কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

حج اور عمرۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১৭০ টি

হাদীস নং: ১২৫৬১
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔وقوف عرفہ میں
12561 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرفہ کی رات بلال (رض) کو فرمایا : لوگوں کو پکارو کہ چپ ہوجائیں۔ چنانچہ حضرت بلال (رض) نے لوگوں میں آواز لگائی : چپ ہوجاؤ اور بات سنو ۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :

اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس مجمع پر عنایت و توجہ فرمائی ہے، پس تمہاری برائیوں کو اچھائیوں سے بدل دیا اور ہر اچھائی والے کو جو وہ سوال کرے عطا فرمایا ہے پس اللہ کی برکت کے ساتھ (عرفات کی طرف) کوچ کرو۔ نیز فرمایا : اللہ تبارک وتعالیٰ اہل عرفہ کے ساتھ ملائکہ پر عمومی فخر فرماتے ہیں اور عمر (رض) کے ساتھ ملائکہ پر خصوصی فخر فرماتے ہیں۔ ابن عساکر
12561- عن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لبلال عشية عرفة: ناد في الناس لينصتوا، فنادى الناس، أن أنصتوا واستمعوا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله تعالى قد تطول في جمعكم هذا فوهب مسيئكم لمحسنكم، وأعطى محسنكم ما سأل، فادفعوا على بركة الله وقال: إن الله باهى ملائكته بأهل عرفة عامة وباهى بعمر بن الخطاب خاصة. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৬২
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔وقوف عرفہ میں
12562 ابن عباس (رض) سے مروی ہے فرمایا : فضل بن عباس عرفہ کے روز نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ردیف تھے اور عورتوں کی طرف نظر ڈال رہے تھے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ہاتھ سے چہرے کو پھیر رہے تھے اور ارشاد فرما رہے تھے : بھتیجے ! یہ دن ایسا ہے جس نے اس دن میں اپنی نگاہ نیچی رکھی، اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی اور اپنی زبان کی حفاظت کی اس کی مغفرت کردی جاتی ہے۔ ابن زنجویہ
12562- عن ابن عباس قال: كان الفضل بن عباس رديف النبي صلى الله عليه وسلم يوم عرفة وكان الفتى يلاحظ النساء فجعل النبي صلى الله عليه وسلم يصرف وجهه بيده ويقول: ابن أخي إن هذا يوم من غمض فيه بصره وحفظ فرجه ولسانه غفر له. "ابن زنجويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৬৩
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔وقوف عرفہ میں
12563 مجاہد (رح) سے مروی ہے فرمایا : کسی دن عرفہ کے دن سے زیادہ لوگ جہنم سے آزاد نہیں کیے جاتے، لیکن اللہ پاک اس روز اکڑنے والے کی طرف نظر نہیں فرماتے۔ ابن زنجویہ
12563- عن مجاهد قال: ما من عشية أكثر عتقاء من النار من يوم عرفة لا ينظر الله فيه إلى مختال. "ابن زنجويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৬৪
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔وقوف عرفہ میں
12564 حضرت علی (رض) سے مروی ہے ، ارشاد فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکثر عرفہ کی رات عرفہ میں یہ دعا فرمایا کرتے تھے :

اللھم لک الحمد کالذی تقول وخیر امما تقول، اللھم لک صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی والیک مابی ولک رب تراثی، اللھم انی اعوذبک من عذاب القبر ورسوسۃ الصدر وشتات الامر، اللھم انی اعوذبک من شرما تجیء بہ الریاح۔

” اے اللہ ! تیرے لیے تمام تعریفیں ہیں، جیسا کہ تو نے خود اپنی حمد فرمائی اور جو ہم تیری تعریف بیان کرتے ہیں تو اس سے بہتر تعریفوں والا ہے، اے اللہ ! تیرے لیے میری نماز ہے، میرا حج ہے، میری زندگی اور موت سب تیرے لیے ہے، تیری طرف میرا واپسی کا ٹھکانا ہے اور میری باقیات سب تیرے لیے ہیں، اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے ، سینے کے وسوسوں سے اور معاملے کے بکھر جانے سے، اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس شر سے جس کو ہوائیں لے کر آتی ہیں۔ “

سنن الترمذی، وقال غریب من ھذا الوجہ ولیس اسنادہ بالقوی، ابن خزیمہ، المحاملی فی الدعاء، شعب الایمان للبیہقی ، بیہقی کے الفاظ آخر روایت میں یہ ہیں :

اللھم انی اسالک من خیر ماتجی بہ الریاح واعوذبک من شرما تجی، بہ الریاح

اے اللہ ! میں اس خیر کا سوال کرتا ہوں جس کو ہوائیں لے کر آتی ہیں اور اس شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس کو ہوائیں لے کر آتی ہیں۔
12564- عن علي قال: أكثر ما دعا به رسول الله صلى الله عليه وسلم عشية عرفة في الموقف: اللهم لك الحمد كالذي تقول وخيرا مما نقول، اللهم لك صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي وإليك مآبي ولك رب تراثي، اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر ووسوسة الصدر وشتات الأمر، اللهم إني أعوذ بك من شر ما تجيء به الريح. "ت وقال: غريب من هذا الوجه وليس إسناده بالقوي وابن خزيمة والمحاملي في الدعاء هب"1 ولفظه: اللهم إني أسألك من خير ما تجيء به الرياح، وأعوذ بك من شر ما تجيء به الرياح.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৬৫
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔وقوف عرفہ میں
12565 حضرت علی (رض) سے مروی ہے آپ (رض) نے عرفات کے روز ارشاد فرمایا : میں اس موقف (عرفات کے قیام) کو نہیں چھوڑوں گا جب تک اس کا راستہ پاؤں گا کیونکہ روئے زمین پر کوئی دن ایسا نہیں ہے جس دن عرفہ کے دن سے زیادہ لوگ جہنم سے آزاد کیے جاتے ہوں۔ پس اس دن کثرت سے یہ دعا پڑھا کرو :

اللھم اعتق رقبتی من النار، واوسع لی فی الرزق الحلال واصرف عنی فسقۃ الجن والانس فانہ عامۃ ماادعوک بہ۔

اے اللہ ! میری گردن جہنم کی آگ سے آزاد کر، میرے لیے رزق حلال میں وسعت دے اور جن وانس کے فساق کو مجھ سے دور کردے۔ یہ دعا میں تجھ سے ہر دم کرتا ہوں۔ ابن ابی الدنیا فی الاضاحی
12565- عن علي أنه قال بعرفات: لا أدع هذا الموقف ما وجدت إليه سبيلا لأنه ليس في الأرض يوم فيه عتقاء من النار وليس يوم أكثر عتقا للرقاب فيه من يوم عرفة، فأكثروا في ذلك اليوم أن تقولوا: اللهم أعتق رقبتي من النار، وأوسع لي في الرزق الحلال، واصرف عني فسقة الجن والإنس فإنه عامة ما أدعوك به. "ابن أبي الدنيا في الأضاحي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৬৬
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔وقوف عرفہ میں
12566 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ مجھے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے علی ! مجھ سے پہلے اکثر انبیاء کی دعا اور میری دعا عرفہ کے روز یہ ہے :

لاالہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد یحییٰ ویمیت وھو علی کل شیء قدیر اللھم اجعل فی بصری نوراً وفی سمعی نوراً وفی قلبی نوراً اللھم اشرح لی صدری ویسرلی امری، اللھم انی اعوذبک من وسواس الصدور وشتات الامر وفتنۃ القبر، وشرمایلج فی اللیل وشر مایلج فی النھار وشرما تجری بہ الریاح وشربوائق الدھر۔

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، ساری بادشاہی اسی کی ہے، اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ ! میری نگاہوں میں نور کردے، میرے کانوں میں نور کردے اور میرے دل میں نور کردے، اے اللہ میرے سینے کو کھول دے، میرا کام مجھ پر آسان کردے، اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں، سینوں کے وسوسوں سے، معاملات کے بگڑنے سے، قبر کے فتنے سے، اور اس شر سے جو رات میں داخل ہوتا ہے اور اس شر سے جو دن میں داخل ہوتا ہے اور اس شر سے جس کو ہوائیں لے کر آتی ہیں اور تیری پناہ مانگتا ہوں زمانے کے تمام شرور سے۔

مصنف ابن ابی شیبہ، الجندی، العسکری فی المواعظ، السنن للبیہقی ، الخطیب فی تلخیص المتشابہ

کلام : اس روایت میں موسیٰ متفرد ہے اور وہی ضعیف ہے، نیز اس نے علی (رض) کو نہیں پایا ۔ خطیب فرماتے ہیں عبداللہ بن عبیدہ الربذی کی روایت اپنے بھائی موسیٰ بن عبیدۃ ربذی کے واسطہ سے حضرت علی (رض) سے منقول شدہ مرسل ہے۔
12566- عن علي قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: يا علي، إن أكثر دعاء من كان قبلي من الأنبياء ودعائي يوم عرفة أن أقول: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد يحيى ويميت وهو على كل شيء قدير اللهم اجعل في بصري نورا، وفي سمعي نورا، وفي قلبي نورا، اللهم اشرح لي صدري، ويسر لي أمري، اللهم إني أعوذ بك من وسواس الصدر وشتات الأمر وفتنة القبر، وشر ما يلج في الليل وشر ما يلج في النهار وشر ما تجري به الرياح وشر بوائق الدهر. "ش والجندي والعسكري في المواعظ هق1 وقال: تفرد به موسى وهو ضعيف ولم يدرك عليا خط في تلخيص المتشابه" وقال رواية عبد الله بن عبيدة الربذي عن أخيه موسى بن عبيدة الربذي عن علي مرسلة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৬৭
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔وقوف عرفہ میں
12567 موسیٰ بن عبیدۃ سے حضرت علی (رض) کی روایت مروی ہے، حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اکثر دعا عرفہ کی رات کو یہ ہوا کرتی تھی :

لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد یحی ویمیت بیدہ الخیر وھو علی کل شیء قدیر اللھم اجعل فی سمعی نوراً وفی بصری نوراً وفی قلبی نوراً اللھم اغفرلی ذنبی ویسرلی امری واشرح لی صدری، اللھم انی اعوذبک من وسواس الصدر، وشتات الامر ومن عذاب القبر، اللھم انی اعوذبک من شر مایلج فی اللیل وشر مایلج فی النھار، وشرما لقب بہ الریاح وشربوائق الدھر۔

المحاملی فی الدعاء والعسکری فی المواعظ والخرائطی فی مکارم الاخلاق۔
12567- عن موسى بن عبيدة عن علي قال: كان أكثر دعاء رسول الله صلى الله عليه وسلم عشية عرفة: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد يحي ويميت، بيده الخير وهو على كل شيء قدير، اللهم اجعل في سمعي نورا، وفي بصري نورا، وفي قلبي نورا، اللهم اغفر لي ذنبي، ويسر لي أمري، واشرح لي صدري، اللهم إني أعوذ بك من وسواس الصدر، وشتات الأمر، ومن عذاب القبر، اللهم إني أعوذ بك من شر ما يلج في الليل، وشر ما يلج في النهار، وشر ما تهب به الرياح وشر بوائق الدهر. "المحاملي في الدعاء والعسكري في المواعظ والخرائطي في مكارم الأخلاق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৬৮
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔وقوف عرفہ میں
12568 حضرت علی (رض) سے مروی ہے ، ارشاد فرمایا : عرفات (کے میدان) میں ہر عرفہ کو جبرائیل (علیہ السلام) ، میکائیل (علیہ السلام) ، اسرافیل (علیہ السلام) ، اور خضر (علیہ السلام) جمع ہوتے ہیں۔ جبرائیل (علیہ السلام) فرماتے ہیں : ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ، جو اللہ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور کسی نیکی کی قوت اللہ کی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہے میکائیل (علیہ السلام) اس کا جواب دیتے ہیں : ماشاء اللہ کل نعمۃ من اللہ، ماشاء اللہ ہر نعمت اللہ کی طرف سے ہے اسرافیل (علیہ السلام) دونوں کو جواب دیتے ہیں : ماشاء اللہ الخیر کلہ بیداللہ ماشاء اللہ لا یدفع السوء الا باللہ، ماشاء اللہ کوئی برائی اللہ کی مدد کے بغیر دور نہیں ہوسکتی پھر سب متفرق ہوجاتے ہیں پھر اگلے سال اسی دن سے پہلے جمع نہیں ہوتے۔ ابن النجار
12568- عن علي قال: يجتمع في كل يوم عرفة بعرفات جبريل وميكائيل وإسرافيل والخضر فيقول جبريل: ما شاء الله لا قوة إلا بالله، ويرد عليه ميكائيل ويقول: ما شاء الله كل نعمة من الله، فيرد عليهما إسرافيل فيقول: ما شاء الله الخير كله بيد الله، فيرد عليهم الخضر فيقول: ما شاء الله لا يدفع السوء إلا الله، ثم يتفرقون، فلا يجتمعون إلا إلى قابل في مثل ذلك اليوم. "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৬৯
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔وقوف عرفہ میں
12569 ابوسعید (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرفہ کے روز دعا کیا کرتے تھے اور دونوں ہاتھوں کو اس طرح اٹھاتے تھے کہ دونوں ہاتھوں کی پشت چہرہ مبارک کی طرف کرلیتے اور اندرونی حصہ زمین کی طرف رکھتے تھے۔ مصنف ابن ابی شیبہ۔
12569- عن أبي سعيد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يدعو بعرفة ويرفع يديه هكذا يجعل ظاهرهما مما يلي وجهه، وباطنهما مما يلي الأرض. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৭০
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔وقوف عرفہ میں
12570 ھیثم بن حنش سے مروی ہے کہ انھوں نے حضرت ابن عمر (رض) سے عرفات میں یہ دعا کرتے ہوئے سنا :

اللھم اجعلہ حجا مبروراً وذنباً مغفوراً ۔

اے اللہ ! اس حج کو نیکیوں والا (اور مقبول) بنا اور (اس کے طفیل) سارے گناہوں کو معاف فرما۔

ھیثم کہتے ہیں میں نے ابن عمر (رض) سے پوچھا : آپ تلبیہ (لبیک الخ) کیوں نہیں کہتے ؟ ارشاد فرمایا : ہم (اس سے پہلے) تلبیہ کہہ چکے ہیں اور آج کے دن تسبیح وتکبیر افضل ہے۔ ابن جریر
12570- عن الهيثم بن حنش أنه سمع ابن عمر بعرفات وهو يقول: اللهم اجعله حجا مبرورا وذنبا مفغورا، قال: فقلت له: فما يمنعك من التلبية؟ قال: قد لبينا والتسبيح والتكبير اليوم أفضل. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৭১
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ کے روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کا بیان
12571 حضرت عمر (رض) کے متعلق مروی ہے کہ آپ (رض) عرفہ کے روز کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے تو ان کو عرفہ کے روز روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔ مسدد ابن جریر
12571- عن عمر رضي الله عنه أنه مر بقوم بعرفة فنهاهم عن صوم يوم عرفة. "مسدد وابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৭২
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ کے روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کا بیان
12572 عبادالعصری سے مروی ہے فرمایا : عرفہ کے روز حضرت عمر (رض) ہمارے پاس کھڑے ہوئے، ہم عرفات کے میدان میں تھے۔ آپ (رض) نے پوچھا : یہ خیمے کس کے لگے ہوئے ہیں ؟ لوگوں نے کہا : یہ خیمے عبدالقیس کے ہیں۔ پھر حضرت عمر (رض) نے ان کے لیے استغفار کیا اور پھر فرمایا : یہ حج اکبر کا دن ہے اس دن کوئی روزہ نہیں رکھتا۔ ابن سعد، ابن جریر
12572- عن عباد العصري قال: وقف علينا عمر بن الخطاب يوم عرفة، ونحن بعرفات فقال: لمن هذه الأخبية؟ قالوا: لعبد القيس، فاستغفر لهم، ثم قال: هذا يوم الحج الأكبر لا يصومه أحد. "ابن سعد وابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৭৩
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ کے روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کا بیان
12573 حضرت عکرمہ (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) میدان عرفات میں کھڑے تھے، ان کے دائیں طرف اہل یمن کے سردار تھے ۔ پھر حضرت عمر (رض) کی خدمت میں پینے کا پانی لایا گیا آپ (رض) نے وہ پیا پھر وہ اہل یمن کے سردار کو تھما دیا، انھوں نے کہا میں روزہ سے ہوں۔ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ تو خود بھی پی اور اپنے ساتھیوں کو بھی پلا۔ ابن جریر
12573- عن عكرمة قال: كان عمر واقفا بعرفات، وعن يمينه سيد أهل اليمن، فأتي بشراب فشرب، ثم ناوله سيد أهل اليمن، فقال: إني صائم فقال: أقسمت عليك لما شربت وسقيت أصحابك. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৭৪
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ کے روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کا بیان
12574 حضرت ابراہیم سے مروی ہے فرمایا : عرفہ کا روزہ ایک سال پہلے اور ایک سال اگلے روزوں کے برابر ہے۔ اور عاشورہ کا روزہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ ابن جریر
12574- عن إبراهيم قال: صيام عرفة يعدل سنة قبله وسنة بعده وصوم عاشوراء كفارة سنة. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৭৫
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ کے روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کا بیان
12575 مجاہد (رح) سے مروی ہے عرفہ کا روزہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے روزوں کے برابر ہے۔ ابن جریر
12575- عن مجاهد قال: صيام عرفة يعدل سنة قبله وسنة بعده. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৭৬
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ کے روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کا بیان
12576 میمونہ سے مروی ہے فرمایا : عرفہ کے روز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روزے کے بارے میں لوگوں کو شک ہوا تو ام الفضل نے ایک دودھ کا برتن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بھیجا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موقف (عرفات) میں کھڑے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ دودھ پیا اور لوگ دیکھ رہے تھے۔ ابن جریر
12576- عن ميمونة قالت: إن الناس شكوا في صيام رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم عرفة فأرسلت إليه أم الفضل بحلاب وهو واقف في الموقف فشرب منه والناس ينظرون. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৭৭
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ کے روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کا بیان
12577 حضرت سعید بن جبیر سے مروی ہے فرمایا : ایک آدمی نے عبداللہ بن عمر (رض) سے عرفہ کے روزے کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے ارشاد فرمایا : ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جب ہوتے تھے تو اس کو ایک سال کے روزوں کے برابر سمجھتے تھے۔ ابن جریر
12577- عن سعيد بن جبير قال: سأل رجل عبد الله بن عمر عن صوم يوم عرفة، فقال: كنا ونحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم نعدله بصوم سنة. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৭৮
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ کے روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کا بیان
12578 ابو نجیح سے مروی ہے ایک آدمی نے حضرت ابن عمر (رض) سے عرفہ کے روزے کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے ارشاد فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حج کیا تو انھوں نے روزہ نہیں رکھا۔ ابوبکر (رض) کے ساتھ (حج) کیا انھوں نے بھی روزہ نہیں رکھا اور حضرت عمر (رض) کے ساتھ (حج) کیا انھوں نے بھی روزہ نہیں رکھا اور عثمان (رض) کے ساتھ کیا انھوں نے بھی نہیں رکھا اور میں بھی اس دن کا روزہ نہیں رکھتا اور لیکن روکتا بھی نہیں ہوں۔ ابن جریر
12578- عن أبي نجيح أن رجلا سأل ابن عمر عن صوم عرفة، فقال: حججت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم يصمه، ومع أبي بكر فلم يصمه، ومع عمر فلم يصمه، ومع عثمان فلم يصمه، وأنا لا أصومه، ولا أنهاك عنه. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৭৯
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ کے روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کا بیان
12579 ابن عباس (رض) سے مروی ہے لوگوں کو عرفہ کے روز نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روزے میں شک ہوا تو ام الفضل (رض) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں دودھ بھیجا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے چنانچہ آپ نے پی لیا۔ ابن جریر، صحیح
12579- عن ابن عباس أنهم تماروا في صوم النبي صلى الله عليه وسلم يوم عرفة فأرسلت إليه أم الفضل بلبن وهو يخطب الناس فشربه. "ابن جرير" وصححه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৮০
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ کے روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کا بیان
12580 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ عرفہ کے روز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے روزہ نہیں رکھا اور ام الفضل نے آپ کو دودھ بھیجا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دودھ نوش فرمالیا۔ ابن جریر
12580- عن ابن عباس قال: أفطر رسول الله صلى الله عليه وسلم بعرفة وبعثت إليه أم الفضل بلبن فشربه. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক: