কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
حج اور عمرۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১৭০ টি
হাদীস নং: ১২৬৪১
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں قیام
12641 خزیمہ بن ثابت (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز کو ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ اکٹھے ادا فرمایا۔ ابن جریر
12641- عن خزيمة بن ثابت الأنصاري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم جمع بين الصلاتين بجمع بأذان وإقامة واحدة. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৪২
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں قیام
12642 جابر (رض) سے مروی ہے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو ایک اذان اور دو اق امتوں کے ساتھ ادا فرمایا اور ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی نماز ادا نہیں فرمائی۔ ابن جریر۔
12642- عن جابر قال: صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بالمزدلفة المغرب والعشاء بنداء واحد وإقامتين ولم يصل بينهما شيئا. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৪৩
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں قیام
12643 (مسند ابی بکر (رض)) اسماء بنت عبدالرحمن بن ابی بکر اپنے والد عبدالرحمن بن ابی بکر اپنے والد عبدالرحمن سے اور وہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرفہ سے افاضہ غروب شمس کے بعد فرمایا اور مزدلفہ سے افاضہ طلوع شمس سے قبل فرمایا۔ الاوسط للطبرانی
کلام : روایت مذکورہ ضعیف ہے۔
کلام : روایت مذکورہ ضعیف ہے۔
12643- "مسند أبي بكر رضي الله عنه" عن أسماء بنت عبد الرحمن بن أبي بكر عن أبيها عن أبي بكر الصديق أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما غربت الشمس بعرفة أفاض من مزدلفة قبل طلوع الشمس. "طس" وسنده ضعيف.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৪৪
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں قیام
12644 مشرکین مزدلفہ سے اس وقت تک افاضہ (واپسی ) نہیں کرتے تھے جب تک کہ سورج ٹیلے پر کرنیں نہ ڈال دیتا تھا اور کہتے تھے : ٹیلہ روشن ہوگیا ہے تاکہ ہم واپسی کرسکیں۔ چنانچہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی مخالفت فرمائی اور طلوع شمس سے قبل افاضہ فرمایا :۔
مسندابی داؤد، مسند احمد، البخاری ، سنن الدارمی، ابودابود ، الترمذی، النسائی، ابن ماجہ، ابن جریر، ابن خزیمہ، الطحاوی، ابن حبان، الدارقطنی فی الافراد، حلیۃ الاولیاء، السنن للبیہقی
مسندابی داؤد، مسند احمد، البخاری ، سنن الدارمی، ابودابود ، الترمذی، النسائی، ابن ماجہ، ابن جریر، ابن خزیمہ، الطحاوی، ابن حبان، الدارقطنی فی الافراد، حلیۃ الاولیاء، السنن للبیہقی
12644- كان المشركون لا يفيضون من جمع حتى تشرق الشمس على ثبير وكانوا يقولون: أشرق ثبير كيما نغير، فخالفهم النبي صلى الله عليه وسلم فأفاض قبل أن تطلع الشمس. "ط حم خ والدارمي د ت ن هـ وابن جرير وابن خزيمة والطحاوي حب قط في الأفراد حل هق"1
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৪৫
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں قیام
12645 عمروبن میمون سے مروی ہے ، فرمایا : میں نے عمر بن خطاب (رض) کے ساتھ حج کیا آپ (رض) مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے۔ حسیٰ کہ یوم النحر کو آپ (رض) نے جمرہ قصویٰ کی رمی فرمائی۔ نیز حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : اہل جاہلیت مزدلفہ سے نہیں نکلتے تھے جب تک کہ ٹیلے پر سورج طلوع نہ ہوجاتا اور پھر وہ کہتے تھے ٹیلے روشن ہوگئے پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی مخالفت فرمائی اور مزدلفہ سے آپ اور آپ کے ساتھ دوسرے مسلمان نماز فجر کے بعد پو پھٹنے پر نکل گئے۔
ابوعمر وبن حمدان النیسابوی فی فوائد الحاج
ابوعمر وبن حمدان النیسابوی فی فوائد الحاج
12645- عن عمرو بن ميمون قال: حججت مع عمر بن الخطاب فلم يزل يلبي حتى رمى جمرة القصوى يوم النحر قال عمر: وكان أهل الجاهلية لا يفيضون من جمع حتى تطلع الشمس على ثبير ويقولون: أشرق ثبير فخالفهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فأفاض من جمع فانصرف القوم مسفرين من صلاة الفجر. "أبو عمرو بن حمدان النيسابوي في فوائد الحاج".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৪৬
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں قیام
12646 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مزدلفہ سے واپس ہو کروادی محسر پہنچے تو اپنی سواری کو (تھوڑا تیز) حرکت دی حتیٰ کہ اس وادی سے گزر گئے تو پھر رک گئے پھر فضل (رض) کو اپنا ردیف بنالیا پھر جمرۃ پر تشریف لائے اور اس کی رمی فرمائی۔ السنن للبیہقی
12646- عن علي أن النبي صلى الله عليه وسلم أفاض من جمع حتى أتى محسرا، فقرع ناقته حتى جاوز الوادي فوقف، ثم أردف الفضل، ثم أتى الجمرة فرماها. "هق" رواه البيهقي في السنن الكبرى كتاب الحج "5/126". ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৪৭
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں قیام
12647 مسوربن مخرمہ حضرت عمر (رض) کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے وادی محسر میں سواری تیز کرلی ۔ مصنف ابن ابی شیبہ، السنن للبیہقی
12647- عن مسور بن مخرمة عن عمر أنه أوضع في وادي محسر. "ش هق"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৪৮
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں قیام
12648 حضرت عروہ (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) (وادی محسر میں) سواری تیز کرلیتے تھے اور فرماتے تھے : سواریاں تیری طرف دوڑ رہی ہیں ان کے پالان (جھول) حرکت میں ہیں اور ان کے بچے ان کے شکموں میں حرکت میں ہیں ان سواریوں کا دین نصاری کے دین کی مخالفت کرتا ہے۔ مصنف ابن ابی شیبہ ، السنن للبیہقی
12648- عن عروة قال: كان عمر يوضع ويقول:
إليك تعدو قلقا وضينها ... معترضا في بطنها جنينها
مخالفا دين النصارى دينها.
"ش هق"1
إليك تعدو قلقا وضينها ... معترضا في بطنها جنينها
مخالفا دين النصارى دينها.
"ش هق"1
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৪৯
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں قیام
12649 جبیر بن مطعم (رض) سے مروی ہے کہ قریش مزدلفہ سے یہ کہتے ہوئے لوٹتے تھے : ہم خمس (قریش) ہیں ، نہ عام لوگوں کے ساتھ ہم وقوف کرتے ہیں اور نہ ہم حرم سے نکلتے ہیں۔ انھوں نے عرفہ کا موقف چھوڑ دیا تھا۔ کیونکہ وہ حرم سے باہر ہے۔ جبیر (رض) فرماتے ہیں پس میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ لوگوں کے ساتھ عرفہ میں ہیں اور اپنے اونٹ پر سوار ہیں اور ان کے ساتھ وہاں سے نکلے ہیں حتیٰ کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی قوم کے ساتھ مزدلفہ میں جاکر صبح فرمائی اور ان کے ساتھ وہاں قیام کیا پھر وہاں سے بھی نکلے جب اور لوگ وہاں سے نکلنے لگے۔
الکبیر للطبرانی ، صحیح الاسناد۔
الکبیر للطبرانی ، صحیح الاسناد۔
12649- عن جبير بن مطعم قال: كانت قريش إنما تدفع من المزدلفة يقولون: نحن الحمس لا نقف مع الناس ولا نخرج من الحرم، وتركوا الموقف على عرفة فرأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقف مع الناس بعرفة على جمل له ويدفع معهم حتى يصبح مع قومه بالمزدلفة، فيقف معهم ثم يدفع إذا دفعوا. "طب"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৫০
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں قیام
12650 اسامہ بن زید (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مزدلفہ سے لوٹے تو آپ پر (مکمل) سکون طاری تھا اور آپ لوگوں کو بھی پر سکون رہنے کی تاکید فرما رہے تھے، لیکن نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وادی محسر میں اپنی سواری کو تیز فرمالیا تھا۔ ابن جریر
12650- عن أسامة بن زيد أن النبي صلى الله عليه وسلم أفاض من جمع وعليه السكينة وأمرهم بالسكينة وأوضع في وادي محسر. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৫১
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں قیام
12651 عبداللہ بن عباس (رض) سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ مجھے میرے بھائی فضل بن عباس (رض) نے بتایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے (فضل) کو مزدلفہ کی صبح اپنا ردیف بنالیا (سواری کے پیچھے بٹھا لیا) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے حتیٰ کہ رمی جمرۃ العقبہ فرمالی۔ جب پہلی کنکر ماری تب تلبیہ پڑھنا موقوف فرمالیا۔ ابن جریر
12651- عن عبد الله بن عباس قال: حدثني أخي الفضل بن عباس رضي الله عنهم قال: أردفني رسول الله صلى الله عليه وسلم غداة جمع فلم يزل رسول الله صلى الله عليه وسلم يلبي حتى رمى جمرة العقبة، فلما رماها قطع التلبية. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৫২
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں قیام
12652 فضل بن عباس (رض) سے مروی ہے کہ مزدلفہ سے واپسی پر وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ردیف تھے آپ کی سواری نے معمول کی (نرم) رفتار سے زیادہ تیز قدم نہیں اٹھایا حتیٰ کہ رمی جمرہ فرمائی۔ ابن جریر
12652- عن الفضل بن عباس أنه كان رديف رسول الله صلى الله عليه وسلم من المزدلفة فلم ترفع راحلته يدا عادية حتى رمى الجمرة. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৫৩
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں قیام
12653 ابن عمرو (رض) سے مرفوعاً اور موقوفاً دونوں طریق سے مروی ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس مزدلفہ میں آئے اور ان کو فجر کی نماز اس قدر جلدی پڑھائی جس قدر جلدی تم میں سے کوئی پڑھتا ہے۔ پھر ٹھہر گئے حتیٰ کہ جب اتنا وقت ہوگیا جس میں کوئی سب سے زیادہ آرام سے فجر کی نماز پڑھ سکتا ہے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو لے کر منیٰ کی طرف نکلے اور وہاں قربانی کی۔ ابن جریر
12653- عن ابن عمرو مرفوعا وموقوفا - قال: أتى جبريل إبراهيم عليهما الصلاة والسلام بجمع فصلى به كأعجل ما يصلي أحد من الناس الفجر، ثم وقف حتى إذا كان كأبطأ ما يصلي أحد من الناس الفجر أفاض به إلى منى ثم ذبح. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৫৪
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں قیام
12654 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ اہل جاہلیت مزدلفہ میں ٹھہرتے تھے حتیٰ کہ جب سورج طلوع ہو کر پہاڑوں کی چوٹیوں پر نمودار ہوجاتا اور گویا لوگوں کے سر پر عمامے آجاتے تو تب وہاں سے نکلتے تھے، چنانچہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان مخالفت فرمائی اور جب ہر چیز نمودار ہوگئی تو طلوع شمس سے پہلے نکل لیے۔ ابن جریر
12654- عن ابن عباس قال: كان أهل الجاهلية يقفون بالمزدلفة حتى إذا طلعت الشمس فكانت على رؤوس الجبال كأنها العمائم على رؤوس الرجال دفعوا فخالفهم النبي صلى الله عليه وسلم فدفع حين أسفر كل شيء قبل أن تطلع الشمس. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৫৫
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مزدلفہ میں قیام
12655 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (مزدلفہ میں) اندھیرے (اندھیرے) کھڑے رہتے تھے حتیٰ کہ جب لوگ اپنے قدموں کی جگہ اپنے جانوروں کے کھروں اور اونٹوں کے قدموں کی جگہ دیکھنے لگ جاتے تھے اور آدمی اپنے قدموں کی جگہ دیکھنے لگ جاتا تھا تب وہاں سے منیٰ کو نکل لیتے تھے۔ ابن جریر
12655- عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم وقف بغلس حتى إذا أبصر الناس مواقع أقدامهم وحوافر دوابهم وأخفاف الإبل، وجعل الرجل يبصر موضع قدميه دفع إلى منى. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৫৬
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمی جمار۔۔۔شیاطین کو کنکر مارنا
12656 (مسند عمر (رض)) موطا امام مالک (رح) سے مروی ہے۔ فرماتے ہیں کہ ان کو یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) دونوں جمروں کے پاس اس قدر طویل قیام کرتے تھے کہ طول قیام کی وجہ سے کھڑا ہونے والا کتا جاتا تھا۔ موطا امام مالک
12656- "مسند عمر رضي الله عنه" مالك أنه بلغه أن عمر بن الخطاب كان يقف عند الجمرتين وقوفا طويلا حتى يمل القائم لطول قيامه
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৫৭
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمی جمار۔۔۔شیاطین کو کنکر مارنا
12657 یحییٰ سن سعید سے مروی ہے کہ ان کو خبر پہنچی کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) یوم النحر کو اس وقت نکلے جب دن تھوڑا سا نکل آیا تھا۔ آپ نے ایک تکبیر کہی تو سب لوگوں نے بھی ایک تکبیر کہی۔ پھر اسی دن جب چاشت تک دن نکل آیا دوبارہ نکلے اور ایک تکبیر کہی، لوگوں نے بھی ایک تکبیر کہی پھر آپ (رض) اندر داخل ہوگئے پھر تیسری مرتبہ جب سورج کچھ جھک گیا (دوپہر کے بعد) تب نکلے اور ایک تکبیر کہی (اور لوگوں نے بھی تکبیر کہی) ان کی تکبیر بیت اللہ تک پہنچی جس سے معلوم ہوگیا کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) رمی کے لیے نکلے ہیں۔ مالک
12657- عن يحيى بن سعيد أنه بلغه أن عمر بن الخطاب خرج من يوم النحر حتى ارتفع النهار شيئا فكبر تكبيرة، فكبر الناس تكبيرة ثم خرج من يومه ذلك بعد أن ارتفع الضحى، فكبر تكبيرة فكبر الناس تكبيرة ثم دخل، ثم خرج الثالثة من يومه بعد أن زاغت الشمس فكبر تكبيرة حتى بلغ تكبيرهم البيت، فعرف أن عمر بن الخطاب قد خرج يرمي. "مالك"2
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৫৮
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمی جمار۔۔۔شیاطین کو کنکر مارنا
12658 سلمان بن ربیعہ سے مروی ہے فرمایا ہم نے پہلے کوچ کے دن حضرت عمر بن خطاب (رض) کو دیکھا آپ (رض) نکلے تو آپ (رض) کی ڈاڑھی سے پانی ٹپک رہا تھا اور آپ کے ہاتھ میں کنکریاں تھیں اور آپ کی (کمر بند) پیٹی میں بھی چند کنکریاں تھیں، آپ (رض) اپنے راستے میں تکبیر کہتے ہوئے جارہے تھے حتیٰ کہ جمرہ اولیٰ کے پاس پہنچے اور اس کو کنکر ماری اور پھر ماری حتیٰ کہ کنکریاں ختم کردیں اور کسی مارنے والے کی کنکریاں آپ (رض) کی کنکریوں تک نہیں پہنچ سکیں۔ پھر آپ (رض) نے ایک گھڑی (تقریباً پون گھنٹہ) کھڑے دعا فرماتے رہے پھر جمرہ وسطی پر تشریف لے گئے پھر تیسرے پر۔ مسدد
12658- عن سلمان بن ربيعة قال: نظرنا إلى عمر بن الخطاب يوم النفر الأول فخرج علينا تقطر لحيته ماء في يده حصيات وفي حزمه3 حصيات ماشيا يكبر في طريقه حتى أتى الجمرة الأولى، فرماها، ثم رماها حتى انقطع من الحصيات لا يناله حصى من رمى، ثم دعا ساعة ثم مضى إلى الجمرة الوسطى ثم الأخرى. "مسدد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৫৯
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمی جمار۔۔۔شیاطین کو کنکر مارنا
12659 حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے فرمایا : میں نے یوم الاضحی (قربانی کے دن) جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خوشبولگائی ۔ ابن عساکر۔
12659- عن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: طيبت رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الأضحى بعد ما رمى جمرة العقبة. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬৬০
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمی جمار۔۔۔شیاطین کو کنکر مارنا
12660 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک سائل نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ میں نے شام ہونے کے بعد رمی کی ہے ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی گناہ نہیں ہے۔ ایک آدمی نے عرض کیا : میں نے قربانی کرنے سے قبل حلق کروالیا (سرمنڈوالیا) ہے ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کوئی گناہ نہیں۔ مصنف ابن ابی شیبہ، ابن جریر
12660- عن ابن عباس أن سائلا سأل النبي صلى الله عليه وسلم رميت بعد ما أمسيت؟ فقال: لا حرج، وقال رجل حلقت قبل أن أنحر؟ قال: لا حرج. "ش وابن جرير".
তাহকীক: