কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
حج اور عمرۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১৭০ টি
হাদীস নং: ১২৬০১
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کے واجبات اور مستحبات
12601 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرفہ سے واپس ہوئے اور اسامہ بن زید رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ردیف تھے۔ اسامہ کہتے ہیں : حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی رفتار پر چلتے رہے حتیٰ کہ مزدلفہ پہنچ گئے۔ مسلم
12601- عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أفاض من عرفة وأسامة ردفه، قال أسامة: فما زال يسير على هيئته حتى يأتي جمعا. "م"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬০২
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کے واجبات اور مستحبات
12602 اسامہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرفہ سے واپس ہوئے تو وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ردیف تھے ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی سواری کی لگام اس حد تک کھینچ رہے تھے کہ اونٹنی کے کان کجاوے کے اگلے حصے کو چھو رہے تھے اور ساتھ ساتھ ارشاد فرماتے جارہے تھے :
اے لوگو ! سکون (اطمینان) اور وقار کو لازم پکڑو۔ بیشک نیکی اونٹوں کو تیز دوڑانے میں نہیں ہے۔ النسائی ، ابن جریر
اے لوگو ! سکون (اطمینان) اور وقار کو لازم پکڑو۔ بیشک نیکی اونٹوں کو تیز دوڑانے میں نہیں ہے۔ النسائی ، ابن جریر
12602- عن أسامة قال: أفاض رسول الله صلى الله عليه وسلم من عرفة، وأما رديفه فجعل يكبح3 راحلته حتى أن ذفراها4 لتكاد تصيب قادمة الرحل وهو يقول: يا أيها الذين آمنوا عليكم بالسكينة والوقار فإن البر ليس في إيضاع الإبل. "ن ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬০৩
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کے واجبات اور مستحبات
12603 ابن عباس (رض) سے مروی ہے وہ اسامہ بن زید (رض) سے روایت کرتے ہیں اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو ردیف بنا رکھا تھا، چنانچہ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھاٹی میں پہنچے تو نیچے اترے اور پیشاب کیا۔ یہ نہیں کہا کہ پانی بہایا۔ حضرت اسامہ (رض) فرماتے ہیں : پھر میں نے برتن سے آپ کے لیے پانی گرایا اور آپ نے ہلکا پھلکا وضو فرمایا۔ میں نے عرض کیا : نماز۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : نماز آگے ہے۔ پھر مزدلفہ تشریف لائے تو مغرب کی نماز ادا فرمائی۔ پھر لوگوں نے کجاوے اتارے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشاء کی نماز پڑھی۔ النسائی
12603- عن ابن عباس عن أسامة بن زيد وكان النبي صلى الله عليه وسلم أردفه يوم عرفة فلما أتى الشعب، نزل فبال ولم يقل: أهراق الماء فصببت عليه من إداوة فتوضأ وضوءا خفيفا؛ فقلت: الصلاة فقال: الصلاة أمامك فلما أتى المزدلفة صلى المغرب، ثم نزعوا رحالهم، ثم صلى العشاء. "ن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬০৪
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حج کے واجبات اور مستحبات
12604 کریب (رح) سے مروی ہے، انھوں نے حضرت اسامہ بن زید سے سوال کیا کہ مجھے بتائیے جس شام آپ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ردیف تھے اس شام کیا ہوا ؟ حضرت اسامہ (رض) نے فرمایا : ہم اس گھاٹی میں پہنچے جس میں لوگ مغرب کی نماز پڑھتے ہیں وہاں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی اونٹنی بٹھائی پھر پیشاب کیا اور یہ نہیں فرمایا : پانی بہایا (یعنی پیشاب کیا کے الفاظ استعمال کیے بجائے پانی بہایا کے) پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کا پانی منگوایا اور وضو کیا اور خوب اچھی طرح وضو نہیں فرمایا۔ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! نماز ؟ ارشاد فرمایا : نماز آگے ہے پھر صبح کو کیا حالات آپ کو پیش آئے ؟ حضرت اسامہ (رض) نے فرمایا : صبح کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ردیف فضل (بن عباس) بن گئے جبکہ میں اپنے قدموں پر قریش کے آگے جانے والوں کے ساتھ شامل ہوگیا۔ ابن عساکر۔
12604- عن كريب أنه سأل أسامة بن زيد قلت: أخبرني كيف فعلتم عشية ردفت النبي صلى الله عليه وسلم؟ قال: جئنا الشعب الذي ينيخ الناس للمغرب، فأناخ رسول الله صلى الله عليه وسلم ناقته، ثم بال وما قال أهراق الماء ودعا بالوضوء فتوضأ وضوءا ليس بالبالغ جدا قلت: يا رسول الله الصلاة قال: الصلاة أمامك؛ فركب حتى قدمنا المزدلفة، وأقام المغرب، ثم أناخ الناس في منازلهم ولم يحلوا حتى أقام العشاء ثم حل الناس، قلت: كيف فعلتم حين أصبحتم؟ قال: ردفه الفضل، وانطلقت أنا في سباق قريش على رجلي. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬০৫
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ سے واپسی کا ذکر
12605 حضرت اسامہ (رض) سے مروی ہے فرماتے ہیں : عرفہ سے واپسی پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اپنا ردیف بنایا۔ عرفہ سے واپسی پر آپ اپنی سواری کی مہار کو اس حد تک کھینچ رہے تھے کہ سواری کا سرکجاوے کے درمیان حصے کو چھورہا تھا یا فرمایا چھونے کے قریب ہورہا تھا اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ہاتھ کے ساتھ لوگوں کو پرسکون رہنے کا اشارہ فرمارے تھے حتیٰ کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مزدلفہ پہنچ گئے پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فضل کو اپنا ردیف بنالیا۔ فضل فرماتے ہیں : حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سواری اسی کل کے دن کی طرح نرم رفتاری سے چل رہی تھی حتیٰ کہ آپ وادی محسرپہنچ گئے اور سواری بٹھادی۔ مسند احمد، الرویانی
12605- عن أسامة أن النبي صلى الله عليه وسلم أردفه من عرفة، ولما رجع من عرفة فوقف كف رأس راحلته حتى أصاب رأسها واسطة الرحل أو كاد يصيبه يشير إلى الناس بيده السكينة السكينة حتى أتى جمعا ثم أردف الفضل قال الفضل: لم يزل يسير سيرا لينا كسيره بالأمس حتى أتى على وادي محسر، فدفع فيه حتى استوت به الأرض. "حم والروياني".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬০৬
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ سے واپسی کا ذکر
12606 طاؤ وس ، اسامہ بن زید (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ عرفہ سے مزدلفہ تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ردیف تھے اور فضل مزدلفہ سے منی تک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ردیف تھے۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (عرفہ سے) مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے حتیٰ کہ آپ نے شیطان کو کنکر ماری (تب تلبیہ موقوف فرمادیا) ۔ ابن جریر
12606- عن طاوس عن أسامة بن زيد أنه كان رديف رسول الله صلى الله عليه وسلم من عرفة إلى المزدلفة، وكان الفضل رديفه من المزدلفة إلى منى قال: فلم يزل رسول الله صلى الله عليه وسلم يلبي حتى رمى الجمرة. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬০৭
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ سے واپسی کا ذکر
12607 اسامہ بن زید (رض) سے مروی ہے کہ وہ عرفہ سے مزدلفہ تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ردیف تھے ، فرماتے ہیں : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ واپسی کے سفر میں پیچھے بیٹھا تھا حتیٰ کہ آپ مزدلفہ پہنچ گئے اور وہاں مغرب کی نماز پڑھی اور پھر اتنی دیر ٹھہرے جس میں ہم اپنی سواریوں سے کجاوے اتارلیں پھر عشاء کی نماز پڑھی۔ ابن جریر
12607- عن أسامة بن زيد أنه كان رديف رسول الله صلى الله عليه وسلم من عرفة إلى جمع، قال: أفضت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى أتى جمعا فصلى المغرب ولم يكن إلا قدر ما وضعنا عن رواحلنا، ثم صلى العشاء. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬০৮
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ سے واپسی کا ذکر
12608 ام جندب ازدیہ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب لوگ عرفات سے واپس ہورہے تھے ارشاد فرماتے ہوئے سنا : اے لوگو ! تم سکون اور وقار کو لازم پکڑو۔ ابن جریر۔
12608- عن أم جندب الأزدية أنها سمعت النبي صلى الله عليه وسلم وهو يقول حيث أفاض الناس من عرفات: يا أيها الناس عليكم السكينة والوقار. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬০৯
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ سے واپسی کا ذکر
12609 عبیداللہ بن ابی رافع سے مروی ہے، وہ ابورافع (رض) سے روایت کرتے ہیں، ابورافع فرماتے ہیں کہ عرفہ کی رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فضل بن عباس اور اسامہ بن زید کو اپنا ردیف بنایا اور فرمایا یہ موقف (کھڑے ہونے کی جگہ) ہے اور عرفہ سارا موقف ہے۔ لیکن بطن عرفہ سے دور رہو۔ عرفہ کے روز جب سورج غروب ہوگیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلی (آہستہ) رفتار پر چلے جبکہ لوگ دائیں اور بائیں چل رہے تھے۔ اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دائیں بائیں متوجہ ہو کر ارشاد فرما رہے تھے : اے لوگو ! سکون ووقار کو اپناؤ۔ حتیٰ کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مزدلفہ پہنچ گئے۔ وہاں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغرب اور عشاء کی نماز کو جمع فرمایا۔ جب مزدلفہ میں صبح ہوگئی تو وہاں سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوچ فرمانے لگے پہلے قزح پر کھڑے ہوگئے اور فضل بن عباس کو ردیف بنایا۔ پھر ارشاد فرمایا : یہ موقف ہے اور سارا مزدلفہ موقف ہے لیکن بطن محسر سے دور رہو۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوچ فرمایا جبکہ صبح روشن ہوچکی تھی۔ آپ نرم رفتار سے چل رہے تھے لوگ دائیں بائیں چل رہے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دائیں بائیں متوجہ ہو کر فرما رہے تھے : اے لوگو ! سکینہ اپناؤ (سکون کے ساتھ چلو) حتیٰ کہ آپ وادی بطن محسر میں پہنچ گئے وہاں آپ نے سواری کو تیز حرکت دی حتیٰ کہ جب وادی بطن محسر کو عبور کر گئے تو سواری کو پہلی رفتار پر لوٹا دیا۔ جب جمرہ عقبہ پر پہنچے تو اس کو سات کنکریاں ماریں۔ پھر حتعم قبیلے کی ایک لڑکی آئی اور بولی : یا رسول اللہ ! میرے والد بوڑھے آدمی ہیں اور ان پر حج فرض ہوچکا ہے کیا میں ان کی طرف سے حج کرسکتی ہوں ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہاں۔ فضل (جو حضور کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے) وہ خوبصورت جوان تھے۔ جب لڑکی آئی تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا چہرہ دوسری طرف پھیر دیا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہاں سے کوچ فرمایا حتیٰ کہ بیت اللہ تشریف لائے اور بیت اللہ کا سات مرتبہ طواف کیا۔ پھر زمزم پر گئے تو آپ کے پاس زمزم کا پانی کا ڈول بھر کر لایا گیا آپ نے وضو فرمایا اور پھر ارشاد فرمایا : اے بنی عبدالمطلب تم (زمزم کے) ڈول بھر کر نکالو۔ اگر لوگوں کے (میری اتباع کی وجہ سے) تم پر اژدھام کردینے کا ڈر نہ ہوتا تو میں خود ڈول نکالتا۔ حضرت عباس (رض) نے آپ سے پوچھا : یارسول اللہ ! میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنے چچا (یعنی میرے بیٹے) فضل کا چہرہ (کیوں) پھیر دیا تھا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے نوجوان لڑکی اور اس نوجوان لڑکے کو دیکھا تو مجھے ڈر ہوا کہ کہیں دونوں کے بیچ میں شیطان نہ گھس جائے۔ ابن جریر
12609- عن عبيد الله بن أبي رافع عن أبي رافع أن رسول الله صلى الله عليه وسلم وقف عشية عرفة، وأردف أسامة بن زيد فقال: هذا الموقف وكل عرفة موقف، وارفعوا عن بطن عرنة ثم دفع رسول الله صلى الله عليه وسلم حين وجبت الشمس يسير العنق، والناس يضربون يمينا وشمالا، ورسول الله صلى الله عليه وسلم يلتفت يمينا وشمالا ويقول: أيها الناس؟ عليكم السكينة حتى جاء المزدلفة، فجمع بين المغرب والعشاء حتى إذا أصبح رسول الله صلى الله عليه وسلم غدا حتى وقف على قزح وأردف الفضل بن عباس، ثم قال: هذا الموقف وكل المزدلفة موقف وارفعوا عن بطن محسر ثم دفع رسول الله صلى الله عليه وسلم حين أسفر يسير العنق والناس يضربون يمينا وشمالا ورسول الله صلى الله عليه وسلم يلتفت يمينا وشمالا ويقول: السكينة عليكم أيها الناس، حتى جاء بطن محسر فحرك ناقته ورسمت به حتى إذا جاوز بطن محسر ردها إلى سيرها الأول، حتى جاء العقبة فرماها بسبع حصيات، ثم جاءته جارية من خثعم فقالت: يا رسول الله أبي شيخ كبير وأدركته فريضة الإسلام التي افترض الله عليه، أفيجزئ عنه أن أحج عنه؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: نعم، وكان الفضل غلاما جميلا فإذا جاءت الجارية صرف رسول الله صلى الله عليه وسلم وجهه إلى الشق الآخر، ثم سار رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى جاء البيت فطاف به سبعا، ثم انصرف إلى زمزم فأتى بسجل من ماء زمزم فتوضأ ثم قال: انزعوا على سقايتكم يا بني عبد المطلب فلولا أن يغلبكم الناس عليها لنزعت فقال له العباس: يا رسول الله رأيتك تصرف وجه ابن عمك فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: رأيت جارية حدثة وغلاما حدثا فخشيت أن يدخل بينهما الشيطان. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬১০
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ سے واپسی کا ذکر
12610 عبداللہ بن عباس (رض) (اپنے بھائی) فضل بن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں، فضل (رض) فرماتے ہیں : میں عرفہ میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ردیف تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر اور دعائیں کرتے رہے حتیٰ کہ آپ نے (وہاں) سے چل کر منیٰ پہنچ کر رمی فرمائی ۔ ابن جریر
12610- عن عبد الله بن عباس عن الفضل بن عباس قال: كنت رديف رسول الله صلى الله عليه وسلم بعرفة فوقف يهلل ويكبر ويدعو حتى رمى الجمرة. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬১১
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ سے واپسی کا ذکر
12611 عبداللہ بن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرفہ کے روز اسامہ اور فضل بن عباس کو (یکے بعد دیگرے) اپنے پیچھے بٹھایا۔ لوگوں نے کہا : یہ ہمارے ساتھی ہیں اور ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طرزعمل کے بارے میں بتائیں گے۔ تو انھوں نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرفات سے واپس ہوئے اور پہلی (نرم) رفتار پر آخر تک چلتے رہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی سواری کی لگام اس قدر کھینچ رکھی تھی کہ اس کا سر بیچ کجاوے کو چھورہا تھا اور اپنے ہاتھ سے لوگوں کو تلقین کررہے تھے کہ سکون کے ساتھ چلو سکون کے ساتھ چلو۔ حتیٰ کہ آپ مزدلفہ پہنچ گئے۔ ایک مرتبہ آپ نے اسامہ کو پیچھے بٹھایا اور ایک مرتبہ فضل کو۔ اور دوسرے سفر میں بھی پہلے سفر کی طرح آپ کا طرز عمل رہا۔ حتیٰ کہ آپ وادی محسر پہنچ گئے اور وہاں اپنی سواری کو زمین پر بٹھایا۔ ابن جریر
12611- عن عبد الله بن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم حمل أسامة والفضل بن عباس يوم عرفة فقالوا: هذا صاحبنا وسيخبرنا كيف صنع النبي صلى الله عليه وسلم فأخبرهم، فقال: دفع النبي صلى الله عليه وسلم يسير العنق، فكف عن رأس ناقته حتى أصاب رأسها وسط الرحل وجعل يقول بيده: يا أيها الناس السكينة السكينة ويشير بيده حتى انتهى إلى جمع فحمل الفضل وأسامة هذا مرة وهذا مرة وفعل مثل فعله حين دفع من عرفات، حتى انتهى إلى وادي محسر فدفع فيه حتى استوت به الأرض.
"ابن جرير".
"ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬১২
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ سے واپسی کا ذکر
12612 فضل بن عباس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرفہ اور مزدلفہ سے واپس ہوئے تو آپ پر سکون تھے حتیٰ کہ اسی حال میں منیٰ پہنچ گئے۔ ابن جریر
12612- عن الفضل بن عباس قال: أفاض رسول الله صلى الله عليه وسلم من عرفة ومن جمع وعليه السكينة حتى أتى منى. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬১৩
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ سے واپسی کا ذکر
12613 فضل بن عباس (رض) سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں عرفہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ردیف تھا ۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوچ فرمایا تو لوگ بھی واپس ہونے لگے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس وقت اپنی سواری کو روکتے ہوئے ارشاد فرمایا :
اے لوگو ! سکون (اور اطمینان ) کو لازم پکڑے رکھو۔ ابن جریر
اے لوگو ! سکون (اور اطمینان ) کو لازم پکڑے رکھو۔ ابن جریر
12613- عن الفضل بن عباس قال: كنت ردف النبي صلى الله عليه وسلم بعرفة فلما نفر دفع الناس فقال حين دفع: أيها الناس عليكم بالسكينة وهو كاف راحلته. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬১৪
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ سے واپسی کا ذکر
12614 عبداللہ بن عباس (رض) (اپنے والد) حضرت عباس بن عبدالمطلب سے روایت کرتے ہیں کہ جب عرفہ کا روز تھا اور فضل بن عباس حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ردیف تھے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چاروں طرف لوگوں کا اژدھام تھا۔ حضرت عباس (رض) فرماتے ہیں جب لوگ بہت زیادہ جمع ہوگئے تو میں نے فضل کو کہا کہ بتاؤ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا طرز عمل کیا رہا ؟ تو انھوں نے عرض کیا : جب عرفہ کی رات ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس ہوئے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ واپس ہوئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اونٹ کے سر کو (لگام سے) کھینچ رہے تھے اور اس کو روک رہے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے : اے لوگو ! اطمینان سکون کو اپناؤ۔ بھر جب مزدلفہ پہنچ گئے تو وہاں اترے اور مغرب و عشاء کی نمازیں ادا فرمائیں پھر رات وہیں بسر فرمائی جب صبح کو فجر کی نماز پڑھ لی تو مشعرالحرام کے پاس کھڑے ہوگئے پھر وہاں سے واپس ہوئے اور لوگ بھی واپس ہوئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اونٹ کی لگام سے اس کا سر کھینچ رہے اور اس کو روکے جارہے تھے اور فرما رہے تھے : اے لوگو ! سکینہ اپناؤ ۔ حتیٰ کہ جب وادی محسر پہنچ گئے تو تب (کچھ) رفتار تیز فرمائی۔ ابن جریر
12614- عن عبد الله بن عباس عن عباس بن عبد المطلب أن عباسا لما كان يوم عرفة والفضل بن عباس رديف النبي صلى الله عليه وسلم والناس كثير حول رسول الله صلى الله عليه وسلم قال عباس: فلما كثر الناس قال: ليحدثني الفضل عما صنع رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ فقال: لما دفع رسول الله صلى الله عليه وسلم عشية عرفة دفع الناس معه فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يشد رأس بعيره يكف منه ثم جعل ينادي الناس، عليكم بالسكينة فلما بلغ المزدلفة نزل بها فصلى المغرب والعشاء الآخرة جميعا ثم بات بالمزدلفة فلما صلى الصبح وقف عند المشعر الحرام ثم دفع ودفع الناس معه فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يشد برأس بعيره يكف منه ويقول: يا أيها الناس؛ عليكم السكينة حتى إذا بلغ محسرا اوضع؟؟ شيئا. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬১৫
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ سے واپسی کا ذکر
12615 فضل بن عباس (رض) سے مروی ہے فرمایا : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ دونوں افاضوں (عرفہ ومزدلفہ سے واپسیوں) میں شریک تھا۔ آپ نے افاضہ فرماتے ہوئے مکمل سکون اپنائے رکھا اور آپ اپنے اونٹ کو روک رہے تھے۔ ابن جریر
12615- عن الفضل بن عباس قال: شهدت الإفاضتين جميعا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فأفاض وعليه السكينة وهو كاف بعيره. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬১৬
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ سے واپسی کا ذکر
12616 فضل بن عباس (رض) جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ردیف تھے سے مروی ہے کہ لوگ تیزی دکھا رہے تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو فرمایا کہ لوگوں کو اعلان کرو کہ نیکی گھوڑوں اور اونٹوں کو تیز دوڑانے میں نہیں ہے لہٰذا تم پر سکون رہو۔ ابن جریر
12616- عن الفضل بن عباس وكان ردف رسول الله صلى الله عليه وسلم والناس يوجفون فقال للفضل: ناد في الناس أن البر ليس بإيضاع الخيل والإبل فعليكم بالسكينة. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬১৭
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ سے واپسی کا ذکر
12617 فضل بن عباس (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرفات سے نکلے تو اسامہ (رض) ان کے ردیف تھے۔ اونٹنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لے کر چلی تو آپ نے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے مگر سر سے اونچے نہ ہورہے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی اسی ہیئت پر چلتے رہے حتیٰ کہ مزدلفہ پہنچ گئے۔ ابن جریر
12617- عن الفضل بن عباس قال: أفاض رسول الله صلى الله عليه وسلم من عرفات وردفه أسامة بن زيد، فجالت به الناقة وهو رافع يديه لاتجاوزان رأسه، فسار على هينته حين أفاض حتى انتهى إلى جمع. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬১৮
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ سے واپسی کا ذکر
12618 عبداللہ بن عمرو (رض) حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
حضرت جبرائیل (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس عرفہ کے روز تشریف لائے اور (صبح کو) ان کو (میدان) عرفات لے گئے اور جہاں پیلو کے درخت ہیں وہاں ان کو ٹھہرا دیا اور جہاں لوگ اترتے ہیں (یعنی میدان عرفات میں) وہاں ان کو ظہر اور عصر کی دنوں نمازیں پڑھائیں پھر وہاں ان کو ٹھہرایا حتیٰ کہ (جب سورج غروب ہوگیا تو اس قدر وقفے کہ) جس میں تم سے کوئی جلد ازجلد مغرب کی نماز پڑھ لیتا ہے اتنے وقفے کے بعد (عرفات) نکل گئے اور مزدلفہ پہنچ گئے اور وہاں مغرب اور عشاء کی نمازیں پڑھائیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وحی فرمائی :
ان اتبع ملۃ ابراھیم حنیفاً وماکان من المشرکین۔
ملت ابراہیم کی اتباع کر جو (اپنے رب کی طرف) یکسو تھے اور مشرکین میں سے نہیں تھے۔
ابن جریر
حضرت جبرائیل (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس عرفہ کے روز تشریف لائے اور (صبح کو) ان کو (میدان) عرفات لے گئے اور جہاں پیلو کے درخت ہیں وہاں ان کو ٹھہرا دیا اور جہاں لوگ اترتے ہیں (یعنی میدان عرفات میں) وہاں ان کو ظہر اور عصر کی دنوں نمازیں پڑھائیں پھر وہاں ان کو ٹھہرایا حتیٰ کہ (جب سورج غروب ہوگیا تو اس قدر وقفے کہ) جس میں تم سے کوئی جلد ازجلد مغرب کی نماز پڑھ لیتا ہے اتنے وقفے کے بعد (عرفات) نکل گئے اور مزدلفہ پہنچ گئے اور وہاں مغرب اور عشاء کی نمازیں پڑھائیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وحی فرمائی :
ان اتبع ملۃ ابراھیم حنیفاً وماکان من المشرکین۔
ملت ابراہیم کی اتباع کر جو (اپنے رب کی طرف) یکسو تھے اور مشرکین میں سے نہیں تھے۔
ابن جریر
12618- عن عبد الله بن عمرو عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: أتى جبريل إبراهيم يوم عرفة فغدا به إلى عرفات؛ فأنزله الأراك، وحيث ينزل الناس فصلى به الصلاتين جميعا الظهر والعصر، ثم وقف به حتى إذا كان كأعجل ما يصلي أحد من الناس المغرب أفاض حتى أتى جمعا فصلى به الصلاتين المغرب والعشاء فأوحى الله تعالى إلى محمد صلى الله عليه وسلم أن اتبع ملة إبراهيم حنيفا وما كان من المشركين. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬১৯
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ سے واپسی کا ذکر
12619 یوسف بن ماہک سے مروی ہے، فرماتے ہیں : میں نے ابن عمر (رض) کے ساتھ تین حج کیے، وہ عرفہ میں امام کے ساتھ ٹھہر گئے۔ جب امام وہاں سے نکلے تو اپنی (عادت والی ہلکی ) رفتار پر آپ (رض) بھی نکلے۔ آپ (رض) اپنی سواری کو چابک نہیں مارتے تھے اور اکثر وبیشتر میں نے حل (حرم کے سوا مقام) میں آپ کو نہیں سنا کہ آپ سواری کو (تیز چلنے پر) اکساتے ہوں۔ حتیٰ کہ ہم اسی رفتار سے مزدلفہ میں اتر گئے۔ جب آپ (رض) مزدلفہ سے نکلے تو میں بھی وہاں سے نکل پڑا۔ آپ (رض) سواری کو چابک (کوڑا) نہیں مارتے تھے اور نہ میں حل میں آپ کو سواری کو اکساتے ہوئے سنتا تھا۔ حتیٰ کہ جب سواری نے اپنے قدم وادی محسر میں ڈال دیئے تو تب آپ نے چابک (کوڑا) سنبھال لیا پھر میں آپ کو برابر دیکھتا رہا کہ آپ سواری کو اکساتے جارہے ہیں (تاکہ وہ تیز رفتاری پکڑے) حتیٰ کہ آپ (رض) نے رمی جمرہ فرمائی۔ اور اس سفر میں آپ سے یہ اشعار سن رہا تھا :
تیری طرف دوڑتی ہیں سواریاں ان کے زین متحرک ہیں اور ان کے بچے ان کے شکموں میں ہلچل میں ہیں۔ ان صاحب سواریوں کا دین نصاری کے دین کی مخالفت کرتا ہے۔ اے اللہ ! (ہم حاضر ہیں اور بےشک) تو گناہوں کو بخشنے والا، پس ہمارے سارے ہی گناہ بخش دے اور کون سا بندہ ہے جو تیری ذات میں حیران پریشان نہیں ہوتا۔ ابن جریر
تیری طرف دوڑتی ہیں سواریاں ان کے زین متحرک ہیں اور ان کے بچے ان کے شکموں میں ہلچل میں ہیں۔ ان صاحب سواریوں کا دین نصاری کے دین کی مخالفت کرتا ہے۔ اے اللہ ! (ہم حاضر ہیں اور بےشک) تو گناہوں کو بخشنے والا، پس ہمارے سارے ہی گناہ بخش دے اور کون سا بندہ ہے جو تیری ذات میں حیران پریشان نہیں ہوتا۔ ابن جریر
12619- عن يوسف بن ماهك قال: حججت مع ابن عمر ثلاث حجات فوقف مع الإمام يعني بعرفة، فلما أن دفع الإمام دفع معه على هينته لا يضربها سوطا وكثيرا ما أسمعه يستحثها بحل حتى نزلنا المزدلفة، فلما دفع من المزدلفة دفع دفعته لا يضربها بسوطه وكثيرا ما أسمعه يستحثها بحل حتى إذا دلت يديها في محسر وضع السوط فيها فلم أزل أراه يحثها حتى رمى الجمرة وسمعت منه في تلك الدفعة:
إليك تعدو قلقا وضينها ... معترضا في بطنها جنينها
مخالفا دين النصارى دينها ... اللهم غفار الذنوب اغفر جما
وأي عبد لك لا ألما
"ابن جرير".
إليك تعدو قلقا وضينها ... معترضا في بطنها جنينها
مخالفا دين النصارى دينها ... اللهم غفار الذنوب اغفر جما
وأي عبد لك لا ألما
"ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬২০
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ سے واپسی کا ذکر
12620 ابوالزبیر سے مروی ہے کہ میں مقام عرفات میں حضرت ابن عمر (رض) کے ساتھ کھڑا تھا جب سورج چھپ گیا تو آپ (رض) عرفات سے نکلے اس طرح کہ آپ پر سکون اور وقار چھایا ہوا تھا۔ آپ (رض) اسی طرح چلتے رہے حتیٰ کہ ہم وادی کے شروع حصے تک پہنچ گئے۔ جب اور لوگ گزر گئے تو آپ (رض) نے اپنی بائیں طرف سواری کو رکایا اور اتر کر وضو کا پانی منگوایا اور وضو سے فارغ ہو کر ارشاد فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وادی تک آپہنچے تھے ۔ پھر آپ (رض) نے اپنی سواری منگوائی اور اس پر سوار ہو کر اللہ اکبر کہا اور سواری کو تیز کردیا اور اسی رفتار سے اس وادی کو عبور کیا پھر آپ (رض) پر سکینہ اور وقار طاری ہوگیا پھر اسی طرح (نرم رفتاری کے ساتھ چلتے ہوئے) وادی تک پہنچ گئے وہاں آپ نے پھر اللہ اکبر کہا اور سواری تیز کردی حتیٰ کہ اسی تیز رفتاری کے ساتھ وادی کو عبور کیا اور مزدلفہ پہنچ گئے۔ وہاں آپ (رض) نے اپنی سواری بٹھائی اور وہاں رات بسر کی پھر صبح آپ (رض) وہاں ٹھہر گئے جب سورج نکلنے کو ہوا تو وہاں سے نکل کھڑے ہوئے اور جب نکلے تو آپ پر مکمل اطمینان اور سکون طاری تھا آپ اسی طرح (سواری پر) چلتے ہوئے وادی بطن محسر تک پہنچے، وہاں آپ (رض) نے سواری کو تیز کردیا اور اسی تیز رفتاری کے ساتھ اس وادی کو عبور کیا۔ پھر وہاں سے نکلے تو آپ پر پہلے کی سکینہ اور وقار کی کیفیت طاری ہوگئی اور اسی نرم رفتاری سے آپ جمرہ قصوی (چھوٹے شیطان) کے پاس پہنچ گئے۔ ابن جریر
12620- عن أبي الزبير قال: وقفت مع ابن عمر بعرفة فلما وجبت الشمس أفاض عليه السكينة والوقار فلم يزل كذلك حتى انتهينا إلى أول واد فمر الناس فعنج راحلته عن يساره، ثم نزل ثم دعا بوضوء فتوضأ فلما فرغ قال: هكذا رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم صنع مثل الذي صنعته حتى انتهى إلى هذا الوادي، ثم دعا براحلته فاستوى عليها وكبر، وأوضع حتى جاوز الوادي، ثم سار عليه السكينة والوقار فلم يزل كذلك كلما انتهى إلى واد كبر، وأوضع حتى يجاوزه حتى انتهى إلى جمع، فلما انتهى إلى جمع أناخ راحلته ثم بات بها ثم وقف حين أصبح، فلما كادت الشمس أن تطلع أفاض ولما أفاض أفاض عليه السكينة والوقار، فلم يزل كذلك حتى انتهى إلى بطن محسر فأوضع حتى جاوز الوادي، ثم سار عليه السكينة والوقار فلم يزل كذلك حتى انتهى إلى الجمرة القصوى. "ابن جرير".
তাহকীক: