কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

حج اور عمرۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১৭০ টি

হাদীস নং: ১২৬৬১
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمی جمار۔۔۔شیاطین کو کنکر مارنا
12661 حرملۃ بن عمرو سے مروی ہے، فرمایا : میں حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے چچا سنان بن سنۃ کے ساتھ تھا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عرفہ میں خطبہ دیتے ہوئے دیکھا، آپ نے ایک انگلی کو دوسری پر رکھا ہوا تھا۔ میں نے اپنے چچا سے پوچھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا فرما رہے ہیں ؟ تو انھوں نے بتایا کہ آپ فرما رہے ہیں کنکریاں یوں مارو جس طرح انگلیوں سے کنکریاں ماری جاتی ہیں (یعنی دو انگلیوں کے بیچ میں کنکر پھنسا کر مارو) ۔

مسند احمد، ابن خزیمہ ، البغوی، الباوردی، ابن قانع ، الکبیر للطبرانی، ابونعیم، السنن للبیہقی
12661- عن حرملة بن عمرو قال: كنت رديف عمي سنان بن سنة عام حجة الوداع، فرأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم بعرفة يخطب واضعا إحدى أصبعيه على الأخرى فقلت لعمي ما يقول؟ قال: ارموا الجمار بمثل حصى الخذف. "حم وابن خزيمة والبغوي والباوردي وابن قانع طب وأبو نعيم هق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৬২
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رمی جمار۔۔۔شیاطین کو کنکر مارنا
12662 حضرت جابر (رض) سے مروی ہے فرمایا : میں نے عرض کیا : میں نے رمی کرنے سے قبل ہی قربانی کرلی ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (اب) رمی کرلو (کنکری مارلو) اور کوئی حرج نہیں ہے۔ اور دوسرے نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میں نے بیت اللہ کا طواف قربانی سے پہلے کرلیا ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : (اب) قربانی کرلو اور کوئی حرج نہیں ہے۔ ایک اور نے عرض کیا : میں نے ذبح کرنے سے قبل حلق کرلیا (سرمنڈالیا ؟ ) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (اب) ذبح کرلو (قربانی کرلو) اور کوئی حرج نہیں ہے۔ ابن جریر
12662- عن جابر أن رجلا قال: يا رسول الله ذبحت قبل أن أرمي؟ قال: ارم ولا حرج، وقال آخر: يا رسول الله طفت بالبيت قبل أن أذبح؟ قال: اذبح ولا حرج، قال آخر: حلقت قبل أن أذبح؟ قال: اذبح ولا حرج. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৬৩
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12663 (صدیق (رض)) ابی سریحہ حذیفہ بن اسید غفاری (رض) سے مروی ہے فرمایا : میں نے ابوبکر صدیق اور عمر (رض) کو دیکھا کہ اپنے گھر والوں کی طرف سے قربانی اس ڈر سے نہ کرتے تھے کہ کہیں لوگ ان حضرات کی سنت کو رواج نہ دے لیں۔ ابن ابی الدنیا فی الاضاحی، الحاکم فی الکنی، ابوبکر عبداللہ بن محمد زیاد النیسابوری فی الزیاوات، السنن للبیہقی

ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں : اس روایت کی سند صحیح ہے۔
12663- "الصديق رضي الله عنه" عن أبي سريحة حذيفة بن أسيد الغفاري قال: لقد رأيت أبا بكر الصديق وعمر ما يضحيان عن أهلهما خشية أن يستن بهما. "ابن أبي الدنيا في الأضاحي والحاكم في الكنى وأبو بكر عبد الله بن محمد زياد النيسابوري في الزيادات ق" وقال ابن كثير إسناده صحيح.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৬৪
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12664 شعبی (رح) سے مروی ہے کہ ابوبکر اور عمر (رض) زمانہ حج میں آئے لیکن قربانی نہیں فرمائی۔ مسدد
12664- عن الشعبي أن أبا بكر وعمر شهدا الموسم فلم يضحيا. "مسدد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৬৫
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12665 نافع (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) اپنے چھوٹے بچوں کی طرف سے بھی قربانی کیا کرتے تھے۔ ابن ابی الدنیا فی کتاب الاضاحی
12665- عن نافع قال: كان عمر يضحي عن صغاره ولده. "ابن أبي الدنيا في كتاب الأضاحي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৬৬
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12666 نافع (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) مکہ میں مروہ کے پاس قربانی فرماتے تھے اور منیٰ میں قربان گاہ کے پاس قربانی فرماتے تھے۔ السنن للبیہقی
12666- عن نافع أن عمر كان ينحر بمكة عند المروة وينحر بمنى عند المنحر. "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৬৭
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12667 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم فرمایا کہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اونٹوں پر نگراں کھڑا ہوں اور ان کے گوشت ، کھالوں اور ان کے لباس (زین وغیرہ) کو صدقہ کردوں اور قصاب کو اجرت میں ان میں سے کوئی چیز نہ دوں۔ اور فرمایا اجرت ہم اپنی طرف سے ادا کریں گے۔ الحمیدی، مسند احمد، العدنی، الدارمی، البخاری، مسلم، ابن داؤد ، النسائی، ابن ابی الدنیا فی الاضاحی، مسند ابی یعلی، ابن ماجہ، ابن جریر، ابن حزیمہ، ابن الجارود ، ابن حبان، شعب الایمان للبیہقی
12667- عن علي قال: أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أقوم على بدنه وأن أتصدق بلحومها وجلدها وأجلتها1 وأن لا أعطي الجزار منها شيئا، وقال: نعطيه من عندنا. "الحميدي حم والعدني والدارمي خ م د ن وابن أبي الدنيا في الأضاحي ع هـ وابن جرير وابن خزيمة وابن الجارود حب هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৬৮
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12668 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا کہ قربانی کی جائے آگے سے کان کٹے ہوئے جانور کی یا پیچھے سے کان کٹے ہوئے جانور کی یا لمبائی میں چرے ہوئے کان والے جانور کی یا پھٹے ہوئے کان والے جانور کی یا ناک کٹے ہوئے جانور کی۔

مسند احمد، ابوعبید فی الغریب، النسائی، ابن ابی الدنیا فی الاضاحی، ابن جریر، ابن الجارود، الطحاوی، مسند احمد۔

کلام : روایت مذکور محل ہے ضعیف ابن ماجہ 677 ۔
12668- عن علي قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يضحي بمقابلة أو مدابرة أو شرقاء أو خرقاء أو جدعاء. "حم وأبو عبيد في الغريب ن وابن أبي الدنيا في الأضاحي وابن جرير وصححه وابن الجارود والطحاوي حم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৬৯
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12669 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ٹوٹے ہوئے سینگ یا کٹے ہوئے کان والے جانور کی قربانی سے منع فرمایا۔ ابوداؤد، ابن وھب، مسند احمد، ابن داؤد، الترمذی حسن صحیح، النسائی، ابن ماجہ، ابن ابی الدنیا فی الاضاحی، مسند ابی یعلی، ابن جریر، ابن خزیمہ ، الطحاوی، مستدرک الحاکم، الدورقی، السنن للبیہقی، السنن لسعید بن منصور۔
12669- عن علي قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يضحي بعضباء2 القرن أو الأذن. "ط وابن وهب حم د ت وقال: حسن صحيح ن هـ وابن أبي الدنيا في الأضاحي ع وابن جرير وابن خزيمة والطحاوي ك والدورقي ق ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৭০
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12670 حنش سے مروی ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) ایک منیڈھا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے اور ایک مینڈھا اپنی طرف سے ذبح کیا کرتے تھے ۔ ہم نے عرض کیا : اے امیر المومنین ! آپ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے بھی قربانی کرتے ہیں ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم فرمایا ہے کہ میں ان کی طرف سے قربانی کیا کروں، پس میں ہمیشہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے قربانی کیا کروں گا۔ اللہ پاک ہم مسلمانوں کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے بھی قربانی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

مسند احمد ، ابن ابی الدنیا فی الاضاحی
12670- عن حنش قال: كان علي بن أبي طالب يضحي بكبش عن رسول الله صلى الله عليه وسلم وبكبش عن نفسه، قلنا له: يا أمير المؤمنين؛ تضحي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أضحي عنه، فأنا أضحي عنه أبدا. "حم وابن أبي الدنيا في الأضاحي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৭১
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12671 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت فاطمہ (رض) کو ارشاد فرمایا : اے فاطمہ ! اپنی قربانی کے پاس حاضر ہوجاؤ۔ بیشک اس کا پہلا خون کا قطرہ جب گرے گا تیرے سب گناہوں کی بخشش ہوجائے گی اور قیامت کے دن اس قربانی کے جانور کو اس کے گوشت اور خون کے ساتھ ستر گنا بڑھا کر لایا جائے گا اور تیری میزان عمل میں رکھ دیا جائے گا۔ حضرت ابوسعید خدری (رض) نے پوچھا : یارسول اللہ ! کیا یہ حکم خاص آل محمد کے لیے ہیں کیونکہ خیر میں ان کی خصوصیت حاصل ہے یا پھر یہ حکم آل محمد اور تمام لوگوں کے لیے عام ہے ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یہ (حکم) آل محمد اور تمام لوگوں کے لیے ہے۔

ابن منبع، عبدبن حمید، ابن زنجویہ، الدورقی، ابن ابی الدنیا فی الاضاحی، السنن للبیہقی

کلام : حدیث ضعیف ہے یہ امام بیہقی (رح) کا قول ہے کیونکہ اس کی سند میں عمرو بن خالد ہے اور امام ذھبی (رح) بھی حاکم پر نقد میں دوسری سند سے مروی اس حدیث کو ضعیف قرار دیتے ہیں جیسا کہ 12235 پر روایت گزرچکی ۔
12671- عن علي أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لفاطمة: قومي يا فاطمة فاشهدي أضحيتك، أما إن لك بأول قطرة تقطر من دمها مغفرة كل ذنب أصبته، أما إنه يجاء بها يوم القيامة بلحومها ودمائها سبعين ضعفا، ثم توضع في ميزانك، قال أبو سعيد الخدري: أي رسول الله؛ أهذه لآل محمد خاصة فهم أهل لما خصوا به من خير؟ أم لآل محمد وللناس عامة؟ قال: بل هي لآل محمد وللناس عامة. "ابن منيع وعبد بن حميد وابن زنجويه والدورقي وابن أبي الدنيا في الأضاحي هق" وضعفه1
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৭২
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12672 ججیۃ بن عدی حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں، ارشاد فرمایا : گائے سات افراد کی طرف سے کافی ہے۔ حجیۃ کہتے ہیں میں نے پوچھا : اگر گائے (عین موقع ذبح پر) بچہ دیدے ؟ تو حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : اس کا بچہ بھی اس کے ساتھ ذبح کردے۔ میں نے پوچھا : اور لنگڑے جانور کا کیا حکم ہے ؟ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : جب وہ جائے ذبح (مذبح خانہ) میں جاسکے تو اس کو ذبح کردے۔ میں نے پوچھا : ٹوٹے ہوئے سینگ والے جانور کی قربانی ؟ فرمایا : کوئی حرج نہیں ہے ، ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم فرمایا ہے کہ ہم جانور کی دونوں آنکھیں اور دونوں کان اچھی طرح دیکھ لیں۔

ابوداؤد ، ابن وھب، الدارمی، الترمذی، حسن صحیح، النسائی ، ابن ماجہ ابن ابی الدنیا فی الاضاحی، مسند ابی یعلی، ابن خزیمہ ابن حبان ، الدارقطنی فی الافراد، الدورقی، مستدرک الحاکم ، السنن للبیہقی ، السنن لسعید بن منصور۔
12672- عن حجية بن عدي عن علي قال: البقرة عن سبعة، قلت فإن ولدت؟ قال: اذبح ولدها معها، قلت: والعرجاء؟ قال: إذا بلغت المنسك فاذبح، قلت: فمكسورة القرن؟ قال: لا بأس أمرنا رسول الله أن نستشرف العينين والأذنين. "ط وابن وهب والدارمي ت وقال حسن1 صحيح ن هـ وابن أبي الدنيا في الأضاحي ع وابن خزيمة حب قط في الأفراد والدورقي ك ق ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৭৩
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12673 حضرت علی (رض) سے مروی ہے فرمایا : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم فرمایا کہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے مینڈھے کی قربانی کیا کروں ، پس میں چاہتا ہوں کہ میں ضرور یہ کروں۔ مصنف ابن ابی شیبہ، ابن ابی الدنیا فی الاضاحی، مسند ابی یعلی ، مستدرک الحاکم صحیح الاسناد
12673- عن علي قال: أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أضحي عنه بكبش، فأنا أحب أن أفعله. "ش وابن أبي الدنيا في الأضاحي ع ك"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৭৪
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12674 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ مجھے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کہ میں ان اونٹوں کو نحر (ذبح) کروں اور ان کا گوشت صدقہ کروں ۔ چنانچہ پھر میں ان کے زینوں اور کھالوں کا پوچھنے گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا کہ ان کو بھی صدقہ کردوں مسند ابی یعلی
12674- عن علي قال: أم رني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أنحر البدن وأن أتصدق بلحومها، فرجعت إليه أسأله عن جلالها وجلودها، فأمرني أن أتصدق به. "ع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৭৫
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12675 ابوعبیدۃ جو ابن ازھر کے آزاد کردہ غلام ہیں سے مروی ہے کہ انھوں نے قربانی کے دن حضرت علی (رض) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : اے لوگو ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا ہے کہ تین راتوں کے بعد بھی تم قربانیوں کا گوشت کھاؤ ۔ پس اس کے بعد قربانی کا گوشت نہ کھاؤ۔ یعنی اتنا گوشت ذخیرہ نہ کرو کہ تین یوم کے بعد تک بچا رہے لیکن یہ حکم منسوخ ہے جیسا کہ دوسری حدیث میں اس کی صراحت آئی ہے۔ الشافعی، العدنی، مسلم، السنن للبیہقی، ابن داؤد ، ابوعوانۃ، الطحاوی
12675- عن أبي عبيدة مولى ابن أزهر أنه سمع عليا يقول يوم الأضحى: يا أيها الناس، إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد نهى أن تأكلوا نسككم بعد ثلاث ليال فلا تأكلوها بعده. "الشافعي والعدني م ق د وأبو عوانة والطحاوي ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৭৬
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12676 حضرت علی (رض) سے مروی ہے، آپ (رض) فرماتے تھے : قربانی کے تین یوم ہیں اور ان میں سب سے افضل پہلا دن ہے۔ ابن ابی الدنیا
12676- عن علي أنه كان يقول: أيام النحر ثلاثة، وأفضلهن أولهن. "ابن أبي الدنيا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৭৭
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12677 حضرت علی (رض) سے مروی ہے فرمایا : ایام معدودات تین دن ہیں ، یوم النحر (دس ذی الحجہ) اور دو دن اس کے بعد جس دن تو چاہے قربانی کرلے اور ان میں سب سے افضل دن پہلا ہے۔

عبدبن حمید، ابن ابی الدنیا
12677- عن علي قال: الأيام المعدودات ثلاثة أيام: يوم النحر ويومان بعده، اذبح في أيها شئت، وأفضلها أولها. "عبد بن حميد وابن أبي الدنيا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৭৮
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12678 مغیرۃ بن حرب سے مروی ہے فرمایا ایک آدمی حضرت علی (رض) کی خدمت میں آیا اور عرض کیا : میں نے ایک گائے قربانی کے لیے خریدی تھی، اس نے بچہ دیا ہے۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : اس کا دودھ نہ پی۔ ہاں جو اس کے بچے سے بچ جائے (وہ تیرے لیے جائز ہے) پھر جب قربانی کا دن آجائے تو اس کو اور اس کے بچے کو سات لوگوں کی طرف سے ذبح کردے۔

ابن ابی الدنیا، السنن للبیہقی
12678- عن المغيرة بن حرب قال: جاء رجل إلى علي فقال: إني اشتريت بقرة أضحي بها فنتجت، فقال: لا تشرب من لبنها إلا ما يفضل عن ولدها فإذا كان يوم النحر، فانحرها وولدها عن سبعة. "ابن أبي الدنيا ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৭৯
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12679 حضرت علی (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : جب تو قربانی کا جانور خریدے تو دو دانت والا یا اس سے بڑا خرید پھر اس کو موٹا تازہ کرلے چنانچہ پھر تو کھائے گا تو اچھا کھائے گا اور کھلائے گا تو اچھا کھلائے گا۔ ابن ابی الدنیا، السنن للبیہقی، شعب الایمان للبیہقی
12679- عن علي قال: إذا اشتريت أضحية فاشترها ثنيا1 فصاعدا واستسمن فإن أكلت أكلت طيبا، وإن أطعمت أطعمت طيبا. "ابن أبي الدنيا ق هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৮০
حج اور عمرۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاضاحی۔۔۔قربانی کا بیان
12680 حضرت علی (رض) سے مروی ہے، ارشاد فرمایا : قربانی کے لیے دو دانت والا یا اس سے بڑی عمر کا جانور جس کی آنکھیں اور کان سلامت ہوں لو اور اس کو (کھلا پلا کر) موٹا تازہ کرلو۔ پھر اگر خود کھاؤ گے تو موٹا تازہ کھاؤ گے اور اگر کھلاؤ گے تو موٹا تازہ کھلاؤ گے اور اگر اس کو کسر (ٹوٹ پھوٹ) یا کوئی مرض لاحق ہوگیا تو تیرے لیے کوئی نقصان نہیں۔

ابن ابی الدنیا، السنن للبیہقی، شعب الایمان للبیہقی
12680- عن علي قال: في الأضحية ثني فصاعدا سليم العين والأذن واستسمن فإن أكلت أكلت سمينا وإن أطعمت أطعمت سمينا، وإن أصابها كسر أو مرض فلا يضرك. "ابن أبي الدنيا ق هب".
tahqiq

তাহকীক: