আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬৭৩ টি

হাদীস নং: ৮৪১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو غسل میں داخل ہے اور کلی اور ناک میں پانی چڑھانے سے فرض ساقط ہوجاتا ہے
(٨٤٢) سیدنا جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ اہل طائف نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہمارا علاقہ بہت ٹھنڈا ہے تو ہمیں جنابت کے غسل سے کیا کفایت کرے گا ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” میں اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈالتا ہوں۔ “
(۸۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ أَبِی بِشْرٍ عَنْ أَبِی سُفْیَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ : أَنَّ أَہْلَ الطَّائِفِ قَالُوا : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضٌ بَارِدَۃٌ ، فَمَا یُجْزِئُنَا مِنْ غُسْلِ الْجَنَابَۃِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((أَمَّا أَنَا فَأُفْرِغُ عَلَی رَأْسِی ثَلاَثًا))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَغَیْرِہِ عَنْ ہُشَیْمٍ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو غسل میں داخل ہے اور کلی اور ناک میں پانی چڑھانے سے فرض ساقط ہوجاتا ہے
(٨٤٣) سیدہ ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں اپنے سر کی مینڈیوں کو سختی سے باندھتی ہوں، کیا میں غسل جنابت کے لیے ان کو کھولوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” نہیں تجھ کو تین چلو ڈالنا ہی کافی ہیں، پھر تو اس پر پانی بہالے اور طہارت حاصل کر “ یا فرمایا : ” اس وقت تو پاک ہوجائے گی۔ “
(۸۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ مَرَّۃً بَعْدَ مَرَّۃٍ عَنْ أَیُّوبَ بْنِ مُوسَی عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَی أُمِّ سَلَمَۃَ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی امْرَأَۃٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِی أَفَأَنْقُضُہُ لِغُسْلِ الْجَنَابَۃِ؟ قَالَ : ((لاَ ، إِنَّمَا یَکْفِیکِ أَنْ تَحْثِی عَلَیْہِ ثَلاَثَ حَثَیَاتٍ ، ثُمَّ تُفِیضِی عَلَیْکِ الْمَائَ فَتَطْہُرِی))۔ أَوْ قَالَ : ((فَإِذَا أَنْتِ قَدْ طَہُرْتِ))۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَجَمَاعَۃٍ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ۔

[صحیح۔ أخرجہ مسلم ۳۳۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو غسل میں داخل ہے اور کلی اور ناک میں پانی چڑھانے سے فرض ساقط ہوجاتا ہے
(٨٤٤) سالم بن عبداللہ بن عمر (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ کونسا وضو غسل سے زیادہ مکمل ہے جب کہ عام (وضو میں) شرمگاہ دھونے سے پرہیز کیا جاتا ہے۔
(۸۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ أَخْبَرَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : وَأَیُّ وُضُوئٍ أَتَمُّ مِنَ الْغُسْلِ إِذَا اجْتُنِبَ الْفَرْجُ۔ [صحیح أخرجہ عبد الرزاق ۱۰۳۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو غسل میں داخل ہے اور کلی اور ناک میں پانی چڑھانے سے فرض ساقط ہوجاتا ہے
(٨٤٥) یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ انھوں نے سعید بن مسیب سے اس شخص کے متعلق سوال کیا جو غسل جنابت کرتا ہے کیا اس کو وضو کفایت کر جائے گا ؟ انھوں نے فرمایا : ہاں البتہ وہ اپنے قدم دھولے۔

حسن بصری اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو جنابت میں کلی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا بھول گیا فرمایا : نماز دوبارہ نہیں لوٹائے گا۔
(۸۴۵) وَبِہَذَا الإِسْنَادِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ قَالَ : سَأَلُوا سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ عَنِ الرَّجُلِ یَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَۃِ أَیَکْفِیہِ ذَلِکَ مِنَ الْوُضُوئِ؟ قَالَ : نَعَمْ وَلْیَغْسِلْ قَدَمَیْہِ۔

وَرُوِّینَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِیِّ أَنَّہُ قَالَ فِی الَّذِی نَسِیَ الْمَضْمَضَۃَ وَالاِسْتِنْشَاقَ فِی الْجَنَابَۃِ قَالَ : لاَ یُعِیدُ الصَّلاَۃَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غسل کے فرائض اور تکرا رکی فرضیت کے ساقط ہونے کا بیان
(٨٤٦) عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔۔۔ نماز کے لیے اذان کہی گئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو نماز پڑھائی، جب نماز سے پھرے تو دیکھا ایک شخص الگ بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اے فلاں ! کس نے تجھے منع کیا کہ تو قوم کے ساتھ نماز ادا کرتا ؟ “ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں جنبی ہوگیا اور پانی نہیں تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تو مٹی کو لازم پکڑتا، بیشک وہ کفایت کر جاتی ہے اور پھر لمبی حدیث بیان کی ۔۔۔ فرماتے ہیں : آپ نے اس کو پانی کا برتن دیا اور فرمایا : ” جا اس کو اپنے اوپر ڈال لے۔ “
(۸۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ یَعْقُوبَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِی جَمِیلَۃَ عَنْ أَبِی رَجَائٍ الْعُطَارِدِیِّ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ : کُنَّا فِی سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ : وَنَادَی بِالصَّلاَۃِ فَصَلَّی بِالنَّاسِ فَلَمَّا انْفَتَلَ مِنَ الصَّلاَۃِ إِذَا رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ لَمْ یُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ قَالَ : ((مَا مَنَعَکَ یَا فُلاَنُ أَنْ تُصَلِّیَ مَعَ الْقَوْمِ؟))۔ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَصَابَتْنِی الْجَنَابَۃُ وَلاَ مَائَ ۔ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((عَلَیْکَ بِالصَّعِیدِ فَإِنَّہُ یَکْفِیکَ))۔ وَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَ : وَکَانَ آخِرَ ذَلِکَ أَنْ أَعْطَی الَّذِی أَصَابَتْہُ الْجَنَابَۃُ إِنَائً مِنْ مَائٍ فَقَالَ : ((اذْہَبْ فَأَفْرِغْہُ عَلَیْکَ))۔ مُخَرَّجٌ فِی الصَّحِیحَیْنِ مِنْ حَدِیثِ عَوْفِ بْنِ أَبِی جَمِیلَۃَ۔[صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غسل کے فرائض اور تکرا رکی فرضیت کے ساقط ہونے کا بیان
(٨٤٧) قلابہ بنی عامر قبیلے کے ایک شخص سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے ابو ذر (رض) کو دیکھا، انھوں نے جنابت والی حدیث بیان کی جس میں ان کے جنبی ہونے کا ذکر ہے اور (ان کے پاس) پانی نہیں تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اے ابو ذر ! پاک مٹی تجھ کو کافی تھی ، اگرچہ دس سال بھی پانی نہ ملے اور جب تو پانی پائے تو اپنے جسم کو لگا (یعنی غسل کر) ۔
(۸۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ وَحَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بِنَی عَامِرٍ قَالَ : رَأَیْتُ أَبَا ذَرٍّ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی الْجَنَابَۃِ تُصِیبُہُ وَلاَ مَائَ ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((یَا أَبَا ذَرٍّ الصَّعِیدُ الطَّیِّبُ کَافِیکَ وَإِنْ لَمْ تَجِدِ الْمَائَ عَشْرَ سِنِینَ فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَائَ فَأَمِسَّہُ جِلْدَکَ))۔

قَالَ یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَفْصٍ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ یَعْنِی بِذَلِکَ۔ [صحیح لغیرہٖ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غسل کے فرائض اور تکرا رکی فرضیت کے ساقط ہونے کا بیان
(٨٤٨) (الف) سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نمازیں پچاس تھیں اور غسل جنابت سات بار تھا اور پیشاب کو کپڑے سے دھونا سات بار تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوال کرتے رہے، یہاں تک کہ نمازیں پانچ اور غسل جنابت ایک مرتبہ اور پیشاب کو کپڑے سے دھونا ایک مرتبہ مقرر کردیا گیا۔

(ب) امام شافعی سے منقول ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ہر بال کے نیچے جنابت ہے، لہٰذا بالوں کو تر کرو اور جلد کو صاف کرو “۔
(۸۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ بْنُ جَابِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عِصْمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : کَانَتِ الصَّلاَۃُ خَمْسِینَ وَالْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَۃِ سَبْعَ مِرَارٍ ، وَغَسْلُ الثَّوْبِ مِنَ الْبَوْلِ سَبْعَ مِرَارٍ ، فَلَمْ یَزَلْ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -یَسْأَلُ حَتَّی جُعِلَ الصَّلاَۃُ خَمْسًا وَغُسْلُ الْجَنَابَۃِ مَرَّۃً ، وَغَسْلُ الثَّوْبِ مِنَ الْبَوْلِ مَرَّۃً۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ فِیمَا حُکِیَ عَنْہُ : فَأَمَّا مَا رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -: تَحْتَ کُلِّ شَعَرَۃٍ جَنَابَۃٌ ، فَبُلُّوا الشَّعَرَ وَأَنْقُوا الْبَشْرَۃَ ۔ فَإِنَّہُ لَیْسَ بِثَابِتٍ۔ یَعْنِی مَا۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۲۴۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غسل کے فرائض اور تکرا رکی فرضیت کے ساقط ہونے کا بیان
(٨٤٩) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ہر بال کے نیچے جنابت ہے بالوں کو تر کرو اور جلد کو اچھی طرح صاف کرو۔ “

(ب) حارث بن وجیہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کی کوئی حیثیت نہیں۔

(ج) محدثین میں سے امام بخاری (رح) ، امام ابوداؤد (رح) اور دوسروں نے اس کا انکار کیا ہے۔ حسن بصری (رح) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرسل روایت بیان کرتے ہیں، اسی طرح امام حسن بصری سیدنا ابوہریرہ (رض) سے موقوف روایت بیان کرتے ہیں، امام نخعی (رح) سے بھی اسی طرح نقل کیا گیا ہے۔

(د) امام شافعی (رح) نے اس بات پر محمول کیا ہے کہ ناک اور منہ پوشیدہ اعضاء میں داخل ہیں، انھوں نے آنکھوں اور کانوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ شیخ کہتے ہیں کہ جس نے امام شافعی (رح) کے ساتھ اس مسئلہ میں کلام کیا تو قیاس یہ ہے کہ وہ غسل نہیں دہرائے گا لیکن ہم نے سیدنا ابن عباس (رض) سے نقل کیا ہے۔
(۸۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَدِیٍّ أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ حُبَابٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِی حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ وَجِیہٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ دِینَارٍ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((تَحْتَ کُلِّ شَعْرَۃٍ جَنَابَۃٌ ، فَبُلُّوا الشَّعَرَ وَأَنْقُوا الْبَشَرَۃَ)) ۔

تَفَرَّدَ بِہِ ہَکَذَا الْحَارِثُ بْنُ وَجِیہٍ۔

وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ : سَأَلْتُ یَحْیَی بْنَ مَعِینٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ وَجِیہٍ فَقَالَ : لَیْسَ حَدِیثُہُ بِشَیْئٍ ۔

وَأَنْکَرَہُ غَیْرُہُ أَیْضًا مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِیثِ الْبُخَارِیُّ وَأَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ وَغَیْرُہُمَا ، وَإِنَّمَا یُرْوَی عَنِ الْحَسَنِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -مُرْسَلاً۔

وَعَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ مَوْقُوفًا ، وَعَنِ النَّخَعِیِّ۔ کَانَ یُقَالُ۔

وَقَدْ حَمَلَہُ الشَّافِعِیُّ فِی رِوَایَۃِ الزَّعْفَرَانِیِّ وَغَیْرِہِ عَنْہُ عَلَی مَا ظَہَرَ وَدَاخِلِ الأَنْفِ وَالْفَمِ مِمَّا بَطْنَ ، فَأَشْبَہَ دَاخِلَ الْعَیْنَیْنِ وَدَاخِلَ الأُذُنَیْنِ ، فَقَالَ مَنْ تَکَلَّمَ فِیہَا مَعَ الشَّافِعِیِّ : الْقِیَاسُ أَنْ لاَ یُعِیدَ وَلَکِنَّا أَخَذْنَا بِالأَثَرِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔ یَعْنِی۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غسل کے فرائض اور تکرا رکی فرضیت کے ساقط ہونے کا بیان
(٨٥٠) سیدنا ابن عباس (رض) فرماتے ہیں وہ دوبارہ (غسل) نہیں کرے گا مگر جنبی ہوا تو کرے گا۔ یعنی کلی اور ناک میں پانی چڑھائے گا۔

(ب) علی بن عمر فرماتے ہیں کہ عائشہ بنت عجرد کی سیدنا ابن عباس (رض) سے یہی روایت ہے۔

(ج) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : ان کا اثر وہ ہے جس کی سند عثمان بن راشد عن عائشہ بنت عجرد عن ابن عباس (رض) ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ حدیث ثابت ہے۔ اس کی وجہ سے قیاس کو ترک کردیا جائے گا اور یہ ہم پر عیب ہے کہ ہم حدیث بسرہ بنت صفوان (رض) کو لیں۔

(د) عثمان اور عائشہ غیر معروف ہیں اور ان کے شہروں کا علم نہیں۔ شیخ کہتے ہیں : اس حدیث کو حجاج بن ارطاۃ عن عائشہ بنت عجرد روایت کیا گیا ہے۔ حجاج بن ارطاۃ قابل حجت نہیں۔
(۸۵۰) مَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ حَدَّثَنَا أَبُو حَنِیفَۃَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ رَاشِدٍ عَنْ عَائِشَۃَ بِنْتِ عَجْرَدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لاَ یُعِیدُ إِلاَّ أَنْ یَکُونَ جُنُبًا یَعْنِی الْمَضْمَضَۃَ وَالاِسْتِنْشَاقَ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنْ عُثْمَانَ۔ قَالَ عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ : لَیْسَ لِعَائِشَۃَ بِنْتِ عَجْرَدٍ إِلاَّ ہَذَا الْحَدِیثُ۔

قَالَ الشَّافِعِیُّ: أَثَرُہُ الَّذِی یَعْتَمِدُ عَلَیْہِ عُثْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ عَائِشَۃَ بِنْتِ عَجْرَدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَزَعَمَ أَنَّ ہَذَا الأَثَرَ ثَابِتٌ یُتْرَکُ لَہُ الْقِیَاسُ وَہُوَ یَعِیبُ عَلَیْنَا أَنْ نَأْخُذَ بِحَدِیثِ بُسْرَۃَ بِنْتِ صَفْوَانَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ-۔

وَعُثْمَانُ وَعَائِشَۃُ غَیْرُ مَعْرُوفِینَ بِبَلَدِہِمَا، وَکَیْفَ یَجُوزُ لأَحَدٍ یَعْلَمُ أَنْ یُثَبِّتَ ضَعِیفًا مَجْہُولاً وَیُوَہِّنَ قَوِیًّا مَعْرُوفًا۔

قَالَ الشَّیْخُ : وَرَوَاہُ الْحَجَّاجَ بْنُ أَرْطَاۃَ عَنْ عَائِشَۃَ بِنْتِ عَجْرَدٍ۔

وَالْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاۃَ لَیْسَ بِحَجَّۃٍ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۱۱۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غسل کے بعد وضو نہ کرنا
(٨٥١) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غسل کرتے تھے، پھر صبح کی دو رکعتیں ادا کرتے تھے اور میرا خیال نہیں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غسل کے بعد نیا وضو کرتے ہوں۔
(۸۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الأَسْفَاطِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -کَانَ یَغْتَسِلُ ثُمَّ یُصَلِّی الرَّکْعَتَیْنِ صَلاَۃَ الْفَجْرِ وَلاَ أَرَاہُ یُحْدِثُ وُضُوئًا بَعْدَ الْغُسْلِ۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۲۵۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غسل کے بعد وضو نہ کرنا
(٨٥٢) سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غسل جنابت کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۔
(۸۵۲) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّیْدَلاَنِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ الَّلہِ -ﷺ -لاَ یَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَۃِ۔ [صحیح۔ أخرجہ الترمذی ۱۰۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کا جنابت اور حیض سے غسل کرنا
(٨٥٣) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ اسماء بنت شکل (رض) نے حیض کے غسل کے متعلق سوال کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تو بیری کے پتوں اور پانی کے ساتھ اچھی طرح طہارت حاصل کر، پھر اپنے سر پر پانی ڈال اور اچھی طرح اس کو مل یہاں تک کہ بالوں کے اندر پہنچ جائے، پھر اس پر پانی ڈال، پھر خوشبو لگا ہوا روئی کا پھایا لے اس سے طہارت حاصل کر۔ فرماتی ہیں : میں نے کہا : میں اس سے کس طرح طہارت حاصل کروں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” سبحان اللہ ! اس سے طہارت حاصل کر اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پردہ کیا۔ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : اس کو خون کے نشان پر لگا اور اس نے جنابت کے غسل کے متعلق سوال کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پانی لے اس سے اچھی طرح طہارت حاصل کر اور اس کو (اچھی طرح جلد تک) پہنچا ۔ پھر اپنے سر پر پانی ڈال پھر اس کو مل یہاں تک کہ بالوں کے اندر تک پہنچ جائے، پھر اپنے اوپر پانی ڈال لے۔ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : بہترین عورتیں انصار کی عورتیں ہیں ان کو حیا نہیں روکتی کہ وہ دین کے متعلق سوال کریں اور اس کو سمجھیں۔
(۸۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْبَخْتَرِیِّ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ إِبْرَاہِیمَ وَہُوَ ابْنُ مُہَاجِرٍ عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ شَیْبَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ أَسْمَائَ یَعْنِی بِنْتَ شَکَلٍ سَأَلَتِ النَّبِیَّ -ﷺ -عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْحَیْضِ فَقَالَ : تَأْخُذُ إِحْدَاکُنَّ مَائَ ہَا وَسِدْرَتَہَا فَتَطَّہَّرُ ، فَتُحْسِنُ الطُّہُورَ ثُمَّ تَصُبُّ عَلَی رَأْسِہَا الْمَائَ وَتَدْلُکُہُ دَلْکًا شَدِیدًا حَتَّی تَبْلُغَ شُئُونَ رَأْسِہَا ثُمَّ تَصُبُّ عَلَیْہَا الْمَائَ ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَۃً مُمَسَّکَۃً تَطَّہَّرُ بِہَا۔ قَالَتْ : کَیْفَ أَتَطَہَّرُ بِہَا؟ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّہِ تَطَہَّرِی بِہَا۔ وَاسْتَتَرَ، قَالَتْ عَائِشَۃُ: تَتَبَّعِی بِہَا أَثَرَ الدَّمِ، وَسَأَلَتْہُ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَۃِ فَقَالَ: تَأْخُذِینَ مَائَ کِ فَتَطَہَّرِینَ أَحْسَنَ الطُّہُورَ وَأَبْلَغَہُ ، ثُمَّ تَصُبِّینَ عَلَی رَأْسِکِ الْمَائَ ، ثُمَّ تَدْلُکِیہِ حَتَّی یَبْلُغَ شُئُونَ رَأْسِکِ، ثُمَّ تُفِیضِینَ عَلَیْکِ الْمَائَ۔ وَقَالَتْ عَائِشَۃُ: نِعْمَ النِّسَائُ نِسَائُ الأَنْصَارِ لَمْ یَکُنْ یَمْنَعُہُنَّ الْحَیَائُ أَنْ یَسْأَلْنَ عَنِ الدِّینِ وَیَتَفَقَّہْنَ فِیہِ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مُعَاذٍ کَذَا فِی کِتَابِنَا : شُئُونَ ۔ وَأَہْلُ اللُّغَۃِ یَقُولُونَ سُورَ أَوْ شَوَی وَقَالُوا : سُورُہُ أَعْلاَہُ ، وَشَوَاہُ جِلْدُہُ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۳۳۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کا جنابت اور حیض سے غسل کرنا
(٨٥٤) جمیع بن عمیر أخو بنی تیم اللہ بن ثعلبہ کے بھائی ہیں فرماتے ہیں کہ میں اپنی ماں اور خالہ کے ساتھ عائشہ (رض) کے پاس آئے، ان دونوں میں سے ایک نے سیدہ عائشہ (رض) سے سوال کیا کہ غسل کے وقت تم کس طرح کرتے تھے ؟ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز جیسا وضو کرتے تھے، پھر اپنے سرپر تین مرتبہ پانی بہاتے تھے اور ہم اپنے سروں پر مینڈھیوں کی وجہ سے پانچ مرتبہ پانی ڈالتی تھیں۔
(۸۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ بْنُ قُدَامَۃَ عَنْ صَدَقَۃَ حَدَّثَنَا جُمَیْعُ بْنُ عُمَیْرٍ أَخُو بَنِی تَیْمِ اللَّہِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ أُمِّی وَخَالَتِی عَلَی عَائِشَۃَ فَسَأَلَتْہَا إِحْدَاہُمَا : کَیْفَ کُنْتُمْ تَصْنَعُونَ عِنْدَ الْغُسْلِ؟ فَقَالَتْ عَائِشَۃُ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -یَتَوَضَّأُ وُضُوئَ ہُ لِلصَّلاَۃِ ثُمَّ یُفِیضُ عَلَی رَأْسِہِ ثَلاَثَ مِرَارٍ ، وَنَحْنُ نُفِیضُ عَلَی رُئُوسِنَا خَمْسًا مِنْ أَجْلِ الضُّفُرِ۔ [ضعیف۔ جدًا أخرجہ ابو داؤد ۲۴۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کا جنابت اور حیض سے غسل کرنا
(٨٥٥) حذیفہ سے روایت ہے کہ پانی سے خلال کرو۔ اگر خلال نہ کیا تو تھوڑی جگہ بھی آگ میں جانے کا سبب ہے۔
(۸۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَیْہِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ ہَمَّامٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ أَنَّہُ قَالَ: خَلِّلْہَا بِالْمَائِ لاَ تُخَلِّلْہَا نَارٌ قَلِیلٌ بُقْیَاہَا۔

وَرَوَاہُ الثَّوْرِیُّ عَنْ مَنْصُورٍ بِإِسْنَادِہِ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ أَنَّہُ قَالَ لاِمْرَأَتِہِ : خَلِّلِی رَأْسَکِ بِالْمَائِ لاَ تُخَلِّلْہُ نَارٌ قَلِیلٌ بُقْیَاہَا عَلَیْہِ۔ [صحیح۔ أخرجہ الدارمی ۱۱۴۸]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت اپنے سر کی مینڈھوں کو نہ کھولے جب اس کو معلوم ہو کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ گیا ہے
(٨٥٦) سیدہ ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں اپنے سر کی مینڈھیوں کو سختی سے باندھتی ہوں یا فرمایا : کیا اپنے سر کی لٹوں کو میں حیض اور جنابت (سے غسل) کے لیے کھولوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” نہیں ! یہی کافی ہے کہ اپنے اوپر تین چلوپانی ڈال لو پھر یقیناً تو پاک ہوجائے گی۔ “
(۸۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِیُّ عَنْ أَیُّوبَ بْنِ مُوسَی عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَی أُمِّ سَلَمَۃَ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ قُلْتُ : یا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّی امْرَأَۃٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِی أَوْ قَالَتْ عِقَصَ رَأْسِی أَفَأَنْقُضُہُ لِلْجَنَابَۃِ وَالْحَیْضَۃِ؟ قَالَ : لاَ ، إِنَّمَا یَکْفِیکِ أَنْ تُفْرِغِی عَلَیْکِ ثَلاَثَ حَفَنَاتٍ ثُمَّ قَدْ طَہُرْتِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔

[صحیح۔ أخرجہ مسلم ۳۳۰]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کا جنابت اور حیض سے غسل کرنا
(٨٥٧) سعید بن ابو سعید مقبری نے سیدہ ام سلمہ (رض) سے سنا کہ انصار کی ایک عورت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور میں بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھی، اس نے کہا : میں اپنے سر کی مینڈھیاں سختی سے باندھتی ہوں، جب میں غسل جنابت کروں تو کیسے کروں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اپنے سر پر تین چلو پانی ڈال لے پھر ہر چلو کے نشان پر چھینٹے مار۔ “
(۸۵۷) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ: جَائَ تْ امْرَأَۃٌ مِنَ الأَنْصَارِ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -وَأَنَا عِنْدَہُ فَقَالَتْ : إِنِّی امْرَأَۃٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِی ، فَکَیْفَ أَصْنَعُ حِینَ أَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَۃِ؟ قَالَ: احْفِنِی عَلَی رَأْسِکِ ثَلاَثَ حَفَنَاتٍ ، ثُمَّ اغْمِزِی أَثَرَ کُلِّ حَفْنَۃٍ۔ قَصَّرَ بِإِسْنَادِہِ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ فِی رِوَایَۃِ ابْنِ وَہْبٍ عَنْہُ أَنَّ سَعِیدًا سَمِعَہُ مِنْ أُمِّ سَلَمَۃَ وَذَلِکَ فِیمَا۔

[صحیح لغیرہ۔ أخرجہ الدارمی ۱۱۵۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کا جنابت اور حیض سے غسل کرنا
(٨٥٨) سعید بن ابو سعید مقبری نے سیدہ ام سلمہ (رض) سے سنا کہ ایک عورت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور کہا : اے اللہ کے رسول ! میں اپنے سر کی مینڈھیاں سختی سے باندھتی ہوں، جب میں غسل کروں تو کیسے کروں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اپنے سر پر تین چلوپانی ڈال لے ، پھر ہر چلو کے نشان پر چھینٹے مار، تجھے کفایت کر جائیں گے۔ “
(۸۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُوزَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُوبَکْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُوالْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عَبْدِالْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ قُرِئَ عَلَی ابْنِ وَہْبٍ أَخْبَرَکَ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ اللَّیْثِیُّ أَنَّ سَعِیدَ بْنَ أَبِی سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیَّ حَدَّثَہُ أَنَّہُ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ -تَقُولُ: جَائَ تِ امْرَأَۃٌ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -فَقَالَتْ: یَارَسُولَ اللَّہِ إِنِّی امْرَأَۃٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِی؟ فَکَیْفَ أَصْنَعُ إِذَا اغْتَسَلْتُ؟ قَالَ: ((احْفِنِی عَلَی رَأْسِکِ ثَلاَثَ حَفَنَاتٍ، ثُمَّ اغْمِزِیہِ عَلَی إِثْرِ کُلِّ حَفْنَۃٍ یَکْفِیکِ))۔

وَرِوَایَۃُ أَیُّوبَ بْنِ مُوسَی أَصَحُّ مِنْ رِوَایَۃِ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ وَقَدْ حَفِظَ فِی إِسْنَادِہِ مَا لَمْ یَحْفَظْ أُسَامَۃُ بْنُ زَیْدٍ۔

[صحیح لغیرہٖ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کا جنابت اور حیض سے غسل کرنا
(٨٥٩) عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ (رض) کو یہ بات پہنچی کہ عبداللہ بن عمر (رض) عورتوں کو حکم دیتے تھے کہ جب وہ غسل کریں تو اپنے سروں کو کھولیں، عائشہ (رض) نے کہا : تعجب ہے ابن عمر کے لیے کہ وہ یہ حکم کیوں نہیں دیتا کہ وہ اپنے سروں کو منڈوا لیں۔ میں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے۔ میں اپنے سر پر تین چلو ڈالنے سے زیادہ نہیں کرتی تھی۔
(۸۵۹) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ

(ح) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْکَعْبِیُّ وَاللَّفْظُ لَہُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ عُبَیْدِ بْنِ عُمَیْرٍ قَالَ : بَلَغَ عَائِشَۃَ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَمْرٍو یَأْمُرُ النِّسَائَ إِذَا اغْتَسَلْنَ أَنْ یَنْقُضْنَ رَئُوسَہُنَّ فَقَالَتْ : یَا عَجَبًا لاِبْنِ عَمْرٍو ہَذَا أَفَلاَ یَأْمُرُہُنَّ أَنْ یَحْلِقْنَ رَئُوسَہُنَّ ، لَقَدْ کُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -نَغْتَسِلُ مِنْ إِنَائٍ وَاحِدٍ ، فَلاَ أَزِیدُ عَلَی أَنْ أُفْرِغَ عَلَی رَأْسِی ثَلاَثَ إِفْرَاغَاتٍ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی وَأَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۳۳۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کا جنابت اور حیض سے غسل کرنا
(٨٦٠) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ جب ہم غسل کرتے تھے اور ہمارے اوپر لیپ ہوتا تھا اور ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حلال اور محرمہ ہوتی تھیں۔
(۸۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ دَاوُدَ عَنْ عُمَرَ بْنِ سُوَیْدٍ عَنْ عَائِشَۃَ بِنْتِ طَلْحَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : کُنَّا نَغْتَسِلُ وَعَلَیْنَا الضِّمَادُ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -مُحِلاَّتٍ وَمُحْرِمَاتٍ۔

[صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۲۵۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کا جنابت اور حیض سے غسل کرنا
(٨٦١) یحییٰ بن بکار اپنی دادی سے نقل فرماتے ہیں کہ میں ام سلمہ کے پاس گئی ، پھر لمبی حدیث بیان کی، ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں : ہم میں سے کوئی ایک کنگھی کرتی جب غسل کرتی تو اس کو کھولتی نہیں تھی، لیکن اپنے سر میں تین چلو ڈال لیتی تھیں۔ جب بالوں کی جڑوں میں تری کو دیکھتی اس کو مل لیتی، پھر اپنے سارے جسم پر پانی بہا لیتی۔
(۸۶۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا ہَارُونُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ عَنْ بَکَّارِ بْنِ یَحْیَی عَنْ جَدَّتِہِ قَالَتْ : دَخَلْتُ عَلَی أُمِّ سَلَمَۃَ ، فَذَکَرَ الْحَدِیثَ۔ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَۃَ : وَأَمَّا الْمُمْتَشِطَۃُ فَکَانَتْ إِحْدَانَا تَکُونُ مُمْتَشِطَۃً ، فَإِذَا اغْتَسَلَتْ لَمْ تَنْقُضْ ذَلِکَ ، وَلَکِنَّہَا تَحْفِنُ عَلَی رَأْسِہَا ثَلاَثَ حَفَنَاتٍ ، فَإِذَا رَأَتِ الْبَلَلَ عَلَی أُصُولِ الشَّعَرِ دَلَکَتْہُ ، ثُمَّ أَفَاضَتْ عَلَی سَائِرِ جَسَدِہَا۔ [ضعیف۔ أخرجہ ابو داؤد ۳۵۹]
tahqiq

তাহকীক: