কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩০১১ টি

হাদীস নং: ৪১৮২৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پینے کی ممنوع حالتیں
٤١٨١٥۔۔۔ ابوسعید سے روایت ہے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھڑے ہو کر پینے سے ڈانٹا ہے۔ رواہ ابن جریر
41815 عن أبي سعيد قال : زجر رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الشرب قائما (ابن جرير).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮২৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پینے کی ممنوع حالتیں
٤١٨١٦۔۔۔ زھری حضرت ابوہریرہ (رض) سے وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں فرمایا : اگر کھڑے ہو کر پینے والے کو پتہ چل جائے تو جو کچھ اس کے پیٹ میں ہے اسے قے کردے۔ رواہ ابن جریر، کلام۔۔۔ الفواسخ ١٥٧٥۔
41816 عن الزهري عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : لو يعلم الذي يشرب قائما لاستقاء ما في بطنه (ابن جرير).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৩০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پینے کی ممنوع حالتیں
٤١٨١٧۔۔۔ ابوصالح حضرت ابو ہریرہ (رض) سے وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح روایت کرتے ہیں : انھوں نے فرمایا کہ یہ بات حضرت علی (رض) کو پتہ چلی آپ نے پانی منگوایا اور رخصت کی حدیث بتانے کے لیے پانی کو کھڑے ہو کرپیا۔ رواہ ابن جریر
41817 عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم - بمثله ، قال : فبلغ ذلك عليا فدعا بماء فشربه قائما (ابن جرير).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৩১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پینے کی ممنوع حالتیں
٤١٨١٨۔۔۔ حضرت ابو ہریرہ (رض) سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی کھڑے ہو کرپانی نہ پنے جو بھول جائے تو وہ قے کردے۔ رواہ ابن جریر
41818 عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا يشرب أحد منكم قائما ، فمن نسي فليتقيأ (ابن جرير).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৩২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پینے کی ممنوع حالتیں
٤١٨١٩۔۔۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھڑے ہو کر کھانے پینے سے منع فرمایا ہے۔ راہ ابن جریر
41819 عن أنس قال : نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الشرب قائما وعن الاكل قائما (ابن جرير).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৩৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پینے کی ممنوع حالتیں
٤١٨٢٠۔۔۔ (مسندعلی) مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چاندی کے برتن میں پینے سے منع فرمایا ہے۔ طبرانی فی الاوسط
41820 (مسند علي) نهاني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أشرب في إناء من فضة (طس).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৩৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پینے کی مباح صورتیں
٤١٨٢١۔۔۔ ازمسندحسین بن علی، بشربن غالب ، حضرت حسین بن علی (رض) سے روایت کرتے ہیں فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کھڑے ہو کرپانی پیتے دیکھا۔ رواہ ابن جریر
41821- من مسند الحسين بن علي عن بشر بن غالب عن الحسين بن علي قال: رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يشرب وهو قائم."ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৩৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پینے کی مباح صورتیں
٤١٩٢٢۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کھڑے ہو کرپانی پیتے دیکھا۔ ابن جریر
41822- عن ابن عباس قال: رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يشرب وهو قائم."ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৩৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پینے کی مباح صورتیں
٤١٨٢٣۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانی طلب کیا اور پھر کھڑے ہو کر نوش فرمایا۔ رواہ ابن جریر
41823- عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم استسقى فشرب وهو قائم."ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৩৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پینے کی مباح صورتیں
٤١٨٢٤۔۔۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو زمزم کا ایک ڈول بھرکردیاتو آپ نے کھڑے ہو کرپیا۔ رواہ ابن جریر
41824- عن ابن عباس قال: ناولت النبي صلى الله عليه وسلم دلوا من زمزم فشرب وهو قائم."ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৩৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پینے کی مباح صورتیں
٤١٨٢٥۔۔۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مزم کے پاس سے گزرے تو پانی طلب کیا تو میں ایک ڈول بھرکر آپ کے پاس لایا اور آپ نے کھڑے ہو کرپیا۔ رواہ ابن جریر
41825- عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر بزمزم فاستسقى، فأتيته بدلو فشرب وهو قائم."ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৩৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پینے کی مباح صورتیں
٤١٨٢٦۔۔۔ زہری سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کبھی کبھار کھڑے ہو کرپیتے تھے۔ رواہ ابن جریر
41826- عن الزهري أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يشرب قائما."ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৪০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پینے کی مباح صورتیں
٤١٨٢٧۔۔۔ (مسندعلی) عائشۃ بنت سعد حضرت سعد سے روایت کرتی ہیں فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی وقت کھڑے ہو کر پیتے تھے۔ رواہ ابن جریر
41827- مسند علي عن عائشة ابنة سعد عن سعد قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يشرب قائما."ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৪১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پینے کی مباح صورتیں
٤١٨٢٨۔۔۔ (مسندانس) قتادۃ حضرت انس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھڑے ہو کرپینے سے منع فرمایا، کہتے ہیں میں نے حضرت انس (رض) سے کھڑے ہو کر کھانے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا : وہ تو اس سے بھی زیادہ سخت ممنوع ہے۔ رواہ ابن جریر
41828- مسند أنس عن قتادة عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى أن يشرب الرجل قائما، قال: فسألنا أنسا عن الأكل، فقال: هو أشد من الشرب."ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৪২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پینے کی مباح صورتیں
٤١٨٢٩۔۔۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھڑے ہو کرپیا ہے۔ رواہ ابن جریر
41829- عن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم شرب قائما."ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৪৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لباس کے آداب
٤١٨٣٠۔۔۔ (مسندالصدیق) حضرت ابوبکر (رض) سے روایت ہے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ازار کے بارے میں پوچھا تو آپ نے پنڈلی کی موٹی ہڈی پکڑی میں نے عرض کی : میرے لیے اضافہ فرمائیں تو آپ نے اس کا پہلاحصہ پکڑا میں نے عرض کی : میرے لیے اضافہ فرمائیں آپ نے فرمایا : اس سے نیچے میں کوئی خیر نہیں میں نے عرض کی : یارسول اللہ ! ہم لوگ ہلاک ہوگئے آپ نے فرمایا : درست رہوقریب رہونجات پاجاؤ گے۔ دارقطنی فی العلل، حلیۃ الاولیاء وابو بکرالشافعی فی الغیلانیات
41830- "مسند الصديق" عن أبي بكر قال: سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الإزار، فأخذ بعضلة الساق، فقلت: زدني، فأخذ بمقدم العضلة، فقلت: زدني، فقال: "لا خير فيما هو أسفل من ذلك"؛ فقلت: هلكنا يا رسول الله! فقال: "سدد وقارب تنج"."قط في العلل، حل، وأبو بكر الشافعي في الغيلانيات".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৪৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لباس کے آداب
٤١٨٣١۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے فرمایا : میں نے اپنے کپڑے پہنے تو میں نے گھر میں چلتے ہوئے اپنے دامن کو دیکھنا شروع کردیا۔ یوں میں اپنے کپڑوں اور دامن میں مشغول ہوگئی اتنے میں حضرت ابوبکر (رض) تشریف لائے آپ نے فرمایا : عائشہ ! کیا تمہیں پتہ نہیں کہ اب اللہ تعالیٰ تمہاری طرف نہیں دیکھ رہا۔ ابن المبارک، حلیۃ الاولیاء وھوفی حکم المرفوع
41831- عن عائشة قالت: لبست ثيابي فطفقت أنظر إلى ذيلي وأنا أمشي في البيت والتفت إلى ثيابي وذيلي، فدخل علي أبو بكر وقال: يا عائشة! أما تعلمين أن الله لا ينظر إليك الآن."ابن المبارك، حل، وهو في حكم المرفوع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৪৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لباس کے آداب
٤١٨٣٢۔۔۔ حضرت عائشۃ (رض) نے فرمایا : کیا دیکھ رہی ہو ! اللہ تعالیٰ تو تمہیں نہیں دیکھ رہا میں نے کہا : کس لیے آپ نے فرمایا کیا تمہیں پتہ نہیں بندہ کے دل میں جب دنیا کی زینت کی وجہ سے عجب خود پسندی داخل ہوتاجاتا ہے تو جب تک وہ زینت کی جدانہ کرے اس کا رب اس سے ناراض رہتا ہے فرماتی ہیں ! تو میں نے اسے اتار کر صدقہ کردیا تو حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : امید ہے یہ تمہارا کفارہ بن جائے۔ حیلۃ الاولیاء ولہ ایضاحکم المرفوع
41832- عن عائشة قالت: لبست مرة درعا لي جديدا فجعلت أنظر إليه وأعجب به، فقال أبو بكر: ما تنظرين! إن الله ليس بناظر إليك، قلت: ومم ذاك؟ قال: أما علمت أن العبد إذا دخله العجب بزينة الدنيا مقته ربه حتى يفارق تلك الزينة، قالت: فنزعته فتصدقت به، فقال أبو بكر: عسى ذلك أن يكفر عنك."حل، وله أيضا حكم الرفع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৪৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لباس کے آداب
٤١٨٣٣۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : میں نے رسول اللہ کو دیکھا کہ آپ نے نئے کپڑے منگوائے اور پہن لیے جب وہ آپ کی ہنسلی تک پہنچے تو فرمایا : الحمد للہ الذی کسانی ماأواری بہ عورتی واتجمل بہ فی حیاتی پھر فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! جو بندہ نیاکپڑاپہنتا ہے اور پھر وہی الفاظ کہتا ہے جو میں نے کہے اس کے بعد اپنے ان پرانے کپڑوں کی طرف متوجہ ہو جو اس نے اتارے اور وہ کسی فقیر مسلمان کو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے پہناتا ہے توہ وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حفاظ وامان اور قرب میں رہے گا جب تک اس کے جسم پر ایک دھاگہ بھی باقی رہے گا۔ زندہ مردہ زندہ زندہ مردہ دونوں حالتوں میں۔ ابن المبارک وھنا دوابن ابی الدنیا فی الشکرطبرانی فی الدعائ، حاکم، بیہقی وقال : اسنادہ غیر قوی وابن الجوزی فی الواھیات وحسنہ ابن فی امالیہ
41833- عن عمر قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم دعا بثياب جدد فلبسها، فلما بلغت تراقيه قال: "الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي، وأتجمل به في حياتي"؛ ثم قال: "والذي نفسي بيده! ما من عبد مسلم يلبس ثوبا جديدا ثم يقول مثل ما قلت ثم يعمد إلى سمل " من أخلاقه التي وضع فيكسوه إنسانا مسلما فقيرا لا يكسوه إلا لله لم يزل في حرز الله، وفي ضمان الله، وفي جوار الله ما دام عليه منه سلك واحد، حيا وميتا، حيا وميتا، حيا وميتا". "ابن المبارك، وهناد، وابن أبي الدنيا في الشكر، طب في الدعاء، ك، هب وقال: إسناده غير قوي، وابن الجوزي في الواهيات، وحسنه ابن في أماليه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮৪৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لباس کے آداب
٤١٨٣٤۔۔۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے فرمایا کہ ایک عورت حضرت عمر (رض) کے پاس آکر کہنے لگی : امیرالمومنین ! میری قمیض پھٹ جاتی ہے آپ نے فرمایا : کیا میں نے تمہیں کپڑے نہ پہنائے ؟ اس نے کہا : کیوں نہیں، لیکن وہ پھٹ گئی چنانچہ آپ نے اس کے لیے قمیض منگائی جو پیونتی اور سی گئی اور فرمایا : یہ پرانی قمیض اس وقت پہنا کروجب روٹی اور بانڈی پکاتی ہو اور جب فارغ ہواکر و تو اسے پہن لیا کرو اس لیے کہ جو پرانانہ پہنے اس کے لیے کوئی نیاکپڑا نہیں۔ رواہ البیہقی
41834- عن أنس أن امرأة أتت عمر بن الخطاب فقالت: يا أمير المؤمنين! إن درعي تخرق، قال: ألم أكسك؟ قالت: بلى، ولكنه تخرق؛ فدعا لها بدرع فجيب وخيط، وقال: البسي هذا - يعني الخلق - إذا خبزت وإذا جعلت البرمة، والبسي هذا إذا فرغت، فإنه لا جديد لمن لا يلبس الخلق."هب".
tahqiq

তাহকীক: