কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩০১১ টি
হাদীস নং: ৪১৭৮৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گوہ
٤١٧٧٥۔۔۔ سعید بن المسیب حضرت عمربن خطاب سے روایت کرتے ہیں کہ ان سے گوہ کے بارے میں پوچھا گیا آپ نے فرمایا : کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اسے لایا گیا تو آپ نے نہ اسے کھانے کا حکم دیا اور نہ اس سے منع فرمایا، البتہ خود کھانے سے انکار کیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صرف اسے ناپسند کیا اگر ہمارے پاس ہوتی تو ہم اسے کھالیتے وہ ہماری حفاظت اور سفر کا ذریعہ ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے بہت سے لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ رواہ ابن جریر
41775- عن سعيد بن المسيب أن عمر بن الخطاب سئل عن الضب وقال: أتى به النبي صلى الله عليه وسلم، فلم ينه عنه ولم يأمر به، وأبى أن يأكله. وإنما تقذره رسول الله صلى الله عليه وسلم ولو كان عندنا لأكلناه، وإنه لرعائنا وسفرنا، وإن الله لينفع به ناسا كثيرا."ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৭৮৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گوہ
٤١٧٧٦۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : کاش ہر بل میں ایک گوہ پھنسی ہوئی۔ عبدالرزاق ابن ابی شیبۃ، ابن جریر
41776- عن عمر قال: وددت أن في كل جحر ضب ضبين."عب، ش وابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৭৯০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گوہ
٤١٧٧٧۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت کہ گوہ مجھے مرغی سے زیادہ پسند ہے۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر
41777- عن عمر قال: ضب أحب إلي من دجاجة."ش وابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৭৯১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گوہ
٤١٧٧٨۔۔۔ ثابت بن زید (رض) یایزید انصاری (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ ہم نے بہت سی گو ہیں شکارکیں ہم لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے آپ نے ایک چھڑی سے اس کی انگلیاں شمار کیں پھر فرمایا : بنی اسرائیل ہیں۔ میں نے عرض کی : لوگوں نے توا سے بھون لیا ہے تو آپ نے اس کے کھانے سے منع نہیں فرمایا اور خود نہیں کھایا۔ رواہ ابن جریر
41778- عن ثابت بن زيد أو يزيد الأنصاري قال: أصبنا ضبابا ونحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأخذ عودا فعد أصابعه ثم قال: "إن أمة من بني إسرائيل مسخت في الأرض فلا أدري أي الدواب هي"! فقلت: إن الناس قد اشتووها، فلم ينه عنها ولم يأكل."ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৭৯২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گوہ
٤١٧٧٩۔۔۔ ثابت بن ودیعۃ انصاری سے روایت ہے کہ فزارہ کے ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بہت سی گو ہیں بھون کر لائیں تو آپ نے فرمایا ایک امت کی شکلیں مسخ ہوئیں تھیں مجھے علم نہیں کہ کیا یہ ان کی طرح ہیں۔ ابن جریر و ابونعیم
41779- عن ثابت بن وديعة الأنصاري أن رجلا من بني فزارة أتى النبي صلى الله عليه وسلم بضباب قد احتوشها، فقال: "إن أمة مسخت فلا أدري هل هذا منهم"."ابن جرير وأبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৭৯৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گوہ
٤١٧٨٠۔۔۔ ازمسندجابربن سمرۃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک دیہاتی آکر کہنے لگا : یارسول اللہ ! گوہ کے متعلق کیا ارشاد فرماتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : بنی اسرائیل کی ایک جماعت مسخ ہوگئی تھی مجھے پتہ نہیں کن جانوروں کی شکل میں مسخ ہوئی تھی نہ میں اس کے بارے میں حکم دیتاہوں اور نہ اس سے منع کرتا ہوں۔ طبرانی فی الکبیر عن جابر بن سمرہ
41780-من مسند جابر بن سمرة أتى أعرابي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله! ما تقول في الضب؟ فقال: "مسخت أمة من بني إسرائيل لا أدري أي الدواب مسخت! ولا آمر به ولا أنهى عنه"."طب - عن جابر بن سمرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৭৯৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گوہ
٤١٧٨١۔۔۔ (ازمسند جابر بن عبداللہ) حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک گوہ لائی گئی تو آپ نے اسے نہیں کھایاحضرت عمر (رض) نے کہا : اس میں چرواہوں کے لیے منفعت ہے آپ نے فرمایا : ایک امت مسخ کردی گئی، مجھے پتہ نہیں شایدیہ ان جیسی ہو۔ پھر آپ نے نہ اس کے کھانے کا حکم دیا اور نہ اس سے منع کیا اور خود نہیں کھایا۔ رواہ ابن جریر
41781- من مسند جابر بن عبد الله عن جابر أن الضب أتى به النبي صلى الله عليه وسلم فلم يأكله، فقال عمر: إن فيه منفعة للرعاء، فقال: "إن أمة من الأمم مسخت فلا أدري لعلها"! فلم يأمر به ولم ينه عنه ولم يأكله."ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৭৯৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گوہ
٤١٧٨٢۔۔۔ حضرت حذیفہ بن یمان (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ایک گوہ لائی گئی تو آپ نے فرمایا : کہ ایک امت زمین کے چوپاؤں کی صورت مسخ ہوگئی تھی۔ پھر آپ نے نہ اس کے کھانے کا حکم دیا اور نہ اس سے منع کیا۔ ابن جریروابونعیم
41782- عن حذيفة بن اليمان قال: أتى النبي صلى الله عليه وسلم بضب فقال: "إن أمة مسخت دواب في الأرض"، فلم يأمر به ولم ينه عنه."ابن جرير وأبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৭৯৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گوہ
٤١٧٨٣۔۔۔ ازمسندخزیمۃ بن جزء اسلمی ، حبان بن جزء اپنے بھائی خزیمہ بن جزء سے روایت کرتے ہیں (رح) : فرمایا : میں نے عرض کی یارسول اللہ ! گوہ کے بارے میں آپ حرام قرار نہ دیں، آپ نے فرمایا : ایک امت گم ہوگئی اور میں نے ایک مخلوق دیکھی تو اس نے مجھے شک میں ڈال دیا۔ الحسن ابن سفیان وابن جریر و ابونعیم
41783- من مسند خزيمة بن جزء السلمي عن حبان ابن جزء عن أخيه خزيمة بن جزء قال: يا رسول الله صلى الله عليه وسلم! ما تقول في الضب؟ فقال: "لا آكله ولا أحرمه"، قلت: فإني آكل مما لا تحرمه، قال: "فقدت أمة من الأمم ورأيت خلقا رابني"."الحسن ابن سفيان وابن جرير وأبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৭৯৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گوہ
٤١٧٨٤۔۔۔ خزیمہ بن جزء سے روایت ہے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زمین (پربسنے والے جانور) کی اجناس کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا : جو چاہو پوچھو، میں نے عرض کی یارسول اللہ ! مجھے گوہ کے بارے میں بتائیں آپ نے فرمایا : نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ اس سے منع کرتا ہوں مجھ سے یہ بیان کیا گیا کہ بنی اسرائیل کا ایک گروہ مسخ کردیا گیا اور اسے زمین کے چوپائے بنادیا گیا۔ میں نے عرض کی : خرگوش ؟ آپ نے فرمایا : نہ میں اسے کھاتا ہوں کیونکہ اس وقت آپ کا روزہ تھا اور نہ اس سے منع کرتا ہوں مجھے یہ پتہ چلا ہے کہ اسے خون حیض آتا ہے۔ میں نے عرض کی لومڑی ؟ آپ نے فرمایا : بھلالومڑی بھی کوئی کھاتا ہے ؟ میں نے عرض کی بجو ؟ آپ نے فرمایا : بجو بھی کوئی کھاتا ہے ؟ میں نے عرض کی : بھیڑیا ؟ آپ نے فرمایا : بھلابھیڑ یا بھی کوئی کھایا کرتا ہے جس میں کوئی خیرہو ؟ الحسن بن سفیان و ابونعیم
41784- عن خزيمة بن جزء قال: سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أجناس الأرض فقال: "سل عما شئت"، قلت: يا رسول الله! أخبرني عن الضب، قال: "لا آكل ولا أنهي عنه، حدثت أن أمة من بني إسرائيل مسخت دواب في الأرض"، قلت: فالأرنب؟ قال: "لا آكلها ولا أنهي عنها، إني نبئت أنها تحيض"، قلت: والثعلب؟ قال: "وهل يأكل الثعلب أحد"؟ قلت: فالضبع، قال: "وهل يأكل الضبع أحد"؟ قلت: فالذئب؟ "قال وهل يأكل الذئب أحد فيه خير"."الحسن بن سفيان وأبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৭৯৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گوہ
٤١٧٨٥۔۔۔ زید بن ثابت (رض) سے روایت ہے فرمایا : غزوہ خیبر میں ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ تھے تو ہم نے بہت سی گوہوں کا شکار کیا میں نے اور لوگوں نے انھیں بھونا پھر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اسے لے کر آپ کے سامنے رکھ دیا آپ نے ایک چھڑی لے کر اس کی انگلیاں گننا شروع کردیا پھر فرمایا : ایک امت زمین کے جانوروں کی صورت مسخ ہوگئی مجھے معلوم نہیں کہ وہ کون سی امت ہے چنانچہ آپ نے تو نہیں کھائی، میں نے عرض کی لوگوں نے اس میں سے کچھ کھایا مگر آپ نے نہ انھیں حکم دیا اور نہ روکا۔ رواہ ابن جریر
41785- عن زيد بن ثابت قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة خيبر فأصبنا ضبابا، فاشتوى الناس منها واشتويت، ثم أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فوضعته بين يديه، فأخذ عودا فجعل يعد أصابعه فقال: "إن أمة من الأمم مسخت دواب فلا أدري أي أمة! فلم يأكل"، فقلت له: إن الناس قد أكلوا منها، فلم يأمرهم ولم ينههم."ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৭৯৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گوہ
٤١٧٨٦۔۔۔ سمرۃ بن جندب سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آپ کے خطبہ کے دوران گوہ کے بارے میں پوچھا تو اس نے آپ کا خطبہ روک کر کہا : یارسول اللہ ! گوہوں کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : بنی اسرائیل کی ایک امت مسخ ہوگئی اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کس جانور کی صورت میں انھیں مسخ کیا گیا۔ رواہ ابن جریر
41786- عن سمرة بن جندب أن أعرابيا سأل رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يخطب عن الضب فقطع عليه خطبته فقال: يا رسول الله صلى الله عليه وسلم! ما تقول في الضباب؟ فقال: "إن أمة من بني إسرائيل مسخت والله أعلم أي الدواب مسخت"."ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮০০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گوہ
٤١٧٨٧۔۔۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں گھی، پنیر اور گوہ بدیہ میں بھیجی گئی تو آپ نے گھی اور نپیر تو کھالی اور گوہ کے بارے میں فرمایا : یہ ایسی چیز ہے جو میں نے نہیں کھائی۔ رواہ ابن جریر
41787- عن ابن عباس قال: أهدي لرسول الله صلى الله عليه وسلم سمن وأقط وضب، فأكل من السمن والأقط، وقال للضب: "إن هذا شيء ما أكلته"."ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮০১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گوہ کا گوشت حلال ہے
٤١٧٨٨۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے کسی ہدیہ میں نپیر، گھی اور گوہ بھیجی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جہاں تک یہ گوہ ہے تو ہماری زمین میں نہیں پائی جاتی جو اسے کھانا چاہے کھالے تو وہ آپ کے دسترخوان پر کھائی گنی لیکن آپ نے اس میں سے نہیں کھایا۔ رواہ ابن جریر
41788- عن ابن عباس قال: أهدي لرسول الله صلى الله عليه وسلم أقط وسمن وضب، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أما هذا فليس بأرضنا، من أحب منكم أن يأكل منه فليأكل"، فأكل على خوانه ولم يأكل منه."ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮০২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گوہ کا گوشت حلال ہے
٤١٧٨٩۔۔۔ حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کچھ صحابہ (رض) تھے جن میں حضرت سعد بھی تھے تو یہ لوگ گوشت کھانے گئے تو انھیں ایک عورت نے آوازدی کہ یہ گوہ کا گوشت ہے تو ان لوگوں نے ہاتھ کھینچ لیے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کھاؤ، کیونکہ یہ حلال ہے فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں لیکن میرا کھانا نہیں۔ رواہ ابن جریر
41789- عن ابن عمر قال: كان ناس من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فيهم سعد فذهبوا يأكلون من لحم، فنادتهم امرأة أنه لحم ضب، فأمسكوا، فقال لهم النبي صلى الله عليه وسلم: "كلوا - أو: اطعموا - فإنه حلال؛ أو قال: لا بأس به، ولكنه ليس من طعامي"."ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮০৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گوہ کا گوشت حلال ہے
٤١٧٩٠۔۔۔ ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک ایک گوہ لائی گئی آپ نے فرمایا : میں نہ اس کے کھانے کا حکم دیتا ہوں اور نہ اس سے منع کرتا ہوں یا فرمایا : نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ اسے حرام قرار دیتا ہوں رواہ ابن جریر
41790- عن ابن عمر قال: أتى النبي صلى الله عليه وسلم بضب، فقال: "لا آمر به ولا أنهي عنه - أو قال: لا أكله ولا أحرمه"."ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮০৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گوہ کا گوشت حلال ہے
٤١٧٩١۔۔۔ ابن عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چند صحابہ (رض) آپ کے پاس گوہ کھا رہے تھے ان میں سعد بن مالک بھی تھے تو انھیں ازواج نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سے ایک خاتون نے کہا : یہ گوہ ہے تو ان لوگوں نے اپنے ہاتھ روک لیے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کھاؤیہ حلال ہے اس میں کوئی حرج نہیں لیکن میری قوم کی غذا نہیں ہے۔ رواہ ابن عساکر
41791- عن ابن عمر قال: كان ناس من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم عنده يأكلون ضبا، منهم سعد بن مالك، فنادتهم امرأة من أزواج النبي صلى الله عليه وسلم أنه ضب، فأمسكوا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "كلوا، فإنه حلال ولا بأس به ولكن ليس من طعام قومي"."كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮০৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گوہ کا گوشت حلال ہے
٤١٧٩٢۔۔۔ یزید بن الا صم حضرت میمونہ وجہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں جو ان کی خالہ ہوتی ہیں کہ ان کے پاس کسی نے گوہ ہدیہ میں بھیجی تو انھوں نے اسے پکار کر کھانا بنانے کا حکم دیا اتنے میں ان کی قوم کے دومردان کے ہاں مہمان آئے تو انھوں نے خصوصا انہی دوکو وہ پیش کی پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے آپ نے انھیں مرحباکہا، پھر کھانا کھانے لگے، آپ نے فرمایا : یہ کیا ہے ؟ انھوں نے کہا : گوہ ہے جو ہماری لیے ہدیہ میں آئی ہے تو آپ نے اسے پھینک دیا پھر اپنا ہاتھ روک لیاتوان دونوں صاحبوں نے بھی اپنے ہاتھ کھینچ لیے آپ نے فرمایا : تم کھاؤ کیونکہ تم نجدوالے اسے کھاتے ہو اور ہم تہامہ حجاز والے نہیں کھاتے اس سے کھن کرتے ہیں۔ رواہ جریر
41792- عن يزيد بن الأصم عن ميمونة زوج النبي صلى الله عليه وسلم وهي خالته أنه أهدي لها ضب، فأمرت به فصنع طعاما، فأتاها رجلان من قومها فقدمته إليهما تخصمهما به، فدخل النبي صلى الله عليه وسلم فرحب بهما ثم تناول ليأكل فقال: "ما هذا؟ " فقالوا: ضب أهدي لنا! فقذفه ثم كف يده، فكف الرجلان أيديهما، فقال لهما: "كلا، فإنكما أهل نجد تأكلونها وإنا أهل تهامة نعافها"."ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮০৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گوہ کا گوشت حلال ہے
٤١٧٩٣۔۔۔ عبدالرحمن بن حسنہ سے روایت ہے فرمایا : ہم ایک غزوہ میں تھے تو ہمیں سخت بھوک لگی، پھر ہم نے ایسی زمین میں پڑاؤ کیا جہاں بہت سی گو ہیں تھیں تو ہم نے انھیں پکڑکرپکایا پھر ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا آپ نے فرمایا : بنی ارائیل کی ایک امت گم ہوگئی۔ اور ایک روایت میں ہے مسیخ کردی گئی، مجھے ڈر ہے کہ یہ نہ ہو اس کی ہنڈیاں الٹ دو اور ہم اگرچہ بھوکے تھے پھر بھی ہم نے ہنڈیاں الٹ دیں۔ روادابن جریر
41793- عن عبد الرحمن بن حسنة قال: غزونا فأصابتنا مجاعة فنزلنا أرضا كثيرة الضباب فأخذنا منها فطبخنا، فسألنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "إن أمة من بني إسرائيل فقدت - وفي لفظ: مسخت - فأخاف أن تكون هذه، فاكفئوها، فاكفانا القدور وإنا لجياع"."ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮০৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گوہ کا گوشت حلال ہے
٤١٧٩٤۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے گوہ کونا پسند کیا اور اس کے کھانے سے منع فرمایا۔ رواہ ابن جریر
41794- عن علي أنه كره الضباب ونهي عنها."ابن جرير".
তাহকীক: