কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩০১১ টি

হাদীস নং: ৪১৭৪৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانے کی مباح چیزیں
٤١٧٣٥۔۔۔ ابن الحنفیۃ (محمد بن علی) سے روایت ہے فرمایا : میں نے اپنے والد (حضرت علی (رض)) سے پوچھا : آپ مارماہی بام مچھلی کھانے کے بارے میں کیا فرماتے ہیں : فرمایا : میرے بیٹے، اسے کھاؤ وہ حلال ہے پھر یہ آیت پڑھی کہہ دو ! جو وحی میری طرف کی جاتی ہے اس میں مجھے کوئی حرام چیز نہیں ملتی بجزچاراشیاء کے سؤرکاگوشت، بہتا خون، مردار اور غیر اللہ کی نذرونیاز پوری آیت پڑھی۔ سورة انعام ١٤٥ ابن شاھین
41735- عن ابن الحنفية قال: سألت أبي: ما تقول في أكل الجزي؟ قال: يا بني! كله فإنه حلال، ثم قرأ علي هذه الآية {قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّماً} - إلى آخر الآية سورة الأنعام آية 145."ابن شاهين".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৪৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانے کی مباح چیزیں
٤١٧٣٦۔۔۔ حضرت ابوبکر (رض) کے غلام سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : سمندر کی ہر بڑی مچھلی اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ذبح کردی ہے سوا سے کھاؤ۔ مسددوالحاکم
41736- عن مولى لأبي بكر قال: قال أبو بكر: كل دابة في البحر قد ذبحها الله لكم فكلوها."مسدد والحاكم في الكنى".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৫০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانے کی مباح چیزیں
٤١٧٣٧۔۔۔ جابربن زید ابوالشعثاء سے روایت ہے فرمایا : حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ہر قسم کی مچھلی حلال ہے اور ہر قسم کی ٹڈی حلال ہے۔ دارقطنی، حاکم ، بیہقی
41737- عن جابر بن زيد أبي الشعثاء قال: قال عمر: الحوت ذكي كله، والجراد ذكي كله."قط، ك، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৫১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ٹڈی کھاناحلال ہے
٤١٧٣٨۔۔۔ حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : حضرت عمربن الخطاب (رض) سے ٹڈی کے بارے میں پوچھا گیا آپ نے فرمایا : مجھے پسند ہے کہ ہمارے پاس اگر اس کی ایک ٹڈی ہوتی تو ہم اسے کھاتے۔ مالک وابوعبید فی الغریب، عبدالرزاق، بیہقی
41738- عن ابن عمر قال: سئل عمر بن الخطاب عن الجراد فقال: وددت أن عندنا منه قفعة نأكل منها."مالك وأبو عبيد في الغريب، عب، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৫২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ٹڈی کھاناحلال ہے
٤١٧٣٩۔۔۔ ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے فرمایا : میں بحرین آیا تو بحرین والوں نے مجھ سے پوچھا : جو مچھلیاں سمندر پھینک دیتا ہے ان کا کیا حکم ہے تو میں نے انھیں ان کے کھانے کا حکم دیا جب میں واپس آیا تو حضرت عمربن خطاب (رض) سے اس کے بارے میں پوچھا : فرمایا : اپنا درہ لے کر تمہیں مارتا پھر حضرت عمربن خطاب (رض) نے پڑھا سمندر کا شکار اور اس کا کھانا تمہارے فائدہ کے لیے حلال ہے، فرمایا : شکار سے مراد جو عموماً شکار کیا جائے اور کھانا جسے سمندر پھینک دے۔ ضیاء وعبدبن حمید وابن جریر وابن النذر و ابوالشیخ، بیہقی
41739- عن أبي هريرة قال: قدمت البحرين فسألني أهل البحرين عما يقذف البحر من السمك، فأمرتهم بأكله، فلما قدمت سألت عمر بن الخطاب عن ذلك، قال: ما أمرتهم؟ قلت: أمرتهم بأكله، قال: لو قلت غير ذلك لعلوتك بالدرة؛ ثم قرأ عمر بن الخطاب {أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعاً لَكُمْ} قال: صيده ما اصطيد، وطعامه ما رمى به."ض وعبد بن حميد وابن جرير وابن المنذر وأبو الشيخ، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৫৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ٹڈی کھاناحلال ہے
٤١٧٤٠۔۔۔ (ازمسندجابر بن عبداللہ) ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھوڑوں کا گوشت کھلایا اور گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا۔ رواہ ابنابی شیبۃ
41740- من مسند جابر بن عبد الله أطعمنا النبي صلى الله عليه وسلم لحوم الخيل، ونهانا عن لحوم الحمر."ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৫৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ٹڈی کھاناحلال ہے
٤١٧٤١۔۔۔ اسی طرح روایت ہے ہم نے خیبر کے روزگھوڑوں کا گوشت کھایا۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
41741- أيضا أكلنا لحوم الخيل يوم خيبر."ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৫৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ٹڈی کھاناحلال ہے
٤١٧٤٢۔۔۔ حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ ایک دفعہ ایک گائے شراب پرچڑھی اور اسے پی گئے لوگوں کو اس کے بارے میں خدشہ ہوا انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا، آپ نے فرمایا : اسے کھالو، یا فرمایا : اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ رواہ الحاکم، کلام۔۔۔ ذخیرۃ الحفاظ ١٠٨٠۔
41742- عن جابر أن بقرة أفلتت على خمر فشربت، فخافوا عليها فسألوا النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: "كلوها - أو قال: لا بأس بأكلها"."ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৫৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ٹڈی کھاناحلال ہے
٤١٧٤٣۔۔۔ مسنداسمائ، ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں ایک گھوڑاذبح کیا اور ہم نے اس کا گوشت کھایا۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
41743- مسند أسماء نحرنا فرسا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فأكلنا من لحمه."ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৫৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ٹڈی کھاناحلال ہے
٤١٧٤٤۔۔۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں : ہم نے ایک گھوڑاذبح کیا ہم نے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھروالوں نے اس کا گوشت کھایا۔ طبرانی فی الکبیر، ابن عساکر
41744- عن أسماء بنت أبي بكر قالت: ذبحنا فرسا فأكلنا نحن وأهل بيت رسول الله صلى الله عليه وسلم."طب، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৫৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ٹڈی کھاناحلال ہے
٤١٧٤٥۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا ہر قسم کی مچھلیاں اور ٹڈیاں حلال ہیں۔ رواہ البیہقی
41745- عن علي قال: الحيتان والجراد ذكي كله."ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৫৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ٹڈی کھاناحلال ہے
٤١٧٤٦۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین چیزوں کے کھانے کی اجازت دی ہے سفید پرندے ٹڈی اور تلی۔ ابونعیم وسندہ لاباس بہ
41746- عن علي قال: رخص رسول الله صلى الله عليه وسلم في أكل ثلاثة أشياء: أكل الطير الأبيض، وأكل الجراد، وأكل الطحال."أبو نعيم، وسنده لا بأس به".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৬০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لہسن، تھوم
٤١٧٤٧۔۔۔ حضرت ابوبکر (رض) سے روایت ہے فرمایا : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر فتح کیا تو لوگ لہسن کے کھیتوں میں گھس کر اسے کھانے لگے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے اس خبیث پودے کو کھایا ہے وہ ہرگز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔ علی ابن المد ینی فی مسندابی بکر، دارقطنی فی العلل، طبرانی فی الاوسط ورجالہ ئقات
41747- عن أبي بكر قال: لما افتتح رسول الله صلى الله عليه وسلم خيبر وقع الناس في الثوم فجعلوا يأكلونه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من أكل من هذه البقلة الخبيثة فلا يقربن مسجدنا"."علي ابن المديني في مسند أبي بكر، قط في العلل، طس، ورجاله ثقات".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৬১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لہسن، تھوم
٤١٧٤٨۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لہسن کھانے کا حکم دیا اور فرمایا اگر میرے پاس وہ فرشتہ نہ آتا ہوتا تو اسے کھالیتا۔ ابن منیع والطحاوی طبرانی فی الاوسط، حلیۃ الاولیاء وعبدالغنی بن سعید فی ایضاح الا شکال وابن الجوزی فی الو صیات ، کلام۔۔۔ ذخیرۃ الحفاظ ٧١٣۔
41748- عن علي قال: أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بأكل الثوم "لولا أن الملك ينزل علي لأكلته"."ابن منيع والطحاوي، طس، حل وعبد الغني بن سعيد في إيضاح الإشكال وابن الجوزي في الواهيات".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৬২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لہسن، تھوم
٤١٧٤٩۔۔۔ شریک بن حنبل حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں فرمایا : لہسن کو بغیر پکائے کھانے سے منع کیا گیا۔ ابوداؤد، ترمذی۔ وقال : ھذاحدیث لیس اسنادہ بذلک القوی، وروی عن شریک بن جبل عن النبی صلی اللہ تعالیٰ عنہ مرسلا وقدروی عن علی قولہ
41749- أيضا عن شريك بن الحنبل عن علي قال: نهى أكل الثوم إلا مطبوخا."د، ت وقال: هذا حديث ليس إسناده بذلك القوى، وروى عن شريك بن حنبل عن النبي صلى الله عليه مرسلا؛ وقد روى عن علي قوله".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৬৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لہسن، تھوم
٤١٧٥٠۔۔۔ قیس بن ربیع بشرین بشر الاسلمی سے روایت ہے وہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں انھیں شرف صحابیت حاصل ہے فرمایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے اس سبزی یعنی لہسن کو کھایا وہ ہماری مسجد کے پاس نہ آئے۔ الطحاوی والبغوی والباوردی وابن السکن وابن قانع طبرانی فی الکبیر وابو نعیم ورواہ ابن السکن عن محمد ابن بشربن بشربن معبد عن ابیہ عن جدہ، کلام۔۔۔ ذخیرۃ الحفاظ ٥١٦٦۔
41750- عن قيس بن الربيع عن بشر بن بشر الأسلمي عن أبيه - وكانت له صحبة - قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: "من أكل من هذه البقلة - يعني الثوم - فلا يقربن مسجدنا"."الطحاوي والبغوي والباوردي وابن السكن وابن قانع، طب وأبو نعيم؛ ورواه ابن السكن عن محمد ابن بشر بن بشر بن معبد عن أبيه عن جده".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৬৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لہسن، تھوم
٤١٧٥١۔۔۔ خزیمہ بن ثابت سے روایت ہے کہ وہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مسجد میں تھے اور آپ اپنی بیبیوں میں کسی کے حجرہ کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھے تھے اتنے میں عوالی مدینہ سے ایک شخص آیا وہ بیٹھ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کرنے لگا :ـ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے بومحسوس کی جس سے آپ نے اور آپ کے صحابہ (رض) نے اذیت محسوس کی پھر فرمایا جس نے اس لہسن سے کچھ کھالیا تو وہ ہمیں اذیت نہ دے۔ ابن عساکر، وقال : غریب من حدیث خزیمۃ لااعلم، اناکتبناہ الا من ھذالطریق
41751- عن خزيمة بن ثابت أنهم كانوا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد وهو مسند ظهره إلى بعض حجرات نسائه فدخل رجل من أهل العالية فجلس يسأل رسول الله صلى الله عليه وسلم، فشم منه رسول الله صلى الله عليه وسلم ريحا تأذي هو أصحابه، فقال "من أكل من هذه الشجرة فلا يؤذينا بها"."كر وقال: غريب من حديث خزيمة لا أعلم أنا كتبناه إلا من هذا الطريق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৬৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لہسن، تھوم
٤١٧٥٢۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ آپ بغیر پکائے لہسن کو ناپسند کرتے تھے۔ ترمذی
41752- عن علي أنه كره أكل الثوم إلا مطبوخا."ت".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৬৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیاز
٤١٧٥٣۔۔۔ حضرت ابوایوب انصاری (رض) سے روایت ہے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے نچلے مکان میں فروکش ہوئے اور میں کمرہ میں تھا گھڑاٹوٹنے سے گھر میں پانی بہہ پڑاتو میں اور ام ایوب اپنی چادرلے کر پانی کا پیچھا کرنے لگے کہ کہیں رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک نہ پہنچ جائے، میں اترکررسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور میں خوفزدہ تھا میں نے کہا : یارسول اللہ ! یہ مناسب نہیں کہ میں آپ سے اوپر والی منزل میں رہوں، آپ بالاخانہ میں منتقل ہوجائیں، آپ نے اپنے سامان کو اٹھوانے کا حکم دیاچنانچہ وہ منتقل کردیا گیا، آپ کا سامان تھوڑاہی تھا۔ میں نے عرض کی یارسول اللہ ! آپ کھانا تناول فرماکر میری طرف کھانا بھیجتے ہیں میں جب اسے دیکھتا ہوں تو جہاں آپ کی انگلیوں کے نشان نظر آتے ہیں میں ان پر اپنا ہاتھ رکھتا ہوں بالآخریہ کھانا جو آپ نے واپس میری طرف بھیجا میں نے تلاش کیا تو اس میں مجھے آپ کی انگلیوں کے آثار نظر نہ آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں، اس میں پیاز تھی اور مجھے اچھا نہ لگا کہ میں اس فرشتہ کی وجہ سے جو میرے پاس آتا ہے اسے کھاؤں باقی تم لوگ اسے کھالو۔ ابونعیم، ابن عساکر
41753- عن أبي أيوب قال: نزل رسول الله صلى الله عليه وسلم في بيتنا الأسفل وكنت في الغرفة، فأهريق ماء في الغرفة، فقمت أنا وأم أيوب بقطيفة لنا نتتبع الماء شفقا أن يخلص إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فنزلت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا مشفق، فقلت: يا رسول الله! لا ينبغي أن أكون فوقك، انتقل إلى الغرفة! فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بمتاعه فنقل، ومتاعه قليل، فقلت: يا رسول الله! كنت ترسل إلي بالطعام فأنظر فإذا رأيت أثر أصابعك وضعت يدي فيه حتى إذا كان هذا الطعام الذي أرسلت به إلي فنظرت فلم أر فيه أثر أصابعك! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أجل، إن فيه بصلا وكرهت أن آكله من أجل الملك الذي يأتيني، وأما أنتم فكلوه"."أبو نعيم، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৬৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیاز
٤١٧٥٤۔۔۔ حضرت ابوایوب (رض) سے روایت ہے فرمایا : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس فروکش ہوئے تو میں نے عرض کی میری ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں آپ سے اوپر والے مکان میں رہوں اور مجھ سے نچلے والے مکان میں رہیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نچلا حصہ ہمارے لیے زیادہ بہتر ہے کیونکہ ہمارے پاس لوگوں کا ہجوم رہتا ہے۔ میں نے عرض کی میں نے دیکھا کہ ہمارا ایک گھڑاٹوٹ گیا جس کا پانی بہہ پڑاتو میں اور ایوب اپنی چادرلے کر اٹھے اور ہمارا اس کےعلاوہ کوئی لحاظ بھی نہ تھا ہم اس سے پانی خشک کرنے لگے کہ کہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہماری طرف سے کوئی تکلیف نہ پہنچے ہم کھانا بناتے تھے جب اس کھانے سے بچ جاتاجو آپ تناول فرماتے تھے ہم اس میں آپ کی انگلیوں کی جگہ تلاش کرتے ہم اس سے برکت کے حصول کے لیے کھاتے تھے۔ ایک رات کا کھانا آپ نے واپس کیا جس میں ہم نے لہسن اور پیاز ڈالی تھی ہم اس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انگلیوں کے نشان تلاش کرنے لگے۔ پھر میں نے آپ کو اپنے اس فعل کی اطلاع دی اور جو کچھ آپ نے ہمیں واپس کیا اور اسے کھایا نہیں اس کا تذکرہ کیا آپ نے فرمایا : مجھے اس سے اس پودے کی بو آئی اور میں ایسا شخص ہوں کہ مناجات کرتا ہوں اور میں نہیں چاہتا کہ مجھ سے اس کی بو آئے سو تم لوگ کھالیاکرو۔ رواہ الطبرانی
41754- عن أبي أيوب قال: لما نزل علي رسول الله صلى الله عليه وسلم قلت بأبي وأمي! إني أكره أن أكون فوقك وتكون أسفل مني، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن أرفق بنا أن نكون في السفل لما يغشانا من الناس"، فلقد رأيت جرة لنا انكسرت فأهريق ماؤها فقمت أنا وأم أيوب بقطيفة لنا ما لنا لحاف غيرها فننشف بها الماء فرقا من أن يصل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم منا شيء يؤذيه، فكنا نصنع طعاما، فإذا رد ما بقي منه تيممنا موضع أصابعه، فأكلنا منها نريد بذلك البركة، فرد علينا عشاءه ليلة وكنا جعلنا فيه ثوما أو بصلا فلم نر فيه أثر أصابعه، فذكرت له الذي كنا نصنع والذي رأينا من رده الطعام ولم يأكل! فقال: "إني وجدت منه ريح هذه الشجرة وأنا رجل أناجي فلم أحب أن يوجد مني ريحه، فأما أنتم فكلوه"."طب".
tahqiq

তাহকীক: