আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬৭৩ টি

হাদীস নং: ৩৮১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کی فضیلت کا بیان
(٣٨٢) سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مکہ تشریف لے جانے اور مدینہ واپس تشریف لانے کے متعلق طویل حدیث ذکر کی۔ فرماتے ہیں : میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! وضو کیا ہے ؟ مجھے بتلائیے ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب انسان پانی اپنے قریب کرتا ہے، اس کے بعد کلی کرتا ہے اور ناک میں پانی چڑھاتا ہے۔ پھر ناک جھاڑتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے منہ اور ناک کے بانسے سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب اپنا چہرہ دھوتا ہے جس طرح اللہ نے اس کو حکم دیا تو پانی کے ساتھ اس کے چہرے کے اطراف اور داڑھی سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے انگلیوں کے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر سر کا مسح کرتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے بالوں کے اطراف سے سر کے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر ٹخنوں تک اپنے قدموں کو دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ اس کے پاؤں کی انگلیوں سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر کھڑا ہو کر نماز ادا کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتا ہے تو اس کی بزرگی بیان کرتا ہے جس کے وہ اہل ہیں اور اپنے دل کو اللہ کے لیے فارغ کردیتا ہے تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک صاف ہوجاتا ہے جیسے آج ہی اس کی والدہ نے اس کو جنم دیا ہے۔

(ب) عکرمہ سے روایت ہے کہ پھر آپ نے اپنے قدموں کو ٹخنوں تک دھویا جس طرح اللہ نے اس کو حکم دیا۔ اس کی سند میں یحییٰ بن کثیر کا ذکر نہیں ہے۔

(ج) ابو ولید نے اس روایت سے پاؤں دھونے کے واجب ہونے کی دلیل لی ہے۔
(۳۸۲) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ وَأَبُو عَمْرٍو: ُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شِیرُوَیْہِ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِیمِ الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَبُو عَمَّارٍ وَیَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ قَالَ قَالَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَۃَ السُّلَمِیُّ فَذَکَرَ حَدِیثًا طَوِیلاً فِی قُدُومِہِ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ -مَکَّۃَ ، ثُمَّ قُدُومِہِ عَلَیْہِ بِالْمَدِینَۃِ ، قَالَ قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا الْوُضُوئُ ؟ حَدِّثْنِی عَنْہُ۔ قَالَ: ((مَا مِنْکُمْ مِنْ رَجُلٍ یُقَرِّبُ وَضُوئَ ہُ فَیُمَضْمِضُ وَیَسْتَنْشِقُ فَیَسْتَنْثِرُ إِلاَّ خَرَجَتْ خَطَایَا فَمِہِ وَخَیَاشِیمِہِ مَعَ الْمَائِ ، ثُمَّ إِذَا غَسَلَ وَجْہَہُ کَمَا أَمَرَہُ اللَّہُ إِلاَّ خَرَجَتْ خَطَایَا وَجْہِہِ مِنْ أَطْرَافِ لِحْیَتِہِ مَعَ الْمَائِ ، ثُمَّ یَغْسِلُ یَدَیْہِ إِلَی الْمِرْفَقَیْنِ إِلاَّ خَرَجَتْ خَطَایَا یَدَیْہِ مِنْ أَنَامِلِہِ مَعَ الْمَائِ ، ثُمَّ یَمْسَحُ رَأْسَہُ إِلاَّ خَرَجَتْ خَطَایَا رَأْسِہِ مِنْ أَطْرَافِ شَعَرِہِ مَعَ الْمَائِ ، ثُمَّ یَغْسِلُ قَدَمَیْہِ إِلَی الْکَعْبَیْنِ إِلاَّ خَرَجَتْ خَطَایَا رِجْلَیْہِ مِنْ أَنَامِلِہِ مَعَ الْمَائِ ، فَإِنْ ہُوَ قَامَ فَصَلَّی فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ وَمَجَّدَہُ بِالَّذِی ہُوَ لَہُ أَہْلٌ ، وَفَرَّغَ قَلْبَہُ لِلَّہِ إِلاَّ انْصَرَفَ مِنْ خَطِیئَتِہِ کَہَیْئَتِہِ یَوْمَ وَلَدَتْہُ أُمُّہُ))۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِیِّ عَنِ النَّضْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی الْوَلِیدِ عَنْ عِکْرِمَۃَ: ثُمَّ یَغْسِلُ قَدَمَیْہِ إِلَی الْکَعْبَیْنِ کَمَا أَمَرَہُ اللَّہُ ۔ وَلَمْ یَذْکُرْ فِی إِسْنَادِہِ یَحْیَی بْنَ أَبِی کَثِیرٍ۔

(ت) وَقَدْ رَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الذُّہْلِیِّ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ وَاحْتَجَّ بِہِ فِی وُجُوبِ غَسْلِ الْقَدَمَیْنِ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۸۳۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کی فضیلت کا بیان
(٣٨٣) عبداللہ صنابحی سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب بندہ وضو کرتا ہے اور کلی کرتا ہے تو اس کے منہ سے گناہ نکل جاتے ہیں اور جب ناک جھاڑتا ہے تو اس کے ناک سے گناہ نکل جاتے ہیں، جب اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے اس کے گناہ نکل جاتے ہیں حتیٰ کہ اس کی پلکوں کے نیچے سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں پھر جب اپنے ہاتھوں کو دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر کے گناہ نکل جاتے ہیں حتیٰ کہ اس کے کانوں کے بھی گناہ نکل جاتے ہیں۔ پھر جب اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اس کے پاؤں کے گناہ نکل جاتے ہیں حتیٰ کہ اس کے قدموں کے نیچے سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں، پھر اس کا مسجد کی طرف چلنا اور نماز ادا کرنا اس کے لیے اجر وثواب میں زیادتی کا باعث ہے۔

(ب) یحییٰ بن معین عطاء بن یسار سے نقل فرماتے ہیں کہ عبداللہ صنابحی (رض) جو ابو عبداللہ کے نام سے مشہور ہیں، ابوبکر عبدالرحمن بن عسیلہ کے اور قیس بن ابو حازم کے دوست ہیں اور وہ صنابح بن ا عسر کے نام سے مشہور ہیں، یہ قول یحییٰ بن معین کا ہے۔ امام بخاری (رح) فرماتے ہیں کہ مالک بن انس کو ان کے نام کے متعلق وہم ہوا ہے وہ تو ابو عبداللہ کے نام سے مشہور ہیں۔ عبدالرحمن بن عسیلہ کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سماع ثابت نہیں، یہ حدیث مرسل ہے، عبدالرحمن نے سیدنا ابوبکر صدیق (رض) سے روایت کیا ہے اور صنابح بن اعسر صحابیٔ رسول ہیں۔ امام احمد (رح) کہتے ہیں کہ امام بخاری (رح) نے تاریخ میں مالک بن انس سے اسی طرح روایت کیا ہے پھر فرمایا : ان کی متابعت ابن ابی مریم عن ابو غسان عن زید کی ہے۔ امام مالک (رح) نے صنابحی ابوعبداللہ نے روایت بیان کی ہے، اس کی رواۃ اور آثار کو قابلِ حجت سمجھتا ہے۔
(۳۸۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلاَنِیُّ قَالَ قُرِئَ عَلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ الصُّنَابِحِیِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -قَالَ: ((إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ فَمَضْمَضَ خَرَجَتِ الْخَطَایَا مِنْ فِیہِ ، فَإِذَا اسْتَنْثَرَ خَرَجَتِ الْخَطَایَا مِنْ أَنْفِہِ فَإِذَا غَسَلَ وَجْہَہُ خَرَجَتِ الْخَطَایَا مِنْ وَجْہِہِ حَتَّی تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَشْفَارِ عَیْنَیْہِ ، فَإِذَا غَسَلَ یَدَیْہِ خَرَجَتِ الْخَطَایَا مِنْ یَدَیْہِ حَتَّی تَخْرُجَ الْخَطَایَا مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ یَدَیْہِ ، فَإِذَا مَسَحَ بِرَأْسِہِ خَرَجَتِ الْخَطَایَا مِنْ رَأْسِہِ حَتَّی تَخْرُجَ مِنْ أُذُنَیْہِ، فَإِذَا غَسَلَ رِجْلَیْہِ خَرَجَتِ الْخَطَایَا مِنْ رِجْلَیْہِ حَتَّی تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ رِجْلَیْہِ ، ثُمَّ کَانَ مَشْیُہُ إِلَی الْمَسْجِدِ وَصَلاَتُہُ نَافِلَۃً لَہُ))۔

(ج) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ یَقُولُ سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِیَّ یَقُولُ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ مَعِینٍ یَقُولَ یَرْوِی عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ الصُّنَابِحِیِّ صَحَابِیٌّ وَیُقَالُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ ، وَالصُّنَابِحِیُّ صَاحِبُ أَبِی بَکْرٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُسَیْلَۃَ ، وَالصُّنَابِحِیُّ صَاحِبُ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ یُقَالُ لَہُ الصُّنَابِحُ بْنُ الأَعْسَرِ۔ کَذَا قَالَ یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ۔

وَزَعَمَ الْبُخَارِیُّ أَنَّ مَالِکَ بْنَ أَنَسٍ وَہِمَ فِی ہَذَا ، وَإِنَّمَا ہُوَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُسَیْلَۃَ الصُّنَابِحِیُّ لَمْ یَسْمَعْ مِنَ النَّبِیِّ -ﷺ-۔

وھذا الحدیث مرسل، وعبدالرحمن ھو الذی روی عن أبی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ۔

والصنابح بن الأعسر صاحب النبی ﷺ

قال الإمام أحمد: وقد رواہ البخاری فی التاریخ من حدیث مالک بن أنس ھکذا ثم قال: وتابعہ ابن أبی مریم عن أبی غسان عن زید۔

ورواہ إسحاق بن عیسی بن الطباع عن مالک، فقال: عن الصنابحی أبی عبداللہ، واحتج بآثار ذکرھا علی أن الأمر فیہ کما قال۔ [صحیح۔ أخرجہ احمد ۴/۳۴۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو کی فضیلت کا بیان
(٣٨٤) سیدنا ثوبان (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” سیدھے رہو اور تم شمار نہیں کیے جاؤ گے ” جان لو بیشک افضل۔۔۔“ ابو بدر نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ تمہارے اعمال میں سے بہتر نماز ہے اور وضو پر محافظت صرف مومن کرتا ہے۔
(۳۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ الطَّنَافِسِیُّ وَأَبُو بَدْرٍ: شُجَاعُ بْنُ الْوَلِیدِ قَالاَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ مِہْرَانَ الأَعْمَشُ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ عَنْ ثَوْبَانَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -قَالَ: ((اسْتَقِیمُوا وَلَنْ تُحْصُوا ، وَاعْلَمُوا أَنَّ مِنْ أَفْضَلِ))۔ قَالَ أَبُو بَدْرٍ: ((مِنْ خَیْرِ أَعْمَالِکُمُ الصَّلاَۃَ ، وَلَنْ یُحَافِظَ عَلَی الْوُضُوئِ إِلاَّ مُؤْمِنٌ ))۔

[صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ماجہ ۲۷۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکمل وضو کرنا
(٣٨٥) سیدنا عثمان بن عفان (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے تھے : ” جس نے نماز کے لیے مکمل وضو کیا، پھر فرض نماز پڑھنے کے لیے چلا اور اس نے لوگوں کے ساتھ یا جماعت کے ساتھ یا مسجد میں نماز ادا کی تو اس کے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔
(۳۸۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا: یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالُوا أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ۔

قَالُوا وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ الْحَکَمَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ الْقُرَشِیَّ حَدَّثَہُ أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَیْرٍ وَعَبْدَ اللَّہِ بْنَ أَبِی سَلَمَۃَ حَدَّثَاہُ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَہُ عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَی عُثْمَانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -یَقُولُ: ((مَنْ تَوَضَّأَ لِلصَّلاَۃِ فَأَسْبَغَ الْوُضُوئَ ، ثُمَّ مَشَی إِلَی الصَّلاَۃِ الْمَکْتُوبَۃِ فَصَلاَّہَا مَعَ النَّاسِ أَوْ مَعَ الْجَمَاعَۃِ أَوْ فِی الْمَسْجِدِ غُفِرَ لَہُ ذَنْبُہُ ))۔

أَخْرَجَہُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ وَغَیْرِہِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔

[صحیح۔ أخرجہ مسلم ۲۳۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکمل وضو کرنا
(٣٨٦) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا میں تم کو نہ بتلاؤں کہ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ گناہوں کو معاف کردیتا ہے اور درجات بلند کردیتا ہے ناگواری (یعنی سخت سردی) میں مکمل وضو کرنا، مسجدوں کی طرف زیادہ جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری کا انتظار کرنا : یہ رباط ہے، تین مرتبہ فرمایا (رباط کا معنی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے) ۔
(۳۸۶) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَیَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی وَأَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْبُورٍ الدَّہَّانُ قَالُوا أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ

(ح) قَالُوا وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -أَنَّہُ قَالَ: ((أَلاَ أُخْبِرُکُمْ بِمَا یَمْحُو اللَّہُ بِہِ الْخَطَایَا وَیَرْفَعُ بِہِ الدَّرَجَاتِ؟ إِسْبَاغُ الْوُضُوئِ عَلَی الْمَکَارِہِ ، وَکَثْرَۃُ الْخُطَا إِلَی الْمَسَاجِدِ ، وَانْتِظَارُ الصَّلاَۃِ بَعْدَ الصَّلاَۃِ فَذَلِکُمُ الرِّبَاطُ فَذَلِکُمُ الرِّبَاطُ فَذَلِکُمُ الرِّبَاطُ))۔ [صحیح۔ أخرمسلم ۲۵۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکمل وضو کرنا
(٣٨٧) مالک نے اس حدیث کو پچھلی روایت کی طرح بیان کیا ہے۔
(۳۸۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَی الأَنْصَارِیُّ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا مَالِکٌ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ۔

رَوَاہُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مُوسَی۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکمل وضو کرنا
(٣٨٨) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قبرستان کی طرف نکلے تو یہ دعا پڑھی : ” السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِینَ ، وَإِنَّا إِنْ شَائَ اللَّہُ بِکُمْ لاَحِقُونَ “ میں پسند کرتا ہوں کہ میں اپنے بھائیوں کو دیکھوں۔ صحابہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میرے صحابہ ہو اور میرے بھائی وہ ہیں جو ابھی تک نہیں آئے اور میں ان کا حوض پر انتظار کروں گا، صحابہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی امت کے اس شخص کو کس طرح پہچانو گے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” مجھے بتاؤ، اگر ایک شخص کے پاس انتہائی سیاہ گھوڑوں میں سفید پیشانی والے ہوں تو کیا وہ اپنے گھوڑے کو پہچان لے گا ؟ انھوں نے کہا : کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک وہ قیامت دن آئیں گے اور ان کے وضو کے اعضا چمک رہے ہوں گے اور میں ان کا حوض پر انتظار کروں گا اور کچھ لوگ میرے حوض سے اس طرح ہٹا دیے جائیں گے، جس طرح آوارہ اونٹ ہٹایا جاتا ہے، میں ان کو بلاؤں گا کہ آ جاؤ، آ جاؤ، آ جاؤ تین مرتبہ کہوں گا تو کہا جائے گا : انھوں نے آپ کے بعد دین کو بدل دیا تو میں کہوں گا : دور رہو، دور رہو، دور رہو۔
(۳۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی أُوَیْسٍ قَالَ حَدَّثَنِی مَالِکٌ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -خَرَجَ إِلَی الْمَقْبُرَۃِ فَقَالَ: ((السَّلاَمُ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِینَ ، وَإِنَّا إِنْ شَائَ اللَّہُ بِکُمْ لاَحِقُونَ ، وَدِدْتُ أَنِّی قَدْ رَأَیْتُ إِخْوَانَنَا))۔ قَالُوا: یَا رَسُولَ اللَّہِ أَلَسْنَا بِإِخْوَانِکَ؟ قَالَ: ((بَلْ أَنْتُمْ أَصْحَابِی ، وَإِخْوَانُنَا الَّذِینَ لَمْ یَأْتُوا بَعْدُ ، وَأَنَا فَرَطُہُمْ عَلَی الْحَوْضِ))۔ قَالُوا: یَا رَسُولَ اللَّہِ کَیْفَ تَعْرِفُ مَنْ یَأْتِی بَعْدَکَ مِنْ أُمَّتِکَ؟ قَالَ: أَرَأَیْتَ لَوْ کَانَ لِرَجُلٍ خَیْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَۃٌ فِی خَیْلٍ دُہْمٍ بُہْمٍ ، أَلاَ یَعْرِفُ خَیْلَہُ؟ ۔ قَالُوا: بَلَی یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ قَالَ: ((فَإِنَّہُمْ یَأْتُونَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ غُرًّا مُحَجَّلِینَ مِنَ الْوُضُوئِ ، وَأَنَا فَرَطُہُمْ عَلَی الْحَوْضِ فَلَیُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِی کَمَا یُذَادُ الْبَعِیرُ الضَّالُّ أُنَادِیہِمْ: أَلاَ ہَلُمَّ أَلاَ ہَلُمَّ أَلاَ ہَلُمَّ ثَلاَثًا فَیُقَالُ إِنَّہُمْ قَدْ بَدَّلُوا فَأَقُولُ فَسُحْقًا فَسُحْقًا فَسُحْقًا))۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۲۴۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکمل وضو کرنا
(٣٨٩) مالک نے اس حدیث کو بیان کیا ہے۔
(۳۸۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَی حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْجُنَیْدِ حَدَّثَنَا الأَنْصَارِیُّ یَعْنِی إِسْحَاقَ بْنَ مُوسَی حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِکٌ بِہَذَا الْحَدِیثِ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مُوسَی الأَنْصَارِیِّ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے ساتھی کو وضو کرانے کا بیان
(٣٩٠) اسامہ بن زید (رض) سے روایت ہے کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عرفہ کی شام لوٹے اور آپ وادی کی طرف چلے گئے، اپنی حاجت کو پورا کیا تو اسامہ (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے پانی ڈالنا شروع ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وضو کر رہے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسامہ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز ادا نہیں کریں گے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نماز آگے ہے (یعنی نماز کا وقت ابھی آگے ہے) ۔
(۳۹۰) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ التَّمِیمِیُّ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا یَحْیَی عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ کُرَیْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ: أَنَّہُ دَفَعَ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ -عَشِیَّۃَ عَرَفَۃَ حَتَّی عَدَلَ إِلَی الشِّعْبِ یَقْضِی حَاجَتَہُ فَجَعَلَ أُسَامَۃُ یَصُبُّ عَلَیْہِ وَیَتَوَضَّأُ فَقَالَ لَہُ أُسَامَۃُ: أَلاَ تُصَلِّی یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ -ﷺ -: ((الصَّلاَۃُ أَمَامَکَ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلاَمٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۳۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے ساتھی کو وضو کرانے کا بیان
(٣٩١) مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں کہ میں ایک رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا ۔ اچانک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اترے اور اپنی حاجت پوری کی، پھر آئے تو میں نے ڈول سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے پانی ڈالا جو میرے پاس تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔
(۳۹۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ أَشْعَثَ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ ہِلاَلٍ عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ قَالَ: بَیْنَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -ذَاتَ لَیْلَۃٍ إِذْ نَزَلَ فَقَضَی حَاجَتَہُ ثُمَّ جَائَ ، فَصَبَبْتُ عَلَیْہِ مِنْ إِدَاوَۃٍ کَانَتْ مَعِی ، فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَی خُفَّیْہِ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی ، وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنِ الْمُغِیرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ۔

[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۵۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو میں فرق کرنا
(٣٩٢) ابن معدان کسی صحابی سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، اس کے پاؤں پر درہم کے برابر جگہ تھی جس کو پانی نہیں لگا تھا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو وضو اور نماز لوٹانے کا حکم دیا۔

(ب) اسی طرح مرسل روایت میں ہے اور موصول میں بھی۔
(۳۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ: الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحٍ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ عَنْ بَحِیرٍ یَعْنِی ابْنَ سَعْدٍ عَنْ خَالِدٍ یَعْنِی ابْنَ مَعْدَانَ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ -: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -رَأَی رَجُلاً یُصَلِّی وَفِی ظَہْرِ قَدَمِہِ لُمْعَۃٌ قَدْرَ الدِّرْہَمِ لَمْ یُصِبْہَا الْمَائُ ، فَأَمَرَہُ النَّبِیُّ -ﷺ -أَنْ یُعِیدَ الْوُضُوئَ وَالصَّلاَۃَ۔

کَذَا فِی ہَذَا الْحَدِیثِ وَہُوَ مُرْسَلٌ۔ وَرُوِیَ فِی حَدِیثٍ مَوْصُولٍ۔ [حسن۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۷۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو میں فرق کرنا
(٣٩٣) سیدنا انس (رض) بیان فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، اس نے وضو کیا ہوا تھا اور اس کے پاؤں پر ناخن کے برابر جگہ خشک رہ گئی تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : واپس جا اور اچھی طرح وضو کر۔

(ب) امام ابوداؤد (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث معروف نہیں ہے اور ابن وہب سے جریر بن حازم نقل کرتا ہے۔
(۳۹۳) کَمَا أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ عَنْ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ أَنَّہُ سَمِعَ قَتَادَۃَ بْنَ دِعَامَۃَ قَالَ أَخْبَرَنَا أَنَسٌ: أَنَّ رَجُلاً جَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -قَدْ تَوَضَّأَ ، وَتَرَکَ عَلَی قَدَمِہِ مِثْلَ مَوْضِعِ الظُّفُرِ ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوئَ کَ))۔

قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَلَیْسَ ہَذَا الْحَدِیثُ بِمَعْرُوفٍ وَلَمْ یَرْوِہِ عَنْ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ إِلاَّ ابْنُ وَہْبٍ یَعْنِی بِہَذَا الإِسْنَادِ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۷۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو میں فرق کرنا
(٣٩٤) سیدنا عمر (رض) سے اسی طرح منقول کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” واپس جا اور اچھی طرح وضو کر “ وہ واپس گیا، پھر نماز ادا کی۔

(ب) شیخ کہتے ہیں کہ معقل نے پچھلی حدیث کی طرح روایت بیان کی ہے۔
(۳۹۴) قَالَ أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا یُونُسُ وَحُمَیْدٌ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -بِمَعْنَی حَدِیثِ قَتَادَۃَ وَہَذَا مُرْسَلٌ۔ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَقَدْ رُوِیَ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ الْجَزَرِیِّ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -نَحْوَہُ قَالَ: ((ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوئَ کَ ۔ فَرَجَعَ ثُمَّ صَلَّی))۔

قَالَ الشَّیْخُ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَکَرِیَّا حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ: أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْیَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ۔

رَوَاہُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ شَبِیبٍ یَعْنِی عَنِ الْحَسَنِ ، وَرَوَاہُ أَبُو سُفْیَانَ عَنْ جَابِرٍ بِخِلاَفِ مَا رَوَاہُ أَبُو الزُّبَیْرِ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ مسلم ۲۴۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو میں فرق کرنا
(٣٩٥) سیدنا جابر (رض) فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نے ایک شخص کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، اس کے پاؤں میں ایک جگہ خشک رہ گئی تو سیدنا عمر (رض) نے فرمایا : دوبارہ وضو کر۔

(ب) حضرت عمر (رض) سے روایت ہے کہ آپ نے وضو کرنے کا جو حکم دیا وہ مستحب ہے اور صرف پاؤں دھونا واجب تھا۔
(۳۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدٍ الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِی عِیسَی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ الْعَدَنِیُّ عَنْ سُفْیَانَ یَعْنِی الثَّوْرِیَّ عَنْ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی سُفْیَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: رَأَی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَجُلاً یَتَوَضَّأُ فَبَقِیَ فِی رِجْلِہِ لُمْعَۃٌ فَقَالَ: أَعِدِ الْوُضُوئَ ۔

وَعَنْ سُفْیَانَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِثْلَہُ۔

(ق) وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عُمَرَ مَا دَلَّ عَلَی أَنَّ أَمْرَہُ بِالْوُضُوئِ کَانَ عَلَی طَرِیقِ الاِسْتِحْباب وَإِنَّمَا الْوَاجِبُ غَسْلُ تِلْکَ اللُّمْعَۃِ فَقَطْ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو میں فرق کرنا
(٣٩٦) سیدنا عمر بن خطاب (رض) نے ایک شخص کو دیکھا، اس کے پاؤں پر کچھ جگہ کو پانی نہیں پہنچا تھا تو آپ (رض) نے فرمایا : اس وضو کے ساتھ تو نماز میں حاضر ہوگا ؟ اس نے عرض کیا : اے امیر المومنین ! سخت سردی ہے اور اس کی روک تھام کے لیے میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ آپ (رض) نے اسے باریک چیز دی جب کہ وہ نماز کا ارادہ کرچکا تھا اور فرمایا : اپنے پاؤں کی وہ جگہ دھو جو تو نے چھوڑی ہے اور نماز دوبارہ لوٹا اور اپنی چادر اس کو دینے کا حکم دیا۔
(۳۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَۃَ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنِ الْحَجَّاجِ وَعَبْدِ الْمَلَکِ عَنْ عَطَائٍ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ اللَّیْثِیِّ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ رَأَی رَجُلاً وَبِظَہْرِ قَدَمِہِ لُمْعَۃٌ لَمْ یُصِبْہَا الْمَائُ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ: أَبِہَذَا الْوُضُوئِ تَحْضُرُ الصَّلاَۃَ؟ فَقَالَ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ الْبَرْدُ شَدِیدٌ وَمَا مَعِی مَا یُدْفِئُنِی۔ فَرَقَّ لَہُ بَعْدَ مَا ہَمَّ بِہِ فَقَالَ لَہُ: اغْسِلْ مَا تَرَکْتَ مِنْ قَدَمِکَ ، وَأَعِدِ الصَّلاَۃَ۔ وَأَمَرَ لَہُ بِخَمِیصَۃٍ۔

[ضعیف۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۱۰۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو میں فرق کرنا
(٣٩٧) (الف) نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر (رض) نے بازار میں وضو کیا تو اپنے ہاتھ، چہرے اور بازو تین تین مرتبہ دھوئے، پھر مسجد میں داخل ہوئے اور اپنے موزوں پر مسح کیا اور ان کا وضو خشک ہوچکا تھا، پھر نماز ادا کی۔

(ب) یہ روایت صحیح ہے، اس کے راوی ابن عمر (رض) ہیں اور قتیبہ سے ان الفاظ کے ساتھ مشہور ہے۔

(ج) عطاء تابعی وضو کی تفریق میں حرج نہیں سمجھتے تھے، یہی قول حسن، نخعی کا ہے اور امام شافعی (رح) کے دو قولوں میں سے زیادہ صحیح یہی ہے۔
(۳۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: مُحَمَّدُ بْنُ حَمٍّ الْمِہْرَجَانِیُّ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو سَہْلٍ: بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْبَیْہَقِیُّ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ تَوَضَّأَ فِی السُّوقِ، فَغَسَلَ یَدَیْہِ وَوَجْہَہُ وَذِرَاعَیْہِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَمَسَحَ عَلَی خُفَّیْہِ بَعْدَ مَا جَفَّ وُضُوئُ ہُ وَصَلَّی۔

وَہَذَا صَحِیحٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَمَشْہُورٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ بِہَذَا اللَّفْظُ۔

(ق) وَکَانَ عَطَائٌ لاَ یَرَی بِتَفْرِیقِ الْوُضُوئِ بَأْسًا وَہُوَ قَوْلُ الْحَسَنِ وَالنَّخَعِیِّ وَأَصَحُّ قَوْلَیِ الشَّافِعِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو میں فرق کرنا
(٣٩٨) سیدنا ابو امامہ (رض) یا ان کے بھائی سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو دیکھا، ان کی ایڑیوں پر درہم یا ناخن کے برابر جگہ پر پانی نہیں پہنچا تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایڑیوں کے لیے آگ کی ہلاکت ہے۔ راوی کہتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک ایڑیوں کی جگہ کو دیکھتا اگر ان کو پانی نہ پہنچا ہوتا تو اپنا وضو دو بارہ کرتا۔
(۳۹۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ عَنْ لَیْثٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَابِطٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ أَوْ عَنْ أَخِی أَبِی أُمَامَۃَ قَالَ: رَأَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -قَوْمًا عَلَی أَعْقَابِ أَحَدِہِمْ مِثْلُ مَوْضِعِ الدِّرْہَمِ أَوْ مِثْلُ مَوْضِعِ ظُفُرٍ لَمْ یُصِبْہُ الْمَائُ قَالَ فَجَعَلَ یَقُولُ: ((وَیْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ))۔

قَالَ: وَکَانَ أَحَدُہُمْ یَنْظُرُ فَإِذَا رَأَی بِعَقِبِہِ مَوْضِعًا لَمْ یُصِبْہُ الْمَائُ أَعَادَ وُضُوئَ ہُ۔

(ق) وَہَذَا إِنْ صَحَّ فَشَیْئٌ اخْتَارُوہُ لأَنْفُسِہِمْ وَقَدْ یَحْتَمِلُ أَنْ یُرِیدَ بِہِ أَعَادَ وُضُوئَ ذَلِکَ الْمَوْضِعِ فَقَطْ۔

[ضعیف۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۱۰۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترتیب سے وضو کرنا
(٣٩٩) سیدنا جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد سے نکلے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صفا (پہاڑی) کا ارادہ رکھتے تھے : ہم وہاں سے شروع کریں گے جہاں سے اللہ نے ابتدا کی ہے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفا سے ابتدا کی۔
(ق) احْتَجَّ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی بِظَاہِرِ الْکِتَابِ ثُمَّ بِحَدِیثِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ فِی صِفَۃِ الْوُضُوئِ وَقَدْ مَضَی ذِکْرُہُ۔ وَاحْتَجَّ أَیْضًا بِمَا

(۳۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَنَزِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ فِیمَا قَرَأَ عَلَی مَالِکٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- حِینَ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ وَہُوَ یُرِیدُ الصَّفَا یَقُولُ: نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّہُ بِہِ ۔ فَبَدَأَ بِالصَّفَا۔

أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ أَخْبَرَنَا ہِشَامُ بْنُ عَلِیٍّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ الْحَجَبِیُّ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ فَذَکَرَہُ۔ رَوَاہُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَغَیْرِہِ عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۱۲۱۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترتیب سے وضو کرنا
(٤٠٠) سیدنا جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : ” اس چیز کے ساتھ شروع کرو جس سے اللہ نے شروع کیا ہے، {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّہِ } [البقرۃ : ١٥٨] ۔
(۴۰۰) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا الْفِرْیَابِیُّ۔ قَالَ سُلَیْمَانُ وَحَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ابْدَئُ وا بِمَا بَدَأَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ بِہِ {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّہِ} [البقرۃ: ۱۵۸]۔ [صحیح۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر ۱/۲۶۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترتیب سے وضو کرنا
(٤٠١) سیدنا ابن عباس (رض) سے منقول ہے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور عرض کیا : میں صفا سے شروع کروں یا مروہ سے اور میں طواف کرنے سے پہلے نماز پڑھوں یا بعد میں اور ذبح کرنے سے پہلے حلق کروں یا بعد میں ؟ سیدنا ابن عباس (رض) نے فرمایا : اللہ کی کتاب پر عمل کر بلاشبہ یہ زیادہ لائق ہے کہ یاد کی جائے (یعنی اس کے احکامات پر عمل کیا جائے) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّہِ } پس صفا مروہ سے پہلے ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : { وَلاَ تَحْلِقُوا رُئُ وسَکُمْ حَتَّی یَبْلُغَ الْہَدْیُ مَحِلَّہُ } ذبح حلق سے پہلے ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : { وَطَہِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّائِفِینَ وَالْقَائِمِینَ وَالرُّکَّعِ السُّجُودِ } طواف نماز سے پہلے ہے (حلق : سرمنڈوانا) ۔
(۴۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الشَّیْبَانِیُّ بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ حَدَّثَنَا عَطَائُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّہُ أَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ: أَبْدَأُ بِالصَّفَا قَبْلَ الْمَرْوَۃِ أَوْ بِالْمَرْوَۃِ قَبْلِ الصَّفَا؟ وَأُصَلِّی قَبْلَ أَنْ أَطُوفَ أَوْ أَطُوفُ قَبْلَ أَنْ أُصَلِّیَ؟ وَأَحْلِقُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ أَوْ أَذْبَحُ قَبْلَ أَنْ أَحْلِقَ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: خُذْ ذَلِکَ مِنْ کِتَابِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّہُ أَجْدَرُ أَنْ یُحْفَظَ ، قَالَ اللَّہُ تَعَالَی {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّہِ} فَالصَّفَا قَبْلَ الْمَرْوَۃِ ، وَقَالَ تَعَالَی {وَلاَ تَحْلِقُوا رُئُ وسَکُمْ حَتَّی یَبْلُغَ الْہَدْیُ مَحِلَّہُ} الذَّبْحُ قَبْلَ الْحِلَقِ ، وَقَالَ تَعَالَی {وَطَہِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّائِفِینَ وَالْقَائِمِینَ وَالرُّکَّعِ السُّجُودِ} الطَّوُافُ قَبْلَ الصَّلاَۃِ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الحاکم ۲/۲۹۷]
tahqiq

তাহকীক: