আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

السنن الكبرى للبيهقي

پاکی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬৭৩ টি

হাদীস নং: ৯৪১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو اور غسل میں مذکورہ مقدار میں کمی جائز ہے اگر فرائض پورے ہوجائیں
(٩٤٢) عبید اللہ بن زید (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس دو تہائی مد پانی لایا گیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا اور آپ اپنے بازوؤں کو مل رہے تھے۔
(۹۴۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُوسَی الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ زَکَرِیَّا بْنِ أَبِی زَائِدَۃَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ حَبِیبِ بْنِ زَیْدٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِیمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -أُتِیَ بِثُلُثَیْ مُدٍّ مِنْ مَائٍ ، فَتَوَضَّأَ فَجَعَلَ یَدْلُکُ ذِرَاعَیْہُ۔

[صحیح۔ أخرجہ ابن حبان ۱۰۸۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو اور غسل میں مذکورہ مقدار میں کمی جائز ہے اگر فرائض پورے ہوجائیں
(٩٤٣) ابن زید انصاری سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تقریباً دو تہائی مد (پانی) سے وضو کیا۔
(۹۴۳) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ حَبِیبِ بْنِ زَیْدٍ الأَنْصَارِیِّ عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِیمٍ عَنِ ابْنِ زَیْدٍ الأَنْصَارِیِّ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -تَوَضَّأَ بِنَحْوٍ مِنْ ثُلُثَیِ الْمُدِّ۔

وَکَذَلِکَ رَوَاہُ مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ عَنْ شُعْبَۃَ۔ قَالَ أَبُو زُرْعَۃَ الرَّازِیُّ : الصَّحِیحُ عِنْدِی حَدِیثُ غُنْدَرٍ۔

[صحیح لغیرہٖ]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو اور غسل میں مذکورہ مقدار میں کمی جائز ہے اگر فرائض پورے ہوجائیں
(٩٤٤) (الف) سیدنا ابو امامۃ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آدھے مد (پانی) سے وضو کیا۔ (ب) صلت بن دینار کی حدیث قابل حجت نہیں ہوتی۔ (ج) ایک دوسری روایت الفاظ بِقِسْطٍ مِنْ مَائٍ ہیں۔
(۹۴۴) وَرُوِیَ عَنِ الصَّلْتِ بْنِ دِینَارٍ عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ -تَوَضَّأَ بِنِصْفِ مُدٍّ۔

أَخْبَرَنَاہُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغَوِیُّ حَدَّثَنَا سُرَیْجُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ ثَابِتٍ الْجَزَرِیُّ عَنِ الصَّلْتِ … فَذَکَرَہُ۔

وَالصَّلْتُ بْنُ دِینَارٍ مَتْرُوکٍ لاَ یُفْرَحُ بِحَدِیثِہِ۔

وَقَدْ رُوِیَ عَنْہُ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ وَقَالَ مَرَّۃً أُخْرَی : بِقِسْطٍ مِنْ مَائٍ ۔

[ضعیف۔ جدًا أخرجہ الطبرانی فی الکبیر ۸۰۷۱]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو اور غسل میں مذکورہ مقدار میں کمی جائز ہے اگر فرائض پورے ہوجائیں
(٩٤٥) سریج بن یونس نے اسی سند کے ساتھ مالینی کی حدیث کی طرح بیان کیا ہے اور زیادتی بیان کی ہے اور ایک مرتبہ فرمایا : پانی کی ایک مقدار سے ۔ اس حدیث میں مد سے کم کے متعلق بھی ذکر کیا گیا ہے۔
(۹۴۵) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُرَیْجُ بْنُ یُونُسَ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ نَحْوَ حَدِیثِ الْمَالِینِیِّ وَزَادَ وَقَالَ مَرَّۃً أُخْرَی : بِقِسْطٍ مِنْ مَائٍ ۔

وَقَدْ قِیلَ عَنْہُ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ بِأَقَلَّ مِنْ مُدًّ۔ [ضعیف جدًا]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو اور غسل میں مذکورہ مقدار میں کمی جائز ہے اگر فرائض پورے ہوجائیں
(٩٤٦) صلت بن دینارنے اسی سند سے نقل کیا ہے۔
(۹۴۶) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ النَّاقِدُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِی مَذْعُورٍ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ ثَابِتٍ الْجَزَرِیُّ عَنِ الصَّلْتِ بْنِ دِینَارٍ … فَذَکَرَہُ۔ [ضعیف جدًا]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو میں اسراف کرنا منع ہے
(٩٤٧) سیدنا عبداللہ بن مغفل (رض) نے اپنے بیٹے سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ اے اللہ ! میں آپ سے سفید محل کا سوال کرتا ہوں جو جنت کے دائیں جانب ہے جب میں اس (جنت) میں داخل ہوں۔ آپ (رض) نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! اللہ سے جنت کا سوال کر اور آگ سے پناہ مانگ، میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب میری امت میں ایسی قوم ہوگی جو وضو اور دعا میں زیادتی کریں گے۔
(۹۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ

(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ : أَحْمَدُ بْنُ أَبِی خَلَفٍ الصُّوفِیُّ الْمِہْرَجَانِیُّ بِہَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ یَزْدَادَ بْنِ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَیُّوبَ أَخْبَرَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ أَخْبَرَنَا سَعِیدٌ الْجُرَیْرِیُّ عَنْ أَبِی نَعَامَۃَ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ مُغَفَّلٍ سَمِعَ ابْنَہُ یَقُولُ : اللَّہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الْقَصْرَ الأَبْیَضَ عَنْ یَمِینِ الْجَنَّۃِ إِذَا دَخَلْتُہَا۔ فَقَالَ : یَا بُنَیَّ سَلِ اللَّہَ الْجَنَّۃَ ، وَتَعَوَّذْ بِہِ مِنَ النَّارِ ، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -یَقُولُ : ((إِنَّہُ سَیَکُونُ فِی ہَذِہِ الأُمَّۃِ قَوْمٌ یَعْتَدُونَ فِی الطُّہُورِ وَالدُّعَائِ))۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۹۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو میں اسراف کرنا منع ہے
(٩٤٨) (الف) سیدنا ابی بن کعب سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک وضو کا بھی شیطان ہے جس کو ولہان کہا جاتا ہے، اس سے بچو یا فرمایا : ” اس سے ڈرو۔ “

(ب) ایک روایت میں ہے : اس سے بچو اور پانی کے وسوسہ سے ڈرو۔
(۹۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا خَارِجَۃُ بْنُ مُصْعَبٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ عُبَیْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عُتَیٍّ السَّعْدِیِّ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -أَنَّہُ قَالَ: ((إِنَّ لِلْوُضُوئِ شَیْطَانًا یُقَالُ لَہُ الْوَلْہَانُ فَاحْذَرُوہُ))۔ أَوْ قَالَ : ((فَاتَّقُوہُ))۔

وَقَالَ غَیْرُہُ عَنْ أَبِی دَاوُدَ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ : ((فَاحْذَرُوہُ ، وَاتَّقُوا وَسْوَاسَ الْمَائِ))۔

[ضعیف۔ جدًا أخرجہ الترمذی ۵۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو میں اسراف کرنا منع ہے
(٩٤٩) أبو داؤدنے اسی طرح بیان کیا ہے۔ (ب) اور فرمایا : اس کی سند میں عتی بن ضمرہ ہے اور یہ حدیث معلول ہے۔ ثوری کے حسن سے روایت کرنے کی وجہ سے اور اس کا بعض حصہ مرفوع نہیں اور باقی حصہ یونس بن عبید سے بھی مرفوع نہیں۔ واللہ اعلم
(۹۴۹) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عِیسَی بْنِ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ جَمِیلٍ حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ … فَذَکَرَہُ بِمِثْلِہِ۔

وَقَالَ فِی إِسْنَادِہِ عَنْ عُتَیِّ بْنِ ضَمْرَۃَ ، وَہَذَا الْحَدِیثُ مَعْلُولٌ بِرِوَایَۃِ الثَّوْرِیِّ عَنْ بَیَانٍ عَنِ الْحَسَنِ بَعْضَہُ مِنْ قَوْلِہِ غَیْرَ مَرْفُوعٍ وَبَاقِیہِ عَنْ یُونُسَ بْنِ عُبَیْدٍ مِنْ قَوْلِہِ غَیْرَ مَرْفُوعٍ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ وَذَلِکَ بِمَا۔ [ضعیف جًدا]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৪৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو میں اسراف کرنا منع ہے
(٩٥٠) (الف) حسن سے روایت ہے کہ وضو کا شیطان ہے جس کو ولہانکہا جاتا ہے یہ وضو میں لوگوں کو ہنساتا ہے۔

(ب) یونس کہتے ہیں کہ پانی کیلئے وسوسہ ہے لہٰذاپانی کے وسوسہ سے بچو۔

(ج) ہلا ل بن یساف کہتے ہیں کہ ہر چیز میں اسراف ہے یہاں تک کہ وضو میں بھی ہے، اگرچہ نہر کے کنارے پر ہو۔ (د) اسی طرح خارج بن مصعب کے علاوہ بھی دوسروں نے حسن اور یونس بن عبید سے روایت کیا ہے۔ خارج اپنی سند سے روایت کرنے میں منفرد ہے وہ روایت کرنے میں مضبوط راوی نہیں۔ واللہ اعلم
(۹۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْعِرَاقِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ بَیَانٍ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : شَیْطَانُ الْوُضُوئِ یُدْعَی الْوَلْہَانُ یَضْحَکُ بِالنَّاسِ فِی الْوُضُوئِ۔

وَعَنْ سُفْیَانَ عَنْ یُونُسَ قَالَ : کَانَ یُقَالُ إِنَّ لِلْمَائِ وَسْوَاسًا ، فَاتَّقُوا وَسْوَاسَ الْمَائِ۔

وَعَنْ سُفْیَانَ عَنْ حُصَیْنٍ عَنْ ہِلاَلِ بْنِ یَسَافٍ قَالَ : کَانَ یُقَالُ فِی کُلِّ شَیْئٍ إِسْرَافٌ حَتَّی فِی الطَّہُورِ وَإِنْ کَانَ عَلَی شَاطِئِ النَّہَرِ۔

ہَکَذَا رَوَاہُ غَیْرُ خَارِجَۃَ بْنِ مُصْعَبٍ عَنِ الْحَسَنِ وَیُونُسَ بْنِ عُبَیْدٍ۔

وَخَارِجَۃُ یَنْفَرِدُ بِرِوَایَتِہِ مُسْنَدًا وَلَیْسَ بِالْقَوِیِّ فِی الرِّوَایَۃِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔

وَقَدْ رُوِیَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ ضَعِیفٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ مَرْفُوعًا یَعْنِی مَا رُوِّینَا عَنْ یُونُسَ بْنِ عُبَیْدٍ۔

[ضعیف۔ أخرجہ ابن أبی الدنیا فی مصائد الشیطان ۲۹]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وضو میں اسراف کرنا منع ہے
(٩٥١) سیدنا عمران بن حصین (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پانی کے وسوسہ سے بچو، بلاشبہپانی کے لیے وسوسہ اور شیطان ہیں۔
(۹۵۱) حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ : عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِی عُثْمَانَ الزَّاہِدُ وَأَبُو الْحَسَنِ : الْعَلاَئُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الإِسْفَرَائِینِیُّ قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ : بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِشْرٍ التَّمِیمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِیَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُصَیْنٍ الأَصْبَحِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ کَثِیرٍ عَنْ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیِّ عَنْ أَبِی الْعَلاَئِ بْنِ الشِّخِّیرِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((اتَّقُوا وَسْوَاسَ الْمَائِ فَإِنَّ لِلْمَائِ وَسْوَاسًا وَشَیْطَانًا))۔ [ضعیف]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫১
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غسل کرتے وقت لوگوں سے پردہ کرنے کا بیان
(٩٥٢) سیدہ میمونہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے پردہ لٹکایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غسل جنابت فرما رہے تھے، پہلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ دھوئے، پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور اپنی شرمگاہ کو دھویا اور جو اس کو چیز لگی تھی، پھر اپنا ہاتھ دیوار یا زمین پر پھیرا، پھر پاؤں دھونے کے علاوہ نماز جیسا وضو کیا، پھر اپنے جسم پر پانی بہایا، پھر الگ جگہ پر اپنے قدموں کو دھویا۔
(۹۵۲) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّیَّارِیُّ بِمَرْوٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُوَجِّہِ أَخْبَرَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ عَنْ کُرَیْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ مَیْمُونَۃَ قَالَتْ : سَتَرْتُ النَّبِیَّ -ﷺ -وَہُوَ یَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَۃِ ، فَبَدَأَ فَغَسَلَ یَدَیْہِ ثُمَّ صَبَّ بِیَمِینِہِ عَلَی شِمَالِہِ ، فَغَسَلَ فَرْجَہُ وَمَا أَصَابَہُ ثُمَّ مَسَحَ بِیَدَیْہِ عَلَی الْحَائِطِ أَوِ الأَرْضِ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوئَ ہُ لِلصَّلاَۃِ غَیْرَ رِجْلَیْہِ ، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَی جَسَدِہِ الْمَائَ ثُمَّ تَنَحَّی فَغَسَلَ قَدَمَیْہِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدَانَ۔

وَتَابَعَہُ أَبُو عَوَانَۃَ وَزَائِدَۃَ وَابْنُ فُضَیْلٍ عَنِ الأَعْمَشِ فِی السِّتْرِ۔ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِیثِ زَائِدَۃَ۔

[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۲۷۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫২
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غسل کرتے وقت لوگوں سے پردہ کرنے کا بیان
(٩٥٣) سیدہ میمونہ (رض) فرماتی ہیں : میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے پانی رکھا۔۔۔ پھر میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے پردہ لٹکایا حتی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غسل فرما لیا۔
(۹۵۳) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ عَنِ الأَعْمَشِ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ قَالَتْ : وَضَعْتُ لِلنَّبِیِّ -ﷺ -مَائً فَذَکَرَہُ قَالَتْ وَسَتَرْتُہُ حَتَّی اغْتَسَلَ۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ مُوسَی الْقَارِیِّ عَنْ زَائِدَۃَ۔ [صحیح]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫৩
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غسل کرتے وقت لوگوں سے پردہ کرنے کا بیان
(٩٥٤) سیدہ ام ہانی بنت ابو طالب فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ کے پاس فتح مکہ کے دن گئی، میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غسل کرتے ہوئے پایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی فاطمہ (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے کپڑے سے پردہ کیے ہوئے تھیں۔
(۹۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِی فِیمَا قَرَأَ عَلَی مَالِکٍ۔

وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِی النَّضْرِ أَنَّ أَبَا مُرَّۃَ مَوْلَی أُمِّ ہَانِئٍ بِنْتِ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَمِعَ أُمَّ ہَانِئٍ بِنْتَ أَبِی طَالِبٍ تَقُولُ : ذَہَبْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -یَوْمَ الْفَتْحِ فَوَجَدَتْہُ یَغْتَسِلُ وَفَاطِمَۃُ بِنْتُہُ تَسْتُرُہُ بِثَوْبٍ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔[صحیح۔ أخرجہ البخاری۲۷۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫৪
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غسل کرتے وقت لوگوں سے پردہ کرنے کا بیان
(٩٥٥) سیدنا علی بن ابی طالب (رض) ام ھانی (رض) کے پاس گئے، وہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھی۔۔۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے غسل کا پانی ڈالا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی فاطمہ (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کپڑے سے پردہ کیا ہوا تھا، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غسل کرلیا تو آپ نے اس کپڑے کو پکڑا، آپ نے اس کو لپیٹ لیا۔ پھر کھڑے ہوئے اور چاشت کی آٹھ رکعات ادا کیں۔
(۹۵۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنِ الْوَلِیدِ یَعْنِی ابْنَ کَثِیرٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی ہِنْدٍ أَنَّ أَبَا مُرَّۃَ مَوْلَی عَقِیلِ بْنِ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَہُ أَنَّ أُمَّ ہَانِئٍ بِنْتَ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَتْہُ : أَنَّ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ دَخَلَ عَلَیْہَا وَہُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ -فِی غَزْوَۃِ الْفَتْحِ بِمَکَّۃَ۔ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ قَالَتْ : ثُمَّ سُکِبَ لَہُ غُسْلٌ ، فَسَتَرَتْہُ ابْنَتُہُ فَاطِمَۃُ بِثَوْبِہِ ، فَلَمَّا اغْتَسَلَ أَخَذَہُ فَالْتَحَفَ بِہِ ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی ثَمَانَ سَجَدَاتٍ وَذَلِکَ ضُحًی۔

رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم ۳۳۶]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫৫
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غسل کرتے وقت لوگوں سے پردہ کرنے کا بیان
(٩٥٦) سیدنا یعلیٰ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخصکو کھلی جگہ غسل کرتے ہوئے دیکھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر چڑھے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا : اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے زندہ ہے، حیادار ہے، پردے اور حیاکو پسند کرتا ہے۔ لہٰذا جب کوئی غسل کرے تو وہ چھپ جائے۔
(۹۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَیْلٍ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ الْعَرْزَمِیِّ عَنْ عَطَائٍ عَنْ یَعْلَی : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ -رَأَی رَجُلاً یَغْتَسِلُ بِالْبَرَازِ ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ : ((إِنَّ اللَّہَ جَلَّ ثَنَاؤُہُ حَیِیٌّ سِتِّیرٌ یُحِبُّ الْحَیَائَ وَالسِّتْرَ ، فَإِذَا اغْتَسَلَ أَحَدُکُمْ فَلْیَسْتَتِرْ))۔ [صحیح۔ أخرجہ ابو داؤد ۴۰۱۲]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫৬
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غسل کرتے وقت لوگوں سے پردہ کرنے کا بیان
(٩٥٧) سیدنا یعلیٰ (رض) کے والد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس حدیث کو نقل فرماتے ہیں۔
(۹۵۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِی خَلَفٍ حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ عَنْ عَطَائٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ یَعْلَی عَنْ أَبِیہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -بِہَذَا الْحَدِیثِ۔

قَالَ أَبُو دَاوُدَ الأَوَّلُ أَتَمُّ۔ [شاذ۔ أخرجہ أبو داؤد ۴۰۱۳]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫৭
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکیلا آدمی ننگا ہوسکتا ہے
(٩٥٨) سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ایک دفعہ ایوب (علیہ السلام) اکیلے ننگے غسل کر رہے تھے تو ان پر سونے کی ٹڈیاں گرنے لگیں، ایوب (علیہ السلام) انھیں اپنے کپڑوں میں ڈالنا شروع ہوگئے۔ رب تعالیٰ نے آواز دی : اے ایوب ! کیا میں نے آپ کو غنی نہیں کیا اس سے جو تم دیکھ رہے ہو ؟ انھوں نے کہا : کیوں نہیں، اے میرے رب ! لیکن میں تیری برکت سے بےنیاز نہیں ہوسکتا۔
(۹۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ وَأَبُو یَعْلَی : حَمْزَۃُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ الْمُہَلَّبِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ہَمَّامِ بْنِ مُنَبِّہٍ قَالَ ہَذَا ما حَدَّثَنَا أَبُو ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((بَیْنَمَا أَیُّوبُ یَغْتَسِلُ عُرْیَانًا خَرَّ عَلَیْہِ جَرَادٌ مِنْ ذَہَبٍ ، فَجَعَلَ أَیُّوبُ یَحْتَثِی فِی ثَوْبِہِ ، فَنَادَاہُ رَبُّہُ : یَا أَیُّوبُ أَلَمْ أَکُنْ أَغْنَیْتُکَ عَمَّا تَرَی؟ قَالَ : بَلَی یَا رَبِّ ، وَلَکِنْ لاَ غِنَی لِی عَنْ بَرَکَتِکَ))۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۲۷۵]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫৮
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکیلا آدمی ننگا ہوسکتا ہے
(٩٥٩) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” نبی اسرائیل والے ننگے غسل کرتے تھے ۔ وہ ایک دوسرے کی شرم گاہ کو دیکھتے تھیجب کہ موسیٰ (علیہ السلام) اکیلے غسل کرتے تھے، انھوں نے کہا : اللہ کی قسم ! موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے ساتھ اس لیے غسل کرتے کہ ان کو کوئی بیماری ہے۔ آپ علیہ اسلام ایک مرتبہ غسل کرنے کے لیے گئے اور اپنے کپڑے پتھر پر رکھے تو پتھر کپڑے لے کر بھاگ پڑا۔ موسیٰ (علیہ السلام) اس کے پیچھے بھاگے اور کہہ رہے تھے : اے پتھر ! میرے کپڑے، اے پتھر ! میرے کپڑے۔ یہاں تک کہ بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) کی شرم گاہ کی طرف دیکھا تو کہنے لگے : اللہ کی قسم ! موسیٰ (علیہ السلام) کو کوئی بیماری نہیں ہے۔ ان کے دیکھنے کے بعد پتھر کھڑا ہوگیا تو انھوں نے اپنے کپڑے پکڑے اور پتھر کو مارنا شروع ہوئے۔ سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! پتھر پر موسیٰ (علیہ السلام) کی مار کے چھ یا سات نشان تھے۔
(۹۵۹) وَبِإِسْنَادِہِمَا قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -: ((کَانَتْ بَنُو إِسْرَائِیلَ یَغْتَسِلُونَ عُرَاۃً یَنْظُرُ بَعْضُہُمْ إِلَی سَوْأَۃِ بَعْضٍ ، وَکَانَ مُوسَی عَلَیْہِ السَّلاَمُ یَغْتَسِلُ وَحْدَہُ ، فَقَالُوا : وَاللَّہِ مَا یَمْنَعُ مُوسَی أَنْ یَغْتَسِلَ مَعَنَا إِلاَّ أَنَّہُ آدَرُ۔ قَالَ : فَذَہَبَ مَرَّۃً یَغْتَسِلُ فَوَضَعَ ثَوْبَہُ عَلَی الْحَجَرِ ، فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِہِ قَالَ فَجَمَحَ مُوسَی فِی أَثَرِہِ: ثَوْبِی حَجَرُ ، ثَوْبِی حَجَرُ۔ حَتَّی نَظَرَتْ بَنُو إِسْرَائِیلَ إِلَی سَوْأَۃِ مُوسَی فَقَالُوا : وَاللَّہِ مَا بِمُوسَی مِنْ بَأْسٍ۔ قَالَ : فَقَامَ الْحَجَرُ بَعْدَ مَا نَظَرُوا إِلَیْہِ فَأَخَذَ ثَوْبَہُ وَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا))۔ فَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ : وَاللَّہِ إِنَّہُ نَدَبًا بِالْحَجَرِ سِتَّۃٌ أَوْ سَبْعَۃٌ ضَرْبُ مُوسَی بِالْحَجَرِ۔ رَوَاہُمَا الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَ مُسْلِمٌ الْحَدِیثَ الثَّانِی عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ۔

[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۲۷۴]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৫৯
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تنہائی میں اگر آدمی اکیلا ہو پھر بھی پردہ کرنا افضل ہے
(٩٦٠) (الف) بہز بن حکیم اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! ہم اپنے بدن کے کون سے حصے کو چھپائیں اور کس کو چھوڑیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی شرمگاہ کی حفاظت کر مگر اپنی بیوی سے یا اپنی لونڈی سے۔ میں نے کہا : مجھے بتائیں اگر سب ایک جنس سے ہوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اگر تو طاقت رکھے کہ کوئی بھی نہ دیکھے تو یہ بہت رہے۔ میں نے کہا : مجھے بتلائیں جب کوئی اکیلا ہو ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس سے حیا کی جائے۔

(ب) ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ زیادہ حق رکھتا ہے کہ لوگوں سے زیادہ اس سے حیا کی جائے۔
(۹۶۰) أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِیَادٍ الْبَصْرِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا أَبُوعَلِیٍّ: الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِیُّ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ وَإِسْمَاعِیلُ ابْنُ عُلَیَّۃَ عَنْ بَہْزِ بْنِ حَکِیمٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّہُ قَالَ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ عَوْرَاتُنَا مَا نَأْتِی مِنْہَا وَمَا نَذَرُ۔ قَالَ : ((احْفَظْ عَوْرَتَکَ إِلاَّ مِنْ زَوْجَتِکَ أَوْ مَا مَلَکَتْ یَمِینُکَ))۔ فَقُلْتُ: أَرَأَیْتَ إِذَا کَانَ الْقَوْمُ بَعْضَہُمْ مِنْ بَعْضٍ۔ قَالَ: ((إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لاَ یَرَاہَا أَحَدٌ فَلاَ یَرَاہَا))۔ قَالَ قُلْتُ: أَرَأَیْتَ إِذَا کَانَ أَحَدُنَا خَالِیًا۔ قَالَ: ((اللَّہُ أَحَقُّ أَنْ یُسْتَحْیَی مِنَ النَّاسِ))۔

ذَکَرَہُ الْبُخَارِیُّ فِی التَّرْجَمَۃِ مُخْتَصَرًا قَالَ وَقَالَ بَہْزٌ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ -: ((اللَّہُ أَحَقُّ أَنْ یُسْتَحْیَی مِنْہُ مِنَ النَّاسِ))۔ [حسن۔ أخرجہ ابو داؤد ۴۰۱۷]
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯৬০
پاکی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تنہائی میں اگر آدمی اکیلا ہو پھر بھی پردہ کرنا افضل ہے
(٩٦١) امام زہری سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم کھلی جگہ میں غسل نہ کرو۔ وہاں اگر تم چھپنے کی جگہ نہ پاؤتو گھر کی مانند خط کھینچ لو پھر اللہ کا نام لو اور اس میں غسل کرلو۔ “
(۹۶۱) وَرَوَی أَبُو دَاوُدَ فِی الْمَرَاسِیلِ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنِ اللَّیْثِ عَنْ عُقَیْلٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((لاَ تَغْتَسِلُوا فِی الصَّحْرَائِ إِلاَّ أَنْ لاَ تَجِدُوا مُتَوَارَی ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مُتَوَارَی فَلْیَخُطَّ أَحَدُکُمْ خَطًّا کَالدَّارَۃِ، ثُمَّ یُسَمِّی اللَّہَ تَعَالَی وَیَغْتَسِلُ فِیہَا))۔ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ الْفَسَوِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ اللُّؤْلُؤِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ … فَذَکَرَہُ۔ [ضعیف۔ أخرجہ المؤلف فی شعب الایمان ۷۷۸۵]
tahqiq

তাহকীক: