আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬৭৩ টি

হাদীস নং: ৩৪১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وَأَرْجُلَکُمْ کے منصوب پڑھانے کا بیان، اس وقت مراد دھونا ہوگا اور مجرور پڑھنے کی وجہ قریب ہونا ہے
(٣٤٢) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا تو اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا، ناک میں پانی چڑھایا اور ایک مرتبہ کلی کی، پھر اپنا ہاتھ برتن میں داخل کیا، ایک مرتبہ اپنے چہرے پر پانی ڈالا اور اپنے ہاتھوں پر دو مرتبہ پانی ڈالا اور ایک مرتبہ اپنے سر کا مسح کیا، پھر پانی کا ایک چلو لیا اور اپنے قدموں پر چھینٹے دیے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جوتی پہنے ہوئے تھے۔
(۳۴۲) وَالَّذِی أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمْزَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ: تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-فَأَدْخَلَ یَدَہُ فِی الإِنَائِ ، فَاسْتَنْشَقَ وَمَضْمَضَ مَرَّۃً وَاحِدَۃً ، ثُمَّ أَدْخَلَ یَدَہُ فَصَبَّ عَلَی وَجْہِہِ مَرَّۃً وَاحِدَۃً وَصَبَّ عَلَی یَدَیْہِ مَرَّتَیْنِ مَرَّتَیْنِ ، وَمَسَحَ رَأْسَہُ مَرَّۃً ، ثُمَّ أَخَذَ حَفْنَۃَ مَائٍ فَرَشَّ عَلَی قَدَمَیْہِ وَہُوَ مُنْتَعِلٌ۔

(ت) فَہَکَذَا رَوَاہُ ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ وَعَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ وَقَدْ خَالَفَہُمَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ وَوَرْقَائُ بْنُ عُمَرَ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی کَثِیرٍ۔ [حسن۔ أخرجہ الطحاوی ۱/۷۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وَأَرْجُلَکُمْ کے منصوب پڑھانے کا بیان، اس وقت مراد دھونا ہوگا اور مجرور پڑھنے کی وجہ قریب ہونا ہے
(٣٤٣) (الف) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا۔۔۔ پھر پانی کا ایک چلو لیا ، پھر اپنے بائیں پاؤں پر چھینٹے مارے ۔ پھر فرمایا : اسی طرح میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

(ب) ابو سلمہ خزاعی سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانی کا ایک چلو لیا، پھر دائیں پاؤں پر چھینٹے مارے، اس کو دھویا، پھر دوسرا چلو لیا ، اس کے ساتھ اپنا بایاں پاؤں دھویا، پھر فرمایا : میں نے اسی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
(۳۴۳) أَمَّا حَدِیثُ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ فَأَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَمْرٍو: مُحَمَدُ بْنُ أَحْمَدَ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِیَّا أَخْبَرَنَا الرَّمَادِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَلَمَۃَ الْخُزَاعِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّہُ تَوَضَّأَ۔فَذَکَرَ الْحَدِیثَ إِلَی أَنْ قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَۃً مِنْ مَائٍ ثُمَّ رَشَّ عَلَی رِجْلِہِ الْیُسْرَی ، ثُمَّ قَالَ: ہَکَذَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-یَعْنِی یَتَوَضَّأُ۔

وَرَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِیمِ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ الْخُزَاعِیِّ ، وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ: أَخَذَ غَرْفَۃً مِنْ مَائٍ فَرَشَّ عَلَی رِجْلِہِ یَعْنِی الْیُمْنَی حَتَّی غَسَلَہَا ، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَۃً أُخْرَی فَغَسَلَ بِہَا رِجْلَہُ الْیُسْرَی، ثُمَّ قَالَ: ہَکَذَا رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-یَتَوَضَّأُ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۴۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وَأَرْجُلَکُمْ کے منصوب پڑھانے کا بیان، اس وقت مراد دھونا ہوگا اور مجرور پڑھنے کی وجہ قریب ہونا ہے
(٣٤٤) زید بن اسلم نے یہ روایت اپنی سند سے بیان کی ہے، فرماتے ہیں : پھر آپ نے ایک چلو لیا اور اپنا دایاں پاؤں دھویا پھر چلو لیا اور اپنا بایاں پاؤں دھویا۔
(۳۴۴) وَأَمَّا حَدِیثُ ابْنِ عَجْلاَنَ فَأَخْبَرْنَاہُ أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِیُّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو اللَّیْثِ: نَصْرُ بْنُ الْقَاسِمِ الْفَرَائِضِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِدْرِیسَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ قَالَ: ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَۃً ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَہُ الْیُمْنَی ، ثُمَّ غَرَفَ غَرْفَۃً فَغَسَلَ رِجْلَہُ الْیُسْرَی۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ النسائی ۲/۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وَأَرْجُلَکُمْ کے منصوب پڑھانے کا بیان، اس وقت مراد دھونا ہوگا اور مجرور پڑھنے کی وجہ قریب ہونا ہے
(٣٤٥) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : کیا میں تم کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وضو نہ دکھاؤں ؟ پھر انھوں نے ایک مرتبہ اپنے ہاتھوں کو دھویا اور ایک مرتبہ کلی کی، ایک مرتبہ ناک میں پانی چڑھایا اور ایک مرتبہ اپنا چہرہ دھویا، ایک مرتبہ اپنے بازؤں کو دھویا اور ایک مرتبہ اپنے سر کا مسح کیا اور ایک مرتبہ اپنے پاؤں کو دھویا، پھر فرمایا : یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وضو ہے۔
(۳۴۵) وَأَمَّا حَدِیثُ وَرْقَائَ فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَلاَ أُرِیکُمْ وُضُوئَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-؟ قَالَ: فَغَسَلَ یَدَیْہِ مَرَّۃً مَرَّۃً ، وَمَضْمَضَ مَرَّۃً وَاسْتَنْشَقَ مَرَّۃً ، وَغَسَلَ وَجْہَہُ مَرَّۃً ، وَذِرَاعَیْہِ مَرَّۃً مَرَّۃً وَمَسَحَ بِرَأْسِہِ مَرَّۃً ، وَغَسَلَ رِجْلَیْہِ مَرَّۃً مَرَّۃً ثُمَّ قَالَ: ہَذَا وُضُوئُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔

وَقَدْ ذَکَرْنَا الرَّوَایَاتِ فِیمَا مَضَی إِلاَّ رِوَایَۃَ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ وَہِیَ فِیمَا۔ [صحیح لغیرہٖ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وَأَرْجُلَکُمْ کے منصوب پڑھانے کا بیان، اس وقت مراد دھونا ہوگا اور مجرور پڑھنے کی وجہ قریب ہونا ہے
(٣٤٦) زید بن اسلم اپنی سند سے بیان کرتے ہیں کہ پھر آپ نے ایک چلو لیا، اس کے ساتھ اپنا دایاں پاؤں دھویا پھر ایک چلو لیا اور اس سے اپنا بایاں پاؤں دھویا۔

(ب) ان تمام روایات میں پاؤں دھونے پر اتفاق ہے۔ در اور دی کی حدیث میں یہ احتمال ہے کہ شاید آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پاؤں جوتے میں ہی دھوئے ہوں۔

(ج) ہشام بن سعید زیادہ مضبوط نہیں ہیں، ان کی ثقہ راویوں سے مخالفت قابل قبول نہیں۔ کیونکہ وہ پوری جماعت ہیں اور یہ اکیلا ہے۔
(۳۴۶) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ مِینَائَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ حَفْنَۃً فَغَسَلَ بِہَا رِجْلَہُ الْیُمْنَی ، وَأَخَذَ حَفْنَۃً فَغَسَلَ رِجْلَہُ الْیُسْرَی۔

(ق) فَہَذِہِ الرِّوَایَاتُ اتَّفَقَتْ عَلَی أَنَّہُ غَسَلَہُمَا وَحَدِیثُ الدَّرَاوَرْدِیِّ یُحْتَمِلُ أَنْ یَکُونَ مُوَافِقًا لَہَا بِأَنْ یَکُونْ غَسَلَہُمَا فِی النَّعْلِ۔

(ج) وَہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ لَیْسَ بِالْحَافِظِ جِدًّا فَلاَ یُقْبَلُ مِنْہُ مَا یُخَالِفُ فِیہِ الثِّقَاتِ الأَثْبَاتَ، کَیْفَ وَہُمْ عَدَدٌ وَہُوَ وَاحِدٌ؟

وَقَدْ رَوَی الثَّوْرِیُّ وَہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ مَا یُوَافِقُ رِوَایَۃَ الْجَمَاعَۃِ۔ [صحیح لغیرہٖ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وَأَرْجُلَکُمْ کے منصوب پڑھانے کا بیان، اس وقت مراد دھونا ہوگا اور مجرور پڑھنے کی وجہ قریب ہونا ہے
(٣٤٧) سیدنا ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : کیا تم پسند کرتے ہو کہ میں تم کو (وہ طریقہ) بیان کروں جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وضو کیا کرتے تھے ؟ پھر آپ (رض) نے پانی کا برتن منگوایا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وضو کا طریقہ ذکر کیا۔ اس میں ہے کہ پھر آپ نے پانی کا ایک چلو لیا اور اپنے دائیں پاؤں پر چھینٹے مارے اور پاؤں میں جوتا تھا، پھر پاؤں کے اوپر اور نیچے مسح کیا، پھر بائیں پاؤں کے ساتھ بھی یہی عمل کیا۔
(۳۴۷) حَدَّثَنِی الْبَیْرُوتِیُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا ھِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ثنا زَیْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ، قَالَ: قَالَ ابن عَبَّاسٍ: أَتُحِبُّوْنَ أَنْ أُحَدِّثَکُمْ کَمَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یَتَوَضَّأُ؟ قَالَ: فَدَعَا بِإِنَائٍ فِیْہِ مَائٌ، ثُمَّ ذَکَرَ وُضُوئَ ہُ، وَقَالَ فِیْہِ: ثُمَّ قَبَضَ قَبْضَۃً مِنْ مَائٍ فَرَشً عَلَی رِجْلِہِ الْیُمْنَی وَفِیْھَا النَّعْلُ، ثُمَّ مَسَحَ بِیَدِہِ مِنْ فَوْقِ الْقَدَمِ وَمِنْ تَحْتِ الْقَدَمِ وَمِنْ تَحْتِ الْقَدَمِ، ثُمَّ فَعَلَ بِالْیُسْرَی مِثْلَ ذَلِکَ۔

ھَذَا أَصَحُّ حَدِیْثٍ رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ فی ھَذَا إِلَی مَا یُوَافِقُ رِوَایَۃَ الْجَمَاعَۃِ۔

[صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ الحاکم ۱/۲۴۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وَأَرْجُلَکُمْ کے منصوب پڑھانے کا بیان، اس وقت مراد دھونا ہوگا اور مجرور پڑھنے کی وجہ قریب ہونا ہے
(٣٤٨) عطاء بن یسار سے سیدنا ابن عباس (رض) نے کہا : کیا میں تم کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وضو نہ دکھاؤں ؟ پھر ایک مرتبہ وضو کیا اور اپنے پاؤں کو دھویا اور پاؤں میں جوتیاں تھیں۔
(۳۴۸) أَخْبَرَنَا الْفَقِیہُ أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ الطُّوسِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَاضِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ السَّرَّاجُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی سَمِینَۃَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَزِیدَ الْجَرْمِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ وَہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ کِلاَہُمَا عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ قَالَ لِی ابْنُ عَبَّاسٍ: أَلاَ أُرِیکَ وُضُوئَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-؟ فَتَوَضَّأَ مَرَّۃً ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَیْہِ وَعَلَیْہِ نَعْلُہُ۔

(ق) فَہَذَا یَدُلُّ عَلَی أَنَّہُ غَسَلَ رِجْلَیْہِ فِی النَّعْلَیْنِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وَأَرْجُلَکُمْ کے منصوب پڑھانے کا بیان، اس وقت مراد دھونا ہوگا اور مجرور پڑھنے کی وجہ قریب ہونا ہے
(٣٤٩) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے قدموں کے اوپر والے حصے پر مسح کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظاہری حصے پر چھینٹے مارے تھے۔

(ب) ان دونوں میں سے ایک حدیث صحیح سند کے ساتھ ہے، اگرچہ اس میں تفرد ہے، یعنی جنہوں نے اس کی مخالفت کی ہے وہ تعداد میں زیادہ اور ثقہ ہیں۔ دوسری حدیث اہل علم کے ہاں ثابت نہیں۔ اگرچہ یہ بھی منفرد ہے۔ شیخ فرماتے ہیں کہ پہلی حدیث سے مراد دراوردی وغیرہ کی حدیث ہے جو زید (رض) سے منقول ہے اور دوسری حدیث سے مراد عبد خیر کی حدیث ہے جو حضرت علی (رض) سے پاؤں کے اوپر والے حصے پر مسح کرنے کے متعلق ہے۔
(۳۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ قَالَ قَدْ رُوِیَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -مَسَحَ عَلَی ظُہُورِ قَدَمَیْہِ ، وَرُوِیَ أَنَّہُ رَشَّ ظُہُورَہُمَا ، وَأَحَدُ الْحَدِیثَیْنِ مِنْ وَجْہٍ صَالِحِ الإِسْنَادِ لَوْ کَانَ مُنْفَرِدًا ثَبَتَ ، وَالَّذِی خَالَفَہُ أَکْثَرُ وَأَثْبَتُ مِنْہُ ، وَأَمَّا الْحَدِیثُ الآخَرُ فَلَیْسَ مِمَّا یُثْبِتُ أَہْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِیثِ لَوِ انْفَرَدَ۔

قَالَ الشَّیْخُ: وَإِنَّمَا عَنَی بِالْحَدِیثِ الأَوَّلِ حَدِیثَ الدَّرَاوَرْدِیِّ وَغَیْرِہِ عَنْ زَیْدٍ ، وَعَنَی بِالْحَدِیثِ الآخَرِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ حَدِیثَ عَبْدِ خَیْرٍ عَنْ عَلِیٍّ فِی الْمَسْحِ عَلَی ظُہُورِ الْقَدَمَیْنِ۔

وَقَدْ بَیَّنَّا أَنَّہُ أَرَادَ إِنْ صَحَّ ظَہْرَ الْخُفَّیْنِ وَہُوَ مَذْکُورٌ فِی باب الْمَسْحِ عَلَی الْخُفِّ بِعِلَلِہِ۔

وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ فِی مَعْنَی الْحَدِیثِ الأَوَّلِ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৪৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وَأَرْجُلَکُمْ کے منصوب پڑھانے کا بیان، اس وقت مراد دھونا ہوگا اور مجرور پڑھنے کی وجہ قریب ہونا ہے
(٣٥٠) (الف) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ علی (رض) میرے گھر تشریف لائے، آپ (رض) نے پانی منگوایا، ہم ایک پیالہ لے کر آئے جس میں ایک مدیا اس کے قریب پانی تھا، وہ آپ کے سامنے رکھا گیا، سیدنا علی (رض) نے پیشاب کیا اور فرمایا : اے ابن عباس ! کیا میں آپ کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرح کا وضو نہ کروں ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ راوی کہتا ہے : آپ کے لیے برتن رکھا گیا تو آپ نے اپنے ہاتھ دھوئے، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، کلی کی اور اپنے ہاتھوں کو دھویا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، پھر کلی کی اور اپنے ہاتھوں سے پانی لے کر اپنے چہرے پر ڈالا اور اپنے انگوٹھوں کو اپنے کانوں میں داخل کیا۔ راوی کہتا ہے : پھر اسی طرح تین مرتبہ کیا۔ پھر پانی کی ایک ہتھیلی اپنے دائیں ہاتھ سے لی تو اس کو اپنی پیشانی پر ڈالا، پھر اس کو اپنے چہرے پر بہنے دیا، پھر اپنے دائیں ہاتھ کو کہنی تک تین مرتبہ دھویا، پھر دوسرے ہاتھ کو بھی ایسے ہی دھویا، پھر اپنے سر اور کانوں کے ظاہری حصے کا مسح کیا، پھر پانی کی دو ہتھیلیاں لیں تو ان کو اپنے قدموں پر ڈالا اور جو جوتا پاؤں میں تھا تو اس کو تر کیا۔ پھر دوسرے پاؤں پر بھی ایسے ہی کیا ۔ میں نے کہا : جوتیوں میں ؟ فرمایا : ہاں جو تیوں میں۔ راوی کہتا ہے : میں نے کہا : کیا جوتیوں میں ؟ فرمایا : جوتیوں میں۔ میں نے کہا : جوتیوں میں ؟ فرمایا : جوتیوں میں۔
(۳۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ قَالَ حَدَّثَنِی أَبِی أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَۃَ بْنِ یَزِیدَ بْنِ رُکَانَۃَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ الْخَوْلاَنِیِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: دَخَلَ عَلَیَّ عَلِیٌّ بَیْتِی فَدَعَا بِوَضُوئٍ فَجِئْنَا بِقَعْبٍ یَأْخُذُ الْمُدَّ أَوْ قَرِیبَہُ حَتَّی وُضِعَ بَیْنَ یَدَیْہِ وَقَدْ بَالَ فَقَالَ: یَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَلاَ أَتَوَضَّأُ لَکَ وُضُوئَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-؟ قَلْتُ: بَلَی ، فِدَاکَ أَبِی وَأُمِّی۔ قَالَ: فَوُضِعَ لَہُ إِنَائٌ ، فَغَسَلَ یَدَیْہِ ثُمَّ مَضْمَضَ ، وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ ، ثُمَّ أَخَذَ بِیَدَیْہِ فَصَکَّ بِہِمَا وَجْہَہُ وَأَلْقَمَ إِبْہَامَیْہِ مَا أَقْبَلَ مِنْ أُذُنَیْہِ قَالَ ثُمَّ عَادَ مِثْلَ ذَلِکَ ثَلاَثًا ، ثُمَّ أَخَذَ کَفًّا مِنْ مَائٍ بِیَدِہِ الْیُمْنَی فَأَفْرَغَہَا عَلَی نَاصِیَتِہِ ، ثُمَّ أَرْسَلَہَا تَسِیلُ عَلَی وَجْہِہِ ، ثُمَّ غَسَلَ یَدَہُ الْیُمْنَی إِلَی الْمِرْفَقِ ثَلاَثًا ، ثُمَّ یَدَہُ الأُخْرَی مِثْلَ ذَلِکَ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِہِ وَأُذُنَیْہِ مِنْ ظُہُورِہِمَا، ثُمَّ أَخَذَ بِکَفَّیْہِ مِنَ الْمَائِ فَصَکَّ عَلَی قَدَمِہِ وَفِیہَا النَّعْلُ فَتَلَّہَا ، ثُمَّ عَلَی الرِّجْلِ الأُخْرَی مِثْلَ ذَلِکَ۔ قَلْتُ: وَفِی النَّعْلَیْنِ؟ قَالَ: وَفِی النَّعْلَیْنِ۔ قَالَ فَقَلْتُ: وَفِی النَّعْلَیْنِ؟ قَالَ: وَفِی النَّعْلَیْنِ۔ قَلْتُ: وَفِی النَّعْلَیْنِ؟ قَالَ: وَفِی النَّعْلَیْنِ۔

قَالَ أَبُو عِیسَی التِّرْمِذِیُّ: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیَّ عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ فَقَالَ لاَ أَدْرِی مَا ہَذَا الْحَدِیثُ وَکَأَنَّہُ رَأَی الْحَدِیثَ الأَوَّلَ أَصَحَّ ، یَعْنِی حَدِیثَ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ۔

(ق) قَالَ الشَّیْخُ: یُحْتَمَلُ إِنْ صَحَّ أَنْ یَکُونَ غَسَلَہُمَا فِی النَّعْلَیْنِ فَقَدْ رُوِّینَا مِنْ أَوْجُہٍ کَثِیرَۃٍ عَنْ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ غَسَلَ رِجْلَیْہِ فِی الْوُضُوئِ۔ مِنْہَا مَا: [حسن۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۱۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وَأَرْجُلَکُمْ کے منصوب پڑھانے کا بیان، اس وقت مراد دھونا ہوگا اور مجرور پڑھنے کی وجہ قریب ہونا ہے
(٣٥١) حضرت علی (رض) نے وضو کا پانی منگوایا، ایک پانی والا برتن لایا گیا۔۔۔ اس میں ہے کہ آپ نے اپنے دائیں ہاتھ سے دائیں پاؤں پر تین مرتبہ پانی بہایا، پھر اسے بائیں ہاتھ سے دھویا، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں پاؤں پر پانی بہایا اور اسے اپنے بائیں ہاتھ سے دھویا، پھر فرمایا : یہ ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وضو۔
(۳۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ عَنْ زَائِدَۃَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ خَیْرٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّہُ دَعَا بِوَضُوئٍ فَأُتِیَ بِإِنَائٍ فِیہِ مَائٌ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ إِلَی أَنْ قَالَ: ثُمَّ صَبَّ بِیَدِہِ الْیُمْنَی ثَلاَثَ مَرَّاتٍ عَلَی قَدَمِہِ الْیُمْنَی ، ثُمَّ غَسَلَہَا بِیَدِہِ الْیُسْرَی ، ثُمَّ صَبَّ بِیَدِہِ الْیُمْنَی عَلَی قَدَمِہِ الْیُسْرَی ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ غَسَلَہَا بِیَدِہِ الْیُسْرَی ، ثُمَّ قَالَ: ہَذَا طُہُورُ نَبِیِّ اللَّہِ -ﷺ-۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ ابن حبان ۷۹/۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وَأَرْجُلَکُمْ کے منصوب پڑھانے کا بیان، اس وقت مراد دھونا ہوگا اور مجرور پڑھنے کی وجہ قریب ہونا ہے
(٣٥٢) زر بن حبیش سے روایت ہے کہ سیدنا علی (رض) سے رسول اللہ کے وضو کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے ایک برتن میں پانی ڈالا، پھر پوچھا : سائل کہاں ہے جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وضو کے متعلق پوچھا تھا ؟ پھر اپنے ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا اور اپنے چہرے کو تین مرتبہ اور اپنے بازؤ وں کو تین مرتبہ اور اپنے سر کا مسح کیا اور قریب تھا کہ سر سے پانی کے قطرے ٹپکیں اور اپنے پاؤں کو تین تین مرتبہ دھویا، پھر کہا : اسی طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وضو کیا کرتے تھے۔
(۳۵۲) وَمِنْہَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الْوَرَّاقُ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ: الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ۔

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِیُّ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا رَبِیعَۃُ الْکِنَانِیُّ عَنِ الْمِنْہَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ: أَنَّہُ سَمِعَ عَلِیًّا رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَسُئِلَ عَنْ وُضُوئِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -فَأَرَاقَ الْمَائَ فِی الرَّحَبَۃِ ، ثُمَّ قَالَ: أَیْنَ السَّائِلُ عَنْ وُضُوئِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-؟ فَغَسَلَ یَدَیْہِ ثَلاَثًا وَوَجْہَہُ ثَلاَثًا وَذِرَاعَیْہِ ثَلاَثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِہِ حَتَّی أَلَمَّ أَنْ یَقْطُرَ ، وَغَسَلَ رِجْلَیْہِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا ، ثُمَّ قَالَ: ہَکَذَا کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -یَتَوَضَّأُ۔

لَیْسَ فِی رِوَایَۃِ الْفَقِیہِ قَوْلُہُ حَتَّی أَلَمَّ أَنْ یَقْطُرَ۔ وَالْبَاقِی سَوَائٌ۔ [حسن۔ اخرجہ البزار ۵۶۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وَأَرْجُلَکُمْ کے منصوب پڑھانے کا بیان، اس وقت مراد دھونا ہوگا اور مجرور پڑھنے کی وجہ قریب ہونا ہے
(٣٥٣) ابو حیہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی (رض) کو وضو کرتے ہوئے دیکھا تو انھوں نے اپنی ہتھیلیوں کو دھویا اور ان کو صاف کیا، پھر تین مرتبہ کلی کی اور تین مرتبہ ناک میں پانی چڑھایا، تین مرتبہ اپنے چہرے اور بازوؤں کو دھویا اور اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھویا، پھر کھڑے ہوئے اور اپنے وضو کا بچا ہوا پانی لیا اور اس کو کھڑے ہو کر پیا، پھر فرمایا : مجھے پسند ہے کہ آپ کو دکھاؤں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وضو کیسے تھا۔
(۳۵۳) وَمِنْہَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی حَیَّۃَ قَالَ: رَأَیْتُ عَلِیًّا تَوَضَّأَ فَغَسَلَ کَفَّیْہِ حَتَّی أَنْقَاہُمَا ، ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلاَثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلاَثًا ، وَغَسَلَ وَجْہَہُ ثَلاَثًا وَذِرَاعَیْہِ ثَلاَثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِہِ وَغَسَلَ قَدَمَیْہِ إِلَی الْکَعْبَیْنِ ، ثُمَّ قَامَ وَأَخَذَ فَضْلَ وَضُوئِہِ فَشَرِبَہُ وَہُوَ قَائِمٌ ، ثُمَّ قَالَ: إِنِّی أَحْبَبْتُ أَنْ أُرِیَکُمْ کَیْفَ کَانَ طُہُورُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ ہَکَذَا رَوَاہُ أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی حَیَّۃَ وَثَبَتَ فِی مِثْلِ ہَذِہِ الْقَصَّۃِ أَنَّہُ مَسَحَ وَأَخْبَرَ أَنَّہُ وُضُوئُ مَنْ لَمْ یُحَدِّثْ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۱۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وَأَرْجُلَکُمْ کے منصوب پڑھانے کا بیان، اس وقت مراد دھونا ہوگا اور مجرور پڑھنے کی وجہ قریب ہونا ہے
(٣٥٤) سیدنا علی بن ابو طالب (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے ظہر کی نماز ادا کی، پھر لوگوں کی ضروریات کے لیے کوفہ کی ایک گلی میں بیٹھے، یہاں تک کہ نمازِ عصر کا وقت ہوگیا، پھر پانی کا ایک پیالہ لے کر آئے تو اس سے ایک چلو لیا اور اس کے ساتھ اپنے چہرے، ہاتھوں، سر اور پاؤں کا مسح کیا، پھر کھڑے ہوئے اور بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پیا، پھر فرمایا : لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو ناپسند سمجھتے ہیں، حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اس طرح کیا ہے اور فرمایا : یہ اس شخص کا وضو ہے جو بےوضو نہیں ہوتا۔

(ب) اس صحیح حدیث میں دلیل ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان سے مراد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بےوضو نہ ہو تو وہ ایسا کرلے۔ گویا حدیث مختصر ہے اور یہ قول نقل نہیں کیا گیا : ھٰذَا وُضُوْئُ مَنْ لَّمْ یُحَدِّثُ ۔
(۳۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَیْہِ الْعَسْکَرِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلاَنِسِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مَیْسَرَۃَ قَالَ سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَۃَ یُحَدِّثُ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّہُ صَلَّی الظُّہْرَ ثُمَّ قَعَدَ فِی حَوَائِجِ النَّاسِ فِی رَحَبَۃِ الْکُوفَۃِ حَتَّی حَضَرَتْ صَلاَۃُ الْعَصْرِ، ثُمَّ أَتَی بِکُوزٍ مِنْ مَائٍ فَأَخَذَ مِنْہُ حَفْنَۃً وَاحِدَۃً ، فَمَسَحَ بِہَا وَجْہَہُ وَیَدَیْہِ وَرَأْسَہُ وَرِجْلَیْہِ، ثُمَّ قَامَ فَشَرِبَ فَضْلَہُ وَہْوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ نَاسًا یَکْرَہُونَ الشُّرْبَ قَائِمًا ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -صَنَعَ کَمَا صَنَعْتُ وَقَالَ: ہَذَا وُضُوئُ مَنْ لَمْ یُحَدِّثْ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِی إِیَاسٍ بِبَعْضِ مَعْنَاہُ۔

(ق) وَفِی ہَذَا الْحَدِیثِ الثَّابِتِ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ الْحَدِیثَ الَّذِی رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -فِی الْمَسْحِ عَلَی الرِّجْلَیْنِ إِنْ صَحَّ فَإِنَّمَا عَنَی بِہِ وَہُوَ طَاہِرٌ غَیْرُ مُحْدَثٍ إِلاَّ أَنَّ بَعْضَ الرُّوَاۃِ کَأَنَّہُ اخْتَصَرَ الْحَدِیثَ فَلَمْ یَنْقُلْ قَوْلَہُ ہَذَا وُضُوئُ مَنْ لَمْ یُحَدِّثْ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۲۹۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وَأَرْجُلَکُمْ کے منصوب پڑھانے کا بیان، اس وقت مراد دھونا ہوگا اور مجرور پڑھنے کی وجہ قریب ہونا ہے
(٣٥٥) سیدنا علی (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا ، پھر فرمایا : کہاں ہیں وہ لوگ جو کھڑے ہو کر پانی پینے کو ناپسند سمجھتے ہیں ؟

راوی کہتا ہے کہ سیدنا علی (رض) نے اس (پیالے) کو پکڑا اور کھڑے ہو کر پانی پیا، پھر ہلکا وضو کیا اور اپنی جوتیوں پر مسح کیا، پھر فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی طرح کیا ہے جب تک کوئی بےوضو نہ ہو۔
(۳۵۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا أَبِی أَخْبَرَنَا ابْنُ الأَشْجَعِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ سُفْیَانَ عَنِ السُّدِّیِّ عَنْ عَبْدِ خَیْرٍ عَنْ عَلِیٍّ: أَنَّہُ دَعَا بِکُوزٍ مِنْ مَائٍ ثُمَّ قَالَ: أَیْنَ ہَؤُلاَئِ الَّذِینَ یَزْعُمُونَ أَنَّہُمْ یَکْرَہُونَ الشُّرْبَ قَائِمًا؟ قَالَ: فَأَخَذَہُ فَشَرِبَ وَہُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوئً ا خَفِیفًا، وَمَسَحَ عَلَی نَعْلَیْہِ، ثُمَّ قَالَ: ہَکَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -مَا لَمْ یُحَدِّثْ۔

وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی اللَّیْثِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُبَیْدِ الرَّحْمَنِ الأَشْجَعِیِّ۔

[حسن۔ أخرجہ ابن خزیمۃ ۲/۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وَأَرْجُلَکُمْ کے منصوب پڑھانے کا بیان، اس وقت مراد دھونا ہوگا اور مجرور پڑھنے کی وجہ قریب ہونا ہے
(٣٥٦) سیدنا علی (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا، پھر ہلکا وضو کیا، پھر اپنے جوتیوں پر مسح کیا، پھر فرمایا : اسی طرح پاک آدمی کے لیے وضو ہے جب تک وہ بےوضو نہ ہو۔

(ب) سیدنا علی (رض) سے منقول جوتوں پر مسح کے متعلق روایت نفلی وضو کے متعلق ہے نہ کہ فرض وضو سے متعلق اور پاؤں جوتوں میں دھونے سے مراد موزوں پر مسح کرنا ہے جسے بعض رواۃ جرابوں کی قید کے ساتھ بیان کرتے ہیں اور جو ربین سے مراد چمڑے والی ہیں اس لیے کہ حضرت علی (رض) سے پاؤں کا دھونا ثابت ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پاؤں دھونا ثابت ہے اور نہ دھونے پر سخت وعید ہے۔
(۳۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِیمِ الْبَزَّازُ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی اللَّیْثِ أَخْبَرَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُبَیْدِ الرَّحْمَنِ الأَشْجَعِیُّ عَنْ سُفْیَانَ عَنِ السُّدِّیِّ عَنْ عَبْدِ خَیْرٍ عَنْ عَلِیٍّ: أَنَّہُ دَعَا بِکُوزٍ مِنْ مَائٍ ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوئً ا خَفِیفًا ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَی نَعْلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ہَکَذَا وُضُوئُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -لِلطَّاہِرِ مَا لَمْ یُحَدِّثْ۔

(ق) وَفِی ہَذَا دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ مَا رُوِیَ عَنْ عَلِیٍّ فِی الْمَسْحِ عَلَی النَّعْلَیْنِ إِنَّمَا ہُوَ فِی وُضُوئٍ مُتَطَوَّعٍ بِہِ لاَ فِی وُضُوئٍ وَاجِبٍ عَلَیْہِ مِنْ حَدَثٍ یُوجِبُ الْوُضُوئَ، أَوْ أَرَادَ غَسْلَ الرِّجْلَیْنِ فِی النَّعْلَیْنِ، أَوْ أَرَادَ الْمَسْحَ عَلَی جَوْرَبَیْہِ وَنَعْلَیْہِ کَمَا رَوَاہُ عَنْہُ بَعْضُ الرُّوَاۃِ مُقَیَّدًا بِالْجَوْرَبَیْنِ ، وَأَرَادَ بِہِ جَوْرَبَیْنِ مُنْعَلَیْنِ فَثَابِتٌ عَنْہُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ غَسْلُ الرِّجْلَیْنِ ، وَثَابِتٌ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -غَسْلُ الرِّجْلَیْنِ وَالْوَعِیدُ عَلَی تَرْکِہِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔

[حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ ابن خزیمۃ ۲۰۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاؤں کے دونوں جانب ابھری ہڈیوں کے ایڑھیاں ہونے کا بیان

(الف) سیدنا عثمان بن عفان (رض) والی حدیث نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وضو کے متعلق ہے، اس میں ہے کہ آپ نے دائیں پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھویا، پھر بائیں کو بھی اسی طرح دھویا۔

(ب) اس حدیث میں دلیل ہے کہ پاؤں کے دو ٹخنے ہیں۔
(٣٥٧) ابو القاسم جدلی کہتے ہیں : میں نے نعمان بن بشیر (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رخِ انور کے ساتھ ہماری طرف متوجہ ہوئے، اور تین مرتبہ فرمایا : اپنی صفوں کو سیدھا کرو، اللہ کی قسم ! ضرور تم اپنی صفوں کو سیدھا کرو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کے درمیان مخالفت ڈال دے گا۔ راوی کہتا ہے : میں نے ایک شخص کو دیکھا، وہ اپنی ایڑھی کو اپنے ساتھی کی ایڑھی کے ساتھ چمٹائے ہوئے تھا اور اپنے گھٹنے کو اپنے ساتھی کے گھٹنے کے ساتھ اور اپنے کندھے کو اس کے کندھے کے ساتھ۔
(۳۵۷) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِیُّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَۃَ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ زَکَرِیَّا بْنِ أَبِی زَائِدَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْجَدَلِیُّ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیرٍ یَقُولُ: أَقْبَلَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -بِوَجْہِہِ فَقَالَ: ((أَقِیمُوا صُفُوفَکُمْ ثَلاَثًا، وَاللَّہِ لَتُقِیمُنَّ صُفُوفَکُمْ أَوْ لَیُخَالِفَنَّ اللَّہُ بَیْنَ قُلُوبِکُمْ))۔ قَالَ: فَرَأَیْتُ الرَّجُلَ یَلْزَقُ کَعْبَہُ بِکَعْبِ صَاحِبِہِ ، وَرُکْبَتَہُ بِرُکْبَۃِ صَاحِبِہِ ، وَمَنْکِبَہُ بِمَنْکِبِہِ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۶۶۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پاؤں کے دونوں جانب ابھری ہڈیوں کے ایڑھیاں ہونے کا بیان

(الف) سیدنا عثمان بن عفان (رض) والی حدیث نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وضو کے متعلق ہے، اس میں ہے کہ آپ نے دائیں پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھویا، پھر بائیں کو بھی اسی طرح دھویا۔

(ب) اس حدیث میں دلیل ہے کہ پاؤں کے دو ٹخنے ہیں۔
(٣٥٨) طارق بن عبداللہ محاربی فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ذی المجاز بازار سے گزرتے ہوئے دیکھا، میں اپنا مال بیچ رہاتھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گزرے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سرخ جبہ تھا، میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : اے لوگو ! ” لا الٰہ الا اللہ “ کہو فلاح پا جاؤ گے اور ایک شخص آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پیچھے سے پتھر مار رہا تھا، اس کی ایڑھیاں گندم گوں تھیں وہ ابو لہب تھا۔۔۔
(۳۵۸) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ أَخْبَرَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ زِیَادِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْمُحَارِبِیِّ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -مَرَّ بِسُوقٍ ذِی الْمَجَازِ وَأَنَا فِی بِیَاعَۃٍ لِی ، فَمَرَّ وَعَلَیْہِ حُلَّۃٌ حَمْرَائُ فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ: (( یَا أَیُّہَا النَّاسُ قُولُوا لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ تُفْلِحُوا))۔ وَرَجُلٌ یَتْبَعُہُ یَرْمِیہِ بِالْحِجَارَۃِ قَدْ أَدْمَی کَعْبَیْہِ ، یَعْنِی أَبَا لَہَبٍ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ [حسن۔ أخرجہ الحاکم ۲/۶۶۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ انگلیوں کا خلال کرنا
(٣٥٩) (الف) اسماعیل بن کثیر کہتے ہیں : میں نے عاصم بن لقیط بن صبرہ کو اپنے والد سے حدیث نقل کرتے ہوئے سنا کہ میں بنی منتفق کے لشکر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف گیا، میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! مجھے وضو کے بارے میں بتائیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مکمل وضو کر، انگلیوں کے درمیان خلال کر اور ناک میں خوب اچھی طرح پانی چڑھا مگر روزے کی حالت میں نہ کر۔

(ب) سیدنا عثمان (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وضو کے بارے میں فرماتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے قدموں کی انگلیوں کا بھی خلال کیا۔
(۳۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ سُلَیْمٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ کَثِیرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ لَقِیطِ بْنِ صَبِرَۃَ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: کُنْتُ وَافِدَ بَنِی الْمُنْتَفِقِ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -فَقُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ أَخْبِرْنِی عَنِ الْوُضُوئِ فَقَالَ: أَسْبِغِ الْوُضُوئَ وَخَلِّلْ بَیْنَ الأَصَابِعِ ، وَبَالِغْ فِی الاِسْتِنْشَاقِ إِلاَّ أَنْ تَکُونَ صَائِمًا۔

(ت) وَقَدْ مَضَی فِی حَدِیثِ شَقِیقِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنْ عُثْمَانَ فِی صِفَۃِ وُضُوئِ النَّبِیِّ -ﷺ -أَنَّہُ خَلَّلَ أَصَابِعَ قَدَمَیْہِ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۴۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৫৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلال کرنے کا طریقہ
(٣٦٠) یزید بن عمرو معافر ی فرماتے ہیں : میں نے ابو عبد الرحمن حبلی سے سنا کہ مستور دبن شداد قرشی فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ کو دیکھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی چھوٹی انگلی کے ساتھ اپنے پاؤں کی انگلیوں کے درمیان خلال فرماتے تھے۔
(۳۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا: یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ

(ح) قَالَ وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَمْرٍو الْمَعَافِرِیِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ الْمُسْتَوْرِدَ بْنَ شَدَّادٍ الْقُرَشِیُّ یَقُولُ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -یَدْلُکُ بِخِنْصَرِہِ مَا بَیْنِ أَصَابِعِ رِجْلَیْہِ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الطحاوی فی شرح المعانی ۱/۳۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৬০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلال کرنے کا طریقہ
(٣٦١) ابن عبد الرحمن بن وھب کہتے ہیں : میں نے اپنے چچا سے سنا اور انھوں نے مالک سے سنا کہ ان سے وضو میں پاؤں کی انگلیوں کے خلال کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے فرمایا : یہ لوگوں پر (فرض) نہیں ہے۔ فرماتے ہیں : میں نے اس کو چھوڑ دیا، لوگوں نے اس کو ہلکا سمجھا، میں نے ان سے کہا : اے عبداللہ ! میں نے آپ کے متعلق سنا ہے کہ آپ پاؤں کی انگلیوں کے خلال کے بارے میں فتویٰ دیتے ہیں کہ یہ لوگوں پر فرض نہیں ہے جبکہ ہمارے پاس اس بارے میں حدیث پاک موجود ہے۔ اس نے کہا : وہ کیا ہے ؟ میں نے کہا : مستورد بن شداد قرشی سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ کو دیکھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے پاؤں کی انگلیوں کے درمیان اپنی چھوٹی انگلی سے ملتے تھے۔ انھوں نے فرمایا : بلاشبہ یہ اچھی بات ہے اور میں نے ان سے صرف اسی وقت سنا، پھر میں نے اس کے بعد سنا۔ ان سے سوال کیا گیا تو انھوں نے پاؤں کی انگلیوں کے خلال کا حکم دیا۔ میرے چچا فرماتے ہیں : کم ہی ایسے لوگ ہیں جو وضو کرتے ہیں، ان سے پاؤں کے انگوٹھے کی نچلی جانب خط برابر جگہ نہ رہ جائے کیونکہ عام لوگ وضو کرتے ہوئے اپنے انگوٹھے موڑ لیتے ہیں تو جس نے اس کا خلال کیا وہ اس غلطی سے بچ گیا۔
(۳۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ: عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِدْرِیسَ الْحَنْظَلِیُّ بِالرَّیِّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ یَعْنِی ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَہْبٍ قَالَ سَمِعْتُ عَمِّی یَقُولُ: سَمِعْتُ مَالِکًا یُسْأَلُ عَنْ تَخْلِیلِ أَصَابِعِ الرِّجْلَیْنِ فِی الْوُضُوئِ فَقَالَ: لَیْسَ ذَلِکَ عَلَی النَّاسِ قَالَ فَتَرَکْتُہُ حَتَّی خَفَّ النَّاسُ فَقُلْتُ لَہُ: یَا أَبَا عَبْدِ اللَّہِ سَمِعْتُکَ تُفْتِی فِی مَسْأَلَۃٍ فِی تَخْلِیلِ أَصَابِعِ الرِّجْلَیْنِ زَعَمْتَ أَنَّ لَیْسَ ذَلِکَ عَلَی النَّاسِ وَعِنْدَنَا فِی ذَلِکَ سُنَّۃٌ۔ فَقَالَ: وَمَا ہِیَ؟ فَقُلْتُ: حَدَّثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ وَابْنُ لَہِیعَۃَ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ عَمْرٍو الْمَعَافِرِیِّ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِیِّ عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ الْقُرَشِیِّ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -یَدْلُکُ بِخِنْصَرِہِ مَا بَیْنَ أَصَابِعِ رِجْلَیْہِ۔ فَقَالَ: إِنَّ ہَذَا حَدِیثٌ حَسَنٌ ، وَمَا سَمِعْتُ بِہِ قَطُّ إِلاَّ السَّاعَۃَ۔ ثُمَّ سَمِعْتُہُ یُسْأَلُ بَعْدَ ذَلِکَ ، فَأَمَرَ بِتَخْلِیلِ الأَصَابِعِ۔ قَالَ عَمِّی: مَا أَقَلَّ مَنْ یَتَوَضَّأُ إِلاَّ وَیُخْطِئُہُ الْخَطُّ الَّذِی تَحْتَ الإِبْہَامِ فِی الرِّجْلِ ، فَإِنَّ النَّاسَ یَثْنُونَ إِبْہَامَہُمْ عِنْدَ الْوُضُوئِ ، فَمَنْ تَفَقَّدَ ذَلِکَ سَلِمَ۔

[ضعیف۔ أخرجہ ابن ابی حاکم فی مقدمۃ الجرح والتحدیل ۱/۳۱]
tahqiq

তাহকীক: