কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
حج اور عمرۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১৭০ টি
হাদীস নং: ১২৫৮১
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ کے روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کا بیان
12581 عطاءؒ سے مروی ہے جس نے عرفہ کے روز اس غرض سے روزہ نہ رکھا تاکہ دعا (ذکر وغیرہ) میں تقویت حاصل ہو تو اللہ پاک اس کو روزہ دار کا اجر عنایت فرمائیں گے۔ ابن جریر
12581- عن عطاء قال: من أفطر يوم عرفة ليتقوى به على الدعاء كتب الله له مثل أجر الصائم. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৮২
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ کے روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کا بیان
12582 فضل بن عباس (رض) سے مروی ہے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عرفہ کے روز دودھ نوش فرماتے ہوئے دیکھا۔ ابن جریر
12582- عن الفضل بن عباس قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم شرب يوم عرفة. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৮৩
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کے واجبات اور مستحبات
12583 (مسند عمر (رض)) نہیک بن عبداللہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) عرفات سے واپسی ہوئے نہیک فرماتے ہیں : میں حضرت عمر اور اسود بن یزید کے درمیان تھا۔ آپ (رض) مسلسل ایک ہی (نرم) رفتار سے چلتے رہے حتیٰ کہ منیٰ پہنچ گئے۔ ابن سعد
12583- "مسند عمر رضي الله عنه" عن نهيك بن عبد الله أن عمر بن الخطاب أفاض من عرفات وهو بينه وبين الأسود بن يزيد فلم يزل على سير واحد حتى أتى منى. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৮৪
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کے واجبات اور مستحبات
12584 علقمہ اور اسود سے مروی ہے کہ یہ دونوں حضرات حضرت عمر بن خطاب (رض) کے ساتھ میدان عرفات سے مزدلفہ واپس ہوئے ۔ دونوں نے حضرت عمر (رض) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا :
اے لوگو ! تم پر سکینہ (اطمینان اور وقار) لازم ہے۔ بیشک نیکی اونٹوں کو دوڑانے میں نہیں ہے۔ ابن خسرو
اے لوگو ! تم پر سکینہ (اطمینان اور وقار) لازم ہے۔ بیشک نیکی اونٹوں کو دوڑانے میں نہیں ہے۔ ابن خسرو
12584- عن علقمة والأسود أنهما أفاضا مع عمر بن الخطاب من عرفات إلى جمع فسمعاه يقول: أيها الناس عليكم بالسكينة، فإن البر ليس في عدو الإبل. "ابن خسرو".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৮৫
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کے واجبات اور مستحبات
12585 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ آپ عرفات سے واپس ہوئے تو یہ تلبیہ پڑھ رہے تھے :
لبیک اللھم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک، ان الحمد والنعمۃ لک۔
نیز آپ (رض) گردن اٹھا اٹھا کر دیکھ رہے تھے اور اونٹ ایک ہی رفتار سے چل رہا تھا۔ مسدد
لبیک اللھم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک، ان الحمد والنعمۃ لک۔
نیز آپ (رض) گردن اٹھا اٹھا کر دیکھ رہے تھے اور اونٹ ایک ہی رفتار سے چل رہا تھا۔ مسدد
12585- عن عمر أنه أفاض من عرفة وكانت تلبيته: لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك، وهو على بعير يعنق1 والإبل تعنق ما تدركه. "مسدد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৮৬
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کے واجبات اور مستحبات
12586 عروہ بن زبیر (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) جب عرفہ سے واپس ہورہے تھے تو یہ شعر کہہ رہے تھے :
اے الٰہ یہ سواریاں تیری طرف دوڑتی آرہی ہیں ان کے پالان مسلسل حرکت میں ہیں اور ان سواریوں والوں کا دین ، دین نصاریٰ کی مخالفت کرتا ہے۔
الشافعی فی الام، الجامع لعبدالرزاق، السنن لسعید بن منصور۔
کلام : امام طبرانی نے اپنی کبیر اور اوسط میں اس کو نقل کیا ہے اور اس میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ضعیف ہے۔ اور امام طبرانی (رح) فرماتے ہیں مشہور یہ ہے کہ یہ روایت ابن عمر (رض) سے منقول ہے۔
مجمع الزوائد 256/3
اے الٰہ یہ سواریاں تیری طرف دوڑتی آرہی ہیں ان کے پالان مسلسل حرکت میں ہیں اور ان سواریوں والوں کا دین ، دین نصاریٰ کی مخالفت کرتا ہے۔
الشافعی فی الام، الجامع لعبدالرزاق، السنن لسعید بن منصور۔
کلام : امام طبرانی نے اپنی کبیر اور اوسط میں اس کو نقل کیا ہے اور اس میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ضعیف ہے۔ اور امام طبرانی (رح) فرماتے ہیں مشہور یہ ہے کہ یہ روایت ابن عمر (رض) سے منقول ہے۔
مجمع الزوائد 256/3
12586- عن عروة بن الزبير أن عمر بن الخطاب حين دفع من عرفة قال:
إليك تعدوا قلقا وضينها... مخالفا دين النصارى دينها
"الشافعي في الأم عب ص"
إليك تعدوا قلقا وضينها... مخالفا دين النصارى دينها
"الشافعي في الأم عب ص"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৮৭
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کے واجبات اور مستحبات
12587 اسود سے مروی ہے ، فرماتے ہیں : میں حضرت عمر (رض) کے ساتھ دونوں واپسیوں میں ساتھ تھا۔ آپ (رض) نے (عرفہ سے واپسی کے بعد) مزدلفہ کے علاوہ (راستے میں) نماز نہیں پڑھی۔ جب آپ (رض) مزدلفہ میں پہنچ گئے تو مغرب اور عشاء کی نماز پڑھی اور ہر ایک کو علیحدہ اذان و اقامت کے ساتھ ادا کیا اور دونوں کے درمیان رات کے کھانے اور گفتو کے ساتھ فصل کیا۔ ابن جریر
12587- عن الأسود قال: أفضت مع عمر الإفاضتين جميعا فلم يصل دون جمع، فلما انتهى إلى جمع صلى المغرب والعشاء كل واحدة منهما بأذان وإقامة وفصل بينهما بعشاء وحديث. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৮৮
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کے واجبات اور مستحبات
12588 اسود سے مروی ہے فرمایا : حضرت عمر (رض) نے عرفہ سے واپسی غروب شمس کے بعد کی۔
ابن جریر
ابن جریر
12588- عن الأسود قال: أفاض عمر حين غربت الشمس من عرفة. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৮৯
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کے واجبات اور مستحبات
12589 حضرت اسود سے مروی ہے، فرمایا : میں نے حضرت عمر (رض) کے ساتھ دونوں افاضوں (عرفات ومزدلفہ سے واپسی) میں شرکت کی، آپ (رض) کی سواری ایک حالت پر رواں دواں تھی۔ جو شروع میں چا تھی آخر تک اس میں اضافہ نہیں فرمایا، آپ (رض) نے مزدلفہ سے واپسی طلوع شمس سے قبل فرمائی ایک ہی پہلی رفتار پر، اور دونوں واپسیوں میں کہیں قیام نہیں کیا حتیٰ کہ آپ جمرہ عقبہ پہنچ گئے۔ ابن جریر
12589- عن الأسود قال: أفضت مع عمر الإفاضتين جميعا على حالة واحدة ما يزيد بعيره على العنق، وأفاض من جمع قبل طلوع الشمس على سير واحد العنق لا يزيد عليه لم يوضع في واحدة من الإفاضتين حتى انتهى إلى جمرة العقبة. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৯০
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کے واجبات اور مستحبات
12590 ابراہیم (رح) سے مروی ہے ، فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے جب لوگوں کو مزدلفہ اور عرفات سے واپسی پر تیزی رفتاری میں دیکھا تو ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! یہ میں جانتا ہوں کہ سواری کے (ہر) قدم اٹھانے پر نیکی ہے اور آہستہ چلنے میں زیادہ قدم اٹھتے ہیں، اور اصل بات یہ ہے کہ نیکی ایسی چیز ہے جس پر دلوں کو صبر و سکون آجائے۔ ابن جریر
12590- عن إبراهيم قال: قال عمر لما رأى سرعة الناس في الإفاضة من جمع وعرفة: والله إني لأعلم أن البر برفعها أذرعها ولكن البر شيء تصبر عليه القلوب. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৯১
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کے واجبات اور مستحبات
12591 معرور بن سوید سے مروی ہے، فرمایا : میں نے عمر بن خطاب کو دیکھا وہ اونٹ پر سوار ایک گنجے سر والے شخص تھے، فرما رہے تھے : اے لوگو ! اوضعوا فانا وجدنا الا فاضہ الایضاع، تیز چلو، بیشک ہم نے واپسی کو تیزی میں پایا ہے۔ ابن جریر
12591- عن معرور بن سويد قال: رأيت عمر بن الخطاب رجلا أصلع على بعير يقول: يا أيها الناس؛ أوضعوا فإنا وجدنا الإفاضة الإيضاع. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৯২
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کے واجبات اور مستحبات
12592 حضرت اسامہ (رض) سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ میں عرفہ سے مزدلفہ تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے آپ کی سواری پر بیٹھ کر آیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک گھاٹی پر آئے اور نیچے اترے پھر پانی بہایا اور نماز پڑھے بغیر مزدلفہ تشریف لے آئے۔ مسند ابی داؤد الطیالسی
12592- عن أسامة قال: ردفت رسول الله صلى الله عليه وسلم من عرفة إلى جمع، فأتى على شعب فنزل فاهراق الماء ثم لم يصل حتى أتى جمعا. "ط".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৯৩
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کے واجبات اور مستحبات
12593 حضرت اسامہ (رض) ہی سے مروی ہے کہ میں عرفات سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ردیف (سواری کے پیچھے بیٹھنے والا) بن کر آیا۔ مزدلفہ سے پہلے بائیں طرف کی گھاٹی میں پہنچ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی سواری بٹھا دی، پیشاب کیا پھر تشریف لائے اور میں نے آپ کو وضو کروایا۔ آپ نے ہلکے پھلکے منہ ہاتھ دھوئے۔ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! نماز (قائم کریں کیا ؟ ) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : نماز آگے ہوگی۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوار ہوگئے اور میدان مزدلفہ تشریف لائے اور وہاں نماز پڑھی۔ پھر مزدلفہ کی صبح کو آپ کے ردیف فضل بن عباس بن گئے۔ مسند احمد، البخاری، مسلم
12593- وعنه قال: ردفت رسول الله صلى الله عليه وسلم من عرفات، فلما بلغ الشعب الأيسر الذي دون المزدلفة أناخ فبال، ثم جاء فصببت عليه الوضوء فتوضأ وضوءا خفيفا، ثم قلت: الصلاة يا رسول الله قال: الصلاة أمامك، فركب رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى أتى المزدلفة فصلى، ثم ردف الفضل رسول الله صلى الله عليه وسلم غداة جمع. "حم خ م".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৯৪
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کے واجبات اور مستحبات
12594 حضرت اسامہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرفہ سے واپس ہوئے حتیٰ کہ جب گھاٹی میں پہنچ گئے تو اتر کر پیشاب کیا پھر وضو کیا لیکن پورا وضو نہیں کیا۔ میں نے عرض کیا : نماز ؟ فرمایا : نماز آگے ہوگی، چنانچہ پھر سوار ہوگئے اور جب مزدلفہ پہنچ گئے تو اتر کر وضو کیا اور کامل وضو کیا پھر نماز کھڑی ہوئی تو آپ نے مغرب کی نماز پڑھائی۔ پھر ہر آدمی نے اپنا اونٹ اپنی اپنی جگہ بٹھا دیا۔ پھر عشاء کی نماز کھڑی ہوئی اور آپ نے عشاء کی نماز پڑھائی اور دونوں نمازوں کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی۔ موطا امام مالک، مسند احمد، الحمیدی، البخاری، مسلم ، ابوداؤد، النسائی، العدنی، ابن جریر، ابوعوانہ، الطحاوی، مسند ابن حبان
12594- وعنه قال: دفع رسول الله صلى الله عليه وسلم من عرفة حتى إذا كان بالشعب نزل فبال، ثم توضأ ولم يسبغ الوضوء فقلت له: الصلاة، قال: الصلاة أمامك، فركب فلما جاء المزدلفة نزل وتوضأ فأسبغ الوضوء ثم أقيمت الصلاة فصلى المغرب؛ ثم أناخ كل إنسان بعيره في منزله، ثم أقيمت العشاء فصلاها ولم يصل بينهما شيئا. "مالك حم والحميدي خ م د ن والعدني وابن جرير وأبو عوانة والطحاوي حب"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৯৫
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کے واجبات اور مستحبات
12595 حضرت عروہ (رح) سے مروی ہے فرماتے ہیں میں موجود تھا کہ حضرت اسامہ بن زید (رض) جو عرفات سے واپسی پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ردیف تھے سے کسی نے پوچھا : عرفات سے واپسی پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رفتار کیسی تھی ؟ تو حضرت اسامہ (رض) نے فرمایا : جس رفتار سے نکلے تھے اسی رفتار پر آخر تک چلے۔ ہاں کہیں کشادگی آجاتی تو حرکت (تیز) فرما دیتے تھے۔
ابوداؤد الطیالسی، مسند احمد، الحمیدی، البخاری، مسلم، الدارمی، العدنی، ابن داؤد، النسائی، ابن ماجہ، ابن جریر، ابن خزیمہ، ابوعوانۃ، الطحاوی
ابوداؤد الطیالسی، مسند احمد، الحمیدی، البخاری، مسلم، الدارمی، العدنی، ابن داؤد، النسائی، ابن ماجہ، ابن جریر، ابن خزیمہ، ابوعوانۃ، الطحاوی
12595- عن عروة قال: سئل أسامة بن زيد وأنا شاهد وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم أردفه من عرفات كيف كان يسير رسول الله صلى الله عليه وسلم حين أفاض من عرفات؟ قال: كان يسير العنق فإذا وجد فجوة نص"ط حم والحميدي خ م والدارمي والعدني د ن هـ وابن جرير وابن خزيمة وأبو عوانة والطحاوي"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৯৬
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کے واجبات اور مستحبات
12596 شعبی (رح) سے مروی ہے کہ مجھے اسامہ بن زید (رض) نے بتایا کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ افاضہ (واپسی) کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سواری نے کوئی قدم اپنی عادت سے زیادہ تیز نہیں اٹھایا حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مزدلفہ پہنچ گئے۔
ابوداؤد، مسند احمد، ابن جریر، الدار قطنی فی الافراد
ابوداؤد، مسند احمد، ابن جریر، الدار قطنی فی الافراد
12596- عن الشعبي قال حدثني أسامة بن زيد أنه أفاض مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم ترفع راحلته يدا عادية حتى أتى المزدلفة. "ط حم وابن جرير وقط في الأفراد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৯৭
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کے واجبات اور مستحبات
12597 اسامہ (رض) سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ میں عرفہ کی رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ردیف (ہم سوار) تھا۔ جب سورج غروب ہوا تھا تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے واپسی کا سفر شروع فرمایا تھا۔ مسند احمد، ابن داؤد
مسند احمد اور امام احمد کی افراد میں یہ اضافہ بھی منقول ہے :
اور جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے پیچھے لوگوں کا ازدحام سنا تو ارشاد فرمایا : اے لوگو ! آہستہ روی اختیار کرو، وقار اور سکون کو لازم پکڑو۔ بیشک تیز چلنا نیکی نہیں ہے۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب لوگوں کو ازدحام کرتے ہوئے دیکھتے تو پہلی آہستہ رفتاری پکڑ لیتے اور جب (راستے کی) کشادگی پاتے تو تیز ہوجاتے، حتیٰ کہ اس گھاٹی پر گزرے جس کے متعلق اکثر لوگوں کا گمان ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہاں نماز پڑھی تھی (لیکن صحیح بات یہ ہے کہ) پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہاں اترے تو میں آپ کے پاس وضو کا پانی لے کر حاضر ہوا آپ نے (ہلکا پھلکا) وضو کیا۔ میں نے عرض کیا : نماز کا ارادہ ہے یارسول اللہ ! ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : نماز آگے ہوگی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوار ہوگئے اور کوئی نماز نہیں پڑھی حتیٰ کہ مزدلفہ پہنچ گئے پھر وہاں اتر کر مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کیا۔
مسند احمد اور امام احمد کی افراد میں یہ اضافہ بھی منقول ہے :
اور جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے پیچھے لوگوں کا ازدحام سنا تو ارشاد فرمایا : اے لوگو ! آہستہ روی اختیار کرو، وقار اور سکون کو لازم پکڑو۔ بیشک تیز چلنا نیکی نہیں ہے۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب لوگوں کو ازدحام کرتے ہوئے دیکھتے تو پہلی آہستہ رفتاری پکڑ لیتے اور جب (راستے کی) کشادگی پاتے تو تیز ہوجاتے، حتیٰ کہ اس گھاٹی پر گزرے جس کے متعلق اکثر لوگوں کا گمان ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہاں نماز پڑھی تھی (لیکن صحیح بات یہ ہے کہ) پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہاں اترے تو میں آپ کے پاس وضو کا پانی لے کر حاضر ہوا آپ نے (ہلکا پھلکا) وضو کیا۔ میں نے عرض کیا : نماز کا ارادہ ہے یارسول اللہ ! ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : نماز آگے ہوگی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوار ہوگئے اور کوئی نماز نہیں پڑھی حتیٰ کہ مزدلفہ پہنچ گئے پھر وہاں اتر کر مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کیا۔
12597- عن أسامة قال: كنت رديف رسول الله صلى الله عليه وسلم عشية عرفة فلما وقعت الشمس دفع رسول الله صلى الله عليه وسلم. "حم د" زاد "حم قط في الأفراد" ولما سمع حطمة الناس خلفه قال: رويدا أيها الناس عليكم بالسكينة فإن البر ليس بالإيضاع فكان إذا التحم عليه الناس أعنق وإذا وجد فرجة نص حتى مر بالشعب الذي يزعم كثير من الناس أنه صلى فيه، فنزل فبال ثم جئته بالإداوة فتوضأ ثم قلت:الصلاة يا رسول الله فقال: الصلاة أمامك، فركب وما صلى حتى أتى المزدلفة فنزل بها فجمع بين الصلاتين المغرب والعشاء.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৯৮
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کے واجبات اور مستحبات
12598 حکم بن عتیبہ اسامہ بن زید (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ (اسامہ) عرفات سے واپسی پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ردیف تھے ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : نیکی گھوڑے اور اونٹ کو تیز دوڑانے میں نہیں ہے۔ بلکہ نیکی تو سکینہ (اطمینان ) اور وقار کے ساتھ چلنے میں ہے، چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی نے اپنا کوئی قدم تیزی کے ساتھ نہیں اٹھایا حتیٰ کہ آپ مزدلفہ آپہنچے۔ العدنی
12598- عن الحكم بن عتيبة عن أسامة بن زيد أنه كان رديف رسول الله صلى الله عليه وسلم من عرفات فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليس البر بإيجاف1 الخيل ولا الركاب ولكن البر السكينة والوقار فما رفعت ناقته يدها تشتد حتى نزل جمعا. "العدني".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৫৯৯
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کے واجبات اور مستحبات
12599 عطاءؒ سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (عرفات سے واپسی پر) اسامہ بن زید (رض) کو ردیف بنایا حتیٰ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مزدلفہ تشریف لے آئے، عطاء فرماتے ہیں : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (مزدلفہ سے پہلے) اس گھاٹی میں پہنچے جہاں آج خلفاء مغرب کی نماز ادا کرتے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اترے اور پانی بہایا پھر وضو کیا جب اسامہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اترتے دیکھا تو خود بھی اتر آئے تھے۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وضو وغیرہ سے فارغ ہوگئے تو اسامہ کو پوچھا : تم کیوں اترے ؟ پھر اسامہ (رض) واپسی سواری پر بیٹھ گئے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی سوار ہوگئے اور سواری چلا دی، حتیٰ کہ مزدلفہ تشریف لے آئے۔ وہاں نماز مغرب ادا فرمائی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سفر میں تلبیہ پڑھتے رہے حتیٰ کہ مزدلفہ داخل ہوگئے۔
حضرت عطاءؒ مذکورہ روایت اسامہ بن زید سے نقل کرتے ہیں۔ العدنی
حضرت عطاءؒ مذکورہ روایت اسامہ بن زید سے نقل کرتے ہیں۔ العدنی
12599- عن عطاء قال: أردف النبي صلى الله عليه وسلم أسامة بن زيد حتى أتى جمعا فلما جاء الشعب الذي يصلى فيه الخلفاء الآن المغرب نزل، فأهراق الماء2 ثم توضأ، فلما رأى أسامة نزول النبي صلى الله عليه وسلم نزل أسامة فلما توضأ النبي صلى الله عليه وسلم وفرغ؛ قال لأسامة: لم نزلت؟ ثم عاد أسامة فركب معه، ثم انطلق حتى جاء جمعا فصلى بها المغرب فلم يزل النبي صلى الله عليه وسلم يلبي في ذلك حتى دخل جمعا يخبر ذلك عنه أسامة بن زيد. "العدني".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬০০
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کے واجبات اور مستحبات
12600 اسامہ بن زید (رض) سے مروی ہے فرماتے ہیں : میں واپسی میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا ۔ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس گھاٹی میں پہنچے جہاں امراء و حکام اترتے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہاں اترے، پیشاب کیا پھر وضو فرمایا۔ میں نے پوچھا : نماز کا ارادہ ہے ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نماز آگے ہوگی۔ چنانچہ جب مزدلفہ پہنچے تو اذان و اقامت فرمائی (یعنی حکم دیا) پھر مغرب کی نماز پڑھی پھر کسی نے اپنی سواری کے سامان وغیرہ کو اتارا نہیں حتیٰ کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوگئے اور عشاء کی نماز ادا فرمائی۔ ابن ماجہ، ابن جریر
12600- عن أسامة بن زيد قال: أفضت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما بلغ الشعب الذي ينزل عنده الأمراء نزل فبال فتوضأ، قلت: الصلاة قال: الصلاة أمامك فلما انتهى إلى جمع أذن وأقام ثم صلى المغرب ثم لم يحل أحد من الناس حتى قام فصلى العشاء. "هـ ابن جرير".
তাহকীক: