আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬৭৩ টি

হাদীস নং: ৫২১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استنجا کے بعد ہاتھ زمین پر ملنے کا بیان
(٥٢٢) ابو وھب کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ (رض) کو کہتے ہوئے سنا کہ مجھ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے وضو کراؤ، میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پانی لے کر آیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے استنجا کیا، پھر اپنا ہاتھ مٹی میں داخل کیا اور اس کو ملا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس ہاتھ کو دھویا اور وضو کیا، موزوں پر مسح بھی کیا، میں نے کہا کہ آپ نے وضو کیا اور پاؤں نہیں دھوئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میں نے ان کو وضو کر کے پہنا تھا۔ “
(۵۲۲) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَیْرِیُّ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ حَدَّثَنِی مَوْلًی لأَبِی ہُرَیْرَۃَ - قَالَ وَأَظُنُّہُ قَالَ أَبُو وَہْبٍ - قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ قَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((وَضِّئْنِی))۔ فَأَتَیْتُہُ بِوَضُوئٍ فَاسْتَنْجَی ، ثُمَّ أَدْخَلَ یَدَہُ فِی التُّرَابِ فَمَسَحَہَا بِہِ ثُمَّ غَسَلَہَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَی خُفَّیْہِ فَقُلْتُ : إِنَّکَ تَوَضَّأْتَ وَلَمْ تَغْسِلْ رِجْلَیْکَ۔ قَالَ : ((إِنِّی أَدْخَلْتُہُمَا وَہُمَا طَاہِرَتَانِ)) ۔ [حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ احمد ۲/۳۵۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ استنجا کے بعد ہاتھ زمین پر ملنے کا بیان
(٥٢٣) انس بن سیرین سے روایت ہے کہ سیدنا انس بن مالک (رض) کے لیے پانی اور اشنان (صابن نما بوٹی) رکھا جاتا یعنی استنجا کرنے کے لیے۔
(۵۲۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عَدِیٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِیرِینَ : أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ کَانَ یُوضَعُ لَہُ الْمَائُ وَالأَشْنَانُ ، یَعْنِی لِلاِسْتِنْجَائِ ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پتھر اور اس طرح کی صفائی والی چیزوں سے استنجا کرنے اور دیگر چیزوں سے ممانعت کا بیان
(٥٢٤) سیدنا ابوہریرہ (رض) ، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وضو اور قضائے حاجت کے لیے پانی کا برتن آپ کے پیچھے لے جاتے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو ایک دن پایا تو پوچھا : کون ہے ؟ انھوں نے کہا : میں ابو ہریرۃ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے لیے پتھر تلاش کرو تاکہ میں استنجا کروں اور میرے پاس ہڈی اور گوبر نہ لانا۔ میں اپنے کپڑوں میں دو پتھر لایا وہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پہلو میں رکھ دیے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فارغ ہوگئے اور کھڑے ہوئے اور میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے رہا۔

میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہڈی اور گوبر کا کیا معاملہ ہے ؟

آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے پاس نصیبین کا وفد آیا، انھوں نے سے زاد راہ کا سوال کیا، میں نے ان کے لیے اللہ سے دعا کی کہ وہ جس گوبر اور ہڈی کے پاس سے گزریں اس پر کھانا پائیں۔
(۵۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا سُوَیْدُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ یَحْیَی بْنِ سَعِیدِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِیُّ عَنْ جَدِّہِ سَعِیدِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : کَانَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ یَتْبَعُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بِإِدَاوَۃٍ لِوُضُوئِہِ وَحَاجَتِہِ قَالَ فَأَدْرَکَہُ یَوْمًا فَقَالَ: ((مَنْ ہَذَا؟))۔ قَالَ : أَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ۔ قَالَ : ((ابْغِنِی أَحْجَارًا أَسْتَنْفِضُ بِہَا وَلاَ تَأْتِنِی بِعَظْمٍ وَلاَ رَوْثٍ))۔ فَأَتَیْتُہُ بِأَحْجَارٍ فِی ثَوْبِی ، فَوَضَعْتُہَا إِلَی جَنْبِہِ حَتَّی إِذَا فَرَغَ وَقَامَ تَبِعْتُہُ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا بَالُ الْعَظْمِ وَالرَّوْثِ؟ فَقَالَ : ((أَتَانِی وَفْدُ نَصِیبِینَ فَسَأَلُونِی الزَّادَ ، فَدَعَوْتُ اللَّہَ لَہُمْ أَنْ لاَ یَمُرُّوا بِرَوْثَۃٍ وَلاَ بِعَظْمٍ إِلاَّ وَجَدُوا عَلَیْہِ طَعَامًا))۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۶۴۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پتھر اور اس طرح کی صفائی والی چیزوں سے استنجا کرنے اور دیگر چیزوں سے ممانعت کا بیان
(٥٢٥) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک برتن اٹھائے ہوئے نکلا، تو میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس حال میں پایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قضائے حاجت کا ارادہ رکھتے تھے۔
(۵۲۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِیُّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ حَیَّانَ الْمَازِنِیُّ بِالْبَصْرَۃِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ الْحَجَبِیُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ یَحْیَی عَنْ جَدِّہِ سَعِیدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- أَحْمِلُ إِدَاوَتِی فَأَدْرَکْتُہُ وَہُوَ یُرِیدُ الْحَاجَۃَ۔

فَذَکَرَہُ بِمَعْنَاہُ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمَکِّیُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ یَحْیَی مُخْتَصَرًا دُونَ سُؤَالِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَدُونَ ذِکْرِ الْجِنِّ مِنْ نَصِیبِینَ۔[صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پتھر اور اس طرح کی صفائی والی چیزوں سے استنجا کرنے اور دیگر چیزوں سے ممانعت کا بیان
(٥٢٦) عبد الرحمن بن اسود اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے عبداللہ (رض) کو کہتے ہوئے سنا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قضائے حاجت کو آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے پاس تین پتھر لے کر آؤں مجھے دو پتھر مل گئے اور تیسرے کو میں نے تلاش کیا تو انھیں نہ ملا۔ پھر میں نے گوبر لیا اور اس کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے آیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پتھر لے لیے اور گوبر کو پھینک دیا اور فرمایا یہ پلید ہے۔
(۵۲۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْہَیْثَمِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ : الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ وَأَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ قَالاَ حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ لَیْسَ أَبُو عُبَیْدَۃَ ذَکَرَہُ وَلَکِنْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَسْوَدِ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّہِ یَقُولُ : أَتَی النَّبِیُّ -ﷺ- الْغَائِطَ فَأَمَرَنِی أَنْ آتِیَہُ بِثَلاَثَۃِ أَحْجَارٍ قَالَ فَوَجَدْتُ حَجَرَیْنِ وَالْتَمَسْتُ الثَّالِثَ فَلَمْ أَجِدْہُ ، فَأَخَذْتُ رَوْثَۃً وَأَتَیْتُ بِہَا النَّبِیَّ -ﷺ- فَأَخَذَ الْحَجَرَیْنِ وَأَلْقَی الرَّوْثَۃَ وَقَالَ : ((ہَذَا رِکْسٌ))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ۔ وَہَذَا حَدِیثٌ قَدْ اخْتُلِفَ فِیہِ عَلَی أَبِی إِسْحَاقَ السَّبِیعِیِّ فَرَوَاہُ زُہَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ہَکَذَا وَاعْتَمَدَہُ الْبُخَارِیُّ وَوَضَعَہَ فِی الْجَامِعِ۔

(ت) وَرَوَاہُ مَعْمَرٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ وَزَادَ فِی آخِرِہِ : ائْتِنِی بِحَجَرٍ ۔

وَرَوَاہُ زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی زَائِدَۃَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ۔

وَرَوَاہُ إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ۔

(ج) قَالَ أَبُو عِیسَی التِّرْمِذِیُّ : حَدِیثُ إِسْرَائِیلَ عِنْدِی أَثْبَتُ وَأَصَحُّ لأَنَّ إِسْرَائِیلَ أَثْبَتُ فِی أَبِی إِسْحَاقَ مِنْ ہَؤُلاَئِ ، وَتَابَعَہُ عَلَی ذَلِکَ قَیْسُ بْنُ الرَّبِیعِ۔

قَالَ : وَزُہَیْرٌ فِی أَبِی إِسْحَاقَ لَیْسَ بِذَلِکَ لأَنَّ سَمَاعَہُ مِنْ أَبِی إِسْحَاقَ بِآخِرَۃٍ ، وَأَبُو إِسْحَاقَ فِی آخِرِ أَمْرِہِ کَانَ قَدْ سَائَ حِفْظُہُ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۰۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پتھر اور اس طرح کی صفائی والی چیزوں سے استنجا کرنے اور دیگر چیزوں سے ممانعت کا بیان
(٥٢٧) سیدنا عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ قضائے حاجت کے لیے نکلا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میرے پاس کوئی چیز لے کر آؤ جس سے میں استنجا کروں اور میرے پاس گوبر نہ لانا۔ “
(۵۲۷) قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ لَیْثٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- لِحَاجَتِہِ فَقَالَ : ((ائْتِنِی بِشَیْئٍ أَسْتَنْجِی بِہِ وَلاَ تُقَرِّبْنِی حَائِلاً وَلاَ رَجِیعًا)) ۔

وَہَذِہِ الرِّوَایَۃُ إِنْ صَحَّتْ تُقَوَّی رِوَایَۃَ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ۔ (ج) إِلاَّ أَنَّ لَیْثَ بْنَ أَبِی سُلَیْمٍ ضَعِیفٌ۔ [ضعیف۔ أخرجہ احمد ۱/۴۲۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پتھر اور اس طرح کی صفائی والی چیزوں سے استنجا کرنے اور دیگر چیزوں سے ممانعت کا بیان
(٥٢٨) عامر سے روایت ہے کہ میں نے علقمہ سے سوال کیا : کیا ابن مسعود (رض) جنوں والی رات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے ؟ انھوں نے فرمایا : میں نے ابن مسعود (رض) سے سوال کیا کہ کیا جنوں والی رات تم میں سے کوئی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا ؟ انھوں نے کہا : نہیں، لیکن ایک رات ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے ہم نے آپ کو گم پایا تو ہم نے آپ کو وادیوں اور ٹیلوں میں تلاش کیا پھر ہم نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اڑا لیا گیا ہے یا اغواء کرلیا گیا ہے، ہم نے وہ رات پریشانی کی حالت میں گذاری، لوگوں نے بھی ہماری طرح رات گذاری۔ جب ہم نے صبح دیکھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حراء کی طرف سے آ رہے تھے۔ ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گم پایا اور آپ کو بہت تلاش کیا، لیکن ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ڈھونڈ نہ سکے۔ ہم نے بہت تکلیف میں رات گذاری ہے ایسے ہی دوسرے لوگوں نے بھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے پاس جنوں کے داعی آئے تھے، میں ان کے ساتھ چلا گیا اور میں نے ان پر قرآن پڑھا۔ راوی کہتا ہے : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ساتھ چلے اور فرمایا : ہر وہ ہڈی جس پر اللہ کا نام لیا جائے جو تمہارے ہاتھوں میں ہوتی ہے پھر وہ (جنوں کے لیے) گوشت سے بھر جاتی ہے اور ہر چارے والی میگنی جو تمہارے چوپائے کے لیے ہے، تم ان دونوں سے استنجا نہ کرو کیونکہ یہ دونوں تمہارے (جن) بھائیوں کا کھانا ہے۔
(۵۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ وَمُحَمَّدُ بْنُ نُعَیْمٍ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِی عَبْدُ الأَعْلَی بْنُ عَبْدِ الأَعْلَی عَنْ دَاوُدَ عَنْ عَامِرٍ قَالَ : سَأَلْتُ عَلْقَمَۃَ ہَلْ کَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- لَیْلَۃَ الْجِنِّ؟ قَالَ عَلْقَمَۃُ : أَنَا سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ فَقُلْتُ : ہَلْ شَہِدَ أَحَدٌ مِنْکُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- لَیْلَۃَ الْجِنِّ؟ قَالَ : لاَ ، وَلَکِنَّا کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ذَاتَ لَیْلَۃٍ فَفَقَدْنَاہُ فَالْتَمَسْنَاہُ فِی الأَوْدِیَۃِ وَالشِّعَابِ فَقُلْنَا : اسْتُطِیرَ أَوِ اغْتِیلَ فَبِتْنَا بِشَرِّ لَیْلَۃٍ بَاتَ بِہَا قَوْمٌ ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا ہُوَ جَائٍ مِنْ قِبَلِ حِرَائٍ ، قَالَ فَقُلْنَا : یَا رَسُولَ اللَّہِ فَقَدْنَاکَ فَطَلَبْنَاکَ فَلَمْ نَجِدْکَ ، فَبِتْنَا بِشَرِّ لَیْلَۃٍ بَاتَ بِہَا قَوْمٌ۔ قَالَ : ((أَتَانِی دَاعِی الْجِنِّ فَذَہَبْتُ مَعَہُ فَقَرَأْتُ عَلَیْہِمُ الْقُرْآنَ)) ۔ قَالَ : فَانْطَلَقَ بِنَا فَأَرَانَا آثَارَہُمْ وَآثَارَ نِیرَانِہِمْ ، وَسَأَلُوہُ الزَّادَ فَقَالَ : ((کُلُّ عَظْمٍ ذُکِرَ اسْمُ اللَّہِ عَلَیْہِ یَقَعُ فِی أَیْدِیکُمْ أَوْفَرَ مَا یَکُونُ لَحْمًا ، وَکُلُّ بَعْرَۃٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّکُمْ)) ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ تَسْتَنْجُوا بِہِمَا فَإِنَّہُمَا طَعَامُ إِخْوَانِکُمْ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی ہَکَذَا۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۴۵۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پتھر اور اس طرح کی صفائی والی چیزوں سے استنجا کرنے اور دیگر چیزوں سے ممانعت کا بیان
(٥٢٩) داؤد بن ابو ہند اسی سند سے (وَآثَار نِیْرَ الِھِمْ ) تک بیان کرتے ہیں۔

(ب) شعبی کہتے ہیں کہ انھوں نے سوال کیا اور وہ ایک جزیرہ کے جن تھے۔ شعبی کی حدیث عبداللہ کی حدیث سے مفصل ہے۔
(۵۲۹) وَرَوَاہُ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُجْرٍ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ بِہَذَا الإِسْنَادِ إِلَی قَوْلِہِ : وَآثَارَ نِیرَانِہِمْ۔

قَالَ الشَّعْبِیُّ : وَسَأَلُوہُ الزَّادَ وَکَانُوا مِنْ جِنِّ الْجَزِیرَۃِ۔ إِلَی آخِرِ الْحَدِیثِ مِنْ قَوْلِ الشَّعْبِیِّ مُفَصَّلاً مِنْ حَدِیثِ عَبْدِ اللَّہِ۔

أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَجَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۱/۴۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پتھر اور اس طرح کی صفائی والی چیزوں سے استنجا کرنے اور دیگر چیزوں سے ممانعت کا بیان
(٥٣٠) محمد بن ابو عدی، داؤد سے (وَآثَار نِیْرَ الِھِمْ ) تک بیان کرتے ہیں، پھر فرماتے ہیں کہ داؤد نے کہا : میں علقمہ کی یا عامر کی حدیث کو نہیں جانتا کہ انھوں سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس رات زاد راہ کا سوال کیا ہو جس کو انھوں نے ذکر کیا ہے۔
(۵۳۰) وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ عَنْ دَاوُدَ إِلَی قَوْلِہِ : وَآثَارَ نِیرَانِہِمْ۔

ثُمَّ قَالَ قَالَ دَاوُدُ وَلاَ أَدْرِی فِی حَدِیثِ عَلْقَمَۃَ أَوْ فِی حَدِیثِ عَامِرٍ : أَنَّہُمْ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- تِلْکَ اللَّیْلَۃَ الزَّادَ فَذَکَرَہُ۔

أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی عَدِیٍّ عَنْ دَاوُدَ فَذَکَرَہُ۔

وَرَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ دَاوُدَ مُدْرَجًا فِی الْحَدِیثِ مِنْ غَیْرِ شَکٍّ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৩০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پتھر اور اس طرح کی صفائی والی چیزوں سے استنجا کرنے اور دیگر چیزوں سے ممانعت کا بیان
(٥٣١) عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جنوں کا وفد آیا، انھوں نے کہا : اے محمد ! اپنی امت کو منع کرو کہ وہ ہڈی اور گو بر یا کوئلہ سے استنجا نہ کریں، اس لیے کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے رزق رکھ دیا ہے۔ راوی کہتا ہے : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منع کردیا۔
(۵۳۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحٍ الْحِمْصِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ عَیَّاشٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی عَمْرٍو السَّیْبَانِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الدَّیْلَمِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَدِمَ وَفْدُ الْجِنِّ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالُوا : یَا مُحَمَّدُ انْہَ أُمَّتَکَ أَنْ یَسْتَنْجُوا بِعَظْمٍ أَوْ رَوْثَۃٍ أَوْ حُمَمَۃٍ ، فَإِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ لَنَا فِیہَا رِزْقًا۔ قَالَ فَنَہَی النَّبِیُّ -ﷺ-۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۳۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৩১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پتھر اور اس طرح کی صفائی والی چیزوں سے استنجا کرنے اور دیگر چیزوں سے ممانعت کا بیان
(٥٣٢) سیدنا عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بوسیدہ ہڈی، گوبر اور کوئلہ سے استنجا کرنے سے منع کیا ہے۔ (ب) علی بن رباح کا ابن مسعود سے سماع ثابت نہیں۔ پہلی سند جو شافی ہے وہ قوی نہیں۔ واللہ اعلم۔

(ج) رافع تنوخی کی روایت جو سیدنا ابن مسعود (رض) سے ہے اس میں کوئلے کا ذکر نہیں ہے۔
(۵۳۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ حَدَّثَکَ مُوسَی بْنُ عَلِیٍّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَہَی أَنْ یُسْتَنْجِی بِعَظْمٍ حَائِلٍ أَوْ رَوْثَۃٍ أَوْ حُمَمَۃٍ۔

(ج) عُلَیُّ بْنُ رَبَاحٍ لَمْ یَثْبُتْ سَمَاعُہُ مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ وَالأَوَّلُ إِسْنَادٌ شَامِیٌّ غَیْرُ قَوِیٍّ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

(ت) وَفِی الْبَابِ عَنْ أَبِی عُثْمَانَ بْنِ سَنَّۃَ الْخُزَاعِیِّ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوخِیِّ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ إِلاَّ أَنَّہُ لَیْسَ فِی رِوَایَتِہِمَا ذِکْرُ الْحُمَمَۃِ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۵۵، ۵۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৩২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پتھر اور اس طرح کی صفائی والی چیزوں سے استنجا کرنے اور دیگر چیزوں سے ممانعت کا بیان
(٥٣٣) ابو زبیر نے جابر بن عبداللہ (رض) سے سنا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم کو منع کیا کہ ہم ہڈی یا اونٹی کی مینگنی سے استنجا کریں۔
(۵۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ إِسْحَاقَ:

حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَیْرِ أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ یَقُولُ : نَہَانَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ نَتَمَسَّحَ بِعَظْمٍ أَوْ بَعْرٍ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ رَوْحٍ۔

(ت) وَرُوِّینَا فِیہِ عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِیِّ وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۲۶۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৩৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پتھر اور اس طرح کی صفائی والی چیزوں سے استنجا کرنے اور دیگر چیزوں سے ممانعت کا بیان
(٥٣٤) رویفع بن ثابت سے روایت ہے کہ ہم سے کوئی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں اپنے بھائی کو تیر پکڑاتا اس شرط پر کہ غنیمت میں سے اس کے لیے آدھا ہے۔ پھر مجھ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اے رویفع ! شاید تیری زندگی میرے بعد لمبی ہوجائے، تو لوگوں کو بتادے جس نے داڑھی کی گرہ لگائی یا تندی پہنی یا چوپائے کے گوبر یا ہڈی سے استنجا کیا تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بری ہیں۔ “
(۵۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَوْہَبٍ الْہَمْدَانِیُّ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ یَعْنِی ابْنَ فَضَالَۃَ الْمِصْرِیَّ عَنْ عَیَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِیِّ أَنَّ شُیَیْمَ بْنَ بَیْتَانَ الْقِتْبَانِیَّ أَخْبَرَہُ عَنْ شَیْبَانَ الْقِتْبَانِیِّ عَنْ رُوَیْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : إِنْ کَانَ أَحَدُنَا فِی زَمَانِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- لَیَأْخُذُ نِضْوَ أَخِیہِ عَلَی أَنَّ لَہُ النِّصْفَ مِمَّا یَغْنَمُ وَلَنَا النِّصْفَ ، وَإِنْ کَانَ أَحَدُنَا لَیَطِیرُ لَہُ النَّصْلُ وَالرِّیشُ وَلِلآخَرِ الْقَدَحُ، ثم قَالَ قَالَ لِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((یَا رُوَیْفِعُ لَعَلَّ الْحَیَاۃَ سَتَطُولُ بِکَ بَعْدِی، فَأَخْبِرِ النَّاسَ أَنَّہُ مَنْ عَقَدَ لِحْیَتَہُ أَوْ تَقَلَّدَ وَتَرًا ، أَوِ اسْتَنْجَی بِرَجِیعِ دَابَّۃٍ أَوْ عَظْمٍ فَإِنَّ مُحَمَّدًا مِنْہُ بَرِیئٌ))۔

(غ) النِّضْوُ الْبَعِیرُ الْمَہْزُولُ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۳۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৩৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رنگے ہوئے چمڑے سے استنجا کرنے کا بیان
(٥٣٥) سیدنا ابن عباس (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مردار کے چمڑے کے متعلق نقل فرماتے ہیں کہ اس کا رنگ لینا اس کی خباثت، نجاست اور اس کی پلیدی کو ختم کردیتا ہے۔
(۵۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِیِّ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ عَنْ أَخِیہِ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی جُلُودِ الْمَیْتَۃِ : إِنَّ دِبَاغَہَا قَدْ ذَہَبَ بِخَبَثِہِ أَوْ بِنَجَسِہِ أَوْ رِجْسِہِ ۔

[حسن۔ أخرجہ احمد ۱/۲۳۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৩৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رنگے ہوئے چمڑے سے استنجا کرنے کا بیان
(٥٣٦) عبداللہ بن عبد الرحمن انصاری (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرمایا کہ ” بیشک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہڈی یا گوبر یا چمڑے سے استنجاء کرنے کو منع کیا ہے۔ “
(۵۳۶) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی رَوَاہُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ مُوسَی بْنِ أَبِی إِسْحَاقَ الأَنْصَارِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ -ﷺ- مِنَ الأَنْصَارِ أَخْبَرَہُ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : أَنَّہُ نَہَی أَنْ یَسْتَطِیبَ أَحَدٌ بِعَظْمٍ أَوْ رَوْثٍ أَوْ جِلْدٍ۔

فَقَدْ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ الْحَارِثِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَیْرٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا أَبُو طَاہِرٍ وَعَمْرُو بْنُ سَوَادٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ فَذَکَرَہُ۔ قَالَ عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ : ہَذَا إِسْنَادٌ غَیْرُ ثَابِتٍ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الطحاوی فی شرح المعانی ۱/۱۳۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৩৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مٹی کے ساتھ استنجا کرنے کا بیان
(٥٣٧) طاؤس سے روایت ہے کہ تین پتھروں سے یا تین لکڑیوں سے استنجاء کرنا (مسنون) ہے، میں نے کہا : اگر نہ ملیں تو ؟ انھوں نے کہا : میں اس کو نہیں پایا، پھر کہتے ہیں : تین چلو پانی کے۔ طاؤس سے یہی صحیح ثابت ہے۔
(۵۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ یَعْنِی ابْنَ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ طَاوُسٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِیُّ بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ : الاِسْتِنْجَائُ بِثَلاَثَۃِ أَحْجَارٍ أَوْ ثَلاَثَۃِ أَعْوَادٍ۔ قُلْتُ : فَإِنْ لَمْ أَجِدْ۔ قَالَ : ثَلاَثِ حَفَنَاتٍ مِنَ التُّرَابِ۔ ہَذَا ہُوَ الصَّحِیحُ عَنْ طَاوُسٍ مِنْ قَوْلِہِ۔ (ت) وَکَذَلِکَ رَوَاہُ سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ وَہْرَامَ عَنْ طَاوُسٍ۔ وَرَوَاہُ زَمْعَۃُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ سَلَمَۃَ فَرَفَعَہُ مُرْسَلاً۔ [صحیح۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۱۶۳۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৩৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مٹی کے ساتھ استنجا کرنے کا بیان
(٥٣٨) مسلمۃ بن وھرام کہتے ہیں : میں نے طاؤس کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کو آئے تو وہ اللہ کے قبلے کی عزت کرے نہ اس کی طرف منہ کرے اور نہ ہی اس کی طرف پیٹھ، پھیر تین پتھر یا تین لکڑیاں یا پانی کے تین چلوں کے ساتھ استنجا کرے، پھر کہے : سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے مجھ سے تکلیف دہ چیز کو نکال دیا اور نفع والی چیز کو روک لیا۔
(۵۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحَارِثِیُّ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْفَارِسِیُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ زَمْعَۃَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ وَہْرَامَ قَالَ سَمِعْتُ طَاوُسًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِذَا أَتَی أَحَدُکُمْ الْبَرَازَ فَلْیُکْرِمْ قِبْلَۃَ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَلاَ یَسْتَقْبِلْہَا وَلاَ یَسْتَدْبِرْہَا ثُمَّ لِیَسْتَطِبْ بِثَلاَثَۃِ أَحْجَارٍ أَوْ ثَلاَثَۃِ أَعْوَادٍ أَوْ ثَلاَثِ حَثَیَاتٍ مِنْ تُرَابٍ ، ثُمَّ لِیَقُلْ الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَخْرَجَ عَنِّی مَا یُؤْذِینِی وَأَمْسَکَ عَلَیَّ مَا یَنْفَعُنِی ۔ ہَکَذَا رَوَاہُ ابْنُ وَہْبٍ وَوَکِیعٌ وَغَیْرُہُمْ عَنْ زَمْعَۃَ۔

وَرَوَاہُ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُضَرِیُّ - وَہُو کَذَّابٌ مَتْرُوکٌ - عَنْ أَبِی عَاصِمٍ عَنْ زَمْعَۃَ عَنْ سَلَمَۃَ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَلاَ یَصِحُّ وَصْلُہُ وَلاَ رَفْعُہُ۔

قَالَ عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیُّ قُلْتُ لِسُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ : أَکَانَ زَمْعَۃُ یَرْفَعُہُ؟ قَالَ : نَعَمْ۔ فَسَأَلْتُ سَلَمَۃَ عَنْہُ فَلَمْ یَعْرِفْہُ یَعْنِی لَمْ یَرْفَعْہُ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۵۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৩৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مٹی کے ساتھ استنجا کرنے کا بیان
(٥٣٩) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ سراقہ بن مالک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور پاخانے کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے اس کو حکم دیا کہ ہوا بلند کرے اور قبلہ کی جانب نہ منہ کر اور نہ پیٹھ اور تین پتھروں سے استنجا کر، لیکن اس میں گوبر نہ ہو یا تین لکڑیوں سے یا مٹی کے تین چلو سے استنجا کرے۔

(ب) امام ابوالحسن دار قظی فرماتے ہیں کہ مبشر بن عبید کے علاوہ اس روایت کو کوئی بیان نہیں کرتا اور وہ متروک الحدیث ہے۔ شیح کہتے ہیں : سیدنا انس بن مالک (رض) سے یہ روایت مرفوعا منقول ہے۔
(۵۳۹) وَقَدْ رَوَی مُبَشِّرُ بْنُ عُبَیْدٍ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : قَدِمَ سُرَاقَۃُ بْنُ مَالِکٍ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَسَأَلَہُ عَنِ التَّغَوُّطِ ، فَأَمَرَہُ أَنْ یَسْتَعْلِیَ الرِّیحَ ، وَأَنْ یَتَنَکَّبَ الْقِبْلَۃَ وَلاَ یَسْتَقْبِلَہَا وَلاَ یَسْتَدْبِرَہَا ، وَأَنْ یَسْتَنْجِیَ بِثَلاَثَۃِ أَحْجَارٍ لَیْسَ فِیہَا رَجِیعٌ أَوْ ثَلاَثَۃِ أَعْوَادٍ أَوْ ثَلاَثِ حَثَیَاتٍ مِنْ تُرَابٍ۔

أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو عُتْبَۃَ حَدَّثَنَا بَقِیَّۃُ حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنِی الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ فَذَکَرَہُ۔

(ج) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحَارِثِیُّ قَالَ قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِی الْحَافِظُ : لَمْ یَرْوِہِ غَیْرُ مُبَشِّرِ بْنِ عُبَیْدٍ وَہُوَ مَتْرُوکُ الْحَدِیثِ۔

(ت) قَالَ الشَّیْخُ : وَرُوِیَ فِیہِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ مَرْفُوعًا ، وَذَلِکَ یَرِدُ۔ [ضعیف۔ جدًا أخرجہ الدار قطنی ۱/۵۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৩৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مٹی کے ساتھ استنجا کرنے کا بیان
(٥٤٠) یسار بن نمیر کے غلام سے روایت ہے کہ سیدنا عمر (رض) جب پیشاب کرتے تو کہتے : مجھے کوئی چیز دو جس سے میں استنجا کروں راوی کہتا ہے : میں ان کو لکڑی اور پتھر دیتا یا آپ دیوار کے پاس آتے اور اس سے مسح کرتے یا زمین کو چھوتے اور اس کو دھوتے نہیں تھے۔
(۵۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ التَّرْقُفِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَعْلَی حَدَّثَنَا أَبِی عَنْ غَیْلاَنَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ مَوْلَی عُمَرَ یَسَارِ بْنِ نُمَیْرٍ قَالَ : کَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِذَا بَالَ قَالَ : نَاوِلْنِی شَیْئًا أَسْتَنْجِی بِہِ قَالَ : فَأُنَاوِلُہُ الْعُودَ وَالْحَجَرَ أَوْ یَأْتِی حَائِطًا یَتَمَسَّحُ بِہِ أَوْ یُمِسُّہُ الأَرْضَ وَلَمْ یَکُنْ یَغْسِلُہُ۔ وَہَذَا أَصَحُّ مَا رُوِیَ فِی ہَذَا الْبَابِ وَأَعْلاَہُ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৪০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی چیز سے صرف ایک مرتبہ استنجا جائز ہے
(٥٤١) عبد الرحمن بن عبد الواحد فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک (رض) سے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تین پتھروں سے استنجا کرو اور مٹی سے استنجا اس وقت کرنا جب پتھر نہ پائے اور جس چیز سے ایک مرتبہ استنجا کیا گیا ہے اس سے دوبارہ استنجا نہ کیا جائے۔ “
(۵۴۱) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو سَعْدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا الْخَضِرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أُمَیَّۃَ حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ یَعْنِی الطَّرَائِفِیَّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((الاِسْتِنْجَائُ بِثَلاَثَۃِ أَحْجَارٍ وَبِالتُّرَابِ إِذَا لَمْ یَجِدْ حَجَرًا ، وَلاَ یُسْتَنْجَی بِشَیْئٍ قَدِ اسْتُنْجِیَ بِہِ مَرَّۃً))۔

(ج) عُثْمَانُ الطَّرَائِفِیُّ تَکَلَّمُوا فِیہِ یَرْوِی عَنْ قَوْمٍ مَجْہُولِینَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ وَرُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ أَنَسٍ وَلاَ یَصِحُّ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابن عدی ۱/۲۰۲، ۲۷۱]
tahqiq

তাহকীক: