আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
السنن الكبرى للبيهقي
پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬৭৩ টি
হাদীস নং: ৮২১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غسل سے فراغت کے بعدآخر میں پاؤں دھونے کی رخصت
(٨٢٢) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب غسل جنابت کرتے تو پہلے اپنے ہاتھ دھوتے، پھر دائیں ہاتھ سے پانی لیتے اور اپنے بائیں ہاتھ پر ڈال کر اپنی شرم گاہ کو دھوتے اور صاف کرلیتے، پھر تین مرتبہ کلی کرتے اور تین مرتبہ ناک میں پانی چڑھاتے اور اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھوتے اور اپنے بازوؤں کو تین تین مرتبہ دھوتے، پھر اپنے سر پر پانی ڈالتے اور اپنے جسم پر بھی۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (غسل سے) فارغ ہوتے تو اپنیپاؤں کو دھوتے۔
(۸۲۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَۃِ بَدَأَ فَغَسَلَ یَدَیْہِ ، ثُمَّ أَخَذَ بِیَمِینِہِ فَصَبَّ عَلَی شِمَالِہِ ، فَغَسَلَ فَرْجَہُ حَتَّی یُنْقِیَہِ ثُمَّ مَضْمَضَ ثَلاَثًا ، وَاسْتَنْشَقَ ثَلاَثًا ، وَغَسَلَ وَجْہَہُ ثَلاَثًا وَذِرَاعَیْہِ ثَلاَثًا ثَلاَثًا ، ثُمَّ صَبَّ عَلَی رَأْسِہِ وَجَسَدِہِ الْمَائَ، فَإِذَا فَرَغَ غَسَلَ قَدَمَیْہِ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ الطیالسی ۱۴۷۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بالوں کی جڑوں میں پانی سے خلال کرنا اور پانی جلد تک پہنچانا
(٨٢٣) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب غسل جنابت کرتے تو پہلے اپنے ہاتھوں کو دھوتے، پھر نماز والا وضو کرتے ، پھر اپنے ہاتھ سے تین چلو پانی لے کر اپنے سر پر ڈالتے، پھر اپنے سارے جسم پر پانی بہاتے۔
(۸۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا : یَحْیَی بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ ہِشَامٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -کَانَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَۃِ بَدَأَ فَغَسَلَ یَدَیْہِ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ کَمَا یَتَوَضَّأُ لِلصَّلاَۃِ ثُمَّ یُدْخِلُ أَصَابِعَہُ فِی الْمَائِ فَیُخَلِّلُ بِہَا أُصُولَ شَعْرِہِ ثُمَّ یَصُبُّ عَلَی رَأْسِہِ ثَلاَثَ غُرَفٍ بِیَدَیْہِ ثُمَّ یُفِیضُ الْمَائَ عَلَی جِلْدِہِ کُلِّہِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۲۴۵]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ عَنْ مَالِکٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۲۴۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بالوں کی جڑوں میں پانی سے خلال کرنا اور پانی جلد تک پہنچانا
(٨٢٤) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غسل جنابت کرتے تو اپنے ہاتھوں کو دھوتے اور نماز جیسا وضو کرتے، پھر اپنے ہاتھوں سے بالوں کا خلال کرتے جب گمان کرلیتے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی جلد کو تر کرلیا ہے تو اس پر تین مرتبہ پانی بہاتے ، پھر سارے جسم کو دھوتے۔ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ہی برتن سے اکٹھے غسل کرتے تھے ہم اکٹھے چلو بھرتے۔
(۸۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّیَّارِیُّ بِمَرْوٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُوَجِّہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْمُوَجِّہِ الْفَزَارِیُّ أَخْبَرَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَۃِ غَسَلَ یَدَیْہِ وَتَوَضَّأَ وُضُوئَ ہُ لِلصَّلاَۃِ ، ثُمَّ یُخَلِّلُ بِیَدِہِ شَعَرَہُ حَتَّی إِذَا ظَنَّ أَنَّہُ قَدْ أَرْوَی بَشَرَتَہُ أَفَاضَ عَلَیْہِ الْمَائَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ جَسَدِہِ۔ وَقَالَتْ : کُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -مِنْ إِنَائٍ وَاحِدٍ نَغْرِفُ مِنْہُ جَمِیعًا۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدَانَ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۲۶۹]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدَانَ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۲۶۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بالوں کی جڑوں میں پانی سے خلال کرنا اور پانی جلد تک پہنچانا
(٨٢٥) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنابت سے وضو کرتے، پھر اپنا دایاں ہاتھ پانی میں داخل کرتے، پھر اپنے سر کی دائیں جانب کا خلال کرتے، پھر بالوں کے درمیان داخل کرتے، پھر اپنے بائیں ہاتھ سے بائیں جانب بھی ایسا کرتے یہاں تک پانی جلد تک پہنچ جاتا، پھر اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالتے۔
(۸۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْہَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ یَعْنِی ابْنَ سَلَمَۃَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -کَانَ یَتَوَضَّأُ مِنَ الْجَنَابَۃِ ، ثُمَّ یُدْخِلُ یَدَہُ الْیُمْنَی فِی الْمَائِ ، ثُمَّ یُخَلِّلُ بِہَا شِقَّ رَأْسِہِ الأَیْمَنَ فَیَتَّبِعُ بِہَا أُصُولَ الشَّعَرِ ، ثُمَّ یَفْعَلُ بِشِقِّ رَأْسِہِ الأَیْسَرِ بِیَدِہِ الْیُسْرَی کَذَلِکَ حَتَّی یَسْتَبْرِئَ الْبَشَرَۃَ ثُمَّ یَصُبُّ عَلَی رَأْسِہِ ثَلاَثًا۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۲۵۵]
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۲۵۵]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بالوں کی جڑوں میں پانی سے خلال کرنا اور پانی جلد تک پہنچانا
(٨٢٦) سیدنا علی (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا : ” جسشخص نے بال برابر جنابت کی جگہ چھوڑ دی جس کو پانی نہ لگا تو اس کے ساتھ آگ میں ایسے ایسے کیا جائے گا۔ “
سیدنا علی (رض) فرماتے ہیں کہ اسی وجہ سے میں نے اپنے سر سے دشمنی مول لے لی ہے۔ عبید اللہ اپنی حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی (رض) اپنے بالوں کو جڑ سے کاٹ دیتے تھے۔
سیدنا علی (رض) فرماتے ہیں کہ اسی وجہ سے میں نے اپنے سر سے دشمنی مول لے لی ہے۔ عبید اللہ اپنی حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی (رض) اپنے بالوں کو جڑ سے کاٹ دیتے تھے۔
(۸۲۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ جَعْفَرٍ الْمُقْرِئُ سَنَۃَ ثَلاَثٍ وَأَرْبَعِینَ وَثَلاَثَمِائَۃٍ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ الْوَرَّاقُ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَعَفَّانُ وَعُبَیْدُ اللَّہِ وَاللَّفْظُ لِعَفَّانَ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا عَطَائُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ زَاذَانَ أَنَّ عَلِیًّا قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ -ﷺ -قَالَ : ((مَنْ تَرَکَ مَوْضِعَ شَعْرَۃٍ مِنْ جَسَدِہِ مِنْ جَنَابَۃٍ لَمْ یُصِبْہَا الْمَائُ فُعِلَ بِہِ کَذَا وَکَذَا مِنَ النَّارِ))۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۳۴۹]
قَالَ عَلِیٌّ : فَمِنْ ثَمَّ عَادَیْتُ رَأْسِی۔ قَالَ عُبَیْدُ اللَّہِ فِی حَدِیثِہِ : وَکَانَ یَجُزُّ شَعَرَہُ۔
قَالَ عَلِیٌّ : فَمِنْ ثَمَّ عَادَیْتُ رَأْسِی۔ قَالَ عُبَیْدُ اللَّہِ فِی حَدِیثِہِ : وَکَانَ یَجُزُّ شَعَرَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بالوں کی جڑوں میں پانی سے خلال کرنا اور پانی جلد تک پہنچانا
(٨٢٧) سیدنا ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ہر بال کے نیچے جنابت ہے بالوں کو دھوؤ اور جلد کو اچھی طرح صاف کرو۔ “
اس حدیث کو موصول بیان کرنے میں حارث بن وجیہ متفرد ہے اور اس کے متعلق محدثین نے کلام کیا ہے۔
اس حدیث کو موصول بیان کرنے میں حارث بن وجیہ متفرد ہے اور اس کے متعلق محدثین نے کلام کیا ہے۔
(۸۲۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِیٍّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ وَجِیہٍ الرَّاسِبِیُّ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ دِینَارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -قَالَ : ((تَحْتَ کُلِّ شَعَرَۃٍ جَنَابَۃٌ ، فَاغْسِلُوا الشَّعَرَ وَأَنْقُوا الْبَشَرَ))۔ تَفَرَّدَ بِہِ مَوْصُولاً الْحَارِثُ بْنُ وَجِیہٍ۔ وَالْحَارِثُ بْنُ وَجِیہٍ تَکَلَّمُوا فِیہِ۔ [ضعیف أخرجہ ابو داؤد ۲۴۸]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بالوں کی جڑوں میں پانی سے خلال کرنا اور پانی جلد تک پہنچانا
(٨٢٨) سلیمان بن فروخ کہتے ہیں کہ میں ابو ایوب (رض) سے ملا اور میں نے ان سے معافحہ کیا۔ انھوں نے میرے ناخنوں کو لمبا پایا تو فرمایا : ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، اس نے آسمان کی خبر (وحی) کے متعلق سوال کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی آسمان کی خبر کے متعلق سوال کرتا ہے اور اپنے ناخنوں کو پرندوں کے پنجوں کی طرح چھوڑ دیتا ہے جس میں جنابت اور میل کچیل جمع ہوجاتی ہے۔
(ب) اسفاطی کے الفاظ اسی طرح ہیں، قریش راوی سے ایک بڑی جماعت بیان کرتی ہے۔ اس حدیث کو ابوداؤد طیالسی نے بھی نقل فرمایا۔
(ب) اسفاطی کے الفاظ اسی طرح ہیں، قریش راوی سے ایک بڑی جماعت بیان کرتی ہے۔ اس حدیث کو ابوداؤد طیالسی نے بھی نقل فرمایا۔
(۸۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الأَسْفَاطِیُّ یَعْنِی الْعَبَّاسَ بْنَ الْفَضْلِ وَمُحَمَّدُ بْنُ عِیسَی الْوَاسِطِیُّ وَالْحَسَنُ بْنُ سَہْلٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ : ہِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ حَدَّثَنَا قُرَیْشُ بْنُ حَیَّانَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ فَرُّوخٍ قَالَ : لَقِیتُ أَبَا أَیُّوبَ فَصَافَحْتُہُ ، فَوَجَدَ فِی أَظْفَارِی طُولاً قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ -فَسَأَلَہُ عَنْ خَبَرِ السَّمَائِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((یَسْأَلُ أَحَدُکُمْ عَنْ خَبَرِ السَّمَائِ ، وَہُوَ یَدَعُ أَظْفَارَہُ کَأَظْفَارِ الطَّیْرِ یَجْمَعُ فِیہَا الْجَنَابَۃُ وَالتَّفَثُ))۔
لَفْظُ الأَسْفَاطِیِّ ہَکَذَا رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ قُرَیْشٍ۔ وَرَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ۔ [ضعیف۔ أخرجہ احمد ۴۱۷]
لَفْظُ الأَسْفَاطِیِّ ہَکَذَا رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ قُرَیْشٍ۔ وَرَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ۔ [ضعیف۔ أخرجہ احمد ۴۱۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بالوں کی جڑوں میں پانی سے خلال کرنا اور پانی جلد تک پہنچانا
(٨٢٩) وائل بن سلیم کہتے ہیں کہ میں ابو ایوب ازدی (رض) کے پاس آیا، میں نے ان سے مصافحہ کیا تو انھوں نے میرے لمبے ناخنوں کو دیکھا، فرمایا کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، وہ کوئی سوال کرتا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم سے کوئی مجھ سے آسمان کی خبر (وحی) کے متعلق سوال کرتا ہے اور اپنے ناخنوں کو پرندوں کے پنجوں کی طرح چھوڑ دیتا ہے جس میں جنابت اور میل کچیل جمع ہوجاتی ہے۔ یہ روایت مرسل ہے۔ ابو ایوب ازدی ابو ایوب انصاری (رض) کے علاوہ ہیں۔
(۸۲۹) کَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ حَدَّثَنَا قُرَیْشُ بْنُ حَیَّانَ عَنْ وَائِلِ بْنِ سُلَیْمٍ قَالَ: أَتَیْتُ أَبَا أَیُّوبَ الأَزْدِیَّ فَصَافَحْتُہُ فَرَأَی أَظْفَارِی طِوَالاً ، فَقَالَ : أَتَی رَجُلٌ النَّبِیَّ -ﷺ -یَسْأَلُہُ فَقَالَ : یَسْأَلُنِی أَحَدُکُمْ عَنْ خَبَرِ السَّمَائِ ، وَیَدَعُ أَظْفَارَہُ کَأَظْفَارِ الطَّیْرِ یَجْمَعُ فِیہَا الْجَنَابَۃُ وَالتَّفَثُ ۔ وَہَذَا مُرْسَلٌ۔ أَبُو أَیُّوبَ الأَزْدِیُّ غَیْرُ أَبِی أَیُّوبَ الأَنْصَارِیِّ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الطیالسی ۵۹۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮২৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سر پر پانی تکرار سے ڈالنا سنت ہے
(٨٣٠) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب غسل جنابت کا ارادہ کرتے تو برتن میں داخل کرنے سے پہلے ہاتھوں کو دھوتے ، پھر شرم گاہ کو دھوتے، پھر نماز جیسا وضو کرتے، پھر پانی سے بالوں کو تر کرتے، پھر اپنے سر پر تین چلو پانی ڈالتے۔
امام شافعی (رح) اپنی سند سے ہشام سے نقل فرماتے ہیں۔ اس حدیث میں ہے کہ اپنے ہاتھ کو برتن میں داخل کرنے سے پہلے دھوتے۔
امام شافعی (رح) اپنی سند سے ہشام سے نقل فرماتے ہیں۔ اس حدیث میں ہے کہ اپنے ہاتھ کو برتن میں داخل کرنے سے پہلے دھوتے۔
(۸۳۰) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ۔
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -إِذَا أَرَادَ أَنْ یَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَۃِ بَدَأَ فَغَسَلَ یَدَیْہِ قَبْلَ أَنْ یُدْخِلَہُمَا فِی الإِنَائِ ، ثُمَّ یَغْسِلُ فَرْجَہُ ، ثُمَّ یَتَوَضَّأُ وُضُوئَ ہُ لِلصَّلاَۃِ ، ثُمَّ یُشْرِبُ شَعَرَہُ الْمَائَ ، ثُمَّ یَحْثِی عَلَی رَأْسِہِ ثَلاَثَ حَثَیَاتٍ۔
وَقَالَ الشَّافِعِیُّ فِی إِسْنَادِہِ عَنْ ہِشَامٍ وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ : فَغَسَلَ یَدَہُ قَبْلَ أَنْ یُدْخِلَہَا الإِنَائَ ۔
[صحیح۔ أخرجہ ابن خزیمۃ ۲۴۲]
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -إِذَا أَرَادَ أَنْ یَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَۃِ بَدَأَ فَغَسَلَ یَدَیْہِ قَبْلَ أَنْ یُدْخِلَہُمَا فِی الإِنَائِ ، ثُمَّ یَغْسِلُ فَرْجَہُ ، ثُمَّ یَتَوَضَّأُ وُضُوئَ ہُ لِلصَّلاَۃِ ، ثُمَّ یُشْرِبُ شَعَرَہُ الْمَائَ ، ثُمَّ یَحْثِی عَلَی رَأْسِہِ ثَلاَثَ حَثَیَاتٍ۔
وَقَالَ الشَّافِعِیُّ فِی إِسْنَادِہِ عَنْ ہِشَامٍ وَقَالَ فِی الْحَدِیثِ : فَغَسَلَ یَدَہُ قَبْلَ أَنْ یُدْخِلَہَا الإِنَائَ ۔
[صحیح۔ أخرجہ ابن خزیمۃ ۲۴۲]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سر پر پانی تکرار سے ڈالنا سنت ہے
(٨٣١) سیدنا جابر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب غسل جنابت کرتے تو اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالتے ۔ ایک شخص نے کہا : میرے بال بہت گھنے ہیں۔ سیدنا جابر (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بال تجھ سے زیادہ گھنے اور اچھے تھے۔
(۸۳۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاکِ حَدَّثَنَا أَبُو قِلاَبَۃَ : عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مُخَوَّلٍ عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ جَنَابَۃٍ أَفْرَغَ عَلَی رَأْسِہِ ثَلاَثًا۔ فَقَالَ رَجُلٌ : إِنَّ شَعَرِی کَثِیرٌ۔
فَقَالَ جَابِرٌ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -أَکْثَرَ مِنْکَ شَعَرًا وَأَطْیَبَ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۲۵۶]
فَقَالَ جَابِرٌ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -أَکْثَرَ مِنْکَ شَعَرًا وَأَطْیَبَ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۲۵۶]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سر پر پانی تکرار سے ڈالنا سنت ہے
(٨٣٢) سیدنا جابر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے سر پر تین چلوپانی ڈالتے تھے اور آپ جنبی ہوتے تھے۔
(۸۳۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَابِرٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -کَانَ یَغْرِفُ عَلَی رَأْسِہِ ثَلاَثًا وَہُوَ جُنُبٌ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ جَعْفَرٍ۔
[صحیح۔ أخرجہ مسلم ۳۲۹]
[صحیح۔ أخرجہ مسلم ۳۲۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سر پر پانی تکرار سے ڈالنا سنت ہے
(٨٣٣) سیدنا جابر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب غسل جنابت کرتے تو پانی کے تین چلو اپنے سر پر ڈالتے۔ حسن بن محمد نے کہا : میرے بال گھنے ہیں۔ سیدنا جابر (رض) نے فرمایا : میں نے اس سے کہا : اے بھتیجے ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بال اس سے زیادہ گھنے اور اچھے تھے۔
(۸۳۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -إِذَا اغْتَسَلَ مِنْ جَنَابَۃٍ صَبَّ عَلَی رَأْسِہِ ثَلاَثَ حَفَنَاتٍ مِنْ مَائٍ ۔ فَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ : إِنَّ شَعَرِی کَثِیرٌ۔ قَالَ جَابِرٌ فَقُلْتُ لَہُ : یَا ابْنَ أَخِی کَانَ شَعَرُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -أَکْثَرَ مِنْ شَعَرِکَ وَأَطْیَبَ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّی۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۳۲۹]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سر پر پانی تکرار سے ڈالنا سنت ہے
(٨٣٤) سیدنا جبیر بن مطعم (رض) فرماتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس غسل کے متعلق جھگڑا کیا۔ بعض نے کہا : میں اپنے سر کو اس اس طرح دھوتا ہوں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میں اپنے سر پر تین چلو پانی ڈالتا ہوں۔ “
(۸۳۴) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ : عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَزِیدَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ الصَّفَّارُ سَنَۃَ سِتٍّ وَتِسْعِینَ وَمِائَتَیْنِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ صُرَدٍ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ : تَمَارَوْا فِی الْغُسْلِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : أَمَّا أَنَا فَأَغْسِلُ رَأْسِی کَذَا وَکَذَا۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((أَمَّا أَنَا فَإِنِّی أُفِیضُ عَلَی رَأْسِی ثَلاَثَ أَکُفٍّ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۳۲۷]
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۳۲۷]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سر پر پانی تکرار سے ڈالنا سنت ہے
(٨٣٥) سیدنا جبیر بن معطم (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس غسل جنابت کا ذکر کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میں اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالتا ہوں۔ “
(ب) زہیر نے ہاتھوں کی کیفیت بیان کی کہ اندرونی حصہ آسمان کی طرف اور بیرونی زمین کی طرف ہوتا (جب چلو بھرتے) ۔
(ب) زہیر نے ہاتھوں کی کیفیت بیان کی کہ اندرونی حصہ آسمان کی طرف اور بیرونی زمین کی طرف ہوتا (جب چلو بھرتے) ۔
(۸۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِی سُلَیْمَانُ بْنُ صُرَدٍ عَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ : ذَکَرْنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -الْغُسْلَ مِنَ الْجَنَابَۃِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((أَمَّا أَنَا فَأُفِیضُ عَلَی رَأْسِی ثَلاَثَ مَرَّاتٍ))۔
ہَکَذَا وَوَصَفَ زُہَیْرٌ قَالَ : فَجَعَلَ بَاطِنَ کَفَّیْہِ مِمَّا یَلِی السَّمَائَ وَظَاہِرَہُمَا مِمَّا یَلِی الأَرْضَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ عَنْ زُہَیْرٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۲۵۱]
ہَکَذَا وَوَصَفَ زُہَیْرٌ قَالَ : فَجَعَلَ بَاطِنَ کَفَّیْہِ مِمَّا یَلِی السَّمَائَ وَظَاہِرَہُمَا مِمَّا یَلِی الأَرْضَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ عَنْ زُہَیْرٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۲۵۱]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سارے جسم پر پانی بہانا
(٨٣٦) سیدہ میمونہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غسل جنابت کے لیے پانی رکھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دائیں ہاتھ پر پانی ڈالا، پھر اس کو دھویا، پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر ڈالا اور اس کو دھویا، پھر دائیں ہاتھ سے بائیں پر ڈالا اور اپنی شرمگاہ کو دھویا، پھر ہاتھ زمین پر مارا، پھر نماز جیسا وضو کیا، پھر اپنے سر پر ہاتھ سے تین مرتبہ پانی ڈالا، پھر اپنے سارے جسم پر ڈالا، پھر غسل خانے سے الگ جگہ پر اپنے پاؤں کو دھویا، میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رومال دیا تو آپ نے نہیں لیا اور اپنے ہاتھ سے جسم صاف فرمالیا۔
(ب) حفص کہتے ہیں کہ اعمش نے اپنے استاد ابراہیم سے یہ بات بیان کی تو انھوں نے کہا : اس ڈر سے کہ لوگ اس کو عادت نہ بنالیں۔
(ب) حفص کہتے ہیں کہ اعمش نے اپنے استاد ابراہیم سے یہ بات بیان کی تو انھوں نے کہا : اس ڈر سے کہ لوگ اس کو عادت نہ بنالیں۔
(۸۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ سَالِمٍ عَنْ کُرَیْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَیْمُونَۃَ قَالَتْ : وَضَعْتُ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -غُسْلاً مِنَ الْجَنَابَۃِ فَأَفْرَغَ عَلَی یَمِینِہِ فَغَسَلَہَا ثُمَّ أَفْرَغَ بِیَمِینِہِ عَلَی یَسَارِہِ فَغَسَلَہَا ، ثُمَّ أَفْرَغَ بِیَمِینِہِ عَلَی یَسَارِہِ فَغَسَلَ فَرْجَہُ ، ثُمَّ ضَرَبَ بِیَدِہِ عَلَی الأَرْضِ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوئَ ہُ لِلصَّلاَۃِ ، ثُمَّ أَفْرَغَ عَلَی رَأْسِہِ بِیَدِہِ ثَلاَثًا ثُمَّ سَائِرِ جَسَدِہِ ، ثُمَّ تَنَحَّی عَنْ مُغْتَسَلِہِ فَغَسَلَ رِجْلَیْہِ ، فَنَاوَلْتُہُ مِنْدِیلاً فَلَمْ یَأْخُذْہُ وَجَعَلَ یَنْفُضُ بِیَدِہِ۔ قَالَ حَفْصٌ قَالَ الأَعْمَشُ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لإِبْرَاہِیمَ فَقَالَ : إِنَّمَا کَرِہُوا ذَلِکَ مَخَافَۃَ الْعَادَۃِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ عَنْ أَبِیہِ۔
وَرُوِّینَا فِی ذَلِکَ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۲۷۰]
وَرُوِّینَا فِی ذَلِکَ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۲۷۰]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی کے چھینٹے آنکھوں میں مارنا اور انگلی کو ناف میں داخل کرنا
(٨٣٧) سیدنا ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غسل جنات کرتے تو پانی کے چھینٹے آنکھوں میں مارتے اور اپنی انگلی ناف میں داخل کرتے۔
(۸۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ الْفَسَوِیُّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : کَانَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَۃِ نَضَحَ الْمَائَ فِی عَیْنَیْہِ وَأَدْخَلَ أَصْبَعَہُ فِی سُرَّتِہِ۔ مَوْقُوفٌ۔
[صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر۷/۱۴]
[صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر۷/۱۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی کے چھینٹے آنکھوں میں مارنا اور انگلی کو ناف میں داخل کرنا
(٨٣٨) سیدنا ابن عمر (رض) جب غسل جنابت کرتے تو اپنی آنکھوں میں پانی کے چھینٹے مارتے۔ (ب) امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ اس پر عمل نہیں ہے۔ (ج) شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ آنکھوں پر چھینٹے مارنا ضروری نہیں ہے ؛اس لیے کہ یہ بدن میں ظاہر نہیں ہیں۔ (د) شیخ کہتے ہیں : یہ روایت مرفوع بھی بیان کی گئی ہے لیکن اس کی سند صحیح نہیں۔
(۸۳۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّہُ کَانَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَۃِ نَضَحَ فِی عَیْنَیْہِ الْمَائَ ۔
قَالَ مَالِکٌ : لَیْسَ عَلَیْہِ الْعَمَلُ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : لَیْسَ عَلَیْہِ أَنْ یَنْضَحَ فِی عَیْنَیْہِ لأَنَّہُمَا لَیْسَتَا ظَاہِرَتَیْنِ مِنْ بَدَنِہِ۔
قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ رُوِیَ مَرْفُوعًا وَلاَ یَصِحُّ سَنَدُہُ۔ [صحیح۔ أخرجہ مالک ۵۴]
قَالَ مَالِکٌ : لَیْسَ عَلَیْہِ الْعَمَلُ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : لَیْسَ عَلَیْہِ أَنْ یَنْضَحَ فِی عَیْنَیْہِ لأَنَّہُمَا لَیْسَتَا ظَاہِرَتَیْنِ مِنْ بَدَنِہِ۔
قَالَ الشَّیْخُ وَقَدْ رُوِیَ مَرْفُوعًا وَلاَ یَصِحُّ سَنَدُہُ۔ [صحیح۔ أخرجہ مالک ۵۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غسل میں کلی اور ناک میں پانی چڑھانے کی تاکید اور ترتیب سے وضو کی جگہوں کو دھونے کا بیان
(٨٤٩) (الف) سیدنا ابن عباس (رض) اپنی خالہ میمونہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے غسل کا پانی رکھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غسل جنابت کیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے برتن کو بائیں ہاتھ کے ساتھ اپنے دائیں ہاتھ پر انڈیلا اور اپنی ہتھیلیوں کو تین مرتبہ دھویا، پھر شرم گاہ پر پانی بہاکر اس کو دھویا، پھر ہاتھ زمین پر یا دیوار پر مارا ، اس کو ملا ، پھر کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور اپنا چہرہ اور بازو دھوئے اور اپنے سر پر پانی بہایا، پھر اپنے سارے جسم پر پانی بہایا ۔ پھر (اس جگہ سے) الگ ہوئے، اپنے پاؤں دھوئے، میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے کپڑا لے کر آئی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا یعنی اس کو واپس کردیا۔
(ب) ایک روایت میں ہے کہ پھر اپنے سارے جسم کو دھویا اور وضو کی جگہوں کو دوبارہ نہیں دھویا۔
(ب) ایک روایت میں ہے کہ پھر اپنے سارے جسم کو دھویا اور وضو کی جگہوں کو دوبارہ نہیں دھویا۔
(۸۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی أَبُو یَعْلَی حَدَّثَنَا زُہَیْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ أَخْبَرَنَا الأَعْمَشُ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ عَنْ کُرَیْبٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ خَالَتِہِ مَیْمُونَۃَ قَالَتْ : وَضَعْتُ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -غُسْلاً فَاغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَۃِ ، فَأَکْفَأَ الإِنَائَ بِشِمَالِہِ عَلَی یَمِینِہِ ، فَغَسَلَ کَفَّیْہِ ثَلاَثًا ، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَی فَرْجِہِ فَغَسَلَہُ ، ثُمَّ قَالَ بِیَدِہِ عَلَی الْحَائِطَ أَوْ عَلَی الأَرْضِ فَدَلَکَہَا ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ، وَغَسَلَ وَجْہَہُ وَذِرَاعَیْہِ ، وَأَفَاضَ عَلَی رَأْسِہِ ثُمَّ أَفَاضَ عَلَی سَائِرِ جَسَدِہِ ، ثُمَّ تَنَحَّی فَغَسَلَ رِجْلَیْہِ ، فَأَتَیْتُہُ بِثَوْبٍ فَقَالَ بِیَدِہِ ہَکَذَا یَعْنِی رَدَّہُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنِ الأَعْمَشِ ، وَاحْتَجَّ بِہِ فِیمَنْ تَوَضَّأَ مِنَ الْجَنَابَۃِ ، ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ جَسَدِہِ وَلَمْ یُعِدْ غَسْلَ مَوَاضِعِ الْوُضُوئِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَغَیْرِہِ عَنْ وَکِیعٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۲۵۴]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ أَوْجُہٍ عَنِ الأَعْمَشِ ، وَاحْتَجَّ بِہِ فِیمَنْ تَوَضَّأَ مِنَ الْجَنَابَۃِ ، ثُمَّ غَسَلَ سَائِرَ جَسَدِہِ وَلَمْ یُعِدْ غَسْلَ مَوَاضِعِ الْوُضُوئِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ وَغَیْرِہِ عَنْ وَکِیعٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۲۵۴]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৩৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو غسل میں داخل ہے اور کلی اور ناک میں پانی چڑھانے سے فرض ساقط ہوجاتا ہے
(٨٤٠) سیدنا جبیر بن مطعم فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس غسل جنابت کا ذکر کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میں اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالتا ہوں۔ “
(۸۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ سُلَیْمَانَ بْنَ صُرَدٍ سَمِعْتُ جُبَیْرَ بْنَ مُطْعِمٍ یَقُولُ : ذُکِرَ غُسْلُ الْجَنَابَۃِ عِنْدَ النَّبِیِّ -ﷺ -فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((أَمَّا أَنَا فَأُفِیضُ عَلَی رَأْسِی ثَلاَثًا))۔ مُخَرَّجٌ فِی کِتَابِ مُسْلِمٍ مِنْ حَدِیثِ شُعْبَۃَ۔ [صحیح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو غسل میں داخل ہے اور کلی اور ناک میں پانی چڑھانے سے فرض ساقط ہوجاتا ہے
(٨٤١) سیدنا جابر (رض) فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے، انھوں نے غسل جنابت کے متعلق سوال کیا اور عرض کیا کہ ہم ٹھنڈے علاقے میں رہتے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تمہارا اپنے سر پر تین چلو پانی ڈالنا کافی ہیں۔ “
(۸۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَابِرٍ : أَنَّ أُنَاسًا قَدِمُوا عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -فَسَأَلُوہُ عَنْ غُسْلِ الْجَنَابَۃِ وَقَالُوا : إِنَّا بِأَرْضٍ بَارِدَۃٍ۔ فَقَالَ : ((إِنَّمَا یَکْفِی أَحَدَکُمْ أَنْ یَحْفِنَ عَلَی رَأْسِہِ ثَلاَثَ حَفَنَاتٍ))۔ مُخَرَّجٌ فِی صَحِیحِ مُسْلِمٍ مِنْ حَدِیثِ جَعْفَرٍ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۳۲۸]
তাহকীক: