কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩০১১ টি
হাদীস নং: ৪১৮৪৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لباس کے آداب
٤١٨٣٥۔۔۔ سلمہ بن اکوع (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ حضرت عثمان بن عفان (رض) نصف پنڈلی تک ازار باندھتے اور فرماتے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے محبوب کا ازار اس طرح تھا۔ ابن ابی شیبۃ، ترمذی فی الشمائل
41835- عن سلمة بن الأكوع قال: كان عثمان بن عفان يتزر إلى إنصاف ساقيه وقال: هكذا كانت إزرة حبي صلى الله عليه وسلم."ش، ت في الشمائل"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮৪৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لباس کے آداب
٤١٨٣٦۔۔۔ ابوامامہ سے روایت ہے فرمایا : ایک دفعہ حضرت عمر (رض) اپنے ساتھیوں میں تھے اتنے میں کھردرے کپڑے کی ایک قمیض ادئی گئی تو آپ نے اسے پہنا ابھی وہ آپ کی ہنسلی تک نہیں پہنچی تو آپ نے فرمایا : الحمد للہ الذی کسانی مااواری بہ عورتی واتجمل بہ فی حیاتی۔ پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : تم لوگ جانتے ہو کہ میں نے یہ الفاظ کیوں کہے ہیں ؟ لوگوں نے کہا؛ نہین، آپ خودہی بتادیں فرمایا : ایک دن میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا آپ کے پاس آپ کے نئے کپڑے لائے گئے تو آپ نے انھیں زیب تن فرمایا اور فرمایا، الحمدللہ الذی کسانی ما اواری بہ عورتی واتجمل بہ فی حیاتی، پھر فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے حق دے کر بھیجا جو مسلمان بندہ ایسا ہو کہ جسے اللہ تعالیٰ نے نئے کپڑے عطا کئے پھر وہ اپنے پرانے کپڑوں کا قصد کرے اور وہ کسی مسکین مسلمان کو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے پہنائے تو زندہ مردہ دونوں حالتوں میں جب تک اس پر ایک دھاگہ بھی رہے گا وہ اللہ تعالیٰ کے حفظ وامان اور قرب میں رہے گا فرماتے ہیں : پھر آپ نے اپنی قمیض پھیلائی اور اس میں اپنی انگلیوں سے زائد کپڑاپایا حضرت عبداللہ سے فرمایا : بیٹا ! چھری لاؤ وہ گئے اور چھری لے آئے پھر اپنی آستین پھیلائی جو فال تو کر ا نظر آیا اسے کاٹ دیا ہم نے کہا : امیرالمومنین ! کیا ہم درزی کونہ بلالائیں جو اسے ٹانکے لگادے ؟ فرمایا نہیں ابوامامہ فرماتے ہیں ! اس کے بعد میں نے حضرت عمر (رض) کو دیکھا کہ اس قمیض کا کپڑا آپ کی انگلیوں پر لگ رہا تھا آپ اسے روکتے نہ تھے۔ ھناد
41836- عن أبي أمامة قال: بينما عمر بن الخطاب في أصحابه بقميص كرابيس فلبسه، فما جاوز تراقيه حتى قال: "الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي، وأتجمل به في حياتي"؛ ثم أقبل على القوم فقال: هل تدرون لم قلت هؤلاء الكلمات؟ قالوا: لا، إلا أن تخبرنا، قال: فإني شهدت رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم وأني بثياب له جدد، فلبسها ثم قال "الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي" ثم قال: "والذي بعثني بالحق! ما من عبد مسلم كساه الله ثيابا جددا، فعمد إلى سمل من أخلاق ثيابه فكساه عبدا مسلما مسكينا، لا يكسوه إلا لله: كان في حرز الله، وفي جوار الله، وفي ضمان الله، ما كان عليه منها سلك، حيا وميتا". قال: ثم مد قميصه فأبصر فيه فضلا عن أصابعه، فقال لعبد الله: أي بني! هات الشفرة، فقام فجاء بها، فمد كم قميصه على يده، فنظر ما فضل عن أصابعه فقده، قلنا: يا أمير المؤمنين! ألا نأتي بخياط فيكف هذه؟ قال: لا. قال أبو أمامة: ولقد رأيت عمر بعد ذلك وإن هدب ذلك القميص منتشرة على أصابعه ما يكفه."هناد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮৫০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لباس کے آداب
٤١٨٣٧۔۔۔ ابومطر سے روایت ہے کہ حضرت علی (رض) ایک نوجوان لڑکے کے پاس آئے اور اس سے ایک قمیض خریدی اور اسے ہاتھوں کے گٹوں سے ٹخنوں تک پہن لیا اور پہنتے وقت فرمایا : تمام تعریفیں اللہ کے لیے جس نے مجھے وہ لباس عطا فرمایا جس کے ذریعہ میں لوگوں میں زینت اختیار کرتا ہوں اور اپنا سترچھپاتاہوں کسی نے کہا : یہ الفاظ آپ اپنی طرف سے کہہ رہے ہیں۔ یا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ؟ آپ نے فرمایا : میں نے یہ الفاظ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنے ہیں آپ کپڑاپہنتے وقت فرماتے تھے، الحمد للہ الذی رزقنی من الریاش مااتجمل بہ فی الناس واواری بہ عورتی، مسنداحمد، وھناد، ابویعلی، قال ابو حاتم : ابومطر مجھول
41837- عن أبي مطر أن عليا أتى غلاما حدثا فاشترى منه قميصا ولبسه ما بين الرصغين إلى الكعبين وقال حين لبسه "الحمد لله الذي رزقني من الرياش ما أتجمل به في الناس، وأواري به عورتي" فقيل: هذا شيء ترويه عن نفسك أو عن نبي الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: هذا شيء سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول عند الكسوة "الحمد لله الذي رزقني من الرياش، ما أتجمل به في الناس، وأواري به عورتي". "حم وهناد، ع؛ قال أبو حاتم: أبو مطر مجهول".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮৫১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لباس کے آداب
٤١٨٣٨۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : میں بقیع میں بار ش والے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھا تھا اتنے میں ایک عورت گدھے پر سوارہوکر گزری اس کے ساتھ گدھے کو کرائے پر دینے والا تھا وہ ایک گڑھے پر سے گزری تو گرگئی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عورت کی طرف سے چہرہ پھیرلیا کیں وہ بےپردہ نہ ہوگئی ہو لوگوں نے کہا : یارسول اللہ ! اس نے شلوار پہن رکھی ہے تو آپ نے فرمایا : اللہ میری امت کی شلوارپہننے والی عورتوں کی مغفرت فرمائے لوگو ! شلواریں پہناکرو، کیونکہ یہ تمہارا باپردہ لباس ہے اور جب تمہاری عورتیں باہرنکلیں تو انھیں اس کے ذریعہ محفوظ رکھنا۔ البزار، عقیلی فی الضعفائ، ابن عدی، بخاری فی الادب والدیلمی واوردہ ابن الجوزی فی الموضوعات فلم یصب والحدیث لہ عدۃ طرق، کلام۔۔۔ ذخیرۃ الحفاظ ٦٥٥۔
41838- عن علي قال: كنت قاعدا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم عند البقيع في يوم مطير، فمرت امرأة على حمار ومعها مكار ، فمرت في وهدة من الأرض فسقطت، فأعرض عنها بوجهه، فقالوا: يا رسول الله! إنها متسرولة، فقال: "اللهم اغفر للمتسرولات من أمتي! يا أيها الناس! اتخذوا السراويلات، فإنها من أستر ثيابكم، وحصنوا بها نساءكم إذا خرجن"."البزار، عق، عد، ق في الأدب والديلمي؛ وأورده ابن الجوزي في الموضوعات فلم يصب، والحديث له عدة طرق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮৫২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدیث میں شلوارکاتذکرہ
٤١٨٣٩۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : میں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے تھے تو ایک عورت (سواری سے گرگئی تو ہم نے اپنے چہرے پھیرلئے کسی شخص نے آپ سے کہا : اس نے شلوارپہن رکھی تھی تو آپ نے فرمایا تو آپ نے فرمایا : اے اللہ ! شلوارپہننے والیوں پر رحم فرما۔ المحاملی فی امالیۃ من طریق علیہ الاول
41839- عن علي قال: كنت أنا والنبي صلى الله عليه وسلم وقوفا فسقطت امرأة فأعرضنا عنها، فقال لنا إنسان: إن عليها سراويل، فقال النبي صلى الله عليه وسلم "اللهم ارحم المتسرولات"."المحاملي في أماليه من طريق عليه الأول".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮৫৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدیث میں شلوارکاتذکرہ
٤١٨٤٠۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : جب تمہارا اراز کشادہ ہوا سے کندھے پر ڈال لیا کرو اور اگر تنگ ہو تو اسے صرف تہبند کے طورپر استعمال کرو۔ ابوالحسن ابن ثرثال فی جزہ والدیلمی وابن النجار وسندہ ضعیف
41840- عن علي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له: "إذا كان إزارك واسعا فتوشح به، وإذا كان ضيقا فاتزر به"."أبو الحسن ابن ثرثال في جزئه والديلمي وابن النجار وسنده ضعيف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮৫৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدیث میں شلوارکاتذکرہ
٤١٨٤١۔۔۔ ابوعباس سے روایت ہے کہ حضرت علی (رض) جب خلیفہ تھے تو آپ نے تین دراہم سے ایک قمیض خریدی اور ہاتھوں کے گٹوں سے اس کی آستین کاٹ دی اور فرمایا : الحمدللہ الذی ھذا من ریاشہ الدینوری ابن عساکر
41841- عن أبي عباس قال: اشترى علي بن أبي طالب قميصا بثلاثة دراهم وهو خليفة، وقطع كمه من موضع الرصغين وقال: الحمد لله الذي هذا من رياشه."الدينوري، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮৫৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدیث میں شلوارکاتذکرہ
٤١٨٤٢۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ قمیض پہن کر آپ آستین کو لمبا کرتے تو جب وہ انگلیوں تک پہنچتی تو جو فالتوہوتی اسے کاٹ دیتے اور فرماتے آستینوں کو ہاتھوں پر کوئی فضیلت نہیں۔ ابن عیینۃ فی جامعہ والعسکری فی المواعظ سعید بن منصور، بیہقی، ابن عساکر
41842- عن علي أنه كان يلبس القميص ثم يمد الكم حتى إذا بلغ الأصابع قطع ما فضل ويقول: لا فضل للكمين على اليدين."ابن عيينة في جامعه والعسكري في المواعظ، ص، هب، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮৫৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدیث میں شلوارکاتذکرہ
٤١٨٤٣۔۔۔ بریدہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایسے تہبند باندھا کروجی سے میں نے فرشتوں کو رب العالمین کے پاس ازارب اندھے دیکھا ہے لوگوں نے پوچھا : رب العالمین کے پاس فرشتے کیسے ازارباندھتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اپنی آدھی پنڈلیوں تک۔ رواہ ابن النجار
41843- عن بريدة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "اتزروا كما رأيت الملائكة تتزر عند رب العالمين"، قالوا: كيف تتزر الملائكة عند رب العالمين؟ قال: "إلى أنصاف سوقها"."ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮৫৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدیث میں شلوارکاتذکرہ
٤١٨٤٤۔۔۔ ابوثورفہمی (رض) سے روایت ہے فرمایا : ہم لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے اتنے میں معافر کے کپڑے لائے گئے آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ان کپڑوں پر اور ان کے بھیجنے والے پر لعنت کرے۔
41844- عن أبي ثور الفهمي قال: كنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فأتي بثوب من ثياب المعافر، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لعن الله هذا ولعن من وجهه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮৫৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدیث میں شلوارکاتذکرہ
٤١٨٤٥۔۔۔ (مسندسلمہ بن اکوع) ایاس بن سلمہ سے روایت ہے وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عثمان بن عفان (رض) کو اہل مکہ کی طرف روانہ فرمایا : تو راستہ میں انھیں ابان بن سعید بن العاص مل گئے انھوں نے انھیں اپنی زین پر سوار کرکے اپنے پیچھے بٹھالیا یہاں تک کہ انھیں مکہ لیے آئے پھر ان سے کہا : چچاز اد مجھے تم خوفزدہ لگتے ہو اس طرح تہبند لٹکالو جیسے تمہاری قوم لٹکاتی ہے حضرت عثمان نے فرمایا ہمارے صاحب اس طرح آدھی پنڈی تک ازار باندھتے ہیں، انھوں نے کہا : چچازاد ! بیت اللہ کا طواف کرلو فرمایا : ہم کوئی شرعی کام نہیں کرتے یہاں تک کہ ہمارے صاحب نہ کرلیں ہم ان کی پر وی کرتے ہیں۔ ابویعلی والرویانی، ابن عساکر
41845- من مسند سلمة الأكوع عن إياس بن سلمة عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث عثمان بن عفان إلى أهل مكة، فاجتاره أبان بن سعيد بن العاص فحمله على سرجه وردفه حتى قدم به مكة، فقال له: يا ابن عم أراك متخشعا، اسبل كما يسبل قومك! قال: هكذا يأتزر صاحبنا إلى أنصاف ساقيه، قال: يا ابن عم! طف بالبيت، قال: إنا لا نصنع شيئا حتى يصنعه صاحبنا فنتبع أثره."ع والروياني، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮৫৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حدیث میں شلوارکاتذکرہ
٤١٨٤٦۔۔۔ ابومطر سے روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے تین دراہم سے قمیض خریدی اور پہن لی اور فرمایا : الحمد للہ الذی کسانی من الریاش ما اواری بہ عورتی واتجمل بہ فی حیاتی، پھر فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نیا کپڑاپہنتے تو اس طرح فرماتے۔ ابو یعلی
41846- عن أبي مطر أن عليا اشترى قميصا بثلاثة دراهم فلبسه وقال "الحمد لله الذي كساني من الرياش ما أوارى به عورتي، وأتجمل به في حياتي" ثم قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا لبس ثوبا جديدا قال هكذا."ع".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮৬০
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممنوع لباس، ریشم،
٤١٨٤٧۔۔۔ (ازمسندابن عباس) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صرف خالص ریشمی کپڑانا پسند کیا رہے ریشم کے بیل بوٹے جو کپڑے پر ہوتے ہیں اور تانا اس میں کوئی حرج نہیں۔ ابن جریر، بیہقی فی الشعب
41847- من مسند ابن عباس إنما كره النبي صلى الله عليه وسلم الثوب المصمت من الحرير، فأما العلم من الحرير والسدي للثوب فليس به بأس."ابن جرير، هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮৬১
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممنوع لباس، ریشم،
٤١٨٤٨۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صرف خالص ریشمی کپڑ احرام فرمایا، البتہ جس کا باناروئی کا اور تاناریشم کا یاباناریشم کا اور تاناروئی کا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ بیہقی فی الشعب
41848- عن ابن عباس أيضا إنما حرم رسول الله صلى الله عليه وسلم المصمت من الحرير، فأما ما كان لحمته قطن وسداه حرير أو لحمته حرير وسداه قطن فلا بأس به."هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮৬২
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممنوع لباس، ریشم،
٤١٨٤٩۔۔۔ اس طرح حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خالص ریشمی کپڑے سے منع فرمایا ہے۔ ابن عساکر، بیہقی فی الشعب
41849- عن ابن عباس أيضا إنما نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المصمت إذا كان حريرا."كر، هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮৬৩
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممنوع لباس، ریشم،
٤١٨٥٠۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے وہ حضرت عائشۃ (رض) سے روایت کرتے ہیں فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لکیر دارلباس سے سونے چاندی کے برتن میں پینے سے اور سرخ گدیلے سے ریشم اور سونا پہننے سے منع فرمایا ہے انھوں نے کہا : یارسول اللہ ! تھوڑی چیز جس سے مشک کو محفوظ رکھاجائے آپ نے فرمایا : نہیں اسے چاندی کا بنالو اور کچھ زعفران سے زرد کرلو۔ رواہ بن عساکر
41850- عن ابن عباس عن عائشة قالت: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن لبس القسي، وعن الشرب في آنية الذهب والفضة، وعن الميثرة الحمراء، وعن لبس الحرير والذهب، فقالت: يا رسول الله! شيء قليل يربط به المسك، قال: "لا، اجعليه فضة وصفريه بشيء من زعفران"."كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮৬৪
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممنوع لباس، ریشم،
٤١٨٥١۔۔۔ عتبہ بن ریاح سے روایت ہے کہ انھوں نے ابن عمر (رض) سے سونے اور ریشم کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا : یہ دونوں مردوں کے لیے مکروہ ہیں اور عورتوں کے لیے مکروہ نہیں۔ ابن جریرفی تھذیبہ
41851- عن عتبة بن رياح أنه سأل ابن عمر عن الذهب والحرير، فقال: يكرهان للرجال ولا يكرهان للنساء."ابن جرير في تهذيبه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮৬৫
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممنوع لباس، ریشم،
٤١٨٥٢۔۔۔ خالدبن دریک سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) عنما کی ایک بیٹی ریشمی قمیض پہن کر باہرنکلی تو لوگوں نے ابن عمر (رض) سے کہا : آپ لوگ ریشم سے منع کرتے ہو اور خود پہنتے ہو ! آپ نے فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ اس سے بڑی چیز بھی ہم سے درگزرفرمائے گا۔ ابن جریرفی تھذیبہ
41852- عن خالد بن الدريك أن بنتا لعبد الله بن عمر خرجت وعليها قميص من حرير، فقالوا لابن عمر: تنهون عن الحرير وتلبسونه! فقال: إني لأرجو أن يتجاوز الله لنا عما هو أعظم من هذا."ابن جرير في تهذيبه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮৬৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممنوع لباس، ریشم،
٤١٨٥٣۔۔۔ ابن عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : اکید درومۃ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ایک لکیردار جوڑا بھیجا اپ نے وہ حضرت عمر (رض) کی طرف بھیج دیا۔ ابونعیم
41853- عن ابن عمر قال: أهدى أكيدر دومة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم حلة سيراء، فبعث بها إلى عمر."أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪১৮৬৭
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ممنوع لباس، ریشم،
٤١٨٥٤۔۔۔ عمروالشیبانی سے روایت ہے فرمایا : کہ حضرت علی (رض) نے ایک شخص پر سبزرنگ کا جوڑا دیکھا اس نے اپنے سینہ پر ریشم کی کڑاہی کررکھی تھی آپ نے فرمایا : تمہاری داڑھی کے نیچے یہ کیا بدبو ہے ؟ اس نے کہا : اس کے بعد آپ کبھی مجھ پرا سے نہیں دیکھیں گے۔ ابن جریر فی تھذیبہ
41854- عن عمرو الشيباني قال: رأى علي على رجل جبة طيالسة قد جعل على صدره ديباجا، فقال: ما هذا النتن تحت لحيتك؟ فقال: لا تراه على بعد هذا."ابن جرير في تهذيبه".
তাহকীক: