আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬৭৩ টি

হাদীস নং: ৪০১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ترتیب سے وضو کرنا
(٤٠٢) سیدنا عدی بن حاکم (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص نے خطبہ دیا اور کہا : جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اس نے ہدایت پائی اور جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی وہ گمراہ ہوا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو برا خطیب ہے اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تو وہ گمراہ ہوا۔ یہ لفظ وکیع والی حدیث کے ہیں، حدیث ابو حذیفہ مختصر ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو برا خطیب ہے۔ اس کے بعد والے الفاظ ذکر نہیں کیے۔
(۴۰۲) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا تَمْتَامٌ حَدَّثَنَا أَبُو حُذَیْفَۃَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا وَکِیعُ بْنُ الْجَرَّاحِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ عَنْ تَمِیمِ بْنِ طَرَفَۃَ عَنْ عَدِیِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: خَطَبَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ: مَنْ یُطِعِ اللَّہَ وَرَسُولَہُ فَقَدْ رَشِدَ، وَمَنْ یَعْصِہِمَا فَقَدْ غَوَی۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((بِئْسَ الْخَطِیبُ أَنْتَ، وَمَنْ یَعْصِ اللَّہَ وَرَسُولَہُ فَقَدْ غَوَی))۔

ہَذَا لَفْظُ حَدِیثِ وَکِیعٍ وَحَدِیثُ أَبِی حُذَیْفَۃَ مُخْتَصَرٌ فَقَالَ: قُمْ، بِئْسَ الْخَطِیبُ أَنْتَ۔ وَلَمْ یَذْکُرْ مَا بَعْدَہُ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ وَکِیعٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۸۷۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دائیں طرف سے شروع کرنا مسنون ہے
(٤٠٣) سیدہ عائشہ (رض) بیان فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے وضو میں دائیں طرف سے شروع کرنے کو پسند فرماتے تھے، جس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وضو کرتے اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کنگھی کرتے یا جب جوتا پہنتے تو بھی (دائیں جانب کو پسند فرماتے تھے) ۔
(۴۰۳) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَیْمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: إِنْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -یُحِبُّ التَّیَمُّنَ فِی طُہُورِہِ إِذَا تَطَہَّرَ ، وَفِی تَرَجُّلِہِ إِذَا تَرَجَّلَ ، وَفِی انْتِعَالِہِ إِذَا انْتَعَلَ۔

[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۴۱۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دائیں طرف سے شروع کرنا مسنون ہے
(٤٠٤) اسی سند سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر کام میں جہاں تک ممکن ہوتا دائیں طرف (سے شروع کرنے) کو پسند کرنے تھے، جوتا پہننے، کنگھی کرنے اور وضو کرنے میں۔
(۴۰۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَیْمٍ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -کَانَ یُعْجِبُہُ التَّیَمُّنُ مَا اسْتَطَاعَ فِی شَأْنِہِ کُلِّہِ: فِی تَرَجُّلِہِ وَتَنَعُّلِہِ وَوُضُوئِہِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۵۵۸۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دائیں طرف سے شروع کرنا مسنون ہے
(٤٠٥) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” لباس پہنو اور جب تم وضو کرو تو دائیں طرف سے شروع کرو۔ “
(۴۰۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو نَصْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْفَامِی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ: رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرٌو یَعْنِی ابْنَ خَالِدٍ حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((إِذَا لَبِسْتُمْ وَإِذَا تَوَضَّأْتُمْ فَابْدَئُ وا بِأَیَامِنِکُمْ ))۔ [صحیح۔ أخرجہ أبو داؤد]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بائیں طرف سے شروع کرنے کی رخصت
(٤٠٦) (الف) بنی مخزوم کے غلام زیاد فرماتے ہیں : ایک شخص سیدنا علی (رض) کے پاس آیا اور وضو کے متعلق سوال کیا تو سیدنا علی (رض) نے فرمایا : دائیں طرف سے یا بائیں طرف سے شروع کر، علی (رض) نے آواز سے گوز مارا، پھر پانی منگوایا اور دائیں کے بجائے بائیں سے شروع کیا۔

(ب) سیدنا علی (رض) فرماتے ہیں : میں اس کی پروا نہیں کرتا، اگر میں دائیں سے پہلے بائیں سے شروع کروں۔

(ج) سیدنا علی (رض) فرماتے ہیں : میں پروا نہیں کرتا جب میں مکمل وضو کروں جس اعضاء سے بھی میں شروع کروں۔

(د) یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد حفص بن غیاث کی حدیث ہے۔ واللہ اعلم
(۴۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَئِ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ یَعْنِی ابْنَ أَبِی خَالِدٍ عَنْ زِیَادٍ یَعْنِی مَوْلَی بَنِی مَخْزُومٍ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلَی عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَسَأَلَہُ عَنِ الْوُضُوئِ فَقَالَ: أَبْدَأُ بِالْیَمِینِ أَوْ بِالشِّمَالِ؟ فَأَضْرَطَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بِہِ ثُمَّ دَعَا بِمَائٍ ، فَبَدَأَ بِالشِّمَالِ قَبْلَ الْیَمِینِ۔

(ت) وَرَوَاہُ حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ عَنْ زِیَادٍ قَالَ قَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: مَا أُبَالِی لَوْ بَدَأْتُ بِالشِّمَالِ قَبْلَ الْیَمِینِ إِذَا تَوَضَّأْتُ۔

وَرَوَاہُ عَوْفٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ ہِنْدٍ قَالَ قَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: مَا أُبَالِی إِذَا أَتْمَمْتُ وُضُوئِی بِأَیِّ أَعْضَائِی بَدَأْتُ۔

(ق) وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُونَ مُرَادُہُ بِمَا أَطْلَقَ فِی ہَذَا مَا فَسَّرَہُ فِی رِوَایَۃِ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ وَاللَّہُ أَعْلَمُ عَلَی أَنَّہُ مُنْقَطِعٌ۔

رَوَی أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ عَنِ الأَنْصَارِیِّ عَنْ عَوْفٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ ہِنْدٍ ہَذَا الْحَدِیثَ ثُمَّ قَالَ قَالَ عَوْفٌ وَلَمْ یَسْمَعْہُ مِنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ الدارقطنی ۱/۸۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بائیں طرف سے شروع کرنے کی رخصت
(٤٠٧) (الف) سیدنا ابن مسعود (رض) سے اس شخص کے متعلق سوال کیا گیا جو وضو دائیں سے پہلے بائیں سے شروع کرتا ہے تو انھوں نے رخصت دی۔

(ب) عبداللہ ہمدانی نے سیدنا ابن مسعود (رض) سے سنا، اگر وہ چاہے تو وضو بائیں طرف سے شروع کرے۔

(ج) عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ ان سے ایک شخص کے بارے میں سوال کیا گیا کہ اس نے وضو بائیں طرف سے شروع کیا تو آپ نے فرمایا : کوئی حرج نہیں۔

(د) عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں : کوئی حرج نہیں ہے کہ تو ہاتھوں کے بجائے پاؤں سے ابتدا کرے۔
(۴۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ یَعْنِی أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِیُّ عَنْ أَبِی بَحْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَشْیَاخُنَا الْہِلاَلِیُّونَ: سُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ عَنِ الرَّجُلِ یَتَوَضَّأُ فَیَبْدَأُ بِشِمَالِہِ قَبْلَ یَمِینِہِ ، فَرَخَّصَ فِی ذَلِکَ۔

قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ سَمِعْتُ وَکِیعًا یَقُولُ أَبُو بَحْرٍ الْہِلاَلِیُّ اسْمُہُ أَحْنَفُ۔

(ت) قَالَ الشَّیْخُ: وَرَوَاہُ فُرَاتُ بْنُ أَحْنَفَ سَمِعَ أَبَاہُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّہِ الْہِلاَلِیَّ سَمِعَ ابْنَ مَسْعُودٍ: إِنْ شَائَ بَدَأَ فِی الْوُضُوئِ بِیَسَارِہِ۔

وَرَوَی أَبُو الْعُبَیْدَیْنِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ تَوَضَّأَ فَبَدَأَ بِمَیَاسِرِہِ فَقَالَ: لاَ بَأْسَ۔

وَرَوَی سُلَیْمَانُ بْنُ مُوسَی عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ: لاَ بَأْسَ أَنْ تَبْدَأَ بِرِجْلَیْکَ قَبْلَ یَدَیْکَ۔

قَالَ الدَّارَقُطْنِیُّ: ہَذَا مُرْسَلٌ وَلاَ یَثْبُتُ۔ (ج) وَہَذَا لأَنَّ مُجَاہِدًا لَمْ یُدْرِکْ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مَسْعُودٍ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بغیر وضو قرآن چھونا منع ہے
(٤٠٨) سیدنا عبداللہ بن ابوبکر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خط جو عمرو بن حزم کے نام تھا اس میں یہ تھا کہ تو قرآن کو باوضو ہو کر ہاتھ لگا۔
(۴۰۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِی الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: کَانَ فِی کِتَابِ النَّبِیِّ -ﷺ -لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ: ((أَنْ لاَ تَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلاَّ عَلَی طُہْرٍ))

[صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۱۲۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بغیر وضو قرآن چھونا منع ہے
(٤٠٩) سیدنا ابوبکر بن محمد بن حزم اپنے دادا سے اور وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یمن والوں کو خط لکھا جس میں فرائض ‘ سنن اور دیتوں کا ذکر تھا اور عمرو بن حزم کے ساتھ ان کو بھیجا۔ پھر انھوں نے لمبی حدیث ذکر کی جس میں یہ بھی تھا کہ قرآن کو صرف باوضو شخص چھوئے۔
(۴۰۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ سَہْلٍ الْفَقِیہُ بِبُخَارَی أَخْبَرَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِیبٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ حَمْزَۃَ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ دَاوُدَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -: أَنَّہُ کَتَبَ إِلَی أَہْلِ الْیَمَنِ بِکِتَابٍ فِیہِ الْفَرَائِضُ وَالسُّنَنُ وَالدِّیَاتُ، وَبَعَثَ بِہِ مَعَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَفِیہِ: ((وَلاَ یَمَسُّ الْقُرْآنَ إِلاَّ طَاہِرٌ))۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۱۲۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بغیر وضو قرآن چھونا منع ہے
(٤١٠) سلیمان بن موسیٰ کہتے ہیں : میں نے سالم سے سنا، وہ اپنے باپ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” قرآن کو صرف باوضو ہی چھوئے۔ “
(۴۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ أَخْبَرَنَا سَعِیدُ بْنُ مُحَمَّدٍ یَعْنِی ابْنَ ثَوَابٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوسَی قَالَ سَمِعْتُ سَالِمًا یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ -: ((لاَ یَمَسُّ الْقُرْآنَ إِلاَّ طَاہِرًا)) ۔

[صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ الطبرانی ۱/۳۲۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بغیر وضو قرآن چھونا منع ہے
(٤١١) معصب بن سعد سے روایت ہے کہ میں سیدنا سعد بن أبی وقاص (رض) کے سامنے مصحف شریف پڑھتا تھا تو (ایک دن) میں اٹکنے لگا۔ سیدنا سعد (رض) نے کہا : شاید تو نے اپنی شرم گاہ کو چھوا ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں ! تو انھوں نے کہا : کھڑا ہو اور وضو کر۔ میں کھڑا ہوا میں نے وضو کیا، پھر واپس لوٹا۔
(۴۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا جَدِّی أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَیْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّہُ قَالَ: کُنْتُ أُمْسِکُ الْمُصْحَفَ عَلَی سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ فَاحْتَکَکْتُ فَقَالَ سَعْدٌ: لَعَلَّکَ مَسَسْتَ ذَکَرَکَ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ۔ قَالَ: قُمْ فَتَوَضَّأْ۔ فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ۔ [صحیح۔ أخرجہ مالک ۵۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بغیر وضو قرآن چھونا منع ہے
(٤١٢) عبد الرحمن بن زید فرماتے ہیں کہ ہم سلیمان کے ساتھ تھے وہ اپنی حاجت پوری کر کے آئے تو میں نے کہا : اے ابوعبداللہ ! کاش آپ وضو کرلیتے شاید ہم آپ سے آیات کے متعلق سوال کرتے۔ انھوں نے فرمایا : میں نے اس شرمگاہ نہیں چھوا، پھر فرمایا : اس قرآن مجید کو صرف پاک لوگ ہی چھوتے ہیں۔ پھر انھوں نے جو چاہا پڑھا۔
(۴۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ الضَّبِّیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ: شُجَاعُ بْنُ الْوَلِیدِ عَنِ الأَعْمَشِ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَّانِیُّ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ قَالَ: کُنَّا مَعَ سَلْمَانَ فَخَرَجَ فَقَضَی حَاجَتَہُ ، ثُمَّ جَائَ فَقُلْتُ: یَا أَبَا عَبْدِ اللَّہِ لَوْ تَوَضَّأْتَ لَعَلَّنَا أَنْ نَسْأَلَکَ عَنْ آیَاتٍ۔ قَالَ: إِنِّی لَسْتُ أَمَسُّہُ ، إِنَّمَا لاَ یَمَسُّہُ إِلاَّ الْمُطَہَّرُونَ۔ فَقَرَأَ عَلَیْنَا مَا شِئْنَا۔

لَفْظُ حَدِیثِ وَکِیعٍ۔ ہَکَذَا رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنِ الأَعْمَشِ۔

(ت) وَرَوَاہُ أَبُو الأَحْوَصِ فِی إِحْدَی الرِّوَایَتَیْنِ عَنْہُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ سَلْمَانَ۔

[صحیح۔ أخرجہ الحاکم ۱/۲۹۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بغیر وضو قرآن چھونا منع ہے
(٤١٣) سیدنا انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر (رض) اپنی تلوار لٹکا کر نکلے، پھر انھوں نے حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ ان سے کہا گیا کہ آپ کا بہنوئی اور بہن بےدین ہوگئے ہیں اور انھوں نے تیرے دین کو چھوڑ دیا ہے تو سیدنا عمر (رض) چلے اور یہاں تک ان کے پاس آئے، ان کے پاس مہاجرین میں سے ایک شخص تھا جس کو خباب کہا جاتا تھا، وہ دونوں سورة طٰہٰ کی تلاوت کر رہے تھے، عمر (رض) نے فرمایا : تمہارے پاس جو کتاب ہے وہ مجھے دو ، انھوں نے ان کو پڑھ کر سنایا اور سیدنا عمر (رض) کتاب پڑھا کرتے تھے۔ ان کی بہن نے کہا : بلاشبہ تم ناپاک ہو اس کو تو صرف پاک لوگ ہی چھوتے ہیں آپ جا کر غسل کریں یا وضو، راوی کہتا ہے : سیدنا عمر (رض) کھڑے ہوئے، وضو کیا کتاب پکڑی اور سورة طٰہٰ کی تلاوت کی۔ اس حدیث کے بہت سے شواہد ہیں۔

(ب) اہل مدینہ کے فقہائے سبعہ کا قول ہے۔
(۴۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِیِّ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ یُوسُفَ یَعْنِی الأَزْرَقَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عُثْمَانَ الْبَصْرِیُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: خَرَجَ عُمَرُ مُتَقَلِّدًا بِسَیْفِہِ ، فَذَکَرَ الْحَدِیثَ وَفِیہِ قِیلَ لَہُ: إِنَّ خَتَنَکَ وَأُخْتَکَ قَدْ صَبَئَا وَتَرَکَا دِینَکَ الَّذِی أَنْتَ عَلَیْہِ۔ فَمَشَی عُمَرُ حَتَّی أَتَاہُمَا وَعِنْدَہُمَا رَجُلٌ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ یُقَالُ لَہُ خَباب وَکَانُوا یَقْرَئُ ونَ {طہ} فَقَالَ عُمَرُ: أَعْطُونِی الْکِتَابَ الَّذِی ہُوَ عِنْدَکُمْ فَأَقْرَأَہُ۔ قَالَ: وَکَانَ عُمَرُ یَقْرَأُ الْکِتَابَ، فَقَالَتْ أُخْتُہُ: إِنَّکَ رِجْسٌ ، وَإِنَّہُ لاَ یَمَسُّہُ إِلاَّ الْمُطَہَّرُونَ ، فَقُمْ فَاغْتَسِلْ أَوْ تَوَضَّأْ۔ قَالَ: فَقَامَ عُمَرُ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ أَخَذَ الْکِتَابَ فَقَرَأَ {طہ} وَلِہَذَا الْحَدِیثِ شَوَاہِدُ کَثِیرَۃٌ۔

(ق) وَہُوَ قَوْلُ الْفُقَہَائِ السَّبْعَۃِ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۱۳۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی کو قرآن کی قراءت کرنا منع ہے
(٤١٤) عبداللہ بن سلمہ فرماتے ہیں ہم تین شخص علی بن ابی طالب کے پاس آئے، ایک شخص میری قوم سے تھا اور دوسرا شاید بنی اسد قبیلے سے تھا۔ آپ (رض) نے ان کو ایک طرف بھیجا اور فرمایا : شاید تم دونوں مضبوط ہو اور اپنے دین پر پختہ رہنا۔ پھر آپ باہر تشریف لے گئے اور فضائے حاجت کی، پھر باہر آئے اور پانی سے ایک چلو لیا، پھر اس سے مسح کیا اور قرآن پڑھنا شروع ہوگئے ۔ راوی کہتا ہے : انھوں نے ہمیں متعجب پایا تو فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی حاجت پوری کرتے تھے، پھر قرآن پڑھتے تھے اور ہمارے ساتھ گوشت کھاتے تھے اور آپ اس سے رکتے نہیں تھے، بسا اوقات فرماتے تھے : جنابت کے علاوہ کوئی چیز آپ کو (تلاوت سے) نہیں روکتی تھی۔
(۴۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدَکَ الْقَزَّازُ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ شُعْبَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَلَمَۃَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَا وَرَجُلاَنِ: رَجُلٌ مِنْ قَوْمِی وَرَجُلٌ أَحْسِبُہُ مِنْ بَنِی أَسَدٍ فَبَعَثَہُمَا وَجْہًا وَقَالَ: إِنَّکُمَا عِلْجَانِ فَعَالِجَا عَنْ دِینِکُمَا۔ ثُمَّ دَخَلَ الْمَخْرَجَ فَقَضَی حَاجَتَہُ ، ثُمَّ خَرَجَ فَأَخَذَ حَفْنَۃً مِنْ مَائٍ فَتَمَسَّحَ بِہَا ، ثُمَّ جَعَلَ یَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَالَ فَکَأَنَّہُ رَأَی أَنَّا أَنْکَرْنَا ذَلِکَ ، فَقَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -یَقْضِی حَاجَتَہُ فَیَقْرَأُ الْقُرْآنَ ، وَیَأْکُلُ مَعَنَا اللَّحْمَ ، وَلَمْ یَکُنْ یَحْجُبُہُ -وَرُبَّمَا قَالَ یَحْجِزُہُ -عَنِ الْقُرْآنِ شَیْئٌ لَیْسَ الْجَنَابَۃَ۔

رَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ فِی کِتَابِ السُّنَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ عَنْ شُعْبَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ فَذَکَرَہُ بِمَعْنَاہُ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۲۲۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی کو قرآن کی قراءت کرنا منع ہے
(٤١٥) عبداللہ بن مالک غافقی (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عمر بن خطاب (رض) سے یہ فرماتے ہوئے سنا : جب میں جنابت کی حالت میں ہوتا ہوں تو وضو کرلیتا ہوں، میں کھاتا اور پیتا ہوں، لیکن نماز نہیں پڑھتا اور نہ قرآن پڑھتا ہوں جب تک غسل نہ کرلوں۔

(ب) شیخ (رح) فرماتے ہیں : یہ روایت واقدی نے عبداللہ بن سلیمان سے اسی طرح نقل کی ہے۔
(۴۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ۔ قَالَ وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ ابْنُ لَہِیعَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سُلَیْمَانَ عَنْ ثَعْلَبَۃَ بْنِ أَبِی الْکَنُودِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَالِکٍ الْغَافِقِیِّ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: ((إِذَا تَوَضَّأْتُ وَأَنَا جُنُبٌ أَکَلْتُ وَشَرِبْتُ ، وَلاَ أُصَلِّی وَلاَ أَقْرَأُ حَتَّی أَغْتَسِلَ))۔

(ق) قَالَ ابْنُ وَہْبٍ وَقَالَ لِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَاللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ مِثْلَہُ یَعْنِی مِنْ قَوْلِہِمَا۔

(ت) قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَرَوَاہُ الْوَاقِدِیُّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سُلَیْمَانَ ہَکَذَا. [أخرجہ الدارقطنی ۱/۱۱۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی کو قرآن کی قراءت کرنا منع ہے
(٤١٦) سیدنا ابو وائل سے روایت ہے کہ سیدنا عمر (رض) جنابت کی حالت میں قرآن پڑھنا ناپسند سمجھتے تھے۔
(۴۱۶) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ بْنُ سُوَیْدٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی وَائِلٍ: أَنَّ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَرِہَ أَنْ یَقْرَأَ الْقُرْآنَ وَہُوَ جُنُبٌ۔

(ت) وَرَوَاہُ غَیْرُہُ عَنِ الثَّوْرِیِّ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ عَبِیدَۃَ عَنْ عُمَرَ وَہُوَ الصَّحِیحُ۔

[حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ الدارمی ۹۹۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنبی کو قرآن کی قراءت کرنا منع ہے
(٤١٧) (الف) ابو غریف حضرت علی (رض) سے جنابت سے متعلق نقل فرماتے ہیں کہ وہ جنابت کی حالت میں قرآن نہیں پڑھتے تھے بلکہ ایک حرف بھی نہیں پڑھتے تھے۔

(ب) سیدنا علی (رض) فرماتے ہیں : جب تک تو نہ ہو تو قرآن کو پڑھتا رہ ۔
(۴۱۷) وَأَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرَوَیْہِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَیٍّ عَنْ عَامِرِ بْنِ السِّمْطِ عَنْ أَبِی الْغَرِیفِ عَنْ عَلِیٍّ فِی الْجُنُبِ قَالَ: لاَ یَقْرَأُ وَلاَ حَرْفًا۔

(ت) وَرَوَی أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ: اقْرَإِ الْقُرْآنَ عَلَی کُلِّ حَالٍ مَا لَمْ تَکُنْ جُنُبًا۔

(ق) وَہُوَ قَوْلُ الْحَسَنِ وَالنَّخَعِیِّ وَالزُّہْرِیِّ وَقَتَادَۃَ۔

وَیُذْکَرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّہُ قَالَ: لاَ بَأْسَ أَنْ یَقْرَأَ الْجُنُبُ الآیَۃَ وَنَحْوَہَا۔

وَرُوِیَ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ: الآیَۃَ وَالآیَتَیْنِ۔ وَمَنْ خَالَفَہُ أَکْثَرُ وَفِیہِمْ إِمَامَانِ وَمَعَہُمْ ظَاہِرُ الْخَبَرِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حائضہ کے قراءت قرآن سے ممانعت والی حدیث کا بیان اور اشکال
(٤١٨) ابن عمر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ جنبی اور حائضہ عورت قرآن میں سے کچھ نہ پڑھے۔

(ب) محمد بن اسماعیل بخاری (رح) اس روایت کے متعلق فرماتے ہیں کہ یہ روایت اسماعیل بن عیاش نے موسیٰ بن عقبہ سے نقل کی ہے اور میں نے صرف یہی حدیث ان سے سنی ہے۔ اسماعیل اہل حجاز اور اہل عراق سے نقل کرنے میں منکر الحدیث ہے۔

(ج) شیخ فرماتے ہیں : موسیٰ بن عقبہ سے اسماعیل کے علاوہ دیگر حضرات نے بھی روایت کیا ہے جو کہ صحیح نہیں۔
(۴۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : الْحُسَیْنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ بُرْہَانَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ : إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَۃَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((لاَ یَقْرَأُ الْجُنُبُ وَلاَ الْحَائِضُ شَیْئًا مِنَ الْقُرْآنِ))

(ج) قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلُ الْبُخَارِیُّ فِیمَا بَلَغَنِی عَنْہُ إِنَّمَا رَوَی ہَذَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ وَلاَ أَعْرِفُہُ مِنْ حَدِیثِ غَیْرِہِ ، وَإِسْمَاعِیلُ مُنْکَرُ الْحَدِیثِ عَنْ أَہْلِ الْحِجَازِ وَأَہْلِ الْعِرَاقِ۔

(ت) قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ رُوِیَ عَنْ غَیْرِہِ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ وَلَیْسَ بِصَحِیحٍ۔

وَرُوِیَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ مِنْ قَوْلِہِ فِی الْجُنُبِ وَالْحَائِضِ وَالنُّفَسَائِ وَلَیْسَ بِقَوِیِّ۔

[منکر۔ أخرجہ ابن ماجہ ۵۹۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حائضہ کے قراءت قرآن سے ممانعت والی حدیث کا بیان اور اشکال
(٤١٩) ابراہیم سے روایت ہے کہ سیدنا عمر (رض) جنبی کے قرآن پڑھنے کو ناپسند سمجھتے تھے۔

(ب) شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے صحیفہ میں یہ بات پائی ہے کہ حائضہ کے قرآن پڑھنے کو بھی (ناپسند کرتے تھے) اور یہ مرسل ہے۔
(۴۱۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَیْہَقِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْغِطْرِیفِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِیفَۃَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ : أَنَّ عُمَرَ کَانَ یَکْرَہُ أَنْ یَقْرَأَ الْجُنُبُ۔

قَالَ شُعْبَۃُ : وَجَدْتُ فِی صَحِیفَتِی وَالْحَائِضُ وَہَذَا مُرْسَلٌ۔ [حسن لغیرہٖ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بےوضو حالت میں قرآن پڑھنا
(٤٢٠) (الف) سیدنا ابن عباس (رض) نے خبر دی کہ میں نے اپنی خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ (رض) کے گھر رات گذاری۔ میں تکیہ کی چوڑائی کے بل لیٹا اور سول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے گھر والے لمبائی کے بل لیٹے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سو گئے، جب آدھی رات ہوئی یا اس سے تھوڑی دیر پہلے یا بعد میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیدار ہوئے اور چہرے پر ہاتھ مل کر نیند دور کرنے لگے، پھر سو رہ آل عمران کی آخری دس آیات پڑھیں، پھر ایک لٹکی ہوئی مشک کی طرف گئے اس سے اچھی طرح وضو کیا، پھر کھڑے ہوئے اور نماز ادا کی۔۔۔

(ب) عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھڑے ہو کر مسواک کی، پھر وضو کیا اور آپ یہ آیات پڑھ رہے تھے : {إِنَّ فِی خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ لآَیَاتٍ لِّاُولِی الأَلْبَابِ } [آل عمران : ١٩٠] یہاں تک سورت ختم کردی۔
(۴۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ مَخْرَمَۃَ بْنِ سُلَیْمَانَ عَنْ کُرَیْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَہُ : أَنَّہُ بَاتَ لَیْلَۃً عِنْدَ مَیْمُونَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ وَہِیَ خَالَتُہُ قَالَ فَاضْطَجَعْتُ فِی عَرْضِ الْوِسَادَۃِ وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَأَہْلُہُ فِی طُولِہَا ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- حَتَّی إِذَا انْتَصَفَ اللَّیْلُ أَوْ قَبْلَہُ بِقَلِیلٍ أَوْ بَعْدَہُ بِقَلِیلٍ اسْتَیْقَظَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَجَعَلَ یَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْہِہِ بِیَدِہِ ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الآیَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُورَۃِ آلِ عِمْرَانَ ، ثُمَّ قَامَ إِلَی شَنٍّ مُعَلَّقَۃٍ فَتَوَضَّأَ مِنْہَا ، فَأَحْسَنَ وُضُوئَہُ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی۔ وَذَکَرَ بَاقِیَ الْحَدِیثِ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی ، وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ عَنْ مَالِکٍ۔

(ت) وَقَدْ رُوِیَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : فَرَأَیْتُہُ قَامَ فَاسْتَاکَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَہُوَ یَقْرَأُ ہَذِہِ الآیَاتِ {إِنَّ فِی خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ لآَیَاتٍ لأُولِی الأَلْبَابِ} [آل عمران: ۱۹۰] حَتَّی خَتَمَ السُّورَۃَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۸۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪২০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بےوضو حالت میں قرآن پڑھنا
(٤٢١) محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب (رض) چند لوگوں میں تلاوت کر رہے تھے اس دوران وہ اپنی حاجت کے لیے کھڑے ہوئے، پھر واپس آ کر پڑھنے لگے، ان سے ایک شخص نے پوچھا اے امیر المؤمنین ! آپ نے وضو نہیں کیا اور آپ تلاوت کر رہے ہیں ؟ تو عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : آپ کو اس کا کس نے فتویٰ دیا ہے۔
(۴۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ مَہْرُوَیْہِ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ أَیُّوبَ بْنِ أَبِی تَمِیمَۃَ السَّخْتِیَانِیِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ فِی قَوْمٍ وَہُوَ یَقْرَأُ ، فَقَامَ لِحَاجَتِہِ ثُمَّ رَجَعَ وَہُوَ یَقْرَأُ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ : لَمْ تَوَضَّأْ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَأَنْتَ تَقْرَأُ۔ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : مَنْ أَفْتَاکَ بِہَذَا أَمُسَیْلِۃُ؟

(ت) وَرَوَاہُ ہِشَامٌ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی مَرْیَمَ : إِیَاسِ بْنِ ضُبَیْحٍ قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ۔ فَذَکَرَ مَعْنَاہُ

وَذَکَرَہُ الْبُخَارِیُّ فِی التَّارِیخِ۔ [ضعیف۔ أخرجہ مالک ۴۷۰]
tahqiq

তাহকীক: