چھوئے گا یا دور ہی سے اس کو گواہ بنالے گا۔
پھر حضرت علی (رض) نے فرمایا : اے امیر المومنین ! (عمر) دیکھئے یہ تو نقصان اور نفع دے رہا ہے۔
تب حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کی اس بات سے کہ ایسی کسی قوم میں زندہ رہوں جس میں تو نہ ہوا اے ابوالحسن ! (علی (رض) ! )
الھندی فی فضائل مکۃ ابوالحسن القطان فی الطوالات ، مستدرک الحاکم۔
حاکم نے صحیح نہیں کہا۔ الجامع لعبدالرزاق ، وضعفہ
کلام : امام حاکم نے اس پر سکوت کیا اور امام ذھبی (رح) نے فرمایا اس میں ابوھارون ساقط (گرے ہوئے درجہ کا) راوی ہے۔ الحاکم فی المستدرک 457/1، امام عبدالرزاق نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔
12521- عن أبي سعيد الخدري قال: حججنا مع عمر بن الخطاب، فلما دخل الطواف استقبل الحجر فقال: إني لأعلم أنك حجر لا تضر ولا تنفع، ولولا أني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقبلك ما قبلتك، ثم قبله، فقال علي بن أبي طالب: يا أمير المؤمنين إنه يضر وينفع، قال: بم؟ قال: بكتاب الله عز وجل قال: وأين ذلك من كتاب الله؟ قال: قال الله تعالى: {وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ} إلى قوله: بلى، خلق الله آدم ومسح على ظهره فقررهم بأنه الرب وأنهم العبيد وأخذ عهودهم ومواثيقهم وكتب ذلك في رق1 وكان لهذا الحجر عينان ولسانان فقال: افتح فاك ففتح فاه، فألقمه ذلك الرق،فقال: اشهد لمن وافاك بالموافاة يوم القيامة وإني أشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: يؤتى يوم القيامة بالحجر الأسود وله لسان ذلق يشهد لمن استلمه بالتوحيد فهو يا أمير المؤمنين يضر وينفع، فقال عمر: أعوذ بالله أن أعيش في قوم لست فيهم يا أبا الحسن. "الهندي في فضائل مكة أبو الحسن القطان في الطوالات ك ولم يصححه عب" وضعفه "أخرجه الحاكم في المستدرك "1/457" وسكت عنه، وقال الذهبي: فيه أبي هارون ساقط. ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫২২
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حجراسود پر دھکے دینے کی ممانعت
12522 طاؤ وس (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے حجرا سود کو تین بار چوما اور ہر بار اس پر سجدہ کیا اور فرمایا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسا ہی کیا تھا۔ مصنف ابن ابی شیبہ، ابن راھویہ
12522- عن طاوس أن عمر قبل الحجر ثلاثا وسجد عليه لكل قبلة وذكر أن النبي صلى الله عليه وسلم فعله. "ش وابن راهويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫২৩
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حجراسود پر دھکے دینے کی ممانعت
12523 یعلی بن امیہ سے مروی ہے کہ میں حضرت عثمان (رض) کے ساتھ تھا، جب ہم نے رکن (یمانی) کا استلام کیا تو میں بیت اللہ کے پاس والے حصے میں تھے، جب ہم رکن غربی کو پہنچے جو حجراسود کے پاس ہے تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا تاکہ وہ رکن غربی کا استلام کرلیں۔ حضرت عثمان (رض) نے پوچھا : تم کیا چاہتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : آپ استلام نہیں کریں گے ؟ حضرت عثمان (رض) نے پوچھا : کیا تم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ طواف نہیں کیا ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں ؟ حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : کیا تم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان دونوں غربی رکنوں کا استلام کرتے دیکھا ؟ میں نے عرض کیا : نہیں۔ پھر پوچھا : کیا آپ کی زندگی میں عمدہ طریقہ نہیں ہے ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں، تب حضرت عثمان (رض) نے ارشاد فرمایا : پھر اس (رکن غربی) سے ہٹ جا۔ مسند احمد
12523- عن يعلى بن أمية قال: طفت مع عثمان فاستلمنا الركن فكنت مما يلي البيت، فلما بلغنا الركن الغربي الذي يلي الأسود جررت بيده ليستلم قال: ما شأنك؟ قلت: ألا تستلم؟ قال: ألم تطف مع رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقلت: بلى، فقال: أرأيته يستلم هذين الركنين الغربيين؟ قلت: لا، قال: أو ليس لك فيه أسوة حسنة؟ قلت: بلى قال: فابعد عنك. "حم"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫২৪
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حجراسود پر دھکے دینے کی ممانعت
12524 حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) سے مروی ہے کہ جب ہم طواف بیت اللہ سے فارغ ہوئے تو مجھے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے ابومحمد ! (عبدالرحمن کی کنیت) رکن کے استلام میں تم نے کیا کیا ؟ میں نے عرض کیا : میں نے استلام کیا (بوسہ دیا) اور چھوڑ دیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم نے ٹھیک کہا۔
ابونعیم وقال : کذارواہ القاسم عن عبیداللہ موصولاً ورواہ مالک عن، ہشام مرسلاً
ابونعیم وقال : کذارواہ القاسم عن عبیداللہ موصولاً ورواہ مالک عن، ہشام مرسلاً
12524- عن عبد الرحمن بن عوف قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم حين فرغنا من الطواف بالبيت: كيف صنعت يا أبا محمد في استلام الركن! قلت: استلمت وتركت، قال: أصبت. "أبو نعيم وقال: كذا رواه القاسم عن عبيد الله موصولا ورواه مالك عن هشام مرسلا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫২৫
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حجراسود پر دھکے دینے کی ممانعت
12525 ابوالطفیل سے مروی ہے فرماتے ہیں : میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے جواں لڑکپن کی حالت میں دیکھا آپ سواری پر بیت اللہ کا طواف فرما رہے تھے اور حج اسود کو اپنی چھڑی (جس سے جانور کو ہانکا جاتا ہے) کے ساتھ چھو رہے تھے۔ مسند احمد، مسند ابی یعلیٰ
12525- عن أبي الطفيل قال: رأيت النبي صلى الله عليه وسلم وأنا غلام شاب يطوف بالبيت على راحلته يستلم الحجر بمحجنه "حم ع".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫২৬
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حجراسود پر دھکے دینے کی ممانعت
12526 عبداللہ بن عبید بن عمیر سے مروی ہے کہ ان کے والد نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے سوال کیا : کیا بات ہے کہ آپ ان دو رکنوں حجرا سود اور رکن یمانی کے علاوہ کسی اور رکن کا استلام نہیں کرتے ؟ حضرت ابن عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : میں ایسا کرتا ہوں تو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے، ارشاد فرمایا : ان دونوں کا استلام کرنا گناہوں کو مٹا دیتا ہے، نیز میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : جس نے ایک ہفتے بیت اللہ کا طواف کیا (غالباً ہفتے سے صرف سات چکرمراد ہیں) اور ان کو شمار کیا پھر دو رکعت نماز پڑھی اس نے گویا ایک جان آزاد کردی اور بندہ (اس عمل کے دوران) جب بھی کوئی قدم رکھتا ہے یا اٹھاتا ہے تو اس کے بدلے اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے اور ایک درجہ بلند کردیاجاتا ہے۔ ابن زنجویہ
12526- عن عبد الله بن عبيد بن عمير أن أباه سأل ابن عمر؛ مالي أراك لا تستلم هذين الركنين لا تستلم غيرهما؟ يعني الحجر الأسود والركن اليماني، قال: إن أفعل فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن استلامهما يحط الخطايا وسمعته يقول: من طاف أسبوعا يحصيه، ثم صلى ركعتين فله كعدل رقبة أو نسمة ما رفع رجل قدمه وما وضعها إلا كتب له بها حسنة ومحي عنه بها خطيئة ورفع له بها درجة. "ابن زنجويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫২৭
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حجراسود پر دھکے دینے کی ممانعت
12527 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹ پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا اور رکن کو چھڑی کے ساتھ استلام کرتے رہے جبکہ عبداللہ بن رواحۃ جنہوں نے اونٹ کی مہار تھام رکھی تھی۔ وہ یہ شعر پڑھ رہے تھے :
کفار کی اولادو ! رسول اللہ کا راستہ چھوڑ دو ، ہٹ جاؤ پس تمام خیریں
رسول اللہ کے ساتھ ہیں، ہم نے تم کو ایسی مار ماری ہے جو کھوپڑی کو
توڑ دینے والی ہے اور دوست کو دوست بھلا دینے والی ہے، اے پروردگار میں
تیرے رسول کے فرمان پر ایمان لانے والا مومن ہوں
یہ اشعار سن کر حضرت عمر (رض) نے پوچھا : اوہو ! کیا یہاں ابن رواحہ بھی ہیں ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم نہیں جانتے سن نہیں رہے ہو ؟ پھر حضور کچھ دیر خاموش رہے پھر حضرت ابن رواحۃ کو مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا : اے ابن رواحۃ ! (اس کی جگہ) یوں کہہ :
لا الہ الا اللہ وحدہ نصر عبدہ واعز جندہ وھزالا حزاب وحدہ
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، جس نے تنہا اپنے بندے کی مدد کی، اس کے لشکر کو عزت بخشی اور سارے لشکروں کو اکیلے ہی شکست دی۔ ابن عساکر
کفار کی اولادو ! رسول اللہ کا راستہ چھوڑ دو ، ہٹ جاؤ پس تمام خیریں
رسول اللہ کے ساتھ ہیں، ہم نے تم کو ایسی مار ماری ہے جو کھوپڑی کو
توڑ دینے والی ہے اور دوست کو دوست بھلا دینے والی ہے، اے پروردگار میں
تیرے رسول کے فرمان پر ایمان لانے والا مومن ہوں
یہ اشعار سن کر حضرت عمر (رض) نے پوچھا : اوہو ! کیا یہاں ابن رواحہ بھی ہیں ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم نہیں جانتے سن نہیں رہے ہو ؟ پھر حضور کچھ دیر خاموش رہے پھر حضرت ابن رواحۃ کو مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا : اے ابن رواحۃ ! (اس کی جگہ) یوں کہہ :
لا الہ الا اللہ وحدہ نصر عبدہ واعز جندہ وھزالا حزاب وحدہ
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، جس نے تنہا اپنے بندے کی مدد کی، اس کے لشکر کو عزت بخشی اور سارے لشکروں کو اکیلے ہی شکست دی۔ ابن عساکر
12527- عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم طاف بالبيت على بعير يستلم الركن بمحجن وعبد الله بن رواحة آخذ بغرزه أي ركابه:.
خلوا بني الكفار عن سبيله ... خلوا فكل الخير مع رسوله
نحن ضربناكم على تنزيله ... ضربا يزيل الهام عن مقيله
ويذهل الخليل عن خليله ... يا رب إني مؤمن بقيله
فقال عمر بن الخطاب: أوههنا يا ابن رواحة أيضا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أو ما تعلمن أولا تسمع ما قال فمكث ما شاء الله، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: هيه يا ابن رواحة، قل: لا إله إلا الله وحده نصر عبده واعز جنده وهزم الأحزاب وحده. "كر".
خلوا بني الكفار عن سبيله ... خلوا فكل الخير مع رسوله
نحن ضربناكم على تنزيله ... ضربا يزيل الهام عن مقيله
ويذهل الخليل عن خليله ... يا رب إني مؤمن بقيله
فقال عمر بن الخطاب: أوههنا يا ابن رواحة أيضا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أو ما تعلمن أولا تسمع ما قال فمكث ما شاء الله، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: هيه يا ابن رواحة، قل: لا إله إلا الله وحده نصر عبده واعز جنده وهزم الأحزاب وحده. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫২৮
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حجراسود پر دھکے دینے کی ممانعت
12528 حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجرا سود کا استلام کیا۔ اور اس کو چوما اور رکن یمانی کا استلام کیا (چھوا) پھر اپنے ہاتھ کو چوما۔ ابن عساکر
12528- عن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم استلم الحجر فقبله واستلم الركن اليماني فقبل يده. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫২৯
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمل۔۔۔یعنی پہلے تین چکر اکڑ اکڑ کر کاٹے جائیں اور پھر اپنی حالت پر
12529 (مسند عمر (رض)) ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے طواف کیا اور ارادہ کیا کہ رمل نہ کریں (طواف میں اکڑ کر نہ چلیں) اور ارشاد فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رمل کیا تھا مشرکوں کو غصہ دلانے کے لئے۔ پھر خودہی ارشاد فرمایا : یہ امر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا تھا اور اس سے روکا نہیں تھا پھر حضرت عمر (رض) خود ہی رمل کرنے لگے۔ مسند ابوداؤد الطیالسی
12529- "مسند عمر رضي الله عنه" عن ابن عباس أن عمر طاف فأراد أن لا يرمل وقال: إنما رمل رسول الله صلى الله عليه وسلم ليغيظ المشركين ثم قال: أمر فعله رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم ينه عنه فرمل "يرمل: يقال رمل يرمل رملا ورملانا إذا أسرع في المشي وهز منكبيه. النهاية "2/265" ب". "ط".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৩০
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمل۔۔۔یعنی پہلے تین چکر اکڑ اکڑ کر کاٹے جائیں اور پھر اپنی حالت پر
12530 حضرت اسلم (رض) سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : اب رمل کس لیے اور مونڈھے کھولنے کی کیا ضرورت ! حالانکہ اللہ نے اسلام کو قوت بخش دی ہے اور کفر اور اہل کفر کو (مکہ سے) نکال دیا ہے، لیکن اس کے باوجود ہم کوئی ایسا طریقہ نہیں چھوڑتے جو ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں کیا کرتے تھے۔
مسند احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ، مسند ابی یعلی، الطحاوی، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی، السنن لسعید بن منصور ابن خزیمہ نے اس روایت کو ابن عمر (رض) کے طریق سے روایت کیا ہے۔
مسند احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ، مسند ابی یعلی، الطحاوی، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی، السنن لسعید بن منصور ابن خزیمہ نے اس روایت کو ابن عمر (رض) کے طریق سے روایت کیا ہے۔
12530- عن أسلم قال: سمعت عمر بن الخطاب يقول: فيم الرملان الآن والكشف عن المناكب وقد أطأ الله الإسلام ونفى الكفر وأهله ومع ذلك لا ندع شيئا كنا نفعله على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ "حم د هـ ع والطحاوي ك هق ص" ورواه ابن خزيمة من طريق ابن عمر.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৩১
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمل۔۔۔یعنی پہلے تین چکر اکڑ اکڑ کر کاٹے جائیں اور پھر اپنی حالت پر
12531 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : اب ہمیں رمل کی کیا ضرورت ہے، پہلے تو ہم اس کے ساتھ مشرکین کو بن کر دکھلاتے تھے، اللہ ان کو ہلاک کرے۔ پھر ارشاد فرمابا : لیکن یہ امر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا تھا اس لیے ہم نہیں چاہتے کہ اس کو ترک کریں، پھر حضرت عمر (رض) نے رمل فرمایا۔ البخاری، السنن للبیہقی
12531- عن عمر قال: مالنا وللرمل إنما [كنا راءينا] به المشركين أهلكهم الله ثم قال: شيء صنعه رسول الله صلى الله عليه وسلم فلا نحب أن نتركه، ثم رمل. "خ ق"ٓ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৩২
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمل۔۔۔یعنی پہلے تین چکر اکڑ اکڑ کر کاٹے جائیں اور پھر اپنی حالت پر
12532 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ امن کے موقع پر جبکہ ابھی مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان صلح نہیں ہوئی تھی، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب مکہ تشریف لائے مشرکین اس وقت حجراسود کے قریب باب الندوہ کے قریب تھے، انھوں نے بات چیت میں کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مشقت اور کمزوری آگئی ہے۔ مسلمان جب استلام کرنے لگے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو فرمایا : یہ لوگ بات چیت کرتے ہیں کہ تمہارے اندر مشقت اور کمزوری آگئی ہے، لہٰذا تین چکراکڑ اکڑ کر کاٹو تاکہ یہ سمجھ جائیں کہ تم قوت والے ہو۔ چنانچہ مسلمانوں نے جب استلام حجر کرلیا تو پھر اپنے قدموں کو اٹھانے لگے۔ بعض نے بعض کو کہا کہ تم جانتے ہو کہ وہ لوگ تم کو کمزور سمجھ رہے ہیں لہٰذا وہ صرف چلنے سے مطمئن نہ ہوں گے بلکہ دوڑ کر چلو۔ مصنف ابن ابی شبیہ
12532- عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه في الهدنة التي كانت قبل الصلح الذي كان بينه وبينهم والمشركون عند باب الندوة مما يلي الحجر، وقد تحدثوا أن برسول الله صلى الله عليه وسلم جهدا وهزلا3 فلما استلموا قال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنهم قد تحدثوا أن بكم جهدا وهزلا فارملوا ثلاثة أشواط حتى يروا أن بكم قوة فلما استلموا الحجر رفعوا أرجلهم فقال بعضهم لبعض: أليس زعمتم أن بهم هزلا وجهدا وهم لا يرضون بالمشي حتى يسعوا سعيا. "ش"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৩৩
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمل۔۔۔یعنی پہلے تین چکر اکڑ اکڑ کر کاٹے جائیں اور پھر اپنی حالت پر
12533 حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجر (اسود) سے حجر (رکن یمانی) تک رمل کیا۔ ابن عساکر۔
12533- عن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم رمل من الحجر إلى الحجر. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৩৪
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طواف کی دو رکعات
12534 (مسند عمر (رض)) عبدالرحمن بن عبدالقاری سے مروی ہے کہ انھوں نے صبح کی نماز کے بعد کعبہ کا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے ساتھ طواف کیا۔ جب حضرت عمر (رض) نے طواف پورا کرلیا تو سورج کی طرف نظر کی مگر سورج نہ نکلا تھا چنانچہ آپ (رض) سوار ہوئے اور ذی طوی میں سواری بٹھائی اور دو رکعت نماز نفل پڑھی۔ موطا امام مالک، مصنف ابن ابی شیبہ ، الحارث، السنن للبیہقی
12534- "مسند عمر رضي الله عنه" عن عبد الرحمن بن عبد القاري أنه طاف مع عمر بن الخطاب بعد صلاة الصبح بالكعبة فلما قضى عمر طوافه نظر فلم ير الشمس، فركب حتى أناخ بذي طوي، فسبح ركعتين. "مالك ش والحارث ق"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৩৫
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طواف کی دو رکعات
12535 عکرمہ بن خالد سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو دیکھا کہ انھوں نے صبح کی نماز کے بعد طواف کیا اور پھر طلوع شمس سے قبل دو رکعت نماز پڑھی۔
مصنف ابن ابی شیبہ، ابن جریر
مصنف ابن ابی شیبہ، ابن جریر
12535- عن عكرمة بن خالد قال: رأيت ابن عمر طاف بعد صلاة الصبح ثم صلى ركعتين قبل طلوع الشمس. "ش وابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৩৬
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طواف کی دو رکعات
12536 ابوبردہ سے مروی ہے کہ وہ حضرت ابن عمر (رض) کے ساتھ تھے ابن عمر (رض) نے طواف کیا اور دو رکعت نماز پڑھی اور فرمایا یہ دو رکعت پہلے گناہوں کو مٹا دیتی ہیں۔ ابن زنجویہ
12536- عن أبي بردة أنه كان مع ابن عمر فطاف ابن عمر وصلى ركعتين فقال: هاتان تكفران ما أمامهما. "ابن زنجويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৩৭
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طواف کی دو رکعات
12537 عطاءؒ سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) نے صبح کی نماز کے بعد بیت اللہ کا طواف کیا پھر طلوع شمس سے قبل دو رکعت نماز ادا فرمائیں۔ اور حضرت ابن عباس (رض) نے عضر کے بعد بیت اللہ کا طواف کیا اور غروب شمس سے قبل دو رکعت نماز پڑھی۔ ابن جریر
12537- عن عطاء قال: طاف ابن عمر بالبيت بعد صلاة الصبح فصلى ركعتين قبل طلوع الشمس وطاف ابن عباس بالبيت بعد العصر فركع ركعتين قبل غروب الشمس. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৩৮
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طواف کی دو رکعات
12538 عطاءؒ سے مروی ہے فرمایا : میں نے حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عباس (رض) کو دیکھا کہ انھوں نے عصر کے بعد طواف کیا اور نماز پڑھی۔ ابن ابی شبیہ
12538- عن عطاء قال: رأيت ابن عمر وابن عباس طافا بعد العصر وصليا. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৩৯
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طواف کے متفرق آداب
12539: عطاء (رح) سے روایت ہے فرمایا میں نے حضرت ابن عمر اور ابن زبیر (رض) کو دیکھا انھوں نے بیت اللہ کا طواف کیا پھر طلوع شمس سے پہلے دو رکعت نماز پڑھی۔ ابن ابی شیبہ۔
12539- عن عطاء قال: رأيت ابن عمر وابن الزبير طافا بالبيت، ثم صليا ركعتين قبل طلو الشمس. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৪০
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طواف کے متفرق آداب
12540 قتادہ (رح) سے مروی ہے کہ میں نے ابوالطفیل (رض) سے ایک حدیث کے بارے میں سوال کیا اور وہ اس وقت بیت اللہ کا طواف کررہے تھے۔ ابوالطفیل (رض) نے فرمایا : ہر مقام کی اپنی بات ہوتی ہے اور یہ جگہ بات کرنے کی نہیں ہے۔ ابن عساکر
12540- عن قتادة قال: سألت أبا الطفيل عن حديث وهو يطوف بالكعبة فقال: إن لكل مقام مقالا، إن هذا ليس موضع مقال. "كر".
তাহকীক: