আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬৭৩ টি
হাদীস নং: ৫৮১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیند سے وضو کرنے کا بیان
(٥٨٢) سیدنا عمر (رض) فرماتے ہیں کہ جب کوئی اپنے پہلو پر ٹیک لگا کر سو جائے تو وہ وضو کرے۔
(۵۸۲) وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِیلِ حَدَّثَنَا الْوَاقِدِیُّ حَدَّثَنَا أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : إِذَا وَضَعَ أَحَدُکُمْ جَنْبَہُ فَلْیَتَوَضَّأْ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ ۱۴۱۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیند سے وضو کرنے کا بیان
(٥٨٣) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ہر سونے والے پر وضو واجب ہے، مگر جس کا صرف سر جھک جائے تو (نیند کی وجہ سے اس پر وضو نہیں ہے)
(ب) اسے ایک جماعت نے یزید بن ابو زیاد سے موقوفاًنقل کیا ہے اور ایک مرفوع روایت بھی ہے لیکن اس کا مرفوع ہونا ثابت نہیں۔
(ب) اسے ایک جماعت نے یزید بن ابو زیاد سے موقوفاًنقل کیا ہے اور ایک مرفوع روایت بھی ہے لیکن اس کا مرفوع ہونا ثابت نہیں۔
(۵۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَسِیدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : وَجَبَ الْوُضُوئُ عَلَی کُلِّ نَائِمٍ إِلاَّ مَنْ خَفَقَ خَفْقَۃً بِرَأْسِہِ۔
ہَکَذَا رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ مُوَقُوفًا وَرُوِیَ ذَلِکَ مَرْفُوعًا وَلاَ یَثْبُتُ رَفْعُہُ۔ [ضعیف]
ہَکَذَا رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ مُوَقُوفًا وَرُوِیَ ذَلِکَ مَرْفُوعًا وَلاَ یَثْبُتُ رَفْعُہُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیند سے وضو کرنے کا بیان
(٥٨٤) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ جس پر نیند ثابت ہوگئی اس پر وضو کرنا واجب ہوگیا۔
(۵۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ الْبَغَوِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ أَخْبَرَنَا شُعْبَۃُ عَنْ سَعِیدٍ الْجُرَیْرِیِّ عَنْ خَالِدِ بْنِ غِلاَقٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : مَنِ اسْتَحَقَّ النَّوْمَ فَقَدْ وَجَبَ عَلَیْہِ الْوُضُوئُ ۔ [ضعیف أخرجہ علی بن الجعد ۱۴۵۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیند سے وضو کرنے کا بیان
(٥٨٥) ابن علیہ جریری سے اسی سند سے بیان کرتے ہیں۔ (ب) جریری کہتے ہیں کہ ہم نے پوچھانیند کب ثابت ہوتی ہے تو انھوں نے فرمایا : جب سونے والا اپنا پہلو زمین پر لگا دے۔ (ج) یہ روایت مرفوعاً ثابت نہیں۔
(۵۸۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ حَدَّثَنِی زِیَادُ بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ عَنِ الْجُرَیْرِیِّ بِإِسْنَادِہِ مِثْلَہُ۔
قَالَ إِسْمَاعِیلُ قَالَ الْجُرَیْرِیُّ فَسَأَلْنَاہُ عَنِ اسْتِحْقَاقِ النَّوْمِ فَقَالَ : ہُوَ أَنْ یَضَعَ جَنْبَہُ۔
وَقَدْ رُوِیَ ذَلِکَ مَرْفُوعًا وَلاَ یَصِحُّ رَفْعُہُ۔ [ضعیف]
قَالَ إِسْمَاعِیلُ قَالَ الْجُرَیْرِیُّ فَسَأَلْنَاہُ عَنِ اسْتِحْقَاقِ النَّوْمِ فَقَالَ : ہُوَ أَنْ یَضَعَ جَنْبَہُ۔
وَقَدْ رُوِیَ ذَلِکَ مَرْفُوعًا وَلاَ یَصِحُّ رَفْعُہُ۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیند سے وضو کرنے کا بیان
(٥٨٦) نافع سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر (رض) مسجد حرام میں ہلکی نیند سوتے تو وضو فرماتے۔
(۵۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحَارِثِیُّ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنِ حَیَّانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ : مُوسَی بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرٍو عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا کَانَ یَنَامُ الْیَسِیرَ فِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَیَتَوَضَّأُ۔ [حسن لغیرہٖ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیند سے وضو کرنے کا بیان
(٥٨٧) سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ جب ان پر قیام اللیل میں نیند غالب آجاتی تو اپنے بستر پر آتے اور لیٹ جاتی پھر پرندے کی طرح (تھوڑا سا) سوتے، پھر کو دکر اٹھتے، وضو کرتے اور دوبارہ نماز پڑھنے لگ جاتے۔
(۵۸۷) وَبِإِسْنَادِہِ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ قَالَ وَأَخْبَرَنِی عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّہُ کَانَ إِذَا غَلَبَہُ النَّوْمُ فِی قِیَامِ اللَّیْلِ أَتَی فِرَاشَہُ فَاضْطَجَعَ فَرَقَدَ رُقَادَ الطَّیْرِ ، ثُمَّ یَثِبُ فَیَتَوَضَّأُ وَیُعَاوِدُ الصَّلاَۃَ۔
[حسن]
[حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیند سے وضو کرنے کا بیان
(٥٨٨) عطاء اور مجاہد سے روایت ہے کہ جو شخص رکوع اور سجدے کی حالت میں سو جائے وہ وضو کرے۔
(۵۸۸) وَبِإِسْنَادِہِ حَدَّثَنَا الْوَلِیدُ قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرٍو عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ وَمُجَاہِدٍ قَالاَ : مَنْ نَامَ رَاکِعًا أَوْ سَاجِدًا تَوَضَّأَ۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیند سے وضو کرنے کا بیان
(٥٨٩) (الف) حسن سے روایت ہے کہ جو بیٹھے بیٹھے سو جائے تو وہ وضو کرے۔
(ب) حسن سے روایت ہے کہ جو بیٹھا یا کھڑا سو جائے اس پر وضو ہے۔
(ب) حسن سے روایت ہے کہ جو بیٹھا یا کھڑا سو جائے اس پر وضو ہے۔
(۵۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ عَنْ ہِشَامٍ عَنِ الْحَسَنِ : أَنَّہُ کَانَ یَرَی عَلَی مَنْ نَامَ جَالِسًا وُضُوئً ا۔
(ت) وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنْ ہِشَامٍ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : إِذَا نَامَ قَاعِدًا أَوْ قَائِمًا فَعَلَیْہِ الْوُضُوئُ ۔
وَإِلَی ہَذَا ذَہَبَ الْمُزَنِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی۔ [ضعیف]
(ت) وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنْ ہِشَامٍ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : إِذَا نَامَ قَاعِدًا أَوْ قَائِمًا فَعَلَیْہِ الْوُضُوئُ ۔
وَإِلَی ہَذَا ذَہَبَ الْمُزَنِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৮৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیٹھ کر سونے سے وضو واجب نہ ہونے کا بیان
(٥٩٠) سیدنا انس (رض) سے روایت ہے کہ صحابہ کرام (رض) عشا کی نماز کا انتظار کرتے اور نیند سے ان کے سر جھک جاتے پھر وہ نماز پڑھتے اور وضو نہیں کرتے تھے۔
(ب) امام ابوداؤد (رح) فرماتے ہیں کہ شعبہ نے قتادہ سے یہ الفاظ زائد بیان کیے ہیں کہ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے کا فعل ہے۔
(ب) امام ابوداؤد (رح) فرماتے ہیں کہ شعبہ نے قتادہ سے یہ الفاظ زائد بیان کیے ہیں کہ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے کا فعل ہے۔
(۵۹۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شَاذُّ بْنُ فَیَّاضٍ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ الدَّسْتَوَائِیُّ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ : کَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَنْتَظِرُونَ الْعِشَائَ الآخِرَۃَ حَتَّی تَخْفِقَ رُئُ وسُہُمْ ثُمَّ یُصَلُّونَ وَلاَ یَتَوَضَّئُونَ۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ : زَادَ فِیہِ شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔[صحیح۔ أخرجہ مسلم ۳۸۶]
قَالَ أَبُو دَاوُدَ : زَادَ فِیہِ شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ قَالَ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔[صحیح۔ أخرجہ مسلم ۳۸۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیٹھ کر سونے سے وضو واجب نہ ہونے کا بیان
(٥٩١) سیدنا انس (رض) سے روایت ہے کہ صحابہ کرام (رض) (بیٹھے بیٹھے) سو جاتے، پھر کھڑے ہوتے اور نماز ادا کرتے۔ یہ حضرات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں (بھی اس سے) وضو نہیں کرتے تھے۔
(۵۹۱) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا تَمْتَامٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ : کَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَنَامُونَ ثُمَّ یَقُومُونَ فَیُصَلُّونَ وَلاَ یَتَوَضَّئُونَ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ حَبِیبٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ شُعْبَۃَ دُونَ قَوْلِہِ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ [صحیح۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۱۳۰]
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ حَبِیبٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ شُعْبَۃَ دُونَ قَوْلِہِ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ [صحیح۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۱۳۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیٹھ کر سونے سے وضو واجب نہ ہونے کا بیان
(٥٩٢) سیدنا انس (رض) سے روایت ہے کہ میں نے صحابہ کرام (رض) کو دیکھا کہ ان کو نماز کے لیے بیدار کیا جاتا تھا اور میں ان کے خراٹے کی آواز سنتا، پھر وہ کھڑے ہو کر نماز ادا کرتے تھے اور وضو نہیں کرتے تھے۔
(۵۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ حُمَیْدٍ یَعْنِی مُحَمَّدًا حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ : لَقَدْ رَأَیْتُ أَصْحَابَ النَّبِیِّ -ﷺ- یُوقَظُونَ لِلصَّلاَۃِ حَتَّی إِنَّی لأَسْمَعُ لأَحَدِہِمْ غَطِیطًا ثُمَّ یَقُومُونَ فَیُصَلُّونَ وَلاَ یَتَوَضَّئُونَ۔
(ق) قَالَ ابْنُ الْمُبَارَکِ : ہَذَا عِنْدَنَا وَہُمْ جُلُوسٌ۔
وَعَلَی ہَذَا حَمْلَہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ وَالشَّافِعِیُّ وَحَدِیثَاہُمَا فِی ذَلِکَ مُخَرَّجَانِ فِی الْخِلاَفِیَّاتِ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۶۱۶]
(ق) قَالَ ابْنُ الْمُبَارَکِ : ہَذَا عِنْدَنَا وَہُمْ جُلُوسٌ۔
وَعَلَی ہَذَا حَمْلَہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ وَالشَّافِعِیُّ وَحَدِیثَاہُمَا فِی ذَلِکَ مُخَرَّجَانِ فِی الْخِلاَفِیَّاتِ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۶۱۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیٹھ کر سونے سے وضو واجب نہ ہونے کا بیان
(٥٩٣) سیدنا انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ عشا کی نماز کھڑی ہوئی تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! مجھے کام ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہو کر اس سے سرگوشی کرتے رہے اور لوگوں کو یا کسی ایک کو اونگھ آگئی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا۔
(ب) صحیح مسلم میں ” لَمْ یَذْکُرْ وُضُوئً ا “ کے الفاظ ہیں۔
(ب) صحیح مسلم میں ” لَمْ یَذْکُرْ وُضُوئً ا “ کے الفاظ ہیں۔
(۵۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ وَدَاوُدُ بْنُ شَبِیبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِیِّ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ : أُقِیمَتْ صَلاَۃُ الْعِشَائِ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ لِی حَاجَۃٌ۔ فَقَامَ یُنَاجِیہِ حَتَّی نَعَسَ الْقَوْمُ أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ ثُمَّ صَلَّی بِہِمْ وَلَمْ یَذْکُرْ وُضُوئً ا۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَۃَ دُونَ قَوْلِہِ وَلَمْ یَذْکُرْ وُضُوئً ا۔
[صحیح۔ أخرجہ مالک ۴۰]
[صحیح۔ أخرجہ مالک ۴۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیٹھ کر سونے سے وضو واجب نہ ہونے کا بیان
(٥٩٤) نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) بیٹھے بیٹھے سو جاتے تھے، پھر نماز پڑھتے اور وضو نہ کرتے۔
(۵۹۴) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ۔
قَالَ وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَیُونُسُ بْنُ یَزِیدَ وَاللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ وَابْنُ سَمْعَانَ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یَنَامُ وَہُوَ جَالِسٌ ثُمَّ یُصَلِّی وَلاَ یَتَوَضَّأُ۔ [حسن۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ]
قَالَ وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ وَیُونُسُ بْنُ یَزِیدَ وَاللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ وَابْنُ سَمْعَانَ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یَنَامُ وَہُوَ جَالِسٌ ثُمَّ یُصَلِّی وَلاَ یَتَوَضَّأُ۔ [حسن۔ أخرجہ ابن أبی شیبۃ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیٹھ کر سونے سے وضو واجب نہ ہونے کا بیان
(٥٩٥) سیدنا ابن عباس (رض) سے موقوفاً منقول ہے کہ جو شخص بیٹھ کر سو جائے اس کا وضو (باقی) ہے۔ اگر لیٹ جائے تو اس پر وضو ہے۔
(۵۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ مُغِیرَۃَ بْنِ زِیَادٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ لَمْ یَرْفَعُہُ قَالَ : مَنْ نَامَ وَہُوَ جَالِسٌ فَلاَ وُضُوئَ عَلَیْہِ ، فَإِنِ اضْطَجَعَ فَعَلَیْہِ الْوُضُوئُ۔
(ت) وَرُوِّینَا فِی ذَلِکَ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ وَأَبِی أُمَامَۃَ۔
وَاحْتَجَّ بَعْضُ أَصْحَابِنَا بِمَا۔ [حسن]
(ت) وَرُوِّینَا فِی ذَلِکَ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ وَأَبِی أُمَامَۃَ۔
وَاحْتَجَّ بَعْضُ أَصْحَابِنَا بِمَا۔ [حسن]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیٹھ کر سونے سے وضو واجب نہ ہونے کا بیان
(٥٩٥) سیدنا حذیفہ بن یمان (رض) سے روایت ہے کہ میں مدینہ کی مسجد میں اس حال میں بیٹھا ہوا تھا کہ میرا سر (نیند کی وجہ سے) جھک جاتا تھا ۔ پیچھے سے ایک شخص نے مجھے چوکا مارا تو میں نے مڑ کر دیکھا، وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا مجھے پر وضو ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں جب تک تیرا پہلونہ جھکے۔
(۵۹۶) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَبْدَانُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ بْنِ حِسَابٍ حَدَّثَنَا قَزَعَۃُ بْنُ سُوَیْدٍ حَدَّثَنِی بَحْرُ بْنُ کَنِیزٍ السَّقَّائُ عَنْ مَیْمُونٍ الْخَیَّاطِ عَنْ أَبِی عِیَاضٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ قَالَ : کُنْتُ فِی مَسْجِدِ الْمَدِینَۃِ جَالِسًا أَخْفُقُ ، وَاحْتَضَنَنِی رَجُلٌ مِنْ خَلْفِی فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا بِالنَّبِیِّ -ﷺ- فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَلْ وَجَبَ عَلَیَّ وُضُوئٌ ؟ قَالَ : ((لاَ حَتَّی تَضَعَ جَنْبَکَ))۔
وَہَذَا الْحَدِیثُ تَفَرَّدَ بِہِ بَحْرُ بْنُ کَنِیزٍ السَّقَّائُ ۔ (ج) وَہُوَ ضَعِیفٌ لاَ یُحْتَجُّ بِرِوَایَتِہِ۔
[ضعیف۔ أخرجہ ابن عدی ۲/۵۴]
وَہَذَا الْحَدِیثُ تَفَرَّدَ بِہِ بَحْرُ بْنُ کَنِیزٍ السَّقَّائُ ۔ (ج) وَہُوَ ضَعِیفٌ لاَ یُحْتَجُّ بِرِوَایَتِہِ۔
[ضعیف۔ أخرجہ ابن عدی ۲/۵۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدے کی حالت میں سو جانے کا بیان
(٥٩٧) (الف) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدے میں سو گئے اور نیند نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ڈھانپ لیا یہاں تک کہ خراٹوں کی آواز آنے لگی، میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! آپ سو گئے تھے، آپ نے فرمایا : جو پہلو کے بل سو جائے اس پر وضو ہے اور جس نے اپنے پہلو رکھ لیے (یعنی لیٹ گیا) تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑجاتے ہیں۔
(ب) بعض نے حدیث میں بیان کیا ہے کہ لیٹ کر سونے والے پر وضو ہے۔ بلاشبہ جو لیٹ گیا تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑھ جاتے ہیں۔
(ب) بعض نے حدیث میں بیان کیا ہے کہ لیٹ کر سونے والے پر وضو ہے۔ بلاشبہ جو لیٹ گیا تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑھ جاتے ہیں۔
(۵۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ عَنْ یَزِیدَ الدَّالاَنِیِّ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَامَ فِی سُجُودِہِ حَتَّی غَطَّ وَنَفَخَ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ قَدْ نِمْتَ۔ فَقَالَ : ((إِنَّمَا یَجِبُ الْوُضُوئُ عَلَی مَنْ وَضْعَ جَنْبَہُ ، فَإِنَّہُ إِذَا وَضْعَ جَنْبَہُ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُہُ)) ۔
ہَکَذَا رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ عَبْدِ السَّلاَمِ بْنِ حَرْبٍ ، وَقَالَ بَعْضُہُمْ فِی الْحَدِیثِ : إِنَّمَا الْوُضُوئُ عَلَی مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا ، فَإِنَّہُ إِذَا اضْطَجَعَ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُہُ ۔[ضعیف۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر ۱۲۷۴۸]
ہَکَذَا رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ عَبْدِ السَّلاَمِ بْنِ حَرْبٍ ، وَقَالَ بَعْضُہُمْ فِی الْحَدِیثِ : إِنَّمَا الْوُضُوئُ عَلَی مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا ، فَإِنَّہُ إِذَا اضْطَجَعَ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُہُ ۔[ضعیف۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر ۱۲۷۴۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدے کی حالت میں سو جانے کا بیان
(٥٩٨) (الف) عبد السلام بن حرب اسی سند سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص بیٹھ کر یا کھڑا ہو کر یا سجدہ کی حالت میں میں سو جائے اس پر وضو نہیں ہے جب تک اپنا پہلو نہ رکھ دے (یعنی لیٹ جائے) جب اس نے اپنے پہلو رکھ دیے تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑگئے۔
(ب) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میری آنکھیں سوجاتی ہیں، لیکن میرا دل نہیں سوتا۔ “
(ب) امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری (رح) سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انھوں نے فرمایا : اس (حدیث) کی کوئی حقیقت نہیں۔
(ج) امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ راوی کا یہ کہنا الْوُضُوئُ عَلَی مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا منکر ہے۔
(د) امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ شعبہ نے ابو عالیہ سے چار احادیث سنی ہیں : حدیث یونس بن متی، حدیث ابن عمر غار کے متعلق، حدیث القضاۃ ثلاثۃ، حدیث ابن عباس لا صلوۃ بعد العصر۔ شیخ فرماتے ہیں کہ ابن عباس (رض) کی روایت کہ مصیبت کے وقت کیا پڑھا جائے اور سفر معراج میں موسیٰ (علیہ السلام) اور دوسرے انبیاء کی رؤیت وغیرہ کی روایت بھی۔
(ب) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میری آنکھیں سوجاتی ہیں، لیکن میرا دل نہیں سوتا۔ “
(ب) امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری (رح) سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انھوں نے فرمایا : اس (حدیث) کی کوئی حقیقت نہیں۔
(ج) امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ راوی کا یہ کہنا الْوُضُوئُ عَلَی مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا منکر ہے۔
(د) امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ شعبہ نے ابو عالیہ سے چار احادیث سنی ہیں : حدیث یونس بن متی، حدیث ابن عمر غار کے متعلق، حدیث القضاۃ ثلاثۃ، حدیث ابن عباس لا صلوۃ بعد العصر۔ شیخ فرماتے ہیں کہ ابن عباس (رض) کی روایت کہ مصیبت کے وقت کیا پڑھا جائے اور سفر معراج میں موسیٰ (علیہ السلام) اور دوسرے انبیاء کی رؤیت وغیرہ کی روایت بھی۔
(۵۹۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِیُّ عَنْ عَبْدِ السَّلاَمِ بْنِ حَرْبٍ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((لاَ یَجِبُ الْوُضُوئُ عَلَی مَنْ نَامَ جَالِسًا أَوْ قَائِمًا أَوْ سَاجِدًا حَتَّی یَضَعَ جَنْبَہُ ، فَإِنَّہُ إِذَا وَضْعَ جَنْبَہُ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُہُ))۔
تَفَرَّدَ بِہَذَا الْحَدِیثِ عَلَی ہَذَا الْوَجْہِ یَزِیدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو خَالِدٍ الدَّالاَنِیُّ۔
قَالَ أَبُو عِیسَی التِّرْمِذِیُّ : سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیَّ عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ فَقَالَ : ہَذَا لاَ شَیْئَ۔
(ت) رَوَاہُ سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلَہُ ، وَلَمْ یَذْکُرْ فِیہِ أَبَا الْعَالِیَۃِ۔ (ج) وَلاَ أَعْرِفُ لأَبِی خَالِدٍ الدَّالاَنِیِّ سَمَاعًا مِنْ قَتَادَۃَ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ قَالَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ قَوْلُہُ : ((الْوُضُوئُ عَلَی مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا))۔ ہُوَ حَدِیثٌ مُنْکَرٌ لَمْ یَرْوِہِ إِلاَّ یَزِیدُ الدَّالاَنِیِّ عَنْ قَتَادَۃَ۔
وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ شُعْبَۃُ : إِنَّمَا سَمِعَ قَتَادَۃُ مِنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ أَرْبَعَۃَ أَحَادِیثَ : حَدِیثُ یُونُسَ بْنِ مَتَّی ، وَحَدِیثُ ابْنِ عُمَرَ فِی الصَّلاَۃِ ، وَحَدِیثُ : الْقُضَاۃُ ثَلاَثَۃٌ۔
وَحَدِیثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَنِی رِجَالٌ مَرْضِیُّونَ مِنْہُمْ عُمَرُ وَأَرْضَاہُمْ عِنْدِی عُمَرُ یَعْنِی فِی : لاَ صَلاَۃَ بَعْدَ الْعَصْرِ۔
قَالَ الشَّیْخُ : وَسَمِعَ أَیْضًا حَدِیثَ ابْنِ عَبَّاسٍ فِیمَا یَقُولُ عِنْدَ الْکَرْبِ ، وَحَدِیثُہُ فِی رُؤْیَۃِ النَّبِیِّ -ﷺ- لَیْلَۃَ أُسْرِیَ بِہِ مُوسَی وَغَیْرِہِ۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَذَکَرْتُ حَدِیثَ یَزِیدَ الدَّالاَنِیِّ لأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ فَقَالَ : مَا لِیَزِیدَ الدَّالاَنِیِّ یُدْخِلُ عَلَی أَصْحَابِ قَتَادَۃَ۔
قَالَ الشَّیْخُ یَعْنِی بِہِ مَا ذَکَرَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ أَنَّہُ لاَ یُعْرَفُ لأَبِی خَالِدٍ الدَّالاَنِیِّ سَمَاعٌ مِنْ قَتَادَۃَ۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَرَوَی أَوَّلَہُ جَمَاعَۃٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ لَمْ یَذْکُرُوا شَیْئًا مِنْ ہَذَا۔
(ت) وَقَالَ عِکْرِمَۃُ : کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- مَحْفُوظًا۔
وَقَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((تَنَامُ عَیْنَایَ وَلاَ یَنَامُ قَلْبِی))۔ [ضعیف]
تَفَرَّدَ بِہَذَا الْحَدِیثِ عَلَی ہَذَا الْوَجْہِ یَزِیدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو خَالِدٍ الدَّالاَنِیُّ۔
قَالَ أَبُو عِیسَی التِّرْمِذِیُّ : سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیَّ عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ فَقَالَ : ہَذَا لاَ شَیْئَ۔
(ت) رَوَاہُ سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلَہُ ، وَلَمْ یَذْکُرْ فِیہِ أَبَا الْعَالِیَۃِ۔ (ج) وَلاَ أَعْرِفُ لأَبِی خَالِدٍ الدَّالاَنِیِّ سَمَاعًا مِنْ قَتَادَۃَ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ قَالَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ قَوْلُہُ : ((الْوُضُوئُ عَلَی مَنْ نَامَ مُضْطَجِعًا))۔ ہُوَ حَدِیثٌ مُنْکَرٌ لَمْ یَرْوِہِ إِلاَّ یَزِیدُ الدَّالاَنِیِّ عَنْ قَتَادَۃَ۔
وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ شُعْبَۃُ : إِنَّمَا سَمِعَ قَتَادَۃُ مِنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ أَرْبَعَۃَ أَحَادِیثَ : حَدِیثُ یُونُسَ بْنِ مَتَّی ، وَحَدِیثُ ابْنِ عُمَرَ فِی الصَّلاَۃِ ، وَحَدِیثُ : الْقُضَاۃُ ثَلاَثَۃٌ۔
وَحَدِیثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَنِی رِجَالٌ مَرْضِیُّونَ مِنْہُمْ عُمَرُ وَأَرْضَاہُمْ عِنْدِی عُمَرُ یَعْنِی فِی : لاَ صَلاَۃَ بَعْدَ الْعَصْرِ۔
قَالَ الشَّیْخُ : وَسَمِعَ أَیْضًا حَدِیثَ ابْنِ عَبَّاسٍ فِیمَا یَقُولُ عِنْدَ الْکَرْبِ ، وَحَدِیثُہُ فِی رُؤْیَۃِ النَّبِیِّ -ﷺ- لَیْلَۃَ أُسْرِیَ بِہِ مُوسَی وَغَیْرِہِ۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَذَکَرْتُ حَدِیثَ یَزِیدَ الدَّالاَنِیِّ لأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ فَقَالَ : مَا لِیَزِیدَ الدَّالاَنِیِّ یُدْخِلُ عَلَی أَصْحَابِ قَتَادَۃَ۔
قَالَ الشَّیْخُ یَعْنِی بِہِ مَا ذَکَرَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ أَنَّہُ لاَ یُعْرَفُ لأَبِی خَالِدٍ الدَّالاَنِیِّ سَمَاعٌ مِنْ قَتَادَۃَ۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ : وَرَوَی أَوَّلَہُ جَمَاعَۃٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ لَمْ یَذْکُرُوا شَیْئًا مِنْ ہَذَا۔
(ت) وَقَالَ عِکْرِمَۃُ : کَانَ النَّبِیُّ -ﷺ- مَحْفُوظًا۔
وَقَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((تَنَامُ عَیْنَایَ وَلاَ یَنَامُ قَلْبِی))۔ [ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدے کی حالت میں سو جانے کا بیان
(٥٩٩) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سو گئے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خراٹوں کی آواز آنے لگی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ عکرمہ کہتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) محفوظ تھے ۔
(۵۹۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْہَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ أَیُّوبَ وَحُمَیْدٍ وَحَمَّادٍ الْکُوفِیِّ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَامَ حَتَّی سُمِعَ لَہُ غَطِیطٌ فَقَامَ فَصَلَّی وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔ قَالَ عِکْرِمَۃُ : إِنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ مَحْفُوظًا۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۳۸]
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۳۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدے کی حالت میں سو جانے کا بیان
(٦٠٠) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سو گئے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خراٹے لیے، پھر کھڑے ہوئے نماز ادا کی اور وضو نہیں کیا۔
(ب) اسی طرح ابن عباس (رض) کی رات گزارنے والی حدیث ہے جس میں یہ زیادتی نہیں ہے۔
(ج) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نیند لیٹ کر تھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو نہیں کیا، یہ آپ کا خاصہ ہے جس پر یہ حدیث دلالت کر رہی ہے۔
(ب) اسی طرح ابن عباس (رض) کی رات گزارنے والی حدیث ہے جس میں یہ زیادتی نہیں ہے۔
(ج) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نیند لیٹ کر تھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو نہیں کیا، یہ آپ کا خاصہ ہے جس پر یہ حدیث دلالت کر رہی ہے۔
(۶۰۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ عَنْ کُرَیْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- نَامَ حَتَّی نَفَخَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔
مُخَرَّجٌ فِی الصَّحِیحَیْنِ مِنْ حَدِیثِ الثَّوْرِیِّ دُونَ الزِّیَادَۃِ الَّتِی تَفَرَّدَ بِہَا أَبُو خَالِدٍ الدَّالاَنِیُّ۔
(ت) وَکَذَلِکَ رَوَاہُ سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ وَغَیْرُہُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی حَدِیثِ الْمَبِیتِ دُونَ تِلْکَ الزِّیَادَۃِ۔
(ق) وَنَوْمُہُ ہَذَا کَانَ مُضْطَجِعًا ، وَکَانَ -ﷺ- یَتْرُکُ الْوُضُوئَ مِنْہُ مَخْصُوصًا۔ وَالَّذِی یَدُلُّ عَلَیْہِ مَا۔ [صحیح]
مُخَرَّجٌ فِی الصَّحِیحَیْنِ مِنْ حَدِیثِ الثَّوْرِیِّ دُونَ الزِّیَادَۃِ الَّتِی تَفَرَّدَ بِہَا أَبُو خَالِدٍ الدَّالاَنِیُّ۔
(ت) وَکَذَلِکَ رَوَاہُ سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ وَغَیْرُہُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی حَدِیثِ الْمَبِیتِ دُونَ تِلْکَ الزِّیَادَۃِ۔
(ق) وَنَوْمُہُ ہَذَا کَانَ مُضْطَجِعًا ، وَکَانَ -ﷺ- یَتْرُکُ الْوُضُوئَ مِنْہُ مَخْصُوصًا۔ وَالَّذِی یَدُلُّ عَلَیْہِ مَا۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬০০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدے کی حالت میں سو جانے کا بیان
(٦٠١) سیدنا عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں ایک رات اپنی خالہ میمونہ (رض) کے پاس ٹھہرا۔ رات کا کچھ حصہ گزرنے کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لٹکی ہوئی مشک سے ہلکا سا وضو کیا ( عمرو اس کو ہلکا اور بہت تھوڑا بیان کرتے ہیں) پھر آپ نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو میں بھی کھڑا ہوا۔ میں نے ویسے ہی وضو کیا جیسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا، پھر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بائیں جانب کھڑا ہوا۔ آپ نے نماز پڑھی پھر آپ لیٹ کر سو گئے یہاں تک کہ آپ خراٹے لینے لگے، پھر اعلان کرنے والا آیا ۔ اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز کے متعلق بتایا۔
اور دوسری مرتبہ سفیان بیان کرتے ہیں کہ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور ہم کو نماز پڑھائی لیکن وضو نہیں کیا۔
سفیان کہتے ہیں کہ ہم نے عمرو کو کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتا۔ عمرو کہتے ہیں : میں نے عبید بن عمیر سے سنا وہ کہتے تھے کہ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور بطور دلیل یہ آیت پڑھی {إِنِّی أَرَی فِی الْمَنَامِ أَنِّی أَذْبَحُکَ }[الصافات : ١٠٢]
(ب) بخاری اور مسلم میں ہے کہ سفیان کہتے ہیں : یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خاصہ ہے چونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہمیں پہنچا ہے جو ہمارے لیے دلیل ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتا۔
اور دوسری مرتبہ سفیان بیان کرتے ہیں کہ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور ہم کو نماز پڑھائی لیکن وضو نہیں کیا۔
سفیان کہتے ہیں کہ ہم نے عمرو کو کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتا۔ عمرو کہتے ہیں : میں نے عبید بن عمیر سے سنا وہ کہتے تھے کہ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور بطور دلیل یہ آیت پڑھی {إِنِّی أَرَی فِی الْمَنَامِ أَنِّی أَذْبَحُکَ }[الصافات : ١٠٢]
(ب) بخاری اور مسلم میں ہے کہ سفیان کہتے ہیں : یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خاصہ ہے چونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہمیں پہنچا ہے جو ہمارے لیے دلیل ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتا۔
(۶۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ قَالَ سَمِعَ عَمْرٌو کُرَیْبًا یُخْبِرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بِتُّ عِنْدَ خَالَتِی مَیْمُونَۃَ ذَاتَ لَیْلَۃً ، فَلَمَّا کَانَ فِی بَعْضِ اللَّیْلِ قَامَ النَّبِیُّ -ﷺ- فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنٍّ مُعَلَّقٍ وُضُوئً ا خَفِیفًا - یُخَفِّفُہُ عَمْرٌو وَیُقَلِّلُہُ جِدًّا - ثُمَّ قَامَ یُصَلِّی ، فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ نَحْوًا مِمَّا تَوَضَّأَ ثُمَّ قُمْتُ عَنْ یَسَارِہِ فَحَوَّلَنِی فَجَعَلَنِی عَنْ یَمِینِہِ ، ثُمَّ صَلَّی مَا شَائَ اللَّہُ ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّی نَفَخَ ، ثُمَّ جَائَہُ الْمُنَادِی فَآذَنَہُ بِالصَّلاَۃِ۔
وَقَالَ سُفْیَانُ مَرَّۃً أُخْرَی : ثُمَّ قَامَ إِلَی الصَّلاَۃِ فَصَلَّی بِنَا وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔
قَالَ سُفْیَانُ قُلْنَا لِعَمْرٍو : إِنَّ أُنَاسًا یَقُولُونَ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- تَنَامُ عَیْنُہُ وَلاَ یَنَامُ قَلْبُہُ۔ قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ عُبَیْدَ بْنَ عُمَیْرٍ یَقُولُ: رُؤْیَا الأَنْبِیَائِ وَحْیٌ۔ وَقَرَأَ{إِنِّی أَرَی فِی الْمَنَامِ أَنِّی أَذْبَحُکَ} [الصافات:۱۰۲]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ وَابْنِ أَبِی عُمَرَ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ إِلاَّ أَنَّہُمَا قَالاَ قَالَ سُفْیَانُ : وَہَذَا لِلنَّبِیِّ -ﷺ- خَاصَّۃً لأَنَّہُ بَلَغَنَا : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- تَنَامُ عَیْنَاہُ وَلاَ یَنَامُ قَلْبُہُ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۱۷]
وَقَالَ سُفْیَانُ مَرَّۃً أُخْرَی : ثُمَّ قَامَ إِلَی الصَّلاَۃِ فَصَلَّی بِنَا وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔
قَالَ سُفْیَانُ قُلْنَا لِعَمْرٍو : إِنَّ أُنَاسًا یَقُولُونَ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- تَنَامُ عَیْنُہُ وَلاَ یَنَامُ قَلْبُہُ۔ قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ عُبَیْدَ بْنَ عُمَیْرٍ یَقُولُ: رُؤْیَا الأَنْبِیَائِ وَحْیٌ۔ وَقَرَأَ{إِنِّی أَرَی فِی الْمَنَامِ أَنِّی أَذْبَحُکَ} [الصافات:۱۰۲]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ وَابْنِ أَبِی عُمَرَ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ إِلاَّ أَنَّہُمَا قَالاَ قَالَ سُفْیَانُ : وَہَذَا لِلنَّبِیِّ -ﷺ- خَاصَّۃً لأَنَّہُ بَلَغَنَا : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- تَنَامُ عَیْنَاہُ وَلاَ یَنَامُ قَلْبُہُ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۱۷]
তাহকীক: