কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

حج اور عمرۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১৭০ টি

হাদীস নং: ১২৬২১
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ سے واپسی کا ذکر
12621 ابن عباس (رض) سے مروی ہے فرمایا : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یوم عرفہ کو خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا :

اے لوگو ! نیکی اونٹوں کو تیز دوڑانے میں نہیں اور نہ ہی گھوڑوں کو تیز دوڑانے میں ہے۔ بلکہ تم جمیل (خوبصورت) رفتار کو اختیار کرو اور کسی کمزور کو نہ روندو اور نہ کسی مسلمان کو ایذا دو ۔ النسائی
12621- عن ابن عباس قال: خطب النبي صلى الله عليه وسلم يوم عرفة فقال: يا أيها الناس، إنه ليس البر في إيجاف الإبل ولا إيضاع الخيل ولكن سيرا جميلا لا توطئوا ضعيفا، ولا تؤذوا مسلما. "ن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬২২
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ سے واپسی کا ذکر
12622 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرفات سے نکلے تو فرما رہے تھے : اے لوگو ! وقار اور سکینہ (سکون اور اطمینان) کو لازم پکڑو۔ بیشک نیکی گھوڑوں اور اونٹوں کو تیز دوڑانے میں نہیں ہے۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : چنانچہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اونٹنی کو اس کی معمول کی (نرم) رفتار سے زیادہ نہیں دیکھا حتیٰ کہ آپ کی اونٹنی مزدلفہ پہنچ گئی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مزدلفہ سے نکلے تو آپ فرما رہے تھے : اے لوگو وقار اور سکینہ کو لازم پکڑو۔ بیشک نیکی گھوڑوں اور اونٹوں کو تیز دوڑانے میں نہیں ہے۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : پھر میں نے آپ کی اونٹنی کو معمول کی رفتار سے تیز قدم اٹھاتے ہوئے نہیں دیکھا حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منیٰ پہنچ گئے۔

ابن جریر
12622- عن ابن عباس قال: أفاض رسول الله صلى الله عليه وسلم من عرفات وهو يقول: يا أيها الناس، عليكم بالوقار والسكينة، فإن البر ليس بإيجاف الخيل والإبل فما رأيت ناقته رافعة يديها عادية حتى بلغت جمعا ثم أفاض من جمع وهو يقول: يا أيها الناس، عليكم بالوقار والسكينة فإن البر ليس بإيجاف الخيل والإبل فما رأيت ناقته رافعة يديها عادية حتى أتى منى. "ابن جرير"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬২৩
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ سے واپسی کا ذکر
12623 ابن عباس (رض) سے مروی ہے ، فرمایا : جب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرفات سے واپس ہوئے تو لوگوں نے اپنی سواریوں کو تیز رفتار کرلیا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منادی کا حکم فرمایا کہ یہ نداء لگائیں : اے لوگو ! نیکی اونٹوں ، گھوڑوں اور سواریوں کو تیز دوڑانے میں نہیں ہے۔

ابن جریر
12623- عن ابن عباس قال: لما أفاض رسول الله صلى الله عليه وسلم من عرفات أوضع الناس فأمر النبي صلى الله عليه وسلم مناديا فنادى أيها الناس؛ ليس البر بإيضاع الإبل والخيل والركاب. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬২৪
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ سے واپسی کا ذکر
12624 ابن عباس (رض) سے مروی ہے ، فرمایا : میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ افاضہ میں شریک تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) افاضہ (واپسی) فرما رہے تھے اور آپ پر سکون تھا۔ ابن جریر
12624- عن ابن عباس قال: أفضت مع النبي صلى الله عليه وسلم وكان يفيض وعليه السكينة.

"ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬২৫
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ سے واپسی کا ذکر
12625 ابن عباس (رض) سے مروی ہے، فرمایا جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس ہوئے تو لوگوں نے دائیں بائیں سے سواریوں کو تیز کرلیا تب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : نیکی گھوڑوں اور اونٹوں کو تیز دوڑانے میں نہیں ہے بلکہ نیکی تو پرسکون رہنے میں ہے۔ ابن جریر
12625- عن ابن عباس قال: أفاض النبي صلى الله عليه وسلم وأوضع الناس عن يمين وشمال، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ليس البر بإيضاع الخيل والإبل، ولكن البر السكينة. "ابن جرير"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬২৬
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ سے واپسی کا ذکر
12626 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ عرفہ کی رات جب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوچ فرماتے تو اپنی سواری کی لگام کھینچ لیتے تھے حتیٰ کہ سواری کا سر سواری کے کجاوے کی درمیانی (اونچی) لکڑی کو چھوتا تھا۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ارشاد فرماتے جاتے تھے : سکینہ رکھو سکینہ رکھو۔

ابن جریر
12626-عن ابن عباس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا دفع شنق ناقته حتى أن رأسها ليصيب واسطة رحله عشية عرفة وهو يقول: السكينة السكينة. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬২৭
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ سے واپسی کا ذکر
12627 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرفات سے نکلے تو اور لوگ بھی آپ کے ساتھ نکلے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے رکو رکو۔ جبکہ آپ خود اپنی سواری کی لگام کھینچ رہے تھے جس کی وجہ سے آپ کی سواری (اونٹنی) کا سر آپ کے چہرہ کو چھورہا تھا اور ساتھ ساتھ لوگوں کو پرسکون رہنے کی تاکید فرما رہے تھے۔ ابن جریر
12627- عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم دفع من عرفات ودفع الناس معه فقال: أيها الناس كفوا كفوا، ورأس ناقته يصيب وجهه عليكم بالسكينة. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬২৮
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ سے واپسی کا ذکر
12628 ابوالزبیر حضرت جابر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب عرفہ سے واپسی فرمائی تو یہ فرمانے لگے : اللہ کے بندو ! پرسکون رہو پر سکون رہو۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ساتھ ساتھ اپنی ہتھیلی کا اندرونی حصہ زمین کی طرف بار بار کرکے لوگوں کو اشارۃ پرسکون چلنے کی تاکید فرما رہے تھے۔ البخاری فی صحیحہ 201/2
12628- عن أبي الزبير عن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم لما أفاض من عرفة جعل يقول: السكينة عباد الله ويقول بيده هكذا وأشار ببطن كفه إلى الأرض. " ... "
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬২৯
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ سے واپسی کا ذکر
12629 ابوالزبیر حضرت جابر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت جابر (رض) نے فرمایا : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مزدلفہ سے واپس ہونے لگے تو آپ پر سکینہ (وقارواطمینان) طاری تھی اور آپ لوگوں کو بھی سکینہ (وقار) اختیار کرنے کا حکم دے رہے تھے۔ لیکن وادی محسر میں آپ نے اپنی سواری تیز فرمالی تھی۔ ابن جریر
12629- عن أبي الزبير عن جابر قال: أفاض رسول الله صلى الله عليه وسلم من جمع وعليه السكينة وأمرهم بالسكينة وأوضع في وادي محسر. "ابن جرير"2
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৩০
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ سے واپسی کا ذکر
12630 ابوالزبیر (رح) ، جابر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب واپسی فرما رہے تھے تو اپنے اونٹ کو (بار بار) روک رہے تھے۔ ابن جریر
12630- عن أبي الزبير عن جابر قال أفاض النبي صلى الله عليه وسلم كافا بعيره. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৩১
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ سے واپسی کا ذکر
12631 عطاءؒ حضرت جابر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب عرفات سے نکلنے لگے تو ارشاد فرمایا : اے لوگو ! سکینہ اور وقار اپناؤ اور ایک دوسرے کو قتل نہ کرو (اژدھام کی وجہ سے ایک دوسرے کو نہ روندو) ۔ ابن جریر
12631- عن عطاء عن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال حيث أفاض من عرفات: يا أيها الناس عليكم بالسكينة والوقار، ولا يقتل بعضكم بعضا. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৩২
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرفہ سے واپسی کا ذکر
12632 میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ میدان عرفات میں اپنی قوم کے درمیان اپنے اونٹ پر کھڑے ہیں حتیٰ کہ پھر من جانب اللہ (حکم آنے پر) وہاں سے لوگوں کے بعد کوچ فرمانے لگے۔ الکبیر للطبرانی عن جبیر بن مطعم
12632- لقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يقف على بعير له بعرفات من بين قومه حتى يدفع بعدهم توقيفا من الله له. "طب عن جبير بن مطعم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৩৩
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں قیام
12633 (مسند عمر (رض)) محمد بن المنکدر سے مروی ہے فرمایا : مجھے ایک شخص نے خبر دی کہ اس نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو (مزدلفہ کے) مقام قزح پر کھڑے دیکھا۔ الارزقی
12633- "مسند عمر رضي الله عنه" عن محمد بن المنكدر قال: أخبرني من رأى أبا بكر الصديق واقفا على قزح. "الأزرقي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৩৪
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں قیام
12634 جبیر بن الحارث سے مروی ہے، فرمایا : میں نے ابوبکر (رض) کو قزع پر کھڑے دیکھا، آپ (رض) فرما رہے تھے : اے لوگو ! صبح کی نماز پڑھو۔ اے لوگو ! صبح کی نماز پڑھو۔ پھر آپ (رض) نے ہاں سے کوچ فرمایا۔ میں آپ کی ران کو ننگی دیکھ رہا تھا جو اونٹ کو چھڑی مارنے کی وجہ سے کھل گئی تھی۔

ابن ابی شیبہ، ابن سعد، ابن جریر، السنن للبیہقی
12634- عن جبير بن الحارث قال: رأيت أبا بكر واقفا على قزح وهو يقول: أيها الناس؛ أصبحوا أيها الناس أيها الناس أصبحوا ثم دفع فإني لأنظر إلى فخذه وقد انكشفت مما يحرش2 بعيره بمحجنه. "ش وابن سعد وابن جرير هق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৩৫
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں قیام
12635 طلق بن حبیب سے مروی ہے کہ وہ حضرت عمر (رض) کے ساتھ مزدلفہ سے واپس ہوئے، جب آپ (رض) وادی محسر میں اترے تو آپ نے اپنی سواری تیز فرمادی۔ ابراھیم بن سعد
12635- عن طلق بن حبيب أنه دفع من جمع مع عمر، فلما هبط محسرا أوضع راحلته. "إبراهيم بن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৩৬
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں قیام
12636 ابوایوب (رض) سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر میں نے مزدلفہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مغرب اور عشاء کی نماز پڑھی۔ ابونعیم ، ابن عساکر
12636- عن أبي أيوب قال: صليت المغرب والعشاء الآخرة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بحجة الوداع بالمزدلفة. "أبو نعيم كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৩৭
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں قیام
12637 عروۃ بن مضرس (رض) سے مروی ہے فرماتے ہیں مزدلفہ میں صبح کی نماز سے قبل حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچا۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! میں نے دونوں پہاڑوں کو طے کیا تو اب تھک گیا ہوں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے دل کو کھلا رکھ (اور) خوشخبری سن کہ جس نے ہمارے اس افاضہ (عرفات ومزدلفہ سے واپسی) کو پالیا تو اس نے حج کو پالیا۔

العسکری فی الامثال
12637- عن عروة بن مضرس قال: انتهيت إلى النبي صلى الله عليه وسلم وهو بجمع قبل أن يصلي الغداة فقلت: يا نبي الله طويت الجبلين ولقيت شدة فقال: افرج1 روعك، من أدرك إفاضتنا هذه فقد أدرك يعني الحج. "العسكري في الأمثال".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৩৮
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں قیام
12638 عبدالرحمن بن یزید سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ حضرت (عبداللہ) بن مسعود (رض) نے (مغرب و عشاء کی) نماز اندھیرے میں پڑھی۔ آپ (رض) سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو ارشاد فرمایا : اس (مزدلفہ کے) مکان میں یہ دو نمازیں اپنے وقت سے ہٹ گئی ہیں۔ اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس گھڑی میں یہ نمازیں صرف اسی دن اور اسی مکان میں پڑھتے تھے، یعنی یوم النحر کو مزدلفہ میں۔ الخطیب فی المتفن
12638- عن الرحمن بن يزيد قال: صلى ابن مسعود بغلس فسئل عن ذلك فقال: إنها تحول في هذا المكان صلاتان عن وقتهما وإنه لم يكن رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي هذه الساعة إلا في هذا اليوم في هذا المكان يعني يوم النحر بمزدلفة. "خط في المتفق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৩৯
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں قیام
12639 ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کبھی اس وقت میں یہ نمازیں پڑھتے نہیں دیکھا یعنی سوائے مغرب اور عشاء کے مزدلفہ میں۔ الخطیب فی المتفق
12639- عن ابن مسعود قال: ما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى صلاة قط إلا لوقتها إلا صلاتين جمع بين المغرب والعشاء بجمع. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৪০
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں قیام
12640 ابن عمر (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، ابوبکر عمر اور عثمان (رض) کے ادوار میں مزدلفہ میں آگ روشن کی جاتی تھی ۔ ابن سعد

کلام : مذکورہ روایت ضعیف ہے۔
12640- عن ابن عمر قال: كانت تلك النار توقد يعني بالمزدلفة على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وعمر وعثمان. "ابن سعد" وهو ضعيف.
tahqiq

তাহকীক: