আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬৭৩ টি

হাদীস নং: ৬০১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدے کی حالت میں سو جانے کا بیان
(٦٠٢) (الف) سیدہ عائشہ (رض) نے رات کی نماز کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عائشہ ! میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔

(ب) سیدنا انس بن مالک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ کی آنکھیں سوتی تھیں دل نہیں سوتا تھا ، اسی طرح تمام انبیاء کی آنکھیں سوتی ہیں لیکن ان کے دل نہیں سوتے۔
(۶۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ فِیمَا قَرَأَ عَلَی مَالِکٍ عَنْ سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَۃَ فِی حَدِیثٍ ذَکَرَہُ فِی صَلاَۃِ اللَّیْلِ قَالَتْ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ؟ فَقَالَ : ((یَا عَائِشَۃُ إِنَّ عَیْنَیَّ تَنَامَانِ وَلاَ یَنَامُ قَلْبِی))۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ۔

(ت) وَرُوِّینَا عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مَا دَلَّ عَلَی أَنَّہُ -ﷺ- کَانَ تَنَامُ عَیْنَاہُ وَلاَ یَنَامُ قَلْبُہُ۔

قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ : وَکَذَلِکَ الأَنْبِیَائُ صَلَوَاتُ اللَّہُ عَلَیْہِمْ تَنَامُ أَعْیُنُہُمْ وَلاَ تَنَامُ قُلُوبُہُمْ۔

[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۹/۱۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬০২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدے کی حالت میں سو جانے کا بیان
(٦٠٣) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ گوٹھ مار کر سونے والے پر، کھڑے ہو کر سونے والے پر اور سجدے میں سونے والے پر وضو نہیں ہے جب تک لیٹ نہ جائے۔ جب لیٹ گیا تو وضو کرے گا (یہ موقوف روایت ہے) ۔
(۶۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِیقٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ ہُوَ ابْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا حَیْوَۃُ بْنُ شُرَیْحٍ أَخْبَرَنِی أَبُو صَخْرٍ أَنَّہُ سَمِعَ یَزِیدَ بْنَ قُسَیْطٍ یَقُولُ:

أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ : لَیْسَ عَلَی الْمُحْتَبِی النَّائِمِ وَلاَ عَلَی الْقَائِمِ النَّائِمِ وَلاَ عَلَی السَّاجِدِ النَّائِمِ وُضُوئٌ حَتَّی یَضْطَجِعَ ، فَإِذَا اضْطَجَعَ تَوَضَّأَ۔ وَہَذَا مَوْقُوفٌ۔ [حسن]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬০৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بےہوشی سے وضو ختم ہوجانے کا بیان
(٦٠٤) عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ فرماتے ہیں کہ میں سیدہ عائشہ (رض) کے پاس گیا اور عرض کیا : آپ مجھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مرض کی حدیث بیان نہیں کریں گی ! انھوں نے فرمایا : کیوں نہیں ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بدن مبارک بھاری ہوگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے ؟ ہم نے کہا : نہیں اے اللہ کے رسول ! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : برتن میں میرے لیے پانی رکھو ، ہم نے پانی رکھ دیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غسل کیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھنے لگے تو آپ پر بےہوشی طاری ہوگئی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو افاقہ ہوا تو آپ نے پوچھا : کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے ؟ ہم نے کہا : نہیں اے اللہ کے رسول ! وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : برتن میں پانی رکھو ہم نے ایسے ہی کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غسل کیا، پھر اٹھنے لگے تو آپ پر بےہوشی طاری ہوگئی پھر آپ کو افاقہ ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے ؟ ہم نے کہا : نہیں وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں اے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : میرے لیے برتن میں پانی رکھو ہم نے برتن میں پانی رکھا۔ آپ نے غسل کیا، پھر آپ اٹھنے لگے تو آپ پر بےہوشی طاری ہوگئی پھر آپ کو افاقہ ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے ؟ ہم نے کہا نہیں وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں اے اللہ کے رسول ! سیدہ عائشہ (رض) کہتی ہیں : لوگ مسجد میں (نیند کی وجہ سے) جھکے ہوئے تھے وہ رسول اللہ کے ساتھ عشا کی نماز کا انتظار کر رہے تھے۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سیدنا ابوبکر (رض) کو پیغام بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔

(ب) بےہوشی میں غسل کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مستحب سمجھا اگرچہ وضو بھی کافی ہے۔
(۶۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُونُسَ۔

(ح) وَأَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ بْنُ قُدَامَۃَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ أَبِی عَائِشَۃَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا فَقُلْتُ : أَلاَ تُحَدِّثِینِی عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-؟ فَقَالَتْ : بَلَی ، ثَقُلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : أَصَلَّی النَّاسُ؟ ۔ قُلْنَا : لاَ یَا رَسُولَ اللَّہِ ، ہُمْ یَنْتَظِرُونَکَ۔ قَالَ : ضَعُوا لِی مَائً فِی الْمِخْضَبِ ۔ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ ذَہَبَ لِیَنُوئَ فَأُغْمِیَ عَلَیْہِ ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ : أَصَلَّی النَّاسُ؟ ۔ قُلْنَا : لاَ ہُمْ یَنْتَظِرُونَکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ فَقَالَ : ضَعُوا لِی مَائً فِی الْمِخْضَبِ ۔ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ ذَہَبَ لِیَنُوئَ فَأُغْمِیَ عَلَیْہِ ، ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ : أَصَلَّی النَّاسُ ؟ ۔ فَقُلْنَا : لاَ ہُمْ یَنْتَظِرُونَکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ فَقَالَ : ضَعُوا لِی مَائً فِی الْمِخْضَبِ ۔ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ ذَہَبَ لِیَنُوئَ فَأُغْمِیَ عَلَیْہِ ثُمَّ أَفَاقَ فَقَالَ : أَصَلَّی النَّاسُ؟ ۔ فَقُلْنَا : لاَ وَہُمْ یَنْتَظِرُونَکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَتْ وَالنَّاسُ عُکُوفٌ فِی الْمَسْجِدِ یَنْتَظِرُونَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لِصَلاَۃِ الْعِشَائِ الآخِرَۃِ قَالَتْ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی أَبِی بَکْرٍ أَنْ یُصَلِّیَ بِالنَّاسِ۔

وَذَکَرَ الْحَدِیثَ لَفْظُہُمَا سَوَائٌ وَبَاقِی الْحَدِیثِ فِی کِتَابِ الصَّلاَۃِ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ جَمِیعًا فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ یُونُسَ۔

(ق) وَالْغُسْلُ بِالإِغْمَائِ شَیْئٌ اسْتَحَبَّہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَالْوُضُوئُ یَکْفِی إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی۔

[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۶۵۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬০৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھونے سے وضو کرنے کا بیان

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَائَ } [المائدۃ : ٦] یا تم نے عورتوں کو چھوا ہو۔” اسم لمس “ جماع کے علاوہ بھی مستعمل ہے جیسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ماعز بن مالک سے فرمایا : تو نے شاید اس کا بوسا لیا ہو یا چھوا ہو اور اسی طرح بیع ملامسہ سے ممانعت۔ اس طرح سیدنا ابوہریرہ (رض) کی روایت کہ ہاتھوں کا زنا لمس ہے۔ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ کبھی کبھار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم تمام عورتوں کے پاس ایک ہی دن میں چکر لگاتے تھے، آپ ہمیں بوس و کنار کرتے جماع نہیں کرتے تھے۔
(٦٠٥) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں : بوسہ، چھونے کی طرح ہے، لہٰذا تم اس سے وضو کرو۔
(۶۰۵) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِیُّ حَدَّثَنَا جَدِّی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ حَمْزَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ - یَعْنِی ابْنَ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ - عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : إِنَّ الْقُبْلَۃَ مِنَ اللَّمْسِ فَتَوَضَّئُوا مِنْہَا۔ [صحیح۔ لغیرہٖ أخرجہ الحاکم ۱/۲۲۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬০৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھونے سے وضو کرنے کا بیان

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَائَ } [المائدۃ : ٦] یا تم نے عورتوں کو چھوا ہو۔” اسم لمس “ جماع کے علاوہ بھی مستعمل ہے جیسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ماعز بن مالک سے فرمایا : تو نے شاید اس کا بوسا لیا ہو یا چھوا ہو اور اسی طرح بیع ملامسہ سے ممانعت۔ اس طرح سیدنا ابوہریرہ (رض) کی روایت کہ ہاتھوں کا زنا لمس ہے۔ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ کبھی کبھار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم تمام عورتوں کے پاس ایک ہی دن میں چکر لگاتے تھے، آپ ہمیں بوس و کنار کرتے جماع نہیں کرتے تھے۔
(٦٠٦) سیدنا ابن مسعود (رض) اللہ کے اس فرمان { أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَائَ } کے متعلق بیان فرماتے ہیں کہ اس کا معنی جماع کے علاوہ ہے۔
(۶۰۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ مُخَارِقٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ یَعْنِی ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی {أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَائَ} قَوْلاً مَعْنَاہُ مَا دُونَ الْجِمَاعِ۔

[صحیح۔ أخرجہ الحاکم ۱/۲۲۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬০৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھونے سے وضو کرنے کا بیان

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَائَ } [المائدۃ : ٦] یا تم نے عورتوں کو چھوا ہو۔” اسم لمس “ جماع کے علاوہ بھی مستعمل ہے جیسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ماعز بن مالک سے فرمایا : تو نے شاید اس کا بوسا لیا ہو یا چھوا ہو اور اسی طرح بیع ملامسہ سے ممانعت۔ اس طرح سیدنا ابوہریرہ (رض) کی روایت کہ ہاتھوں کا زنا لمس ہے۔ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ کبھی کبھار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم تمام عورتوں کے پاس ایک ہی دن میں چکر لگاتے تھے، آپ ہمیں بوس و کنار کرتے جماع نہیں کرتے تھے۔
(٦٠٧) سیدنا عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں : بوسہ چھونے سے ہے اور اس میں وضو ہے اور ” لمس “ جماع کے علاوہ ہے۔
(۶۰۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ بَالَوَیْہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : الْقُبْلَۃُ مِنَ اللَّمْسِ وَفِیہَا الْوُضُوئُ ، وَاللَّمْسُ مَا دُونَ الْجِمَاعِ۔

(ت) ہَکَذَا رَوَاہُ الثَّوْرِیُّ وَشُعْبَۃُ عَنِ الأَعْمَشِ۔ [صحیح لغیرہٖ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬০৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھونے سے وضو کرنے کا بیان

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَائَ } [المائدۃ : ٦] یا تم نے عورتوں کو چھوا ہو۔” اسم لمس “ جماع کے علاوہ بھی مستعمل ہے جیسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ماعز بن مالک سے فرمایا : تو نے شاید اس کا بوسا لیا ہو یا چھوا ہو اور اسی طرح بیع ملامسہ سے ممانعت۔ اس طرح سیدنا ابوہریرہ (رض) کی روایت کہ ہاتھوں کا زنا لمس ہے۔ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ کبھی کبھار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم تمام عورتوں کے پاس ایک ہی دن میں چکر لگاتے تھے، آپ ہمیں بوس و کنار کرتے جماع نہیں کرتے تھے۔
(٦٠٨) (الف) سالم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ آدمی کا اپنی بیوی کو بوسہ دینا اور اس کے جسم کو اپنے ہاتھ سے چھونا اور جو شخص اپنی بیوی کو بوسہ دے یا ہاتھ سے چھوئے تو اس پر وضو ہے۔

(ب) ابن بکیر کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ اس پر وضو واجب ہے۔

(ج) یہ قول سیدنا عمر، عبداللہ بن مسعود اور عبداللہ بن عمر (رض) کا ہے ابن عباس نے ان کی مخالفت کی ہے۔ انھوں نے کتاب اللہ میں مذکور ملامسہ کو جماع پر محمول کیا ہے اور ان سے بوسہ لینے سے وضو کے متعلق کوئی روایت نہیں۔
(۶۰۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ۔

وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ۔

عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : قُبْلَۃُ الرَّجُلِ امْرَأَتَہُ وَجَسُّہَا بِیَدِہِ مِنَ الْمُلاَمَسَۃِ ، فَمَنْ قَبَّلَ امْرَأَتَہُ أَوْ جَسَّہَا بِیَدِہِ فَعَلَیْہِ الْوُضُوئُ۔

لَفْظُ حَدِیثِ الشَّافِعِیِّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ ، وَفِی رِوَایَۃِ ابْنُ بُکَیْرٍ : فَقَدْ وَجَبَ عَلَیْہِ الْوُضُوئُ۔

(ق) فَہَذَا قَوْلُ عُمَرَ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ وَخَالَفَہُمُ ابْنُ عَبَّاسٍ فَحَمَلَ الْمُلاَمَسَۃَ الْمَذْکُورَۃَ فِی الْکِتَابِ الْعَزِیزِ عَلَی الْجِمَاعِ وَلَمْ یَرَ فِی الْقُبْلَۃِ وُضُوئً ا۔[صحیح۔ أخرجہ مالک ۹۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬০৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھونے سے وضو کرنے کا بیان

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَائَ } [المائدۃ : ٦] یا تم نے عورتوں کو چھوا ہو۔” اسم لمس “ جماع کے علاوہ بھی مستعمل ہے جیسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ماعز بن مالک سے فرمایا : تو نے شاید اس کا بوسا لیا ہو یا چھوا ہو اور اسی طرح بیع ملامسہ سے ممانعت۔ اس طرح سیدنا ابوہریرہ (رض) کی روایت کہ ہاتھوں کا زنا لمس ہے۔ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ کبھی کبھار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم تمام عورتوں کے پاس ایک ہی دن میں چکر لگاتے تھے، آپ ہمیں بوس و کنار کرتے جماع نہیں کرتے تھے۔
(٦٠٩) سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ ہم نے لمس (چھونے) کا ذکر کیا تو موالی میں سے بعض لوگوں نے کہا : یہ جماع نہیں ہے اور اہل عرب نے کہا : یہ جماع ہے۔ میں نے ابن عباس (رض) سے ذکر کیا تو انھوں نے فرمایا : تم کن کے ساتھ ہو ؟ میں نے کہا : موالی کے ساتھ تو انھوں نے کہا : موالی کی بات ٹھیک نہیں ہے۔ بیشک چھونا اور مباشرت کرنا جماع میں سے ہے، لیکن اللہ نے کنایہ ذکرکیاجی سے اس نے چاہا۔ ان کا قول ظاہری کتاب کے موافق ہونے میں زیادہ اولیٰ ہے۔
(۶۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ : تَذَاکَرْنَا اللَّمْسَ ، فَقَالَ أُنَاسٌ مِنَ الْمَوَالِی : لَیْسَ مِنَ الْجِمَاعِ۔ وَقَالَ أُنَاسٌ مِنَ الْعَرَبِ : ہِیَ مِنَ الْجِمَاعِ۔ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ : مَعَ أَیِّہِمْ کُنْتَ؟ قُلْتُ : مَعَ الْمَوَالِی۔ قَالَ : غُلِبَتِ الْمَوَالِی ، إِنَّ اللَّمْسَ وَالْمُبَاشَرَۃَ مِنَ الْجِمَاعِ ، وَلَکِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ یَکْنَی مَا شَائَ بِمَا شَائَ ، وَقَوْلُ مَنْ یُوَافِقُ قَوْلُہُ ظَاہِرَ الْکِتَابِ أَوْلَی۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬০৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھونے سے وضو کرنے کا بیان

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَائَ } [المائدۃ : ٦] یا تم نے عورتوں کو چھوا ہو۔” اسم لمس “ جماع کے علاوہ بھی مستعمل ہے جیسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ماعز بن مالک سے فرمایا : تو نے شاید اس کا بوسا لیا ہو یا چھوا ہو اور اسی طرح بیع ملامسہ سے ممانعت۔ اس طرح سیدنا ابوہریرہ (رض) کی روایت کہ ہاتھوں کا زنا لمس ہے۔ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ کبھی کبھار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم تمام عورتوں کے پاس ایک ہی دن میں چکر لگاتے تھے، آپ ہمیں بوس و کنار کرتے جماع نہیں کرتے تھے۔
(٦١٠) سیدنا معاذ بن جبل (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ایک شخص نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! آپ اس شخص کے متعلق کیا فرماتے ہیں جو ایسی عورت پر واقع ہوا جو اس کے لیے حلال نہیں ہے اور اس نے جماع کے سوا ہر کام کیا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اچھی طرح وضو کرے پھر کھڑا ہو اور نماز پڑھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کردی : { أَقِمِ الصَّلاَۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّیْلِ }[ھود : ١١٤] پوچھا گیا : یہ اس کے لیے خاص ہے یا تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں بلکہ یہ تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔
(۶۱۰) وَاحْتَجَّ بَعْضُ أَصْحَابِنَا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُوسَی وَیَحْیَی بْنُ الْمُغِیرَۃِ قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَیْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ : أَنَّہُ کَانَ قَاعِدًا عِنْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَجَائَہُ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا تَقُولُ فِی رَجُلٍ أَصَابَ مِنَ امْرَأَۃٍ لاَ تَحِلُّ لَہُ ، فَلَمْ یَدَعْ شَیْئًا یُصِیبُہُ الرَّجُلُ مِنَ امْرَأَتِہِ إِلاَّ وَقَدْ أَصَابَہُ مِنْہَا إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یُجَامِعْہَا۔ فَقَالَ : ((تَوَضَّأْ وُضُوئً ا حَسَنًا ثُمَّ قُمْ فَصْلِّ)) ۔

قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ ہَذِہِ الآیَۃُ {أَقِمِ الصَّلاَۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّیْلِ} [ھود: ۱۱۴] الآیَۃَ فَقَالَ : أَہِیَ لَہُ خَاصَّۃً أَمْ لِلْمُسْلِمِینَ عَامَّۃً۔ قَالَ : ((بَلْ ہِیَ لِلْمُسْلِمِینَ عَامَّۃً))۔

(ت) وَہَکَذَا رَوَاہُ زَائِدَۃُ بْنُ قُدَامَۃَ وَأَبُو عَوَانَۃَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ وَفِیہِ إِرْسَالٌ۔ (ج) عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی لَیْلَی لَمْ یُدْرِکْ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ۔ [صحیح۔ دون أمرہ بالوضوء ، اخرجہ الحاکم ۱/۲۲۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھونے سے وضو کرنے کا بیان

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَائَ } [المائدۃ : ٦] یا تم نے عورتوں کو چھوا ہو۔” اسم لمس “ جماع کے علاوہ بھی مستعمل ہے جیسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ماعز بن مالک سے فرمایا : تو نے شاید اس کا بوسا لیا ہو یا چھوا ہو اور اسی طرح بیع ملامسہ سے ممانعت۔ اس طرح سیدنا ابوہریرہ (رض) کی روایت کہ ہاتھوں کا زنا لمس ہے۔ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ کبھی کبھار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم تمام عورتوں کے پاس ایک ہی دن میں چکر لگاتے تھے، آپ ہمیں بوس و کنار کرتے جماع نہیں کرتے تھے۔
(٦١١) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ایک بیوی کو بوسہ دیا، پھر نماز کے لیے نکلے اور وضو نہیں کیا۔

(ب) سفیان ثوری اس روایت کو زیادہ جانتے ہیں، ان کا دعویٰ ہے کہ حبیب نے عروہ سے سماع نہیں کیا۔

(ج) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ وہ عورت نماز پڑھے گی اگرچہ خون کے قطرے چٹائی پر گر رہے ہوں۔

(د) امام ابوداؤد (رح) فرماتے ہیں کہ سفیان ثوری فرماتے ہیں : حبیب نے ہمیں صرف عروۃ مزنی سے روایت کیا ہے۔
(۶۱۱) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : زَیْدُ بْنُ أَبِی ہَاشِمٍ الْعَلَوِیُّ بِالْکُوفَۃِ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْعَبْسِیُّ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ حَبِیبِ بْنِ أَبِی ثَابِتٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَبَّلَ بَعْضَ نِسَائِہِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَی الصَّلاَۃِ وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔

(ج) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ قَالَ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ سَعِیدٍ وَذُکِرَ لَہُ حَدِیثُ الأَعْمَشِ عَنْ حَبِیبٍ عَنْ عُرْوَۃَ قَالَ : أَمَا إِنَّ سُفْیَانَ الثَّوْرِیَّ کَانَ أَعْلَمَ النَّاسِ بِہَذَا ، زَعَمَ أَنَّ حَبِیبًا لَمْ یَسْمَعْ مِنْ عُرْوَۃَ شَیْئًا۔

وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَخْبَرَنَا عَلِیٌّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیُّ قَالَ سَمِعْتُ یَحْیَی وَذُکِرَ عِنْدَہُ حَدِیثُ الأَعْمَشِ عَنْ حَبِیبٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ : تُصَلِّی وَإِنْ قَطَرَ عَلَی الْحَصِیرِ ، وَفِی الْقُبْلَۃِ۔ قَالَ یَحْیَی : احْکِ عَنِّی أَنَّہُمَا شِبْہُ لاَ شَیْئَ۔

وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَخْلَدٍ الطَّالْقَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَائَ أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ أَخْبَرَنَا أَصْحَابٌ لَنَا عَنْ عُرْوَۃَ الْمُزَنِیِّ عَنْ عَائِشَۃَ بِہَذَا الْحَدِیثِ۔

(ج) قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رُوِیَ عَنِ الثَّوْرِیِّ أَنَّہُ قَالَ : مَا حَدَّثَنَا حَبِیبٌ إِلاَّ عَنْ عُرْوَۃَ الْمُزَنِیِّ۔ یَعْنِی لَمْ یُحَدِّثْہُمْ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ بِشَیْئٍ ۔ قَالَ الشَّیْخُ فَعَادَ الْحَدِیثُ إِلَی رِوَایَۃِ عُرْوَۃَ الْمُزَنِیِّ وَہُوَ مَجْہُولٌ۔

[حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۷۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھونے سے وضو کرنے کا بیان

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : { أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَائَ } [المائدۃ : ٦] یا تم نے عورتوں کو چھوا ہو۔” اسم لمس “ جماع کے علاوہ بھی مستعمل ہے جیسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ماعز بن مالک سے فرمایا : تو نے شاید اس کا بوسا لیا ہو یا چھوا ہو اور اسی طرح بیع ملامسہ سے ممانعت۔ اس طرح سیدنا ابوہریرہ (رض) کی روایت کہ ہاتھوں کا زنا لمس ہے۔ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ کبھی کبھار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم تمام عورتوں کے پاس ایک ہی دن میں چکر لگاتے تھے، آپ ہمیں بوس و کنار کرتے جماع نہیں کرتے تھے۔
(٦١٢) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وضو کے بعد بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ پھر دوبارہ وضو نہیں کرتے تھے اور سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : پھر نماز پڑھتے تھے (یہ روایت مرسل ہے) ۔

(ب) یحییٰ بن معین نے ابو روق کو ضعیف قرار دیا ہے۔

(ج) امام دارقطنی (رح) فرماتے ہیں کہ ابراہیم کا سیدہ عائشہ (رض) اور حفصہ (رض) سے سماع ثابت نہیں ہے۔

(د) سیدہ عائشہ (رض) سے روزہ کی حالت میں بوسہ لینے والی روایت صحیح ہے۔ بعض لوگوں نے اس کو ترک وضو پر محمول کیا ہے۔
(۶۱۲) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی رَوْقٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ یُقَبِّلُ بَعْدَ الْوُضُوئِ ثُمَّ لاَ یُعِیدُ الْوُضُوئَ ، وَقَالَتْ : ثُمَّ یُصَلِّی۔ فَہَذَا مُرْسَلٌ۔

(ج) إِبْرَاہِیمُ التَّیْمِیُّ لَمْ یَسْمَعْ مِنْ عَائِشَۃَ قَالَہُ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ وَغَیْرُہُ۔

وَأَبُو رَوْقٍ لَیْسَ بِقَوِیٍّ ضَعَّفَہُ یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ وَغَیْرُہُ۔

(ت) وَرَوَاہُ أَبُو حَنِیفَۃَ عَنْ أَبِی رَوْقٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ حَفْصَۃَ۔ (ج) وَإِبْرَاہِیمُ لَمْ یَسْمَعْ مِنْ عَائِشَۃَ وَلاَ مِنْ حَفْصَۃَ قَالَہُ الدَّارَقُطْنِیُّ وَغَیْرُہُ۔

وَقَدْ رَوَیْنَا سَائِرَ مَا رُوِیَ فِی ہَذَا الْبَابِ وَبَیَّنَّا ضَعْفَہَا فِی الْخِلاَفِیَّاتِ۔

(ق) وَالْحَدِیثُ الصَّحِیحُ عَنْ عَائِشَۃَ فِی قُبْلَۃِ الصَّائِمِ فَحَمَلَہُ الضُّعَفَائُ مِنَ الرُّوَاۃِ عَلَی تَرْکِ الْوُضُوئِ مِنْہَا وَلَوْ صَحَّ إِسْنَادُہُ لَقُلْنَا بِہِ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی۔ [حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۱۴۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چھوٹی بچیوں اور محرم عورتوں کو چھونے کا حکم
(٦١٣) عمرو بن سلیم زرقی نے ابو قتادہ کو کہتے ہوئے سنا کہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ، ہمارے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امامہ بنت ابی العاص بن ربیع کو اٹھایا ہوا تھا۔ ان کی والدہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی زینب (رض) تھی اور وہ کم سن تھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں اپنے کندھوں پر اٹھایا ہوا تھا اور آپ نماز پڑھا رہے تھے۔ جب آپ رکوع کرتے تو اس کو زمین پر لٹا دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو اٹھالیتے، اسی طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پوری کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس بچی کے ساتھ ایسے ہی کرتے تھے۔
(۶۱۳) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مِلْحَانَ حَدَّثَنَا یَحْیَی حَدَّثَنَا اللَّیْثُ

(ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِی عُثْمَانَ الزَّاہِدُ إِمْلاَئً وَأَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَیْمٍ الزُّرَقِیِّ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا قَتَادَۃَ یَقُولُ : بَیْنَا نَحْنُ فِی الْمَسْجِدِ جُلُوسٌ خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَحْمِلُ أُمَامَۃَ بِنْتَ أَبِی الْعَاصِ بْنِ الرَّبِیعِ وَأُمُّہَا زَیْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَہِیَ صَبِیَّۃٌ یَحْمِلُہَا عَلَی عَاتِقِہِ فَصَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَہْیَ عَلَی عَاتِقِہِ یَضَعُہَا إِذَا رَکَعَ ، وَیُعِیدُہَا إِذَا قَامَ حَتَّی قَضَی صَلاَتَہُ ، یَفْعَلُ ذَلِکَ بِہَا۔ أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ کِلاَہُمَا عَنِ اللَّیْثِ بْنِ سَعْدٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۴۹۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس چیز کو چھوا گیا ہے
(٦١٤) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک رات میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گم پایا، میں نے آپ کو ہاتھ سے تلاش کیا تو میرے ہاتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قدموں پر لگے تو وہ زمین پر کھڑے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدے کی حالت میں تھے اور آپ یہ دعا پڑھ رہے تھے :( (اللَّہُمَّ أَعُوذُ بِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوبَتِکَ ، وَأَعُوذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْکَ لاَ أُحْصِی ثَنَائً عَلَیْکَ أَنْتَ کَمَا أَثْنَیْتَ عَلَی نَفْسِکَ ) ) ۔
(۶۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عُثْمَانَ : سَعِیدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ وَأَبُو صَادَقٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی الْفَوَارِسِ الْعَطَّارُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : فَقَدْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- ذَاتَ لَیْلَۃً فَالْتَمَسْتُہُ بِیَدِی ، فَوَقَعَتْ یَدِی عَلَی قَدَمَیْہِ وَہُمَا مَنْصُوبَتَانِ وَہُوَ سَاجِدٌ وَہُوَ یَقُولُ : ((اللَّہُمَّ أَعُوذُ بِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوبَتِکَ ، وَأَعُوذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْکَ لاَ أُحْصِی ثَنَائً عَلَیْکَ أَنْتَ کَمَا أَثْنَیْتَ عَلَی نَفْسِکَ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ دُونَ قَوْلِہِ : وَہُوَ سَاجِدٌ۔ (ت) وَرَوَاہُ وُہَیْبٌ وَمُعْتَمِرٌ وَابْنُ نُمَیْرٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ دُونَ ذِکْرِ أَبِی ہُرَیْرَۃَ فِی إِسْنَادِہِ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۴۸۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا اپنی بیوی کو بغیر شہوت کے چوکا مارنا یا حائل چیز کے پیچھے چوکا مارنا
(٦١٥) (الف) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : برا ہے جو تم نے ہمیں کتے اور گدھے کے ساتھ ملا دیا ہے، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اور میں آپ کے اور قبلہ کی درمیان لیٹی ہوتی تھی، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدے کا ارادہ کرتے تو میرے پاؤں کو چوکا مارتے، میں انھیں سمیٹ لیتی۔

(ب) مقدمی کی حدیث میں اس طرح ہے : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے لیٹی ہوئی ہوتی تھی جب آپ تشہد کا ارادہ کرتے میرے پاؤں کو چوکا مارتے اور اپنے پاؤں سمیٹ لیتی۔

(ج) عبد الرحمن بن قاسم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وتر پڑھنے کا ارادہ کرتے تو میرے پاؤں کو چھوتے۔

(د) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدہ کرتے تو مجھے چوکا مارتے اور میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی۔

(ھ) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وتر پڑھنے کا ارادہ کرتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے بیدار کردیتے اور میں بھی وتر پڑھتی۔
(۶۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَۃَ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ بِنْدَارٍ الزَّاہِدُ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَیْرٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : بِئْسَمَا عَدَلْتُمُونَا بِالْکَلْبِ وَالْحِمَارِ لَقَدْ رَأَیْتُنِی وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی وَأَنَا مُضْطَجِعَۃٌ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ یَسْجُدَ غَمَزَ رِجْلَیَّ فَقَبَضْتُہُمَا۔

لَفْظُ حَدِیثِ عَمْرٍو

وَفِی حَدِیثِ الْمُقَدَّمِیِّ : لَقَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یُصَلِّی وَأَنَا مُعْتَرِضَۃٌ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ یَسْجُدَ غَمَزَنِی فَقَبَضْتُ رِجْلَیَّ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَلِیٍّ۔

(ت) وَفِی رِوَایَۃِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِیہِ : حَتَّی إِذَا أَرَادَ أَنْ یُوتِرَ مَسَّنِی بِرِجْلِہِ۔

وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ : فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِی فَقَبَضْتُ رِجْلَیَّ۔

وَفِی رِوَایَۃِ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ : فَإِذَا أَرَادَ أَنْ یُوتِرَ أَیْقَظَنِی فَأَوْتَرَتْ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۴۸۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرمگاہ کو چھونے سے وضو کرنے کا بیان
(٦١٦) سیدنا عروہ بن زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ میں مروان بن حکم کے پاس گیا، ہم نے پوچھا : کس چیز سے وضو واجب ہوتا ہے ؟ مروان نے کہا : شرمگاہ کو چھونے سے ۔ عروہ کہتے ہیں : میں یہ نہیں جاننا۔ مروان کہتے ہیں : مجھے بسرہ بنت صفوان نے خبر دی کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ جب کوئی شرمگاہ کو چھوئے تو وضو کرے۔ صحیح أخرجہ مالک [٨٩]
(۶۱۶) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَنَّہُ سَمِعَ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ یَقُولُ : دَخَلْتُ عَلَی مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ فَتَذَاکَرْنَا مَا یَکُونُ مِنْہُ الْوُضُوئُ ، فَقَالَ مَرْوَانُ : وَمِنْ مَسِّ الذَّکَرِ الْوُضُوئُ ۔ فَقَالَ عُرْوَۃُ : مَا عَلِمْتُ ذَلِکَ۔ فَقَالَ مَرْوَانُ أَخْبَرَتْنِی بُسْرَۃُ بِنْتُ صَفْوَانَ أَنَّہَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((إِذَا مَسَّ أَحَدُکُمْ ذَکَرَہُ فَلْیَتَوَضَّأْ))۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرمگاہ کو چھونے سے وضو کرنے کا بیان
(٦١٧) مالک نے اسی طرح نقل کیا ہے۔
(۶۱۷) وَرَوَاہُ یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ عَنْ مَالِکٍ وَزَادَ : فَلْیَتَوَضَّأْ وُضُوئَہُ لِلصَّلاَۃِ۔

أَخْبَرَنَاہُ أَبُو أَحْمَدُ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ فَذَکَرَہُ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابن حبان ۱۱۱۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرمگاہ کو چھونے سے وضو کرنے کا بیان
(٦١٨) بسرہ بنت صفوان سے روایت ہے کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب کوئی اپنی شرمگاہ کو چھوئے تو وہ نماز نہ پڑھے جب تک وضو نہ کرلے۔ “
(۶۱۸) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَغَیْرُہُمَا قَالُوا أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ سَعِیدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ بُسْرَۃَ بِنْتِ صَفْوَانَ قَالَ : وَقَدْ کَانَتْ صَحِبَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : ((إِذَا مَسَّ أَحَدُکُمْ ذَکَرَہُ فَلاَ یُصَلِّیَنَّ حَتَّی یَتَوَضَّأَ))۔ (ت) وَہَکَذَا رَوَاہُ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ بُسْرَۃَ ، وَذَکَرَ سَمَاعَ ہِشَامٍ عَنْ أَبِیہِ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۴۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرمگاہ کو چھونے سے وضو کرنے کا بیان
(٦١٩) مروان بن حکم نے اپنے دور حکومت میں کہا کہ شرمگاہ کو چھونے سے وضو کیا جائے جب کسی کا ہاتھ لگ جائے۔ میں نے اس کا انکار کیا اور کہا : اس پر وضو نہیں ہے جس نے اس کو چھوا۔ مروان کہتے ہیں : مجھ کو بسرہ بنت صفوان نے خبر دی۔ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا آپ کے پاس تذکرہ کیا گیا کہ کس سے وضو کیا جائے گا ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شرمگاہ کو چھونے سے وضو کیا جائے گا ۔ عروہ کہتے ہیں : میں ہمیشہ مروان سے جھگڑا کرتا رہا جتنی دیر مروان نے اپنے ایک سپاہی کو بسرہ کی طرف بھیجا تاکہ ان سے پوچھے کہ وہ اس بارے میں کیا فرماتی ہیں۔ بسرۃ نے اس کی طرف وہی پیغام بھیجا جو مجھ سے مروان بیان کرتا تھا۔
(۶۱۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی : عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنُ الْہَیْثَمِ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبُ بْنُ أَبِی حَمْزَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ أَنَّہُ سَمِعَ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ یَقُولُ : ذَکَرَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَکَمِ فِی إِمَارَتِہِ عَلَی الْمَدِینَۃِ : أَنَّہُ یُتَوَضَّأُ مِنْ مَسِّ الذَّکَرِ إِذَا أَفْضَی إِلَیْہِ الرَّجُلُ بِیَدِہِ ، فَأَنْکَرْتُ ذَلِکَ وَقُلْتُ : لاَ وُضُوئَ عَلَی مَنْ مَسَّہُ۔ فَقَالَ مَرْوَانُ أَخْبَرَتْنِی بُسْرَۃُ بِنْتُ صَفْوَانَ أَنَّہَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَذْکُرُ مَا یُتَوَضَّأُ مِنْہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : وَیُتَوَضَّأُ مِنْ مَسِّ الذَّکَرِ ۔ فَقَالَ عُرْوَۃُ : فَلَمْ أَزَلْ أُمَارِی مَرْوَانَ حَتَّی دَعَا رَجُلاً مِنْ حَرَسِہِ فَأَرْسَلَہُ إِلَی بُسْرَۃَ یَسْأَلُہَا عَمَّا حَدَّثَتْ مِنْ ذَلِکَ ، فَأَرْسَلَتْ إِلَیْہِ بُسْرَۃُ بِمِثْلِ الَّذِی حَدَّثَنِی عَنْہَا مَرْوَانُ۔

وَرَوَاہُ ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ مَرْوَانَ عَنْ بُسْرَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ النسائی ۱۶۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرمگاہ کو چھونے سے وضو کرنے کا بیان
(٦٢٠) بسرہ بنت صفوان (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب کوئی شخص اپنی شرمگاہ کو چھوئے تو وہ نماز نہ پڑھے جب تک وضو نہ کرلے۔ “
(۶۲۰) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو طَاہِرٍ الإِمَامُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ مَرْوَانَ عَنْ بُسْرَۃَ بِنْتِ صَفْوَانَ وَکَانَتْ صَحِبَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : ((إِذَا مَسَّ أَحَدُکُمْ ذَکَرَہُ فَلاَ یُصَلِّیَنَّ حَتَّی یَتَوَضَّأَ))۔

(ت) وَرَوَاہُ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ بُسْرَۃَ وَذَکَرَ سَمَاعَ ہِشَامٍ مِنْ أَبِیہِ۔ وَأَمَّا سَمَاعُ أَبِیہِ مِنْ بُسْرَۃَ وَمُشَافَہَتُہَا إِیَّاہُ بِالْحَدِیثِ بَعْدَ سَمَاعِہِ مِنْ مَرْوَانَ فَفِیمَا۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬২০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرمگاہ کو چھونے سے وضو کرنے کا بیان
(٦٢١) بسرہ بنت صفوان (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص اپنی شرمگاہ کو چھوئے تو وہ وضو کرے۔ عروۃ کہتے ہیں : میں نے بسرہ (رض) سے سوال کیا تو انھوں نے اس کی تصدیق کی۔
(۶۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ : حَسَّانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِیہُ فِی آخَرِینَ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی فُدَیْکٍ حَدَّثَنَا رَبِیعَۃُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ عَنْ بُسْرَۃَ بِنْتِ صَفْوَانَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((مَنْ مَسَّ ذَکَرَہُ فَلْیَتَوَضَّأْ))۔ قَالَ عُرْوَۃُ : فَسَأَلْتُ بُسْرَۃَ فَصَدَّقَتْہُ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۸۱]
tahqiq

তাহকীক: