আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬৭৩ টি

হাদীস নং: ৬৪১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہتھیلی کے شرمگاہ کو لگنے سے وضو نہ کرنے کا بیان
(٦٤٢) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ جس شخص کا ہاتھ اپنی شرم گاہ کو لگ جائے تو وہ وضو کرے۔ یہ روایت موقوف ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ جمیل ابو وہب سے اور وہ سیدنا ابوہریرہ (رض) سے نقل کرتے ہیں۔
(۶۴۲) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْفَارِسِیُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَصْبَہَانِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنِی ابْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ أَبِی وَہْبٍ سَمِعَ جَمِیلَ بْنَ بَشِیرٍ۔

عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ : مَنْ أَفْضَی بِیَدِہِ إِلَی فَرْجِہِ فَلْیَتَوَضَّأْ۔

ہَکَذَا مَوْقُوفٌ وَقِیلَ عَنْ جَمِیلٍ عَنْ أَبِی وَہْبٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ۔

[ضعیف۔ أخرجہ البخاری التاریخ الکبیر ۲/۲۱۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہتھیلی کے شرمگاہ کو لگنے سے وضو نہ کرنے کا بیان
(٦٤٣) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ جو شخص اپنی شرمگاہ کو چھوئے تو وہ وضو کرے اور جس نے کپڑے کے اوپر سے چھوا اس پر وضو نہیں ہے۔
(۶۴۳) أَخْبَرَنَاہُ أَبُوعَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُوسَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِی وَہْبٍ عَنْ جَمِیلٍ الْعِجْلِیِّ عَنْ أَبِی وَہْبٍ الْخُزَاعِیِّ

عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : مَنْ مَسَّ فَرْجَہُ فَلْیَتَوَضَّأْ ، وَمَنْ مَسَّہُ یَعْنِی مِنْ وَرَائِ الثَّوْبِ فَلَیْسَ عَلَیْہِ وُضُوئٌ ۔

[ضعیف۔ أخرجہ ابو نعیم فی الحلیۃ ۹/۴۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہتھیلی کے شرمگاہ کو لگنے سے وضو نہ کرنے کا بیان
(٦٤٤) (الف) محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب کسی شخص کا ہاتھ شرمگاہ کو لگ جائے تو وہ وضو کرلے۔ “

(ب) دوسری روایت میں سیدنا جابر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں۔

(ج) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے بہت سے حفاظ سے سنا، لیکن انھوں نے سیدنا جابر (رض) کا ذکر نہیں کیا۔
(۶۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو َعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نَافِعٍ وَابْنُ أَبِی فُدَیْکٍ عَنِ ابْنِ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا أَفْضَی أَحَدُکُمْ بِیَدِہِ إِلَی ذَکَرِہِ فَلْیَتَوَضَّأْ))۔

وَزَادَ ابْنُ نَافِعٍ فَقَالَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ تَعَالَی وَسَمِعْتُ غَیْرَ وَاحِدٍ مِنَ الْحُفَّاظِ یَرْوِیہِ لاَ یَذْکُرُونَ فِیہِ جَابِرًا۔ وَزَادَ أَبُو سَعِیدٍ فِی حَدِیثِہِ

قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَالإِفْضَائُ بِالْیَدِ إِنَّمَا ہُوَ بِبَطْنِہَا ، کَمَا یُقَالُ أَفْضَی بِیَدِہِ مُبَایِعًا ، وَأَفْضَی بِیَدِہِ إِلَی الأَرْضِ سَاجِدًا وَإِلَی رُکْبَتَیْہِ رَاکِعًا۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ الشافعی ۳۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہتھیلی کے شرمگاہ کو لگنے سے وضو نہ کرنے کا بیان
(٦٤٥) سیدنا طلق بن علی (رض) فرماتے ہیں کہ ہم وفد کی شکل میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے، ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیعت کی اور آپ کے ساتھ نماز پڑھی، ایک دیہاتی شخص آیا ۔ اس نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! جو شخص وضو کرنے کے بعد اپنی شرمگاہ کو چھو لیتا ہے اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” وہ تو اس کے جسم کا ایک حصہ یا ٹکڑا ہے۔ “ (ب) شیخ کہتے ہیں کہ محمد بن جابر یمامی اور ایوب بن عتبہ قیس بن طلق سے روایت کرتے ہیں اور دونوں ضعیف ہیں۔
(۶۴۵) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا مُلاَزِمُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بَدْرٍ عَنْ قَیْسِ بْنِ طَلْقٍ عَنْ أَبِیہِ طَلْقِ بْنِ عَلِیٍّ قَالَ : خَرَجْنَا إِلَی نَبِیِّ اللَّہِ -ﷺ- وَفْدًا حَتَّی قَدِمْنَا عَلَیْہِ فَبَایَعْنَاہُ وَصَلَّیْنَا مَعَہُ ، فَجَائَ رَجُلٌ کَأَنَّہُ بَدَوِیٌّ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا تَرَی فِی مَسِّ الرَّجُلِ ذَکَرَہُ بَعْدَ مَا یَتَوَضَّأُ؟ فَقَالَ : ((وَہَلْ ہُوَ إِلاَّ بَضْعَۃٌ أَوْ مُضْغَۃٌ مِنْکَ))۔

فَہَذَا حَدِیثٌ رَوَاہُ مُلاَزِمُ بْنُ عَمْرٍو ہَکَذَا۔

قَالَ أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصِّبْغِیُّ : مُلاَزِمٌ فِیہِ نَظَرٌ۔

قَالَ الشَّیْخُ : وَرَوَاہُ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ الْیَمَامِیُّ وَأَیُّوبُ بْنُ عُتْبَۃَ عَنْ قَیْسِ بْنِ طَلْقٍ۔ وَکِلاَہُمَا ضَعِیفٌ۔

وَرَوَاہُ عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ قَیْسٍ : أَنَّ طَلْقًا سَأَلَ النَّبِیَّ -ﷺ-۔ فَأَرْسَلَہُ۔

وَعِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ أَمْثَلُ مَنْ رَوَاہُ عَنْ قَیْسٍ۔

وَعِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ قَدِ اخْتَلَفُوا فِی تَعْدِیلِہِ ، غَمَزَہُ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَضَعَّفَہُ الْبُخَارِیُّ جِدًّا ، وَأَمَّا قَیْسُ بْنُ طَلْقٍ فَقَدْ رَوَی الزَّعْفَرَانِیُّ عَنِ الشَّافِعِیِّ أَنَّہُ قَالَ : سَأَلْنَا عَنْ قَیْسٍ فَلَمْ نَجِدْ مَنْ یَعْرِفُہُ بِمَا یَکُونُ لَنَا قَبُولَ خَبَرِہِ۔

وَقَدْ عَارَضَہُ مَنْ وَصَفْنَا ثِقَتَہُ وَرَجَاحَتَہُ فِی الْحَدِیثِ وَثَبَتِہِ۔

وَفِیمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ النَّقَّاشُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی الْقَاضِی السَّرَخْسِیُّ حَدَّثَنَا رَجَائُ بْنُ مُرَجَّی الْحَافِظُ فِی قِصَّۃٍ ذَکَرَہَا قَالَ فَقَالَ یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ : قَدْ أَکْثَرَ النَّاسُ فِی قَیْسِ بْنِ طَلْقٍ وَلاَ یُحْتَجُّ بِحَدِیثِہِ۔

وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ قَالَ قَالَ ابْنُ أَبِی حَاتِمٍ سَأَلْتُ أَبِی وَأَبَا زُرْعَۃَ عَنْ حَدِیثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ ہَذَا فَقَالاَ : قَیْسُ بْنُ طَلْقٍ لَیْسَ مِمَّنْ تَقُومُ بِہِ حَجَّۃٌ۔ وَوَہَّنَاہُ وَلَمْ یُثَبِّتَاہُ۔

ثُمَّ إِنَّہُ کَانَ إِنْ صَحَّ فِی ابْتَدَائِ الْہِجْرَۃِ حِینَ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَبْنِی مَسْجِدَہُ۔ وَسَمَاعُ أَبِی ہُرَیْرَۃَ وَغَیْرِہِ مِمَّنْ رُوِّینَا عَنْہُ فِی ذَلِکَ کَانَ بَعْدَہُ ، وَہُو فِیمَا۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۱۸۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہتھیلی کے شرمگاہ کو لگنے سے وضو نہ کرنے کا بیان
(٦٤٦) سیدنا طلق بن علی (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور آپ مسجد بنا رہے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یمامی ! تم مٹی کو ملاؤ، یہ کام تم زیادہ جانتے ہو۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا یا کسی شخص نے پوچھا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کیا خیال ہے اس شخص کے بارے میں جو وضو کرتا ہے پھر اپنی شرمگاہ کو چھوتا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” وہ تیرے بدن ہی کا حصہ ہے۔ “

پھر ہمارے بعض اصحاب نے اس کو اپنی ہتھیلی کے ظاہری حصے کے چھونے کو محمول کیا ہے۔
(۶۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ الْمِہْرَجِانِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ حَدَّثَنِی قَیْسُ بْنُ طَلْقٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : قَدِمْتُ عَلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَہُوَ یَبْنِی الْمَسْجِدَ فَقَالَ: ((اخْلِطِ الطِّینَ فَإِنَّکَ أَعْلَمُ بِخَلْطِہِ یَا یَمَامِیُّ))۔ فَسَأَلْتُہُ أَوْ سَأَلَہُ رَجُلٌ فَقَالَ : أَرَأَیْتَ الرَّجُلَ یَتَوَضَّأُ ثُمَّ یَمَسُّ ذَکَرَہُ؟ فَقَالَ : ((إِنَّمَا ہُوَ مِنْکَ))۔

ثُمَّ قَدْ حَمَلَہُ بَعْضُ أَصْحَابِنَا عَلَی مَسَّہِ إِیَّاہُ بِظَہْرِ کَفَّہِ۔ فَفِیمَا۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہتھیلی کے شرمگاہ کو لگنے سے وضو نہ کرنے کا بیان
(٦٤٧) سیدنا طلق بن علی (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا یا کسی شخص نے سوال کیا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا، اس دوران میں اپنی ران پر خارش کرنا شروع ہوا تو میرا ہاتھ میری شرمگاہ کو لگ گیا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ تیرا ہی حصہ ہے۔ (ب) اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ اپنی ران پر خارش کرتے ہوئے اس کا ہاتھ شرم گاہ پر پڑگیا۔
(۶۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ قَالَ حَدَّثَنِی شَیْخٌ لَنَا مِنْ أَہْلِ الْیَمَامَۃِ یُقَالُ لَہُ قَیْسُ بْنُ طَلْقٍ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّہُ سَأَلَ النَّبِیَّ -ﷺ- أَوْ سَمِعَ رَجُلاً یَسْأَلُہُ قَالَ : بَیْنَمَا أَنَا أَصَلَّی فَذَہَبْتُ أَحُکُّ فَخِذِی فَأَصَابَتْ یَدِی ذَکَرِی۔ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((إِنَّمَا ہُوَ مِنْکَ))۔

وَالظَّاہِرُ مِنْ حَالِ مَنْ یَحُکُّ فَخِذَہُ فَأَصَابَتْ یَدُہُ ذَکَرَہُ أَنَّہُ إِنَّمَا یُصِیبُہُ بِظَہْرِ کَفِّہِ ، وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

[حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ ابن ماجہ ۴۸۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہتھیلی کے شرمگاہ کو لگنے سے وضو نہ کرنے کا بیان
(٦٤٨) (الف) محدث رجاء بن مرجی فرماتے ہیں کہ ہم احمد بن حنبل، علی بن مدینی اور یحییٰ بن معین مسجد خیف میں جمع ہوئے، وہاں مسِ ذکر پر بحث و مباحثہ ہوا (کہ اس پر وضو ہے یا نہیں) تو یحییٰ بن معین نے کہا : اس سے وضو ہے۔ علی بن مدینی نے کو فیوں کے قول کی تقلید کی۔ ابن معین کی دلیل سیدہ بسرہ بنت صفوان (رض) کی حدیث ہے اور علی بن مدینی (رح) کی دلیل سیدنا طلق بن قیس کی روایت ہے اور انھوں نے یحییٰ بن معین سے کہا کہ آپ بسرہ بنت مروان (رض) اور مروان بن حکم کی حدیث کو کیسے قبول کریں گے جبکہ مروان نے تو ایک سپاہی بھیجا تھا تو مروان کی طرف سیدہ بسرہ (رض) نے جواب بھیجا تو یحییٰ بن معین نے کہا کہ مروان نے اس پر بس نہیں کی وہ سیدہ بسرہ (رض) کے پاس آئے اور ان سے حدیث سنی، پھر یحییٰ بن معین نے کہا : اکثر لوگ قیس بن طلق والی روایت پر ہیں اور وہ حدیث قابل حجت نہیں۔

(ب) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ شرمگاہ کو چھونے سے وضو کیا جائے گا۔ (ج) سیدنا علی (رض) کہتے ہیں کہ ابن مسعود (رض) فرماتے تھے : اس سے وضو نہیں ہے وہ تو تیرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے۔ یحییٰ کہتے ہیں کہ پھر حدیث کس سے ہے ؟ تو انھوں نے کہا : سیدنا عبداللہ (رض) سے ہی۔ (د) امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ عمارکہتے ہیں : مجھے کوئی پروا نہیں کہ میں چھوؤں یا نہ چھوؤں۔
(۶۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْجَرَّاحِیُّ الْعَدْلُ الْحَافِظُ بِمَرْوٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی الْقَاضِی السَّرَخْسِیُّ حَدَّثَنَا رَجَائُ بْنُ مُرَجَّی الْحَافِظُ قَالَ : اجْتَمَعْنَا فِی مَسْجِدِ الْخَیْفِ أَنَا وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَعَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیُّ وَیَحْیَی بْنُ مَعِینٍ ، فَتَنَاظَرُوا فِی مَسِّ الذَّکَرِ فَقَالَ یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ : یُتَوَضَّأُ مِنْہُ۔ وَتَقَلَّدَ عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیُّ قَوْلَ الْکُوفِیِّینَ وَقَالَ بِہِ۔

فَاحْتَجَّ ابْنُ مَعِینٍ بِحَدِیثِ بُسْرَۃَ بِنْتِ صَفْوَانَ وَاحْتَجَّ عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیُّ بِحَدِیثِ قَیْسِ بْنِ طَلْقٍ ، وَقَالَ لِیَحْیَی: کَیْفَ تَتَقَلَّدُ إِسْنَادَ بُسْرَۃَ وَمَرْوَانُ بْنُ الْحَکَمِ أَرْسَلَ شُرَطِیًّا حَتَّی رَدَّ جَوَابَہَا إِلَیْہِ؟ فَقَالَ یَحْیَی: ثُمَّ لَمْ یُقْنِعْ ذَلِکَ عُرْوَۃَ حَتَّی أَتَی بُسْرَۃَ فَسَأَلَہَا وَشَافَہَتْہُ بِالْحَدِیثِ۔ ثُمَّ قَالَ یَحْیَی : وَلَقَدْ أَکْثَرَ النَّاسُ فِی قَیْسِ بْنِ طَلْقٍ وَأَنَّہُ لاَ یُحْتَجُّ بِحَدِیثِہِ۔

فَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ : کِلاَ الأَمْرَیْنِ عَلَی مَا قُلْتُمَا۔ فَقَالَ یَحْیَی : مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : یُتَوَضَّأُ مِنْ مَسِّ الذَّکَرِ۔

فَقَالَ عَلِیٌّ : کَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ یَقُولُ لاَ یُتَوَضَّأُ مِنْہُ ، وَإِنَّمَا ہُوَ بَضْعَۃٌ مِنْ جَسَدِکَ۔ فَقَالَ یَحْیَی : ہَذَا عَمَّنْ؟ فَقَالَ : عَنْ سُفْیَانَ عَنْ أَبِی قَیْسٍ عَنْ ہُزَیْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ ، وَإِذَا اجْتَمَعَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَابْنُ عُمَرَ وَاخْتَلَفَا فَابْنُ مَسْعُودٍ أَوْلَی أَنْ یُتَّبَعَ۔

فَقَالَ لَہُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ : نَعَمْ وَلَکِنْ أَبُو قَیْسٍ الأَوْدِیُّ لاَ یُحْتَجُّ بِحَدِیثِہِ۔ فَقَالَ عَلِیٌّ حَدَّثَنِی أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عُمَیْرِ بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عَمَّارٍ قَالَ : مَا أُبَالِی مَسِسْتُہُ أَوْ أَنْفِی۔ فَقَالَ یَحْیَی : بَیْنَ عُمَیْرِ بْنِ سَعِیدٍ وَعَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ مَفَازَۃٌ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الحاکم ۱/۲۳۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہتھیلی کے شرمگاہ کو لگنے سے وضو نہ کرنے کا بیان
(٦٤٩) عبداللہ بن یحییٰ قاضی سرخسی نے اسی سند سے اس حدیث کے ہم معنی روایت نقل کی ہے۔ (ب) امام احمد (رح) فرماتے ہیں کہ ہمارے لیے سید ناعمار (رض) اور ابن عمر (رض) دونوں صحابی رسول ہیں، جو چاہے عمار (رض) کی روایت کو قبول کرلے اور جو چاہے ابن عمر (رض) کی روایت پر عمل کرلے۔

(ج) شیخ کہتے ہیں : ہمارے اصحاب علی بن مدینی سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے حدیث بسرہ (رض) اور عروہ کے سماع کے متعلق کچھ کہا۔ جیسے یحییٰ بن معین نے کہا ہے گویا وہ یحییٰ بن معین اور حدیث بسرہ (رض) پر عمل پیرا ہیں۔
(۶۴۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ النَّقَّاشُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی الْقَاضِی السَّرَخْسِیُّ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ وَبَعْضِ مَعْنَاہُ۔

وَقَالَ فِی آخِرِہِ فِی حَدِیثِ عُمَیْرِ بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عَمَّارٍ فَقَالَ أَحْمَدُ : عَمَّارُ وَابْنُ عُمَرَ اسْتَوَیَا ، فَمَنْ شَائَ أَخَذَ بِہَذَا ، وَمَنْ شَائَ أَخَذَ بِہَذَا۔

قَالَ الشَّیْخُ : قَدْ رُوِّینَا عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ أَنَّہُ قَالَ فِی حَدِیثِ بُسْرَۃَ وَسَمَاعُ عُرْوَۃَ مِنْہَا کَمَا قَالَ یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ۔ وَکَأَنَّہُ رَجَعَ فِی ذَلِکَ إِلَی قَوْلِ یَحْیَی وَتَقْلِیدِ حَدِیثِ بُسْرَۃَ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الحاکم ۱/۲۳۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہتھیلی کے شرمگاہ کو لگنے سے وضو نہ کرنے کا بیان
(٦٥٠) (الف) سفیان اور ابن جریج اکٹھے ہوئے تو انھوں نے مس ذکر پر بحث و مباحثہ کیا۔ ابن جریج کہتے ہیں : اس سے وضو کیا جائے گا اور سفیان کہتے ہیں : وضو نہیں کیا جائے گا۔ سفیان کہتے ہیں : مجھے بتاؤ اگر کوئی آدمی اپنے ہاتھ سے منی پکڑ لیتا ہے تو اس پر کیا ہے ؟

ابن جریج کہتے ہیں کہ اپنا ہاتھ دھوئے گا تو انھوں نے پوچھا : کیا منی زیادہ بڑی ہے یا شرمگاہ کو چھونا بڑا ہے ؟ تو ابن جریج نے کہا : یہ بات شیطان نے تمہارے دل میں ڈالی ہے۔

(ب) شیخ کہتے ہیں کہ ابن جریج کی مراد یہ ہے کہ سنت کا تقابل قیاس سے نہیں کیا جائے گا۔

(ج) امام شافعی (رح) نے زعفرانی والی روایت میں ذکر کیا ہے کہ میں نے صحابہ سے یہ نقل کیا ہے کہ اس میں وضو نہیں ہے یہ اس کی اپنی رائے ہے اور جس نے وضو واجب قرار دیا تو ان کی اتباع کرتے ہوئے واجب قرار دیا ہے۔
(۶۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ قَالَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِیمِ قَالَ عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ : اجْتَمَعَ سُفْیَانُ وَابْنُ جُرَیْجٍ فَتَذَاکَرَا مَسَّ الذَّکَرِ ، فَقَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ : یُتَوَضَّأُ مِنْہُ۔

وَقَالَ سُفْیَانُ : لاَ یُتَوَضَّأُ مِنْہُ۔ فَقَالَ سُفْیَانُ : أَرَأَیْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلاً أَمْسَکَ بِیَدِہِ مَنِیًّا مَا کَانَ عَلَیْہِ؟ فَقَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ : یَغْسِلُ یَدَہُ۔ قَالَ : فَأَیُّہُمَا أَکْبَرُ الْمَنِیُّ أَوْ مَسُّ الذَّکَرِ؟ فَقَالَ : مَا أَلْقَاہَا عَلَی لِسَانِکَ إِلاَّ الشَّیْطَانُ۔

قَالَ الشَّیْخُ : وَإِنَّمَا أَرَادَ ابْنُ جُرَیْجٍ أَنَّ السُّنَّۃَ لاَ تُعَارَضُ بِالْقِیَاسِ۔

وَذَکَرَ الشَّافِعِیُّ فِی رِوَایَۃِ الزَّعْفَرَانِیِّ عَنْہُ أَنَّ الَّذِی قَالَ مِنَ الصَّحَابَۃِ لاَ وُضُوئَ فِیہِ فَإِنَّمَا قَالَہُ بِالرَّأْیِ وَمَنْ أَوْجَبَ الْوُضُوئَ فِیہِ فَلاَ یُوجِبُہُ إِلاَّ بِالاِتِّبَاعِ۔ وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی۔ [صحیح۔ أخرجہ عبد الرزاق ۴۳۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہتھیلی کے شرمگاہ کو لگنے سے وضو نہ کرنے کا بیان
(٦٥١) ابو لیلیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے ، سیدنا حسن (رض) آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگے بڑھے ۔ ان کی رال ٹپک رہی تھی۔ آپ نے اپنی قمیض سے صاف کیا اور ان کی پیشانی کے درمیان بوسہ دیا۔
(۶۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی لَیْلَی عَنْ عِیسَی عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی عَنْ أَبِی لَیْلَی قَالَ : کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَجَائَ الْحَسَنُ فَأَقْبَلَ یَتَمَرَّغُ عَلَیْہِ ، فَرَفَعَ عَنْ قَمِیصِہِ وَقَبَّلَ زَبِیبَتَہُ۔

فَہَذَا إِسْنَادٌ غَیْرُ قَوِیٍّ وَلَیْسَ فِیہِ أَنَّہُ مَسَّہُ بِیَدِہِ ثُمَّ صَلَّی وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خصیتین کو چھونے کا بیان
(٦٥٢) سیدہ بسرہ بنت صفوان (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : ” جو شخص اپنی شرمگاہ یا خصیتین یا میل جمع ہونے کی جگہ کو چھوئے تو وہ وضو کرے۔ “

(ب) طوسی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : یا اپنی بغلوں کو چھوئے تو وہ نماز جیسا وضو کرے۔
(۶۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ الطُّوسِیُّ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَاضِرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ صَاحِبُ أَبِی صَخْرَۃَ أَخْبَرَنَا عَلِیٌّ یَعْنِی ابْنَ مُسْلِمٍ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْوَکِیلُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ بُسْرَۃَ بِنْتِ صَفْوَانَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((مَنْ مَسَّ ذَکَرَہُ أَوْ أُنْثَیَیْہِ أَوْ رُفْغَہُ فَلْیَتَوَضَّأْ))۔

وَفِی رِوَایَۃِ الطُّوسِیِّ : أَوْ رُفْغَیْہِ فَلْیَتَوَضَّأْ وُضُوئَہُ لِلصَّلاَۃِ ۔

قَالَ عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ : کَذَا رَوَاہُ عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ ہِشَامٍ وَوَہِمَ فِی ذِکْرِہِ الأُنْثَیَیْنِ وَالرُّفْغِ وَإِدْرَاجِہِ ذَلِکَ فِی حَدِیثِ بُسْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- وَالْمَحْفُوظُ أَنَّ ذَلِکَ مِنْ قَوْلِ عُرْوَۃَ غَیْرَ مَرْفُوعٍ۔

کَذَلِکَ رَوَاہُ الثِّقَاتُ عَنْ ہِشَامٍ مِنْہُمْ أَیُّوبُ السَّخْتِیَانِیُّ وَحَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ وَغَیْرُہُمَا۔

[ضعیف۔ أخرجہ الحاکم ۱/۲۲۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خصیتین کو چھونے کا بیان
(٦٥٣) سیدہ بسرہ بنت صفوان (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : ” جو اپنی شرمگاہ کو چھوئے تو وہ وضو کرے۔ “

عروہ کہتے تھے کہ ” جو میل والی جگہ کو چھوئے یا خصیتین یا شرمگاہ کو چھوئے تو وہ وضو کرے۔ “
(۶۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ السَّرَّاجُ حَدَّثَنَا أَبُو شُعَیْبٍ الْحَرَّانِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ الْبَصْرِیُّ الْعَنْبَرِیُّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحَارِثِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُبَشِّرٍ وَالْحُسَیْنُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودَ السَّرَّاجُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْعَثِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ بُسْرَۃَ بِنْتِ صَفْوَانَ أَنَّہَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((مَنْ مَسَّ ذَکَرَہُ فَلْیَتَوَضَّأْ))۔

قَالَ وَکَانَ عُرْوَۃُ یَقُولُ : إِذَا مَسَّ رُفْغَیْہِ أَوْ أُنْثَیَیْہِ أَوْ ذَکَرَہُ فَلْیَتَوَضَّأْ۔ [حسن۔ أخرجہ الدارقطنی ۱/۱۴۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خصیتین کو چھونے کا بیان
(٦٥٤) ہشام بن عروہ کے والد فرماتے تھے : جب کوئی شخص اپنی میل والی جگہ کو چھوئے یا خصیتیں یا اپنی شرمگاہ کو چھوئے تو وہ نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ وضو کرے۔

(ب) ایک اور سند کے ساتھ ہشام بن عروہ سے مدرج حدیث منقول ہے، یہ کسی راوی کا وہم ہے اور درست بات یہی ہے کہ وہ عروہ کا قول ہے۔

(ج) قیاس یہ ہے کہ مس جب کپڑے کے اوپر سے ہو تو اس سے وضو نہیں ہے اور ہم نے سنت کی اتباع کی ہے کہ شرمگاہ کو چھوئے بغیر وضو واجب نہیں۔
(۶۵۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَخْبَرَنَا عَلِیٌّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ قَالَ کَانَ أَبِی یَقُولُ: إِذَا مَسَّ رُفْغَہُ أَوْ أُنْثَیْیَہِ أَوْ فَرْجَہُ فَلاَ یُصَلِّی حَتَّی یَتَوَضَّأَ۔

وَرُوِیَ ذَلِکَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ مُدْرَجًا فِی الْحَدِیثِ وَہُوَ وَہَمٌ وَالصَّوَابُ أَنَّہُ مِنْ قَوْلِ عُرْوَۃَ۔

وَالْقِیَاسُ أَنَّ لاَ وُضُوئَ فِی الْمَسِّ وَإِنَّمَا اتَّبَعْنَا السُّنَّۃَ فِی إِیجَابِہِ بِمَسِّ الْفَرْجِ فَلاَ یَجِبُ بِغَیْرِہِ۔

[صحیح۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۱۴۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بغلوں کو چھونا
(٦٥٥) ابوبکر حمیدی کہتے ہیں : میں نے یحییٰ بن سعید قطان سے سنا کہ انھوں نے سفیان بن عیینہ سے اس حدیث کے متعلق سوال کیا، یعنی ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کندھوں تک تیمم کیا۔ سفیان نے فرمایا : میں اسماعیل بن امیہ کے پاس حاضر ہوا، وہ زہری کے پاس آئے اور عرض کیا : اے ابوبکر ! لوگ آپ کی دو حدیثوں کا انکار کرتے ہیں ! انھوں نے پوچھا : وہ کونسی ہیں ؟ انھوں نے فرمایا : انھوں نے کندھوں تک تیمم کیا۔

زہری کہتے ہیں : عمار سے روایت ہے کہ ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کندھوں تک تیمم کیا۔ اسماعیل کہتے ہیں : عبید اللہ کی حدیث میں بغلوں کو چھونے کا ذکر ہے۔

عبیداللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر (رض) نے ایک آدمی کو بغلیں چھونے کی بنا پر وضو کرنے کا حکم دیا۔

بسا اوقات ہاتھ دھونے کا حکم صفائی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔
(۶۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحُمَیْدِیُّ قَالَ سَمِعْتُ یَحْیَی بْنَ سَعِیدٍ الْقَطَّانَ یَسْأَلُ سُفْیَانَ یَعْنِی ابْنَ عُیَیْنَۃَ عَنْ ہَذَا الْحَدِیثِ : تَیَمَّمْنَا مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- إِلَی الْمَنَاکِبِ۔

فَقَالَ سُفْیَانُ : حَضَرْتُ إِسْمَاعِیلَ بْنَ أُمَیَّۃَ أَتَی الزُّہْرِیَّ فَقَالَ : یَا أَبَا بَکْرٍ إِنَّ النَّاسَ یُنْکِرُونَ عَلَیْکَ حَدِیثَیْنِ۔ قَالَ : وَمَا ہُمَا؟ فَقَالَ : تَیَمَّمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- إِلَی الْمَنَاکِبِ۔

فَقَالَ الزُّہْرِیُّ أَخْبَرَنِیہِ عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَمَّارٍ قَالَ : تَیَمَّمْنَا مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- إِلَی الْمَنَاکِبِ۔ فَقَالَ إِسْمَاعِیلُ : وَحَدِیثُ عُبَیْدِ اللَّہِ فِی مَسِّ الإِبْطِ۔

فَکَأَنَّ الزُّہْرِیَّ کَفَّ عَنْہُ کَالْمُنْکِرُ لَہُ أَوْ أَنْکَرَہُ فَأَتَیْتُ عَمْرَو بْنَ دِینَارٍ فَأَخْبَرْتُہُ وَقَدْ کُنْتُ سَمِعْتُہُ یُحَدِّثُ بِہِ عَنِ الزُّہْرِیِّ فَقَالَ عَمْرٌو: بَلَی حَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ عَنْ عُبَیْدِاللَّہِ: أَنَّ عُمَرَ أَمَرَ رَجُلاً أَنْ یَتَوَضَّأَ مِنْ مَسِّ الإِبْطِ۔

قَالَ الشَّیْخُ وَحَدِیثُ مَسِّ الإِبْطِ مُرْسَلٌ۔ عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ لَمْ یُدْرِکْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَقَدَ أَنْکَرَہُ الزُّہْرِیُّ بَعْدَ مَا حَدَّثَ بِہِ۔

وَقَدْ یَکُونُ أَمَرَ بِغَسْلِ الْیَدِ مِنْہُ تَنْظِیفًا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

وَرُوِیَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ یُخَالِفُ أَحَدُہُمَا صَاحِبَہُ فِی ذَلِکَ۔

[ضعیف۔ أخرجہ الحمیدی فی سندہ ۱۴۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بغلوں کو چھونا
(٦٥٦) سیدنا ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ جب کوئی شخص وضو کرے اور اپنی بغلوں کو چھوئے تو وہ دوبارہ وضو کرے۔

(ب) ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ اس پر اعادہ ضروری نہیں ہے۔
(۶۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَۃَ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِیفَۃَ عَنْ لَیْثِ بْنِ أَبِی سُلَیْمٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : إِذَا تَوَضَّأَ الرَّجُلُ وَمَسَّ إِبْطَہُ أَعَادَ الْوُضُوئَ۔

قَالَ وَحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِیفَۃَ عَنْ أَبِی سِنَانٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَیْسَ عَلَیْہِ إِعَادَۃٌ۔

وَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَا یُوَافِقُ ابْنَ عَبَّاسٍ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بغلوں کو چھونا
(٦٥٧) یحییٰ بکاء کہتے ہیں : میں نے سیدنا ابن عمر (رض) کو دیکھا، انھوں نے اپنا ہاتھ نماز کی حالت میں بغلوں میں داخل کیا، پھر بھی اپنی نماز جاری رکھی۔
(۶۵۷) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ الرَّازِیِّ

عَنْ یَحْیَی الْبَکَّائِ قَالَ: رَأَیْتُ ابْنَ عُمَرَ أَدْخَلَ یَدَہُ فِی إِبْطِہِ وَہُوَ فِی الصَّلاَۃِ ، ثُمَّ مَضَی فِی صَلاَتِہِ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بغلوں کو چھونا
(٦٥٨) (الف) نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) گرمی میں وضو کرتے تھے اور اپنا ہاتھ بغلوں پر پھیرتے تھے اور اس سے ان کا وضو نہیں ٹوٹتا تھا۔

(ب) ابن وھب کہتے ہیں : بغلوں کو چھونے سے وضو نہیں ہے۔

(ج) شیخ کہتے ہیں : یہ امام حسن بصری اور حارث عکلی تابعی کا قول ہے۔ یہ مؤقف امام شافعی (رح) کا ہے۔
(۶۵۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ یُحَدِّثُ عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یَتَوَضَّأُ فِی الْحَرِّ وَیُمِرُّ یَدَیْہِ عَلَی إِبْطَیْہِ وَلاَ یَنْقُضُ ذَلِکَ وُضُوئَہُ۔

وَعَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ الأَنْصَارِیِّ وَیَزِیدَ بْنِ أَبِی حَبِیبٍ وَاللَّیْثِ بْنِ سَعْدٍ وَمَالِکِ بْنِ أَنَسٍ قَالُوا : لَیْسَ فِی مَسِّ الإِبْطِ وُضُوئٌ ۔ یَقُولُہُ ابْنُ وَہْبٍ۔

قَالَ الشَّیْخُ : وَہُوَ قَوْلُ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ وَالْحَارِثِ الْعُکْلِیِّ مِنَ التَّابِعِینَ وَہُوَ قَوْلُ الشَّافِعِیِّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَإِیَّاہُمْ۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تر نجاستوں کو چھونا
(٦٥٩) فاطمہ بنت منذر فرماتی ہیں کہ انھوں نے اپنی دادی اسماء سے سنا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حیض کے خون کے متعلق سوال کیا اگر کپڑے کو لگ جائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو کھرچ دو ۔ پھر پانی سے مسل کر چھینٹے مارو، پھر اس میں نماز پڑھ لو۔ (ب) ابو سعید نے اپنی روایت میں مزید بیان کیا ہے کہ امام شافعی (رح) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حیض کے خون کو ہاتھ سے دھونے کا حکم دیا، لیکن اس سے وضو کرنے کا حکم نہیں دیاحالاں کہ خون ذکر سے زیادہ نجس ہے۔ ہر نجاست جس کو چھوا جاسکتا ہے تو اس سے وضو نہیں ہے، لہٰذا جو نجاست ہی نہیں ہے اس سے بدرجہ اولیٰ وضو واجب نہیں ہوتا مگر جس میں صریح حدیث آگئی ہے۔
(۶۵۹) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ قَالَتْ سَمِعْتُ جَدَّتِی أَسْمَائَ تَقُولُ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ دَمِ الْحَیْضَۃِ یُصِیبُ الثَّوْبَ فَقَالَ : ((حُتِّیہِ ثُمَّ اقْرُصِیہِ بِالْمَائِ ، ثُمَّ رُشِّیہِ ثُمَّ صَلِّی فِیہِ))۔

زَادَ أَبُو سَعِیدٍ فِی رِوَایَتِہِ قَالَ الشَّافِعِیُّ فَإِذَا أَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِدَمِ الْحَیْضِ أَنْ یُغْسَلَ بِالْیَدِ وَلَمْ یَأْمُرْ بِالْوُضُوئِ مِنْہُ ، وَالدَّمُ أَنْجَسُ مِنَ الذَّکَرِ فَکُلُّ مَا مَاسَّ مِنْ نَجَسٍ مَا کَانَ قِیَاسٌ عَلَیْہِ بِأَنْ لاَ یَکُونَ مِنْہُ وُضُوئٌ، وَإِذَا کَانَ ہَذَا فِی النَّجَسِ فَمَا لَیْسَ بِنَجَسٍ أَوْلَی أَنْ لاَ یُوجِبَ وُضُوئً ا إِلاَّ مَا جَائَ فِیہِ الْخَبَرُ بِعَیْنِہِ۔

[صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৫৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خشک نجاستوں کو چھونا
(٦٦٠) سیدنا جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بازار میں بلند جگہ سے داخل ہوئے اور لوگ دونوں طرف تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بکری کے مرے ہوئے بچے کے پاس سے گزرے تو اس کو کان سے پکڑا، پھر فرمایا : تم میں سے کون پسند کرتا ہے کہ اس کو ایک درہم میں لے لے ؟ انھوں نے کہا : ہم پسند نہیں کرتے کہ ہم اس میں سے کوئی چیز لیں اور ہم اس کا کیا کریں گے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا : ” کیا تم پسند کرتے ہو کہ یہ تمہارے لیے ہو ؟ انھوں نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر یہ زندہ ہوتا تب بھی اس میں عیب تھا اس لیے کہ وہ بچہ ہے تو اب اس کو کس طرح لیں جب کہ وہ مردہ ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! دنیا اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ ذلیل تر ہے۔
(۶۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُوسَی بْنُ الْحَسَنِ أَخْبَرَنَا الْقَعْنَبِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- مَرَّ بِالسُّوقِ دَاخِلاً مِنْ بَعْضِ الْعَالِیَۃِ وَالنَّاسُ کَنَفَتَیْہِ ، فَمَرَّ بِجَدْیٍ أَسَکَّ مَیِّتٍ ، فَتَنَاوَلَہُ فَأَخَذَ یَعْنِی بِأُذُنِہِ ، ثُمَّ قَالَ : ((أَیُّکُمْ یُحِبُّ أَنَّ ہَذَا لَہُ بِدِرْہَمٍ؟))۔ فَقَالُوا : مَا نُحِبُّ أَنَّہُ لَنَا بِشَیْئٍ ، وَمَا نَصْنَعُ بِہِ؟ قَالَ : ((أَتُحِبُّونَ أَنَّہُ لَکُمْ))۔ قَالُوا : وَاللَّہِ لَوْ کَانَ حَیًّا کَانَ عَیْبًا فِیہِ لأَنَّہُ أَسَکُّ ، فَکَیْفَ وَہُوَ مَیِّتٌ؟ فَقَالَ : ((فَوَاللَّہِ لَلدُّنْیَا أَہْوَنُ عَلَی اللَّہِ مِنْ ہَذَا عَلَیْکُمْ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۲۹۵۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خشک نجاستوں کو چھونا
(٦٦١) سیدنا عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھتے اور پاؤں سے روندی ہوئی گندگی سے وضو نہیں کرتے تھے۔
(۶۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَکِّیُّ۔ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنِی عَلِیُّ بْنُ عِیسَی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ : کُنَّا نُصَلِّی مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- وَلاَ نَتَوَضَّأُ مِنْ مَوْطِیئٍ۔

وَہَکَذَا رَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ إِدْرِیسَ وَشَرِیکٌ وَجَرِیرٌ عَنِ الأَعْمَشِ إِلاَّ أَنَّہُمْ لَمْ یَقُولُوا مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ-۔

وَرَوَاہُ أَبُو مُعَاوِیَۃَ فِی إِحْدَی الرِّوَایَتَیْنِ عَنْہُ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابن خزیمۃ ۳۷]
tahqiq

তাহকীক: