কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩০১১ টি

হাদীস নং: ৪১৭৬৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مردار کے احکام
٤١٧٥٥۔۔۔ حضرت جابربن سمرہ (رض) سے روایت ہے فرمایا : ایک شخص کا خچر مرگیا وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھنے آیا آپ نے فرمایا : کیا تمہارے پاس اس سے لاپروا کرنے والی کوئی چیز نہیں ؟ اس نے کیا : نہیں فرمایا : جاؤ اسے کھالو۔ طبرانی فی الکبیر
41755- عن جابر بن سمرة قال: مات بغلة عند رجل فأتى النبي صلى الله عليه وسلم يستفتيه، فقال: "أما لك ما يغنيك عنها"؟ قال: لا، قال: "اذهب فكلها"."طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৬৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مردار کے احکام
٤١٧٥٦۔۔۔ انھیں سے روایت ہے کہ جرہ میں ایک اونٹ مرگیا اور اس کے پاس ایک لاچارقوم رہتی تھی آپ نے انھیں اس کے کھانے کی اجازت دے دی۔ طبرانی فی الکبیر
41756- عنه: مات جمل بالحرة وإلى جنبه قوم محتاجون فرخص لهم النبي صلى الله عليه وسلم في أكله."طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৭০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مردار کے احکام
٤١٧٥٧۔۔۔ حضرت جابر (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا کہ آپ کی خدمت میں کچھ لوگ آکر کہنے لگے : یارسول اللہ ! ہم مسافرلوگ تھے ہماری کشتی ٹوٹ گئی ہمیں ایک مونی تازی مردار اونٹنی ملی ہم نے چاہا کہ اس کی چربی سے کشتی لیپیں، کشتی تو پانی پر تیرنے کی ایک لکڑی ہے آپ نے فرمایا : مردار کی کسی چیز سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔ ابن جریروسندہ حسن
41757- عن جابر قال: بينما أنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ جاءه ناس فقالوا: يا رسول الله! سفينة لنا انكسرت وإنا وجدنا ناقة سمينة ميتة فأردنا أن ندهن به سفينتنا وإنما هي عود على الماء، فقال: "لا تنتفعوا بشيء من الميتة"."ابن جرير وسنده حسن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৭১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مردار کے احکام
٤١٧٥٨۔۔۔ عبداللہ بن حکیم (رض) سے روایت ہے کہ جہینہ کی زمین میں ہمارے پاس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خط آیا میں اس وقت نوجوان لڑکا تھا کہ مردار کی کھال پٹھے کسی چیز سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔ رواہ عبدالرزاق
41758- عن عبد الله بن حكيم: أتى علينا كتاب رسول الله صلى الله عليه وسلم في أرض جهينة وأنا غلام شاب أن لا تستمتعوا من الميتة بشيء بإهاب ولا عصب."عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৭২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مردار کے احکام
٤١٧٥٩۔۔۔ مسندحیان بن ابجرالکنانی (رض) عبداللہ بن جبلۃ بن حیان بن ابجر اپنے والد سے وہ اپنے داداحیان سے روایت کرتے ہیں فرمایا : ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے اور میں اس ہانڈی کے نیچے آگ سلگارہا تھا جس میں مردار کا گوشت تھا اتنے میں مردار کی حرکت کا حکم نازل ہوا تو ہنڈیاں الٹ دی گئیں۔ ابونعیم
41759- مسند حيان بن أبجر الكناني عن عبد الله بن جبلة بن حيان بن أبجر عن أبيه عن جده حيان قال: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم وأنا أوقد تحت قدر فيها لحم ميتة وأنزل تحريم الميتة وأكفئت القدور."أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৭৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مردار کے احکام
٤١٧٦٠۔۔۔ (ازمسندسمرۃ بن جندب تم پر ناپاک چیزیں حرام ہوئیں اور پاک چیزیں تمہارے لیے حلال ہوئیں الایہ تمہیں کسی کھانے کی سخت ضرورت ہو اور تم اس سے کھاکر اس ضرورت سے لاپروا ہوجاؤ۔ انھوں نے کہا : میری وہ محتاجی کیا جس تک میں پہنچ جاؤں تو اسے کھاؤں ؟ آپ نے فرمایا : جب تمہیں جانوروں کے جنم دینے کی امید ہو اور تم اپنے جانوروں کے گوشت کے ذریعہ اس تک پہنچ جاؤ یا تمہیں رات کے کھانے کی امید ہوج سے حاصل کرنے کے اپنے جانوروں کے گوشت کے ذریعہ پہنچویا تمہیں کسی فائدہ کے حصول کی امید ہو جس تک تم اپنے جانوروں کے گوشت کے ذریعہ پہنچ جاؤ اور اگر تمہیں ان میں سے کسی چیز کی امیدنہ ہو تو جو تمہیں ملے اپنے گھروالوں کو کھلاؤیہاں تک کہ تمہاری ضرورت ختم ہوجائے۔ انھوں نے عرض کی : میری بےاحتیاجی کیا کہ جب میں اسے حاصل کرلوں تو اس کو چھوڑدوں ؟ آپ نے فرمایا : جب تم اپنے گھروالوں کو دودھ والا ان کا رات والا حصہ پلا کر سیراب کردو تو جو چیزیں تمہارے لیے حرام ہیں ان سے اجتناب کرو اور جو کچھ تمہارا ہے تو وہ سارے کا سارا آسانی کا ذریعہ ہے اس میں کچھ حرام نہیں الایہ کہ تمہارے اونٹوں میں یا تمہاری بکریوں میں کوئی ایسا نوزائیدہ بچہ ہو جسے تم اپنے مویشیوں کا دودھ پلاتے ہویہاں تک کہ تمہیں ضرورت نہ رہے پھر اگر تم چاہو تو اپنے گھروالوں کو اس میں سے کھلاؤ اور اگر چاہو تو اس کا گوشت صدقہ کردو۔ طبرانی فی الکبیر عن حبیب بن سلیمان بن سمرۃ عن ابیہ عن جدہ
41760- من مسند سمرة بن جندب أحل لك الطيبات وأحرم عليك الخبائث إلا أن تفتقر إلى طعام فتأكل منه حتى تستغني، قال: ما فقري الذي آكل ذلك إذا بلغته؟ قال: إذا كنت ترجو نتاجا فتبلغ بلحوم ماشيتك إلى نتاجك، أو كنت ترجو عشاء تصيبه مدركا فتبلغ إليه بلحوم ماشيتك، أو كنت ترجو فائدة تنالها فتبلغها بلحوم ماشيتك؛ وإذا كنت لا ترجو من ذلك شيئا فأطعم أهلك ما بدا لك حتى تستغني عنه، قال: وما غناي الذي أدعه إذا وجدته، قال: إذا رويت أهلك غبوقا من اللبن فاجتنب ما حرم عليك من الطعام، وأما مالك فإنه ميسور كله ليس منه حرام غير أن في نتاجك من إبلك فرعا وفي نتاجك من غنمك فرعا تغذوه ماشيتك حتى تستغني، ثم إن شئت فأطعمه أهلك وإن شئت تصدقت بلحمه."طب عن حبيب بن سليمان بن سمرة عن أبيه عن جده".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৭৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خرگوش
٤١٧٦١۔۔۔ حضرت عمربن خطاب (رض) سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھنا ہواخرگوش لایاتو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے کھاؤ ! تودیہاتی نے کہا : میں نے اس کا حیض کی طرح بہتا خون دیکھا ہے آپ نے فرمایا : کھاؤ۔ ابن وھب وابن جریر
41761- عن عمر بن الخطاب أن رجلا من أهل البادية أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم بأرنب مشوية، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "كلوا"، فقال الأعرابي: قد رأيت بها دما! فقال: "كلوا"."ابن وهب وابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৭৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خرگوش
٤١٧٦٢۔۔۔ موسیٰ بن طلحہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت عمر (رض) نے خرگوش کے بار میں پوچھا تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں حدیث میں کمی یا زیادتی کردوں گا تو میں تمہارے واسطے عمار کی طرف کسی کو بھیجتا تو وہ آکرکہنے لگے : ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے ہم نے فلانی جگہ پر پڑاؤ کیا تو ایک دیہاتی شخص نے آپ کی خدمت میں ایک خرگوش ہدیہ میں بھیجا تو ہم نے اسے کھایا وہ اعرابی ہنے لگا : یارسول اللہ ! میں نے اسے خون والا دیکھا ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ ابن ابی شیبۃ وابن جریر
41762- عن موسى بن طلحة أن رجلا سأل عمر عن الأرنب فقال عمر لولا أني أزيد في الحديث أو أنقص منه وسأرسل لك إلى عمار فجاء فقال: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم فنزلنا في موضع كذا وكذا، فأهدي إليه رجل من الأعراب أرنبا فأكلناها، فقال الأعرابي: يا رسول الله! إني رأيتها تدمي! فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "لا بأس بها"."ش وابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৭৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خرگوش
٤١٧٦٣۔۔۔ موسیٰ بن طلحہ سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوذرعمار اور ابوالدرداء ر ضی اللہ تعالیٰ عنہم سے کہا : کیا تمہیں یاد ہے کہ ہم لوگ فلانی جگہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے آپ کے پاس ایک دیہاتی خرگوش لے کر آیا وہ کہنے لگا : یارسول اللہ ! میں اس میں خون دیکھتاہوں تو آپ نے ہمیں اس کے کھانے کا حکم دیا اور آپ نے نہیں کھایا انھوں نے کہا : ہاں پھر کہا قریب ہوجاؤ کھاؤ انھوں نے کہا : میں روزہ سے ہوں۔ رواہ البیہقی
41763- عن موسى بن طلحة قال: قال عمر لأبي ذر وعمار وأبي الدرداء: أتذكرون يوم كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم بمكان كذا وكذا، فأتاه أعرابي بأرنب فقال: يا رسول الله! إني رأيت فيها دما، فأمرنا بأكلها ولم يأكله، قالوا: نعم، ثم قال: أدن أطعم، قال: "إني صائم"."ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৭৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خرگوش
٤١٧٦٤۔۔۔ (ازمسند جابربن عبداللہ) کہ ایک لڑکے نے خرگوش کا شکار کیا تو عروہ نے اسے ذبح کیا پھر انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ نے انھیں اس کے کھانے کا حکم دیا۔ رواہ ابن جریر
41764- من مسند جابر بن عبد الله إن غلاما من قومه صاد أرنبا، فذكاها عروة فسأل رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأمره بأكلها."ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৭৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خرگوش
٤١٧٦٥۔۔۔ ابن عمرو سے روایت ہے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک خرگوش لا گیا میں آپ کے قریب بیٹھا تھا آپ نے نہ اس کے کھانے کا حکم دیا اور نہ اس کے کھانے سے منع فرمایا اور خیال کیا جاتا ہے کہ اسے حیض کا خون آتا ہے۔ رواہ ابن جریر
41765- عن ابن عمرو قال: جئ بالأرنب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا قاعد عنده، فلم يأمر بأكلها ولم ينه وزعم أنها تحيض."ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৭৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نپیر
٤١٧٦٦۔۔۔ کثیر بن شہاب سے روایت ہے فرمایا : میں نے حضرت عمربن خطاب (رض) سے پنیر کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا : نپیر دودھ پانی اور کھیس سے تیار کی جاتی ہے سو اس پر اللہ تعالیٰ کا نام لے کر اسے کھالو اور اللہ تعالیٰ کے دشمن تمہیں دھوکا میں نہ ڈالیں۔ رواہ ابن عساکر
41766- عن كثير بن شهاب قال: سألت عمر بن الخطاب عن الجبن، فقال: إن الجبن يصنع من اللبن والماء واللبأ فكلوا واذكروا اسم الله، ولا يغرنكم أعداء الله."كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৮০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نپیر
٤١٧٦٧۔۔۔ حمزہ زیات سے روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب (رض) نے کثیر بن شہاب کو لکھا کہ جو لوگ تمہارے پاس ہیں انھیں پنیر رونی پنیر کے ساتھ کھانے کا حکم دو کیونکہ وہ زیادہ دیر پیٹ میں رہتی ہے۔ رواہ ابن عساکر
41767- عن حمزة الزيات قال: كتب عمر إلى كثير بن شهاب: مر من قبلك فليأكل الخبز الفطير بالجبن، فإنه أبقى في البطن."كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৮১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نپیر
٤١٧٦٨۔۔۔ تو ربن قدامہ سے روایت ہے کہ ہمارے پاس حضرت عمر (رض) کا خط آیا کہ صرف وہ پنیر کھاؤج سے مسلمان اور اہل کتاب بنائیں۔ رواہ البیہقی
41768- عن ثور بن قدامة قال: جاءنا كتاب عمر بن الخطاب أن لا تأكلوا من الجبن إلا ما صنع المسلمون وأهل الكتاب."ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৮২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نپیر
٤١٧٦٩۔۔۔ زید بن وھب سے روایت ہے فرمایا : کہ ان کے پاس حضرت عمر (رض) کا خط آیا اور وہ کسی جنگی مہم میں تھے، مجھے پتہ چلا ہے کہ تم ایسی زمین میں ہو جہاں ایک چیز تم لوگ کھاتے ہوج سے نپیر کہا جاتا ہے تو اس کے حلال کو حرام سے ممتاز کرلینا اور تم چمڑے کا ایک لباس پہنتے ہو تو اسے مردار سے پاک کرکے پہنتا۔ رواہ البیہقی
41769- عن زيد بن وهب قال: أتاهم كتاب عمر وهم في بعض المغازي: بلغني أنكم في أرض تأكلون طعاما يقال له الجبن فانظروا ما حلاله من حرامه! وتلبسون الفراء فانظروا ذكية من ميتة."ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৮৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نپیر
٤١٧٧٠۔۔۔ شقیق سے روایت ہے کہ کسی نے حضرت عمر (رض) سے کہا : کچھ لوگ نپیر بناتے ہیں اور اس میں بکری کے دودھ پیتے بچہ کی اوجھ ڈالتے ہیں تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : بسم اللہ پڑھو اور کھالو۔ عبدالرزاق ابن ابی شیبۃ
41770- عن شقيق أنه قيل لعمر: إن قوما يعملون الجبن فيصنعون فيه أنافيح، فقال عمر: سموا الله وكلوا."عب، ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৮৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نپیر
٤١٧٧١۔۔۔ کثیر بن شہاب سے روایت ہے فرمایا : میں نے حضرت عمر (رض) سے نپیر کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا : بسم اللہ پڑھو اور کھالو کیونکہ یہ تودودھ ہے یا پیوسی۔ عبدالرزاق بیہقی
41771- عن كثير بن شهاب قال: سألت عمر بن الخطاب عن الجبن، فقال: اذكر اسم الله وكل، فإنما هو لبن أو لبأ."عب، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৮৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نپیر
٤١٧٧٢۔۔۔ حارث حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں فرمایا : ان کے پاس ایک عورت بکری کا بچہ لے کر گزری آپ نے فرمایا اہل و عیال کے لیے بہترسالن ہے اور ایک شخص پنیر کا ٹکڑالے کر گزارتو آپ نے فرمایا : جانتے ہوا سے کیسے کھانا ہے ؟ بسم اللہ پڑھو چھری سے کاٹو اور کھالو۔ ھناد بن السری فی حدیثہ
41772- عن الحارث عن علي قال: مرت عليه امرأة بجدية فقال: نعم إدام العيال! ومر عليه رجل بجبنة فقال: تدري كيف تأكل هذا؟ قل "بسم الله" بسكين واقطع وكل."هناد بن السرى في حديثه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৮৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گوہ
٤١٧٧٣۔۔۔ (مسندعمر) حضرت عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گوہ کو حرام قرار نہیں دیا بلکہ اس سے گھن محسوس کی۔ مسنداحمد، مسلم، نسائی وابن جریر وابوعوانۃ، بیہقی
41773-مسند عمر عن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم لم يحرم الضب ولكنه قذره."حم، م، ن وابن جرير وأبو عوانة، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭৮৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گوہ
٤١٧٧٤۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : مجھے یہ پسند نہیں کہ میرے لیے گوہوں کے بدلے سرخ اونٹنیاں ہوں۔ رواہ ابن جریر
41774- عن عمر قال: ما أحب أن لي بالضباب حمر النعم."ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক: