আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬৭৩ টি
হাদীস নং: ৪২১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بےوضو حالت میں قرآن پڑھنا
(٤٢٢) عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں سلمان کے ساتھ تھے، وہ لوگوں سے الگ ہوئے اور اپنی حاجت پوری کی، پھر آئے۔ ہم نے ان سے کہا : اے عبداللہ ! وضو کرلیں شاید ہم آپ سے قرآن کی آیات کے متعلق سوال کریں تو انھوں نے کہا : سوال کرو، میں نے شرمگاہ کو نہیں چھوا اور اس قرآن پاک کو صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں تو ہم نے ان سے سوال کیا اور انھوں نے وضو کرنے سے پہلے ہم پر قرآن پڑھا۔
(۴۲۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ قَالَ : کُنَّا مَعَ سَلْمَانَ فِی سَفَرٍ فَانْطَلِقَ فَقَضَی حَاجَتَہُ ثُمَّ جَائَ فَقُلْنَا لَہُ : یَا أَبَا عَبْدِ اللَّہِ تَوَضَّأْ لَعَلَّنَا نَسْأَلُکَ عَنْ آیٍ مِنَ الْقُرْآنِ۔ فَقَالَ : سَلُوا فَإِنِّی لاَ أَمَسُّہُ، وَإِنَّہُ لاَ یَمَسُّہُ إِلاَّ الْمُطَہَّرُونَ۔ فَسَأَلْنَاہُ فَقَرَأَ عَلَیْنَا قَبْلَ أَنْ یَتَوَضَّأَ۔[ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بےوضو حالت میں قرآن پڑھنا
(٤٢٣) ابو غریف فرماتے ہیں کہ سیدنا علی (رض) نے کہا : اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ تو بغیر وضو کے قرآن پڑھے اور اگر تو جنبی ہے تو پھر ایک حرف بھی نہیں پڑھ سکتا ۔
(۴۲۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ الْہَرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ عَامِرِ بْنِ السِّمْطِ عَنْ أَبِی الْغَرِیفِ قَالَ قَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : لاَ بَأْسَ أَنْ تَقْرَأَ الْقُرْآنَ وَأَنْتَ عَلَی غَیْرِ وُضُوئٍ ، فَأَمَّا وَأَنْتَ جُنُبٌ فَلاَ وَلاَ حَرْفٌ۔[ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بےوضو حالت میں قرآن پڑھنا
(٤٢٤) سیدنا ابن عمر اور ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ہم بغیر وضو کے قرآن کا کچھ پڑھ لیتے ہیں۔
(۴۲۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ بْنُ سُوَیْدٍ قَالَ حَدَّثَنِی سُفْیَانُ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ أَبِی الْجَہْمِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ:
کَانَ ابْنُ عُمَرَ وَابْنُ عَبَّاسٍ یَقُولاَنَ : إِنَّا لَنَقْرَأُ الْجُزْئَ مِنَ الْقُرْآنِ بَعْدَ الْحَدَثِ۔
(ت) وَرَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ الْعَدَنِیُّ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ۔
[حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ عبد الرزاق ۱۳۱۶]
کَانَ ابْنُ عُمَرَ وَابْنُ عَبَّاسٍ یَقُولاَنَ : إِنَّا لَنَقْرَأُ الْجُزْئَ مِنَ الْقُرْآنِ بَعْدَ الْحَدَثِ۔
(ت) وَرَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ الْعَدَنِیُّ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ۔
[حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ عبد الرزاق ۱۳۱۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بغیر وضو اللہ کا ذکر کرنا
(٤٢٥) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر حال میں اللہ کا ذکر کیا کرتے تھے۔
(۴۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَرُوبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ زَکَرِیَّا بْنِ أَبِی زَائِدَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَۃَ عَنِ الْبَہِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- یَذْکُرُ اللَّہَ عَلَی کُلِّ أَحْیَانِہِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ۔ [صحیح أخرجہ مسلم ۱۱۷]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ۔ [صحیح أخرجہ مسلم ۱۱۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکر اللہ اور قراءت قرآن کے لیے وضو کرنا مستحب ہے
(٤٢٦) مہاجربن قنفذ (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا اور آپ وضو کر رہے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام کا جواب نہیں دیا جب وضو سے فارغ ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” مجھے تیرے سلام کا جواب دینے سے کسی چیز نے نہیں روکا مگر میں نے ناپسند کیا کہ میں اللہ کا ذکر بےوضو کروں۔
(۴۲۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ حُضَیْنِ بْنِ الْمُنْذِرِ أَبِی سَاسَانَ عَنِ الْمُہَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ: أَنَّہُ سَلَّمَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَہُوَ یَتَوَضَّأُ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ وُضُوئِہِ قَالَ: ((إِنَّہُ لَمْ یَمْنَعْنِی أَنْ أَرُدَّ عَلَیْکَ إِلاَّ أَنِّی کَرِہْتُ أَنْ أَذْکُرَ اللَّہَ إِلاَّ عَلَی طَہَارَۃٍ))۔[صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ ابن ماجہ ۳۵۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکر اللہ اور قراءت قرآن کے لیے وضو کرنا مستحب ہے
(٤٢٧) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ باوضو ہو کر سجدہ کیا جائے اور باوضو ہی قراءت کی جائے اور باوضو ہی نماز جنازہ پڑھا جائے۔ موقوف۔
(۴۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : شَرِیکُ بْنُ عَبْدِ الْمَلَکِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِہْرَجِانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو سَہْلٍ : بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْبَیْہَقِیُّ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّہُ قَالَ : لاَ یَسْجُدُ الرَّجُلُ إِلاَّ وَہُوَ طَاہِرٌ، وَلاَ یَقْرَأُ إِلاَّ وَہُوَ طَاہِرٌ، وَلاَ یُصَلِّی عَلَی الْجَنَازَۃِ إِلاَّ وَہُوَ طَاہِرٌ۔ مَوْقُوفٌ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بول و براز کے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنا منع ہے
(٤٢٨) سیدنا ابو ایوب انصاری (رض) فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” قضائے حاجت یا پیشاب کے لیے تم اپنا منہ اور پیٹھ قبلہ کی طرف نہ کرو اور دوسری مرتبہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک مرفوع بیان کرتے ہیں۔
(۴۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَزِیدَ اللَّیْثِیِّ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ الأَنْصَارِیِّ قَالَ: ((لاَ تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَۃَ لِغَائِطٍ وَلاَ بَوْلٍ وَلاَ تَسْتَدْبِرُوہَا)) وَقَالَ مَرَّۃً أُخْرَی یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ -ﷺ-۔ [صحیح۔ أخرجہ النسائی ۲۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بول و براز کے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنا منع ہے
(٤٢٩) سفیان اسی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :۔۔۔ اس حدیث میں یہ الفاظ زیادہ ہیں : ” لیکن مشرق اور مغرب کی طرف (منہ کرلو) ۔ “ ابو ایوب (رض) کہتے ہیں ہم ملک شام آئے تو ہم نے بیت الخلاء دیکھے جو قبلے کی طرف بنائے گئے تھے۔ ہم ان سے انحراف کرتے تھے اور اللہ کے حضور استغفار کرتے تھے۔
(۴۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ وَالرَّمَادِیُّ یَعْنِی إِبْرَاہِیمَ بْنَ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ وَقَالَ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- وَزَادَ فِیہِ : ((وَلَکِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا)) قَالَ أَبُو أَیُّوبَ : فَقَدِمْنَا الشَّامَ فَوَجَدْنَا مَرَاحِیضَ قَدْ بُنِیَتْ قِبَلَ الْقِبْلَۃِ ، فَکُنَّا نَنْحَرِفُ عَنْہَا وَنَسْتَغْفِرُ اللَّہَ تَعَالَی۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَغَیْرِہِ کُلِّہِمْ عَنِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۸۶]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَغَیْرِہِ کُلِّہِمْ عَنِ ابْنِ عُیَیْنَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۸۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بول و براز کے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنا منع ہے
(٤٣٠) سیدنا سلیمان (رض) سے روایت ہے کہ تحقیق تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تم کو ہر چیز سکھلائی ہے یہاں تک کہ قضائے حاجت کا طریقہ بھی۔ راوی کہتا ہے : انھوں نے فرمایا : جی ہاں ! بلاشبہ ہم کو منع کیا ہے کہ قضائے حاجت یا پیشاب کرتے وقت اپنا منہ قبلہ کی طرف کریں یا دائیں ہاتھ سے استنجا کریں یا تین ڈھیلوں سے کم استنجا کریں یا گوبر اور ہڈی سے استنجا کریں۔
(۴۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ قَالاَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ قِیلَ لَہُ : قَدْ عَلَّمَکُمْ نَبِیُّکُمْ کُلَّ شَیْئٍ حَتَّی الْخِرَائَۃَ۔ قَالَ فَقَالَ : أَجَلْ لَقَدْ نَہَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃَ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ وَأَنْ نَسْتَنْجِیَ بِالْیَمِینِ ، أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِیَ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلاَثَۃِ أَحْجَارٍ ، أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِیَ بِرَجِیعٍ أَوْ بِعَظْمٍ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح أخرجہ مسلم ۲۶۲]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح أخرجہ مسلم ۲۶۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بول و براز کے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنا منع ہے
(٤٣١) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تمہارے لیے باپ کی طرح ہوں، جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کے لیے جائے تو وہ نہ قبلہ کی طرف منہ کرے اور نہ ہی پیٹھ اور جب استنجا کرے تو دائیں ہاتھ سے نہ کرے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تین ڈھیلوں کا حکم دیا کرتے تھے اور گوبر اور بوسیدہ ہڈی سے منع کیا کرتے تھے۔
(۴۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ بِنَیْسَابُورَ وَأَبُو عَلِیٍّ : الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ شَاذَانَ بِبَغْدَادَ قَالاَ أَخْبَرَنَا حَمْزَۃُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ دِینَارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَکِیمٍ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنَّمَا أَنَا لَکُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ فَإِذَا ذَہَبَ أَحَدُکُمْ إِلَی الْغَائِطِ فَلاَ یَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَۃَ وَلاَ یَسْتَدْبِرْہَا ، وَإِذَا اسْتَطَابَ فَلاَ یَسْتَطِبْ بِیَمِینِہِ)) وَکَانَ یَأْمُرُ بِثَلاَثَۃِ أَحْجَارٍ وَیَنْہَی عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّۃِ۔
[صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ ابو داؤد ۸]
[صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ ابو داؤد ۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بول و براز کے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنا منع ہے
(٤٣٢) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” بیشک میں تمہارے لیے باپ کی طرح ہوں، میں تم کو سکھلاتا ہوں، تو جب تم سے کوئی بیت الخلا جائے تو وہ قبلہ کی طرف منہ نہ کرے اور نہ ہی پیٹھ کرے اور نہ دائیں ہاتھ سے استنجا کرے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تین ڈھیلوں کا حکم دیا کرتے تھے اور گوبر اور بوسیدہ ہڈی سے منع کرتے تھے۔
(۴۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ قَالَ حَدَّثَنِی الْقَعْقَاعُ بْنُ حَکِیمٍ عَنْ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((إِنَّمَا أَنَا لَکُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ أُعَلِّمُکُمْ ، فَإِذَا ذَہَبَ أَحَدُکُمْ إِلَی الْخَلاَئِ فَلاَ یَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَۃَ وَلاَ یَسْتَدْبِرْہَا ، وَلاَ یَسْتَنْجِ بِیَمِینِہِ)) وَکَانَ یَأْمُرُ بِثَلاَثَۃِ أَحْجَارٍ وَیَنْہَی عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّۃِ۔ [صحیح۔ أخرجہ النسائی ۴۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بول و براز کے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنا منع ہے
(٤٣٣) محمد بن عجلان اسی سند سے بیان کرتے ہیں مگر انھوں نے (أُعَلِّمُکُمْ ) کے الفاظ ذکر نہیں کیے، فرمایا : جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت یا پیشاب کے لیے جائے تو وہ قبلہ کی طرف نہ منہ کرے اور نہ ہی پیٹھ اور تین ڈھیلوں سے استنجاکرے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گوبر اور بوسیدہ ہڈی (سے استنجاء کرنے سے) منع فرما دیا۔
(۴۳۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَقُلْ : ((أُعَلِّمُکُمْ)) قَالَ : ((فَإِذَا ذَہَبَ أَحَدُکُمْ إِلَی الْغَائِطِ فَلاَ یَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَۃَ وَلاَ یَسْتَدْبِرْہَا لِغَائِطٍ وَلاَ بَوْلٍ ، وَلْیَسْتَنْجِ بِثَلاَثَۃِ أَحْجَارٍ)) وَنَہَی عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّۃِ۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ سُہَیْلِ بْنِ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِیہِ مُخْتَصَرًا۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ احمد ۲/۲۴۷]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ سُہَیْلِ بْنِ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِیہِ مُخْتَصَرًا۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ احمد ۲/۲۴۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بول و براز کے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنا منع ہے
(٤٣٤) معقل بن ابی معقل اسدی کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قضائے حاجت یا پیشاب کرنے کے لیے دونوں قبلوں کی طرف منہ کرنے سے منع فرمایا۔
(۴۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا تَمْتَامٌ حَدَّثَنَا مُوسَی یَعْنِی ابْنَ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ یَحْیَی عَنْ أَبِی زَیْدٍ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ أَبِی مَعْقِلٍ الأَسَدِیِّ قَالَ : نَہَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ یُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَتَیْنِ بِبَوْلٍ أَوْ بِغَائِطٍ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ… فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ قَالَ أَبُو دَاوُدَ : ہُوَ أَبُو زَیْدٍ مَوْلًی لِبَنِی ثَعْلَبَۃَ۔ [منکر۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۰]
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ… فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ قَالَ أَبُو دَاوُدَ : ہُوَ أَبُو زَیْدٍ مَوْلًی لِبَنِی ثَعْلَبَۃَ۔ [منکر۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمارتوں میں اس کی رخصت ہے
(٤٣٥) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ لوگ کہتے تھے : جب تم قضائے حاجت کے لیے بیٹھو تو قبلہ اور بیت المقدس کی طرف منہ نہ کرو۔ عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں : میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دو اینٹوں پر دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قضائے حاجت کے لیے بیت المقدس کی طرف منہ کیے ہوئے تھے۔
(۴۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ عَنْ عَمِّہِ : وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : إِنَّ أُنَاسًا یَقُولُونَ إِذَا قَعَدْتَ عَلَی حَاجَتِکَ فَلاَ تَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَۃَ وَلاَ بَیْتَ الْمَقْدِسِ۔
قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ : لَقَدِ ارْتَقَیْتُ عَلَی ظَہْرِ بَیْتٍ لَنَا ، فَرَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی لَبِنَتَیْنِ مُسْتَقْبِلاً بَیْتَ الْمَقْدِسِ لِحَاجَتِہِ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۴۵]
قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ : لَقَدِ ارْتَقَیْتُ عَلَی ظَہْرِ بَیْتٍ لَنَا ، فَرَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی لَبِنَتَیْنِ مُسْتَقْبِلاً بَیْتَ الْمَقْدِسِ لِحَاجَتِہِ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۴۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمارتوں میں اس کی رخصت ہے
(٤٣٦) مالک اسی سند سے بیان فرماتے ہیں۔ صحیح۔
(۴۳۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ ہُوَ الْقَعْنَبِیُّ عَنْ مَالِکٍ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ نَحْوَہُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمارتوں میں اس کی رخصت ہے
(٤٣٧) سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں ایک دن اپنے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قضائے حاجت کے لیے دو اینٹوں پر بیٹھے ہوئے دیکھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منہ شام کی طرف اور کمر قبلہ کی طرف کی ہوئی تھی۔
(۴۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا یَحْیَی أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ أَخْبَرَہُ أَنَّ عَمَّہُ : وَاسِعَ بْنَ حَبَّانَ أَخْبَرَہُ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ : لَقَدْ رَقِیتُ ذَاتَ یَوْمٍ عَلَی ظَہْرِ بَیْتٍ لَنَا ، فَرَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَاعِدًا عَلَی لَبِنَتَیْنِ لِحَاجَتِہِ مُسْتَقْبِلَ الشَّامِ مُسْتَدْبِرَ الْقِبْلَۃِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَعْقُوبَ الدَّوْرَقِیِّ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۴۵]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَعْقُوبَ الدَّوْرَقِیِّ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہَارُونَ ، وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۴۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمارتوں میں اس کی رخصت ہے
(٤٣٨) مروان اصفر کہتے ہیں : میں نے ابن عمر (رض) کو دیکھا، انھوں نے اپنی سواری قبلہ کی طرف بٹھائی ‘ پھر بیٹھ کر پیشاب کیا۔ میں نے کہا : اے ابو عبد الرحمن ! کیا اس سے منع نہیں کیا گیا ؟ تو انھوں نے فرمایا : کیوں نہیں ! کھلی جگہ میں اس سے منع کیا گیا ہے، لیکن جب تیرے اور قبلہ کے درمیان کوئی چیز ہو جو تجھ کو ڈھانپ دے (یعنی کوئی پردہ ہوجائے) تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
(۴۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَکَّارُ بْنُ قُتَیْبَۃَ الْقَاضِی بِمِصْرَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِیسَی عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ذَکْوَانَ عَنْ مَرْوَانَ الأَصْفَرِ قَالَ : رَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ أَنَاخَ رَاحِلَتَہُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ ، ثُمَّ جَلَسَ یَبُولُ إِلَیْہَا فَقُلْتُ : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَلَیْسَ قَدْ نُہِیَ عَنْ ہَذَا؟ قَالَ : بَلَی ، إِنَّمَا نُہِیَ عَنْ ذَلِکَ فِی الْفَضَائِ ، فَإِذَا کَانَ بَیْنَکَ وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ شَیْئٌ یَسْتُرُکَ فَلاَ بَأْسَ۔
[ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۱]
[ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمارتوں میں اس کی رخصت ہے
(٤٣٩) صفوان بن عیسیٰ اسی طرح بیان کرتے ہیں۔
(۴۳۹) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِیسَی … فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৩৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمارتوں میں اس کی رخصت ہے
(٤٤٠) سیدنا جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم کو منع کیا کرتے تھے کہ ہم قبلہ کی طرف منہ کریں یا اپنی شرمگاہوں کے ساتھ قبلہ کی طرف پشت کریں، جب ہم پانی بہائیں (یعنی پیشاب کریں) ، پھر میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آپ کی وفات سے ایک سال پہلے قبلہ کی طرف منہ کر کے پیشاب کرتے ہوئے دیکھا۔
(ب) سنن ابوداؤد میں یہ الفاظ ہیں کہ میں نے آپ کی روح قبض ہونے سے ایک سال پہلے دیکھا کہ آپ قبلہ کی جانب منہ کر کے بیٹھے ہوئے تھے۔
(ب) سنن ابوداؤد میں یہ الفاظ ہیں کہ میں نے آپ کی روح قبض ہونے سے ایک سال پہلے دیکھا کہ آپ قبلہ کی جانب منہ کر کے بیٹھے ہوئے تھے۔
(۴۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَوْکَرٍ أَخْبَرَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِی عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ جَابِرِ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَدْ نَہَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃَ أَوْ نَسْتَدْبِرْہَا بِفُرُوجِنَا إِذَا أَہْرَقْنَا الْمَائَ ، ثُمَّ قَدْ رَأَیْتُہُ قَبْلَ مَوْتِہِ بِعَامٍ یَبُولُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ۔
وَلَیْسَ فِی حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ بِعَامٍ وَالْبَاقِی بِمَعْنَاہُ
وَقَدْ أَخْرَجَہُ أَبُو دَاوُدَ فِی کِتَابِ السُّنَنِ مِنْ حَدِیثِ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ وَفِیہِ : فَرَأَیْتُہُ قَبْلَ أَنْ یُقْبَضَ بِعَامٍ یَسْتَقْبِلُہَا۔ [حسن۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۱]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ وَاللَّفْظُ لَہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَوْکَرٍ أَخْبَرَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِی عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ جَابِرِ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَدْ نَہَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃَ أَوْ نَسْتَدْبِرْہَا بِفُرُوجِنَا إِذَا أَہْرَقْنَا الْمَائَ ، ثُمَّ قَدْ رَأَیْتُہُ قَبْلَ مَوْتِہِ بِعَامٍ یَبُولُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ۔
وَلَیْسَ فِی حَدِیثِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ بِعَامٍ وَالْبَاقِی بِمَعْنَاہُ
وَقَدْ أَخْرَجَہُ أَبُو دَاوُدَ فِی کِتَابِ السُّنَنِ مِنْ حَدِیثِ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ وَفِیہِ : فَرَأَیْتُہُ قَبْلَ أَنْ یُقْبَضَ بِعَامٍ یَسْتَقْبِلُہَا۔ [حسن۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمارتوں میں اس کی رخصت ہے
(٤٤١) خالد بن ابو صلت سے روایت ہے کہ میں عمر بن عبد العزیز کے دور خلافت میں ان کے پاس تھا اور ان کے پاس عراک بن مالک بھی تھے، عمر (بن عبدالعزیز (رض) ) نے فرمایا : اتنے عرصہ سے میں نے پیشاب اور قضائے حاجت کرنے کے لیے قبلہ کی طرف نہیں کیا اور نہ ہی پیٹھ۔ عراک کہتے ہیں : مجھ کو سیدہ عائشہ (رض) نے بیان کیا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بارے میں لوگوں کی بات پہنچی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ٹیک لگانے کی جگہ کو قبلہ کی طرف کرنے کا حکم دے دیا۔
(۴۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِی الصَّلْتِ قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ فِی خِلاَفَتِہِ وَعِنْدَہُ عِرَاکُ بْنُ مَالِکٍ فَقَالَ عُمَرُ : مَا اسْتَقْبَلْتُ الْقِبْلَۃَ وَلاَ اسْتَدْبَرْتُہَا بِبَوْلٍ وَلاَ غَائِطٍ مُنْذُ کَذَا وَکَذَا۔
فَقَالَ عِرَاکٌ حَدَّثَتْنِی عَائِشَۃُ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لَمَّا بَلَغَہُ قَوْلُ النَّاسِ فِی ذَلِکَ أَمَرَ بِمَقْعَدَتِہِ فَاسْتَقْبَلَ بِہَا الْقِبْلَۃَ۔
(ت) تَابَعَہُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ فِی إِقَامَۃِ إِسْنَادِہِ وَرَوَاہُ عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ عَائِشَۃَ۔ وَرَوَاہُ أَبُو عَوَانَۃَ وَغَیْرُہُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ عِرَاکٍ عَنْ عَائِشَۃَ۔
[ضعیف۔ أخرجہ احمد ۶/۱۸۴]
فَقَالَ عِرَاکٌ حَدَّثَتْنِی عَائِشَۃُ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لَمَّا بَلَغَہُ قَوْلُ النَّاسِ فِی ذَلِکَ أَمَرَ بِمَقْعَدَتِہِ فَاسْتَقْبَلَ بِہَا الْقِبْلَۃَ۔
(ت) تَابَعَہُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ فِی إِقَامَۃِ إِسْنَادِہِ وَرَوَاہُ عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ عَائِشَۃَ۔ وَرَوَاہُ أَبُو عَوَانَۃَ وَغَیْرُہُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ عِرَاکٍ عَنْ عَائِشَۃَ۔
[ضعیف۔ أخرجہ احمد ۶/۱۸۴]
তাহকীক: