আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬৭৩ টি
হাদীস নং: ৭৬১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیا وضو کرنے کا بیان
(٧٦٢) ابو غطیف ہذلی کہتے ہیں کہ جب میں سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) کے پاس تھا ، ظہر کی اذان ہوئی، انھوں نے وضو کیا اور نماز پڑھی۔ جب عصر کی اذان ہوئی تو انھوں نے (نیا) وضو کیا۔ میں نے ان سے کہا : آپ نے دوبارہ وضو کیوں کیا ؟ انھوں نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتی تھے : جس نے طہارت (وضو) پر وضو کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دیتا ہے۔
(ب) امام ابوداؤد کہتے ہیں کہ حدیثِ مسدد مکمل ہے، لیکن میرے نزدیک حدیث ابن یحییٰ زیادہ قوی ہے۔
(ج) شیخ فرماتے ہیں کہ عبدالرحمن بن زیادہ افریقی قوی نہیں ، یہ حدیث منکر ہے۔
(ب) امام ابوداؤد کہتے ہیں کہ حدیثِ مسدد مکمل ہے، لیکن میرے نزدیک حدیث ابن یحییٰ زیادہ قوی ہے۔
(ج) شیخ فرماتے ہیں کہ عبدالرحمن بن زیادہ افریقی قوی نہیں ، یہ حدیث منکر ہے۔
(۷۶۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَزِیدَ الْمُقْرِئُ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِیَادٍ عَنْ أَبِی غُطَیْفٍ الْہُذَلِیِّ قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ فَلَمَّا نُودِیَ بِالظُّہْرِ تَوَضَّأَ فَصَلَّی ، فَلَمَّا نُودِیَ بِالْعَصْرِ تَوَضَّأَ فَقُلْتُ لَہُ فَقَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((مَنْ تَوَضَّأَ عَلَی طُہْرٍ کَتَبَ اللَّہُ لَہُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ))۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ : ہَذَا حَدِیثُ مُسَدَّدٍ وَہُوَ أَتَمُّ ، وَأَنَا لِحَدِیثِ ابْنِ یَحْیَی أَتْقَنُ۔
قَالَ الشَّیْخُ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِیَادٍ الأَفْرِیقِیُّ غَیْرُ قَوِیٍّ وَہَذَا حَدِیثٌ مُنْکَرٌ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۶۲]
قَالَ أَبُو دَاوُدَ : ہَذَا حَدِیثُ مُسَدَّدٍ وَہُوَ أَتَمُّ ، وَأَنَا لِحَدِیثِ ابْنِ یَحْیَی أَتْقَنُ۔
قَالَ الشَّیْخُ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِیَادٍ الأَفْرِیقِیُّ غَیْرُ قَوِیٍّ وَہَذَا حَدِیثٌ مُنْکَرٌ۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۶۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرم گاہ کے باہم مل جانے سے غسل واجب ہونے کا بیان
(٧٦٣) (الف) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” جب کوئی شخص چارگھاٹیوں کے درمیان بیٹھے اور شرمگاہ ہیں آپس میں مل جائیں تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔ “
(ب) وہب بن جریر کی حدیث میں ہے کہ جب آدمی چارگھاٹیوں کے درمیان بیٹھے، پھر کوشش کرے تو غسل واجب ہوجاتا ہے اور ابی نعیم کی حدیث میں بھی یہ الفاظ بھی ہیں : ” پھر کوشش کرے “۔
(ب) وہب بن جریر کی حدیث میں ہے کہ جب آدمی چارگھاٹیوں کے درمیان بیٹھے، پھر کوشش کرے تو غسل واجب ہوجاتا ہے اور ابی نعیم کی حدیث میں بھی یہ الفاظ بھی ہیں : ” پھر کوشش کرے “۔
(۷۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْخَطَّابِ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْخَیْرِ : جَامِعُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَکِیلُ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ وَشُعْبَۃُ قَالاَ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِی رَافِعٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((إِذَا قَعَدَ بَیْنَ شُعَبِہَا الأَرْبَعِ وَأَلْزَقَ الْخِتَانَ بِالْخِتَانِ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ))۔
لَفْظُ حَدِیثِ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَفِی حَدِیثِ وَہْبِ بْنِ جَرِیرٍ: ((إِذَا قَعَدَ بَیْنَ شُعَبِہَا الأَرْبَعِ ، ثُمَّ اجْتَہَدَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ))۔ وَفِی حَدِیثِ أَبِی نُعَیْمٍ: ((ثُمَّ جَہَدَہَا))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی عَنْ وَہْبِ بْنِ جَرِیرٍ۔
[صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ ابو داؤد ۲۱۶]
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا وَہْبُ بْنُ جَرِیرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْخَیْرِ : جَامِعُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَکِیلُ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ وَشُعْبَۃُ قَالاَ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِی رَافِعٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((إِذَا قَعَدَ بَیْنَ شُعَبِہَا الأَرْبَعِ وَأَلْزَقَ الْخِتَانَ بِالْخِتَانِ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ))۔
لَفْظُ حَدِیثِ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَفِی حَدِیثِ وَہْبِ بْنِ جَرِیرٍ: ((إِذَا قَعَدَ بَیْنَ شُعَبِہَا الأَرْبَعِ ، ثُمَّ اجْتَہَدَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ))۔ وَفِی حَدِیثِ أَبِی نُعَیْمٍ: ((ثُمَّ جَہَدَہَا))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی عَنْ وَہْبِ بْنِ جَرِیرٍ۔
[صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ ابو داؤد ۲۱۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرم گاہ کے باہم مل جانے سے غسل واجب ہونے کا بیان
(٧٦٤) سیدنا ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب آدمی چارگھاٹیوں کے درمیان بیٹھے، پھر کوشش کرے تو غسل واجب ہوجاتا اور مطر کی حدیث میں ہے : اگرچہ انزال نہ بھی ہو۔
(۷۶۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ وَمَطَرٌ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِی رَافِعٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : ((إِذَا جَلَسَ بَیْنَ شُعَبِہَا الأَرْبَعِ ، ثُمَّ جَہَدَہَا فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ))۔
وَفِی حَدِیثِ مَطَرٍ : ((وَإِنْ لَمْ یُنْزِلْ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی وَغَیْرِہِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ ہِشَامٍ ، وَقَدْ ذَکَرَ أَبَانُ بْنُ یَزِیدَ وَہَمَّامُ بْنُ یَحْیَی وَابْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ الزِّیَادَۃَ الَّتِی ذَکَرَہَا مَطَرٌ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۲۸۷]
وَفِی حَدِیثِ مَطَرٍ : ((وَإِنْ لَمْ یُنْزِلْ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی وَغَیْرِہِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ ہِشَامٍ ، وَقَدْ ذَکَرَ أَبَانُ بْنُ یَزِیدَ وَہَمَّامُ بْنُ یَحْیَی وَابْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ الزِّیَادَۃَ الَّتِی ذَکَرَہَا مَطَرٌ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۲۸۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرم گاہ کے باہم مل جانے سے غسل واجب ہونے کا بیان
(٧٦٥) سیدنا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب آدمی چارگھاٹیوں کے درمیان بیٹھے ‘ پھر کوشش کرے تو غسل واجب ہوجاتا ہے اگرچہ انزال نہ ہو “۔
(۷۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ یَزِیدَ الْعَطَّارُ وَہَمَّامُ بْنُ یَحْیَی قَالاَ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِی رَافِعٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((إِذَا قَعَدَ بَیْنَ شُعَبِہَا الأَرْبَعِ ، ثُمَّ أَجْہَدَ نَفْسَہُ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، أَنْزَلَ أَوْ لَمْ یُنْزِلْ)) ۔ [صحیح لغیرہٖ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرم گاہ کے باہم مل جانے سے غسل واجب ہونے کا بیان
(٧٦٦) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب شرمگاہیں آپس میں مل جائیں تو غسل واجب ہوجاتا ہے اگرچہ انزال نہ ہو “۔
(۷۶۶) أَخْبَرَنَا جَامِعُ بْنُ أَحْمَدَ الْوَکِیلُ حَدَّثَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْہَالِ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی عَرُوبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِی رَافِعٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا الْتَقَی الْخِتَانَانِ وَجَبَ الْغُسْلُ أَنْزَلَ أَوْ لَمْ یُنْزِلْ)) ۔
[صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ احمد ۲/۳۴۷]
[صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ احمد ۲/۳۴۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرم گاہ کے باہم مل جانے سے غسل واجب ہونے کا بیان
(٧٦٧) سیدنا ابو موسیٰ (رض) سے روایت ہے کہ وہ بیٹھے ہوئے تھے۔ صحابہ کرام (رض) نے ذکر کیا کہ کس چیز سے غسل واجب ہوتا ہے۔ سیدنا ابو موسیٰ (رض) نے اپنی حدیث میں یہ الفاظ زائد بیان کیے ہیں کہ جو مہاجرین میں کسی نے سے کہا : جب شرم گاہ ‘ شرم گاہ کو چھو لے تو غسل واجب ہوجاتا ہے اور انصار میں سے ایک نیکہا : نہیں جب تک وہ منینہ ٹپکے ۔ مطلبدونوں کا ایک ہی ہے، ابوموسیٰ نی فرمایا : میں خبر لے کر آؤں گا، وہ سیدہ عائشہ (رض) کے پاس گئے، سلام کیا پھر عرض کیا : میں کسی چیز کے متعلق آپ سے سوال کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں اور مجھے شرم آرہی ہے۔ انھوں نے کہا : تو سوال کرنے میں شرم نہ کر تو گویا اپنی اس ماں سے سوال کررہا ہے جس نے تجھے جنم دیا ہے ‘ میں تیری ماں ہوں ۔ وہ کہتے ہیں : میں نے کہا : کس چیز سے غسل واجب ہوتا ہے ؟ انھوں نے کہا : تو انتہائی با خبر کے پاس آیا ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب آدمی چارگھاٹیوں کے درمیان بیٹھے اور شرم گاہ ‘ شرم گاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہوجاتا۔ “
(۷۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزْکِّی أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ کَامِلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ ۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ: إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَی : مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ ہِلاَلٍ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ أَبِی مُوسَی: أَنَّہُمْ کَانُوا جُلُوسًا فَذَکَرُوا مَا یُوجِبُ الْغُسْلَ۔
زَادَ أَبُو مُوسِی فِی حَدِیثِہِ فَقَالَ مَنْ حَضَرَہُ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ : إِذَا مَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ۔ وَقَالَ مَنْ حَضَرَہُ مِنَ الأَنْصَارِ: لاَ حَتَّی یَدْفُقَ -ثُمَّ اتَّفَقَا فِی الْمَعْنَی- قَالَ أَبُومُوسَی: أَنَا آتِی بِالْخَبَرِ۔ فَقَامَ إِلَی عَائِشَۃَ فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ : إِنِّی أُرِیدُ أَنْ أَسْأَلَکِ عَنْ شَیْئٍ وَأَنَا أَسْتَحْیِیکِ۔ فَقَالَتْ: لاَ تَسْتَحِی أَنْ تَسْأَلَنِی عَنْ شَیْئٍ کُنْتَ سَائِلاً عَنْہُ أُمَّکَ الَّتِی وَلَدَتْکَ ، إِنَّمَا أَنَا أُمَّکَ۔ قَالَ قُلْتُ : مَا یُوجِبُ الْغُسْلَ؟ قَالَتْ : عَلَی الْخَبِیرِ سَقَطْتَ، قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ((إِذَا جَلَسَ بَیْنَ شُعَبِہَا الأَرْبَعِ، وَمَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ))۔
لَفْظُ حَدِیثِ السُّلَمِیُّ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی عَنِ الأَنْصَارِیِّ۔
وَقَدْ رَوَاہُ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی مُوسَی إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَرْفَعْہُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَإِنَّمَا رَفَعَہُ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَلِیُّ بْنُ زَیْدِ بْنِ جُدْعَانَ۔
وَعَلِیُّ بْنُ زَیْدٍ لاَ یُحْتَجُّ بِحَدِیثِہِ وَہَذِہِ الرِّوَایَۃُ الَّتِی أَخْرَجَہَا مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ رِوَایَۃٌ صَحِیحَۃٌ مُسْنَدَۃٌ۔
[صحیح۔ أخرجہ ابن خزیمۃ ۲۲۷]
وَأَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ: إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَی : مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَنْصَارِیُّ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ ہِلاَلٍ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ أَبِی مُوسَی: أَنَّہُمْ کَانُوا جُلُوسًا فَذَکَرُوا مَا یُوجِبُ الْغُسْلَ۔
زَادَ أَبُو مُوسِی فِی حَدِیثِہِ فَقَالَ مَنْ حَضَرَہُ مِنَ الْمُہَاجِرِینَ : إِذَا مَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ۔ وَقَالَ مَنْ حَضَرَہُ مِنَ الأَنْصَارِ: لاَ حَتَّی یَدْفُقَ -ثُمَّ اتَّفَقَا فِی الْمَعْنَی- قَالَ أَبُومُوسَی: أَنَا آتِی بِالْخَبَرِ۔ فَقَامَ إِلَی عَائِشَۃَ فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ : إِنِّی أُرِیدُ أَنْ أَسْأَلَکِ عَنْ شَیْئٍ وَأَنَا أَسْتَحْیِیکِ۔ فَقَالَتْ: لاَ تَسْتَحِی أَنْ تَسْأَلَنِی عَنْ شَیْئٍ کُنْتَ سَائِلاً عَنْہُ أُمَّکَ الَّتِی وَلَدَتْکَ ، إِنَّمَا أَنَا أُمَّکَ۔ قَالَ قُلْتُ : مَا یُوجِبُ الْغُسْلَ؟ قَالَتْ : عَلَی الْخَبِیرِ سَقَطْتَ، قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ((إِذَا جَلَسَ بَیْنَ شُعَبِہَا الأَرْبَعِ، وَمَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ))۔
لَفْظُ حَدِیثِ السُّلَمِیُّ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی عَنِ الأَنْصَارِیِّ۔
وَقَدْ رَوَاہُ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی مُوسَی إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَرْفَعْہُ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- وَإِنَّمَا رَفَعَہُ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَلِیُّ بْنُ زَیْدِ بْنِ جُدْعَانَ۔
وَعَلِیُّ بْنُ زَیْدٍ لاَ یُحْتَجُّ بِحَدِیثِہِ وَہَذِہِ الرِّوَایَۃُ الَّتِی أَخْرَجَہَا مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ رِوَایَۃٌ صَحِیحَۃٌ مُسْنَدَۃٌ۔
[صحیح۔ أخرجہ ابن خزیمۃ ۲۲۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرم گاہ کے باہم مل جانے سے غسل واجب ہونے کا بیان
(٧٦٨) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے ایک شخص نے سوال کیا کہ اگر کوئی اپنی بیوی سے جماع کرتا ہے، پھر ڈھیلا ہوجاتا ہے تو کیا اس پر غسل ہے ؟ اور عائشہ (رض) بیٹھی ہوئی تھی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اور یہ (عائشہ (رض) ) ایسے ہی کرتے ہیں، پھر ہم غسل کرتے ہیں۔
(۷۶۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ۔ قَالَ وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ عِیَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْقُرَشِیُّ وَغَیْرُہُ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ الْمَکِّیِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ أَخْبَرَتْنِی أُمُّ کُلْثُومٍ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- : أَنَّ رَجُلاً سَأَلَ النَّبِیَّ -ﷺ- عَنِ الرَّجُلِ یُجَامِعُ أَہْلَہُ ثُمَّ یُکْسِلُ ہَلْ عَلَیْہِ مِنْ غُسْلٍ؟ وَعَائِشَۃٌ جَالِسَۃٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِنِّی لأَفْعَلُ ذَلِکَ أَنَا وَہَذِہِ ثُمَّ نَغْتَسِلُ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ سَعِیدٍ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۳۴۶]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ ہَارُونَ بْنِ سَعِیدٍ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۳۴۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرم گاہ کے باہم مل جانے سے غسل واجب ہونے کا بیان
(٧٦٩) سیدہ عائشہ (رض) سے منقول ہے کہ ان سے اس شخص کے متعلق سوال کیا گیا جو اپنی بیوی سے جماع کرتا ہے اور انزال نہیں ہوتا تو انھوں نی فرمایا : میں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسے کیا تو ہم نے اکٹھے غسل کیا۔
ْ(۷۶۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ اللَّہِ : إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِیدِ بْنِ مَزْیَدٍ أَخْبَرَنِی أَبِی قَالَ سَمِعْتُ الأَوْزَاعِیَّ قَالَ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّہَا سُئِلَتْ عَنِ الرَّجُلِ یُجَامِعُ أَہْلَہُ وَلاَ یُنْزِلُ الْمَائَ فَقَالَتْ : فَعَلْتُہُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَاغْتَسَلْنَا مِنْہُ جَمِیعًا۔
[صحیح۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۱۱۱]
[صحیح۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۱۱۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرم گاہ کے باہم مل جانے سے غسل واجب ہونے کا بیان
(٧٧٠) سیدنا ابی بن کعب (رض) نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! جب کوئی شخص اپنی بیوی سے جماع کرے اور انزال نہ ہو (تو غسل کرے ؟ ) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو اس نے عورت کو چھوا ہے اس کو دھو ڈالے گا پھر وضو کرکے نماز ادا کرے گا۔
(۷۷۰) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ قَالَ أَخْبَرَنِی أَبِی قَالَ أَخْبَرَنِی أَبُو أَیُّوبَ قَالَ أَخْبَرَنِی أُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ أَنَّہُ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِذَا جَامَعَ الرَّجُلُ الْمَرْأَۃَ فَلَمْ یُنْزِلْ۔ قَالَ : ((یَغْسِلُ مَا مَسَّ الْمَرْأَۃَ مِنْہُ ثُمَّ یَتَوَضَّأُ وَیُصَلِّی))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنْ ہِشَامٍ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۲۸۹]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُسَدَّدٍ ، وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنْ ہِشَامٍ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۲۸۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرم گاہ کے باہم مل جانے سے غسل واجب ہونے کا بیان
(٧٧١) سیدنا زید بن خالد جہنی نے عثمان بن عفان (رض) سے اس شخص کے متعلق سوال کیا جو جماع کرتا ہے ‘ لیکن انزال نہیں ہوتا تو انھوں نی فرمایا : اس پر غسل نہیں ہے، پھر فرمایا : یہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے پھر فرمایا : میں نے اس کے بعد علی بن أبی طالب ، زبیر بن عوام، طلحہ بن عبید اللہ اور ابی بن کعب (رض) سے سوال کیا تو انھوں نے اس طرح نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کیا۔
(ب) ابو قلابہ کی حدیث میں ہے : ” اس سے صرف وضو ہے۔ “
(ب) ابو قلابہ کی حدیث میں ہے : ” اس سے صرف وضو ہے۔ “
(۷۷۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُوطَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُوطَاہِرٍ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ حَدَّثَنَا أَبُوقِلاَبَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُالصَّمَدِ بْنُ عَبْدِالْوَارِثِ
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ : أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ عِیسَی الْبِسْطَامِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنِی الْحُسَیْنِ الْمُعَلِّمُ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ أَنَّ أَبَا سَلَمَۃَ حَدَّثَہُ أَنَّ عَطَائَ بْنَ یَسَارٍ حَدَّثَہُ أَنَّ زَیْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُہَنِیَّ حَدَّثَہُ : أَنَّہُ سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ عَنِ الرَّجُلِ یُجَامِعُ فَلاَ یُنْزِلُ ، فَقَالَ : لَیْسَ عَلَیْہِ غُسْلٌ ۔ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ قَالَ فَسَأَلْتُ بَعْدَ ذَلِکَ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ وَالزُّبَیْرَ بْنَ الْعَوَّامِ وَطَلْحَۃَ بْنَ عُبَیْدِ اللَّہِ وَأُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ فَقَالُوا مِثْلَ ذَلِکَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- ۔
لَفْظُ حَدِیثِ الْبِسْطَامِیِّ وَقَالَ أَبُو قِلاَبَۃَ فِی حَدِیثِہِ : لَیْسَ مِنْہُ إِلاَّ الطُّہُورُ۔ وَلَمْ یَذْکُرْ أُبَیًّا وَلاَ حَدِیثَ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعِیدٍ
وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِالْوَارِثِ بْنِ عَبْدِالصَّمَدِ وَغَیْرِہِ عَنْ عَبْدِالصَّمَدِ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَذْکُرْ قَوْلَ عَلِیٍّ وَمَنْ مَعَہُ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۲۸۸]
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ : أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ عِیسَی الْبِسْطَامِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنِی الْحُسَیْنِ الْمُعَلِّمُ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ أَبِی کَثِیرٍ أَنَّ أَبَا سَلَمَۃَ حَدَّثَہُ أَنَّ عَطَائَ بْنَ یَسَارٍ حَدَّثَہُ أَنَّ زَیْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُہَنِیَّ حَدَّثَہُ : أَنَّہُ سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ عَنِ الرَّجُلِ یُجَامِعُ فَلاَ یُنْزِلُ ، فَقَالَ : لَیْسَ عَلَیْہِ غُسْلٌ ۔ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ قَالَ فَسَأَلْتُ بَعْدَ ذَلِکَ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ وَالزُّبَیْرَ بْنَ الْعَوَّامِ وَطَلْحَۃَ بْنَ عُبَیْدِ اللَّہِ وَأُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ فَقَالُوا مِثْلَ ذَلِکَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- ۔
لَفْظُ حَدِیثِ الْبِسْطَامِیِّ وَقَالَ أَبُو قِلاَبَۃَ فِی حَدِیثِہِ : لَیْسَ مِنْہُ إِلاَّ الطُّہُورُ۔ وَلَمْ یَذْکُرْ أُبَیًّا وَلاَ حَدِیثَ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِی أَیُّوبَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعِیدٍ
وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ عَبْدِالْوَارِثِ بْنِ عَبْدِالصَّمَدِ وَغَیْرِہِ عَنْ عَبْدِالصَّمَدِ إِلاَّ أَنَّہُ لَمْ یَذْکُرْ قَوْلَ عَلِیٍّ وَمَنْ مَعَہُ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۲۸۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرم گاہ کے باہم مل جانے سے غسل واجب ہونے کا بیان
(٧٧٢) زید بن خالد جہنی نے سیدنا عثمان بن عفان (رض) سے سوال کیا کہ مجھے بتاؤ اگر کوئی اپنی بیوی سے جماع کرتا ہے اور اس کو منی نہیں آتی (یعنی انزال نہیں ہوتا) تو وہ کیا کرے ؟ سیدنا عثمان (رض) نی فرمایا : نماز جیسا وضو کرے گا اور اپنی شرم گاہ کو دھوئے گا۔ انھوں نے بتلایا کہ انھوں نے یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے۔
(۷۷۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ دُحَیْمٍ الشَّیْبَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِی غَرَزَۃَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا شَیْبَانُ أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ أَنَّ عَطَائَ بْنَ یَسَارٍ أَخْبَرَہُ أَنَّ زَیْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُہَنِیَّ أَخْبَرَہُ : أَنَّہُ سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالَ قُلْتُ : أَرَأَیْتَ الرَّجُلَ یُجَامِعُ امْرَأَتَہُ وَلَمْ یُمْنِ قَالَ عُثْمَانُ : یَتَوَضَّأُ کَمَا یَتَوَضَّأُ لِلصَّلاَۃِ وَیَغْسِلُ ذَکَرَہُ ۔ وَذَکَرَ أَنَّہُ سَمِعَہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔
فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِکَ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ وَالزُّبَیْرَ بْنَ الْعَوَّامِ وَطَلْحَۃَ بْنَ عُبَیْدِ اللَّہِ ، فَأَمَرُوہُ بِذَلِکَ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ حَفْصٍ عَنْ شَیْبَانَ وَذَکَرَ فِیہِمْ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ۔ [صحیح]
فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِکَ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ وَالزُّبَیْرَ بْنَ الْعَوَّامِ وَطَلْحَۃَ بْنَ عُبَیْدِ اللَّہِ ، فَأَمَرُوہُ بِذَلِکَ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سَعِیدِ بْنِ حَفْصٍ عَنْ شَیْبَانَ وَذَکَرَ فِیہِمْ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرم گاہ کے باہم مل جانے سے غسل واجب ہونے کا بیان
(٧٧٣) سیدنا ابو سعید (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک انصاری شخص کے پاس سے گزرے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی طرف پیغام بھیجا، وہ اس حالت میں نکلا کہ اس کے سر سے پانی کے قطرے بہہ رہے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” شاید ہم نے آپ کو جلدی کرادی “ اس نے کہا : ہاں اے اللہ کے رسول ! تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تمہیں جلدی ہو یا قحط ہو تو تجھ پر غسل نہیں وضو ہے۔
(۷۷۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ ذَکْوَانَ أَبِی صَالِحٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- مَرَّ عَلَی رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَأَرْسَلَ إِلَیْہِ ، فَخَرَجَ وَرَأْسُہُ یَقْطُرُ فَقَالَ : لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاکَ ۔ قَالَ : نَعَمْ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((إِذَا أُعْجِلْتَ أَوْ أَقْحَطْتَ فَلاَ غُسْلَ عَلَیْکَ وَعَلَیْکَ الْوُضُوئُ))۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ عَنِ النَّضْرِ بْنِ شُمَیْلٍ عَنْ شُعْبَۃَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرٍ وَغَیْرِہِ عَنْ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَۃَ۔ فَہَذَا حُکْمٌ مَنْسُوخٌ بِالأَخْبَارِ الَّتِی قَدَّمْنَا ذِکْرَہَا۔ وَالَّذِی یَدُلُّ عَلَی نَسْخِہِ مَا۔[صحیح۔ أخرجہ البخار ی ۱۷۸]
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ عَنِ النَّضْرِ بْنِ شُمَیْلٍ عَنْ شُعْبَۃَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی بَکْرٍ وَغَیْرِہِ عَنْ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَۃَ۔ فَہَذَا حُکْمٌ مَنْسُوخٌ بِالأَخْبَارِ الَّتِی قَدَّمْنَا ذِکْرَہَا۔ وَالَّذِی یَدُلُّ عَلَی نَسْخِہِ مَا۔[صحیح۔ أخرجہ البخار ی ۱۷۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرم گاہ کے باہم مل جانے سے غسل واجب ہونے کا بیان
(٧٧٤) امام زہری سے روایت ہے کہ انصار کے کچھ لوگ جن میں ابو ایوب اور ابو سعید خدری (رض) بھی شامل ہیں ، یہ فتوی دیتے تھے کہ پانی پانی سے ہے اور جو آدمی اپنی بیوی کے پاس آئے اور انزال نہ ہو تو اس پر غسل نہیں ہے، جب یہ بات سیدنا عمر ابن عمر (رض) اور سیدہ عائشہ (رض) سے ذکر کی گئی تو انھوں نے اس کا انکار کردیا اور فرمایا : جب شرمگاہ شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔
ابی بن کعب (رض) فرماتے ہیں کہ ” پانی پانی سے ہے “ کے فتویٰ کی ابتدائے اسلام میں رخصت تھی اور یہ رخصت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دی تھی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غسل کرنے کا حکم دے دیا۔
ابی بن کعب (رض) فرماتے ہیں کہ ” پانی پانی سے ہے “ کے فتویٰ کی ابتدائے اسلام میں رخصت تھی اور یہ رخصت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دی تھی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غسل کرنے کا حکم دے دیا۔
(۷۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ شَاذَانَ بِبَغْدَادَ مِنْ أَصْلِہِ أَخْبَرَنَا حَمْزَۃُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ عَنْ یُونُسَ بْنِ یَزِیدَ الأَیْلِیِّ عَنِ الزُّہْرِیِّ : أَنَّ رِجَالاً مِنَ الأَنْصَارِ فِیہِمْ أَبُو أَیُّوبَ وَأَبُو سَعِیدٍ الْخُدْرِیُّ کَانُوا یُفْتُونَ الْمَائُ مِنَ الْمَائِ وَأَنَّہُ لَیْسَ عَلَی مَنْ أَتَی امْرَأَتَہُ فَلَمْ یُنْزِلُ غُسْلٌ۔ فَلَمَّا ذُکِرَ ذَلِکَ لِعُمَرَ وَابْنِ عُمَرَ وَعَائِشَۃَ أَنْکَرُوا ذَلِکَ وَقَالُوا : إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ۔
فَقَالَ سَہْلُ بْنُ سَعْدٍ وَکَانَ قَدْ أَدْرَکَ النَّبِیَّ -ﷺ- فِی زَمَانِہِ وَہُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَۃَ سَنَۃً حَدَّثَنِی أُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ : أَنَّ الْفُتْیَا الَّتِی کَانَتْ الْمَائُ مِنَ الْمَائِ رُخْصَۃٌ أَرْخَصَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فی أَوَّلِ الإِسْلاَمِ ، ثُمَّ أَمَرَ بِالْغُسْلِ۔ [صحیح لغیرہٖ]
فَقَالَ سَہْلُ بْنُ سَعْدٍ وَکَانَ قَدْ أَدْرَکَ النَّبِیَّ -ﷺ- فِی زَمَانِہِ وَہُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَۃَ سَنَۃً حَدَّثَنِی أُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ : أَنَّ الْفُتْیَا الَّتِی کَانَتْ الْمَائُ مِنَ الْمَائِ رُخْصَۃٌ أَرْخَصَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فی أَوَّلِ الإِسْلاَمِ ، ثُمَّ أَمَرَ بِالْغُسْلِ۔ [صحیح لغیرہٖ]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرم گاہ کے باہم مل جانے سے غسل واجب ہونے کا بیان
(٧٧٥) سیدنا ابی بن کعب (رض) فرماتے ہیں :” پانی پانی سے ہے “ کے فتوے کی ابتدائے اسلام میں رخصت تھی، پھر اس سے منع کردیا گیا۔
(۷۷۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ بِنَیْسَابُورَ وَأَبُو عَبْدٍ اللَّہِ : الْحُسَیْنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ بُرْہَانَ الْغَزَّالُ وَأَبُو الْحُسَیْنِ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ وَأَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ یُونُسَ بْنِ یَزِیدَ الأَیْلِیِّ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ : إِنَّمَا کَانَتِ الْفُتْیَا فِی الْمَائِ مِنَ الْمَائِ رُخْصَۃً فی أَوَّلِ الإِسْلاَمِ ، ثُمَّ نُہِیَ عَنْہَا۔
وَہَذَا الْحَدِیثُ لَمْ یَسْمَعْہُ الزُّہْرِیُّ مِنْ سَہْلِ إِنَّمَا سَمِعَہُ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِہِ عَنْ سَہْلٍ۔
[صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ ابن حبان ۱۱۷۳]
وَہَذَا الْحَدِیثُ لَمْ یَسْمَعْہُ الزُّہْرِیُّ مِنْ سَہْلِ إِنَّمَا سَمِعَہُ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِہِ عَنْ سَہْلٍ۔
[صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ ابن حبان ۱۱۷۳]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرم گاہ کے باہم مل جانے سے غسل واجب ہونے کا بیان
(٧٧٦) سیدنا ابی بن کعب (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کپڑوں کے کم ہونے کی وجہ سے شروع اسلام میں لوگوں کو رخصت دی تھی، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غسل کرنے کا حکم دیا اور اس سے منع کردیا۔ (ب) صحیح موصول سند کے ساتھ سیدنا سہل بن سعد (رض) سے بھی روایت ہے۔
(۷۷۶) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی عَمْرٌو یَعْنِی ابْنَ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ حَدَّثَنِی بَعْضُ مَنْ أَرْضَی أَنَّ سَہْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِیَّ أَخْبَرَہُ أَنَّ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ أَخْبَرَہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- إِنَّمَا جَعَلَ ذَلِکَ رُخْصَۃً لِلنَّاسِ فِی أَوَّلِ الإِسْلاَمِ لِقِلَّۃِ الثِّیَابِ ، ثُمَّ أَمَرَ بِالْغُسْلِ وَنَہَی عَنْ ذَلِکَ۔
وَقَدْ رُوِّینَاہُ بِإِسْنَادٍ آخَرَ مَوْصُولٍ صَحِیحٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ۔ [صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابو داؤد ۲۱۴]
وَقَدْ رُوِّینَاہُ بِإِسْنَادٍ آخَرَ مَوْصُولٍ صَحِیحٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ۔ [صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابو داؤد ۲۱۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرم گاہ کے باہم مل جانے سے غسل واجب ہونے کا بیان
(٧٧٧) سیدنا ابی بن کعب (رض) فرماتے ہیں کہ ” پانی پانی سے ہے “ کے فتویٰ کی شروع اسلام میں رخصت تھی اور یہ رخصت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دی تھی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بعد غسل کا حکم دیا۔
(۷۷۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو سَہْلٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ ہَارُونَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِہْرَانَ الْجَمَّالُ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِہْرَانَ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا مُبَشِّرٌ الْحَلَبِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی غَسَّانَ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِی أُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ: أَنَّ الْفُتْیَا الَّتِی کَانُوا یُفْتُونَ أَنَّ الْمَائَ مِنَ الْمَائِ کَانَتْ رُخْصَۃً رَخَّصَہَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فی بَدْئِ الإِسْلاَمِ ، ثُمَّ أَمَرَ بِالاِغْتِسَالِ بَعْدُ۔ وَفِی حَدِیثِ مُوسَی بْنِ ہَارُونَ : ثُمَّ أَمَرَنَا بِالاِغْتِسَالِ بَعْدُ۔
[صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۲۱۵]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِہْرَانَ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا مُبَشِّرٌ الْحَلَبِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی غَسَّانَ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِی أُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ: أَنَّ الْفُتْیَا الَّتِی کَانُوا یُفْتُونَ أَنَّ الْمَائَ مِنَ الْمَائِ کَانَتْ رُخْصَۃً رَخَّصَہَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فی بَدْئِ الإِسْلاَمِ ، ثُمَّ أَمَرَ بِالاِغْتِسَالِ بَعْدُ۔ وَفِی حَدِیثِ مُوسَی بْنِ ہَارُونَ : ثُمَّ أَمَرَنَا بِالاِغْتِسَالِ بَعْدُ۔
[صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۲۱۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرم گاہ کے باہم مل جانے سے غسل واجب ہونے کا بیان
(٧٧٨) محمود بن بعید انصاری نے زید بن ثابت (رض) سے اس شخص کے متعلق سوال کیا جو اپنی بیوی کے پاس جاتا ہے پھر ڈھیلا ہوجاتا ہے لیکن انزال نہیں ہوتا ۔ سیدنا زید (رض) نے فرمایا : غسل کرے گا تو ان سے محمود بن لبید نے کہا کہ سیدنا ابی بن کعب (رض) تو غسل کا نہیں کہتے تھے تو اس کو سیدنا زید بن ثابت (رض) نے کہا : ابی بن کعب (رض) نے مرنے سے پہلے اس فتوی سے رجوع کرلیا تھا۔
(ب) سیدنا ابی بن کعب کا قول ” پانی پانی “ سے ہے، پھر اس کو ترک کرنا اس پر دلالت ہے کہ یہ بات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت تھی، پھر اس کے بعد دوسرے فرمان نے اس کو منسوخ کردیا۔ یہی قول سیدنا عثمان بن عفان اور علی بن ابو طالب (رض) کا ہے۔
(ب) سیدنا ابی بن کعب کا قول ” پانی پانی “ سے ہے، پھر اس کو ترک کرنا اس پر دلالت ہے کہ یہ بات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت تھی، پھر اس کے بعد دوسرے فرمان نے اس کو منسوخ کردیا۔ یہی قول سیدنا عثمان بن عفان اور علی بن ابو طالب (رض) کا ہے۔
(۷۷۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ کَعْبٍ مَوْلَی عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ : أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ لَبِیدٍ الأَنْصَارِیَّ سَأَلَ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ عَنِ الرَّجُلِ یُصِیبُ أَہْلَہُ ثُمَّ یُکْسِلُ فَلاَ یُنْزِلُ ، فَقَالَ زَیْدٌ : یَغْتَسِلُ۔ فَقَالَ لَہُ مَحْمُودُ بْنُ لَبِیدٍ : إِنَّ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ کَانَ لاَ یَرَی الْغُسْلَ۔ فَقَالَ لَہُ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ : إِنَّ أُبَیًّا نَزَعَ عَنْ ذَلِکَ قَبْلَ أَنْ یَمُوتَ۔
قَوْلُ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ الْمَائُ مِنَ الْمَائِ ثُمَّ نُزُوعُہُ عَنْہُ یَدُلُّ عَلَی أَنَّہُ أُثْبِتَ لَہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ بَعْدُ مَا نَسَخَہُ ، وَکَذَلِکَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَعَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَغَیْرُہُمَا۔
[صحیح أخرجہ مالک[۵/۱]
قَوْلُ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ الْمَائُ مِنَ الْمَائِ ثُمَّ نُزُوعُہُ عَنْہُ یَدُلُّ عَلَی أَنَّہُ أُثْبِتَ لَہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ بَعْدُ مَا نَسَخَہُ ، وَکَذَلِکَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَعَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَغَیْرُہُمَا۔
[صحیح أخرجہ مالک[۵/۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرم گاہ کے باہم مل جانے سے غسل واجب ہونے کا بیان
(٧٧٩) سیدنا عمر بن خطاب ، عثمان بن عفان (رض) اور سیدہ عائشہ (رض) کہتے تھے کہ جب شرمگاہ شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہوگیا۔
(۷۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَعُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ
وَعَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- کَانُوا یَقُولُونَ : إِذَا مَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ۔
[صحیح۔ أخرجہ مالک ۱۰۲]
وَعَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- کَانُوا یَقُولُونَ : إِذَا مَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ۔
[صحیح۔ أخرجہ مالک ۱۰۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرم گاہ کے باہم مل جانے سے غسل واجب ہونے کا بیان
(٧٨٠) جعفر اپنیوالد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا علی (رض) کہا کرتے تھے، جس نے حد کو واجب کردیا اس نے غسل کو بھی واجب کردیا ۔
(۷۸۰) قَالَ ابْنُ بُکَیْرٍ وَحَدَّثَنِی الدَّرَاوَرْدِیُّ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ عَلِیًّا کَانَ یَقُولُ: مَا أَوْجَبَ الْحَدَّ أَوْجَبَ الْغُسْلَ۔
[ضعیف]
[ضعیف]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৮০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرم گاہ کے باہم مل جانے سے غسل واجب ہونے کا بیان
(٧٨١) ابو سلمہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ (رض) سے سوال کیا : کونسی چیز غسل کو واجب کردیتی ہے ؟ انھوں نے فرمایا : اے ابو سلمہ ! کیا تو جانتا ہے تیری مثال کیا ہے ؟ تیری مثال مرغی کے بچے کی طرح ہے جو مرغ کو چیختے ہوئے دیکھ کر ساتھ چیختا ہے۔ جب شرمگاہ شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔
(۷۸۱) وَبِإِسْنَادِہِ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ أَبِی النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّہُ قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَۃَ أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا مَا یُوجِبُ الْغُسْلَ؟ فَقَالَتْ : أَتَدْرِی مَا مَثْلُکَ یَا أَبَا سَلَمَۃَ ، مَثْلُکَ مَثْلُ الْفَرُّوجِ یَسْمَعُ الدِّیَکَۃَ تَصْرُخُ فَیَصْرَخُ مَعَہَا ، إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ۔ [صحیح۔ أخرجہ مالک ۷۷]
তাহকীক: